سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

6 اور 13 مئی 2026ء کے فتویٰ کمیٹی برطانیہ کے اجلاس میں پیش کردہ سوالات کے جوابات ملاحظہ ہوں، کویت کے ڈاکٹر بسام الشطی نے تمام سوالات کے جوابات پیشگی تحریر کر دیئے تھے، جن کے بارے میں بحث و تمحیص کے بعد انہیں آخری شکل دی گئی۔

جعُالہ یا اجارہ پر مبنی ایک مالی معاملے کا حکم

سوال: ایک مالی عقد کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ جس کی مارماکیٹنگ اور مشاورتی عمل میں، میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔ صورت معاملہ یہ ہے کہ میں تین ماہ کے لیے ایک برقی مشین (THERMOMIN) کی مارکیٹنگ کا ذمہ دار رہوں گا، ہر اس خریدار کے عوض میں جسے میں خود لے کر آؤں گا مجھے اس مشین کی قیمت کا ایک چوتھائی بطور کمیشن دیا جائے گا۔ خریدار کو ایک چوتھائی قیمت شروع میں ادا کرنی ہوگی۔ کمپنی مشاورتی اساس پر بھی مزید کمیشن ادا کرے گی۔ اس مشاورتی عمل میں میری اپنی ٹیم ہوگی جو خریداروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ

1۔ کیا یہ رقم کا مالی معاملہ شریعت میں جعالہ یا اجارہ کی حیثیت رکھتا ہے؟

2۔ کیا ایسے مشاورتی عمل میں شریک ہونا جائز ہوگا جس میں صرف خریداروں کو میری اپنی محنت سے راغب کرنے پر کمیشن نہیں ملے گا بلکہ مشاورتی ٹیم کی محنت کی بنیاد پر بھی کمیشن ملے گا؟

3۔ کیا کمیشن کی اساس پر یہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسے کئی دوسرے ناجائز معاملات ہیں یا اہرام کی شکل والے معاملات ہیں؟ (یعنی پہلا خریدار دو اور خریدار کو لے کر آتا ہے اور وہ انہیں سے مزید خریدار لے کر آتا ہے اور ان میں سے ہر شخص مزید دو افراد اور خریدار لے کر آتا ہے اور اس طرح یہ اہرام کے مینار کی سی حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔)

اس بات کا خیال رہے کہ پروڈکٹ جس کا سودا ہو رہا ہے حقیقی اور قانونی ہے، اور اسے خریدار تک پہنچایا جاتا ہے؟

جواب: پہلے تو ہمیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ فقہی لحاظ سے اس معاملے کو کیسے سمجھا جائے گا، یعنی چند عام قواعد کو پہلے معلوم کیا جائے گا اور پھر عقد کی تفصیلات کی روشنی میں اس کا حکم جانا جائے گا۔

1۔ پہلے تو یہ طے کرنا ہے کہ فقہی لحاظ سے یہ کونسا عقد ہے، ہمارے خیال میں یہ جُعالہ کی شکل ہے، نہ کہ اجارہ کی، جیسے ایک گمشدہ چیز کے بارے میں اعلان کیا جائے کہ جو تلاش کر کے لائے گا، تو اسے اتنا انعام ملے گا۔

اور وہ اس لیے کہ جعالہ میں کام کا عوض نتیجہ برآمد ہونے کے حساب سے دیا جاتا ہے، اس میں نہ وقت کی قید ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی لگا بندھا کام ہوتا ہے ۔

جعالہ اصل میں تو ایک جائز سودا ہے، اس شرط کے ساتھ کہ اس کا عوض (یا کمیشن) معلوم ہو ، کام بھی جائز نوعیت کا ہو اور اس میں جہالت کا عنصر غالب نہ ہو اور اس بنیاد پر یہ سودا ہے یعنی کسی مباح چیز کی مارکیٹنگ اور اس کے بدلے میں کمیشن لینا جو کہ پہلے سے طے شدہ ہو۔

