چند دن سیدنا ابراہیم خلیل کے دیس میں(2)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

پچھلی سطور میں تبایا گیا تھا کہ ’أورفا‘ (ترکی) جانے کا مقصد یورپین کونسل برائے فتوی اور تحقیق کے سالانہ اجلاس کی حاضری تھی ۔

کونسل کے لئے پورے دو دن مختص کیے گئے تھے، روزانہ صبح چار گھنٹے کا ایک اجلاس 9 بجے سے ایک بجے ظہر تک اور پھر دوسرا شام کا اجلاس چار سے آٹھ بجے تک مع وقفہ استراحت (تقریباً آدھا آدھا گھنٹہ )

ان 2 دنوں میں میں تحقیقی مقالات کا خلاصہ پیش کیا گیا اور پھر مزید بحث اور تمحیص کا موقع دیا گیا۔ آخری 2 اجلاسوں میں پیش کردہ فتاوی پر غور کیا گیا ۔ سوالات کے ساتھ مفتیان کرام کے جوابات منسلک تھے اور ہر جواب کا بغور جائزہ لیا گیا اور اتفاق رائے سے منظوری دی گئی ۔ یہ فتاوی ’سوالات اور ان کے جوابات‘کے عنوان سے علیحدہ اشاعت پذیر ہوتے رہیں گے ، ہم اپنے سفرنامے کا تسلسل جاری رکھتے ہیں۔

قیام کے تیسرے روز علی الصبح ہمارا قافلہ بس میں حرّان کی طرف روانہ ہوا جو شام ( Syria ) کی جانب واقع ہے ، ’اور فا‘ سے فاصلہ 50 کلومیٹر کا ہے اور اگر مزید 15 کلومیٹر آگے بڑھتے رھیں تو شام کی حدود تک پہنچا جاسکتا ہے۔ منتظمین نے از راہ کرم ایک مرسیڈیز مہیا کر دی تھی، جس کی اگلی نشست پر جناب اکرم کلش ( سابق صدر مجلس اعلیٰ برائے اسلامی امور ، ترکی) اور پچھلی دو نشستیں میں نے اور جناب ڈاکٹر علی قره داغی (صدر اتحاد العلماء) نے سنبھال رکھی تھیں ۔ میری اہلیہ نواسے سنان کے ساتھ بس کی سواری کا مزہ لے رہی تھیں۔

قدامت کے اعتبار سے یہ شہر ایک بھر پور تاریخ رکھتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ’اورفا‘ سے نکلنے کے بعد حرّان کا رخ کیا اور پھر وہاں ایک طویل عرصہ قیام کیا ۔ ان کی اولاد میں سے حضرت اسحاق اور پھر ان کے پوتے یعقوب علیہما السلام کی یادیں شہر سے وابستہ ہیں ۔ ساتویں صدی ہجری میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا خاندان اس شہر کے باسیوں کو اپنے علم اور درس و تدریس سے نوازتا رہا ہے ۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ابھی بچے تھے کہ تاتاریوں کے حملوں کے خوف سے ان کا خاندان دمشق کی طرف ہجرت کر گیا اور پھر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ساری زندگی مصر و شام کی نذر ہو کر رہ گئی۔( اسلامی ا نسائیکلو پیڈیا : 2؍839)سے حرّان کے بارے میں چند اقتباسات ملحوظ ہوں :

’’حرّان وہ شہر ہے جہاں کے باشندوں کا مذہب بت پرستی تھا۔ شمالی عراق میں چھوٹے سے دریا جلاب پر واقع ہے۔ جہاں ایشیائے کوچک ،شام اور عراق کو جانے والے اہم کاروانی راستے ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں ۔ آج کل ترکی مقبوضات میں شامل ہے، ’اور فا‘ سے صرف ایک دن کی اور ’رِقّہ ‘سے دو دن کی مسافت پر ہے ۔

حرّان ایک قدیم شہر ہے اور اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جائے پیدائش خیال کیا جاتا ہے۔ یہ چاند دیوتاسین کا گھر تھا۔ ’’البیرونی نے اسے سین ہی سے منسوب کیا ہے۔ اس شہر کی شکل چاند سے مشابہ ہے۔ ‘‘

