محمد سرور محمدی رحمہ اللہ؛ توحید وسنت کی ایک شناخت۔ (3)محمد عبد الرحمٰن ندوی

حق اور باطل کا معرکہ اور ایثار و قربانی

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

﴿ وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ‎﴾

’’ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے ، خوف سے ، بھوک سے اور مال و جان کے نقصان سے اور پھلوں کی کمی سے ۔ اے اللہ کے رسول آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیں ۔‘‘ (سورۃ البقرة : 100)

سابقہ تفصیلات میں یہ بات گزری کہ محمد سرور صاحب کے والد محمد فضل علی صاحب کو عاشور خانہ کی مجاوری بھی حاصل تھی، جبکہ وہ گورنمنٹ ملازم تھے۔ سہ رشتہ پولیس میں اعلیٰ عہدہ پر فائز تھے۔ دفعدار تھے ۔ گھر کے خوشحال تھے ۔ چونکہ ان کے آباؤا جداد سے یہ مجاوری چل رہی تھی، جن کے یہ بھی ایک وارث تھے۔ عاشور خانہ کی خدمت صرف یکم محرم تا دس محرم ، یعنی دس دن ہوا کرتی ۔ اس کی خدمت یہ کہ ہر سال عاشور خانہ میں علموں کی ایستادگی کریں اور تعزیہ داری کریں اور عاشور خانے کی دیکھ بھال کریں۔ اس کے یہ تنہا ذمہ دار نہ تھے بلکہ ان کے مزید سات حصے دار وارث تھے ۔ تین چار سال میں ایک بار ان کی نوبت آتی۔ اس خدمت کے عوض حکومت آصفحا ہی نےکاشتکاری کی کچھ زمینات جو کئی ایکٹر پر مشتمل تھیں، مشروط الخدمت عاشور خانے کے تحت بطور انعام مخصوص تھی ، جوان مجاور حضرات کے لئے ذریعہ معاش تھی۔ تمام حصہ دار مل کر کاشت کرتے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی آپس میں تقسیم کر لیتے۔ اسی طرح ہر سال علم اور تعزیہ داری سے حاصل ہونے والی آمدن ، نذرانے ، چڑھاوے وغیرہ بھی آپس میں تقسیم ہوتی۔ یہ خاندان اس مشروط الخدمت آراضی سے کئی برسوں سے مستفید ہو رہا تھا۔

جب محمد سرور صاحب اور ان کے برادر اکبر محمد افضل صاحب نے اپنے مشرکانہ عقائد سے توبہ کی اور عقیدۂ توحید کو اپنایا تو ان لوگوں نے اپنے والد محترم سے خواہش کی کہ عاشور خانہ کی اس خدمت سے باز آجائیں اور مشروط الخدمت انعام یافتہ آراضی کو خیر باد کہدیں۔ ان کے والد محترم جو خود بھی اپنے مشرکانہ عقائد سے تو بہ کی تھی ، اس کے لئے راضی ہو گئے ۔ یہ ان حضرات کی ایک اعلیٰ ترین قربانی تھی۔ اس پر خاندان کے دیگر وارثین حصہ داروں نے بڑی شد و مد کے ساتھ انکار کر دیا اور سخت ترین مخالفت کی۔ اپنے حصہ داروں کی اس مخالفت کے پیش نظر جناب محمد سرور اور جناب محمد افضل صاحبان نے متعلقہ تحصیل کی طرف مراجعت کی تو تحصیلدار صاحب نے بھی اس مشروط الخدمت انعامی آراضی پر کچھ کرنے سے معذرت کرلی۔

لہٰذا یہ دونوں برادران خاندانی وراثت کے اس حصہ سے اپنی دست برداری کی خاطر عدالت سے رجوع ہوئے اور ہزار کوششوں کے بعد عدالت نے ان دونوں برادران کو موروثی وراثت سے علیحدہ کر دیا۔ پھر انہوں نے اپنی اولاد کو بھی اس میں بیدخلی کا فیصلہ حاصل کیا، تا کہ مشرکانہ عقیدہ پر مشروط الخدمت آراضی کے استفادہ سے خود بھی بچ سکیں اور ان کی آئندہ نسل بھی محفوظ رہے ۔ ایک قانون عہد نامہ تحریر کر دیا کہ ہم مسلمان ہیں ۔ اس کی شرعی حیثیت سے ناواقف تھے۔ اب جبکہ اس کی شرعی حیثیت ہمیں آشکارہ ہو چکی ہے توہم اس سے دستبردار ہوتے ہیں اور آئندہ ہماری اولاد کو بھی اس پر کوئی حق نہ ہوگا ۔

