الجامع الکامل پروجیکٹ کی معنویت و افادیت(2)۔حافظ عبد الحسیب عمری مدنی

الجامع الکامل میں صحیح احادیث جمع کرنے کے علاوہ جن باتوں کا خیال رکھا گیا ہے وہ یہ ہیں :

1۔ ڈاکٹر صاحب نے جن احادیث کو صحیح قرار دیا ہے ان کی مفصل تخریج کی ہے اور بتلایا ہے کہ وہ کس طرح صحیح ( مقبول) قرار پاتی ہیں۔

2۔ الجامع الکامل کے سلسلے میں ایک بات ڈاکٹر صاحب کی زبانی میں نے یہ بھی سنی ہے کہ اس کی ترتیب میں ڈاکٹر صاحب نے صحیح بخاری کی ترتیب اور تبویب کو بنیاد بنایا ہے، اور پھر اس پر مزید اپنی صوابدید کے مطابق اضافہ کیا ہے۔

3۔ الجامع الکامل میں ڈاکٹر صاحب نے ایک کام یہ بھی کیا ہے کہ اکثر احادیث اور قرآن میں با ہم ربط پیدا کیا ہے۔ یعنی حدیث کا کسی آیت سے ربط ہو تو اس آیت کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے باہمی ربط کو بیان کیا ہے۔

4۔ حدیث میں وارد بعض جملوں کی وضاحت اور بعض جگہ ان سے مستنبط فقہی فوائد پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ فقہاء کی طرف اقوال کی نسبت بھی کی ہے۔

5۔ اگر صحیح احادیث میں باہم تعارض ہو تو اس کا ازالہ بھی کیا ہے۔

6۔ باب سے متعلق مشہور ضعیف احادیث کی نشان دہی کی ہے اور مفصل تخریج کی روشنی میں ان کی علت اور کم زوری کو واضح کیا ہے۔

7۔ مقدمہ کتاب : کتاب میں ایک اہم اضافہ تقریبا دو سو صفحات پر مشتمل اس کا وقیع مقدمہ ہے، جو تاریخ تدوین حدیث، مشہور صحیح کتبِ حدیث کے تعارف کے ساتھ تخریج حدیث اور فن حدیث کی مختلف فروعات سے متعلق تقریبا 75 مختلف دقیق فوائد اور مباحث کے اہم خلاصے پر مشتمل ہے۔ اس میں روایتی معلومات سے زیادہ شیخ کے اختیارات اور ترجیحات اور اس کے دلائل ہیں۔ علم حدیث سے دلچسپی رکھنے والے کو اس مقدمہ کا موازناتی مطالعہ ضرور کرنا چاہیے، اور ساتھ ہی اس عظیم پروجیکٹ کا عملی خاکہ بعنوان (منهج جمع الأحاديث في الجامع الكامل ) بھی بیان کیا ہے، جس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ صحیح احادیث کو جمع کرنے کا ایسا کوئی مفصل منہج اور خاکہ آپ سے پہلے کسی نے نہیں پیش کیا ہے۔ شرط البخاری اور شرط مسلم کی طرح شروط الا عظمی کو اگر جاننا ہو تو خود کے اجتہاد کی بجائے الجامع الکامل کے مقدمہ کی طرف رجوع کر لیا جائے۔

مزید یہ بھی کہ ڈاکٹر صاحب نے مقدمہ میں فن حدیث کی تمام مشہور و متداول کتابوں کی روایت سے متعلق اپنی مختلف اسانید کا بھی تذکرہ کیا ہے، جس کی وجہ سے ’الجامع الکامل‘بھی ’مسند‘ہو گئی ہے۔ یعنی یہ حیثیت اختیار کر گئی کہ اس کتاب کی ہر حدیث ڈاکٹر صاحب گویا خود اپنی سند سے نبی ﷺ تک بیان کر رہے ہیں۔

