عمدۃ الأحکام؛ نماز (فرض) کے بعد مسنون اذکار سے متعلق(قسط56) فضل الرحمٰن حقانی

حدیث نمبر : 133

عَنْ عبداللَّه بن عمر رضي الله عَنْهما قال : «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ، وَهُوَ قَائِمٌ، يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجُلُوسٍ».

(رواه البخاري، كتاب الجمعة، باب الخطبة قائماً، برقم 920، بلفظ:

«كَانَ النَّبِيُّ ﷺيَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ، ثُمَّ يَقُومُ كَمَا تَفْعَلُونَ الآنَ»،

ولفظ مسلم نحوه. وباب القعدة بين الخطبتين يوم الجمعة، برقم 928، ومسلم، كتاب الجمعة، باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيهما من الجلسة، برقم 861، ولمسلم لفظ:

«كَانَتْ لِلنَّبِيِّ ﷺ خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ»خطبتان يجلس بينهما يقرأ القرآن، ويذكر الناس»،وفي لفظ لمسلم، برقم 35- (861):«كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ»، وأما اللفظ الذي ذكره المصنف: ، فهو عند النسائي، برقم 1416(

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ :

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر دو خطبے دیا کرتے تھے اور ان دونوں کے درمیان بیٹھ کر فاصلہ کرتے تھے۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – يَخْطُبُ: خطبہ دیتا ہے۔

2-وَهُوَ قَائِمُ: اس حال میں کہ آپ کھڑے ہوتے۔

3-يَفْصِلُ: فاصلہ کرتے ۔

4-جُلُوسٍ: بیٹھنا

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔جمعہ کے دو خطبے واجب ہیں اس پر اجماع ہیں اور دو خطبوں کے دوران تھوڑی دیر بیٹھنا سنت ہے ۔ بغیر دو خطبوں کے جمعہ کی نماز نہیں ہوگی اگر خطیب صاحب دوسرا خطبہ دینا بھول جائیں تو مقتدیوں کو چاہیے کہ خطیب صاحب کو یاد دلائیں ۔ اگر کسی خطیب نے بھول کر یا غلطی سے ایک خطبہ سے جمعہ پڑھایا تو وہ جمعہ ادا نہیں ہوگا بلکہ دوبارہ دو خطبوں کے ساتھ جمعہ پڑھانا ضروری ہے۔

2۔ خطبہ جمعہ کھڑے ہوکر دینا سنت ہے بیٹھ کر خطبہ جمعہ دینا درست نہیں ہے۔

3۔ خطبہ جمعہ میں نبی کریم ﷺ قرآن مجید پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے اور نصیحت تب ہی نصیحت ہوتی جب وہ لوگوں کی زبان میں ہو ۔ ہمارے احناف بھائی جو عربی زبان میں انتہائی مختصر خطبہ دیتے ہیں وہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔ اور نہ ہی نبی کریم ﷺ نے جمعہ کے دن تقریر الگ کی اور دو مختصر خطبے الگ دئیے۔

4۔ بعض جہلاء دو خطبوں کا سبب حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا پچپن میں دوران خطبہ نبی کریم ﷺ کے پاس آ جانا ہے جب کہ جمعہ کی فرضیت ہجرت کے پہلے سال ہوئی ہے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہجرت کے تیسرے سال ہوئی ہے۔

حدیث نمبر: 134

عَنْ أبي هريرة رضي الله عَنْه : أن النَّبيَّ ﷺ قال : «إذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ : أَنْصِتْ ــ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ ــ فَقَدْ لَغَوْتَ».

(رواه البخاري، كتاب الجمعة، باب الإنصات يوم الجمعة والإمام يخطب، برقم 934، ومسلم، كتاب الجمعة، باب في الإنصات يوم الجمعة في الخطبة، برقم 851، واللفظ له)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’جب تم نے جمعہ کے دن جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو اپنے ساتھی سے کہا خاموش ہو جاؤ تو گویا تم نے لغو یعنی فضول اور باطل کام کیا۔‘‘

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – اِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ: جب تو نے اپنے ساتھی سے کہا ۔

2-اَنْصِتْ: خاموش ہو جاؤ۔

3 – وَالْاِمَامُ يَخْطُبُ: اس حال میں کہ امام خطبہ دے رہا ہو ۔

4-فَقَدْ لَغَوْتَ: تو یقیناً تم نے لغو یعنی فضول / باطل کام کیا ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔ خطبہ جمعہ خاموشی اور توجہ سے سننا واجب ہے۔

2۔دوران خطبہ مقتدیوں کا کسی طرح کی گفتگو کرنا شرعاً ممنوع ہے۔ ایسا کرنے سے حدیث رسول ﷺ کے مطابق جمعہ کے خطبہ کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔ البتہ مقتدی امام سے اور امام مقتدی سے ضرورت کے بات کرسکتے ہیں ۔

