سفر حج ماضی اور حال کے آئینہ میں! ایک زیرک ملکہ بھوپال کی سرگزشت حج۔ مولانا عبد الہادی العمری

تاریخ بر صغیر میں ریاست بھوپال کئی اعتبار سے اہمیت رکھتی ہے ،یہاں کی بعض حکمران خواتین نے بڑا نام کمایا، حسن انتظام، رعایا کی فلاح و بہبود اور شہری ترقی میں ان کا اہم کردار ہے ۔ بیرون ریاست بھی ان کی فلاحی سرگرمیوں سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا رہا ، شاہ جہاں بیگم کے دور میں اسلامی کتب کی ترویج و اشاعت کا ایک وسیع سلسلہ ان کے شوہر نامدار ممتاز عالم دین علامہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کی زیر نگرانی انجام پایا، برطانیہ میں بنائی جانے والی پہلی باقاعدہ مسجد اسی خاتون کے نام سے موسوم ہے، شاہ جہاں ماسک جو و و کنگ میں واقع ہے، وسیع قطعہ اراضی حاصل کر کے مسجد، مدرسہ اور دارالاقامہ کا خاکہ ترتیب دیا گیا، یہ مسجد ان کے صرف خاص سے تعمیر ہوئی، ایک اور مسجد جو انگریز نَو مسلم عبدالله قویلیم نے لیور پول میں رہائشی گھر خرید کر بنائی اور دعوت اسلامی کی داغ بیل ڈالی، یہ دونوں مساجد برٹش آثار قدیمہ کا حصہ ہیں، پھر تو اللہ نے ایسی برکت عطا فرمائی کہ ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلتا گیا اور الحمد للہ اس وقت دو ہزار سے زیادہ چھوٹی بڑی مساجد برطانیہ میں پائی جاتی ہیں ۔

فرمان الٰہی ہے :

﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا ‎﴾

’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین سے اوپر رکھےاور اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے گواہی دینے والا۔‘‘

فرمان رسول اللہ ﷺ ہے:

«‌لَيَبْلُغَنَّ ‌هَذَا الأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ هَذَا الدِّينَ، بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ، عِزًّا يُعِزُّ اللهُ بِهِ الإِسْلَامَ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللهُ بِهِ الكُفْرَ» (مسند احمد : 16957 )

’’اس دین کی بات وہاں تک پہنچے گی جہاں تک رات اور دن ہوں روئے زمین پر، کوئی کچا یا پختہ گھر ایسا نہیں رہے گا جس میں اس دین کی بات نہ پہنچے، چاہے کوئی عزت سے قبول کرے یا ذلت اور رسوائی سے۔ اللہ تعالیٰ اسلام کے ذریعہ عزت اور سرفرازی عطا کرے گا اور کفر کے ذریعہ پستی اور نکبت۔‘‘

اس وقت نواب سکندر بیگم والی بھوپال والدہ شاہجہاں بیگم کے سفر نامہ حج کے متعلق کچھ کہنا چاہیں گے ، سفرناموں کی تاریخ بڑی قدیم ہے، ان کی وساطت سے قوموں کے عروج و زوال، تہذیب و ثقافت، معیشت و معاشرت، عقائد و عبادات اور اخلاق و عادات کا پتہ چلتا ہے اور پھر یہ سفرنامہ اگر بلاد حرمین کا ہو تو اس میں مذہبی عقیدت بھی شامل ہو جاتی ہے ، حجاج بیت اللہ اور زائرین مقامات مقدسہ کے مختلف اوقات میں سفر نا مے منظر عام پر آتے رہے ، ان قدیم سفرناموں میں نواب سکندر بیگم کا ڈیڑھ سو سال قبل مرتب ہونے والا سفرنامہ کئی حیثیتوں سے اہمیت رکھتا ہے، اس سرگزشت کو مرتب کرنے والی ایک دین پسند خاتون حکمران ہے، انہوں نے 6 جنوری 1864ء بمبئی کی بندرگاہ سے ایک بڑے قافلہ اور شاہی وقار کے ساتھ سفر کا آغاز کیا، 23 جنوری جدہ پہنچیں۔ 10 جون 1864 ، بسلامت واپس پہنچ گئیں، یہ رؤدادنامہ حج کے عنوان سے پہلی بار شائع ہوئی ہے۔

