
دكتور ضیاء الرحمن اعظمی عمری کی یہ کتاب اصل میں ان کا تحقیقی مقالہ ہے جو جامعہ ام القری سے ماجستر (MA) کی ڈگری کے لیے لکھا گیا تھا۔ اس موضوع کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مستشرقین اور مغرب زدہ لوگوں نے اسلام کی صاف ستھری تصویر کو مسخ کرنے کے لیے شریعت کے مراجع قرآن و سنت کو ہدف بنایا۔ قرآن میں لفظی تحریف کرنا ناممکن تھا، اس لیے معنوی تحریف کرنے کی کوشش کی ، اور قرآن کی بعض آیتوں میں تعارض کا دعویٰ کیا، مگر علماء شریعت نے اس کا مسکت جواب دیا۔ جب دیکھا کہ قرآن میں تحریف ممکن نہیں تو پھر احادیث کی طرف متوجہ ہوئے اور تحقیق کے نام پر مختلف قسم کے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ کبھی کہا کہ سنت کے معنیٰ عادت کے ہوتے ہیں، تو عاداتِ جاہلیہ میں سے ، جسے اسلامی شریعت میں باقی رکھا گیا ہے، اسے سنت کا نام دیا گیا ہے، اس وجہ سے سنت بذات خود کوئی مستقل دلیل اور مرجع نہیں ہے اور کبھی کہا کہ احادیث کی تدوین دوسوسال کے بعد ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور بھی احادیث کو نقل کرنے والے صحابہ پر کیچڑ اچھالا، اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ چونکہ سب سے زیادہ حدیث روایت کرنے والے صحابی رسول سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں، اس لیے ان پر مختلف قسم کے اعتراضات کیے گئے۔
مؤلف نے کتاب کا اصل موضوع شروع کرنے سے پہلے مقدمہ میں دو باب قائم کیے ہیں۔ پہلی فصل میں تفصیلی بحث اس پر کی ہے کہ شریعت میں سنت کا مقام کیا ہے۔ اس کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ جرمن مستشرق جوزف شاخت (1969-1902) ، یہودی مستشرق گولڈ زہیر (1850-1921) اور اس طرح کے لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ سنت کی حجیت دو صدی تک غیر مسلم تھی۔ سب سے پہلے سنت کو حجیت کا درجہ اور مقام دینے والے امام شافعی تھے۔ مؤلف نے قرآن و سنت اور اقوال ائمہ کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ سنت کی حجیت رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت ہی سے قائم ہے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:
﴿ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾ (سو رۃ النحل: 44)
’’ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا تا کہ آپ لوگوں پر ان ہدایات کو اچھی طرح واضح کر دیں، جو ان کی طرف بھیجی گئی ہیں۔ ‘‘
اور اس سلسلے میں کسی عالم کا کوئی اختلاف نہیں۔ چنانچہ ائمہ اربعہ میں سے امام شافعی سے پہلے امام مالک رحمہ اللہ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ گزرے ہیں۔ دونوں کی رائے تفصیل سے نقل کی ہے کہ وہ سنت کی حجیت کو تسلیم کرتے تھے۔ بعض مسائل میں ان کی رائے سنت کے خلاف ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ سنت کو حجت نہیں مانتے تھے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ حدیث ان تک پہنچی ہی نہیں ، یا پہنچی مگر انہوں نے اس حدیث کو کسی آیت سے متعارض سمجھا اور آیت کو ترجیح دی، یا اس طرح کی کوئی اور بات رہی۔ لیکن کسی بھی عالم سے یہ بات ثابت نہیں کہ انہوں نے سنت کی حجیت سے انکار کیا ہو۔