اس ایثار وقربانی کو دیکھ کر اس وقت کے غیر مسلم چمن اور تحصیلدار صاحبان انگشت بدندان رہ گئے۔ کسی نے انہیں بے وقوف کہا، کسی نے پاگل ، کسی نےطعنہ زنی کی کہ اب تم گداگری کرو گے اور بچوں کو بھوکوں مارو گے وغیرہ۔ جتنی زبانیں تھیں، اتنی باتیں انہوں نے سننا گوارا کر لیا لیکن اس مشروط الخدمت آراضی کی پیداوار سے ایک دانہ بھی لینا گوارا نہیں کیا۔

ان بزرگوں کا یہ مخلصانہ نیک نیتی پر مبنی عمل تھا جو نہ صرف ان کو بلکہ ان کی ساری نسل کو اس نا جائز غذا سے محفوظ رکھا اور انہیں اپنی نفرت وحمایت سے اسی خوش حال زندگی عطا فرمائی کہ آپ اپنے خاندان میں یہ قابل رشک ہیں ۔ و لله الحمد

اللهم إني أعوذبك من زوال نعمتك

کسب معاش : جناب محمد سرور محمدی نے رزق حلال کی خاطر سخت جانفشان محنت کی ہے جو خادمان دین کے لئے قابل عبرت اور مثالی ہے۔ موصوف نے اپنا ذریعہ معاش پیشہ تجارت کو اختیار کیا ۔

آپ تھیلیوں (ہینڈ بیگ) کی تجارت کرتے ، تھیلیوں کی تیاری میں بڑی جوکھم ہوتی۔ وہ خودہی صناع تھے اور کاریگر بھی ، خود ہی نوکر تھے اور حمال بھی ، اور خود ہی تاجر بھی تھے اور منیم بھی۔ نماز فجر کے بعد ہی سے اس میں مشغول ہو جاتے ، تھیلیوں کے لئے ٹاٹ اور قدیم مستعملہ کپڑے اور ناکارہ سمنٹ کے تھیلے اور ریگزین وغیرہ بازار سے خریدتے۔ ان کی صفات کرتے ، ان کو تھیلیوں کے قابل بناتے، بسا اوقات ان کی گردو غبار ان کے جسم پر اتنی جم جاتی کہ انہیں پہچاننا بھی مشکل ہو جاتا ، پھر ان کا سائزبناتے ، کٹنگ کرتے، خود ہی ان کی سلائی کرتے ، گاہے گاہے ایک دو کا ریگر کو ساتھ لے لیتے پھر انہیں خوشنما و خوبصورت بنانے کی خاطر مختلف طرز کی رنگریزی کرتے ، عصر تک مصروف رہتے ، عصر کی نماز کے بعد بازار لے جاتے اور رات کا ایک حصہ بیتنے تک فروخت کرتے اور گھر دسنی کے وقت اپنی کمائی ہوئی پونجی سے اہل وعیال کے لئے راشن لے آتے اور کبھی دور دراز علاقوں سب جا کر اپنا مال سپلائی کرتے ۔ حیدر آباد کی سبزی مارکٹوں کے بعض دوکاندار بھی ان کےگا ہک تھے ۔ تھیلوں کی تیاری میں کٹنگ کے بعد جو نا کارہ ٹکڑے بچ جاتے وہ ان کے گھر کا ایندھن تھے۔ اپنی عمر عزیز کا ایک طویل حصہ اسی حالت میں گزار دیا۔ جب ضعف غالب آنے لگا اور قویٰ جواب دینے لگے توحیدر آباد سے خارج علاقوں کا دورہ موقوف کردیا۔ صرف حیدر آباد کی معروف سبزی مارکیٹ میر عالم منڈی کی اپنی دوکان میں ہی دیگر تاجروں سے تیار مال خرید کر فروخت کرنے لگے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

«ما أكل أحد طعاما قط خيرا من أن يأكل من عمل يديه ، وان نبي الله داؤد عليه السلام كان يأكل من عمل يده.»