حرّان شہر پر عربوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں9ھ/ 240ء میں بغیر لڑائی کے قبضہ کیا تھا۔ اس دور میں یہ شہر دیار مصر کے اہم ترین شہروں میں سے تھا۔ البلاذری نے لکھا ہے کہ اس شہر نے عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کے آگے ہتھیار ڈالے تھے۔ ابن ابی اصیبعہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے طب کے ایک مدرسے کو اسکندریہ سے حران میں منتقل کر دیا تھا۔ مروان ثانی نے یہاں سکونت اختیار کر کے اسے اموی سلطنت کا دار الحکومت بنایا۔ حران کی پہلی مسجد اس کے عہد میں تعمیر ہوئی۔ یعقوبی کے بقول مروان نے اپنا محل اس مقام پر بنایا تھا جو دباب البین کہلاتا تھا۔ اور اس کی تعمیر پر ایک کروڑ درہم خرچ کیے تھے۔ جب بنو عباس نے ایران اور عراق کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا تو مروان ثانی عباسی فوج سے جنگ کرنے کے لیے حران ہی سے بارہ ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوا تھا۔ ہارون الرشید نے دریائے جلاب سے حران تک ایک نہر بنوائی تھی۔

عباسی عہد کے آغاز میں یہ شہر مترجمین کے ایک اہم مکتب کا گھر تھا۔ مشہور مترجم البتانی بھی حران ہی کا باشندہ تھا۔ یہ شہر حنبیلوں کا بھی اہم مرکز تھا۔ سلطان نور الدین زنگی نے اس شہر پر 544ھ / 1149ء میں قبضہ کیا۔ سلطان صلاح الدین نے اپنے عہد حکومت میں شہر کی جامع مسجد کی توسیع کی، کیونکہ اس کے عہد میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تھی۔ 577ھ / 1191ء میں صلاح الدین نے حران اپنے بھائی ملک عادل کو پیش کر دیا جس نے قلعے کو از سر نو تعمیر کیا۔

مشہور عالم دین امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ یہیں پیدا ہوئے تھے۔ 670ھ /1271ء میں حران پر ناکام مہم کے بعد مغول نے یہاں کے باشندوں کو موصل اور مار دین میں منتقل کر کے اس شہر کی مسجدوں اور دیگر عمارتوں کو تباہ کر ڈالا اور دروازوں کو اینٹوں سے چنوا دیا۔

شہر کی یادگار عمارتوں اور کھنڈروں میں بڑی مسجد یا جامع الفروس قلعہ، ایک باسلیکی کلیسا، مسجد کے جنوب میں ایک بڑا ٹیلا نیز مقبرہ شیخ حیات وغیرہ ہیں۔ ( 2؍ 840)

حران سے فلکیات کے ایک مشہور عالم ابوعبداللہ بُتانی (ف929 م) بھی نسبت رکھتے ہیں ، حران کے قریب پیدا ہوئے گو خاندان صابی مذہب سے تعلق رکھتا تھا لیکن وہ خود مسلمان تھا ۔ اس نے ساری زندگی ’الرقہ‘ میں گزاری۔ علم ھیئت اور فلکیات پر اس کی متعدد تصانیف ہیں جن میں ’الزیج ‘ ایک نہایت علمی کارنامہ شمار کیا جاتا ہے ۔ (1؍ 345)

ہم ایک گھنٹے میں حران جاپہنچے ، ہمارے گائیڈ ہمیں سب سے پہلے ایک بڑے سے احاطے میں لے گئے جہاں ہمارے سامنے ایک مسجد کا صدر دروازہ تھا جو چھٹی صدی کے ایک عالم شیخ حیات بن قیس الحرانی سے منسوب ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے صلاح اور تقوی کی بنا پر مرجع خواص و عوام تھے ۔ سلطان نور الدین زنگی جب صلیبی فوجوں سے قتال کے لئے روانہ ہو رہے تھے تو انہوں نے شیخ سے دعا کی درخواست کی، انہوں نے پوری عاجزی کے ساتھ دعا کی اور سلطان کو اپنی مہم میں کامیابی حاصل ہوئی۔

