اسلام سچا مذہب ہے! مسلمان کی زندگی اس کا مظہر ہونا چاہیے۔ مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام کو پروان چڑھانے کیلئے سب سے بڑا عنصر کردار و اخلاق کارہا ہے۔

دشمنان اسلام کا یہ الزام کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے، یہ ان لوگوں کی ذہنی اختراع اور اسلام سے بغض و عداوت کی کھلی دلیل ہے لیکن بعض اوقات اسلام کی روح اور اس کے منشاء اور نبی محترم حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات سے ناواقف مسلم بھائیوں کی غلط روش کو دیکھ کر غیر لوگ اس کا استحصال کیا کرتے ہیں اور مذہب اسلام کو بدنام کرنے کی انہیں ایک شہ مل جاتی ہے۔لہٰذ یہ لوگ راست طور پر اسلام کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اسلام دشمن صحافت اور حکومتیں ان کا بھر پور تعاون کرتیں ہیں:لہٰذا دشمنان اسلام کی فضول بکواس کا جواب دینے کیلئے اس کا علاج صرف یہی ہے کہ ملت اسلامیہ کے وہ افراد جن کی کمزوری کی بناء پر غیروں کو جو موقع ہاتھ آرہا ہے اس کی طرف توجہ کریں اور ملت کا ہر فرد اپنی اصلاح اور اپنے بھائیوں کی صالح تربیت کی فکر کرے۔

ملت اسلامیہ کی سر بلندی اس بات میں مضمر ہے کہ اس کے ماننے والوں کے اندر سے وہ تمام خامیاں، خرابیاں کوتاہیاں دور ہوں، جو ایک صالح معاشرے کیلئے ضروری ہوا کرتی ہیں کیونکہ جب تک فرد کی اصلاح نہیں ہوتی صالح معاشرے کی تعمیر کا فقدان رہا کرتا ہے۔

ان حالات میں ملت اسلامیہ کے افراد کو اپنا بھولا ہوا سبق پھر پڑھنا ہوگا اور اچھی طرح یاد بھی کرلینا ہے کہ ہم کہاں تھے اور کس منصب پر فائز کئے گئے تھے اور ہماری کیا کیا ذمہ داریاں تھیں جنہیں ہم بھول بیٹھے۔

تو آیئے قارئین ! سب سے پہلے ہم اسلام کے سر چشمہ ہدایت قرآن پر نظر ڈالیں:

قرآن حکیم کے سورۃ آل عمران کی آیات نمبر 110 میں اللہ تبارک تعالیٰ امت مسلمہ کے وجود میں لائے جانے کا مقصد اور ان کی ذمہ داری کی طرف نشاندہی کر کے یہ فرمارہا ہے کہ تم کو ایک اعلی مقصد کیلئے اٹھایا گیا ہے اب تمہارا کام یہ ہونا چاہئے کہ تم لوگوں کو بھلی بات کا حکم کرو اور بری باتوں سے روکو، مولانا سید ابوالاعلی مودودؒی اس آیت مبارکہ کی ترجمانی یوں فرمائی ہے:

”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کیلئے میدان میں لایا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔“

ہم دنیا میں بہترین گروہ اس وقت ہوں گے جبکہ ہم نیکی کا حکم اور حق کی تلقین کرنے لگ جائیں اور بہترین گروہ ہونے کا تقاضہ یہ بھی کہ ہم برائیوں کا خاتمہ کرنے کی مقدور بھر کوششیں کریں۔