اس مقدمہ میں ڈاکٹر صاحب نے ایک اور اہم مشروع کا تذکرہ کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ راویان حدیث پر درست حکم لگانا بسا اوقات بہت مشکل کام ہوتا ہے، جس کا تجربہ خود انہیں الجامع الکامل پر کام کرتے ہوئے کئی بار ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کا اندازہ ہے کہ پانچویں صدی تک کے رواۃ کی تعداد تقریبا پچاس ہزار ہوگی ، جن کے شخصی تعارف اور علمی درجہ بندی پر مشتمل اہم کتا ہیں تقریبا ساڑھے تین سو ہیں۔ احادیث کی طرح راوی سے متعلق معلومات بھی ان کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں۔ بسا اوقات ان تمام معلومات کو اکٹھا کیے بغیر راوی کی درجہ بندی یا اس پر صحیح اور مناسب حکم لگانے میں غلطی ہو جاتی ہے۔ اس مشکل کا حل تلاش کرنے کے لیے اور جس طرح ’الجامع الكامل في الحديث الصحيح الشامل‘میں تمام صحیح احادیث کو یکجا کیا ہے، بالکل اسی طرح ایک ایک راوی سے متعلق تمام معلومات یکجا کرنے کے لیے ایک عظیم پروجیکٹ کا خاکہ ڈاکٹر صاحب نے ترتیب دیا تھا جس کا نام ’مشروع الجامع الكامل لرواة الحديث لصيانة الحديث ‘ تجویز فرمایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے اس خاکے کے مطابق امام مزی رحمہ اللہ کی تہذیب الکمال کو بنیاد بنا کر اس پر کام کیا جا سکتا ہے، جس میں تقریبا پانچ سال کی مدت لگ سکتی ہے ، اور یہ کام مکمل ہو کر تقریبا سو سے زائد جلدوں میں سامنے آسکتا ہے۔ نیز یہ خواہش بھی ظاہر کی ہے کہ اگر کوئی ادارہ اس پروجیکٹ پر کام کروانے کے لیے آمادہ ہو تو ڈاکٹر صاحب خود اس کی نگرانی کے لیے تیار ہیں۔ یہ وہ معلومات ہیں جو مقدمہ میں ڈاکٹر صاحب نے بیان کی ہیں۔ میری آخری ملاقات، جو دسمبر 2019ء کے پہلے ہفتہ میں ہوئی تھی، ڈاکٹر صاحب نے بتلایا کہ اس پروجیکٹ پر بھی کام شروع ہو چکا ہے اور کافی حد تک کام ہو چکا ہے۔ يسر الله الإتمام لهذا العمل الجبار – اگر یہ پروجیکٹ بھی انجام کو پہنچ جائے تو ’الجامع الکامل‘ کی طرح یہ بھی ایک غیر معمولی کارنامہ ہوگا۔

الجامع الکامل کے بارے میں اگر یہ پوچھا جائے کہ اس عظیم پروجیکٹ کے ان فنی و علمی جوانب سے ہٹ کر اس سے عام امت کا کیا فائدہ ہوا؟ کیا یہ صرف صحیح احادیث پر مشتمل ایک جامع کتاب ہے؟ یا اس کے پیچھے دیگر مقاصد بھی تھے ؟؟

اس سوال کے جواب میں اس کی افادیت اور مقصد کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے اس پروجیکٹ کے سات فوائد یا اہداف و مقاصد بیان کیے ہیں:

1۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ تمام صحیح احادیث ایک کتاب میں اکٹھا مل جائیں، تاکہ لوگ ضعیف و موضوع سے پر ہیز کرتے ہوئے صرف صحیح احادیث کو اپنا ئیں۔ خاص طور پر وہ مؤلفین اور باحثین جو فن حدیث سے واقف نہیں ہوتے اور ضعیف و موضوع احادیث پر بھی اعتماد کر لیتے ہیں ان کے سامنے صرف صحیح احادیث کو منتخب کرنے کا ایک آسان راستہ رہے۔

2۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں بعض لوگ جانتے بوجھتے بھی ضعیف و موضوع روایات کو عام کرتے ہیں۔ الجامع الکامل جیسی کتاب کے وجود سے شاید ان لوگوں کو ایسی غلطی کرنے سے رکنے اور روکنے میں کامیابی حاصل ہو۔

3۔ منکرین حدیث جو خود کو اہل قرآن کہتے ہیں ، حدیث کی حجیت پر اس لیے بھی اعتراض کرتے ہیں کہ وہ یکجا نہیں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر وہ حجت ہوتی تو قرآن کی طرح وہ بھی ایک جگہ اکٹھا مل جاتی۔ ان کا یہ دعوی اگر چہ بے وزن ہے، کیونکہ احادیث بہت پہلے سے کتابوں میں اکٹھا ہیں، تاہم ’ الجامع الکامل‘ جیسی تمام صحیح احادیث پر مشتمل ایک جامع کتاب کے ذریعے ان پر حجت قائم کی جاسکتی ہے۔

4۔ الجامع الکامل جیسی جامع کتاب کے وجود سے ضعیف اور موضوع روایات کے ذریعے دین میں جس قسم کی نئی نئی بدعات کا اضافہ کیا جاتا ہے، ان کا سد باب کیا جاسکے گا۔ کیونکہ اہل سنت کے عقیدے کا دارو مدار صحیح سند پر ہوتا ہے، جب کہ اہل بدعت کے عقائد سرے سے بے سند ہوتے ہیں۔