پھر صلاح الدین ایوبی کا بھی وہاں سے گزر ہوا جو موصل پر قبضے کے ارادے سے نکلے تھے ۔ شیخ نے انہیں اس مہم جوئی سے منع کیا لیکن صلاح الدین اپنے ارادے پر قائم رہے ، شیخ کی نصیحت پر عمل نہیں کیا اور بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ارادے میں ناکام رہے ۔ ہم گائیڈ کی رہنمائی میں مسجد کے ایک پچھلے دروازے سے داخل ہوئے ۔ داخل ہوتے ہی ہمارے دائیں طرف شیخ حیات کا اونچا سامر قد چادر میں ڈھکا نظر آیا۔ اصل قبر نیچے ہے کہ وہاں تک جانے کے لئے باہر سے ایک زینے کے توسط سے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مسجد کے سادہ سے ہال میں داخل ہوئے ۔ مسجد کی محراب کے اوپر ایک مختصر سا بالا خانہ خطیب جمعہ کے جائے مقام کی نشاندہی کر رہا تھا لیکن وہاں تک پہنچنے کے لئے چند ہا تھ کے فاصلے پر مسجد کی دائیں دیوار کے کونے سے ایک سنگی زینہ نظر آیا جس سے بالاخانہ تک بغیر کسی احاطے کے پہنچنا کارے دارد تھا۔ اس لئے خطیب کی دسترس میں پہلی چند سیڑھیوں تک رکھی گئی تھی کہ وہ کونے پر کھڑا ہو کر خطاب کر سکتا تھا۔

ہمارے میزبان جناب مصطفی دادش نے بتایا کہ وہ اس مسجد میں بیس سال تک امامت اور درس و تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے ہیں اور مسجد کے دروبام انہیں خوب پہچانتے ہیں۔ ہم تحیۃالمسجد کی ادائیگی کے بعد صدر دروازے سے باہر نکلے جہاں مسجد کے احاطے سے متصل ایک وسیع قبرستان نظر آیا۔ حران کی قدامت کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ یہ سر زمین اپنی گود میں کئی صدیوں کی امانتیں تھامے ہوئے ہے ۔

ہمارا اگلا پڑاؤ ایک اونچے سے ٹیلے کی چوٹی پر تھا جہاں سے کچھ فاصلے پر نشیب میں ایک پرانی جامع مسجد کے آثار هویدا تھے ، احاطے کی فصیل، درمیان میں محرابوں پر مشتمل ایک گرانڈیل دیوار، بتا یا گیا کہ یہ اسی مسجد کے آثار باقیات ہیں جہاں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے آباء ؤ اجداد نے سالہا سال تعلیم، تدریس اور خطابت کے جوہر دکھائے تھے ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ جب تاتاریوں نے اس جہت کا رخ کیا تھا تو امام ذی شان کے والد، اعمام اور دیگر اہل خانہ یہاں سے کوچ کر کے دمشق جانے پر مجبور ہو گئے تھے۔

میری پنڈلی کا درد طویل اترائی اور پھر بوقت واپسی اسی قدر چڑھائی کے لیئے آڑے آ رہا تھا ۔ میں دیکھ رہا تھا کہ ہمارے اکثر ساتھی مسجد کے درودیوار سے قربت کا شرف حاصل کر رہے ہیں تو اپنے رفیق سفر ڈاکٹر اکرم کلش کے ساتھ آہستہ خرامی کرتا ہوا بالآخر باقی ساتھیوں تک جاپہنچا‎ ۔

اگر دمشق کی جائے مسجد صدیوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے تو مسجد حران کی ٹوٹ پھوٹ کیسے عمل میں آگئی ؟

تاریخ نے اس کا جواب دیا کہ منگولوں نے اس شہر میں داخل ہو کر جہاں انہوں نے اپنی بہیمانہ کاروائیوں سے اہل حران کو نشانہ بنایا ، وہاں اس عظیم مسجد کو بھی تہ و بالا کر کے ہوئے اپنی خباثت پر مہر ثبت کرتے گئے ، مسجد کا ڈھانچہ ایک چٹیل میدان میں یکہ و تنہا توحید کا پیغام دیتا نظر آتا ہے ۔ موجودہ حران یہاں سے کچھ فاصلے پر ہے ۔ یہ جگہ اب سیاحوں کے لئے مخصوص ہو چکی ہے۔ ایک بلند و بالا مینار جو کبھی عمارت کا حصہ رہا ہوگا اب تن تنہا کھڑا مؤذن کے انتظار میں ہے ۔

