شیخ البانی رحمہ اللہ اپنی نگارشات کے آئینے میں۔ ڈاکٹر سید حسین مدنی

شیخ البانی رحمہ اللہ کی ولادت اور تعلیم و تربیت
امام ومجدد اسلام ابو عبد الرحمن محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی ولادت با سعادت 1333ھ میں غربت کے شکار، دین دار، علم کے علم بردار گھرانے میں ہوئی اور وفات حسرت آیات 1420ھ میں ہوئی۔ اپنی باشعور زندگی کے ابتدائی بیس سالوں میں حفظ قرآن، لغت اور فقہ پر بڑی کڑی توجہ دی، پھر محمد رشید رضا رحمہ اللہ کے مجلۃ المنار کے حدیثی مضامین سے متاثر ہو کر علم حدیث، تخریج، تعلیق وتحقیق کا علمی سفرشروع کیا۔
پچاسی سالہ مبارک زندگی کے مکمل ساٹھ سالہ عرصے کو محض خدمت حدیث کے لیے وقف کیا ۔ساتھ ہی ساتھ مشروع العمر اور مقصد زندگی ’تقریب السنة بين يدي الأمة‘ بنایا۔ نتیجتاً بفضلہ اپنی شاہ کا ر حدیثی تحقیقات کے تناظر میں شہرۂ آفاق ممتاز ومایہ ناز فقیہ مجدد مجتہد ومحدث زمانہ ہی نہیں بلکہ عصر حاضر میں علم حدیث کے میر کارواں، بحر بیکراں اور ایسے روح رواں قرار پائے کہ جن کی تین سو سے زائد کتابیں اور مقالات مستقل تصنیف، تخریج، تحقیق وتعلیق پر مشتمل ہیں اور ان قیمتی کتابوں کی علمی ندرت، تحقیقی انفرادیت، عوام وخواص کے درمیان بے پناہ شہرت، مقبولیت اور افادیت کے پیش نظر 1419ھ مطابق 1999ء میں شیخ البانی رحمہ اللہ کو جائزة الملك فيصل العالمية للدراسات الإسلامية سے نوازا گیا۔
اُلفت و حقیقت کے دشمنوں نے شیخ البانی رحمہ اللہ کو محض ایک گھڑی ساز اور بڑھئی کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی، جب کہ دمشق میں مدرسة الإسعاف کی ابتدائی تعلیم، بالخصوص والد محترم و دیگر عباقرہ اساتذہ سے حاصل کردہ مختلف علوم وفنون کا اصولی علم ساری نگارشات میں نمایاں طور پر ظاہر ہوتا ہے۔
اقسام نگارشات
ہم شیخ البانی رحمہ اللہ کی جملہ کتابوں کو پانچ حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں، کیونکہ کچھ کتابیں مطبوع، اکثر کتابیں مخطوط، بعض کتابیں جیسے التعلیق الممجد علی موطأ الإمام محمد للكنوي، السفر الموجب للقصر، الثمر المستطاب في فقه السنة والكتاب، سبل السلام شرح بلوغ المرام للصنعانی اور صحیح الإسراء والمعراج ۔۔۔ نامکمل اور چند کتابیں جیسے أحكام الركاز، إزالة الشكوك عن حديث البروك، مناظرة كتابية مع طائفة من أتباع الطائفة القاديانية وغيره مفقود اور کچھ کتابیں جیسے الحوض المورود في زوائد منتقى ابن الجارود التعليقات الجياد على زاد المعاد لا بن القيم اور زهر الرياض في رد ما شنعه القاضی عیاض ۔۔۔ نا مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ مفقود بھی ہیں۔
ماہرین البانیات میں بعض نے شیخ البانی رحمہ اللہ کی جانب بارہ منسوب نگارشات کو تحقیق اور توثیق طلب جانا کیوں ان کا معیار شیخ البانی رحمہ اللہ کی دیگر کتابوں کی طرح نہیں مثال کے طور پر حکم تارک الصلاة اور الابتداع في الدين وغيره۔
پندرہ سے زائد ایسی تفصیلی کتابیں ہیں، جن میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے علمی منہج کو تفصیلی طور پر بتایا گیا ہے، جیسے اختیارات الشيخ الألباني و تحقيقاته للشيخ بكر أبو زيد رحمہ اللہ، جن سے پتا چلتا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ کی چودہ کتابیں محض ردود پر مشتمل ہیں اور چوبیس ایسے اہم ترین مقالات ہیں جو مختلف اوقات میں متعدد مجلات میں شائع ہوتے رہے۔
ہمہ جہت عبقریت