’’ کوئی شخص کبھی کوئی کھانا اس سے بہتر نہیں کھایا جو اپنے ہاتھوں سے کما کر کھایا ، الله کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتے تھے ۔ ‘‘ (صحیح بخاری)

مسجد شعبان خان:

یہ مسجد محلہ فتح دروازہ میں لب سڑک چوراہا کے قریب واقع ہے، یہ بہت قدیم مسجد ہے۔ اس کی ایک تاریخ ہے ۔ جناب محمدسرور محمدی صاحب محلہ مئیر آباد سے منتقل ہو کر جب فتح دروازہ تشریف لائے ، تو انہیں سنت کے مطابق نماز ادا کرنے کے لئے مسجد کی ضرورت تھی، تاکہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد گرامی

« صلوا کما رأیتمونی أصلی »

’’تم اسی طرح نماز پڑھو جیسا تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو ۔‘‘ (صحیح بخاری) کے مطابق نماز ادا کریں، بالعموم پابند اہلحدیث حضرات، سنی وہابی اور مقلد اور غیرمقلد ، آمین بالجہر، رفع الیدین و عدم رفع الیدین کی نزاعات سے بچنے کی خاطر ادائیگی صلوٰۃ کے لئے غیر مسلکی مساجد نہیں جاتے۔

محمد سرور صاحب نے محلہ کا معاینہ کیا تو یہ مسجد محلہ کے ایک گوشہ میں بالکل ویران، غیر آباد پڑی ہوئی تھی جس میں کوڑا ، کچرا اور غلاظت سے اٹے ہوئے ناپاک کپڑے پڑے ہوئے تھے ۔ گھاس اگی ہوئی اور قمار بازی اور فحش کاری کا اڈہ بن گئی تھی، مگر وہ تنہا تھے، اس کی آبادی کے لئے معاون کی ضرورت تھی کیونکہ عموماً ویرانے ، لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں ، جب وہ آباد ہو جاتے ہیں تو ہر ایک کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ لہٰذا موصوف نے اپنے بڑے بھائی محمد افضل صاحب کو توجہ دلائی کہ وہ بھی اسی محلہ میں منتقل ہو جائیں تاکہ اس مسجد کو آباد کر سکیں ۔ جب بڑے بھائی صاحب نے اس محلہ کا معاینہ کیا اور مسجد کا مشاہدہ کیا تو وہاں منتقل ہونے پر راضی ہو گئے اور اس سے قریب. ہی ایک مکان خرید کر مشیر آباد سے منتقل ہو چکے۔

ان دونوں برادران نے بڑی ہمت اور جرات سے کام لیا اور مسجد کے متولی صاحب کا پتہ دریافت کرتے ہوئے ان سے جا کر ملاقات کی اور مسجد کو آباد کرنے کے لئے ان سے اجازت چاہی۔ تو متولی صاحب جو بلدیہ میں اعلیٰ عہدہ پر فائز تھے ۔ بڑی خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کیا اور دریافت کیا کہ آپ لوگ کون ہیں؟ جب انہیں تفصیل بتائی گئی تو خوش ہو کر کہا کہ آپ لوگ بخوشی اس کو آباد کر لیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی توفیق دی ہے تو میں روکنے والا کون ؟ جب کہ اہل محلہ نے اس کو جوا خانہ بنا دیا ہے ۔

