سورۃ الرحمن: ایک مختصر تعارف۔ مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

مذکورہ بالا سورۃ کو ”مدنی سورتوں میں شامل رکھا گیا ہے۔“ لیکن علماء تفسیر بالعموم اس سورۃ کو مکی قرار دیتے ہیں۔ اس کی معقول وجہ یہ ہے کہ اس کا جو مضمون ہے وہ مدنی سورتوں کے بہ نسبت مکی سورتوں میں شامل مضامین سے ملتا جلتا ہے ، اور یہ بھی کہ اس میں جو بیان آیا ہے اور جن چیزوں کا ذکر ہوا ہے اگر اس کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بھی صاف طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ یہ سورۃ مکی دور کے ابتدائی حصہ میں نازل ہوئی ہوگی۔

مولانا مفتی محمد شفیع علیہ الرحمۃ، ربط سورت اور جملہ (فَبِاَيِّ اٰلَاءِ رَبِّكُمَا) کی تکرار کے سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ ”اس سے پہلی سورت القمر میں زیادہ تر مضامین سرکش قوموں پر عذاب الٰہی آنے کے متعلق تھے اسی لئے ہر ایک عذاب کے بعد لوگوں کو متنبہ کرنے کے لئے ایک خاص جملہ بار بار استعمال فرمایا ہے، یعنی

فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ

اور اس کے متصل ایمان و اطاعت کی ترغیب کے لئے دوسرا جملہ

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ

بار بار لایا گیا ہے۔

سورة الرحمن میں اس کے مقابل بیشتر مضامین حق تعالیٰ کی دنیوی اور اخروی نعمتوں کے بیان میں ہیں اسی لئے جب کسی خاص نعمت کا ذکر فرمایا تو ایک جملہ لوگوں کو متنبہ کرنے اور شکر نعمت کی ترغیب دینے کے لئے فرمایا:

فَبِاَيِّ اٰلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ

اور پوری سورت میں یہ جملہ اکتیس مرتبہ لایا گیا ہے، جو بظاہر تکرار معلوم ہوتا ہے اور کسی لفظ یا جملے کا تکرار بھی تاکید کا فائدہ دیتا ہے، اس لئے وہ بھی فصاحت و بلاغت کے خلاف نہیں خصوصاً قرآن کریم کی ان دونوں سورتوں میں جس جملے کا تکرار ہوا ہے وہ تو صورت کے اعتبار سے تکرار ہے، حقیقت کے اعتبار سے ہر ایک جملہ ایک نئے مضمون سے متعلق ہونے کی وجہ سے مکرر محض نہیں ہے، کیونکہ سورة قمر میں ہر نئے عذاب کے بعد اس کے متعلق:

(فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ) آیا ہے، اسی طرح سورة رحمن میں ہر نئی نعمت کے بیان کے بعد (فَبِاَيِّ اٰلَاءِ) کا تکرار کیا گیا ہے جو ایک نئے مضمون کے متعلق ہونے کے سبب تکرار محض نہیں، علامہ سیوطی نے اس قسم کے تکرار کا نام تردید بتلایا ہے، وہ فصحاء و بلغاء عرب کے کلام میں مستحسن اور شیریں سمجھا گیا، نثر اور نظم دونوں میں استعمال ہوتا ہے، اور صرف عربی نہیں، فارسی، اردو وغیرہ زبانوں کے مسلم شعراء کے کلام میں بھی اس کی نظائر پائی جاتی ہیں، یہ موقع ان کو جمع کرنے کا نہیں، تفسیر روح المعانی وغیرہ میں اس جگہ متعدد نظائر بھی نقل کئے ہیں۔‘‘ (معارف القرآن)

علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ

”حضرت ابوبکر صدیؓق کی صاحبزادی، حضرت اسؓماء فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ میں دکن کی طرف نماز پڑھتے ہوے دیکھا آپﷺ اس نماز میں اس سورت (الرحمن) کی تلاوت فرمارہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے۔ (اقتباس ابن کثیر ؛ ترجمہ حضرت مولانا محمد جوناگڑہی)

سورۃ رحمان کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں انسانوں کے علاوہ دوسری بااختیار مخلوق ، جنات کو بھی براہِ راست خطاب کیا گیا ہے۔

قرآن حکیم کی دیگر آیات کریمہ میں اگرچہ اس بات کی تصریحات موجود ہیں کہ ’’جن‘‘ بھی انسانوں کی طرح اللہ کے ہاں جواب دہ مخلوق ہے۔ جس طرح انسانوں میں اچھے ، بُرے کافر و مومن لوگ ہوتے ہیں اسی طرح جنوں میں بھی کافر و مومن ، انبیاء کرام و کتب آسمانی پر ایمان لانے والے۔ اور سرکشی کرنے والے سب ہی پائے جاتے ہیں۔