2۔ اب رہی دوسری بات کہ اگر یہ معاملہ ٹیم ورک کی بنیاد پر ہو تو اس میں دو صورتیں ہوسکتی ہیں، پہلی صورت یہ کہ کمیشن کسی حقیقی عمل کی بنا پر ہو، جیسے ٹریننگ دینا ، کسی عمل کی نگرانی کرنا، یا ایک کام کے پیچھے لگے رہنا کہ جس کی بنا پر فروخت زیادہ ہو، اور پھر کمیشن کی مقدار معلوم ہو ، اور ٹیم میں شامل ہونے کے لئے کوئی فیس نہ رکھی گئی ہو تو یہ صورت جائز ہے۔

لیکن اگر کمیشن کی ادائیگی صرف ایک ظاہری عمل کی بنا پر ہے کہ جس میں لوگوں کی بھیڑ اکٹھا کرنا ہے یا حقیقی عمل کے بغیر ممبر شپ کو بڑھانا ہے یا نفع صرف اس لیے حاصل ہو رہا ہے کہ اہرام کی شکل کی وجہ سے خریداروں کا ہجوم بڑھتا جا رہا ہے تو یہ شکل ناجائز ہو گی کہ اس میں اول تو بہت زیاہ جہالت ہے اور دوسرے یہ وہ شکل ہے، جس میں لوگوں کا مال غلط طریقے سے بٹورنا ہے، اس میں اگر کوئی چیز قابل خرید بھی ہو، تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

2۔ ضابطہ یہ بنا کہ جہاں کسی حقیقی عمل کی بنا پر نفع حاصل ہوتا ہو اور اس حقیقی عمل میں آپ کوئی سروس بہم پہنچا رہے ہیں تو آپ کے لیے کمیشن لینا جائز ہو گا، لیکن اگر نفع حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہو کہ کوئی حقیقی بیع تو نہ ہو لیکن ممبر شپ کا عدد بڑھا کر نفع حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو ایسی صورت ناجائز ہو گی، چاہے اس میں قابل خرید چیز کیوں نہ موجود ہو۔

ہر ایسے معاملے کے تمام ضابطوں اور تفصیلات کا گہرا مطالعہ کر لیا جائے تاکہ معلوم ہو کہ نفع کیسے حاصل ہو رہا ہے اور اسے کیسے تقسیم کیا جا رہا ہے۔ شریعت کا حکم ظاہری صورت پر نہیں بلکہ حقیقی عمل کی بنا پر رکھا جاتا ہے۔

بحثیت وکیل یا ایجنٹ کے کام کرنے کی نوعیت

سوال : میں اپنے کاروبار کی نوعیت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ

میرے پاس خواتین کے ملبوسات کا اسٹاک موجود رہتا ہے جس میں ضروری نہیں کہ ناشائستہ قسم کے کپڑے بھی ہوں، میں آن لائن ایجنٹ کے ساتھ کام کرتا ہوں، جو میرے ان ملبوسات کو فروخت کرنے کا دھندا کرتے ہیں، ان لوگوں نے صرف آگے مارکیٹنگ کرنی ہے ، نہ وہ پیشگی کوئی چیز مجھ سے خریدتے ہیں او ر نہ ہی اپنی ملکیت میں رکھتے ہیں ۔

جب کوئی خریدار اپنا آرڈر (کیش رقم کی ادائیگی پر) ریکارڈ کراتا ہے تو وہ مجھے اسی آرڈر کی تفصیلات بھیج دیتے ہیں تو میں خریدار کو وہ ملبوسات ڈائر یکٹ بھجوا دیتاہوں ۔ ان اشیاء کی ملکیت بھیجے جانے تک میرے پاس بھی رہتی ہے، مرکزی اشارات یہ ہیں :

1۔ ایجنٹ حضرات کسی بھی مرحلہ میں اشیاء فروخت کا قبضہ نہیں رکھتے۔

2۔ جتنی قیمت میں انہیں بتاتا ہوں، اس سے زائد جو وہ کما سکتے ہیں، وہی اُن کی آمدنی شمار ہوتی ہے۔