دوسری فصل میں مؤلف نے صحابی کی تعریف وغیرہ پر بحث کی ہے کہ صحیح رائے کے مطابق صحابی ان کو کہتے ہیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کو حالت ایمان میں دیکھا اور حالت ایمان ہی میں ان کی وفات ہوئی۔ رؤیت کا اعتبار سن تمیز کے بعد ہوگا۔ اگر سن تمیز سے پہلے دیکھا ہو تو اس اعتبار سے کہ رسول نے چونکہ انہیں دیکھا ہے، اس لیے وہ صحابی کہلائیں گے ، مگر روایت کے اعتبار سے اس کا شمار تابعی میں ہوگا : جیسے محمد بن ابو بکر صدیق ۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر تین مہینہ اور کچھ دن کی تھی ، تو اس اعتبار سے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا ہے، اس لیے انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے، مگر روایت حدیث کے اعتبار سے تابعی شمار کیے جائیں گے۔
صحابی کی تعریف کے بعد طبقات صحابہ کے سلسلے میں امام حاکم کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے بارہ طبقات کا ذکر کیے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ ان میں سب سے افضل ابو بکر رضی اللہ عنہ اور پھر عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر اہل سنت کا اتفاق ہے۔
پھر صحابہ کی تعداد کے سلسلے میں بتایا ہے کہ صحابہ کی تعداد یقین کے ساتھ متعین کرنا مشکل ہے، اس لیے کہ اس زمانے میں کوئی رجسٹر نہیں تھا جس میں اسلام لانے والوں کے نام درج کیے جاتے ۔ غزوات اور فتوحات وغیرہ سے متعلق بعض احادیث و آثار سے اہل علم نے ان کی تعداد کا اندازہ لگایا ہے ، جیسے صحیح مسلم کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ دس رمضان کو مدینہ سے نکلے۔ آپ ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی روزے سے تھے۔ جب مقام کدید پر پہنچے تو آپ ﷺ نے روزہ چھوڑ دیا اور سفر جاری رکھا۔ اس وقت صحابہ کی تعداد دس ہزار تھی۔ یہ فتح مکہ کا واقعہ ہے۔ اسی طرح امام ابن الجوزی نے تلقیح فهوم اهل الاثر میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے ابوزرعہ رازی سے پوچھا کہ کیا ایسی بات نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث چار ہزار ہیں؟ ابوزرعہ نے کہا: کس نے ایسی بات کہی ہے؟ اللہ اس کے دانت توڑ دے۔ یہ زندیقوں کا کلام ہے۔ حدیث رسول کا شمار کس نے کیا ہے؟ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو اس وقت ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ تھے ، جنہوں نے آپ سے سنا اور روایت کی۔ پھر پوچھا گیا: ابوزرعہ ! یہ لوگ کہاں تھے اور کیسے سنا؟ کہا: اہل مدینہ، اہل مکہ اور ان دونوں کے درمیان رہنے والے، اور دیہات میں رہنے والے، اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک تھے۔(تلقيح فهوم اهل الاثر،ص:103)
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ بڑی تعداد جن کا ذکر ابو زرعہ نے کیا ، ان میں کچھ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صرف سنااور کچھ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سننے کے ساتھ روایت بھی کی۔ اسی وجہ سے تراجم صحابہ پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں صحابہ کرام کی تعداد 13 ہزار سے 15 ہزار تک ہی ہے۔ رہے وہ صحابہ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے تو ان کی تعداد بہت کم ہے۔
ہر صحابی سے کتنی احادیث منقول ہیں، اس پر بعض مؤلفین نے کام کیا ہے، اور ان احادیث کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا زیادہ تر اعتماد بقی ابن مخلد اندکی پر ہے جن کی وفات 676 ھ میں ہوئی۔ اب تک لکھی گئی کتابوں میں یہ سب سے بڑی کتاب ہے، مگر یہ کتاب اس وقت گم شدہ خزانہ کے مانند ہے۔ امام ابن حزم نے اسی کتاب سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی کتاب ”جوامع السیرۃ‘‘ میں ہر صحابی سے مروی احادیث کی تعداد متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ پہلے اصحاب الالوف ، یعنی وہ صحابہ جن سے دو ہزار سے زائد حدیثیں مروی ہیں۔ پھر اصحاب الالف یعنی وہ صحابہ جن سے دو ہزار سے کم روایتیں مروی ہیں۔ پھر اصحاب المئین ، یعنی وہ صحابہ جن سے سو سے زیادہ مگر ہزار سے کم روایتیں ہیں۔ اخیر میں ان صحابہ کا تذکرہ ہے جن سے ایک ہی روایت ہے۔