اندرونی احاطے کی ایک دیوار اپنی متعدد محرابوں کے ساتھ اپنی قدیم چادر کو اتار کر ایک نئی قبا میں جلوہ گر ہے، گویا عمارت کی تجدید کا پروگرام جاری ہے ۔ گائیڈ نے بتایا کہ اس عظیم مسجد میں آٹھ ہزار نمازیوں کے سربسجود ہونے کی گنجائش تھی۔

مسجد کے کھنڈرات میں چند غیر ملکی جوڑے بھی مٹر گشت کرتے نظر آئے ۔

خانواده ابراہیم کی نسبت سے حران کا ذکر عہد قدیم (تورات) میں ایک سے زائد مرتبہ آیا ہے، اس لئے یہودی اور عیسائی زائرین کے لئے بھی یہ جگہ باعث کشش ہے۔ حرّان زمانہ قدیم سے قافلوں کی گزرگاہ رہا ، اس لئے نہ صرف اپنی قدامت بلکہ تہذیب و تمدن، علم و عرفان اور ریاضیات و فلکیات کی گھتیوں کو سلجھانے والے حکماء اور فلاسفہ کی جولان گاہ بنا رہے ۔

ایک وقت تھا کہ قسطنطنیہ( موجوده استانبول) کے بعد اسے دو سرا بڑا شہر بنایا جاتا تھا ۔

احاطے کے اندر ایک دائرہ نما منڈیر نظر آئی تو بتایا گیا کہ یہاں بھی ایک کنواں تھا، جسے حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرف نسبت حاصل ہے۔

ہم نے ایک خستہ اور شکستہ دروازے سے باہر کا رخ کیا۔ باہر چند بورڈ آویزاں تھے ، ایک مسجد کی تاریخ کے لئے اور دوسرا قدیم حرّان کے گلی گوشوں اور شہر کے چیدہ چیدہ مقامات کے نقوش پاکو ایک بڑے نقشے کی مدد سےواضح کر رہا تھا۔

پھر جیسے ہم خراماں خراماں آئے تھے ویسے ہی آہستہ آہستہ چڑھائی پر چہل قدمی کرتے ہوئے اپنی سواری تک جا پہنچے ، دیکھا کہ قافلے کے اکثر ساتھی ایک پرانے قلعے کی طرف پا پیادہ ہی گامزن ہیں ۔ ہم نے ایک بار پھر گاڑی کا سہارا لیا ۔

یہ قلعہ‎ تھا یا کسی سلطان یا امیر کا قَصر، باہر ہی سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک یادگار تصویر بنانے کے ساتھ ہم نے گاڑی میں اپنی سیٹ کو سنبھالا ۔ ہماری منزل اب قریب ہی کی وہ بستی تھی جہاں صدیوں پرانا وہ طرز تعمیر باقی رکھا گیا تھا جو حرّان کا طرہ امتیاز تھا ۔ ایک اونچے ( یا سطح مرتفع) پر واقع ایک بستی جس کے سارے گھر مٹی ، گارے اور پختہ اینٹوں کی مرھون منت تھے ۔ اگر اس بستی کا فضا جائزہ لیا جائے تو گنبد ہی گنبد نظر آئیں گے ، مٹی اور گارے کے گنبد جن کے بیچوں بیچ دھونکنی کی مانند ایک روشندان سا نظر آئے گا ، جو نیچے اپنے مکینوں کے لئے روشنی اور حرارت کا پیغام لاتا ہے ۔

زائرین کے شوقِ جستجو کو دوبالا کرنے کے لئے ہمیں اس بستی کی سب سے بڑی حویلی کی سیر کرائی گئی، جہاں اس عمارت کے اہل خانہ ہمارے منتظر تھے ۔ ہم ایک تنگ سے دروازے میں داخل ہوئے ، ایک کو ٹھری کے بعد دوسری کو ٹھری لیکن بالائی روشندان کی بنا پر اندھیرے کا پردا چاک کرنے میں کامیاب رہی۔

ایک دیوار پر اتا ترک کی تصویر دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اس حویلی کے مکین غالباً اس کی زلفوں کے اسیر رہے ہوں گے، جو اس دور افتادہ جگہ پر ابھی تک اس کی یادوں کو تازہ کیے بیٹھے ہیں۔

