
’’علماء ‘‘ اللہ کے دین کے جاننے والے، قرآن وسنت کا فہم و اداراک رکھنے والوں کو کہتے ہیں، جو اللہ اور اس کے نبی ﷺ کی دی گئی تعلیمات کا تحفظ کرتے ہیں اور نبی کی اُمت کو راہ راست پر چلاتے ہیں اور صراط مستقیم پر استقامت کی تلقین کرتے ہیں، دین کو شرک و بدعات و خرافات کی گندگی سے محفوظ رکھتے ہیں، نبی کے بعد قوم وملت کی قیادت کے یہی حقدار ہیں اور جب تک لوگ علماء کو اپنا رہنماور ہبر بنا کر چلتے رہیں گے ترقی و عروج پر رہیں گے جب وہ اپنے علماء کو چھوڑ دیں گے تو گمراہیوں کی لپیٹ میں آجائیں گے۔
علماء کی فضیلت
رسول اللہ ﷺنے علماء کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :«إنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الانبياء »
’’بیشک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں ۔‘‘ ( جامع ترمذی: 2682 ، صحیح ؛سنن ابوداؤد:3641)
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ
«العُلَمَاءُ خُلَفَاءُ الانبياء»
’’علماء انبیاء کے خلیفہ ہیں ۔‘‘ ( مجموع الزوائد : 1؍ 131؛ مسند بزار: 4145)
انبیاء دنیاوی ساز و سامان ، مال دولت کے وارث نہیں ہوتے بلکہ وہ علم کے وارث ہوتے ہیں اس حیثیت سے نبی ﷺ کی دی ہوئی تعلیمات کے حقیقی وارث علماء ہی ہیں، اس کا تحفظ کرنا اور اس کی نشر و اشاعت کی ذمہ داری انہی کے کند ھوں پر عائد ہوتی ہے اور جب علماء روٹی، کپڑا اور مکان کی دنیا میں الجھ جائیں گے تو دین کا تحفظ مشکل میں پڑ جائے گا، جیسا کہ ہم فی زمانہ اس بات کو محسوس کرتے ہیں، اسی لئے قوم وملت کو ایک قائدور ہبر فراہم نہیں ہو رہا ہے۔ جب کوئی بندہ علم دین سیکھنے کے لئے اپنا گھر بار اور خوش حالی و آسائش ترک کر کے مدارس اسلامیہ میں داخل ہوتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بھوک پیاس، افلاس و تنگدستی کے باعث مدرسہ چلا گیا بلکہ یہ ایک سچی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے دین کے تحفظ کے لئے منتخب کیا ہے اور یہ توفیق الٰہی ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی ، اسی لئے دین کے طالب علم کو حقیر سمجھنایا انہیں کمتر جاننا در اصل رسول اللہﷺ کے وارثین کو حقارت بھری نظروں سے دیکھنا ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے علماء کو بڑی فضیلت عطا فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ العُلَمَاءُ﴾
’’ یقیناً اللہ کے تمام بندوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے علماء ہی ہوتے ہیں۔‘‘ (سورہ فاطر : 28)
اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿كُونُوا رَبَّانِيِّينَ ﴾
’’ تم سب ربانی بن جاؤ۔ ‘‘ (سورہ آل عمران: 79) اہل علم نے اس سے مراد علماء وفقہا بتایا ہے۔
علماء کی اہمیت وفضیلت اس حدیث سے جانی جاسکتی ہے کہ جس میں ارشاد ہے:
« عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيل »
’’میری امت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہیں۔‘‘ (السلسلہ الصحیحہ :6.369)
اگر چہ کہ اس حدیث کے متعلق بہت سے محدثین نے لکھا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے اس کو امام ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے ” السلسلہ الصحیحہ اور السلسلۃ الضعیفہ دونوں میں ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کے ظاہری الفاظ سے خود علماء کو اپنا مقام و مرتبہ اور اپنی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ علماء کے فضائل میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں جن میں سے اکثر تو موضوع احادیث ہیں اور بعض ضعیف احادیث بھی ہیں اور چند احادیث صحیح درجے کی ہیں۔
ایک حدیث میں ہے جو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ
« العُلَمَاءُ مَصَابِيح الأرْضِ ، وَخُلَفَاءِ الأَنْبِيَاءِ ، وَوَرَثَتِي وَوَرَثَةُ الانْبِيَاءِ»
’’علماء زمین کے چراغ ہیں، اور انبیاء کے خلیفہ ہیں اور میرے اور دیگر انبیاء کے وارث ہیں۔‘‘ ( کشف الخفاء :84-2 صحیح)