امام ابن حزم کے بقول مسند بقی ابن مجلد میں ایک ہزار تین سو اور کچھ صحابہ سے حدیثیں منقول ہیں۔ پھر مؤلف نے عدالت صحابہ: الصحابة كلهم عدول کے مسئلے کو قرآن وسنت سے ثابت کیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ صحابہ کے عدول ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ معصوم عن الخطا تھے اور کسی گناہ کے مرتکب نہیں تھے۔ عدول کا مطلب یہ ہے کہ وہ حتی الامکان گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے تھے۔ بشری تقاضے کی وجہ سے پھر بھی اگر کوئی لغزش ہو جاتی تو فوراً اللہ سے رجوع کرتے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رسول اللہ ﷺ کی محبت کے لیے چنا تھا ، اور رسول نے ان کی بہترین تربیت کی تھی ، تا کہ وہ آنے والوں کے لیے شریعت کی امانت کو پہنچا ئیں۔
اسی لیے محدثین نے عدالت کی تفسیر کی ہے کہ عدالت کا مطلب ہے روایت میں عمداً جھوٹ بولنے اور اس میں تحریف کرنے سے اجتناب کرنا ، جس سے کہ ان کی روایت رد کر دی جائے، تو صحابہ سے یا تو گناہ سرزد نہیں ہوگا، یا ایسا گناہ ہو گا جس سے ان کی روایت رد نہیں کی جائے گی۔ اگر کوئی کہے کہ ہم حدیث کی کتابوں میں ایسی روایتیں دیکھتے ہیں جو خرافات پر مبنی لگتی ہیں جنہیں عقل سلیم تسلیم نہیں کرتی ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دینِ اسلام اوہام و خرافات کا مذہب ہے، اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان حدیثوں کی روایت کرنے والے صحابہ ہیں۔ ( اضواء علی السنہ : 340) تو ہم کہیں گے کہ صحابہ اس طرح کی روایتوں سے بری ہیں۔ ملحدین اور شیعہ جو اسلام سے بغض رکھتے ہیں اس طرح کی روایتیں گھڑی ہیں۔ محدثین نے ان کے جھوٹ کو پکڑا اور واضح کیا۔ روایتوں کو ہر قسم کے جھوٹ اور افترائے پاک رکھنے کے لیے علم الجرح والتعدیل جیسے نئے علم کا اضافہ کیا۔
کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ صحابہ پہلے عدول تھے ، یہاں تک کہ ان میں اختلاف واقع ہوا، ان کے درمیان جنگیں ہوئیں ، اس کے بعد ان کی عدالت کی چھان بین کی ضرورت ویسے ہی ہے جیسے ان کے بعد کے لوگوں کے لیے ہے، اور اسی طرح کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ جنہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی ان کی روایت رد کر دی جائے گی ، اس لیے کہ انہوں نے امام حق کے خلاف بغاوت کی ، تو اس طرح کے اعتراضات سب رد کر دیے جائیں گے، اس لیے کہ اہل علم کا ان کی عدالت پر اتفاق ہے۔
پھر مولف نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سیرت میں صفحات میں بیان کی ہے۔ ابو ہریرہ کے نام اور کنیت کی تحقیق طفیل بن عمر والدوسی کے قبول اسلام کا واقعہ اور پھر ان کے ہاتھوں ابو ہریرہ کا اسلام قبول کرنا، اس کے بعد ہجرت مدینہ، مدینہ میں رسول اللہ کو نہ پا کر خیبر کا قصد کرنا، با وجود اس خبر کے ملنے کے، کہ رسول واپس تشریف لا رہے ہیں، اور ابو ہریرہ کا یہ فرمانا کہ رسول جہاں ملیں گے وہیں ان سے ملاقات کرلوں گا، خیبر پہنچنے تک خیبر کا فتح ہو جاتا ، دورانِ سفر غلام کا غائب ہو جانا۔ ان سب کے تذکرے کے بعد لکھا ہے کہ جس مجلس میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہو رہی تھی ، اس مجلس میں غلام بھی پہنچ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا: ابو ہریرہ یہ تمعارا غلام آ گیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی ملاقات پر اس قدر مسرور تھے کہ اس خوشی میں اپنے غلام کو آزاد کر دیا اور فرمایا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو اس پر گواہ بناتا ہوں۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ واپس ہوئے، مسجد نبوی میں صفہ کو اپنی قیام گاہ بنا لیا اور رسول اللہ ﷺ نے آپ کو اہل صفہ کا امیر بنا دیا۔ (حلیۃ الاولیاء : 1؍376)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی علم کے لیے وقف کر دی۔ انہیں دنیا سے کوئی مطلب نہیں رہا۔ رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور رفاقت ہی ان کا مقصود تھا۔ باوجود یہ کہ آپ کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہنے کا موقع تقریبا تین سال ہی ملا، پھر بھی آپ کی روایت کردہ حدیثیں دیگر صحابہ سے بڑھ کر ہیں حتی کہ ان صحابہ سے بھی، جو ابتدائے اسلام سے آپ ﷺکے ساتھ تھے۔
لوگوں کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی کثرت روایت پر تعجب اور اعتراض تھا، تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے خود جواب دیا: ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے مہاجر بھائی تجارت میں مشغول تھے، اور انصاری بھائی اپنی کھیتیوں میں مشغول تھے اور میں مساکین صفہ میں سے ایک مسکین تھا، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتا تھا ، بس پیٹ بھر کھانامل جائے ، ( مگر وہ بھی بسا اوقات کہاں میسر تھا) تو جہاں دیگر صحابہ نہیں رہتے میں موجود رہتا تھا، اور صحابہ بھول جاتے ، میں یا درکھتا تھا۔ ‘‘ (صفوۃ الصفوة: 1؍ 287، والبخارى باختصار )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یادداشت مضبوط ہونے کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی قوت حافظہ کے لیے خصوصی دعا فرمائی تھی۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث نبوی کی نشر و اشاعت میں لگ گئے ۔ ان کے تلامذہ کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے۔ ان کے تلامذہ میں سے کچھ لوگوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حیات ہی میں حدیث لکھنا شروع کر دیا تھا، تا کہ احادیث ضائع نہ ہوں ۔ مؤلف نے ان میں سے دس کا تذکرہ کیا ہے۔ دسویں شخصیت مشہور تابعی ہمام بن منبہ کی ہے۔ ان کا صحیفہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے ایڈٹ کر کے شائع کیا ہے، اور وہ پورا صحیفہ مسند احمد میں موجود ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عالم ہونے کے ساتھ زاہدہ متقی اور مہمان نواز بھی تھے۔ مشہور تابعی ابو عثمان النہد کی کہتے ہیں: میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں سات دن مہمان رہا تو دیکھا ان کے گھر میں تین آدمی تھے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، ان کی بیوی اور ان کا غلام۔ تینوں نے تین حصوں میں رات کو تقسیم کر رکھا تھا۔ رات کا ایک مثلث حصہ ایک آدمی نماز میں گزارتے ، اس کے بعد دوسرے کو بیدار کرتے ، اور دوسرے تیسرے کو۔ اس طرح رات بھر ان کے گھر میں تہجد کا سلسلہ جاری رہتا۔
ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ روزے کتنے رکھتے ہیں؟ تو بتایا کہ مہینہ کی ابتدا میں تین دن ۔ (سیر اعلام النبلاء: 2؍ 438)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر ستاتی تھی۔ جب وفات کا وقت قریب ہوا ، تو رونے لگے۔ لوگوں نے رونے کی وجہ پوچھی تو جواب دیا : میں اس لیے نہیں رورہا ہوں کہ یہ تمہاری دنیا چھوٹ رہی ہے۔ ہمارا رونا اس لیے ہے کہ سفر دور کا ہے اور زادِ راہ کم ہے۔ میں ایک ایسی اونچی جگہ پر ہوں جس کے نیچے یا تو جنت ہے یا جہنم اور معلوم نہیں ہمیں کس میں لے جایا جائے گا۔
