آنے والا مہمان ماہِ رمضان۔مترجم:محمد زبیر کلیم

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اس سے مدد طلب کرتے ہیں، اس سے بخشش مانگتے ہیں اور اس کی طرف توبہ کرتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ ان پر، ان کے اہلِ بیت، صحابہ کرام اور قیامت تک ان کے پیروکاروں پر درود و سلام اور برکت نازل فرمائے۔حمد وثناء کے بعد!اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور خلوت و جلوت میں اس کی نگرانی کو ملحوظ رکھو، اور جان لو کہ تمہارے جسم آگ کو برداشت نہیں کر سکتے! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ ولْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ (سورۃ الحشر: 18)

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل (آخرت) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔‘‘

اللہ کے بندو!چند محدود گھڑیاں باقی ہیں، اور وہ مہمان ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے جس کا ہم طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں اور جس کی برکتیں بے شمار ہیں۔ یہ وہ عظیم جامع (یونیورسٹی) ہے جو تقویٰ کا درجہ عطا کرتی ہے: یہ رمضان المبارک ہے! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ على الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْن﴾ ’’تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 183)

رمضان وہ مہمان ہے جس سے صرف کریم شخص خوش ہوتا ہے اور جس سے صرف بدنصیب ہی بے زاری محسوس کرتا ہے! اس مہمان کے اکرام میں سے یہ ہے کہ اس کے استقبال کی تیاری کی جائے، اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے منصوبہ بندی کی جائے اور اس کے لمحات کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی دنیا کے لیے منصوبے بناتے ہیں، لیکن آخرت کے لیے بہت کم لوگ منصوبہ بندی کرتے ہیں، حالانکہ

﴿والآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾(سورۃ الاعلیٰ: 17)

’’آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘

رمضان کی آمد پر خوش ہونا، درحقیقت اللہ کے فضل پر خوش ہونا اور اس کی نشانیوں کی تعظیم کرنا ہے! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ﴾

’’کہہ دیجیے: یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے، پس انہیں اسی پر خوش ہونا چاہیے، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘ (سورۃ یونس: 58)

نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کو رمضان کی خوشخبری دیتے ہوئے فرماتے تھے: «أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ» ’’تمہارے پاس رمضان آ چکا ہے، یہ بابرکت مہینہ ہے۔‘‘ (مسند احمد: 8769؛ سنن نسائی: 2106)

رمضان کی تیاری میں دعا بھی شامل ہے۔ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“بُلُوغُ رَمَضَانَ؛ نِعْمَةٌ عَظِيمَةٌ: فَمَنْ رُحِمَ فِيه فَهُوَ المَرحُوم، ومَن حُرِمَ خَيرَهُ فَهُوَ المحرُوم.”

’’رمضان کا مل جانا عظیم نعمت ہے، لہذا جو اس میں رحمت سے نوازا گیا، وہی حقیقی طور پر رحم یافتہ ہے، اور جو اس کی برکتوں سے محروم رہا، وہی حقیقی طور پر محروم ہے۔‘‘ (لطائف المعارف :148)

بعض نیک لوگ چھے مہینے تک اللہ سے دعا کیا کرتے تھے کہ وہ انہیں رمضان نصیب کرے۔ ان کی دعاؤں میں یہ بھی شامل تھا:

«اللَّهُمَّ سَلِّمْنِي إلى رَمَضَانَ، وسَلِّم لي رَمَضَانَ، وتَسَلَّمهُ مِنِّي مُتَقَبَّلًا»

’’اے اللہ! مجھے رمضان تک سلامت رکھ، رمضان کو میرے لیے سلامت رکھ، اور اسے مجھ سے قبول فرماتے ہوئے لے لے۔‘‘ ( لطائف المعارف (148)

جس نے رمضان کی عزت کی، رمضان نے اس کی عزت کی اور اسے جنت کی طرف لے گیا۔دو افراد نبی کریم ﷺ کے زمانے میں مسلمان ہوئے، ان میں سے ایک کو شہادت ملی اور دوسرا ایک سال بعد فوت ہوا۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے خواب میں جنت دیکھی، تو میں نے ان میں سے اس شخص کو شہید سے پہلے جنت میں داخل ہوتے دیکھا جو ایک سال بعد فوت ہوا تھا۔‘‘ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:«أَلَيْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَهُ رَمَضَانَ؟»

’’کیا اس نے اس کے بعد رمضان نہیں پایا تھا؟‘‘ (مسند احمد:(8399)

رمضان تمام مہینوں کا سردار ہے، اور یہ دل کی اصلاح کے لیے آیا ہے، جو تمام اعضاء کا سردار ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:«صَومُ شَهْرِ الصَّبْرِ -يعني رمضان-، وثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ؛ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدرِ»’’صبر کے مہینے (یعنی رمضان) کے روزے اور ہر مہینے کے تین دن کے روزے دل کے میل کو دور کر دیتے ہیں۔” یعنی یہ روزے دل سے کینہ، بغض، اور اس میں پیدا ہونے والی سختی اور میل کو ختم کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ اس میں نہ دشمنی باقی رہتی ہے اور نہ ہی غصہ۔‘‘ (التيسير بشرح الجامع الصغير:1؍457، 2؍95؛ فيض القدير:4؍211)

رمضان کی تیاری روح کو غذا دینے سے ہوتی ہے، نہ کہ جسم کو موٹا کرنے یا کھانے پینے کا ذخیرہ جمع کرنے سے! ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی بھوک کے مہینے کی طرف بڑھ رہے ہیں، نہ کہ اطاعت اور عبادت کے موسم کی طرف۔

يَا خَادِمَ الجِسْمِ كَمْ تَشْقَى بِخِدْمَتِه

فَأَنْتَ بِالرُّوْحِ لا بِالجِسْمِ إِنْسَانُ!

’’اے جسم کے خادم! تو اس کی خدمت میں کتنا مشقت اٹھاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں انسان روح سے ہے، جسم سے نہیں۔‘‘ ( مفتاح دار السعاد:108)

رمضان آیا ہے تاکہ تمہارے دل کو گناہوں کی گندگی سے دھو ڈالے، اور تمہیں ایک بالکل صاف و شفاف ورق عطا کرے جس سے تم اپنی زندگی اور ایمان کو نیا کر سکو۔ یہ ایک نادر موقع اور بہترین غنیمت ہے، لہذا ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو اسے ضائع کر دے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

«أَتَانِي جِبرِيلُ، فقال: رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ؛ قُل: آمِينَ؛ فَقُلتُ: آمِينَ.» (مسند البزار : 1405، 4277)

’’میرے پاس جبرائیل آئے اور کہا: وہ شخص برباد ہو جائے جس نے رمضان پایا اور اس کی بخشش نہ ہوئی! کہو: آمین۔ تو میں نے کہا: آمین۔‘‘

رمضان گناہوں سے باز آنے اور شیطان پر فتح پانے کا بہترین موقع ہے، کیونکہ رمضان میں شیطان انتہائی کمزور ہوتا ہے! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

«إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ: فُتِّحَتْ أَبوَابُ الجَنَّةِ، وغُلِّقَتْ أَبوَابُ النَّارِ، وسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ» ’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 1899؛ صحیح مسلم :1079)

ایک روایت میں ہے: «صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ»

’’شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم :1079)

جب جنوں کے شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے تو انسانی شیاطین میدان میں آ جاتے ہیں، تاکہ اس مبارک مہینے کے روحانی ماحول کو خراب کریں اور اس کی برکتوں کو چرالیں! یہ رمضان کے چور ہیں، پس ان سے بچو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿واللهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُم ويُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَنْ تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا﴾’’اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر رحمت کرے، اور جو لوگ خواہشات کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ راست سے بہت زیادہ بھٹک جاؤ۔‘‘ (سورۃ النساء: 27)

رمضان کا روزہ انسان کی شہوت کو قابو میں رکھتا ہے اور اس کے ایمان کی قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے، تاکہ اسے خواہشات کا غلام نہ بنا دے اور نہ ہی وہ لذتوں کا قیدی بنے! علماء فرماتے ہیں: “الحُرُّ: هُوَ الَّذِي قَهَرَ شَهْوَتَهُ وَنَفْسَهُ؛ فَانْقَادَتْ مَعَهُ، وَذَلَّتْ لَهُ، ودَخَلَتْ تَحْتَ رِقِّهِ وحُكْمِهِ، وإِنَّمَا شُرِعَ الصومُ؛ كَسْرًا لِشَهَوَاتِ النُّفُوسِ، وقَطْعًا لِأَسْبَابِ التَّعَبُّدِ لِغَيْرِ اللهِ، فالصومُ يُوْرِثُ الحُرِّيَّة.”

’’حقیقی آزاد وہی ہے جو اپنی خواہش اور نفس کو مغلوب کر لے، تاکہ وہ اس کے ساتھ چلیں، اس کے تابع ہو جائیں اور اس کے حکم کے ماتحت آ جائیں۔ روزہ اس لیے مشروع کیا گیا ہے تاکہ نفس کی شہوتوں کو توڑا جا سکے اور اللہ کے علاوہ کسی اور کی بندگی کے اسباب ختم کیے جا سکیں، لہٰذا روزہ آزادی عطا کرتا ہے۔‘‘ ( فيض القدير:4؍211)

سب سے آسان روزہ کھانے پینے سے رک جانا ہے، لیکن اگر تم روزہ رکھو تو تمہارا کان، تمہاری آنکھ، اور تمہاری زبان بھی حرام سے روزہ رکھے!جس طرح کھانے پینے سے روزہ خراب ہو جاتا ہے، اسی طرح گناہ اس کے ثمرات کو برباد کر دیتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

«رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الجُوعُ والعَطَشُ.»’’کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے سے بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (مسند احمد: 8693)

یہ اللہ کی رحمت کی خوشبوئیں قریب آ چکی ہیں، اور ایمان کی ہوائیں چل پڑی ہیں، جو بھی ان میں سے ایک جھونکا پا لے، وہ کبھی بدبخت نہ ہوگا! نبی اکرمﷺ نے فرمایا:«تَعَرَّضُوا لِنَفَحَاتِ رَحمَةِ اللهِ؛ فَإِنَّ لِلهِ نَفَحَاتٍ مِنْ رَحمَتِهِ؛ يُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ.» (طبرانی فی المعجم الكبیر: 720)’’اللہ کی رحمت کی خوشبوؤں کو پانے کی کوشش کرو، کیونکہ اللہ کے پاس اپنی رحمت کے کچھ خاص لمحات ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، نواز دیتا ہے۔‘‘

یہ ہے رمضان، جو تمہارے پاس مہمان بن کر آنے والا ہے، لہذا اپنے مہمان کی عزت کرو، اپنے اس مہینے کو غنیمت جانو، اور اپنے رب کی طرف تیزی سے لپکو! یہ ایک مختصر مہینہ ہے، جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں! اس کا آنا ایک لمحہ بھر کی زیارت کی مانند ہے، جس میں سستی برداشت نہیں کی جا سکتی!جب بھی تمہیں سستی محسوس ہو، تو یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ﴾

’’یہ چند گنتی کے دن ہیں۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 184)

لہٰذا اللہ کے لیے، رمضان میں کوتاہی نہ کرنا! یہ ایک ایسا مہمان ہے جو تیزی سے آ کر چلا جاتا ہے، اس میں نیک عمل کے لیے بھرپور کوشش کرو، اور تاخیر اور کاہلی سے بچو۔ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“كَم مِمَّنْ أمَّلَ أَنْ يَصُومَ هذا الشَّهْرَ، فَخَانَهُ أَمَلُهُ؛ فَصَارَ قَبْلَهُ إلى ظُلْمَةِ القَبْرِ.”

’’کتنے ہی لوگ ایسے تھے جو امید رکھتے تھے کہ وہ اس رمضان کے روزے رکھیں گے، مگر ان کی امید نے انہیں دھوکہ دے دیا، اور وہ اس مہینے کے آنے سے پہلے ہی قبر کے اندھیروں میں جا پہنچے۔‘‘ ( لطائف المعارف : 149)

تبصرہ کریں