اس ملاقات کے بعد دونوں برادران نے مسجد کی صفائی ستھرائی کی اور چراغ و پانی کا انتظام کیا، کھجور کے پتوں کی چٹائیاں (بور یے) بچھا دئیے اور نماز شروع کردی اور پنج وقتہ اذان کا اہتمام کرنے لگے۔ چند دن بھی نہ گزرے تھے کہ اس میں آوارہ زندگی بسر کرنے والے اہل محلہ کے ملی بھگت اوباشوں سے سابقہ پڑا ، کئی بار ہاتھا پائی ہوئی ، ان آواروں نے ان دونوں برادران کو مارا پیٹا اور ہر روز مسجد کی چٹائیاں ، چراغ ، پانی کے گھڑے ، لوٹے وغیرہ غائب کرنا شروع کر دیا۔ مسجد میں روشنی کے لئے ایک مٹی کے تیل کی چمنی اور مٹی کا تیل محفوظ کرنے کے لئے ایک بوتل، اور چراغ روشن کرنے کے لئے ایک ماچس کی ڈبیہ رکھی گئی۔ ہر روز مغرب کے ساتھ ہی مٹی کے تیل کی چمنی روشن کی جاتی اور ہواؤں سے حفاظت کے لئے ایک چمنی دان میں رکھی جاتی ۔ لیکن اہل محلہ کی ستم ظریفی یہ کہ وہاں سے ہر چیز غائب کر دی جاتی، کبھی چمنی، کبھی ماچس، کبھی تیل کی بوتل ، کبھی جھاڑو ، کبھی چٹائیاں ، کبھی پانی کے گھڑے ، کبھی لوٹے۔ ہر دن کوئی نہ کوئی چیز غائب کر دی جاتی ۔ یہ سلسلہ ایک طویل مدت تک چلتا رہا۔

اس پر مستزاد یہ کہ جب اہل محلہ کو یہ خبر ہوئی کہ مسجد کو آباد کرنے ولے دو وہابی ہیں، تو مسجد میں شب باشی کرنے والے اوباشوں سے ساز باز کرلی اور ان دونوں برادران کو آئے دن دق کرنا شروع کر دیا، اکثر و بیشتر فجر کے وقت ان اوباشوں سے سابقہ پڑتا، جبکہ پوری شارع سونی اور پورا بازار خاموش رہتا اور کچھ تاریکی باقی رہتی۔

الحمد للہ، دن بدن کچھ ہم خیال لوگ ملتے رہے اور عرصہ کے بعد کچھ ہم عقیدہ احباب بھی اس محلہ میں آباد ہونے لگے۔ اس طرح مسجد آباد ہوتی رہی ۔ جب مصلیوں کی تعداد بڑھنے لگی تو بدعتی اہل محلہ کے ملوں میں سانپ کھیلنے گئے۔

ایک بار وفد کی شکل میں وہ مسجد کے متولی کے ہاں پہنچے اور انہیں مختلف طریقوں سے ورغلایا اور یہ باور کرایا کہ وہابیوں نے مسجد پر قبضہ کرلیا ہے۔ تو متولی صاحب نے انجانے سے دریافت کیا، وہابی کون ہوتا ہے ؟

توانہیں یہ بتلایا گیا کہ یہ لوگ فاتحہ نہیں پڑھتے ہیں، درود نہیں پڑھتے ہیں، ولیوں کو نہیں مانتے ہیں، پیران پیرا شیخ عبد القادر جیلانی کا انکار کرتے ہیں ۔ نذر و نیاز نہیں چڑ ھاتے ، ائمہ کو گالیاں دیتے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ۔

تو متولی صاحب نے دریافت کیا، تم لوگ کہاں رہتے ہو؟ کہاں سے آئے ہو ؟ تم مسلمان ہو ؟ . اس محلہ میں کتنے سال سے رہتے ہو ؟ ہماری مسجد کتنے سال سے ویران پڑی ہوئی ہے ؟ اس مسجد میں کیا ہوتا تھا۔ وغیرہ وغیرہ ۔

پھر کہا کہ تم لوگوں کو شرم آنا چاہیے کہ تم لوگوں نے اس محلہ میں برسہا برس سے رہ کر بھی مسجد کو جوا خانہ بنا دیا تھا ، فحاشی کا اڈہ بنا دیا تھا ، اس وقت تمہیں مسجد کی بے حرمتی پر غیرت نہیں آئی اور کبھی تم نے مجھ سے کوئی شکایت نہیں کی لیکن اب جبکہ وہ لوگ میری مسجد کو آباد کر رہے ہیں، اذان اور نماز کا اہتمام کر رہے ہیں ، مسجد کو آباد کر رہے ہیں تو شکایت لے کر چلے آئے ہو ۔ یہ لوگ مسجد کا حق ادا کر رہے ہیں ، تم جیسا اس کو فحاشی کا اڈہ نہیں بنا رہے ہیں، لہذا انہیں دھتکار دیا اور کہا کہ