مروان ان کی عیادت کے لیے گئے تو صورت حال دیکھ کر کہا: ابو ہریرہ ! اللہ آپ کو شفا دے، تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ ! میں تجھ سے ملاقات کو پسند کرتا ہوں، تو بھی میری ملاقات کو پسند فرمائے۔ ابھی مروان نکل کر کچھ ہی دور گئے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ ابو ہریرہ نے 78 سال کی عمر پائی۔ سنہ 59ھ میں ان کی وفات ہوئی۔
پھر مؤلف نے بتایا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر جو بڑے اعتراضات کیے جاتے ہیں وہ دو ہیں:
ایک تو یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کی مدت رفاقت کم ہے۔ اس کے باوجود اتنی زیادہ حدیثیں انہوں نے کیسے روایت کی؟ دوسری بات یہ کہ ان کی بعض حدیثیں عجیب و غریب ہیں، عقل انہیں تسلیم نہیں کرتی ، جس سے وضع حدیث کا شبہ ہوتا ہے۔
پہلے اعتراض کا جواب یہ دیا گیا کہ انہیں اگرچہ کہ مدت رفاقت کم ملی مگر اس مدت میں انہوں نے اتنی محنت کی کہ سب سے آگے بڑھ گئے اور رسول اللہ ﷺ کی خصوصی دعا بھی شاملِ حال رہی۔
رہا دوسرا شبہ تو اس کے ازالے کے لیے مؤلف نے ایسا طریقہ اپنایا ہے کہ اس کے بعد شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس طرح کی روایتوں میں منفر د نہیں ہیں کہ ان کی روایت کو رد کر دیا جائے ۔ ان کے ساتھ روایت کرنے میں بہت سارے صحابہ ہیں جن کو جھٹلانا محال ہے، اور جن احادیث کے حوالے سے شبہ ظاہر کیا جاتا ہے ان احادیث کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کی جائے تو وہ عقل کے خلاف بھی نہیں معلوم ہوتیں۔ چنانچہ مؤلف نے اس کتاب میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سوحد یوں کا در اسہ کیا ہے جن کا تعلق حلال و حرام سے ہے، اور ان کی متابعات و شواہد کو جمع کر کے ثابت کیا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ وارد حدیثوں پر کسی قسم کا اشکال صحیح نہیں ہے ۔ ساتھ ہی حدیث سے مستنبط ہونے والے مسائل اور فوائد بھی بیان کیے ہیں۔
مؤلف نے خواہش ظاہر کی ہے کہ اگر ہمیں موقع ملا اور لوگوں نے اس عمل کو پسند کیا تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ساری حدیثوں کا در اسہ اسی طرز پر کیا جائے گا، لیکن مولف کو اس کا موقع نہیں مل سکا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث کی کل تعداد : 5374 ہے، جس میں مختلف اسانید شامل ہیں۔ خالص متون حدیث 2 ہزار سے زیادہ نہیں ہیں۔ انہوں نے جو ایام خدمت نبوی میں گزارے وہ تقریبا 2 ہزار ہیں۔ اس طرح روزانہ اوسطا دو حدیثیں ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سایے کی طرح رہنے والے کے لیے یومیہ دو حدیثیں روایت کرنا سمجھ میں نہ آنے والی بات بالکل نہیں ہے۔
جو روایتیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، ان میں سے اکثر دیگر صحابہ سے بھی مروی ہیں اور جن روایات میں وہ منفرد ہیں، ان کا تعلق ترغیب و ترہیب اور اذکار و آداب کے باب سے ہے۔ یہ اس کتاب کی بحث و تحقیق کا حاصل ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے مصنف کے حق میں ذریعہ نجات بنائے۔ آمین
صحابہ کرام اور دیگر اولیاء اللہ کی کرامتیں (قسط24)