5۔ یہ کتاب حدیث کی فقہ اور صحیح سمجھ کے سلسلے میں بھی معاون ہو سکتی ہے، کیونکہ صحیح روایت کے تمام الفاظ بھی یکجا ملتے ہیں۔ کئی بار ایسا دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ حدیث کے تمام الفاظ کا احاطہ نہ کر پانے کی وجہ سے حدیث کا صحیح مفہوم متعین کرنے میں غلطی کر بیٹھتے ہیں۔

6۔ یہ کتاب اتحاد امت کے سلسلے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے، کیونکہ کافی طویل عرصےتک غور و خوض کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ خصوصاً اہل علم کے درمیان اور عموما عام مسلمانوں کے درمیان اختلاف کی ایک بڑی وجہ احادیث کی ایسی کسی جامع کتاب کا عدم وجود ہے جس کی طرف اختلاف کی صورت میں رجوع کیا جاسکے۔

7۔ یہ کتاب ان بہت سارے لوگوں کا سہارا بن سکے گی جو عمل بالحدیث کے باب میں صرف صحیح و مقبول روایتوں کو اپنانے کے خواہش مند ہوتے ہیں، کیونکہ مسئلہ چاہے حلال و حرام کا ہو کہ ترغیب و ترہیب کا صحیح احادیث ضعیف احادیث سے ہمیں بے نیاز کر دیتی ہیں۔ یہاں پہنچ کر سب سے اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا الجامع الکامل واقعتاً کامل ہے ؟ تمام صحیح احادیث اس کتاب میں اکٹھا ہو گئی ہیں؟؟

اس کے جواب میں سب سے پہلے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ ’الكمال لله وحده ‘ انسانی کوشش چاہے جس قدر قابلیت، محنت اور لگن سے کی جائے اس میں نقص کا در آنا ایک فطری امر ہے۔ تا ہم انسانی استطاعت میں جو کچھ ہو سکتا ہے اس کے مطابق ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب نے اسی مقصد سے کتاب لکھی ہے اور یہی ان کا دعوی ہے کہ تمام صحیح احادیث اکٹھا کر دی گئی ہیں۔ اسی لیے اپنی کتاب كا نام ’ الجامع الكامل فى الحديث الصحيح الشامل ‘ رکھا ہے جس میں لفظ ’الشامل‘ بھی اسی الجامع کی صفت ہے جو تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ گویا حقیقی نام یوں ہے: ’ الجامع الكامل الشامل في الحديث الصحيح ‘۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ نے ’ الجامع الکامل‘کی روایت کرنے والوں کے لیے جو سند تیار کی ہے اس میں خصوصی طور پر الشامل پر ضمہ لگایا ہے، تا کہ اس لفظ کو الجامع کی صفت کے طور پر ہی پڑھا جائے اور ساتھ ہی الجامع الکامل کے مقدمے میں لکھتے ہیں:

“الجامع الكامل هو شامل لجميع الأحاديث الصحيح سواء كانت في الصحيحين أو في السنن الأربعة أو في غيرها من الكتب المسندة المؤلفة إلى القرن السابع الهجري .”

یعنی الجامع الکامل ساتویں صدی ہجری تک لکھی گئی تمام مسند کتابوں میں موجود تمام صحیح احادیث کا مجموعہ ہے۔

اس سلسلے میں شیخ سے میں نے بارہا پوچھا کہ کیا آپ کا یہ دعوی ہے کہ تمام احادیث آپ نے اکٹھا کر لی ہیں؟ تو شیخ نے جواب میں یہ فرمایا:

’’ہاں ہم نے کوشش تو یہی کی ہے اور ہمارے علم کی حد تک ہم نے مکمل کیا ہے۔ البتہ ہماری یہ کوشش ایک انسانی کوشش ہے۔ ہم نے پہل کردی ہے۔ ہمارے بعد آنے والوں کا کام ہے کہ ہماری اس کوشش کا جائزہ لیں ، اور اس میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہو تو اس کو پورا کریں۔ میرا اندازہ ہے کہ آئندہ بھی اگر کوئی اضافہ ممکن ہے تو زیادہ زیادہ پانچ فی صد ہو سکتا ہے۔ یعنی میں اپنے دعوے پر پچانوے فی صد پورا اتروں گا۔ ان شاء اللہ‘‘