آیت کریمہ (13) سے انسان اور جن اِن دونوں مخلوقات سے یکساں مخاطب کیا گیا ،یہ اس بات کی قطعی صراحت ہے کہ آنحضور ا کی رسالت اور قرآن حکیم کی دعوت ان دونوں کے لئے ہے اور نبی کریمﷺ صرف انسانوں کے لئے رسول بناکر مبعوث نہیں فرمائے گئے بلکہ آپﷺ کی رسالت جنوں کے لئے بھی ہے۔ لیکن اس سورۃ کے ابتداء میں خطاب کا جو رُخ انسانوں کی طرف ہے وہ اس لئے کہ زمین پر انسانوں کی حیثیت خلیفہ کی ہے ، دوسری چیز یہ کہ جتنے بھی رسول مبعوث فرمائے گئے انسانوں ہی میں سے بابرکت بندوں میں سے ان کا انتخاب فرمایا گیا ، اور جتنی بھی آسمانی کتابوں کو نازل فرمایا گیا انسانوں ہی کی زبانوں میں ان کا نزول ہوا۔ اس طرح یہ بات قرآن حکیم سے ثابت ہوتی ہے کہ سرکار دو عالم ا انسانوں اور جنوں کے لئے یکساں رسولﷺ بناکر روانہ فرمائے گئے ، تاکہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم اور آپ کے بتائے ہوئے راستہ پر ہم چلیں اور خسران سے بچے رہیں۔

سورۃ کا آغاز بڑے ہی عالیشان انداز میں ہوتا ہے ، فرمایا :

(اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ )

نہایت مہربان (خدا) نے اس قرآن کی تعلیم دی ہے۔ دو ٹوک انداز میں اس بات کو واضح کردیا گیا کہ یہ قرآن اور اس کی جو تعلیم ہے ، صرف اور صرف نہایت ہی مہربان ہستی (خدائے تعالیٰ کی) طرف سے نازل کردہ ہے ’لفظ‘ ’’رحمن‘‘ اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ محمدﷺ کے قلب مبارک و مطہر پر اسے نازل کرتے ہوئے اللہ نے سراسر اپنے بندوں کے ساتھ رحمت کا معاملہ فرمایا ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر ، اپنی مخلوق پر بے انتہا مہربان ہے ، یہ رحمت ہی کا تقاضا تھا کہ اس نے اپنی مخلوق کے لئے وہ علم عطا فرمایا جسے حاصل کرتے ہوئے لوگ دنیا میں حقانیت و راست روئی پر چلیں، یہی وہ چیز ہے جس پر آخرت کی کامیابی کا انحصار ہے۔ اس طرح یہ رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اس تعلیم سے نوع انسانی کے لیے بہترین ہدایت و عمدہ تعمیر کا سامان فراہم کرے۔

آیت کریمہ 5 تا 6 میں اس بات کو واضح کردیا گیا کہ یہ جو کائنات نظر آرہی ہے (اور جو چیزیں تمہاری نظروں سے اوجھل ہیں) ان سب کا منتظم اور فرماں روا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مثلاً سورج و چاند اور تارے یہ سب ایک حساب کے پابند ہیں۔

آیت کریمہ 7 تا 9 میں ایک اور حقیقت کی طرف رہنمائی کی گئی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کائنات کے نظام کو ٹھیک اور درست توازن کے ساتھ اور انصاف پر قائم فرمایا ہے، اب اس میں بسنے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے حدود و اختیارات میں حد سے تجاوز نہ کریں ، عدل ہی پر قائم ہوں اور توازن میں خلل نہ پیدا کریں۔

آیت 10 تا 25 سے ایک طویل بیان اس سلسلہ میں ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی اور اپنی نعمتوں کی اور اپنے کمالات و عجائب کا ذکر فرماتا ہے تاکہ عقل رکھنے والے ہوشمند درس حاصل کریں اور اپنے مالک حقیقی کو جانیں۔

آیت مبارکہ ک26 تا 30 میں ایک اور اٹل حقیقت کو کھولکر بیان فرمایا کہ اس کائنات کی ہر چیز فانی ہے اور ہر ایک کو زوال ہے ، اور باری تعالیٰ اپنے متعلق یوں فرماتا ہے :

(وَیبقٰی وَجه رَبِّكَ ذُوالجلالِ وَالإکرامِ)

اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔

یہاں بتلانا یہ مقصود ہے کہ خدا کے سوا کوئی غیر فانی اور لازوال نہیں ہے۔

آگے کی آیات 31 تا 32 میں جن و انس دونوں گروہ کو خطاب فرماتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ وہ وقت قریب ہی ہے جب تم سے (اعمال) کے متعلق باز پرس کی جائے گی اس وقت بھاگ کر کہیں نکل جانے کی کوئی راہ نہ پاؤ گے۔ اس بات کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے آیت 37 تا 38 میں فرمایا یہ باز پرس، روز قیامت ہونے والی ہے۔

آیات کریمہ 39 تا 45 میں آخرت کے انجام کا نقشہ کھینچتے ہوئے مجرم و باغی ، جن و انس کو جھنجوڑا گیا اور یہ بتایا گیا کہ انکی اس وقت کس طرح بری حالت ہوکر رہیگی وہاں تم بھاگنے کی کوشش کرو گے تو تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا جس کا مقابلہ کرنا تمہارے بس میں نہ ہوگا۔ اس وقت مجرمین سے کہا جائے گا کہ یہ وہی جہنم ہے جس کا تم انکار کرتے رہے ، جسے جھوٹ قرار دیتے تھے۔

آیت مبارکہ 46 سے ختم سورۃ تک اللہ کریم اپنے فرماں بردار بندوں کو اس بات کی خوشخبری سناتا ہے کہ وہ کس طرح جنت میں داخل فرمادیئے جائیں گے اور ان کو کن کن نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا اس کا تفصیلی ذکر ہوا اس سلسلہ کی ایک دلپسند چیز آیت 72 میں یوں بیان فرمائی گئی، جس کی تشریح فرما تے ہوئے

مولانا مودودی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ

(حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ)

خیموں میں ٹھہرائی ہوئیں حوریں۔ خیموں سے مراد غالباً اس طرح کے خیمے ہیں جیسے امراء و رؤساء کے لیے سیرگاہوں میں لگائے جاتے ہیں۔ اغلب یہ ہے کہ اہل جنت کی بیویاں ان کے ساتھ ان کے قصروں میں رہیں گی اور انکی سیرگاہوں میں جگہ جگہ خیمے لگے ہو ں گے جن میں حوریں ان کے لیے لطف و لذت کا سامان فراہم کریں گی۔ ہمارے اس قیاس کی بنا یہ ہے کہ پہلے خوب سیرت اور خوب صورت بیویوں کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد اب حوروں کا ذکر الگ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ ان بیویوں سے مختلف قسم کی خواتین ہوں گی۔

اس قیاس کو مزید تقویت اس حدیث سے حاصل ہوتی ہے جو حضرت ام سلمؓہ سے مروی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ

’’میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، یا رسول اللہ، دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں ؟ حضور نے جواب دیا:

دنیا کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ابرے کو استر پر ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا کس بنا پر ؟ فرمایا:

اس لیے کہ ان عورتوں نے نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں اور عبادتیں کی ہیں۔‘‘

(طبرانی)

اس سے معلوم ہوا کہ اہل جنت کی بیویاں تو وہ خواتین ہوں گی جو دنیا میں ایمان لائیں، اور اعمال صالحہ کرتی ہوئی دنیا سے رخصت ہوئیں۔ یہ اپنے ایمان و حسن عمل کے نتیجے میں داخل جنت ہوں گی اور بذات خود جنت کی نعمتوں کی مستحق ہوں گی۔ یہ اپنی مرضی اور پسند کے مطابق یا تو اپنے سابق شوہروں کی بیویاں بنیں گی اگر وہ بھی جنتی ہوں یا پھر اللہ تعالی کسی دوسرے جنتی سے بیاہ دیگا جبکہ وہ ایک دوسرے کی رفاقت پسند کریں۔ رہیں حوریں، تو وہ اپنے کسی حسن عمل کے نتیجہ میں خود اپنے استحقاق کی بناء پر جنتی نہیں بنیں گی بلکہ اللہ تعالی جنت کی دوسری نعمتوں کی طرح انہیں بھی اہل جنت کے لیے ایک نعمت کے طور پر جوان اور حسین و جمیل عورتوں کی شکل دے کر جنتیوں کو عطا کر دے گا تاکہ وہ ان کی صحبت سے لطف اندوز ہوں۔ لیکن بہرحال یہ جن و پری کی قسم کی مخلوق نہ ہوں گی، کیونکہ انسان کبھی صحبت ناجنس سے مانوس نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اغلب یہ ہے کہ یہ وہ معصوم لڑکیاں ہوں گی جو نابالغی کی حالت میں فوت ہوگئیں اور ان کے والدین جنت کے مستحق نہ ہوئے کہ وہ ان کی ذریت کی حیثیت سے جنت میں ان کے ساتھ رکھی جائیں۔ (تفہیم القرآن: 5/ 271تا272)

حضرت پیر کرم شاہ علیہ الرحمۃ ،حوراور خیمے کے بارے میں لکھتے ہیں

”حورُٗ جمع ہے۔اسکا واحد حوراء ہے۔ ھی الشدیدۃ بیاض العین والشدیدۃ سوادھا۔ یعنی جس کی آنکھ کا سیاہ حصہ بہت زیادہ سیاہ ہو اور سفید حصہ بہت ہی زیادہ سفید ہو۔ ”مقصورات فی الخیام“ فرماکر انکے باحیا اور باشرم ہونے کا ذکر فرمادیا کہ وہ آوارہ پھرنے والیاں نہیں ہیں بلکہ اپنے اپنے خیموں میں جلوہ افروز رہتی ہیں۔ انکے ظاہری اور باطنی حسن وجمال سے ان کے خیموں کا گوشہ گوشہ معطر اور منور ہے۔ انکے گھر کی فضاخوشی اور مسرت سے معمور رہتی ہے۔“ (ضیاء القرآن : 5/ 81تا82)

مختصر یہ کہ، اللہ تعالیٰ ان بندوں کو جنہوں نے شرک و کفرکی گندگی سے بچتے ہوے توحید خالص پر جمے رہے اوراپنے رب کے سامنے پیش ہونے اور جوابدہی کے احساس کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی ایسے لوگوں کے لئے اللہ کی بنائی جنت میں جو نعمتیں مہیا کر رکھی ہےاور جو لذتیں تیار کی گئی ہیں یہ ایسی لا زوال چیز ہوگی کہ انسان دنیا میں اس کا حقیقی تصور نہیں کرسکتے۔

یہ سب عظیم نعمتیں محض اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے متقی و پرہیز گار، خوش نصیب بندوں کو عطا کرے گا !

اب آخری بات یہ ہے کہ ایسے انگنت انعامات کے عطا کرنے والے، رب جلیل و مولی کریم اور بابرکت نام کی عظمت والی ہستی کے، پیغامِ حق کو جھٹلاکر فلاح پاؤگے۔۔؟ جسے داعی حق محمدﷺ رسول اللہﷺ کےزریعہ سنایا جارہا ہے۔

٭٭٭

قطعات

نیوکاسل میں ایک کروڑ پونڈ سے بنی مسجد اور کیمونٹی سنٹرجسے بانی مسجد حاجی مصطفیٰ ؒ نے مرکزی جمعیت اہلحدیث برطانیہ کے لیے وقف کر دیا ہے۔ جزاہم اللہ خیرا

’مصطفیٰ‘ نے وقف کی مسجد جمعیت کے لیے

تحفۂ نوارانی ہے یہ ساری امت کے لیے

’باسط عمری‘ اور ہے ان کے رفیقوں کا کمال

زندگانی وقف کی حق کی اشاعت کے لیے

ہے یہ مسجد جمعیت توحید وسنت کی عظیم

اور لاکھوں پونڈ کے صرفے سے یہ مسجد بنی

نیو کاسل کے مصلِّی دے رہے ہیں یہ دعا

رہے اللہ کے کرم سے تاقیامت یہ بسی

٭٭٭

مولانا شفیق الرحمٰن شاہین کے ’راچڈیل ‘میں چرچ خرید کر اسے مسجد میں تبدیل کرنے پر:

جب مولانا شاہین نے اک چرچ خریدا

پھر مرکز تثلیث کو توحید میں بدلا

حق کے لیے جن جن نے بھی اقدام کیا ہے

ہے اپنی دعا ان کو سلامت رکھے اللہ

٭٭٭

ڈاکٹر ذاکر نائیک عالمی مبلغ کے لیے

عبقری شخصیت ہے نائک اور خطیب بھی یکتا

جس نے ہندومت کو اور انجیل کو خوب کھنگالا

لاکھوں لوگوں کے ذہنوں تک کھل کے حق پہنچایا

ذاکر نائیک جیسا مقرر کوئی نہیں ہے اعلیٰ

٭٭٭

مولانا محمد عبد الکریم ثاقب المعروف برادر ثاقب کو پاکستانی گورنمنٹ سے تمغۂ امتیاز ملنے پر

کیمونٹی میں برادر ثاقب جب ممتاز ہو گئے

تو مستحق ستارۂ امتیاز ہو گئے

زندگی اپنی بسر کی قوم کی تعلیم میں

پاک وبرٹین میں مثل شاہین و باز ہو گئے

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

٭٭٭

تبصرہ کریں