
علاوہ ازیں ایں است کہ بخشیدن ثوا ب اعما ل اگر چہ درست است لیکن مور ث، شر ک است ۔ بسبب ایں کہ عوا م الناس فر ق نمے کنند دریںکہ ثوا ب عبادات بہ بز ر گاں مے بخشیم یا خود عبادت برا ئے تقر ب بز ر گان و ر ضا ایشا ں مے کنیم ۔ آ خر عبادات بنا م غیر اللہ مے کنند و شر ک مے شو ند پس دریں زمان کہ کثر ت اعما ل شر ک است خوا ص را با ید کہ ازیں چنیں اعما ل تغا فل و چشم پوشی نما یند ، تا در شر ک بستہ شود و ثا بت است کہ بخشیدن ضرور نیست و اگر گماں فا ئدہ است نیز بسیار قلیل چہ ضرور است کہ بار تکا ب مثا ل ایں امور در شر ک بکشا یند و بگماں فا ئدہ قلیل ہزار ہا مو من را راہ جہنم بہ نما ئندہ۔
از دیدن قبور مو ت خود بیاد مے آ ید و دنیا سرا ب مے نما ید ۔ باین ہمہ جنا ب رسا لت مآ ب ﷺ
اولاً ہمہ کساں را منع فر مود کہ کسے ۔۔ قرر نہ بیند و پیشش نز د و بجہت ایں کہ مر د ماں تعظیما ت قبور از حد زیادہ بجا مے آ ورند چو ں ایام جا ہلیت رفت و مر د ماں مو حدا ں شد ند و تعظیما ت قبور موقوف کر دند ، مر د ماں را دید ن قبور ا جازت مثلاً زنان را ہنوز منع است کہ زنا ن نا قص العقل مے شو ند ضرور با لضرور خلاف شر ع یا نو حہ خواہند کر د بحق زن نو حہ کنندہ در دو ز خ و عید عذا ب آخر ت وارد شدہ است۔ و اگر شخصے را منظور با شد کہ فا ئدہ از ما با نیباء و اولیاء و پیراں و مجتہداں یا ما در و پدر بر سد ، طر یقش ازیں بہتر نیست کہ محض خالصاً للہ اعما ل خیر و عبا دا ت ادا نما ید ، بد ل و جا ن مطیع فر ما ن الہی گر دد و ثوا ب عبادات بکسے نہ بخشد بلکہ خود ہم نخوا ہد بد ل این قدر داد کہ ما برا ئے ر ضا مندی و خوشنو دی ما لک خود ایں کار کردہ ایم ۔ و مزدور کار نداریم بلکہ ر حمت و عنا ئیتش برا ئے بخشا ئش ما یاں کفا یت مے کند چنا نچہ خوا جہ حا فظ مے فر ما ید
تو بند گی چو گدا یاں بشر ط مزد مکن کہ خوا جہ خود رو ش بندہ پروری دا ند
خدائے تعا لی ایں مو من را اجر بسیار خوا ہد داد و نیزبزوی الحقو قشثوا ب خوا ہد رسا نید کہ با حا دیث صحیحہ آ مدہ است کہ ثوا ب اعما ل اولاد بہ آ باء و اجداد بغیر از بخشید ن مے رسد و ثوا ب عا مل نیز کم نمے شود و بہمیں طور ثوا ب اعما ل شا گر داں باستاداں علم ظا ہری یعنی علماء و مجتہدین و استادان علم با طنی یعنی پیرا ن طریقت برسد مناسب است کہ آ دم مطیع پرور د گار شود و چو ن خدا ئے تعا لی ازیں بندہ را ضی خوا ہد شد و مقبو ل بار گاہ خوا ہد کر د از احوا ل ذو الحقو ق ایں بندہ کہ دلش برا ئے بخشا ئش وے متعلق است ، غفلت کلی نخوا ہد کرد ۔
فصل چہارم: سمجھنا چا ہیے کہ جو بز ر گی اور تعظیم حق تعا لی کے واسطے مقرر کی ہے اسے عبادت کہتے ہیں اگر یہ تعظیم شرع نے مقرر کی ہے، اور اگر کسی اور جماعت نے مقرر کی ہے تو اس کا ملحق بعبا دت نام رکھتے ہیں ۔ پس جو تعظیم کہ خا ص خدا تعا لی کے واسطے بجا لا نی ہیں وہ مخلو ق کو کر نی نہ چا ہیے کیو نکہ فر ماتے ہیں: ﴿ولا تجعلوا للّہ أنداداً وّ انتم تعلمون﴾ یعنی خدا تعا لیٰ کیلئے کسی کا م میں ہمسر نہ بنا ؤ باو جو دیکہ تم جانتے ہو کہ خدا کا کو ئی ہمسر نہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اے لو گو ! تم اگر چہ اپنے عقیدہ میں خدا کے مر تبہ کے برا بر کسی اور کو نہیں جا نتے ہو لیکن تعظیم و بز ر گی اس کے برابر اورو ں کی بھی کرتے ہو ۔ آ دم ؑ سے لے کر اس وقت تک کو ئی کا فر ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے دو خدا کہے ہوں یا اپنے علم و اعتقاد میں کسی مخلوق کو خدا کے برا بر مر تبہ میں جا نا ہو ، مگر اس قدر جا نتے تھے کہ بز ر گو ں کی تقریب کی و جہ سے خدا کے کار خا نہ میں کچھ د خل ہے اور کثر ت ر یا ضت کی و جہ سے خدا کی صفات میں سے کچھ کچھ ان میں بھی پیدا ہو گئی ہیں ۔ مثلاً خدا تعا لیٰ اگر بیشمار آ دمی پیدا کر سکتا ہے تو یہ بز ر گ اگر چا ہیں تو ایک دو آ دمیو ں کو فر زند بخش سکتے ہیں اور اگر خدا تعا لی سارے جہان کو عذا ب و قہر میں مبتلا کر سکتا ہے ، تو یہ بز ر گ اس شخص کو جو ان کی خد مت میں بے اد بی کر ے بالضرور کو ئی نہ کو ئی ضرر پہنچا سکتے ہیں۔ چو نکہ آ دمیو ں کے اعتقا د میں یہ فاسد خیا ل خو ب مستحکم اور مضبو ط ہو گیا ہے اسی وجہ سے وہ بز ر گو ں کی بز ر گیاں حد سے زیادہ بجا لا تے ہیں اور ان کی ر ضا مندی حا صل کر نے میں بے حد کو شش کیا کرتے ہیں، بس اسی کو شر ک باللہ کہتے ہیں جس کو قرآن نے ﴿إنّ اللّہ لا یغفر أن یّشرك بہ و یغفر ما دون ذلك﴾ ( جو شخص خدا کے سا تھ شر یک کرتا ہے خدا اس کی بخشش نہیں کرتا اور اس کے علاوہ جسے چا ہے بخش دیتا ہے )، پس جو شخص خدا کی بز ر گی میں اورو ں کو شر یک کر ے، اسے افسوس کے ہاتھ سے سر پیٹنا اور ا خر وی نجا ت کی امید دل سے نکال دینی چا ہیے ۔ شرع میں جو بزر گیاں کہ خدا کیلئے ہیں یعنی عبادات، ہر چند کہ بے شمار ہیں ، مگر میں ان میں سے دو چار بیا ن کرتا ہوں تا کہ دیگرکو ان پر قیاس کر لیں ۔
منجملہ ان کے نماز کے ارکان ہیں جو دوسروں کیلئے کر نے نہ چا ہئیں۔ مثلاٍ جو شخص خدا کے علاوہ دوسرے کو سجدہ کر ے گا، کا فر ہو گا، کیو نکہ فر ماتے ہیں: ﴿واسجدوا للّہ الّذی خلقھنّ إن کنتم ایّاہ تعبدون ﴾ ( یعنی خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے تمام چیزوں کو پیدا کیا اگر تم خدا ہی کی عبادت کر تے ہو ) اور فر ما یا: ﴿و ارکعوا مع الرا کعین﴾(یعنی ر کوع کر نے وا لوں کے سا تھ ر کوع کرو)۔ بس جس نے غیر خدا کے سا منے رکوع کیا ، یعنی رکوع کی طر ح تعظیم کی غرض سے قد کو خم کیا وہ ضرور شر ک کے گڑ ھے میں پڑا ۔ اور فر ما یا: ﴿وقوموا للّہ قانتین﴾ (اور کھڑے رہو خدا کے فر مانبردار) پس کسی کے سامنے ہاتھ با ند ھ کر پا ؤں کے بل با ادب کھڑا ہو نا شرک ہے اور فرما یا: ﴿وحیث ما کنتم فولّوا وجوھکم شطرہ﴾ (جہاں کہیں تم ہو تو اپنے مونہوں کو خا نہ کعبہ کی طرف پھرو)۔ پس عبا دت کے واسطے بیت اللہ کے علاوہ بزر گو ں کی قبر کی طرف تعظیماً متوجہ ہو نا شرک ہے۔