تصنیفات، تحقیقات و تعلیقات پر طائرانہ یا غائرانہ نظر ڈالنے سے شیخ البانی رحمہ اللہ کی ہمہ جہت عبقریت کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے، سب سے پہلی مستقل کتاب تحذیر الساجد من اتخاذ القبور مساجد اور پھر شرح العقيدة الطحاوية، البدعة، الرد على الجهمية للدارمي، العبودية لابن تيمية، تحقيق مختصر العلو للعلي الغفار للذهبي، الآيات البينات في عدم سماع الأموات على مذهب الحنفية السادات للآلوسي، التوسل أنواعه وأحكامه، الاحتجاج بالقدر لابن تيمية، الإيمان لابن أبي شيبة، الإيمان للقاسم بن سلام، الإيمان لابن تیمیة اور القائد إلى تصحيح العقائد للمعلمي جیسی تحقیقات و نگارشات سے صحیح عقیدے کا غیر معمولی اہتمام ظاہر ہوتا ہے۔
صحیح عقیدے کے اہتمام کے ساتھ ساتھ شیخ البانی رحمہ اللہ کی منہجی عبقریت اگر مجھنی ہو تو الحديث حجة بنفسه في العقائد والأحكام التوحيد أو لأ يا دعاة الإسلام اور فتنة التكفير جیسی دیگر نگارشات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
صلاة العيدين في المصلى خارج البلد هي السنة منزلة السنة في الإسلام إصلاح المساجد من البدع والعوائد لمحمد القاسمي اور أحكام الجنائز وبدعها جیسی تحقیقات و نگارشات سے سنت سے محبت اور بدعت کی مذمت معلوم ہوتی ہے۔
بداية السول في تفضيل الرسول لعز بن عبد السلام فضل، الصلاة على النبي، صحيح السيرة النبوية، فقه السيرة للغزالي، اور مختصر الشمائل المحمدية جيسی تحقیقات و نگارشات سے شیخ البانی رحمہ اللہ کا سیرت طیبہ سے شغف بلکہ حب نبوی جھلکتی ہے۔
كيف يجب علينا أن نفسر القرآن جیسی تحقیقات ونگارشات سے علوم قرآن اصول تفسیر سمیت تفسیری ملکہ کا پتہ چلتا ہے۔
مصطلح الحدیث کے باب میں النكت على نزهة النظر في توضيح نخبة الفکر، اور الباعث الحثيث شرح اختصار علوم الحديث لأحمد شاكر عيسى نگارشات میں شیخ البانی رحمہ اللہ کی تعلیقات و حواشی بڑی لا جواب ہیں۔
لفتة الكبد في تربية الولد لابن الجوزي ، اقتضاء العلم العمل للخطيب البغدادي، التصفية والتربية وحاجة المسلمين إليهما، رياض الصالحين، صحيح وضعيف الترغيب والترهيب، وصحيح الأدب المفرد وضعيف الأدب المفرد اور تحریم آلات الطرب سے اخلاقیات کے باب میں تربیہ و تصفیہ کا پہلو نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
أحاديث المزارعة والمؤاجرة، تمام النصح في مسألة المسح، تأسيس الأحكام على ما صح عن خير الأنام بشرح أحاديث عمدة الأحكام لأحمد النجمي، الأحاديث الصحيحة مرتبةً على الأبواب الفقهية، إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، تبويب وترتيب أحاديث الجامع الصغير وزيادته على أبواب الفقه، تمام المنة في التعليق على فقه السنة، الثمر المستطاب في فقه السنة والكتاب، صفة صلاة النبي، صلاة التراويح، أحكام الجنائز، حقيقة الصيام، سبل السلام شرح بلوغ المرام، مناسك الحج والعمرة في الكتاب والسنة، آداب الزفاف في السنة المطهرة، التعليقات الرضية على الروضة الندية اور العقود لابن تيمية جیسی تالیفات تحقیقات۔ تعلیقات و تخریجات سے فقہی تمکنت اور سؤال وجوابه حول فقه الواقع جسے علمی مجموعے سے شیخ البانی رحمہ اللہ کی فقہی عبقریت سمیت فقه النوازل والمستجدات اور حاضر العالم الإسلامي کا گہرا انداز ہوتا ہے، علاوہ ازیں صفة الفتوى والمفتي والمستفتی تو اصولی علم کا مثالی شاہ کار ہے۔
تعقيب على كتاب الحجاب للمودودي، دفاع عن الحديث النبوي والسيرة الذب الأحمد عن مسند الإمام أحمد، وجوب الأخذ بحديث الآحاد في العقيدة والرد على شبه المخالفين، التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل لعبد الرحمن المعلمي، رفع الأستار لإبطال أدلة القائلين بفناء النار لمحمد الصنعاني اور أداء ما وجب من بيان وضع الوضاعين في رجب لا بن دحية جیسی تحقیقات و نگارشات سے علمی ردود کا سلیقہ ملتا ہے۔