تلخيص الجامع الكامل

ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب نے الجامع الکامل کے پروجیکٹ سے فراغت کے بعد مزید اس پر کام جاری رکھا، تا کہ یہ عظیم محنت اور اس کا فائدہ صرف خواص تک محدود نہ رہ جائے بلکہ عوام الناس بھی اس سے بھر پور مستفید ہو سکیں۔ چنانچہ آپ نے اس عظیم پروجیکٹ کا اختصار بھی تیار کیا، جس کا نام ’ تلخیص الجامع الکامل‘ رکھا۔ اس میں الجامع الکامل کی تمام احادیث موجود ہیں۔ تلخیص کے نام پر در اصل تخریج سے متعلق وہ فنی باتیں حذف کر دی گئی ہیں جو عوام الناس کے مطلب کی نہیں ہیں۔ صرف متون کا اعتبار کریں تو یہ تلخیص بھی دراصل مکمل الجامع الکامل ہے۔ ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب نے اس تلخیص کے اہداف ومقاصد اور اس میں اور الجامع الکامل میں فرق بتلاتے ہوئے لکھا ہے:

1۔ پہلا مقصد تو یہ ہے کہ حدیث رسول کو حفظ کرنے کے خواہش مندوں کی مدد ہو سکے۔

2۔ الجامع الکامل بہت سارے ایسے دقیق مباحث پر مشتمل تھی جن سے صرف فن حدیث کے ماہرین اور علماء ہی مستفید ہو سکتے تھے۔ تلخیص کے ذریعے عامتہ المسلمین کے لیے اس سے مستفید ہونا مزید آسان ہو جائے گا۔

3۔ اس عظیم پروجیکٹ کی شہرت کے ساتھ ہی غیر عربی دان طبقے کی طرف سے بہ اصرار مطالبہ ہونے لگا کہ اس کا مختلف بین الا قوامی زبانوں میں ترجمہ کر دیا جائے، تا کہ حدیث رسول بھی تمام زبانوں میں میسر ہو۔ چونکہ الجامع الکامل کے بہت سارے مباحث جیسے مفصل تخریج عمل حدیث پر گفتگو اور با ہم متعارض احادیث میں تطبیق کا اہتمام وغیرہ ایسے مسائل تھے جن کا ترجمہ دیگر زبانوں میں انتہائی مشکل تھا، اور ساتھ ہی وہ ایک عام قاری کے لیے زیادہ ضروری بھی نہیں تھے۔ اس لیے مناسب سمجھا کہ پہلے الجامع الکامل کی تلخیص ہو جائے اور پھر اس تلخیص کا ترجمہ مختلف زبانوں میں کیا جائے۔

4۔ اس تلخیص میں وہ تمام ضعیف احادیث بھی حذف کر دی گئی ہیں جو الجامع الکامل میں تنبیہ کے لیے ذکر کی گئی ہیں اور ساتھ ہی اس بات کا اہتمام بھی کیا گیا ہے کہ تلخیص میں مذکورہ احادیث کا نمبر الجامع الکامل کے نمبر کے موافق ہو، تاکہ کسی حدیث کی مفصل تخریج و دیگر فوائد دیکھنے کا خواہش مند آسانی سے الجامع الکامل میں اس حدیث تک پہنچ جائے۔ تلخيص الجامع الکامل عربی میں تیار ہو گئی مگر چھپی نہیں ہے، کیونکہ ڈاکٹر صاحب کی خواہش تھی کہ دیگر زبانوں میں اس کے ترجمہ کے ساتھ یا اس کے بعد ہی اس کی عربی میں بھی اشاعت ہو۔ الحمد اللہ اردو میں تلخیص الجامع الکامل کا ترجمہ مکمل ہو چکا ہے۔ ترجمہ مراجعہ اور صحیح کے مرحلے میں ہے۔ ( رب ذوالجلال کا فضل و کرم ہے کہ یہ سعادت مجھ ناچیز کو حاصل ہوئی کہ یہ کام متعدد اہل علم کے تعاون سے میرے ہی اشراف اور نگرانی میں پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے البتہ انگریزی ترجمہ پر برطانیہ میں کام جاری ہے، جس کے بعد دیگر زبانوں میں بھی اس کی اشاعت متوقع ہے۔