اصل مخطوطہ یونیورسٹی آف لندن سنٹر فار ایشین اسٹڈیز سے حاصل کیا گیا جو ڈھائی سو صفحات پر مشتمل ہے، اس قلمی نسخہ پر تاریخ 1262ھ مطابق 1883 ء درج ہے ۔ اس کی زبان اور اسلوب تحریر قدیم ہے لیکن مشہور مصنف زیف سید جو اردو اور انگریزی میں مہارت رکھتے ہیں، ان کی تسہیل اور حواشی سے قارئین کے لیے سہولت ہوگئی، اس کے لیے انہوں نے عرق ریزی سے کام لیا۔ بک کارنر جہلم پاکستان نے 158 برس بعد اس کو زیور طباعت سے آراستہ کیا، ہمیں جہلم ہی کے عالم دین مولانا حافظ حبیب الرحمن سابق ناظم اعلی جمعیت اہل حدیث برطانیہ نے اس کی اطلاع دی بلکہ چند نسخے منگوائے اور ہمارے ہر دلعزیز بھائی مولانا شفیق الرحمن شاہین کی وساطت سے راقم تک یہ گرانقدر نسخہ پہنچا۔ فجزاهم الله خيراً

یہ صرف ایک روحانی سفر کی داستان نہیں بلکہ ایک باشعور زیرک ملکہ کا عرب معاشرہ کا باریک بینی سے مشاہدہ اور بے لاگ تنقیدی جائزہ ہے کہ انیسویں صدی کے حجاز کا سیاسی و حکومتی نظام ، حاجیوں کو پیش آنے والے مسائل و مشکلات، جدہ، مکہ اور مدینہ کے پر خطر راستے، چوری ڈکیتی اور لوٹ مار کی کیفیت پڑھ کر عربی کہاوت کی عملی تصویر دیکھنے میں آئی کہ

“الذاهب للحج مفقود والعائد منه مولود.”

’’حج کے لئے روانہ ہونے والا خود کو احباب اور فیملی سے گم سمجھے اور اگر بحفاظت واپس لوٹے تو جیسے اس کا دوبارہ جنم ہوا ہو۔‘‘

حتی کہ ڈیڑھ سو سال پہلے تک شعائر مقدسہ ،منی، مزدلفہ ، عرفات بھی لوٹ مار کرنے والوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں رہتے ، مہینوں کا سفر کر کے دشوار گذار پُر خطر راستے طے کرکے یہاں پہنچنے والے حجاج حدود حرم میں بھی خطرات میں گھرے رہتے۔ اس کا اندازہ اس سفرنامہ کی ایک درد بھری تلخ فصل سے لگائیے کہ زر کثیر خرچ کر کے وفد کبیر کے ساتھ پہنچنے والی خاتون شدید اشتیاق کے باوجود مدینہ منورہ نہیں جاسکیں ،کہتی ہیں کیونکہ قرآن مجید کا حکم ہے :

﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾

’’ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو ۔‘‘

جبکہ مدینہ جانا نہ فرض ہے ، نہ واجب ، لہٰذا حج پورا کر کے بھوپال لوٹنا قرین مصلحت ہے ورنہ جان جوکھم میں ڈالنے کی حماقت ہوگی۔

نواب سکندر بیگم بھوپال (1868-1818ء) کا شمار برصغیر کی چند گنی چنی حکمران خواتین میں ہوتا ہے۔ انہیں سیاسی بصیرت، انتظامی اہلیت اور توانا شخصیت کے باعث تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور ان کے دور کو بھو پال کی تاریخ کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ سکندر بیگم نے عملی سیاست اور انتظام حکومت میں براہِ راست حصہ لیا۔ انگریز بھی ان کی صلاحیتوں کے قائل تھے اور انہیں نائٹ ہیڈ کے خطاب سے نوازا۔ وہ سلطنت برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کے بعد دوسری خاتون نائٹ تھیں۔ 1864ء میں انہوں نے حج کیا جو اس لحاظ سے غیر معمولی واقعہ ہے کہ اس سے قبل ہندوستان کے کسی حکمران یا نواب نے حج نہیں کیا تھا۔ نواب سکندر نے وطن لوٹنے کے بعد اس سفر کی ایک مفصل اور دلچسپ سرگزشت لکھی ۔