حقوق النساء في الإسلام وحظهن من الإصلاح المحمدي العام لمحمد رشيد رضا، اور تخريج أحاديث مشكلة الفقر وكيف عالجها الإسلام للقرضاوي عیسی تحقیقات سے انسانیت نوازی نظر نواز ہوتی ہے۔
اجزاء حدیثیہ کی ترتیب میں محدثین کے منہج اور شیخ البانی رحمہ اللہ کی عبقریت سمجھنی ہوتو صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم اور حجة النبي صلى الله عليه وسلم کا مطالعہ کرنا ہوگا۔
اختصار کتب حدیث کی عمدہ مثالیں دیکھنی ہو تو مختصر صحیح البخاری و مختصر صحیح مسلم پڑھنی ہوگی۔
تراجم رواة اور اسماء رجال کے باب میں جزء من الإكمال في أسماء الرجال للخطيب التبريزي، تسهيل الانتفاع بكتاب ثقات ابن حبان، الجمع بين ميزان الاعتدال للذهبي، ولسان الميزان لابن حجر، اور رجال الجرح والتعديل لابن أبي حاتم کا مطالعہ بہتر ہے۔
انساب کے موضوع پر اسعاف الأعيان في أنساب أهل عمان لسالم السيابی کی احادیث کی تخریج بڑی عمدہ ہے۔
حدیثی صناعت و مہارت کی شاہ کار کتابیں اور علوم حدیث اور فقہ السنہ کا بہترین امتزاج بلکہ بحر بےکراں اگر دیکھنا ہو تو سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها ووفوائدها، سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيء في الأمة، التعليقات الحسان علی صحیح ابن حبان، صحیح موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان ضعیف موارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان، هداية الرواة إلى تخريج أحاديث المصابيح و المشکاة اور سنن اربعہ کی صحیح وضعیف مستقل کتابوں کا مطالعہ حرف بحرف کرنا ہوگا۔
یادر ہے کہ عصر حاضر میں تخریج کے ساتھ سب سے وسیع ترین فقہی کتاب إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل شیخ البانی رحمہ اللہ نے دنیائے علم و عرفان کے لیے پیش کی ۔
شیخ البانی رحمہ اللہ معاصر محد ثین وفقہا کی نظر میں
عقیده منہج اتباع سنت و سیرت، حجیت حدیث، تفسیر، شرح حدیث، اصول تفسیر وحدیث، علوم حدیث، فقہ السنہ، فقہ مقارن، فقہ الواقع، تراجم رواۃ، اسماء رجال اور تخریج وغیرہ کے اعتبار سے متعدد تصنیفات کے تنوع اور تفنن کے تناظر میں شیخ البانی رحمہ اللہ کی عبقریت کا اندازہ لگانے کے بعد اس پر مزید یقین کی مہر ثبت کرنے کے لیے ہمعصر علمائے کرام کے درج ذیل تجزیے و تبصرے ملاحظہ فرمائیں :
امام ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا : أما من خلال قرائتي لمؤلفاته فقد عرفت ذلك أي أنه فضيلة محدث الشام الشيخ الفاضل وأنه ذو علم جم في الحديث رواية ودراية إلى أن قال: وعلى كل حال فالرجل طويل الباع واسع الاطلاع قوي الإقناع ونسأل الله أن يكثر من أمثاله في الأمة بھی فرمایا عالم محدث فقيه مزيد فرمايا إمام في الحديث لا نعلم أن أحدا يباريه في عصرنا ۔ یعنی شیخ کی تالیفات کے مطالعے سے میں نے جان لیا کہ شیخ محترم کی شخصیت ملک شام کے معزز محدث کے طور پر ہے۔ بڑے فاضل شیخ ہیں، روایت حدیث و فہم حدیث کے اعتبار سے علم حدیث کا قابل لحاظ علم رکھتے ہیں ۔۔۔ بہر حال یہ مرد مؤمن علم حدیث کا بحر بیکراں اور بڑی شدت سے قائل و مطمئن کرانے والا ہے، اللہ سے ہماری دعا ہے کہ امت میں ان جیسوں کی کثرت ہو۔ وہ تو بڑے عالم، محدث اور فقیہ ہیں۔ علم حدیث کے ایسے امام ہیں کہ ہمارے دور میں کوئی ان کا مد مقابل ہمارے علم میں نہیں۔ شیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ نے فرمایا : إننا لا نزال نزداد علما بسبب كتب الشيخ .