علماء کی تعریف شعراء کی زبانی:
علماء کے علم اور ان کی قدر و منزلت کو شعرائے کرام نے بڑے ہی خوب انداز میں بیان کیا ہے ایک شاعر کہتا ہے:
عالم ہے کیا؟ یہ باب فصاحت میں دیکھئے
تقوی کو اس کے باب اطاعت میں دیکھئے
اس کا مقام باب اطاعت میں دیکھئے
ہل یستوی الذین کی آیت میں دیکھئے
قرآن کہہ رہا ہے ۔ سراسر کوئی نہیں
دنیا میں عالموں کے برابر کوئی نہیں
اسی طرح ایک اور شاعر علماء کی تعریف کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
عالم کی ذات عالم انسانیت کی جاں
عالم کی ذات جو ہر خلقت کی ترجماں
عالم کی ذات فہم و تفہم کا آسماں
عالم کی ذات حکمت معبود کانشان
حق ساز وحق شناس کو عالم کہا گیا
اسلام کی اساس کو عالم کہا گیا
علماء کی اقسام : علماء کی دو قسمیں ہیں: ایک علمائے حق اور دوسرے علمائے سو ہیں ہر زمانے میں علمائے حق اور علمائے سوء کا ٹکراؤ ہوتا رہا ہے، علمائے سُوء ہمیشہ معاشرے کے خوش حال لوگوں اور حکمرانوں کے ہمنوار ہے اور دین کے مسائل کو ان کے موافق بنا کر پیش کرتے رہے اور علمائے حق ہمیشہ حکمرانوں اور خوش حال لوگوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر دین کا آواز اور صدائے حق بلند کرتے رہے ہیں۔
ایک حدیث مبارکہ میں علمائے سُوء کی کیفیت یوں ذکر کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں بدترین قسم کے لوگ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: « العُلَمَاءُ إِذَا فَسَدُوْا » ’’فسادی علماء (لوگوں کی بدترین قسم میں سے ہیں)۔ ‘‘ (جامع بیان العلم : 1؍ 669)
فسادی علماء وہ ہیں جو ملت کے جذبات کا استحصال کرتے رہتے ہیں، ایسے مسائل کو عوام میں اچھال دیتے ہیں جس کی عوام کو حاجت وضرورت نہیں رہتی، بے موقع و بے محل کے فتوے جاری کرتے رہتے ہیں، بیک جنبش قلم کسی کو بھی مجروح کر بیٹھتے ہیں اور اپنی زبان لن ترانی سے ہر غلط کو صحیح ثابت کر دیتے ہیں تا کہ عوام میں ان کی ساکھ اور وقار برقراررہ سکے۔ ہر زمانے میں ایسے علماء رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں جنہیں اپنے علم پر بڑا تکبر وغرور ہوتا ہے جو اپنے سے برتر کسی کو نہیں سمجھتے جس کی چاہے پگڑی اچھالتے رہتے ہیں ایک اور حدیث میں ایسے ہی شریر علماء کی نشاندہی اس طرح کروائی گئی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ« شِرَارُ العُلَماءِ الَّذِيْنَ يَأْتُوْنَ الْأُمَرَاءَ »
’’شرير قسم کے علماء وہ ہیں جو حکمرانوں اور خوشحال لوگوں کی خوشنودی حاصل کرتے رہتے ہیں۔‘‘ (الاجوبة المرضیہ: 2؍ 884)
علماء كا وقار و دبدبہ : علماء کا مقام ہر زمانے میں بالا تر رہا ہے، حق گو علماء نے بڑے بڑے بادشاہوں کو من مانی سے روکا اور ان کی بہترین رہنمائی کی ہے جس کی چند مثالیں یہاں دی جاتی ہیں:
1۔ پہلی مثال : اموی بادشاہ ہشام ایک دفعہ حج کے لئے آیا اور حرم شریف میں تشریف فرما ہوا اور حکم دیا کہ کسی تابعی کو ڈھونڈ لاؤ، حضرت طاوس بن کیسان رحمہ اللہ کو اس کے سامنے پیش کیا گیا ، وہ بادشاہ کے تخت کے ایک کنارے جوتے چھوڑ دئے ، اور بالر است بادشاہ کو اس کے نام سے مخاطب کیا ، اور اس کے حق میں امیر المؤمنین کا لقب استعمال نہ کیا ، یہ حرکت دیکھ کر ہشام کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو گئیں لیکن اس نے بیت اللہ کی حرمت کے پیش نظر غصے کو ضبط کر لیا، لیکن خاموش نہ رہ سکا ، دھیمے الفاظ میں پوچھ لیا کہ اے طاؤس ! تم نے اس طرح کی بے ادبی کیوں کی ؟ طاؤس نے کہا کہ میں نے کیا کیا؟ اس نے کہا: تم نے میرے تخت کے ایک کنارے جوتے کیوں اتار دئیے ؟ یہ شاہی دربار کے خلاف آداب ہے، حضرت طاؤس بن کیسان رحمہ اللہ نے بڑے ہی دھیمے انداز میں کہا کہ ” میری بات غور سے سنو! میں روزانہ پانچ وقت اللہ کے دربار میں جوتے اتارتا ہوں اس نے آج تک مجھے نہیں ڈانٹا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ ‘‘ پھر کہا کہ میں نے تمہیں امیر المؤمنین کے لقب سے اسی لئے مخاطب نہیں کیا کہ”تمہاری امارت و حکومت واقتدار پر تمام مسلمان متفق نہیں ہیں۔ ‘‘