اسی طر ح غیر خدا سے دعا ما نگنا بھی شر ک ہے جیسا کہ ارشاد ہوا : ﴿و من أضلّ ممّن یدعوا من دون اللّہ من لا یستجیب لہ إلی یوم القیا مۃ و ھم عن دعا ئھم غافلون﴾ (احقا ف ) ( یعنی کو ن گمراہ زیادہ ہے اس شخص سے کہ خدا کو چھو ڑ کر ایسے شخص سے دعا ما نگتا ہے جو قیا مت تک اس کی دعا قبو ل نہ کر ے گا ۔ طرہ یہ کہ وہ ان کی دعا سے محض بے خبر ہیں )۔ مطلب یہ ہے کہ اس قوم سے زیادہ تر گمراہ کو ئی قوم نہیں ہے جو اموات یا کسی اور کو خدا کے سوا ندا کرتے ہیں، وہ ان گمرا ہوں کو ہرگز جوا ب نہیں دیتے ۔ وہ لو گ جانتے ہیں کہ وہ سن رہے ہیں حا لا نکہ وہ ان گمرا ہوں کی دعا ما نگنے اور فر یاد مچا نے سے محض بے خبر ہیں ۔
جو آ دمی کہ یا رسو ل اللہ اور یا علی اور یا غو ث ا لا عظم اور یا حسین اور یا فا طمہ اور اے خوا جہ اور اے پیر ، کہا کرتے ہیں وہ اپنے احوا ل کا اس آ یت کر یمہ کے سا تھ مواز نہ کر سکتے ہیں: ﴿إنك لا تسمع الموتی ولا تسمع الصّمّ الدّعا﴾( یعنی اے محمد ! تم مر دے کو سنا سکتے ہو نہ بہر ے کو)۔ یعنی سننے کے حق میں مردہ اور بہرہ برا بر ہیں : ﴿و ما أنت بمسمع من فی القبور﴾ ( اور نہ تم ان لو گوں کو سنا سکتے ہو جو قبروں میں ہیں) ۔اسی طر ح قر آ ن محض خدا کے واسطے پڑ ھنا عبادت ہے اور غیر خدا کی ر ضا مندی اور تقرب کے واسطے پڑھنا شر ک ہے ۔روزہ جو بڑی عبادتوں میں سے ہے ، اگر غیر خدا کے واسطے رکھیں خواہ سارا روزہ یا آ د ھا ، کا فر مطلق ہوں گے ۔
اسی طر ح حج کہ وہ بھی بڑی عبا دتوں سے ہے، اگرکسی اور کے واسطے ادا کر ے گا، صریح کفر میں مبتلا ہو گا ۔ خا نہ کعبہ کے علاوہ کسی قبر یا گھر کے گرد گھو منا نہ چا ہیے کیو نکہ خدا تعا لی ٰ فر ماتا ہے : ﴿ولیطوّفوا بالبیت العتیق﴾ یعنی اسی قدیم گھر کا طوا ف کر نا چا ہیے اور صفا و مر وہ کے سوا کسی دو مکا نوں میں دو ڑنا نہ چا ہیے اور جا نور خدا تعا لی کے علاوہ کسی اور کیلئے ذبح نہ کر نا چا ہیے ۔ اسی طر ح سر منڈا نا اور زیا ر ت کرنے وا لوں جیسی صورت بنا نا نہ چا ہیے اور دوسرے ارکان حج کو اسی پر قیاس کر سکتے ہیں ۔
اور تمام بند گیوں میں بہتر بند گی زکوۃ اور خدا کی راہ میں ما ل صرف کر نا ہے پس اگر کو ئی نقد و جنس یا کھا نا اموات کے نام پر یا بز ر گو ں کی نیاز یا جن و پری اور فرشتے یا خدا کے رسو ل کسی اور کے واسطے ہو نا شر ک ہے اور اس کا کھا نا نا جا ئز ۔ اللہ تعا لی فر ماتا ہے: ﴿حرّمت علیکم المیتۃ و الدّم و لحم الخنز یر و ما أھلّ لغیر اللّہ بہ﴾ یعنی تم پر مردہ اور خو ن اور سور کا گو شت اور جس چیز پر غیر خدا کا نام پکارا جا ئے ، حرا م ہے ۔ مثا ل اس کی یو ں سمجھئے کہ کو ئی رعیت بادشاہ کے سا منے اس کے غلام کے پاس نذ ر لے جا ئے ، باو جو دیکہ بادشاہ خود مو جود ہے ۔ پس ایسے وقت با لضرور وہ شخص غضب سلطا نی کے محل میں پڑے گا اور بادشاہ اس کی اس نذ ر کو خا ک ذلت پر ڈا لے گا۔ پھر اگر یہ نذرغلام نے قبو ل کر لی ہے تو وہ بھی محل غضب بادشاہی ہو گا ۔ البتہ اگر غلام نے اس کے قبو ل کر نے سے انکار کیا ہے تو اس کو کو ئی نقصا ن نہ پہنچے گا ۔ پھراس نذ ر کو جو ذلت کی خا ک پر پڑی ہو ئی ہے ، اگر کو ئی اور لینے کا ارادہ کر ے گا، تو وہ بھی ضرور غضب شا ہی میں گر فتار ہو گا ۔ پس معلوم ہوا کہ با و جود ہو نے اس حقیقی بادشاہ کے اگر کو ئی نقد یا کھا نا غیر خدا کی نذر کر ے، اس کا لینا اور کھا نا بالکل ناجائز ہے ۔ اس اخیر زما نہ میں اموات ( مردو ں) کے تقرب کیلئے قر آ ن پڑھتے اور کھا نا بز ر گو ں کی نذر دیتے ہیں اور نقدی غیر خدا کے نام پر صرف کرتے ہیں، جیسا کہ مو حد لو گ یہ سب عبادتیں محض خدا کے واسطے کرتے ہیں ۔ جب آ دمی ان سے سوا ل کرتے ہیں کہ تم اس شر ک عظیم کے کیوں مر تکب ہوتے ہو تو عوا م الناس تو بیہودہ جوا ب دیتے ہیں اور جہا لت بھر ے کلمے زبا ن پر لا کر کہتے ہیں: ﴿بل نتّبع ما ألفینا علیہ آباءنا﴾ ہم تمہارا کہنا نہ مانیں گے بلکہ جس چیز پر ہم نے اپنے باپ دادا کو جمع پایا ہے اسی پر عمل کریں گے اور اسی کی پیروی پر جان دیں گے یعنی تمہارے کہنے سے ہم اپنے باپ دادا کی رسمیں نہ چھو ڑیں گے ۔ آ خر پہلے لو گ جو اس کام کو کر گئے ہیں انہوں نے بھی تو اس کام میں کو ئی نہ کو ئی مصلحت سمجھی ہی ہو گی ۔ اس کے جوا ب میں خدا تعا لی فر ماتا ہے: ﴿أو لوکان آباءھم لایعقلون شیئاً ولا یھتدون﴾ صرف تمہارے باپ دادا کی رسم و روا ج اس کام کے پسند یدہ ہو نے کی دلیل نہیں ہے ۔ اپنے با پ دادا کی گمرا ہی پر تعجب نہ کرو، اگر چہ بظا ہر گدڑی پوش ہی ہوں ۔ اور بعض آ دمی چند دن کتابوں کا مطا لعہ کر کے شر عی حیلہ ظا ہر کر نے لگتے ہیں کہ ہم قر آن بز ر گو ں کیلئے نہیں پڑ ھتے، غیر خدا کے نام پر کھا نا نہیں دیتے ، بز ر گو ں کے واسطے جا نور ذبح نہیں کرتے بلکہ یہ سب نیک کا م محض خدا کے واسطے کرتے ہیں اور اس کا ثوا ب لو گو ں کو بخشتے ہیں ۔ غور کرنا چا ہیے کہ یہ لو گ حیلہ گر نہیں تو اور کو ن ہیں۔ بھلا اگر خدا کے واسطے کر تے کبھی مہینہ کی تخصیص جیسے محرم، میرا ں جی ، شب برا ت و غیرہ کی کیو ں کرتے ہیں اور جو کھا نے ان بزرگوں کو مر غو ب ہو تے ہیں مثلاً پلا ؤ، ما لیدہ و غیرہ کو کیوں خا ص کرتے ہیں اور اپنے اموال میں حصہ کیوں مقرر کرتے ہیں اور ایام مقررہ سے پہلے کچھ بھی صرف نہیں کرتے ہیں اور جس جا نور کو ذبح کرتے ہیں اس پر کیوں نشان لگا تے ہیں اور قبرو ں کے سا منے لے جا تے ہیں ۔ یہ سب صورتیں خا لص شر ک کی ہیں کہ شیطا ن نے حیلہ اور فر یب سے ان کے دلوں میں ثوا ب کا بخشنا اور اس کا عطا کر نا ڈا ل دیا ہے کیو نکہ وہ ملعو ن خدا کے سا منے وعدہ کر چکا ہے : ﴿قا ل لأتّخذنّ من عبادك …الخ﴾ خدا تعالی کے حضور میں ۔ شیطان بو لا کہ بلاشبہ میں تیرے بندو ں سے ایک مقررہ معین حصہ لوں گا اور بے شک میں انہیں گمراہ کروں گا اور ان کے دلوں میں جھو ٹی آ رزو میں ڈا لونگا۔ اور میں انہیں جا نورو ں کے کا ن پھا ڑ نے کا حکم کروں گا ۔ میں انہیں حکم کرو ں کہ وہ خدا کی پیدا ئش کو بد ل ڈا لیں گے ۔ خدا تعا لیٰ فر ما تا ہے اور جو شخص خدا کے سوا شیطا ن کو دوست رکھے گا بلا شبہ صریح و ظا ہر نقصا ن میں پڑے گا ۔
تبصرہ کریں