ظاہر بات ہے کہ ہم کو اس وقت تک نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کا احساس نہیں ہوگا، جب تک کہ ہم خود اس پر عامل نہ ہوجائیں چونکہ مومن کی پوری زندگی اسلام کی سچائی کی گواہ ہوتی ہے اور انکی پوری حیات حقانیت کے مظاہر پیش کرتی ہے ،یعنی اسلام دنیا کا سب سے اچھا اورحق کا علمبردار ہے تو پھر اسکے ماننے والوں کی زندگی بھی اس کے معیار پر پوری اترنی چاہیے۔ جو مومن ہوتا ہے اس کا اظہار اس کے شب و روز کے طرز عمل سے ہوتا ہے۔ غرض کہ ہمارے اخلاق ہمارے کردار ہماری گفتگو ہمارے کاروبار، لوگوں سے ہمارا سلوک الغرض ہماری زندگی کے ہر شعبہ سے حق و انصاف کا ظہور ہونے لگے او رہمارے قول و عمل میں کسی قسم کا کوئی تضاد پایا نہیں جانا چاہئے چونکہ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ ہر چیز کو پہلے ظاہری طور پر دیکھتا ہے اگر اسے ان چیزوں میں خوبیاں نظر آتی ہیں تو اس کے قریب ہوتا ہے اگرچہ کہ اسلام کی خوبیاں ایک حقیقت ہیں اور اسلام اپنے اندر بذات خود ایک بہترین کشش رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی بھی یہ سنت رہی ہے کہ انبیاء علیہ السلام کو مبعوث فرمانے سے قبل ان کے اندر وہ مومنانہ صفات اور بہترین اخلاق و کردار پیدا فرماتا ہے۔ یعنی انبیاء کی تاریخ رہی ہے کہ ان کے اندر شروع سے وہ خوبیاں پائی جاتی ہیں جو انسانی اخلاقی اقدار کے لیے نہایت ہی ضروری ہیں۔

ٹھیک اسی طریقہ سے اللہ کے محبوب اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اندر بھی وہ تمام خوبیاں اعلان نبوت سے قبل بھی پائی جاتی تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ عرب کے اس مشرکانہ و باغیانہ ماحول میں جبکہ ابھی آپﷺ کے اخلاق و کردار اور آپ کے حسن سلوک اور آپ کی گفتگو کا انداز اور آپ کی معاملہ فہمی کو دیکھ کر مشرکین، آپؐ کو امین و صادق کے القاب سے یاد کرتے۔

غرضیکہ سرکار دو عالم ﷺ نے نبوت کے اس اونچے منصب کے اعلان سے قبل اپنے کردار کا مظاہر فرمایالہٰذ ہم مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ سب سے پہلے ہم اپنے کردار کا جائزہ لیں کیونکہ جہاں پر حسن اخلاق و کردار خود ایک مسلمان کیلئے مومنانہ صفات میں ارتقاء کا سبب ہے وہیں پر اسلام کے فروغ کیلئے معاون و مددگار بھی ثابت ہوا کرتے ہیں، لہٰذا اب اہل ایمان پر ساری دنیا میں یہ ذمہ داری ہے جنہوں نے دین اسلام کو دین حق، دین رحمت سمجھ کر قبول کیا ہے، اس کی گواہی اور شہادت حق اپنے قول و فعل کے ذریعہ سارے بندگان خدا کے سامنے پیش کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جس دین رحمت کا دعوی کرتے ہیں اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں لیکن ہمارا عمل ہماری گفتگو، ہمارے کردار ہمارے اخلاق ہمارے دعوے ؛ ہماری دعوت کے برخلاف ہوں، اگر ایسا ہوا تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اسلام کی سربلندی اور اس کے غلبہ اور اقامت دین رحمت کی راہ میں ہم خود سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔

اسلامی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بہترین کردار اخلاق و معاملات نے ایک تھوڑے سے عرصہ میں بہترین نفوس پر مشتمل ایک ایسی صالح جماعت تیار کی جو ساری دنیا میں قیامت تک کیلئے بہترین نمونہ ہے۔

اب اس وقت مسلمانوں کیلئے کرنے کے کام یہ یہ ہیں کہ اللہ کی کتاب کے ذریعہ اسے اپنا لائحہ عمل بنالیں اس کے مضامین پر غور کریں اور اسی کو دستور حیات مانیں۔ یہ بات بہت ہی اہم اور لائق قدر ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے علماء کرام نے مقامی زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم کئے ہیں صرف تراجم ہی نہیں بلکہ اس کی تفہیم و تفسیر بھی کی جاچکی ہے اور یہ ان بزرگ حضرات کا ملت پر ایک احسان عظیم ہے۔لہٰذ اس سے استفادہ کریں اور نبی کریم ﷺکی احادیث شریفہ کو اس کے معنی و مفہوم کے ساتھ اچھی طرح ذہن نشین کریں جو قرآن کو سمجھنے میں ہمارے لئے یقیناً معاون و مددگار ثابت ہوں گی اور حدیث کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن نہیں۔