حویلی کا مالک ایک ادھیڑ عمر کا ترک تھا ۔ اس نے اپنا تعارف کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حویلی میرے دادا کی تھی جو اپنی چار بیویوں اور 48 بچوں اور پوتوں کے ساتھ اس مکان کی 24 کو ٹھر یوں کو آباد کیے ہوئے تھا۔بتایا کہ مٹی گارے کی یہ عمارت سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں قدرے خوشگوار رہتی ہے ۔

ہم راہداریوں سے ہوتے اس مستطیل کمرے میں پہنچے، جسے بیٹھک یا کمرہ استقبالیہ کیا جا سکتا ہے ، یہ وہ واحد کمرہ تھا ، جس کے فرش پر چند پرانے قالین اور جس کی دیواروں پر منقش پردے ، طغرے، چند تصاویر اور مالائیں آویزہ نظر آئیں۔

دیواروں کے ساتھ گدوں اور تکیوں کے اضافے کے ساتھ عربی طرز کی نشستگاہیں تھیں، جہاں چائے اور قہوے سے تواضع کیے جانے کا اہتمام کیا گیا تھا ۔

ہم وقت کی کمی کی بنا پر ان کی ضیافت سے فیضیاب تو نہ ہوسکے کہ جس کی قیمت ہمیں چکانا پڑتی لیکن میزبان کی خواتین نے حویلی کی چند کو ٹھریوں میں عربی حجاب ، عبااور عبایہ کی دکان سجا رکھی تھی اور ان کی پُر زور خواہش تھی کہ ہم انہیں مایوس نہ کریں۔ ہماری خواتین نے چند حجا ب اور عبایہ خرید کر ہم سب کی لاج رکھ لی ۔

حویلی کے باہر ایک بڑا سا دالان تھا ، جس میں دستکاری اور صنعت گری کے نمونے سجائے گئے تھے اور رَحَل کی مانند لکڑی کی چھوٹی چھوٹی چوکیاں !!

شاید دن ڈھلے یہاں اہل خانہ قہووں کی چسکیاں لیتے ہوں گے ۔

تو یہاں سے گاڑیوں نے چند شاہراہوں کو کاٹتے چھانٹتے ایک اور وسیع احاطے کے سامنے پڑاؤ ڈالا ۔بتایا گیا کہ یہاں ایک تاریخی زیارت گاہ ہے ۔

پتھروں کی منڈیر کے پیچھے ایک زیر زمین زینہ دکھائی دیا ، گائیڈ نے بتایا کہ یہ وہ کنواں ہے، جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانے سے چلا آ رہا ہے اور انہی کے نام سے منسوب ہے اور یہ کہ یہ کنواں خشک نہیں ہے بلکہ ابھی تک ’ماء معین ‘ کا منظر یاد دلار ہا ہے۔ہمارے کچھ ساتھی چند قدم آگے جاکر اور اس کنوئیں کی منڈیر کو چھو کر حق الیقین کے معارف طے کرتے نظر آئے۔

حران کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک طویل عرصہ ٹھہرے رہے پھر یہاں سے جاکر کنعان میں آباد ہوئے لیکن اپنے بیٹے اسحاق کے لئے بیوی کا انتخاب اسی شہر سے کیا اور ان کا کہنا تھا کہ میں کنعانی بت پرستوں کے دیس میں اپنے بیٹے کو نہ بیا ھوں گا بلکہ اپنے آبائی وطن سے ہی اس کے گھر کو آباد کروں گا اور پھر حضرت یعقوب علیہ السلام بھی اپنے بھائی عیسو کے ساتھ مخاصمت کی بنا پر حران دوڑے چلے آئے، جہاں انہوں نے پہلے اپنی عم زاد لیّد سے اور پھر اس کی بہن راحیل (والدہ یوسف اور بنیامین) سے شادی کی اور اس شادی کے لئے انہیں پہلے سات سال لیّد کے لئے اور پھر دوسرے سات سال راحیل کے لئے سسر کی خدمت گزاری کا حق ادا کرنا پڑا ۔ چودہ‎ سال تو یہ ہوئے اور پھر مزید چھ سال رہنے کے بعد یعنی کوئی بیس برس حرّان میں گزارنے پڑے اور بھر کہیں وہ کنعان لوٹنے میں کامیاب ہوئے ۔

