حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بنی اسرائیل کی زیادتیاں(قسط 3)۔ مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

اس سلسلہ میں سورہ طہٰ کی آیات 86 تا 98 پر غور کیا جائے تو ہمیں مزید معلوم ہوگا کہ بنی اسرائیل ایک ایسی قوم گذری ہے جو اپنے رسول کی ہر وقت نافرمانیاں کیا کرتی رہیں اور آپ کے معاون حضرت ہارون کو بھی مشرکانہ عمل ”گاو سالہ پرستی“ (Cow Worship) سے روکنے کی پاداش میں سختی سے پیش آئی۔لاکھ سمجھانے سے بھی نہ رکی اور شرک کی گندگی میں مبتلا ہوگئی، جس کے لئےاپنے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے حضرت ہارون علیہ السلام کو جوابدہی کرنی پڑی تھی! کیونکہ، حضرت موسیٰؑ نے جب کوہ طور پر (اللہ تعالیٰ کے احکامات، حق و باطل میں فرق کرکے دکھلانے والی تحریریں ،) اپنے رب کی بندگی کے طور طریقہ لانے کے لئے 30 دن اور مزید 10 دن‘ چالیس دنوں کے لئے تشریف لے گئے تھے تب انہوں نے اپنے بھائی ہارونؑ کو اپنا جانشین بنایا۔ لیکن واپس آنے پر اپنی قوم کو دیکھا کہ انہوں نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غصہ کے عالم میں اپنے جانشین بھائی کا سر پکڑکر اپنی طرف گھسیٹنے لگے اور ( نرمی کے پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوے اے میرے ”ماجائے“ Brother born of the same mothar کہ کر) باز پرس کرنے لگے۔ اس طرح یہ قوم ”بنی اسرائیل“ ہمیشہ اپنے انبیاء کو دکھ دیتی رہی اور انکی اخلاقی پستی کا یہ عالم تھا کہ اپنے محسن ونجات دہندہ رہنما و رہبر کی عجیب قسم کی توہین کر نے کی مرتکب ہوئی۔ قارئین کرام مضمون ہذا کےاصل عنوان کا آغاز جس آیت کریمہ سے ہوا وہ سورۃ احزاب کی آیت 69 ہے جو قسط اول کے ابتداء میں ہی درج کی جاچکی ہے جس کی یہاں صرف ترجمانی بطور یاددہانی پیش کی جاتی ہے۔فرمایا:
’’اے ایمان والو! نہ بن جانا اُن (بدبختوں) کی طرح جنہوں نے موسیٰ کو ستایا۔ پس بری کردیا انہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے جو انہوں نے کہا، اور آپ اللہ کے نزدیک بڑے شان والے تھے۔‘‘ (ترجمہ از کرم شاہؒ آیت 69)
چنانچہ؛ترجمانِ حق کامذاق اڑانا‘ استہزا کرنا‘ داعی حق کی ہجو کرنا ‘ معاشرے میں بدنام کرنا‘ عیب نکالناوغیرہ یہ سب ابلیس لعین کی ذریت کے مشاغل رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اپنے حبیب و خیرخواہ کو دشمن سمجھنا اور اس کی باتوں پر دھیان نہ دینا یہ سب چیزیں بدنصیبوں اور بدبختوں کی صفات ہیں۔
آیت مذکور69 (الاحزاب) کی تفسیر کے تحت ایک حدیث یوں آئی ہے۔
حضرت موسیٰ نہایت باحیا تھے، چنانچہ اپنا جسم انہوں نے کبھی لوگوں کے سامنے ننگا نہیں کیا۔ بنواسرائیل کہنے لگے کہ شاید موسیٰؑ کے جسم میں برص کے داغ یا کوئی اس قسم کی آفت ہے جس کی وجہ سے یہ ہر وقت لباس میں ڈھکا چھپا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰؑ تنہائی میں غسل کرنے لگے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے۔پتھر (اللہ کے حکم سے ) کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت موسیٰ اس کے پیچھے پیچھے دوڑے‘ حتیٰ کہ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں پہنچ گئے۔انھوں نے حضرت موسیٰ کو ننگا دیکھا تو ان کے سارے شبہات (جو بدبختوں کی طرف سے معاشرے میں پیدا کردیئے گئے تھے۔ (مرتب ، دور ہوگئے۔)
سیدنا موسیٰ نہایت حسین و جمیل اور ہر قسم کے داغ اور عیب سے پاک تھے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر پتھر کے ذریعے سے ان کے اس الزام اور شبہے سے برأت کردی جو بنی اسرائیل کی طرف سے ان پر کیاجاتا تھا۔
(صحیح بخاری، کتاب الانبیاء بحوالہ القرآن الکریم وترجمہ معانیہ و تفسیر: ص1194 تا 1195 از مولانا حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ)
اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لفنگے و اوباش لوگوں کے غلط پروپگنڈے کا رد فرما دیاجو حضرت موسیٰؑ کے دل کو دکھانے کا باعث بنا ہوا تھا۔
جو لوگ اس طرح حضرت موسیٰ کو ستایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی، ہر عیب سے نفی فرمادی اور آپ کی شان میں مزید یہ فرمایا کہ
﴿وکان عند اللہ وجیھاً﴾ اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے، یعنی یہ لوگ آپ کی قدر منزلت نہیں جانتے لیکن اللہ تبارک تعالیٰ کے نزدیک آپ کی شان بلندہے۔! یعنی صاحب منزلت اور مستجاب الدعوات
مولانا مفتی شفیع صاحب علیہ الرحمہ نے ابن کثیرؒ کے حوالہ سے اس سلسلہ میں یوں تحریر فرمایا ہے؛ یعنی ”تھے موسیٰ اللہ کےنزدیک صاحبِ وجاہت۔‘‘
اللہ کے نزدیک کسی کی وجاہت اور جاہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرمائیں اس کی خواہش کو رد نہ کریں۔
چنانچہ حضرت موسیٰ کا مستجاب الدعوات ہونا قرآن میں ان واقعات کثیرہ سے ثابت ہے جن میں انہوں نے کسی چیز کی دعا مانگی اللہ تعالیٰ نے اسی طرح قبول فرمایا، ان میں سب سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ ہارون کو پیغمبر بنانے کی دعاء کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرماکر ان کو موسیٰؑ کے ساتھ شریک رسالت بنادیا۔ حالانکہ منصب نبوت کسی کو کسی سفارش پر نہیں دیا جاتا۔ ( حوالہ معارف القرآن: 7؍ 240، سورۃ الاحزاب)
یہ تھی مختصر سی داستان جو بنی اسرائیل نے اپنے انبیاء کو دکھ دیا ، تکلیف پہنچائی اور اذیتیں دیا کرتے تھے۔ اب ایمان والوں کو حضرت موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل کا حوالہ دے کر بتایا جارہا ہے کہ تم ہر گز ان کی روش اختیار کرکے اپنے کو اللہ کے غضب کا مستحق نہ بنالو ورنہ نجات کے سارے باب تم پر بند ہوجائیں گے۔
مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ نے ’’یایھا الذین آمنوا‘‘ کے سلسلہ میں یوں رقم طراز ہوئے ’’یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ قرآن مجید میں اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ کے الفاظ سے کہیں تو سچے اہل ایمان کو خطاب کیا گیا ہے، اور کہیں مسلمانوں کی جماعت بحیثیت مجموعی مخاطب ہے جس میں مومن اور منافق اور ضعیف الایمان سب شامل ہیں، اور کہیں رُوے سخن خالص منافقین ہی کی طرف ہے۔ منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں کو الذین آمنوا کہہ کر جب مخاطب کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود ان کو شرم دلانا ہوتا ہے کہ تم لوگ دعویٰ تو ایمان لانے کا کرتے ہو اور حرکتیں تمہاری یہ کچھ ہیں۔ سیاق و سباق پر غور کرنے سے ہر جگہ باآسانی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس جگہ الذین آمنوا سے مراد کون لوگ ہیں۔ یہاں سلسلہ کلام صاف بتارہا ہے کہ مخاطب عام مسلمان ہیں۔ (تفہیم القرآن:4؍ 134)
نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی بابرکت بالعموم سارے انسانوں کیلئے محسن کی حیثیت رکھتی ہے اور بالخصوص اہل ایمان کیلئے تو رؤف اور رحیم ہے، لہٰذا اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ بنی اسرائیل کی محسن کُشی کا رویہ ہرگز نہ اپنائیں۔
سید مودودیؒ نے اس ضمن میں ایک حدیث نقل فرمائی ہے۔ یہ بات متعدد مواقع پر خود نبی ﷺ نے بھی ارشاد فرمائی ہے۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ نبی ﷺ مسلمانوں میں کچھ مال تقسیم کررہے تھے۔ اس مجلس سے جب لوگ باہر نکلے تو ایک شخص نے کہا ’’محمد نے اس تقسیم میں خدا اور آخرت کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھا۔‘‘
یہ بات حضرت عبداللہ بن مسعود نے سن لی اور جاکر حضورﷺ سے عرض کیا کہ آج آپﷺ پر یہ باتیں بنائی گئی ہیں۔ آپ نے جواب فرمایا:
«يَرْحَمُ اللهُ مُوسَى، قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ»
’’اللہ کی رحمت ہو موسیٰؑ پر انہیں اس سے زیادہ اذیتیں دی گئیں اور انہوں نے صبر کیا۔‘‘ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، تفہیم القرآن)
حاصل کلام اور لمحہ فکر
آج ہم بحیثیت مسلمان نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہوئے کتنا کچھ آپؐ کے فرامین کی توہین کرتے ہیں اس پر ہمیں خوب غورفکر کرنے کی ضرورت ہے، اور اس بات پر بھی سنجیدہ طور پر جائزہ لینا ہوگا کہ آج ہمارے اکثر بھائی (الا ماشا ءاللہ) کتاب وسنت کی خالص تعلیمات اور روش صحابہؓ کی جگہ کس طرح اپنی من پسند ”شخصیات“ کی باتوں اور غیر مسنون چیزوں (بدعات) کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی ضِد پر اڑے رہتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت شرط ایمان ہے، اس کے لئے ہمیں اپنی شب و روز کی زندگی میں عملی ثبوت فراہم کرنے ہیں، جس کے بغیر آپؐ سے محبت کے دعوے صرف دعوے ہی ہوں گے، ہمارا ایمان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ ﷺ سے ایسی محبت ہو جو دنیا کی ہر چیز سے بالا تر ہو یہاں تک کہ اپنی جان سے بھی زیادہ ہو، کیونکہ جب تک آدمی کامل مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اس کی ہر عزیز تر چیز نبی مکرم ہادی عالمؐ پر نچھاور نہ کردے۔ حُبِ نبویﷺ دین کی بنیاد ہے۔ سورۃ توبہ آیت 24 میں پوری وضاحت کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ سے اور رسول ﷺ اور دین اسلام سے والہانہ محبت ایک بندے مومن کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔والدین، مال ودولت ، بیوی بچے اور اپنے خاندان و قبیلے، ان سب کی محبت انسانی فطرت میں اللہ نے رکھی ہے، لیکن آیت بالا مذکورہ میں ان چیزوں کی نفی نہیں کی گئی بلکہ تقاضا اس بات کا کیا جارہا ہے کہ ان سب چیزوں کی انسیت و محبت سے زیادہ اللہ عز وجل اور اس کے رسول ﷺ اور دین اسلام سے محبت ہونی چاہیے، اگر اس طرح کی محبت ہماری زندگی میں نہ ہو تو پھر خواہ، ہمارا نام مسلمان کی حیثیت سے سرکاری رجسٹر میں درج رہے لیکن، ہم اللہ کی ناراضگی اور اس کی سخت وعید کے مستحق بن جاتے ہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات و فرامین سے روگردانی کرتے ہیں اور آپؐ کے اُسوہ حسنہ کو پس پشت ڈال دیتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ کو اور اس کے رسول کو اپنا محبوب نہیں رکھتے۔ ان لوگوں کے متعلق بتایا گیا کہ یہ فسق و گناہ میں مبتلا اور راہ حق سے ہٹے ہوئے اور ہدایت الٰہی سے محروم ہیں۔ نبی کریم ﷺ سے اہل ایمان کی محبت کس درجہ اہم ہے، احادیث میں بتا دیا گیا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےارشاد فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین اور اس کی اولاد سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘ (صحیح بخاری)
سیدنا انس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے اہل وعیال، اس کے مال اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔‘‘ (صحیح بخاری)
اسی طرح ایک اور روایت ہمارے سامنے آتی ہے: سیدنا عبداللہ بن ہشام اس طرح نقل کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے اور آپﷺ سیدنا عمر بن الخطابﷺ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ! یقیناً آپﷺ مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میرے نفس کے جس پر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’نہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے یہاں تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہارے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہوجاؤں۔‘‘ یعنی اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔‘‘