اب رہی بات تمہیں نام سے اسی لئے پکارا اور تمہاری کنیت سے بھی نہیں پکارا۔ سنو! اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ترین انبیاء کو نام لے کر پکارا ہے، یا نوح، یا داؤد، یا یحییٰ، یا موسیٰ، یاعیسیٰ اور اپنے دشمنوں کو کنیت سے پکارا ہے جیسا کہ ﴿تَبَّتْ يَدَى أَبِي لَهَبٍ وتَبَّ﴾ سے ظاہر ہے ۔ رہی بات میں آپ کی اجازت کے بغیر ہی بیٹھ گیا اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ میں نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’اگر کسی جہنمی کو دیکھنا چاہیں تو اس شخص کو دیکھ لیں جو خود بیٹھا ہو اور دوسرے لوگ دست بستہ اس کے گرد کھڑے ہوں۔‘‘ مجھے ناگوارگزرا کہ آپ وہ شخص ہوں جسے اہل جہنم میں شمار کیا جائے۔ ‘‘ ہشام یہ سن کر شرمندگی سے اپنا سر جھکا لیا اور پھر اس نے سراٹھایا اور کہا: ’’آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ ‘‘ طاؤس بن کیسان نے فرمایا: ’’میں نے امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ جہنم میں لمبے اور موٹے ستونوں کی مانند خوفناک سانپ ہوں گے اور خچروں کی مانند بچھو، جو ہر اس حکمران کو ڈسیں گے جو اپنی رعایا میں انصاف نہیں کرتا، یہ کہہ کر آپ وہاں سے اٹھے اور چلے گئے۔‘‘ (حیات تابعین کے درخشاں پہلو : 347)
2۔ دوسری مثال: ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت طاوس بن کیسان خلیفہ سلیمان کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اے امیر المؤمنین ، جہنم کے گہرے گڑھے میں کنویں کی مینڈ پر ایک پتھر تھا، وہ اس میں گرا اور ستر سال میں کنویں کی تہہ میں پہنچا۔ اے امیر المؤمنین! کیا تم جانتے ہو جہنم کا یہ ہولناک کنواں اللہ تعالیٰ نے کس کے لئے تیار کر کھا ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے علم نہیں ۔ حضرت طاوس بن کیسان رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے یہ کنواں اس شخص کے لئے تیار کر رکھا ہے جسے اس نے مسلمانوں کا حکمران بنایا، لیکن اس نے اپنی رعایا پر ظلم و تشددکیا یہ سن کر خلیفہ سلیمان پر لرزہ طاری ہو گیا، اور طاؤس بن کیسان اسی حالت میں اسے چھوڑ کر واپس چلے۔ ‘‘ (حیات تابعین کے درخشاں پہلو : 343)
3۔ تیسری مثال : حضرت عمر بن عبد العزیز جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے حضرت طاؤس بن کیسان کی طرف پیغام بھیجا کہ ازراہِ کرم مجھے کوئی وصیت و نصیحت کیجئے ، انہوں نے صرف ایک سطر میں نصیحت لکھ کر بھیج دی کہ ’’اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے تمام کاموں میں خیر و برکت ہو تو کاروبار حکومت کی ذمہ داریاں نیک لوگوں کے سپرد کیجئے۔ ‘‘
جب عمر بن عبد العزیز نے یہ نصیحت پڑھی تو پکار اٹھے اور بار بار کہنے لگے کہ ’’اتنی ہی نصیحت کافی ہے، اتنی ہی نصیحت کافی ہے۔ ‘‘ (حیات تابعین کے درخشاں پہلو : 344)
4۔ چوتھی مثال : ایک وقت کی بات ہے کہ فقیہ مکہ، مفتی اعظم ، فقہائے حجاز کے سردار حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ جن کے علم پر صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ناز تھا، مشہور اموی بادشاہ ہشام بن عبدالملک کے دربار میں ملت اسلامیہ کی ضروریات اور ان کے احوال پیش کرنے کے لئے حاضر ہوئے ، اس وقت دربار میں اہم شخصیات جلوہ افر اوز تھیں لیکن جب ہشام کو پتہ چلا کے حضرت عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ حاضر ہوئے ہیں تو فوراً ٹھ کھڑے ہوا اور تعظیماً ان کا استقبال فرمایا اور اپنے تخت پر بازو ہی بٹھا لیا۔ اور ان سے مخاطب ہوکر کہا: بتلا ؤاے ابو محمد! کیسے آنا ہوا ؟ عطا بن ابی رباح نے فرمایا: ’’امیر المؤمنین! حرمین شریفین کے باشندے اللہ جل جلالہ کے مہمان ہیں اور رسول اللہﷺ کے پڑوسی ہیں، میری گزارش ہے کہ ان کے وظائف مقرر کر دیجئے۔ ‘‘ بادشاہ نے فوراً اپنے منشی کو حکم دیا کہ
” مکہ و مدینہ کے تمام باشندگان کو سال بھر کے وظائف مقرر کر دئیے جانے کا حکم صادر کر دیں۔ ‘‘