یہ سفر نامہ اُن کی باریک بینی، طرز حکمرانی سے دلچسپی اور مشاہدے کی گہرائی کا ثبوت ہے۔ نواب سکندر بیگم ایک اصلاح پسند اور اپنے زمانے سے عشروں آگے کی سوچ رکھنے والی خاتون حکمران تھیں، جنہیں برصغیر کی خواتین کے لیے رول ماڈل قرار دیا جا سکتا ہے۔

ملکہ بھوپال نواب سکندر بیگم نے مکہ مکرمہ میں جو کچھ حالات دیکھے اور انہیں پتہ چلا کہ عثمانی خلیفہ انتظامات اور صفائی کے لیے خطیر رقم دیتے ہیں، پھر بھی یہ حال۔ انہوں نے متعلقین سے کہا :

’’تیس لاکھ روپیہ سلطانِ روم حرمین شریفین کے خرچ کو دیتا ہے، نہ تو صفائی شہر کی ہوتی ہے اور نہ بندو بست عملہ حرمین شریفین کا ہوتا ہے۔ میرا داماد اور لڑکی ریاست بھوپال کا بندو بست کر لیں گے، سلطان روم یہی تیس لاکھ روپیہ مجھ کو دیویں، دیکھو میں اس تیس لاکھ روپیہ میں کیسی صفائی شہر مکہ معظمہ اور مدینہ منور کی کروں اور بندوبست عملہ حرمین شریفین اور شورش بدوؤں راستہ مدینہ منورہ کا کروں کہ سلطان روم کو بھی معلوم ہو کہ پشت ہا پشت سے یہ نمک حرام روپیہ کھاتے ہیں اور کوئی شے درست نہیں کی اور اس نے چند روز میں درست کر دیا۔ ‘‘

زیارت مدینہ منورہ کے لیے نہ جانے کے اسباب

1۔ جہاز بھی نہیں اور نہ ہی ذرائع حمل و نقل کی سہولت ہے ۔

2۔ راستہ کی خبر نہیں کہ کدھر ہے اور کدھر کو جاتا ہے۔

3۔ زبان عربی اور بدوؤں سے واقف نہیں کہ یہ کیا کہتے ہیں اور کیا کریں گے۔

4۔ فوج نہیں۔ مسافروں کی حفاظت کے لیے ۔

5۔ یہاں کے سردار فوج کا روپیہ ایک تعداد مقرر کر کے لیتے نہیں ہیں، جان آبرو کے خواہاں ہوتے ہیں، کاش اگر مال ہی لوٹ لیتے تو کچھ اندیشہ نہ تھا۔

6۔ بدو راستے میں لوٹ بھی لیتے ہیں، اور قدم قدم پر بخشش طلب کرتے ہیں۔ بصورت نہ دینے بخشش کے خواہاں جان آبرو کے ہوتے ہیں اور خوراک علیحدہ لیتے ہیں۔ پس ایسے زر کثیر کا خرچ کہاں سے لا کر کیا جائے؟

7۔ حاکم کی طرف سے راستہ کا بندو بست کچھ نہیں ہے اور فی اونٹ دور یال کرایہ کے شریف صاحب بدوؤں سے لے لیا کرتے ہیں، اور جب جمع کثیر مدینہ کو جانے کا ہو جاتا ہے، قافلہ حجاج کو اپنے ریال کے منافع کے سبب سے روانہ کر دیتے ہیں۔ پھر جو راستہ میں حجاج پر مصیبت گزرے گزرے، اس کی دادرسی اور داد دہی سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے ۔