محترم قارئین کرام ! آپ نے یہ مضمون بالاستیعاب پڑھ لیا ہو گا، یہ مضمون علامہ ڈاکٹر عبداللہ جولم عمری مدنی کا ہے جو جنوبی ہندکی معروف درسگاه جامعہ دارالسلام عمر آباد کے ناظم ہیں، انہوں نے تعلیم کے بعد اپنی ساری زندگی مادر علمی جامعہ دار السلام عمر آباد میں خدمت کرتے ہوئے گزار آ رہے ہیں ، وہ ہمیشہ
جامعہ کے کے KEY POST پر براجمان رہے ہیں، بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ہیں، اس مضمون میں انہوں نے ایک نو مسلم آگار مولانا ضياء الرحمن اعظمی عمری مدنی سعودی کی ایک کتاب جو انہوں نے ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں اپنے ما جیستر M. A پر ایک مقالہ لکھا جو بعد میں کتابی شکل میں شائع کیا ۔
اور اس کتاب کا نام ’’ابوهريرة في ضوء مروياتہ‘‘ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی روایات کی روشنی میں) رکھا۔
ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی عمری مدنی کی کتاب کا خلاصہ پیش کر دیا ہے! اس کتاب کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ ہر زمانہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت پر اعتراضات کرتے آ رہے ہیں، اپنے بھی یعنی بعض مسلمان بھی اور غیر بھی کہ مختلف دین کے دشمنوں یعنی مستشرقین نے ان کی شخصیت پر معترض رہے کہ سب سے آخر میں ایمان لانے کے باوجود اتنی زیادہ احادیث کیسے روایت کی ہیں،
جب بھی حدیث کا کوئی صفحہ کھو لیں ، اس میں حضرت ابوہريرہ رضی اللہ عنہ کا نام نامی اور اسم گرامی آتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بغیر فہم حدیث کے (نعوذ بااللہ) بہت سی احادیث روایت کردی ہیں ۔
جبکہ دیگر راویان حدیث فہم کے ساتھ روایت کی ہیں۔ اس لئے ان کی احادیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں بہت کم ہیں۔ان کے اس اعتراض کا معقول جواب آج تک کسی نے نہیں دیا، یہاں تک کہ اللہ پاک نے یوپی انڈیا کے ایک مذہبی ہندو گھرانہ میں پیدا ہونے والے ’’بانکے رام‘‘ کو اسلام کی دولت سے نوازا اور جامعہ دار السلام عمر آباد سے 9 سالہ کورس 6 سال میں مکمل کرکے مدینہ یونیورسٹی سے شریعت میں بکالوریس (B.A) اور ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ سے ماجستیر (MA) کیا اور ایم اے مقالہ کے لئے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مروی روایات کا انتخاب کیا اور اپنے مقالے میں یہ ثابت کیا کہ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث کی کل تعداد 5374 ہے، جس میں مختلف اسانید شامل ہیں ، خالص متون احادیث دو ہزار سے زیادہ نہیں ہیں، انہوں نے جو ایام خدمت نبوی میں گزارے ہیں، وہ تقریباً دو ہزار ہیں ، اس طرح روزانہ اوسطا ً دووحدیثیں ہوئیں ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سائے کی طرح رہنے والے صحابی کے لئے یومیہ دوحدیثیں روایت
کرنا سمجھ میں نہ والی بات بالکل نہیں ہے۔ ‘‘
ڈاکٹر جولم کا اس مقالہ کا خلاصہ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ گزشتہ صدیوں میں کسی نے بھی اس کا جواب نہیں دیا ۔ اللہ پاک نے ڈاکٹر ضیا ء الرحمٰن اعظمی عمری مدنی کے دل و دماغ میں اس کا جواب اِلقاء (الہام) کیا اور 77 سال کی عمر میں یوم عرفہ کے دن نماز ظہر کے دوران مدینہ منورہ میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون!
جنت البقیع کے ایک خاص حصے میں جہاں صحابہ کرام، صحابیات، اہل بیت اور رسول ﷺ کے جگر گوشوں سمیت دس ہزار سے زائد پاک ہستیاں آسودۂ خاک ہیں، وہاں مدفون ہوئے تو کیا یہ شخص اللہ کا ولی کہلانے کا مستحق نہیں ہے ؟
میرا دل تو کہتا ہے کہ مسجد نبوی کا یہ مدرس ، بے شک اللہ کا ولی ہے ۔ ان شاءالله ثم ان شاء اللہ۔ (جاری ہے)
٭٭٭
تبصرہ کریں