4۔ بعض احناف بھائی یہ کہتے ہیں کہ جب معمولی بات بھی خطبہ جمعہ کے دوران نہیں کی جاسکتی ہے تو دو رکعت پڑھنے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ سے یہ اجازت ثابت ہے اور دوسرا جواب یہ ہے کہ انسانی گفتگو کو لغو اور باطل کہا جاسکتا ہے مگر نماز کو لغو ، فضول یا باطل نہیں کہا جاسکتا ہے ۔

4۔یہ حکم صرف خطبہ جمعہ کے لیے خاص ہے عام دروس ، خطبات وغیرہ میں یہ حکم نہیں ہے البتہ عام گفتگو کو بھی خاموشی اور توجہ کے ساتھ سننا اچھے اخلاق میں سے ہے۔

5۔خطبہ جمعہ کے دوران سلام کرنا اس کا جواب دینا چھینک کی دعا اور اس کا جواب دینا جائز ہے البتہ مصافحہ یا حال احوال پوچھنا ممنوع ہے۔

٭٭٭

تکمیل حفظ قرآن مجید

گزشتہ دنوں ’ماوی بنت عبد الفتاح‘ برمنگھم نے 13 سال کی عمر میں حفظ قرآن مکمل کر لیا، اسی مناسبت سے مبارکباد دینے کے لیے بہت سےاحباب و اقارب محمد عبد الفتاح کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے اسی مناسبت سے دو قطعات پیش کیے، حافظۂ قرآن کے دادا جان مولانا محمد عبد الہادی العمری نے نگرانی کی اور دعا کی۔

آخر میں تمام حاضرین کے لیے بہترین طعام سے ضیافت کی گئی۔ اللہ کریم حافظہ کو باعمل بنائے۔ آمین یارب العالمین

ماویٰ فتاح نے یوں حفظ قرآن کر لیا

نور سب رحمٰن کا سینے میں اپنے بھر لیا

عبد الہادی دادا، دادی اور ان کے والدین

نانا نانی نے ادا بھی شکر رب کا کر لیا

حافظۂ قرآن ماویٰ کی دادی جان ہیں

چاچا اور پھوپھا بھی ان کے حافظِ قرآن ہیں

ہیں مبارکباد کے قابل یہ حفاظ کرام

فضل سے اللہ کے ہے نیک یہ گھر بھر تمام

ماویٰ کے والدین انجینئر حافظ عمار عبد الہادی

مولانا عبد حافظ عبد الباسط العمری

٭٭٭

انتقال پُرملال

برمنگھم میں سمأ پرفیوم، کے قاری سید یعقوب علی کی ہمشیرہ حیدر آباد دکن بعمر 66 سال قضائے الٰہی سے وفات پا گئیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

مرحومہ نیک سیرت اور پابند صوم وصلوٰۃ تھیں، وفات کی رات بھی تہجد پڑھ کر نماز فجر ادا کی اور خاموشی سے راہ بقا اختیار کی۔ حیدر آباد میں ان کے ایک بھائی قاری سید اسحاق علی اور تمام بہنیں اور اقارب غمزدہ اور دعا گو ہیں کہ اللہ کریم مرحومہ کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں اور خطاؤں سے درگزر فرمائے۔ آمین

جانے والے کبھی نہیں آتے

جانے والوں کی یاد آتی ہے

٭٭٭

بندے اور توبہ کے درمیان رکاوٹ کا حائل ہونا

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ﴾

’’اور ان کے درمیان اور ان کی خواہشات کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا (رکاوٹ کھڑی کر دی گئی)۔‘‘ (سورہ سبا: 54)

بعض سلف صالحین (امت کے بزرگوں) نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ

ان کی سب سے بڑی خواہش اس وقت ’توبہ‘ تھی، لیکن موت کے آخری لمحات میں ان کے اور توبہ کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی گئی۔ یعنی اب توبہ کا وقت گزر چکا تھا۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“اتق الله يا ابن آدم ؛ لا يجتمع عليك خصلتان : سكرة الموت ، وحسرة الفوت”

’’اے ابنِ آدم! اللہ سے ڈر؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ تجھ پر دو حالتیں ایک ساتھ جمع ہو جائیں: موت کی سختی (سکرة الموت) اور موقع نکل جانے کی حسرت (حسرة الفوت)۔‘‘ ( تفسير ابن رجب : 456)

٭٭٭

ابراہیم الخواص رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’دل کی دوا پانچ چیزیں ہیں:

1۔قرآن کو غور و فکر کے ساتھ پڑھنا،

2۔پیٹ کو (کم کھانے کے ذریعے) خالی رکھنا،

3۔رات کو قیام کرنا،

4۔سحر کے وقت عاجزی کے ساتھ دعا کرنا،

5۔اور نیک لوگوں کی مجلس اختیار کرنا۔‘‘

(حلیۃ الاولیاء)

٭٭٭

تبصرہ کریں