یہ سارا قصہ تورات (تکوین، باب (29) میں مذکور ہے ، جس میں ایک ہی خاندان سے وابستہ لوگوں کے درمیان حسد و ر قابت کی ، شادی کی تگ و دو میں بزرگ قبیلہ کی خدمت گزاری کی اور اہل خانہ کی طرف سے نوادرات بزرگ کی چوری چکاری کی ایک رنگین داستان بڑھنے کے لئے ملتی ہے جو قصہ گو حضرات کی طلاقت لسانی اور ناول نگاروں کی طوالت نگارش کا عنوان بنتی رہی ہے۔

حرّان کے لئے اس سے اچھا تمغہ امتیاز کیا ہوگا جو ہمارے گائیڈ نے ہم سب کے گوش گزار کیا ۔

اس نے کہا: حران اپنی آب و ہوا اور خاص طور پر اپنی حرارت گرما اور بُرودت سرما میں مکہ مکرمہ کا ہمنوا ہے اور حیرت اس بات پر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اگر کعبہ کو بنانا ہی تھا تو اتنی دور جانے کی تُک کیا تھی ۔ حرّان ہی کو اس خدمت کے لئے انتخاب کر لیتے تاکہ لوگ اتنا دور دراز جانے کی مشقت سے بچ جاتے !!

ہمارا واپسی کا سفر شاہراہ ’اورفا‘ کے دونوں طرف روئی کے پودوں ، گندم کے خوشوں، کیلے، انگور ، مالٹے ، انار اور طرح طرح کے پھلوں پھولوں کے مرغزاروں ہوتا ہوا ہمیں اپنی رہائش گاہ تک لے آیا، جہاں اہل حران کے ایک نمائندہ اجتماع سے ملاقات رہی جو ڈاکٹر علی قره داغی کا خطاب سننے کے لئے تشریف لا چکے تھے ۔ انہی میں جناب بدیع الدین نورسی کے ایک خاص الخاص مرید سے بھی ملاقات ہوئی جو ابھی تک (یعنی دو ماہ گذرنے کے بعد بھی ) مجھ غریب کو اپنی نگاہ کرم سے نوازتے رہتے ہیں، یعنی آئے دن مکتوبات نورسی میں سے کوئی منتخب تحریر مجھے واٹس ایپ کیے رہتے ہیں۔

ہماری لندن واپسی اگلے دن کے لئے طے تھی لیکن ’اورفا‘ سے رخصت ہونے سے قبل ایک اور قابل دید جگہ کا تذکرہ کرتا چلوں جہاں میں خود تو نہ جا سکا لیکن اپنے رفقاء سفر کے مشاہدے کی روشنی میں اور کچھ ’یوٹیوب‘ کے گلدستہ اسفار کی چھان بین کے بعد ان سطور کو احاطہ تحریر میں لانے کی کوشش کرتا ہوں :

تذکرہ ’اورفا ‘میں ایوبیہ ڈسٹرکٹ کا حوالہ آچکا ہے ، اور یہ نام حضرت ایوب علیہ السلام کی مناسبت سے رکھا گیا ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مانند ’اورفا‘ شہر کو انہی کے خانوادے کے ایک اور بزرگ یعنی حضرت ایوب علیہ السلام کی جائے ولادت بھی قرار دیا گیا ہے ، اس بارے میں ہم ایک دوسری رائے کا بعد میں ذکر کریں گے ۔ یہاں اہل ’اورفا ‘ کی روایت کو محل نظر رکھا گیا ہے۔