زبان رسالت مآبﷺ سے یہ بات سننی تھی کہ سیدنا عمر نے عرض کیا: ’’ہاں! اللہ کی قسم ‘ اب آپ مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا:’’ہاں اب اے عمر‘‘ یعنی اب تمہارا ایمان مکمل ہوا۔ (صحیح بخاری)
سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے کسی نے دریافت فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ لوگوں کی محبت کیسی ہوتی تھی؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’اللہ کی قسم! رسول اللہ ہمیں مال و اولاد اور ہمارے ماں باپ سے زیادہ محبوب تھے اور اس سے زیادہ محبوب تھے جتنا کہ شدید پیاس کے وقت ٹھنڈا پانی ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمیں دو ’’عاشق صادق‘‘ کے واقعات بھی کتب اسلامی میں ملتے ہیں۔
حضرت خبیب بن عدیؓ دھوکے سے مشرکین مکہ کے نرغے میں آگئے اور آپ کے ساتھ حضرت زید بن دثنہؓ بھی گرفتار ہوکر مکہ لائے گئے، ان دونوں صحابہؓ کو مشرکین مکہ میں سے ان لوگوں نے خریدا تھا جن کے باپ جنگ بدر میں واصل جہنم ہوئے تھے۔ ان کے خریدنے کا مقصد یہ تھا کہ اپنے باپ کے خون کا بدلہ ان صادقین سے لیا جائے۔ چنانچہ حضرت خبیب کو عقبہ بن حارث نے خریدا تاکہ اپنے باپ حارث بن عامر بن نوفل کے قتل کا بدلہ لے سکے، اور دثنہ بن زید کو صفوان بن امیہ نے خریدا تاکہ اپنے باپ امیہ بن خلف کا بدلہ لے سکے۔ پہلے تو ان قیدیوں کو بھوکا پیاسہ رکھا گیا اور ہر طرح سے ان کا عرصہ حیات تنگ کیا، لیکن ان کے ایمان کی مضبوطی سے اللہ کی رحمت کو جوش آیا اور انہیں اپنے خزانہ غیب سے تازہ پھل کھانے کے لئے عطا فرماتا رہا۔ اور جب سولی پر چڑھانے کا وقت آیا تو حضرت خبیب بن عدی کو اس مقام پر جہاں اب مسجد تنعیم واقع ہے کی جانب شمال چند سو قدم پر لے جایا گیا جہاں پر پھانسی کا پھندہ لٹکایا گیا تھا۔ ایک بڑا مجمع اس وقت جمع ہوگیا، سولی پرچڑھنے سے قبل حضرت خبیب نے دو رکعت نماز نفل ادا فرمائی پھر اس کے بعد چاروں طرف ایک نظر ڈالی اور ظالموں کے اس منظر کو دیکھ کر دعا فرمائی کہ اے میرے رب یہاں کوئی ایسا نہیں جو کہ میرا سلام تیرے حبیبﷺ تک اور صحابہ تک پہنچادے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ تک آپ کے سلام کو پہنچادیا اور نبیﷺ نے صحابہ کرام کو اس واقعہ کی خبر پہنچادی۔ یہ تھے حضرت محمد ﷺ سے سچی محبت کرنے والے اپنی جان اللہ کے دین کیلئے قربان کرنے والے‘ لیکن اپنے نبی رحمت کے پاؤں میں ایک کانٹا چبھ جانا بھی منظور نہیں تھا انہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں ہم صادق الایمان اور محبانِ رسولﷺ کی حیثیت سے جانتے ہیں۔
الغرض ہم سورہ الاحزاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ خلفاء راشدین اور صحابہ کرامؓ نے دین کی خاطر کتنی کچھ قربانیاں پیش کی ہیں اور ضعیف الایمان مسلمانوں اور منافقین کی طرف سے کیا کچھ اذیتیں نبی مکرم ﷺ کو پہنچائی گئی ہیں اور یہود کی طرف سے دی جانی والی تکالیف کو آپﷺ نے کس طرح حکمت کے ساتھ برداشت کیا ہے۔۔۔
( اب ہمارے لیے اس میں نصیحت کیا ہے ؟)
چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کی بداعمالیوں کا ذکر کرتے ہوئے عام مسلمانوں کو یہ ہدایت کی جارہی ہے کہ تم ہمارے پیغمبر آخر الزماں ہادی عالم، رحمت عالم ﷺ کو حضرت موسیٰ کی قوم بنی اسرائیل کی طرح ایذا مت پہنچاؤ اور آپ ﷺ کے بابت ایسی باتیں مت بناؤ جسے سن کر آپ کو اضطراب محسوس ہو۔ خبردار! ورنہ اسی انجام سے دو چار ہوگے جس انجام سے بنی اسرائیل دوچار ہوچکے۔ (ختم شد)
٭٭٭
عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’نیک عورت مرد کے لیے ایسی ہے ، جیسے بادشاہ کے سر پر سونے سے سجا ہوا خوبصورت تاج ہو۔‘‘
(مصنف ابن أبی شیبہ: 3؍559؛رقم: 17143)

تبصرہ کریں