مختصر یہ کہ قرآن و حدیث یہ دو چیزیں اور روش صحابہؓ یہ ایسی چیز ہے کہ آدمی کو سیدھی راہ متعین کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں اپنے اخلاق و معاملات کو سنوارنے کیلئے سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں جو ہماری زندگی میں صالح انقلاب لانے کیلئے ضروری ہے۔ اس کے بغیر نہ تو اقامت دین کا تصور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی صالح معاشرہ و معاشرت کی تشکیل ممکن ہے۔

جیسا کہ میں اپنے مضمون کے آغاز میں اشارہ کرچکا ہوں کہ ہمارے مسلم بھائیوں کی اکثریت دین اسلام کا غلط نمونہ اپنے حال و قال سے پیش کرتی ہے جس کی معقول وجہ یہ ہے کہ ان کی اکثریت دین اسلام کے صحیح تصور سے نا واقف ہے یا تو انہیں واقف نہیں کروایا گیا یا پھر دین کا ایک مختصر خاکہ ان کے سامنے پیش کیا گیا۔ اب ہمارے سامنے ملت اسلامیہ کے تین طبقہ پائے جاتے ہیں :

(الف) یہ کہ دین سے بالکل ہی کورے۔

(ب) یہ کہ دین اسلام کے دائرہ کو محدود کرتے ہوئے چند فرائض و واجبات پر قائم ہوکر اسی کو مکمل دین سمجھنے والے۔

(ج) یہ کہ دین رحمت کا وسیع تصور عوام الناس کے سامنے پیش کرنے والے۔

لیکن اول الذکر گروہ جو ایک بڑی اکثریت پر مشتمل ہے اور دنیا انہیں کو دیکھ کر اسلام سے متنفر ہورہی ہےلہٰذا ضرورت اس وقت اس بات کی محسوس کی جاتی ہے کہ جہل میں پڑے اکثریت میں پائے جانے والے مسلمان بھائیوں کی طرف اولین اور ترجیحاً توجہ مرکوز کی جائے تا کہ اسلام کی بگڑی ہوئی تصویر پھر اس کی اصلی شکل و صورت میں ظاہر ہوسکے اور اس کے محاسن کو دیکھ کر لوگ اس کی طرف کھینچے کھینچے دوڑ چلے آئیں اس کیلئے اولین شرط یہ ہے کہ جو لوگ دین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں (مگر محدود تصور دین رکھتے ہیں) انہیں چاہئے کہ اپنے تصور دین کا دائرہ تھوڑا وسیع کریں اور مکمل تصور دین رکھنے والوں کا ساتھ دیں یا کم سے کم مخالفانہ ذہن ختم کردیں۔

اور یہ بات بھی بڑی قابل غور اور قابل عمل ہے کہ جو لوگ دین کے مکمل تصور کے ساتھ میدان عمل میں ہیں انہیں بھی چاہئے کہ یہ جس دین رحمت کی دعوت عوام الناس کو دے رہے ہیں وہ خود کہاں تک اس پر عمل پیرا ہیں ؟؟کیونکہ داعی دین کی ہر ایک حرکت جو ان کے شب روز سے ظاہر ہوتی رہتی ہے لوگ ان پر گہری نظر رکھتے ہیں اور یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ داعی با عمل کی بات دلوں پر اثر و نفوذ کر جاتی ہے۔

٭٭٭

ایک شخص بارگاہ رسالت مآبﷺ میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہﷺ ! یہ فرمائیے کہ قیامت کب برپا ہو گی؟ شافع محشرﷺ نے اس سے پوچھا:” مَا أَعدَدتَ لَھَا”

تم نے قیامت کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان! میں نے نہ تو زیادہ نمازیں پڑھی ہیں، نہ زیادہ روزے رکھے ہیں اور نہ زیادہ صدقات ہی دیئے ہیں۔

“لَکِنِّی أُحِبُّ اللّٰہ رَسُولَه.”

البتہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ حضور رحمة اللعالمینﷺ نے فرمایا:

«أَنتَ مَعَن أَحبَبتَ» تو اس کے ساتھ ہو گا جس سے تُو محبت کرتا ہو گا۔“(صحیح بخاری)

تبصرہ کریں