8۔ یہ ہے کہ قافلہ بھوپال میں مرد کم عورتیں زائد ، حفاظت راستہ کی اس کے دشوار ہے۔

8۔ یہ کہ میں نے سنا ہے کہ بدو مدینہ منورہ کو قافلہ جس وقت پہنچا دیتے ہیں، اس وقت بھی بعد پہنچانے قافلہ کے اگر ان کی اور کسی شخصوں میں یعنی ترک وغیرہ یا آپس میں تکرار ہوتی ہے تو دو دو مہینے تلک قافلہ مدینہ منورہ میں مقیم رہتا ہے اور سواری بار برداری کسی کو نہیں دیتے۔ جب ان کی آپس میں صلح ہو جاتی ہے، اہل قافلہ کو سواری اور بار برداری نصیب ہوتی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اس دور میں مدینہ کا سفر پل صراط کا سفر تھا۔ ان سے صرف گیارہ برس قبل رچرڈ برٹن (1890۔1821) نے مکہ سے مدینہ کے راستے پر بدوی ڈاکوؤں کی شورش کے کافی وشافی ثبوت فراہم کیے ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ بیگم کا خوف بجا تھا۔

برٹن اپنے حج نامے میں مکہ اور مدینہ کے راستے کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں سے ایک قرار دیتا ہے۔ اس کی کتاب میں سے چند اقتباسات سے اس دعوے کی وضاحت ہو سکتی ہے:

’’مکہ اور مدینہ کے درمیان کا راستہ کبھی بھی بدوؤں کے حملوں سے محفوظ نہیں رہتا۔ کوئی بھی موسم ایسا نہیں گزرتا جس میں کئی جھٹر پیں نہ ہوں، جن میں بعض اوقات جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ ‘‘

’بدو پیشہ ور لٹیرے ہیں، وہ مرتے ہوئے انسان اور مرے ہوئے کو بھی لوٹ لیتے ہیں، قافلے سے بچھڑنے والے پر گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں، اور مزاحمت کی جائے تو بے رحمی سے قتل کرنے میں ذرا نہیں ہچکچاتے ۔ ‘‘

’’ہمارا قافلہ مسلسل ان لٹیروں کے خوف میں رہتا تھا اور ہر رات ہم چوگنی پہرہ داری کرتے اور ہتھیار ساتھ رکھ کر سوتے تھے۔“

’’یہ بہت ہی شاذ و نادر خوش نصیبی ہوتی تھی کہ حاجیوں کا کوئی قافلہ مکہ سے مدینہ کے درمیان لوٹ مار سے بیچ نکلے۔‘‘

ان اقتباسات سے واضح ہے کہ بیگم سکندر بیگم کا فیصلہ محض احتیاط نہیں، بلکہ مکمل زمینی حقیقت پر مبنی تھا۔ ایک بار پھر مدینہ نہ جانے کا فیصلہ ان کی انتظامی سوجھ بوجھ، منطقی سوچ اور مشکل فیصلہ کر گزرنے کی صلاحیت کا بھی عکاس ہے۔

نواب سکندر بیگم نے اس سفر کے دوران حجاز کی انتظامی بدحالی، بدعنوانی اور حاجیوں پر ظلم و ستم کا کھل کر مشاہدہ کیا۔ شریف اور پاشا کی بدانتظامی اور رشوت ستانی پرسخت تنقید کی اور عثمانی ترکوں کو امن قائم نہ رکھنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے لکھا کہ حجاز میں نو آبادیاتی دور میں ہندوستانی حاجیوں پر ہونے والے مظالم نا قابل برداشت ہیں اور قبائل ریاستی عمل داری کو چیلنج کر رہے ہیں۔

حج کرنے کے تین سال بعد سکندر بیگم 30 اکتوبر 1868ء کو گردوں کی خرابی کے باعث وفات پا گئیں۔ وہ اپنے پیچھے نا قابل فراموش کارناموں اور پیچیدہ وراثت کا ایک باب چھوڑ گئیں۔ بلاشبہ وہ جدید بھوپال کی معمار اور ایک ایسی حکمران تھیں جن کی بصیرت، محنت اور عملی حکمت عملی نے بھوپال کو ایک مستحکم، خوشحال اور بہترین طور پر منظم ریاست میں ڈھال دیا۔

ان تلخ و ترش حقائق کی روشنی میں جس کا اکثر قدیم سفرناموں میں ذکر ملتا ہے، آج کی اگر سہولتوں کا جائزہ لیں تو یہ سفر روحانی سکون کے ساتھ ظاہری طور پر تفریح اور ہالیڈیز کا منظر پیش کرتا ہے اور آئے دن ان میں اضافہ ہو رہا ہے، بلا شک و شبہ حکومت سعودی عرب کا بڑا کارنامہ ہے، گزشتہ ایک سو سال سے یعنی جب سے سعودی حکومت کی داغ بیل رکھی گئی اس وقت سے آج تک مزید اضافہ کے ساتھ سہولتیں جاری ہیں ، نواب سکندر بیگم کے لیے مکہ سے مدینہ کا راستہ کٹھن اور پُر خطر تھا، آج کی برق رفتار ٹرین کے ذریعہ یہ محض دو گھنٹوں کی مسافت ہے، کوئی جدہ ایئرپورٹ سے بذریعہ جہاز جانا چاہے تو چند منٹوں کا فاصلہ ہے اور عام بسوں اور ٹیکسی سے چھ سات گھنٹوں کا یہ سفر ہے، مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے نہ ڈاکووں کا خطرہ کہ قافلے لوٹ لئے جائیں گے اور نہ ہی ایام حج کی ڈکیتی کا اندیشہ۔

حرمین شریفین کی توسیع کا پروجیکٹ جو ملک فہد بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے دور میں کئی ارب ڈالر کی لاگت سے شروع ہوا اس کے مکمل ہونے کے بعد مسجد حرام میں دس لاکھ سے زیادہ نمازی ایک وقت میں اور مسجد نبوی میں بھی اتنی ہی تعداد میں نمازیں ادا کر سکتے ہیں، ذرائع حمل و نقل کی سہولتوں کے سبب زائرین کی آمد و رفت اس کثرت سے ہونے لگی ہے کہ سال کے عام دن بھی ایام حج کے ابتدائی دنوں کا منظر پیش کرتے ہیں، اسی طرح کا ہجوم، چہل پہل سال بھر جاری رہتی ہے۔ رمضان کا منظر روحانی اور ظاہری اعتبار سے اپنے اندر خاص کشش رکھتا ہے ، حرمین شریفین کی معیاری صفائی اور اعلیٰ انتظامات سے انکار ممکن نہیں ، اللہ تعالی منتظمین کو بہترین صلہ عطا فرمائے اور مزید کی توفیق بخشے ۔ آمین

٭٭٭

انتقال پُرملال

برمنگھم میں سمأ پرفیوم، کے قاری سید یعقوب علی کی ہمشیرہ حیدر آباد دکن  میں بعمر 66 سال قضائے الٰہی سے وفات پا گئیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

مرحومہ نیک سیرت اور پابند صوم وصلوٰۃ تھیں، وفات کی رات بھی تہجد پڑھ کر نماز فجر ادا کی اور خاموشی سے راہ بقا اختیار کی۔  حیدر آباد میں ان کے ایک بھائی  حاجی سید اسماعیل علی شکاگو میں، ایک بھائی قاری سید اسحاق علی  اور تمام بہنیں اور اقارب غمزدہ اور دعا گو ہیں کہ اللہ کریم مرحومہ کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں اور خطاؤں سے درگزر فرمائے۔ آمین

جانے والے کبھی نہیں آتے

جانے والوں کی یاد آتی ہے

٭٭٭

عوام الناس سے بات کرنے کا طریقہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ

” مَا أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِيثًا لا تَبْلُغُهُ عُقُولُهُمْ ؛ إِلا كَانَ لِبَعْضِهِمْ فِتْنَةٌ “

’’لوگوں سے ان کی عقل کے مطابق بات کیا کرو،ورنہ ان میں سے بعض کے لیے یہ بات فتنہ بن جائے گی!‘‘

(عمدۃ القاری: 2؍308)

٭٭٭

تبصرہ کریں