ایک خواب جو تعبیر کا منتظر

قارئین کو یاد ہوگا کہ الجامع الکامل کی ابتدا اس خیال سے ہوئی تھی کہ قرآن مجید کی طرح تمام صحیح احادیث کو بھی ایک جلد میں پیش کر دیا جائے تا کہ ہم قرآن وسنت کہیں تو دو جلدیں مخاطب کے حوالے کر دیں۔ قرآن تواتر کے ساتھ امت کے اندر سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا آیا ہے اور ساتھ ہی مصاحف میں بھی لکھا جاتا یا طبع کیا جاتا رہا ہے، تاہم احادیث کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی اسانید ہیں۔ لہٰذا اسے ایک جلد میں پیش کرنے سے پہلے بڑی محنت کرنی تھی۔ اللہ کی توفیق سے ڈاکٹر صاحب نے پہلے الجامع الکامل کے مرحلے کو طے کیا۔ پھر تلخیص کے مرحلہ کو۔ اب ان کی نظر اسی بنیادی سوچ پر تھی کہ حدیث رسول کو بھی ایک جلد میں پیش کیا جاسکے۔ چنانچہ اس کے لیے ڈاکٹر صاحب نے ایک خاکہ یہ بنایا کہ صرف مرفوع احادیث میں سے تمام قولی احادیث پھر فعلی اور تقریری احادیث میں سے ہر وہ حدیث جس میں نبی ﷺ کی زبان مبارک سے کوئی بھی ٹکڑا ارشاد ہوا ہو ان کو الگ کر لیا جائے ، اور ان تمام کو ایک جلد میں ایک خاص ترتیب کے ساتھ درج کر دیا جائے۔ اس طرح کہ اگر قرآن کلام اللہ مصحف میں محفوظ ہے تو تمام صحیح احادیث کلام رسول اللہ ایک جلد میں مدون و محفوظ نظر آئیں۔ اور جب کبھی کوئی پھر سے وہی سوال کرے کہ قرآن تو ایک جلد میں ہمارے سامنے ہے اس طرح احادیث رسول بھی یکجا کہاں ملیں گی ؟ تو کسی استاذ کو یہ جواب نہ دینا پڑے کہ اس کے لیے آپ کو لائبریری میں کتب احادیث کے ذخیرہ کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ منکرین حدیث کا اس سے بہتر جواب نہیں ہو سکتا کہ ان کے سامنے اس طرح ایک جلد میں تمام حدیثیں پیش کر دی جائیں اور امام شافعی رحمہ اللہ نے جو فرمایا تھا:

“لا تعلم رحلا جمع السنن فلم يذهب منها عليه شيء فإذا جمع علم عامة أهل العلم بها أتى على السنن وإذا فرق علم كل واحد منهم ذهب عليه الشيئ منها ثم كان ماذهب عليه منها موجودا. عند غیرہ.”

ہمیں نہیں معلوم کہ ایسا بھی کوئی شخص ہے جو تمام احادیث کا جانکار ہو، اس طرح کہ اس سے کوئی حدیث نہ چھوٹے ۔ اگر کوئی تمام محدثین کے علم کو اکٹھا کر پائے تو یقیناً تمام احادیث کو جان لے گا اور اگر ہر شخص کے علم کو اس کے پاس ہی رہنے دے تو کچھ نہ کچھ ہر شخص کے پاس کمی رہے گی۔ البتہ جو حدیث ایک کے پاس نہ ہو وہ دوسرے کے پاس ضرور محفوظ ہوگی۔ (الرسالۃ: ۳۴:۱)۔ اس کے مطابق ان تمام محفوظ صحیح احادیث کو عملاً ایک جلد میں سب کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ ڈاکٹر صاحب کا اندازہ تھا کہ جس طرح قرآن کی آیات چھے ہزار سے کچھ زائد ہیں، بالکل اسی طرح ایسی احادیث بھی قریب قریب چھے ہزار سے کچھ زائد ہوں گی ۔ (تلخیص کے مقدمہ میں ڈاکٹر صاحب نے یہ تعداد پانچ سے چھے ہزار تک بتلائی ہے، جب کہ شخصی ملاقات میں مجھ سے آپ نے جتلایا تھا کہ چھے ہزار سے اوپر قریب قریب قرآن کی آیات کے مساوی عدد ہوگا )