3۔ اگر ڈلیوری فیل ہو جاتی ہے تو ایجنٹ ترسیل کے اخراجات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

4۔ میں نے ایجنٹ کو یہ اجازت دے رکھی ہے کہ وہ میری اشیاء کو اپنی ذمہ داری پر Resale کرسکتے ہیں۔

5۔ ا یجنٹ یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ کسی کے لیے کام کر رہے ہیں، الا یہ کہ ان سے پو چھا جائے۔

6۔ میں نے انہیں یہ ہدایت نہیں کی کہ وہ غلط بیانی سے کام لیں اور اشیاء کی ملکیت کا دعوی کریں ۔

اب میرے سوال یہ بنتے ہیں:

1۔ تجارت کا یہ ماڈل Resale (دوبارہ فروخت) کے ضمن میں آئے گا یا وکالت شمار ہو گا۔

2۔ ایجنٹ کو اپنی اصلی حیثیت سے خریدار کو آگاہ نہ کرنا جائز ہوگا ؟

3۔ اگر ایجنٹ غلط بیانی سے کام لے کر اپنے آپ کو مالک ظاہر کرے تو کیا اس کا اثر میری تجارت کے جائز یا نا جائز ہونے پر پڑے گا ؟

4۔ اس طرح نفع کمانے کا طریقہ جائز ہے ؟

5۔ کیا شریعت میں خواتین کے پارٹیوں میں پہننے والے ملبوسات کی فروخت جائز ہے ؟

جواب:

1۔ نوعیت کا روبار :

یہ کاروبار وکالت یا ایجنسی کے ضمن میں ہی شمار ہوتا ہے، یعنی اشیاء مالک کی ملکیت میں ہی رہتی ہیں اور ایجنٹ مالک کی طرف سے اس کی مارکیٹنگ کرتا ہے، ایسا کرنا جائز ہے بشر طیکہ مالک کی طرف سے اجازت ہو اور ایجنٹ کا معاوضہ معلوم ہو ۔

2۔ ایجنٹ حضرات کے کام کی نوعیت :

ایجنٹ کے لئے یہ کام جائز ہے بشرطیکہ اس کا معاوضہ معلوم ہو ، چاہے نسبت کے حساب سے ہو یا ایک معین رقم کی شکل میں ہو ، مالک کی اجازت یقینی ہو۔کوئی جہالت نہ پائی جاتی ہو اور وہ کسی ایسی چیز کی فروخت نہ کرتا ہو جو نہ پائی جاتی ہو۔

3۔ ایجنسی کا اعلان نہ کرنا

اگر کسی قسم کا دھوکہ نہ ہو تو ایسی تجارت جائز ہے ، لیکن احتیاط کا تقاضا ہے کہ اگر پوچھا جائے تو اصل حقیقت بتا دی جائے ، خاص طور پر اگر عرف یہی ہو کہ ایجنسی کے بارے میں بتایا جاتا ہو یا اس کے نہ بتائے جانے سے کوئی شک و شبہ پایا جائے۔

4۔ سامان کی ملکیت کا دعویٰ کرنا

اگر ایجنٹ اس طرح مارکیٹنگ کرے کہ خریدار کو اُس کے مالک ہونے کا شبہ ہو تو یہ دھوکہ اور غلط بیانی کی بنا پرنا جائز ہے۔ ایسی صورت سے منع کیا جائے اوراسے خبردار کیا جائے اور اگر مالک نے اصلاً اس کی اجازت نہیں دی تھی تو اس کے کاروبار میں کوئی حرج واقع نہ ہوگا۔

5۔ نفع حاصل کرنے کا حکم

ایسے کاروبار کا منافع جائز ہے کیونکہ یہ نفع مارکیٹنگ یا ایجنسی کے کام کے بدلے میں حاصل کیا گیا ہے ۔ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ وہ نسبت کی شکل میں متعین کیا گیا ہے یا بھاؤ کے فرق کی وجہ سے حاصل کیا گیا ہے۔