ہم ایوبیہ ڈسٹرکٹ کے ایک بڑے احاطے کی طرف چلتے ہیں ۔ ایک خوبصورت اور عظیم الشان مسجد ہمارے سامنے ہے ، جس کا شنڈیلر بھار بھرکم، منبر مرقع عظمت، محراب دیوار قبلہ کی جھومر اور جس کا فرش دید زیب قالینوں سے آراستہ و پیراستہ اور پھر سامنے چلتے جائیں تو ایک راہداری دو باغیچوں کے جلو میں اور گول گنبد سے معمور محراب نما ڈھانچے تک لے آئے گی، جس کی لوح پر ’ایوب مقام صبر‘ کی تختی لگی ہے ۔ سامنے ایک زینہ ہے جو آپ کو نیچے لے آئے گا ۔ اب آپ ایک ایسے چوبی تختہ تک پہنچتے ہیں ، جس کے چہار اطراف کی چٹانیں ایک گول دائرہ بناتی ہوئی آڑھی ٹیڑھی چھت میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہاں ایک چھوٹا ساحجرہ بن جاتا ہے جس کے چہار اطراف کو شیشے سے ڈھانپ دیا گیا ہے، جس کے عقب میں ایک غار دکھائی دیا جائے گا، اور یہ ہے حضرت ایوب علیہ السلام کا مقامِ صبر، جہاں انہوں نے اپنی بیماری یا اپنی آزمائش کے اٹھارہ سال گزار دیئے تھے ، ان کا سب کچھ بمع مال اور اولاد ختم ہو چکا تھا۔ صرف ایک رفیقہ حیات باقی تھیں جو ان کی خدمت گزار بھی تھیں، اور مونس و غم خوار بھی ، یہیں وہ چشمہ پھوٹا تھا کہ جس کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ ﴾ (سوره ص 42)

’’اپنا پیر یہاں ما رو تو ٹھنڈا پانی بھی ملے گا ، تمہارے نہانے کے لئے بھی اور پینے کے لیے بھی۔‘‘

اس چشمے نے پھر کنوئیں کی شکل اختیار کر لی جہاں پہنچنے کے لئے آپ کو ایک دوسرا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔

مسجد کے باہر آپ کو دوستون نظر آئیں گے، جن کے درمیان کنویں کی منڈیر تک آپ کو رسائی حاصل رہے گی۔ کنویں کا منہ شیشے سے ڈھانپا جا چکا ہے ۔ دونوں ستونوں کے درمیان ایک پلی سے ایک ڈول لٹکتا نظر آتا ہے ۔ اس کنویں کا پانی زمزم جیسی قدسیت حاصل کر چکا ہے، چند قدم ایک دکان سے 13 یورو میں آپ ایک بوتل حاصل کر سکتے ہیں ۔ دکان کی بغل میں ایک دیوار کے ساتھ چند ٹونٹیاں ہیں جو آپ کی بوتل کو مقدس پانی سے بھر دیں گی اور یوں آپ کی زیارت اختتام پذیر ہو جاتی ہے ۔

اب دوسری رائے ملاحظہ ہو :

مقام ایوب کے بارے میں جس رائے کو زیادہ مستند قرار دیا گیا ہے ، پیش خدمت ہے :

’’بعض محققین کے نزدیک حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ 1500 تا 1300 قبل مسیح کا ہے ۔ امام بخاری نے کتاب الانبیاء میں حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد اور حضرت موسی علیہ السلام سے پہلے کیا ہے ۔ دمشق کے نزدیک ’’نَوَی ” کے مقام پر آپ کا مقبرہ زیارت گاہ خاص و عام تھا ، یہاں پر اب تک وہ چٹان موجود ہیں، جس پر آپ نے اپنی آزمائش کا عرصہ گزارا تھا اور وہ چشمہ بھی ہے جس کے پانی سے غسل کرکے آپ تندرست ہوئے تھے ۔ (اسلامی انسائیکلو پیڈیا : 1؍ 322)

مختلف دوسرے مصادر میں چند مزید جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے :

1۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا علاقہ حوران (جنوبی شام تا شمال ارون) تک پھیلا ہوا ہے ۔ دمشق بھی اس علاقے میں آجاتا ہے ۔

2۔ صلالہ (عمان) سے 40 کلو میٹر دور حضرت ایوب علیہ السلام کا مقبرہ بتایا جاتا ہے ، یہ جگہ اب زیارت عام و خاص ہے ، قریب ہی وہ چشمہ بھی بتایا گیا ہے جس کے پانی سے حضرت ایوب علیہ السلام نے شفا حا صل کی تھی ۔

3۔ بلقاء ( علاقہ نمکیات، اردن) میں بھی ایک مقام ایوب بتایا گیا ہے۔

5۔ الشیخ سعد (شام ، سیریا ) میں بھی عیسائیوں کے ہاں عرصہ دراز سے اسی سلسلے کی ایک روایت چلی آرہی ہے۔

’اورفا‘ کی مناسبت سے یہ تفصیلات قلمزد ہوئیں اور اس کی ساتھ ہمارا یہ سفر نامہ بھی اپنے اختتام کو پہنچتا ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں