ماہ رجب میں بدعات کی شرعی حیثیت؟۔ حافظ عمر جرار

سال کے بارہ مہینوں میں سے جن مہینوں کو شریعت اسلامیہ نے حرمت والے قرار دیا ہے ان میں سے ایک رجب کا مہینہ بھی ہے جو کہ ترجیب سے ہے جس کے معنی تعظیم(احترام) کے ہیں۔ اس کے علاوہ تین اور حرمت والے مہینے ہیں(ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم،) ان چار مہینوں کا تذکرہ کرتے ہوۓ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ﴾ (سورة التوبہ:36)

ان میں تم نے اپنی جانوں پر ظلم نہیں کرنا۔

اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ان مہینوں میں خاص طور پر اللہ تعالی کی نافرمانیوں سے بچنا ہے۔

لیکن افسوس کہ اتنی ہی زیادہ بدعات اور خرافات ان مہینوں میں سرانجام دی جاتی ہیں۔ جبکہ دین اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے جس میں کسی قسم کی کمی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی زیادتی کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ اس کی تکمیل نبی مکرمﷺ نے آج سے قریباً ساڈھے چودہ سو سال قبل ہی کردی ہے اور اللہ تعالی نے اس حوالے سے ہر قسم کا شک و شبہ ختم کرتے ہوۓ یوں فرمایا:

﴿ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾ (سورۃ المائدہ:3)

آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا ۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قر ار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناہ کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے اور بہت بڑا مہربان ہے۔

نبیﷺ کا فرمان ہے:

«وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ » (سنن نسائی1579)

اور بدترین کام وہ ہیں جنھیں ( شریعت میں ) اپنی طرف سے جاری کیا گیا ۔ ہر ایسا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں لے جائے گی ۔‘‘

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:

“کل بدعة ضلالة وان رآھا الناس حسنة.”

’’ہر بدعت گمراہی ہے اگرچہ لوگ اسے اچھی ہی سمجھتے ہوں۔ ‘‘ (شرح اصول اعتقاد اہل السنہ:رقم 126)

افسوس اس بات کا ہے کہ دین مکمل ہونے کے باوجود بھی بعض لوگوں نے آج دین میں ایسی بدعات اور خرافات ایجاد کر رکھی ہیں جن کا دین اسلام سے کسی قسم کا بھی تعلق نہیں ہے۔

رجب کے کونڈے

ان بدعات میں سے ایک مروجہ بدعت ہے “رجب کے کونڈے” جو حقیقت میں رجب کے کونڈے نہیں بلکہ ایمان کا کونڈا ہے۔

اس بدعت کو امام جعفر کے کونڈوں سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور اس بدعت کو سرانجام دینے میں شیعہ روافض پیش پیش ہوتے ہیں اور دیکھا دیکھی کچھ نام نہاد اہل سنت (بریلوی)بھی یہ بدعت سرانجام دینے میں پیچھے نہیں رہتے کیونکہ کھانے پینے کا معاملہ جو ہوا۔

کونڈے؟:

21 رجب کی شام کو میدہ،گھی،شکر،اور دودھ وغیرہ کی ٹکیاں اور حلوہ تیار کیا جاتا ہے پھر 22 رجب کے دن اس بدعت کو امام جعفر کی طرف منسوب کرتے ہوئے سرانجام دیا جاتا ہے

امام جعفرؒ کی طرف منسوب کونڈوں کا من گھڑت قصہ

کونڈوں کے حوالے سے ایک جھوٹا واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ

ایک لکڑ ہارا جو مدینہ میں تنگدستی کی زندگی بسر کرتا تھا اور اس کے بیوی بچے اکثر فاقے کرتے تھے وہ بارہ سال تک در در دھکے کھاتا رہا لیکن فقر و فاقہ اور تنگدستی کی زندگی ہی گزارتا رہا۔یہ لکڑ ہارا ایک دن وزیر کے محل کے پاس سے گزرا اس کی بیوی مدینہ میں وزیر کی نوکری کرتی تھی وہ ایک دن جھاڑو دے رہی تھی کہ حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے گزرے وہ وزیر کے محل کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے ساتھیوں سے پوچھتے ہیں ؟ آج کونسی تاریخ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آج رجب کی بائیس 22 تاریخ ہے امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے فرمایا:

اگر کسی حاجت مند کی حاجت پوری نہ ہوتی ہو یا کسی مشکل میں پھنسا ہو اور مشکل کشائی کی کوئی سبیل نظر نہ آتی ہو تو اس کو چاہیے کہ بازار سے نئے کونڈے لائے اور ان میں حلوہ اور پوڑیاں بھر کر میرے نام کی فاتحہ پڑھے پھر میرے وسیلے سے دعا مانگے اگر اس کی حاجت روائی اور مشکل کشائی نہیں ہوتی تو وہ قیامت کے روز میرا دامن پکڑ سکتا ہے ۔

یہ سن کر لکڑہارے کی بیوی نے اس پر عمل کیا اور اپنے شوہر کے صحیح وسلامت اور مال و دولت کیساتھ واپس لوٹ آنے کی دُعا کی اور پھر کونڈے اپنا رنگ دکھاتے ہیں ،12سال سے مارا مارا پھرنے والا لکڑ ہارا ایک مدفون خزانے کو پالیتا ہے اور واپس آکر وزیر محل کے سامنے ایک شاندار گھر بنالیتا ہے۔

اس واقعہ کا ضعیف اور من گھڑت ہونا اس بات سے ہی واضح ہے کہ اس کی کوئی سند نہیں اور نہ ہی کسی مستند کتاب میں یہ واقعہ درج ہے

یہ داستان منشی جمیل احمد کا منظوم کلام ہے۔جسے امام جعفرؒ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ امام جعفرؒ کا اس واقعہ سے کسی قسم کا بھی تعلق نہیں ہے کیونکہ حضرت امام جعفرؒ کی پیدائش ایک روایت کے مطابق8رمضان80ھ اور دوسری کے مطابق 18؍ ربیع الاوّل83ھ میں ہوئی اور اُن کی وفات پر اتفاق ہے کہ15 ؍ شوال148ھ ہے –

کونڈوں کی اصل حقیقت

22 رجب امیر المومنین کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا دن ہے جسے دشمنان اسلام اپنی خوشی کا دن سمجھتے ہیں اور کونڈے شرینیاں وغیرہ بانٹتے ہیں اور حقیقت کو چھپانے کے لیے امام جعفرؒ کی طرف ایک جھوٹا افسانہ بنا کر منسوب کردیا تاکہ حقیقت بھی واضح نہ ہو اور عام جھلاء بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

جیسا کہ ان کی کتاب میں واضح لکھا ہے کہ معاویہؓ کی وفات کا دن ان کے لیے خوشی کا دن ہے اور اہل کفر کے لیے غم کا دن ہے ۔ (مسار الشیعہ:ص 59)

صلاة الرغائب:

ماہ رجب میں ایک یہ بدعت بھی پائی جاتی ہے جسے صلاة الرغائب کا نام دیا جاتا ہے۔

روایت: جوشخص رجب کی پہلی جمعرات کے دن کا روزہ رکھے ، پھر جمعہ کی رات کو مغرب وعشاء کے درمیان بارہ رکعات دو دو کر کے اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد تین مرتبہ سورۃ القدر اور بارہ مرتبہ سورة سورۃالاخلاص کی تلاوت کرے۔ جب نماز سے فارغ ہو تو مجھ پر ستر مرتبہ یہ درود شریف پڑھے :

“اللهم صل على محمد النبي الأمي وعلى آله.”

پھر سجدہ میں چلا جائے اور یہ دعا ستر مرتبہ پڑھے:(سبوح قدوس رب الملائكة والروح) اس کے بعد سر اٹھا کر یہ دعا ستر مرتبہ پڑھے :

“رب اغفر وارحم وتجاوزعما تعلم إنك أنت العزيز الأعظم”

بعد ازاں وہ دوسرا سجدہ بھی اس طرح کرے ۔ اس کے بعد وہ جو کچھ اللہ تعالی سے مانگے گا اس کی ہر حاجت پوری کی جائے گی۔‘‘

اس جھوٹی روایت کے بارے میں محدثین کے اقوال :

ابن الجوزی اس حدیث کو ’’الموضوعات‘‘ میں روایت کرنے کے بعد کہتے ہیں :

” یہ حدیث رسول اللہ ﷺﷺ پر گھڑی گئی ہے اور محدثین نے اس کا الزام ابن جہضم پر لگایا ہے جو ان کے نزدیک جھوٹ بولتا تھا ۔ اور میں نے اپنے شیخ عبد الوہاب الحافظ سے سنا تھا کہ اس کے رجال مجہول ہیں۔‘‘ ( الموضوعات: 2؍438)

ابن رجب کہتے ہیں :

” ماہ رجب کے پہلے جمعہ کی رات میں صلاۃ الرغائب پڑھنے کے متعلق جواحادیث مروی ہیں وہ سب کی سب جھوٹی ، باطل اور غیر صحیح ہیں ۔‘‘ (لطائف المعارف فیمالموسم العام من الوضائف :ص123)

امام نووی کہتے ہیں:

” وہ نماز جو صلاۃ الرغائب کے نام سے معروف ہے اور جس کی بارہ رکعات رجب کی پہلی رات کو مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھی جاتی ہیں ، وہ اور اسی طرح شعبان کی پندرھویں رات کی سو رکعات نماز یہ دونوں نماز میں بہت بری بدعت ہیں۔‘‘ (المجموع للنووی: 3؍379)

محمد بن طاہر الہندی کہتے ہیں:

” صلاة الرغائب موضوع بالاتفاق .”

’’صلاة الرغائب بالاتفاق من گھڑت ہے۔‘‘

(تذکرةالموضوعات:ص44)

رجب کے مخصوص روزے

یہ بھی ماہ رجب کی بدعات میں سے ایک بدعت ہے اس میں روزے کی مخصوص فضیلت کا اعتقاد رکھتے ہوۓ مخصوص روزے رکھنا ۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ سے اس مہینہ کے روزوں کے بارے میں کچھ بھی صحیح ثابت نہیں ہے۔

علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے امام الساجی سے نقل کیا ہے کہ امام عبد الله الانصاری رجب میں روزہ نہیں رکھتے تھے اور اس سے منع بھی کرتے تھے ۔ نیز وہ کہتے تھے:

” ما صح في فضل رجب وفي صيامه عن رسول اللہ ﷺ شیء.”

’’ رسول اللہ ﷺﷺ سے رجب کی فضیلت یا اس میں روزوں کی فضیلت کے بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے ۔‘‘ (الموضوعات:2؍278۔279)

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں :

’’ رجب کی فضیلت یا اس کی روزوں کی فضیلت یا اس کے کسی متعین دن کے روزہ کی فضیلت کے بارےمیں جتنی صریح حدیثیں وارد ہیں وہ دوقسم کی ہیں :

’’ یا وہ ضعیف ہیں یا وہ موضوع ( من گھڑت ) ہیں۔‘‘ (تبیین العجب بما ورد فی فضل رجب:ص76)

امام شوکانی رحمہ اللہ نے علی بن ابراہیم العطار سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:

’’ر جب کے روزوں کے متعلق جو کچھ بھی روایت کیا گیا ہے وہ سب من گھڑت ، ضعیف اور بے بنیاد ہے۔‘‘ (الفوائدالمجموعہ:ص392)

لہٰذا جب ایک حدیث بھی صحیح سند سے ثابت نہیں تو پھر جھوٹی اور من گھڑت احادیث کی بناء پر یہ اعتقاد رکھنا سراسر غلط ہے کہ رجب میں مخصوص روزوں کی کوئی فضیلت ہے ۔

رجب کی ستائیسویں رات کی عبادت اور اگلے دن کا روزہ

عام طور پر لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ واقعہ معراج رجب کی ستائیسویں رات کو پیش آیا ۔اسی لئے وہ اس رات میں خصوصی عبادت کا اہتمام کرتے ہیں اور اگلے دن روزہ رکھنا مستحب سمجھتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ

واقعہ معراج کی تاریخ کے بارے میں اہل علم کے مابین بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں دس سے زیادہ اقوال نقل کئے ہیں :

ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ

یہ ہجرت سے ایک سال قبل ( ماہ ربیع الاول 12 نبوی) میں پیش آیا۔ یہ ابن سعد وغیرہ کا قول ہے ۔

اور دوسرا قول یہ ہے کہ

یہ ہجرت سے آٹھ ماقبل ( ماہ رجب 12نبوی ) میں پیش آیا۔

تیسرا قول یہ ہے کہ

یہ ہجرت سے 6 ماہ قبل۔

اور چوتھا قول یہ ہے کہ

یہ ہجرت سے 11 ماہ قبل پیش آیا۔ (فتح الباری: 7؍257)

بہر حال اس حوالے سے اہل سیر میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ کب پیش آیا؟

دوسری بات:

اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ رجب کی ستائیسویں رات کو نبیﷺ کو معراج کروائی گئی ہے تو یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ

اس رات میں خصوصی عبادت کی جائے اور پھر اگلے دن کا روزہ رکھا جائے۔تو یہ ایک بے بنیاد بات نہ تو یہ عمل نبیﷺ سے ثابت اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے۔

اور نبیﷺ کافرمان ہے:

«من عمل عملاً لیس علیہ امرنا فھو ردٌ»

’’جس نے کوئی ایسا عمل کیا کہ جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ہے ۔‘‘ (صحیح مسلم:1718)

لہٰذا ہمیں وہی عمل کرنا چاہیے جس پر نبیﷺ کی مہر ہو اور اگر ہم اپنی طرف سے دین میں کوئی نیا کام ایجاد کریں گے تو وہ بدعت شمار ہوگا دین اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

٭٭٭

حرمت کے چار مہینے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ﴾

’’اِن مہینوں میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، یہی بالکل سیدھا دین ہے،پس ان (مہینوں) میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔‘‘

حرمت کے مہینے چار ہیں:

تین مسلسل: ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم

اور ایک الگ: رجب

ان مہینوں کو دو باتوں میں خصوصیت حاصل ہے:

1۔ان میں قتال (جنگ) کی حرمت۔ صحیح قول کے مطابق

2۔ ان میں ظلم (گناہوں) کی سنگینی کا مزید بڑھ جانا

ظلم کی دو قسمیں ہیں:

1۔ بندے کا اپنے رب کے حق میں ظلم

(یعنی گناہ اور اس کی نافرمانی)

2۔ بندے کا مخلوق کے حق میں ظلم (لوگوں پر زیادتی)

اور جب ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ

ان مہینوں میں نیک اعمال کی فضیلت اور اجر بھی زیادہ ہے۔

حرمت والے مہینوں کو دیگر مہینوں سے ممتاز رکھنے کی حکمت

حرمت والے مہینوں کو دیگر مہینوں سے ممتاز رکھنے کی حکمت اللہ تعالی نے ہمیں بیان نہیں فرمائی، چنانچہ یہ معاملہ بھی دیگر معاملات جیسا ہے کہ

ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کریں گے چاہے ہمیں اس کی حکمت کا علم ہو یا نہ ہو، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم یقین رکھیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات حکمت والی ہے اس کے تمام احکامات بھی حکمتوں سے بھرے ہوتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نواہی بھی حکمت بھری ہوتی ہیں، تاہم اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان احکامات کی حکمتیں تلاش کرنے سے منع بھی نہیں فرمایا تو ممکن ہے کہ جس چیز کو ہم حکمت سمجھیں وہی حقیقی حکمت بھی ہو۔

علامہ رازی لکھتے ہیں:

’’اگر کہا جائے کہ حقیقت میں تو زمانہ کے مختلف حصے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں تو انہیں خصوصی طور پر ممتاز کرنے کی کیا وجہ ہے؟

تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے:

شریعت میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے، کیونکہ ایسے بہت سے امور ہیں ۔

مثال کے طور پر آپ دیکھیں کہ

اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو دیگر تمام جگہوں سے خصوصی ممتاز حیثیت عطا فرمائی ہے، ایسے ہی جمعہ کے دن کو ہفتے کے دیگر ایام سے الگ امتیازی حیثیت دی، یوم عرفہ کو مخصوص عبادت کے ساتھ دیگر ایام پر فوقیت عطا فرمائی، ماہ رمضان میں روزوں کو فرض کر کے دیگر مہینوں پر فوقیت دی، پھر دن کے کچھ حصوں میں نمازیں فرض کر کے ان اوقات کو ممتاز بنا دیا، لیلۃ القدر جیسی کچھ راتوں کو دیگر راتوں کے مقابلے میں ممتاز بنایا ، افراد میں سے کچھ کو خلعت نبوت عطا کر کے بقیہ تمام افراد سے ممتاز کیا۔‘‘ (تفسیر رازی: 16؍41)

٭٭٭

تبصرہ کریں