یعنی شیخ محترم کی کتابوں سے ہمارے علم میں برابر اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ بطور اصول بتایا:
ولا يقدح في الشيخ ناصر الدين وفي علمه إلا مبتدع من ذوي الأهوائ
یعنی شیخ محترم کی شخصیت اور شیخ محترم کے علم پر جرح کرنے والا نفسانی خواہشات کا شکار بدعتی ہی ہو سکتا ہے۔ بطور تنبیہ عرض كيا : أي مكتبة ليس فيها كتب ناصر الدين الألباني فهي تعتبر فقيرة. یعنی جو بھی مکتبہ شیخ البانی رحمہ اللہ کی کتابوں سے خالی ہو وہ قابل ترس ناقص مکتبہ شمار ہوگا۔
مزید فرمایا : إرواء الغليل کتاب فقه و کتاب جرح و تعدیل و کتاب تصحيح وتضعيف فهو يعتبر من أنفس كتب الشيخ الألباني، ثم جمع الطرق التي يأتي بها الشيخ ربما لا تتيسر لعصري في هذا الزمن فهو من أنفس لا أقول من كتب الشيخ بل من أنفس الكتب كلها . یعنی ارواء الغلیل فقہ جرح و تعدیل اور احادیث کو صحیح وضعیف قرار دینے کی کتاب ہے اور یہ شیخ محترم کی نفیس ترین نگارشات میں سے ہے۔ علاوہ ازیں عصر حاضر شیخ محترم کی طرح روایات کی سندوں کو اکھٹا کرنا شائد ہی عصر حاضر کے کسی عالم کے لیے ممکن ہو پائے، بنا بریں میں یہ نہیں کہتا کہ زیر بحث کتاب محض شیخ محترم ہی کی عمدہ کتابوں میں سے ایک ہے، بلکہ ساری عمدہ کتابوں میں ایک منفرد کتاب ہے۔
شیخ بن باز رحمہ اللہ نے شیخ البانی رحمہ اللہ کی عبقریت بتائی اور فرمایا : ما رأیت تحت أديم السماء عالما بالحديث في العصر الحديث مثل محمد ناصر الدين الألباني
یعنی روئے زمین پر شیخ البانی رحمہ اللہ کی طرح دور حاضر میں میں نے کسی دوسرے عالم کو نہیں پایا، مزید فرمایا: هو جدير بأن ينتفع بكتبه ويستفاد منها و أنا ممن يستفيد منها طالعت الكثير من كتبه فهي كتب مفيدة
یعنی شيخ محترم کی کتابوں سے استفادہ کرتے رہنا چاہیے، بلکہ میں بھی شیخ محترم کی کتابوں سے فیض یاب ہونے والوں میں سے ہوں اور میں نے شیخ محترم کی ڈھیر ساری کتابوں کا مطالعہ کیا۔ یقینا بڑی ہی مفید کتابیں ہیں۔ استاذ محترم شیخ عبد الحسن العباد نے فرمایا :
لقد كان رحمه الله من العلماء الأفذاذ الذين أفنوا أعمارهم في خدمة السنة والتأليف فيها. یعنی شیخ محترم اُن منفرد علما میں سے ہیں جنہوں نے سنت کی خدمت اور حدیثی تصنیفات میں اپنی عمر لگا دیں۔
شیخ البانی رحمہ اللہ کی علمی عبقریت سے واقفیت کے لیے محدث زمانہ شیخ مقبل وادعی رحمہ اللہ کا قول ہی کافی ہے کہ لقد هممت أن أرد على الشيخ الألباني في مسألة كشف الوجه للمرأة ولكن هبت أن يرد علي فردوده تقصم الظهر. یعنی میں نے عزم مصم کیا کہ عورت چہرے کا پردہ کرے گی یا نہیں اس مسئلے میں شیخ البانی رحمہ اللہ پر رد کروں لیکن مجھے ڈر لاحق ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر رد نہ کر دیں،کیونکہ ان کے ردود تو کمر توڑ دیتے ہیں۔
٭٭٭

تبصرہ کریں