ڈاکٹر صاحب نے اس پروجیکٹ پر بھی کام شروع کیا تھا، بلکہ آخری عمر میں ڈاکٹر صاحب کے معاون رہے برادر عزیز کامران قاضی کے بقول پورا خطہ اور خاکہ تیار تھا، اور اس پر کام بھی جاری تھا، مگر عمر نے وفا نہ کی۔ اللہ نے چاہا تو ڈاکٹر صاحب کے طے کردہ خاکے پر ہی کام کر کے اس پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ ایسی مثالیں تاریخ میں ہیں کہ استاذ کے شروع کیے گئے کام کو شاگردوں نے مکمل کیا ہے۔ جیسے شروحات حدیث میں سے ایک طرح التشريب شرح التقريب ” ہے۔ جس کی ابتدا زین الدین ابوالفضل عبد الرحیم عراقی رحمہ اللہ (725ھ) نے کی مگر اسے کھل کرنے سے پہلے انتقال فرما گئے۔ آپ کے بعد آپ کے فرزند ولی الدین ابوزرعہ العراقی (826ھ) نے اس کی تکمیل کی۔ یا مدارس کے نصاب میں پڑھائی جانے والی معروف تفسیر جلالین ہے۔

یہ پروجیکٹ تکمیل کے بعد کیسا ہو سکتا ہے اس کا اندازہ ہم اور آپ شیخ البانی رحمہ اللہ کی دو تصانیف پر نظر ڈال کر لگا سکتے ہیں۔ پہلی تصنیف ’صفۃ صلاۃ النبی ﷺ‘ ہے، جس میں صحیح احادیث کو اکٹھا کرنے کے بعد شیخ البانی رحمہ اللہ نے انھیں نماز کے ارکان کی ترتیب کے مطابق درج کیا ہے۔ اسی لیے کتاب کا مکمل نام شیخ نے یوں رکھا ہے :’ صفة صلاة النبي ﷺمن التكبير إلى التسليم کانک تراها ‘یعنی تکبیر تحریمہ سے سلام پھیر نے تک نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ جیسے آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ اسی طرز پر شیخ البانی رحمہ اللہ کی دوسری تصنیف ’قصة المسیح الدجال ‘ہے، جس میں شیخ نے دجال کے خروج سے لے کر نزول عیسی علیہ السلام اور دجال کے خاتمے تک کے واقعات صرف احادیث میں وارد الفاظ درج کرکے تسلسل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو بنیاد بنایا ہے اور درمیان میں جہاں کہیں کسی صحیح حدیث میں اضافہ ملا اس کو اس کے مقام پر درج کر دیا ہے۔ اس کتاب کا پورا نام یوں ہے: قصة المسيح الدجال ونزول عيسى عليه الصلاة والسلام وقتله إياه على سياق رواية أبي أمامة رضي الله عنه مضافا إليه ما صح عن غيره من الصحابة رضى الله عنهم ۔

البتہ فرق یہ ہوگا کہ شیخ البانی نے موضوع سے متعلق قولی فعلی، تقریری تمام احادیث کو اکٹھا کیا ہے جب کہ ڈاکٹر صاحب کا اصل مقصد کلام اللہ کی طرح صرف کلام رسول اللہ ﷺ کو اکٹھا کرنا تھا، جسے ابواب کی ترتیب پر ایک ایک جملے کی شکل میں لکھتے چلے جاتے۔

الجامع الكامل كا علمی مقام اور دیگر مشروعات سے موازنہ :

کسی بھی علمی کام کی اہمیت اور حیثیت محض اس کی ندرت میں نہیں بلکہ اس کی علمی قیمت اور فنی اعتبار سے اس کی درجہ بندی میں مضمر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے اس عظیم علمی کارنامے سے متعلق تنقید یا پذیرائی کے باب میں ابھی اہل فن کی طرف سے کوئی خاص حرکت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ جب یہ سب ہو گا تب اس کی علمی وفنی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ البتہ ذاتی طور پر کوئی بھی فن کا تخصص شیخ سے مفصل کام کا جائزہ لینے کے بعد شخصی طور پر ایک رائے آسانی سے قائم کرسکتا ہے۔ اس جائزہ کا ایک طریقہ اور بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ اسی طرز پر یا اس سے ملتے جلتے انداز پر انجام پائے علمی کاموں سے ڈاکٹر صاحب کے علمی کارنامے کا موازنہ کیا جائے۔

عصر حاضر میں حدیث کے انسائیکلو پیڈیا کے طرز پر کئی ایک کام ہوئے ہیں جن میں تمام کتب حدیث سے احادیث کو اکٹھا کیا گیا، یا کیا جارہا ہے۔ انہی میں سے ایک اہم کام ’المدونة الجامعة للأحاديث المروية عن النبي الكريم ﷺ‘ہے، جو دارالعلوم کراچی پاکستان میں مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی زیر نگرانی جاری ہے۔ پچھلے تقریباً 18 سال سے اس پر 15 علماء کرام کام کر رہے ہیں اور اب تک چار جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ تاہم اس میں اور ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب کے کام میں بنیادی فرق ہے۔ ’المدونۃ کی دو خصوصیات ہیں:

ایک تو یہ کہ سوائے ان بعض احادیث کے جنہیں بالاتفاق تمام اہلِ علم نے موضوع قرار دیا ہو، تمام احادیث شامل کی جارہی ہیں ، جن میں ضعیف اور شدید ضعیف حتی کہ وہ احادیث بھی جن کو صرف چند اہل علم نے موضوع قرار دیا ہے، شامل کی جارہی ہیں۔

اور دوسری خصوصیت یہ ہے کہ ان احادیث کو ایک بین الا قوامی نمبر دیا جا رہا ہے، اس طرح کہ جب وہ نمبر بتایا جائے تو وہی حدیث سب کے پاس مراد ہو۔ اس طرح طبعات اور کتابوں کے فرق کے باوجود احادیث کی تلاش آسان ہو جائے گی، اور خاص طور پر حوالہ دینے میں مفید ثابت ہوگی۔ ان کے مقابلے ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب کا کام تحقیقی نوعیت کا ہے، جس میں بنیادہی صحیح اور ضعیف کا فرق ہے، اور پھر صحیح احادیث کو یکجا کرنا ہے۔ گویا المدونة تمام احادیث کا انسائیکلو پیڈیا ہے، تو الجامع الکامل صحیح احادیث کا انسائیکلو پیڈیا۔

قارئین کے سامنے مکرر اس کا تذکرہ ہو چکا ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب کے حصے میں تمام صحیح احادیث کو یکجا کرنے کے باب میں سبقت کی سعادت آئی ہے، تاہم یہ بات بھی جان لیں کے اب اس میدان میں ڈاکٹر صاحب آخری نہیں ہیں بلکہ ڈاکٹر صاحب کی حسین حیات ہی اسی قسم کے ایک پروجیکٹ پر کام شروع ہو چکا تھا، جس کو سن کر ڈاکٹر صاحب خوشی کا اظہار کرتے تھے بلکہ اس نئے پروجیکٹ کے ذمے داروں نے الجامع الکامل کو بھی اپنے پروجیکٹ کے مراجع میں شامل رکھا۔ یہ عظیم پروجیکٹ سعودی عرب کے موجودہ فرماں روا ملک سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی ایماء پر مدینہ طیبہ ہی میں قائم کیے گئے مجمع الملک سلمان لطباعة الحديث الشريف يا مجمع الملك سلمان للحديث النبوي الشريف میں جاری ہے۔ تقریبا ایک سال سے مختلف اوقات میں فن حدیث کے کم وبیش سو ماہرین نے اس پروجیکٹ پر کام کیا ہے اور یہ پروجیکٹ بھی آخری مراحل میں ہے۔ اس پروجیکٹ پر کام کرنے والے بعض حضرات کی اطلاع کے مطابق اب تک کے اندازے کے مطابق صحیح احادیث کی مجموعی تعداد تقریباً ساڑھے بارہ ہزار ہے۔ یہ منظر عام پر آئے تو پھرڈاکٹر صاحب کے اور اس پروجیکٹ کے درمیان موازنہ ایک دل چسپ کام ہوگا۔

بالکل اسی طرح شیخ البانی رحمہ اللہ کے وسیع و عریض کام بالخصوص: سلسلة الأحاديث الصحيحة اور سلسلة الأحادیث الضعیفۃ کے اور ڈاکٹر صاحب کی الجامع الکامل کے درمیان موازنہ بھی ایک اہم کام ہے۔ جلد یا بدیر فن ِحدیث سے دل چھی رکھنے والے اہل علم کی طرف سے یقیناً اس سلسلے میں پیش رفت ہوگی، جس سے ایک طرف صحیح احادیث کے سلسلے میں اور زیادہ قابل اعتماد کام ہمارے سامنے ہوگا اور دوسری طرف ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی صاحب کے اس عظیم کارنامہ کا علمی وزن اور اس کی حیثیت متعین کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

الجامع الکامل کی روایت :

بات کو ختم کرنے سے قبل ایک عظیم نعمت کا تذکرہ ضروری ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ مختلف کتب حدیث کی روایت کے سلسلے میں پوری دنیا کے مختلف علاقوں میں تقریبا چھے سولوگوں کو آپ نے اجازہ (سند) دیا ہے۔ ان میں سے ایک خوش نصیب راقم بھی ہے۔ البتہ الجامع الکامل کی روایت کا حق معدودے چند افراد کو ہی دے پائے تھے کہ زندگی کا سفر

مختصر ثابت ہوا۔ میری یہ خوش نصیبی ہے کہ ان معدودے چند افراد میں ایک نام میرا بھی ہے۔