ان لوگوں نے مسجد آباد کرنے سے پہلے مجھ سے اخلاقاً اجازت حاصل کرلی ہے۔ یہ میرے علم میں ہے، آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں۔ جب متول صاحب سے یہ سو کھی سنی تو بقول شاعر:

بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچہ سے ہم نکلے

محلہ کے بدعتیوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آئے دن نوع بنوع نزاعات کھڑے کرتے رہے۔ جب مسجد کی آبادی اچھی خاصی ہوگئی اور مسجد کے آباد ہوئے برسہا برس گزر گئے ، تو منچلے بدعتیوں نے اس پر قبضہ کرنے کی ٹھان لیے ۔

ان دنوں حیدرآباد میں وہابیوں کی مسجدوں پر قبضہ کرنے کی ایک مہم زوروں پر چل رہی تھی ، مار توڑ، جنگ و جدال اور قوت آزمائی کے ساتھ کئی مسجدوں پر قبضہ ہو چکا تھا۔ بالآخر اسی قماش کے چند نوجوانوں نے اس مسجد پر بھی یلغار کردی لیکن الحمد لله جناب محمدافضل محمدی اور محمد سرور محمدی نے عدالتی قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ اس کی دلیرانہ مدافعت کی اور تمام کو مچلکہ پر پابند کرادیا۔

اسی طرح مسجد سے متصل ، مسجد کے علاقہ کے ایک مکان پر مسجد کی نگرانی اور صفائی کی غرض سے رہنے والی ایک خاتون کے داماد نے مکان پر قبضہ کر لیا۔ اس کاتحلیہ کروانے کے لئے تقریباً 10 سال عدالتی کاروائی اور زمین کے مراحل سے گزرنا پڑا۔

بالآخر آپسی سمجھوتہ کے ذریعہ زرکثیر معاوضہ دے کر تخلیہ کر دیا گیا اور مسجد کے بعض حصوں پر بحیثیت کرایہ دار بعض نادہندہ کرایہ دار قابض تھے ، ان سے مسجد کے ان حصوں کو حاصل کر لیا گیا۔ پھر مسجد کے متولی صاحب ، جو اپنے والد محترم سابق مقولی کے انتقال کے بعد متولی تھے، اُن سے اوران کے جائز ورثا ء سے سمجھوتہ کے ساتھ زر کثیر ادا کر کے اس مکان کو خرید لیا گیا ، اور اسی زر خرید مکان پہ اب دو منزلہ شاندار مسجد اہلحدیث تعمیر کی گئی ہے۔ جو چوبیس گھنٹے مصلیوں کے لئے کھلی رہتی ہے اور نمازوں میں اور بالخصوص خاص مواقع پر اور جمعہ کے دن تل دھرنے کی جگہ نہیں رہتی اور قدیم مسجد شعبان خان میں خواتین کی صلاۃ کا اہتمام کیا جاتا ہے اور آج اس مسجد کو جمعیت اہلحدیث حیدرآباد کی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

یہ ساری ترقی جناب محمد افضل محمدی اور ان کے برادر خورد جناب محمد سرور محمدی کی جہد مسلسل، ایثار و قربانی ، جفاکشی و محنت کا نتیجہ ہے، جو ان کے حق میں ان شاء اللہ ہمیشہ کے لئے صدقہ جاریہ رہے گا ۔ تا قیام قیامت اس مسجد کی تاریخ ، ان دونوں بزرگوں کی جان جوکھم تاریخ سے زندہ و پائندہ رہے گی۔

رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد

اللہ تعالیٰ اس مسجد کے ان کے اور ان کے متعلقین کے حق میں مغفرت کا ذریعہ بنائے ۔ آمین

پھلا پھولا رہے یا رب چمن میری امیدوں کا

جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں!

٭٭٭٭

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ضعیف حدیثوں پر عبادات کے باب میں اس وقت عمل کیا جائے گا جب کہ اس کی اصل صحیح دلیل سے ثابت ہو لیکن پندرہ شعبان کی روایت کو منانے والے جشن کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے۔‘‘

(اقتضاء الصراط المستقیم لابن تیمیہ 2؍ 26)

تبصرہ کریں