پھر ہشام بن عبد الملک نے پوچھا: ’’میرے لائق اور کوئی خدمت؟ ‘‘ عطاء بن ابی رباح نے فرمایا : ” اہل حجاز اور اہل عرب اسلام کے سپوت ہیں، میری تجویز یہ ہے کہ ان کے صدقات کا وافر حصہ انہیں پر خرچ کر دیا جائے ۔‘‘
یہ سنتے ہی بادشاہ نے کا تب کو اس کی تعمیل کا حکم دیا۔ پھر بادشاہ نے پوچھا کہ ”میرے لائق اور کوئی خدمت؟ ‘‘ عطاء بن ابی رباح نے فرمایا: ’’سرحدوں پر دفاعی خدمات انجام دینے والے مجاہدین ملک کی بڑی اہم خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، جب بھی کوئی دشمن ملک کی طرف بری نگاہ سے دیکھتا ہے تو یہ اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہو جاتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ انہیں بہت کم معاوضہ دیا جاتا ہے، اگر یہ بھوک کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تو یاد رکھنا ملک کی سرحدیں غیر محفوظ ہو جائیں گی۔ ‘‘
یہ سنتے ہی ہشام بن عبد الملک نے وہاں وافر مقدار میں راشن ، اناج اور مزید سہولیات بہم پہنچانے کا حکم صادر فرمایا۔ پھر پوچھا: اے ابو محمد ! میرے لائق اور کوئی خدمت ؟ عطاء بن ابی رباح نے فرمایا: ’’ہاں امیر المؤمنین ! ذمی لوگوں سے ان کی طاقت سے بڑھ کر ٹیکس وصول نہ کیا جائے۔‘‘
یہ سنتے ہی ہشام نے فوراً حکم صادر کر دیا کہ کسی بھی ذمی سے اس کی طاقت سے بڑھ کر ٹیکس وصول نہ کیا جائے۔‘‘ پھر پوچھا : اے ابو محمد ! میرے لائق اور کوئی خدمت؟ عطاء بن ابی رباح نے فرمایا: ”ہاں! اپنے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، یاد رکھو تمہیں اکیلا ہی پیدا کیا گیا ہے، تم اکیلے ہی مرو گے اور اکیلے ہی تمہیں قبر سے اٹھایا جائے گا، اللہ کی قسم! کوئی بھی ان درباریوں میں سے تمہارے ساتھ نہ ہوگا۔ یہ سن کر ہشام بن عبد الملک سر جھکائے زار و قطار رونے لگا، اسے روتا ہوا چھوڑ کر عطاء بن ابی رباح وہاں سے اٹھ کر چل پڑے، جب وہ محل کے دروازے پر پہنچے تو ایک آدمی خزانے سے بھری ہوئی تھیلی آپ کے سامنے یہ کہتے ہوئے پیش کیا کہ ’’ اسے قبول کیجئے۔‘‘ پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے کہا مجھے بھی اس کا علم نہیں لیکن بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں یہ پیش کر رہا ہوں فرمانے لگے، افسوس صد افسوس! میں نے یہ باتیں کوئی ذاتی فائدے اٹھانے کے لئے نہیں کی تھیں اور ساتھ ہی یہ آیت تلاوت کی کہ ﴿ وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ’’ اس پر میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ، میرا اجر تو پر وردگار عالم پر ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے تھیلی لینے سے انکار کر دیا اور محل کے باہر چلے گئے وہاں قطرہ پانی تک نہ پیا۔ (حیات تابعین کے درخشاں پہلو : 27)
’’اللہ اکبر و للہ الحمد ‘‘ یہ تھے وہ علمائے ربانی جو بادشاہوں کی تک نکیر کیا کرتے تھے ، ہر زمانے کے علماء کا یہی کردار ہونا چاہئے جس سے ملک وقوم ترقی کی سمت گامزن رہتے ہیں۔
علمائے حق کے خلاف سازشیں : علمائے حق کے خلاف علمائے سو اور عام حاسدین کا ایک ایسا گروہ ہمیشہ ہر زمانے میں قائم رہا جو ہمیشہ سازشیں رچتارہا اور حکام و امراء کے نزدیک ان کی چغلیاں کھا تا رہا تا کہ ان کی خوشنودی حاصل ہو جائے اور شکم پروری کا کچھ سامان مہیا ہو جائے اور حق گو علماء کے خلاف حکام و امراء تعزیرات نافذ کرتے رہیں جس کی کئی ایک مثالیں تاریخ میں بیان کی گئی ہیں، یہاں صرف ایک مثال بیان کرنا مناسب ہوگا۔
مشہور تابعی حضرت عامر بن عبد اللہ التمیمی رحمہ اللہ وادی نجد کے ایک معروف خاندان بنو تمیم کے چشم و چراغ تھے، بصرہ کے گورنر حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا کرتے تھے ، ایک ملازم پولیس نے ان پر الزامات عائد کئے اور ان الزامات سے امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تک پہنچا دئیے۔ الزامات یہ تھے:
1۔ مسلمانوں کی جماعت سے خروج کا الزام عائد کیا۔
2۔ دوسرا الزام یہ لگایا کہ انہوں نے نکاح نہ کر کے سنت سے روگردانی کی۔
3۔ تیسرا الزام یہ عائد کیا کہ یہ نہ دودھ پیتے ہیں اور نہ گوشت کھاتے ہیں اس طرح یہ حلال چیزوں کو حرام کر لئے ہیں۔
4۔ چوتھا الزام یہ عائد کیا کہ یہ حکمرانوں کی مجلسوں سے کتراتے ہیں۔
ان الزامات کو پڑھنے کے بعد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے گورنر کو تحقیقات کر کے حقیقت حال سے آگاہ کرنے کا حکم دیا، گورنر نے انہیں طلب کیا اور ان سے ان الزامات پر استفسار کیا تو حضرت عامر بن عبد اللہ رحمہ اللہ ہ نے ہر اعتراضات کا مدلل جواب دیا۔ گورنر نے سوال کیا کہ کیا آپ سنت سے اعراض کرتے ہوئے نکاح سے انکاری ہیں۔ اس الزام کے جواب میں انہوں نے جواب دیا: بات یہ نہیں ہے کہ میں سنت کا انکار کرتے ہوئے نکاح نہیں کر رہا ہوں بلکہ میں اس بات کا عقیدہ رکھتا ہوں کہ اسلام میں رہبانیت و ترک دنیا جائز نہیں ہے لیکن میرے پاس صرف ایک ہی دل ہے جو اللہ سے لولگایا ہوا ہے، مجھے یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ نکاح کرنے سے بیوی میرے دل پر غالب نہ آجائے۔‘‘
گورنر نے دوسرا سوال پوچھا کہ تم گوشت اور دودھ سے بنی اشیاء کیوں نہیں کھاتے پیتے ؟ انہوں نے جواباً عرض کیا کہ بات یہ نہیں ہے کہ میں گوشت نہیں کھاتا اور دودھ نہیں پیتا اور دودھ سے بنی اشیاء کا استعمال نہیں کرتا۔ سچائی یہ ہے کہ جب آسانی سے دستیاب ہو جاتا ہے تو کھالیتا ہوں، رہی دودھ سے بنی اشیاء پنیر وغیر تو معاملہ یہ ہے کہ میں نے جہاں سکونت اختیار کی ہے، اس کے اطراف واکناف میں آتش پرست ( مجوسی ) آباد ہیں ، اور وہ دودھ کی اشیاء پنیر وغیرہ بناتے ہیں ، یہ قوم مردار اور مذبوحہ جانوروں میں فرق نہیں کرتی، مجھے خدشہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں یہ لوگ مردہ جانوروں کی اشیاء کا استعمال کرتے ہوں گے۔ اگر کوئی مسلمان تصدیق کرے کہ تمام اجزاء حلال استعمال ہوتے ہیں تو میں بخوشی کھا لیتا ہوں۔
گورنر نے پوچھا کہ تم حکمرانوں کی مجلسوں سے کیوں کتراتے ہو اور ان کے ساتھ کیوں نہیں بیٹھتے ؟ انہوں نے فرمایا: ” تمہارے دروازے پر ضرورت مند آتے ہیں، انہیں اپنے پاس بلاؤ، اور ان کی ضروریات پوری کرو، اور جس کو تم سے کوئی غرض نہیں، اس کے پیچھے کیوں لگتے ہو، اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔
ان الزامات کی سنگینی کا یہ عالم تھا کہ حضرت عامر بن عبد اللہ کے حامیوں اور مخالفین دو گروہوں میں منقسم ہو گئے قریب تھا کہ کوئی اند وہناک فتنہ سرزد نہ ہو جائے ، جب گورنر نے تحقیقات کی تکمیل کر کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو تحقیقاتی رپورٹ روانہ کر دی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں ملک شام حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا اور کہا کہ انہیں رہائش فراہم کریں اور ان کی عزت و تکریم کریں ۔ جب حضرت عامر بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنی ہجرت شروع کی تو اللہ سے دعا کی کہ
’’اے اللہ ! جس کسی نے مجھ پر الزام لگائے اور مجھے بدنام کرنے کے لئے کوشاں رہا، جو مجھے میرے شہر سے نکالنے کا سبب بنا، میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جدائی کا باعث بنا، اے اللہ ! میں نے اسے معاف کیا، تو بھی معاف کر دے اور اے اللہ ! دین و دنیا میں عافیت عطا کرنا ، مجھے اور تمام مسلمان کو اپنی رحمت ، احسان اور معافی کی چادر میں ڈھانپ لے، بلاشبہ تو بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ (حیات تابعین کے درخشاں پہلو : 45۔46)
مسائل کے لیے علمائے حق سے رجوع کریں : ہرمسلمان کو چاہئے کہ دین کے مسائل علمائے کرام سے سیکھیں اور ان ہی سے دین کا علم حاصل کریں کسی بھی غیر عالم سے نہ دین کا مسئلہ پوچھیں اور نہ ان سے دین کا علم حاصل کریں، ورنہ گمراہی عام ہو جائیگی۔ علماء کی نظر، بدعات و خرافات اور گمراہیوں پر ہر وقت لگی رہتی ہے، علماء پر فریضہ بھی ہے کہ وہ حالات پر گہری نظر رکھیں، جیسا کہ صوم عاشوراء کو لوگوں نے لازم سمجھ رکھا تھا، لیکن حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بڑے خوبصورت انداز میں لوگوں کو سمجھایا حضرت حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں خطبہ دیا اور کہا:
«يَا أَهْلَ المَدِينَةِ، أين عُلَمَاتُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُوْلُ : هَذَا يَوْمُ عَاشُوْرَاءَ ، وَلَمْ يَكْتُبْ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِر »
’’مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ یہ یوم عاشوراء ہے ، اس دن کا روزہ ہم پر فرض نہیں کیا گیا ، البتہ میں روزہ سے ہوں ، اس لئے تم میں سے جو آدمی اس دن روزہ رکھنا چاہتا ہو، وہ رکھ لے۔‘‘ (صحیح بخاری :2003 ؛ مسند احمد : 3925)
اسی طرح عورتوں میں نقلی بالوں کے استعمال کا رواج عام ہو گیا تھا، جب یہ خبر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے ان الفاظ میں لوگوں کی رہنمائی فرمائی ۔ حضرت حمید بن عبد الرحمن روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، جبکہ ان کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا، انہوں نے کہا:
يَا أَهْلَ المَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاتُكُمْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْل هذِهِ، وَيَقُولُ : إِنَّمَا هَلَكَتْ بَتُؤإسْرَائِيلَ حِيْنَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُم
’’ اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ اس سے منع فرماتے تھے، نیز آپ ﷺ نے فرمایا:
’’بنو اسرائیل کو اس وقت عذاب دیا گیا جس وقت ان کی عورتوں نے اس قسم کے بالوں کے گچھے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔‘‘ ( صحیح بخاری : 3468، 5932)
علماء خدا نہیں :علماء دین کے رہبر اور قوم وملت کے رہنما ہیں، وہ نبیوں کے خلیفہ اور ان کے علم کے وارث ہیں ، علماء خدا نہیں ہوتے یا علماء کو اپنی جانب سے حلال و حرام قرار دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، بنی اسرائیل کی گمراہیوں میں سے ایک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نے علماء کو اتنا با اختیار بنا رکھا تھا کہ علماء نے جس چیز کو حلال کیا اس کو حلال سمجھنے لگے اور جس چیز کو انہوں نے حرام قراردیا اس کو حرام سمجھنے لگے، حالانکہ حلال وہ ہے جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حلال کیا ہے اور حرام وہ ہے جسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میری گردن میں سونے کی ایک صلیب تھی۔ آپﷺ نے فرمایا:
”اے عدی ! اس بُت کو پھینک دو، اور میں نے آپ کو سورہ برات کی آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا:
﴿اتَّخَذُوْا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللہ ﴾’’انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو رب بنالیا۔‘‘ (سورۃ التوبہ: 31)
میں نے کہا: ہم ان کی عبادت نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا: «أمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ وَلكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُوْالَهُمْ شَيْئًا إِسْتَحَلُوْا وَإِذَا حَرَّمُوْا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوْهُ ؟ فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ» ’’ایسا نہیں کہ وہ ان کی عبادت کرتے ہوں ، بلکہ معاملہ اس طرح تھا کہ جب وہ کسی چیز کو حلال کرتے تو وہ لوگ بھی اسے حلال سمجھنے لگے اور جب ان پر کسی چیز کو حرام کرتے تو وہ بھی اسے حرام سمجھتے (یہ ان کی عبادت ہے )۔‘‘ (سلسلہ صحیحہ: 965)
اپنے علماء کی عظمت کے لئے یہودی و نصاری انہیں سجدہ کیا کرتے تھے، گویا انہوں نے علماء کو رب اور معبود تصور کر رکھا تھا، یہی عادت مشرکین میں بھی پائی جاتی ہے جو اپنے پنڈتوں کو سجدہ کرتے ہیں جس کے سبب وہ گمراہ ہوئے اور اللہ کا غصہ ان پر نازل ہوتا رہا اور وہ اللہ کی ناراضگی کا موجب بنے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا:
يَارَسُوْلَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ أَهْلَ الْكِتَابِ يَسْجُدُونَ الأسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ ؟ أَفَلا نَسْجُدُ لَكَ؟ قَالَ: لَوْ كُنْتُ آمُراً أَحَداً أَنْ يَسْجُدَ لأحَدٍ لأمَرْتُ المَرْأَةَ أَنْ يَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَا تُؤدَّى المَرْأَةُ حَقَّ زَوْجِهَا حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا عَلَى قَتَبِ لَاعْطَتْهُ
”اے اللہ کے رسول ! اہل کتاب اپنے علماء اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں ، آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم آپ کو سجدہ کریں؟ آپﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو سجدہ کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، بیوی اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کر سکتی حتی کہ اگر شوہر اس سے ملاپ کا مطالبہ کرے اور وہ اونٹ کے پالان پر ہو اور وہ اس کی خواہش پوری کر دے تب بھی۔“ (سلسلہ صحیحہ: 1971)
یہ ایک سچی حقیقت ہے کہ قیامت سے پہلے اللہ سبحانہ وتعالیٰ حق گو علمائے ربانی کو دنیا سے اٹھالے گا جس کے سبب دین کا فہم و فراست کم ہو جائے گا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنّ اللهَ لَا يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعَا يَلْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِماً اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤساً جُهَّالا، فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَيْر عِلْمٍ فَصَلُّوْا وَ أَصَلُّوْا» ’’بےشک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ وہ اس کولوگوں سے سلب کر لے، وہ تو علماء کو فوت کر کے علم کو اٹھالے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنالیں گے، پس جب ان سے سوال کیا جائیگا وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے اور اس طرح خود بھی گمراہ جائیں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کر دیں گے ۔‘‘(مسند احمد :6511، 6896؛ صحیح بخاری: 100)
علمائے ربانی کی تکریم و احترام : علمائے حق کی تو قیر و تکریم ہمیشہ ہونی چاہئے حق گو علمائے ربانی کی قدر و قیمت کا اندازہ ان دواقعات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جن کی قدر و منزلت کو خلفائے راشدین نے بھی تسلیم کیا تھا واقعہ یوں کہ حضرت شریح القاضی ایک عظیم تا بعی گزرے ہیں، جنہوں نے مسلسل ساٹھ سال تک قاضی کی حیثیت سے قابل قدر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے، اور حضرت عثمان ، حضرت علی ، حضرت امیر معاویہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے اپنے عہد خلافت میں انہیں ان کے اسی عہدے پر سرفراز رکھا جو حق کے علمبردار اور سچائی کے پیکر اور انتہائی بے خوف ونڈر تھے۔
ایک وقت کی بات ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بدوی سے گھوڑی خریدی اور اسے قیمت ادا کر دی ، اس پر سوار ہوئے اور چل دئیے ، ابھی تھوڑی ہی دور چلے تھے کہ وہ لنگڑانے لگی ، آپ واپس لوٹ آئے اور اس شخص سے کہا : یہ گھوڑی واپس لے لو کیونکہ یہ لنگڑاتی ہے اس بدوی نے کہا: امیر المؤمنین واپس نہیں لوں گا کیونکہ میں نے صحیح حالت میں آپ سے سودا کیا ہے۔ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چلو کسی کو منصف مقرر کرلیں اور فیصلہ کروالیں، اس بدوی نے کہا کہ ” کیا آپ کو شریح بن حارث کندی کا فیصلہ منظور ہوگا ؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے منظور ہے۔ دونوں ان کے پاس پہنچے ، انہوں نے بدوی کی بات پورے اطمینان سے سنی ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’اے امیر المؤمنین! کیا یہ گھوڑی جس وقت آپ نے خریدی تھی، صحیح سالم و تندرست و صحتمند تھی ؟ فرمایا: ”ہاں“ قاضی شریح نے کہا : امیر المؤمنین ! جو چیز آپ نے درست حالت میں خریدی تھی اسے اپنے پاس رکھئے یا پھر اسی درست حالت میں واپس کر دیجئے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قاضی شریح رحمہ اللہ کی جانب تعجب سے دیکھتے رہے اور کہا : کیا یہ فیصلہ حق و انصاف پر مبنی ہے؟ انہوں نے کہا: حق وانصاف اور عدل کا تقاضا یہی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” آپ کے فیصلے سے دلی مسرت ہوئی اب آپ کوفہ تشریف لے جائیں آج سے آپ وہاں کے رئیس القضاة مقرر کر دئیے گئے ہیں، بلاشبہ آپ جیسا نڈر اور باصلاحیت شخص اسی منصب کا حقدار ہے۔ (حیات تابعین کے درخشاں پہلو : 138۔139)
ایک اور واقعہ یوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زرہ دوران سفر کہیں گم ہوگئی اور وہ ایک ذمی کے ہاتھ ملی۔ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب یہ زرہ اس ذمی کے ہاتھ میں دیکھی تو اس سے کہا کہ یہ زرہ میری ہے، کیونکہ نہ میں نے اسے فروخت کیا ہے اور نہ کسی کو تحفتاً دیا ہے ۔ اس ذمی نے کہا کہ یہ زرہ اس وقت میری ہے کیونکہ یہ میرے ہاتھ میں ہے۔ اس ذمی نے کہا کہ قاضی کے پاس چلئے وہ جو فیصلہ کرے گا منظور ہے ۔ دونوں حضرات قاضی شریح کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مدعی پیش کیا۔ قاضی شریح نے پہلے ذمی سے اس زرہ کے بارے میں استفسار کیا: اس ذمی نے کہا کہ یہ زرہ میری ہے کیونکہ وہ میرے قبضے میں ہے۔ حضرت قاضی شریح نے حضرت علی سے کہا کہ ’’امیر المؤمنین مجھے یقین ہے کہ یہ زرہ آپ ہی کی ہے۔ لیکن حق ملکیت ثابت کرنے کے لئے دو گواہ چاہئے۔‘‘ (حیات تابعین کے درخشاں پہلو : 142۔143)
علمائے حق کی حق گوئی وصداقت پر مبنی اور بھی واقعات مذکور ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ موجودہ دور کے علمائے کرام اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور امت میں اپنے وقار کو قائم رکھیں، اور امت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو دریا پار کروائیں ۔ اس وقت علماء کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق وسعادت نصیب فرمائے ۔ آمین
٭٭٭
قیام کیلئے غسل کرنا، مسواک کرنا، خوبصورت لباس پہننا، بہترین خوشبو استعمال کرنا
1- حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک برتن تھا جس میں آپ کی مسواک رکھی جاتی، جب آپ رات کو قیام کیلئے اٹھتے ، استنجا کرتے، مسواک کرتے، وضو کرتے، اور پھر اپنی ازواج کے گھروں میں سے خوشبو تلاش کرتے اور لگاتے
2- عبداللہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے کہ انکو پسند تھا کہ جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اچھے، صاف ستھرے کپڑے پہنیں اور خوشبو لگائیں۔
3۔ حضرت تمیم داری رحمہ اللہ جب رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو عمدہ بہترین خوشبو لگاتے اور ایک ہزار (درہم) کی قیمت کا جوڑا خریدا رکھا تھا جو قیام کے وقت زیب تن کرتے۔
4۔حضرت ابنِ محیریز رحمہ اللہ جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو بہت قیمتی خوشبو منگواتے اور اسے بہت زیادہ لگاتے جس سے انکے کپڑے بہت زیادہ معطر ھو جاتے۔
5۔مغیرہ بن حکیم صنعانی رحمہ اللہ جب تہجد کے لیے اٹھتے تو بہترین کپڑے پہنتے اور اپنے گھر والوں سے خوشبو لیکر لگاتے۔ (انکا ایک اور وصف بیان ھوا کہ) وہ تہجد گزاروں میں سے تھے۔
6۔عمرو بن الاسود رحمہ اللہ نے اسی (80) دینار کا ایک (بشت) حلہ خریدا اور اسے ایک دینار میں رنگوایا، وہ اسے سارا دن سنبھال کر لپیٹے رکھتے اور رات اسی میں قیام کرتے۔
7۔امام مجاہد بن جبر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ رات کے وقت لہسن، اور پیاز وغیرہ کھانا اچھا نہیں سمجھتے تھے، اور انہیں پسند تھا کہ آدمی جب رات کو قیام کرے تو خوشبو لگائے، اور وہ خوشبو اپنی داڑھی مونچھوں کو بھی لگائے۔
8۔عبداللہ بن زکریا رحمہ اللہ کے متعلق آتا ھے کہ وہ اور انکے تمام ساتھی عشاء کے بعد جب قیام کا ارادہ کرتے تو روزانہ غسل فرماتے۔
(مختصر قیام اللیل وقیام رمضان لمحمد بن نصر المروزي 112؛ عبدالرحمن السعیدي)
تبصرہ کریں