اس کی تفصیل یوں ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی حسین حیات ہی تخیص الجامع الکامل کا کام اختتام کو پہنچ چکا تھا۔ دسمبر 2019 ء کے پہلے ہفتے میں جب میں شیخ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا اور پروجیکٹ سے متعلق مفصل گفتگو ہوئی تو ڈاکٹر صاحب نے یہ کہتے ہوئے کہ

’’چونکہ تم نے اس پروجیکٹ پر کام کیا ہے، لہٰذا تم الجامع الکامل کے راوی بن جاؤ۔ پوری الجامع الکامل کے روایت کرنے کی زبانی اجازت مرحمت فرمائی تحریری سند دی اور ساتھ ہی ایک پین ڈرائیو (pen drive) میں الگ سے الجامع الکامل کا معتمد نسخہ بھی عنایت فرمایا۔ اس طرح شیخ مجھے اپنی تحقیق کے مطابق جتنی بھی احادیث صحیح قرار پائی ہیں ، ان تمام صحیح احادیث کی روایت خود سے لے کر نبی تک کرنے کی سعادت سے مالا مال کر گئے۔ جزاه الله عني وعن المسلمين جميعا خيرا (جاری ہے)

ڈڈلی میں ڈاکٹر حضرات کی جانب سے سالانہ اجتماعی افطاری

عموماً ڈاکٹر حضرات اور بڑے عہدیدار دین سے کچھ دور اور دنیا میں مگن رہتے ہیں، مگر ڈڈلی میں رسل ہال ہاسپٹل کے ڈاکٹر حضرات دین سے اور مساجد سے وابستہ ہیں، انہوں نے گزشتہ کئی برسوں سے ماہ رمضان المبارک میں جامع مسجد ڈڈلی اور کمیونٹی سنٹر کے لوگوں کے لیے اجتماعی افطاری کا اہتمام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس مسجد میں افطاری کرنے والے تقریباً چار پانچ سو خواتین و حضرات، ڈاکٹر حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ تقریباً 30 سال قبل جب اس کا آغاز کیا گیا تھا، تو ہر چیز ازراں تھی، مگر آج کل گرانی آسمان پر پہنچ گئی ہے مگر ہمارے ڈاکٹر حضرات نے اس میں کمی نہیں کی ہے، بلکہ مزید پرتکلف دعوت کرتے ہیں۔ حدیث میں افطار کرنے والوں کے حق میں ایک خاص دعا آئی ہے:

أفطر عندكم الصائمون و أكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة

’’آپ کے پاس روزہ داروں نے افطار کیا اور آپ کے کھانے کو نیک لوگوں نے تناول کیا اور فرشتوں نے تم پر رحمت وبرکت کی دعا کی ہے۔‘‘

ہم نے بھی یہی دعا ڈاکٹر حضرات کے لیے کی ہے اور کہا کہ اللہ کریم آپ کی ہیلتھ اور ویلتھ میں ترقی عطا فرمائے اور آپ کے دین اور دنیا میں برکت دے اور آپ کے بزرگوں کو بخش دے اور آپ کی نسلوں میں خالص توحید وسنت کو جاگزیں فرما دے۔

جن ڈاکٹر حضرات نے اس کار خیر میں حصہ لیا، چند اسمائے گرامی یہ ہیں:

ڈاکٹر قطب الدین قادری، ڈاکٹر سہیل بٹ، ڈاکٹر مشتاق احمد، ڈاکٹر شہزاد شفقت، ڈاکٹر ارشد خان،ڈاکٹر طارق محمود، ڈاکٹر اظہر منیر وغیرہم

ڈاکٹر ثاقب نے کہا کہ اس مسجد کی تعمیر میں ان ڈاکٹر حضرات کا بھی حصہ ہے، اللہ کریم اسے ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین

مسجد کی کمیٹی اور معززین نے بھی تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا۔

اسی طرح جناب عمران خلیل نے ڈڈلی مسجد میں اجتماعی افطار کا اہتمام کیا اور مولانا حبیب اللہ اثری کے فرزند ڈاکٹر نبیل اپنے چار دوستوں کے ہمراہ ڈڈلی میں اجتماعی افطار کا اہتمام کیا، اسی طرح حاجی ظفر اقبال جنجوعہ اور راجا ندیم قیصر نے بھی یہاں اجتماعی افطار کا اہتمام کیا۔ اللہ کریم ان تمام معاونین و منتظمین کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے دین اور دنیا میں برکت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

تبصرہ کریں