
بسم الله الرحمن الرحيم
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (سورة البقرة: 153)
حمد و ثنا اور شکر و تعریف اللہ رب العالمین کے لیے، جو مالک الملک، خالقِ کل، عالمِ کل ہے۔ درود و سلام اور صلاۃ وتسلیم، سرور انبیاء کے لیے جو امام کل اور رحمت کل ہیں۔ قرآن کریم کی جو آیت کریمہ خطبہ کے ساتھ میں نے پڑھی، اس میں رب کریم کا ارشاد گرامی ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (سورة البقرة: 153)
’’اے ایمان والو! اللہ کی مدد چاہو، صبر کے ساتھ اور نماز کے ساتھ۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔‘‘
اسلام ہمیں جن باتوں کی تعلیم دیتا ہے، اسلام لانے کے بعد جو باتیں ہمارے لیے کرنی ضروری ہیں ، ان میں صبر بھی ہے اور شکر بھی ہے۔ شکر کی بات ان شاءاللہ آیندہ کریں گے۔ آج صبر کی بات کرتے ہیں۔
صبر کیا ہے؟ صبر اصل میں کہتے ہیں، اپنے آپ کو روکنا۔ روکنا کس چیز سے؟ گناہ کرنے سے، اللہ کی نافرمانی کرنے سے اور حالات کی شکایت کرنے سے۔ حالات اچھے نہ ہوں تو اس پر اللہ سے ناراض ہونے سے اپنے آپ کو روکنا۔ پھر صبر کہتے ہیں برداشت کو۔ بھوک ہو، پیاس ہو، جسمانی یا ذہنی تکلیف ہو، اس کے باوجود اپنے آپ کو شکوہ و شکایت اور نافرمانی سے اللہ کی رضا کے لیے برداشت کرتے ہوئےدین پر قائم رہنا۔ دوسرے لفظوں میں صبر کہتے ہیں: ثابت قدمی کو، استقامت کو۔ دین پر اور اپنے اصول پر مشقتوں کے باوجود قائم رہنا صبر ہے۔
اس کی فضیلت کیا ہے؟ جیسا کہ اس آیت میں بتایا گیا کہ صبر سے اللہ کا ساتھ ملتا ہے، اللہ کی مدد ملتی ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (سورة البقره: 153)
یہ ایک اونچا عمل ہے۔ اس کی دوسری فضیلت یہ ہے کہ صبر ایک بلند اور زبردست قسم کا عمل ہے۔ قرآن نے کہا:
﴿وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾ (سورة الشورى: 43)
’’ صبر کرنا ، یہ بہت مضبوط عزم والوں کی بات ہے۔‘‘
اور اسی حساب سے اس کا بے پناہ اجر ہے۔
صبر کی تیسری فضیلت بے حساب اجر ہے۔ قرآن نے بتایا کہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر دیا جائے گا تو بلا حساب دیا جائے گا، صبر کا بے حساب اجر ہوگا، بہت زیادہ اجر ہوگا جو صبر کرنے والوں کو ملے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی پوری کی پوری آزمائش ہے، امتحان ہے اور خاص طور پہ ایمان کا دعوی کرنے کے بعد، پھر آزمائشیں ضرور آتی ہیں۔
قرآن ہی کا فیصلہ ہے:
﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾ (سورة العنكبوت: 2)
کہ لوگوں نے کیسے یہ سمجھ لیا کہ آمَنَّا کہنے اور ایمان لانے کے بعد ان کی کوئی آزمائش نہیں ہوگی؟ ضرور ہوگی، پرکھ ہوگی، امتحان ہوگا، آزمائش ہوگی کہ وہ اپنے دعویٰ ایمان میں کہاں تک سچے ہیں ؟ دعوے کی سچائی ثابت کرنا ہوگی، صبر سے، برداشت سے اور ثابت قدمی سے۔ ویسے بھی زندگی میں ایمان ہو یا نہ ہو، تکلیفیں آتی رہتی ہیں۔
ارشادِ ربانی ہے:
﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾ (سورة البقره: 155)
’’ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے، بھوک بھی آئے گی، خوف بھی آئے گا، مال وجان میں کمی کی آزمائش بھی آئے گی اور ان سب تکلیفوں اور مصیبتوں میں جو چیز سہارا دیتی ہے، وہ ایمان ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ﴾ (سورة التغابن: 11)
تکلیفیں اللہ کے حکم سے آتی ہیں ۔ جو ایمان والا ہے، اس کے دل کو اللہ تعالیٰ قائم کر دیتا ہے۔ ایمان پارس کا پتھر ہے۔ پارس کہتے ہیں، ایک فرضی پتھر کو، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس سے جو چیز بھی لگے، وہ سونا بن جاتی ہے، قیمتی بن جاتی ہے تو ایمان بھی ایسا ہی پارس کا پتھر ہے۔ پارس کا وہ پتھر تو حقیقت نہیں، بس کہانی ہے، لیکن یہ پارس کا پتھر، جس کا نام ایمان ہے، یہ ایک حقیقت ہے، جو ہر چیز کو سونا بنا دیتا ہے، یعنی قیمتی بنا دیتا ہے، ثواب والا بنا دیتا ہے، اجر والا بنا دیتا ہے۔ جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیرانی کا اظہار کیا۔
آپﷺ نے فرمایا کہ
ایمان کتنی بڑی دولت ہے، کتنا بڑا پتھر ہے، پارس کا پتھر۔ فرمایا:
«عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ» (صحیح مسلم: 2999)
میں مؤمن کے معاملے پر حیران ہوتا ہوں ، کیا خوب معاملہ ہے، انجام اور نتیجے کے لحاظ سے اس کے تمام کام بہتر ہو جاتے ہیں۔ اگر اسے آرام پہنچتا ہے، راحت پہنچتی ہے، تو وہ شکر کرتا ہے، جس سے یہ راحت اس کے لیے انجام کے لحاظ سے خیر ہو جاتی ہے، بہتر ہو جاتی ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے، جس سے وہ تکلیف اس کے لیے اچھی ہو جاتی ہے۔ اس طرح اس کے لیے دونوں چیزیں اچھی ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ نے ﷺ بڑی عظیم بات فرمائی، بڑی خوش خبری دی۔
آپ ﷺنے فرمایا :
«مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ، وَلا وَصَبٍ، وَلاهَمٍّ، وَلا حَزَنٍ، وَلا أَذًى، وَلا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا، إِلا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ» (الأدب المفرد: 492)
کہ مسلمان آدمی تھکاوٹ کا شکار ہو۔ وہ بیماری کا شکار ہو، اسے کوئی غم یا کوئی چنتا لگی ہو، دل میں کوئی تکلیف ہو، حتیٰ کہ اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے، یعنی معمولی سی تکلیف بھی پہنچے تو کیا ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف کر دیتا ہے۔ اس کی خطائیں دھو دی جاتی ہیں اور اسے ان کے عذاب سے بچا لیا جاتا ہے۔
اسی حوالے سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
«مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ» (سنن أبو داؤد: 1644)
اللہ کی عطائیں اور نعمتیں بہت سی ہیں، لیکن آپﷺ نے فرمایا کہ صبر سب سے بڑی نعمت ہے۔ جسے صبر کی عادت مل جائے، اسے سب سے بڑی نعمت مل جاتی ہے۔ موت ہو، بیماری ہو، نقصان ہو، تکلیف ہو، مصیبت ہو، اس پر صبر کرنے کی تعلیم ہمیں دی گئی ہے۔
بیماری کی بات کر لیں، کوئی صحابی یا ساتھی بیمار ہوتا تو آپ اس کی عیادت فرماتے، بیمار پرسی کرتے اور فرماتے:
«لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» (صحيح البخاری: 3616)
فکر نہ کرو، غم نہ کرو، بیماری سے پریشان نہ ہو جاؤ، اس سے تمہاری خطائیں معاف ہوں گی۔
بعض سخت بیماریاں ہیں، جن کا آپﷺ نے ذکر کیا۔طاعون سخت تکلیف والی بیماری ہے۔ فرمایا کہ اس میں مبتلا ہو کر، اگر کوئی مسلمان فوت ہوجا تا ہے تو :
« وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ » (صحيح مسلم:1915)
« إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ» (مسند إسحاق بن راهويه: 3/1016)
اسے شہید جیسا ثواب ملتا ہے۔
اسی وجہ سے مشہور صحابی سیدنا معاذ بن جبل کو طاعون کی گلٹی نکلی۔ ہاتھ پر بھی گلٹی تھی تو وہ اس ہاتھ کو چومتے تھے کہ اس گلٹی کی وجہ سے، مجھے جنت مل جائے گی تو کوئی بات نہیں۔
آپﷺ کے زمانے میں ایک خاتون تھی ، جسے مرگی کے دورے پڑتے تھے۔ وہ آپﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے دعا کی درخواست کی۔ آپﷺ نے اس سے عجیب بات کہی، فرمایا:
«إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ» (صحيح بخارى: 5652)
’’اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں، اللہ فضل کرے گا لیکن اگر تو صبر کرے تو اس کے بدلے میں تجھے جنت ملے گی۔‘‘
اس نے کہا: ’’میں صبر کروں گی، لیکن دعا کریں کہ جب مجھے دورہ پڑے تو میرا ستر نہ کھلے تاکہ بے پردگی نہ ہو۔‘‘ آپﷺ نے اس کے لیے دعا کی۔
بعد میں وہ عورت گزر رہی ہوتی تو سیدنا عبداللہ بن عباس اپنے شاگردوں سے کہا کرتے تھے:
’’آؤ دیکھو، یہ جنتی عورت جا رہی ہے، کیونکہ اس نے بیماری پر صبر کیا اور نبی ﷺ نے بشارت دی تھی کہ اگر صبر کرو گی تو تمہیں جنت مل جائے گی۔‘‘
مالی نقصان پر صبر کا قصہ،شیخ عبدالقادر جیلانی کے حوالے سے سنایا جاتا ہے۔ وہ کپڑے وغیرہ کی تجارت کرتے تھے۔ خبر ملی کہ جس جہاز میں مال آ رہا تھا وہ ڈوب گیا۔ انہوں نے کہا: ’’الحمدللہ‘‘ یعنی ہر حال میں اللہ کا شکر ہے ۔ پھر خبر آئی کہ نہیں، وہ جہاز کوئی اور تھا، وہ جہاز نہیں تھا، جس پہ آپ کا مال آ رہا تھا۔ پھر کہا : ’’الحمدللہ‘‘ یعنی ہر حال میں شکر۔ اچھی خبر ہو تو بھی “الحمدللہ”، اور اچھی نہ ہو تو اس پر بھی ’’الحمدللہ‘‘
اسی طرح انسان کو بدنی تکلیف، جسمانی تکلیف آتی رہتی ہے۔ کس کو نہیں تکالیف آتیں؟ انبیاء پر بھی آئیں، اُحد میں نبی کریم ﷺ کے دانت ٹوٹے، جنگ میں پنڈلیاں زخمی ہوئیں۔پتھر آپ کو مارے گئے، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت کے وقت بھی آپ کو شدید بخار ہوا۔ چادر کے اوپر سے بھی آپ کے جسم کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا تھا، اتنا گرم تھا۔ حضرت فاطمہ کہہ رہی تھیں:
’’ہائے میرے ابا کتنی تکلیف میں ہیں۔‘‘
تو آپﷺ نے فرمایا:
«لَيْسَ عَلَى أَبِيكِ كَرْبٌ بَعْدَ الْيَوْمِ» (صحيح بخارى: 4462)
’’آج کے بعد تیرے ابا کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی، ان شاءاللہ۔‘‘
بے شک تکلیف کے ساتھ راحت بھی ملتی ہے۔ دنیا میں انبیاء پر بھی تکلیفیں آئیں لیکن انہوں نے صبر کیا۔ حضرت عروہ بن زبیر کے پاؤں میں زخم تھا۔ طبیبوں نے پاؤں کاٹنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کوئی نشہ آور دوائی پینی پڑے گی۔ انہوں نے کہا:
’’میں نشہ آور دوائی نہیں پیوں گا، تم کاٹو میں اللہ کا نام لیتا ہوں، قرآن پڑھتا ہوں تم پاؤں کاٹو۔‘‘ اسی رات ان کا ایک بیٹا فوت ہوگیا، لوگ تعزیت کے لیے آئے تو وہ اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔ تکلیفوں کے باوجود، پاؤں کٹنے کے باوجود، بیٹے کے فوت ہونے کے باوجود۔
انہوں نے فرمایا:
’’اللہ نے چار ہاتھ پاؤں دئیے تھے۔ ابھی ایک ہی کٹا ہے، تین تو میرے پاس موجود ہیں اور اسی طرح چھ سات بیٹے تھے۔ ایک بیٹا اللہ نے لے لیا ہے، باقی تو موجود ہیں۔ تو کس بات پہ ناشکری کروں؟ کس بات پہ بے صبری دکھاؤں؟‘‘ (تاریخ ابن عساکر: 2؍145)
اپنے کسی عزیز کی موت کی بھی انسان کو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ جتنا کوئی عزیز پیارا ہو، اتنی ہی تکلیف زیادہ ہوتی ہے، لیکن آپ نے اس کے لیے بشارت دی، بلکہ اللہ کا فرمان حدیث قدسی میں بتایا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
«مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ، إِلَّا الْجَنَّةُ» (صحيح بخارى: 6424)
’’میرا مومن بندہ جب اپنے کسی پیارے کی موت پر صبر کرتا ہے اور اس موت کی پریشانی سے ثواب کی امید رکھتا ہے، تو میں اسے اس کے بدلے میں جنت عطا کرتا ہوں۔‘‘
نبی کریم ﷺ کی ایک صاحبزادی، آپ کی بیٹی نے پیغام بھیجا کہ
’’آپ کا نواسہ، میرا بیٹا نزع کے عالم میں ہے، فوت ہو رہا ہے تو تشریف لائیں، مجھے تسلی ہو جائے گی۔‘‘
آپ فوری جا نہیں سکتے تھے، مصروف تھے۔ آپ نے پیغام بھیجا کہ
« إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَ اللَّهِ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ» (صحيح بخارى: 6602)
’’جو کچھ دیتا ہے، اولاد ہو یا کچھ اور، وہ اللہ دیتا ہے اور جو واپس لیتا ہے وہ بھی اللہ لیتا ہے۔ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، بندوں کا بھی وقت مقرر ہے۔ صبر کرو اور اللہ سے ثواب کی امید رکھو۔‘‘ پھر بیٹی نے اصرار کیا کہ آپ ضرور آئیں تو آپ تشریف لے گئے۔ جا کے بچے کو فوت ہوتے دیکھا، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ پوچھنے والے نے پوچھا، ’’آپ بھی روتے ہیں؟ کہ آپ تو نبی ہیں، آپﷺ نےفرمایا:
’’ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے رحم ڈالا ہے ، اپنے بندوں کے دل میں رحم ڈالا ہے اور اس رحم کی وجہ سے آنسو بہہ رہے ہیں، لیکن زبان سے کوئی ایسی بات نہیں ہوگی، جس سے اللہ کی شکایت ہو۔‘‘ (صحیح مسلم:923)
پھر اسی طرح ایذاؤں اور تکلیفوں پر صبر ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ہر قسم کی تکلیفیں دیکھیں۔ شعب ابی طالب میں بائیکاٹ ہوا۔ خریدنے کی چیزیں، کھانے پینے کی چیزیں روک لی گئیں۔ قریش کے قبیلوں نے آپس میں معاہدہ کر لیا کہ بنی ہاشم کو، نبی کریم ﷺ کے ساتھیوں کو کچھ نہیں دیں گے۔ دو سال سے زیادہ عرصہ یہ بائیکاٹ جاری رہا اور آپ صبر کرتے رہے، اللہ کا شکوہ نہیں کیا۔ اسی طرح طائف و اُحد کا میدان اور دیگر مواقع پر آپ کو تکلیفوں کا نشانہ بنایا گیا مگر ان مصائب اور تکلیفیں دینے والوں سے آپ نے کبھی بدلہ نہیں لیا۔
جیسا کہ حضرت عائشہ نے کہا:
«وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِنَفْسِهِ» (صحیح مسلم: 6045)
’’نبی کریم ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا۔‘‘
فتح مکہ کے بعد کے واقعات اس کی واضح مثال ہیں، جب آپ نے پتھر برسانے والوں کو، گالیاں دینے والوں کو، جنگیں مسلط کرنے والوں کو، صحابہ کرام کو خاک و خون میں نہلانے والوں کو، سب کو معاف کر دیا۔ یہاں تک کہ ابو سفیان کو، ابو جہل کے بیٹے کو اور قاتلِ سیدنا حمزہ، وحشی بن حرب کو بھی معاف کر دیا۔ یہ آپ کے صبر کی انتہا تھی۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے اپنے پیارے چچا حمزہ کی لاش دیکھی، ان کا چاک شدہ جگر اور پیٹ دیکھا، تو آپ نے فرمایا: ’’اگر مجھے فتح کا موقع ملا تو میں کافروں کے تیس آدمیوں سے یہی سلوک کروں گا، جو میرے چچا سے کیا گیا ہے۔‘‘
لیکن پھر قرآن پاک کی آیتیں نازل ہو گئیں۔
چودھویں پارے کی آخری آیات، سورہ نحل میں ارشاد ہوا کہ اگر بدلہ لینا ہے تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی تم پر زیادتی ہوئی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ ایک کا بدلہ تیس نہیں، ایک کا بدلہ ایک ہوتا ہے اور آگے فرمایا کہ اگر صبر کرو، ایک کا بھی بدلہ نہ لو، تو یہ بہتر ہے۔ آپ کو خاص طور پر حکم ہوا کہ چونکہ آپ کو اخلاق عالیہ کے اونچے سے اونچے درجے پر لے کر جانا ہے، اس لیے آپ صبر ہی کریں۔ یہ صبر اللہ کی توفیق سے ہوگا، لیکن آپ صبر کریں۔
اس لیے سختیوں کے باوجود، مظالم کے باوجود آپ نے صبر کیا۔
پھر صبر کی ایک اور اعلیٰ قسم ہے: حق پر قائم رہنا، دین پر قائم رہنا، مشکلات، مصائب اور پریشانیوں کے باوجود۔ خواہ وہ پریشانی بیماری کی ہو، غربت کی ہو، افلاس کی ہو، ظلم کی ہو، زیادتی کی ہو، ہر حال میں دین پر چلتے رہنا اور اس پر قائم رہنا، اسے نہ چھوڑنا۔ ایک صحابی نے آپ سے مختصر سی نصیحت کی درخواست کی تھی کہ ایسی نصیحت کر دیں جو میرے کام آئے، لیکن ہو چھوٹی سی، لمبی بات نہ ہو۔
آپ ﷺنے فرمایا:
«قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ» (صحيح مسلم: 159)
’’ایمان لا کر قائم ہو جا۔‘‘ یہ تیرے لیے نصیحت ہے۔
استقامت، صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ ایمان پر جمے رہو۔ بعض لوگ چھوٹی سی تکلیف پر بے صبری کرتے ہیں، جزع فزع کرتے ہیں، لیکن صحیح اور پکے ایمان والے ایسا نہیں کرتے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ﴾ (سورة فصلت: 30)
بے شک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ حق پر جمے رہتے ہیں، ان کے لیے نعمتیں ہیں، ان کے لیے بشارتیں ہیں۔ ان کے لیے فرشتے اترتے ہیں۔ ایماندار کو آزمائش کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے، کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے اور جتنا ایمان کا دعویٰ ہو، جتنا ایمان ہو، اتنی زیادہ آزمائشیں آتی ہیں۔
انبیاء کے بارے میں آپ ﷺنے فرمایا :
«أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً اَلْأَنْبِيَاء» (طبرانی: 245)
انبیاء پر بڑی بڑی مصیبتیں آتی ہیں، تکلیفیں آتی ہیں۔ انجیل میں بھی ہے کہ
’’جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے، اسے کھوئے گا، اور جو کوئی میرے لیے اپنی جان کھوتا ہے، وہ اسے بچائے گا۔‘‘
اقبال نے بھی کہا کہ
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
مکے میں ایمان لانے کے بعد صحابہ نے ظلم وستم کی شکایت کی۔ پوچھا کہ یہ ابتلا اور آزمائش کا دور ہم پر آیا ہے، آپ پر ایمان لانے کے بعد یہ کب ختم ہوگا؟ کیسے ختم ہوگا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ کیا ابھی سے گھبرا گئے ہو؟ یاد کرو، پہلے ایمان والوں کی مصیبتیں اور تکلیفیں جو ان پر آئیں۔ پہلے ایمان لانے والے انبیاء کے ساتھیوں کو لوہے کے آروں سے کاٹا گیا، جیسے لکڑی کے بڑے ٹکڑے کاٹے جاتے ہیں۔ زندہ انسانوں کو چیرا گیا، آرے سے کاٹ کر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور لوہے کی کنگھیوں سے زندہ جسموں سے گوشت نوچا گیا۔ فرمایا کہ اس کے باوجود وہ لوگ استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہے ۔ انہوں نے تکلیفوں کے باوجود دین کو نہیں چھوڑا ۔
اسی طرح صحابہ پر بھی آزمائشیں آئیں۔ حضرت خبیب کو جلتے ہوئے کوئلوں پر لٹایا گیا، خباب کو گرم ریت پر لٹایا گیا۔ بلال کو گلیوں میں گھسیٹا گیا اور اس وقت بھی وہ توحید کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ انہی لوگوں کا کام تھا ، اتنے مصائب کو برداشت کر کے بھی دین پر قائم رہنا اور چلتے رہنا۔ ہمارے لیے تو آسان کام ہے۔ عام حالات میں جو احکام ہیں، جیسے نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، خیرات دینا، عمرہ اور حج کرنا، یہ عام نیکیاں عام حالات میں آسانی سے ہوسکتی ہیں۔ ہماری آزمائش اتنی سی ہے کہ کبھی کوئی بیماری، کوئی تکلیف آ جائے تو اس پر بھی صبر کریں۔ ہم سے تھوڑے کا مطالبہ ہے، زیادہ کا نہیں۔ ان لوگوں نے تو بہت صبر سے تکلیفوں کو کاٹا، لیکن گھبراہٹ، جزع فزع ، پریشانی کا اظہار یا اللہ کی شکایت کرنا کہ ہمیں کیسے حالات میں رکھا؟ یہ ان کا رویہ نہیں تھا۔شاعر نے کہا کہ
کہہ رہا ہے شورِ دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے، اتنا ہی وہ خاموش ہے
اے صبا، لالہ کم ظرف سے اتنا کہنا
کہ دل کی توہین ہے داغوں کا نمایاں ہونا
بہر حال دنیا آزمائش اور امتحان کا گھر ہے۔بیماری، غربت، تنگی، موت، تکلیفوں کی شکل میں آزمائشیں آتی ہیں، جیسا کہ قرآن میں ذکر ہے کہ ایمان لانے والوں کو آزمائشوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾ (سورة العنکبوت: 2)
ایمان والے یہ نہ سمجھیں کہ ایمان لانے کے بعد آزمائشیں نہیں آئیں گی۔ ایمان وہ طاقت ہے جو ہر تکلیف، ہر مصیبت اور پریشانی کو خیر، ثواب اور اللہ کی خوشنودی میں تبدیل کردیتا ہے۔
اللہ ہمیں صبر کرنے والا اور شکر کرنے والا بنائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین
٭٭٭
تبصرہ کریں