6۔ محسوسات کی نوعیت کامسئلہ

خواتین کے ملبوسات کا فروخت کرنا اصلاً جائز ہے ، کیونکہ یہ ایک مباح عمل ہے۔ بشرطیکہ سامان تجارت میں سے کوئی چیز بذات خود حرام ہو ، اور ظن غالب یہی ہو کہ وہ کسی حرام کام میں استعمال نہ ہوگا ۔

مخصوص ما حول میں حجاب نہ کرنا

سوال: مجھے حجاب کی وجہ سے چند پریشانیاں لاحق ہیں۔ چند دن پہلے کسی شخص نے میرے حجاب کے باعث مجھ پر کچھ پھینکا تھا، میں نے کئی دوسری خواتین کو بھی دیکھا ہے جنہیں حجاب کی بنا پر نشانہ بنایا گیا ، ان کا حجاب نوچنے کی کوشش کی گئی۔

میرا سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایک مسلمان عورت حجاب کی بنا پر سخت خطرے میں ہو تو کیا وہ عارضی طور پر اپنا حجاب اتار سکتی ہے اور اس کے بدلے اپنے سر پر ہیٹ، ہُڈ (Hood) یا کوئی اور ایسی چیز رکھ لے کہ جس کے دیکھے جانے سے اس کا اسلامی تشخص نمایاں نہ ہو؟

میں حجاب کا مطلق انکار نہیں کر رہی ہوں ۔ صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ اگر اس قسم کے حالات پیدا ہو جائیں جو عورت کے لئے خطرے کا باعث ہوں تو وہ اپنی حفاظت کی خاطر حجاب اتار سکتی ہے ؟

جواب : أصل تو یہی ہے کہ کتاب و سنت کے مطابق ایک مسلمان عورت پر حجاب کی پابندی لازمی ہے اور صرف ایک موہومہ خوف یا معمولی سی تکلیف کی بنا پر اسے چھوڑا نہیں جا سکتا، لیکن اگر حقیقی طور پر خوف پایاجائے ، جیسے واقعی دھمکی دی جا رہی ہو یا بار بار چھیڑ چھاڑ کی گئی ہو یا اس کا امکان ہو تو شریعت کا تقاضا کہ ضرر (تکلیف) کا ازالہ کیا جائے اور ایک مسلمان کو مشقت میں نہ ڈالا جائے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

﴿ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة﴾ (سورة النقرة : 195)

’’اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘

فقہی قواعد کے مطابق ضرر کا ازالہ ضروری ہے اور ضرورت کی بنا پر ممنوع چیز جائز ہو جاتی ہے۔

اور اس بنیاد پر ایک مسلمان عورت کے لئے جائز ہے کہ اگر جسم و جان کی سلامتی پر خطرہ ہو تو اتنا حجاب اتارا جا سکتا ہے کہ جس سے خطرہ ٹل سکے ، اور بقدر امکان سر چھپانے کا انتظام ہو سکے، جیسے سر پر ہیٹ رکھ لیا یا کوئی اور ایسی چیز جو لوگوں کی توجہ کا باعث نہ ہو، صرف ضرورت کے مطابق یہ شکل اختیار کی جائے اور پھر یہ کہ خوف حقیقی ہو، صرف وہم وگمان نہ ہو، اس بات کی بھی کوشش کی جائے کہ ایسے وقت نکلا جائے ، جب کہ خطرہ کم ہو یا اپنے ساتھ کوئی دوسرا شخص بھی ہو اور ایسی جگہ راستے کے لئے منتخب کی جائے جو پُرامن ہو اور جونہی خطرہ ٹل جائے حجاب کو واپس لے لیا جائے۔

اور اگر ایسا ممکن ہو کہ سلامتی کے اسباب مہیا کر کے مکمل حجاب کیا جا سکے تو پھر حجاب کا اُتارنا مستحسن نہیں ہے ۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ حجاب واجب ہے ، صرف حقیقی خطرے کی موجودگی میں عارضی طور پر حجاب چھوڑا جاسکتا ہے یا اس میں تخفیف کی جاسکتی ہے، اور جونہی خطرہ ٹل جائے تو حجاب کو دوبارہ اختیار کر لیا جائے۔

٭٭٭

نام کتاب : چند تصویر بتاں ، چند حکایات اسلامیاں

مؤلف : ڈاکٹر صہیب حسن لندن

صفحات : 400

ناشر : مکتبہ ضیاء السنہ اسلام آباد

مکتبے کا کوئی ایڈریس ، فون نمبر ، ناشر کا نام ، ای میل یا رابطے کا کوئی ذریعہ لکھانہیں ہے ۔

طباعت ، جلد ، ٹائٹل – خوبصورت

قیمت درج نہیں

سال اشاعت دسمبر 2025ء

پاکستان کے عام مکتبات سے نام لے کر طلب کی جاسکتی ہے ۔

شاعر بزم اکبرآبادی کا یہی ایک شعر مشہور ہوا ہے اکبر آبادی کی وجہ سے لوگ بداہتہ اکبر الہ آبادی کا

شعر سمجھتے ہیں ۔ خیر وہ بھی ظریف شعراء میں شمار ہوتے ہیں بہر حال اب تک پہلے جملے کے سامنے آتے ہی پوراشعر زبان پر آجاتا ہے

چند تصویرِ بتاں، چند حسینوں کے خطوط

بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ ساماں نکلا

لیکن ڈاکٹر صاحب نے دوسرا مصرعہ پورا مولویانہ بنا ڈالا! اب آپ کا اپنا مزاج ہے اس مولویانہ مصرعے سے اپ سیٹ ہوں یا محفوظ ، لیکن جب آپ اس کتاب کو پڑھیں گے تو یہ مناسبت سمجھ آجائے گی بلکہ لطف بھی دے گی ۔

ڈاکٹر صہیب حسن ایک نام نہیں برینڈ ہے ۔ علم ، عمل، مزاح ، ظرافت و متانت ، تدبر و تفکر ، تحمل ، فکاہت و خوش مزاجی کا ، کتابی چہرہ جس کے پیچھے ایک زندہ دل انسان چھپا ہواہے ۔ اللہ نے انہیں کچھ اضافی خوبیاں ان میں بھری ہوئی ہیں جو یکبارگی ملاقات میں نظر نہیں آتیں بلکہ برسوں کا تعلق ضروری ہے ۔ چاول اور مرسڈیز کا ماڈل جتنا پرانا ہوگا اتنا ہی طرحدار ہوگا۔

ڈاکٹر صاحب سے 1989 سے لیکر اب تک ہمارا پیار ، محبت بلکہ عقیدت بغیر کسی علالت اور بغیر غل و غش کے سلامت رہی ہے ۔ اور یہ رشتہ وحسن أولئك رفیقا ذالك الفضل من اللہ کا مصداق رہے گا۔

ڈاکٹر صہیب حسن جہاں ابن تیمیہ ابن قیم اور دیگر مفکرین و محدثین کے خوشہ چین ہیں وہاں ابن بطوطہ کے پیچھے پیچھے بھی مزے سے چلتے ہیں اور محدثین و مفکرین کی فکر کی احیاء میں مگن ہیں وہاں سیاحت میں بھی اپنی مثال آپ ہیں ۔

سفر نامے میں دلچسپی و جدت پیدا کرنا ان کے بائیں ہاتھ کام ہے ۔ اسی طرح زیر تبصرہ کتاب ایک علمی مطالعہ بھی ہے ۔

اس میں انیس مضامین ہیں پہلا مضمون ’’ امام حرم کی میزبانی میں “ اور تیرھواں مضمون لندن سے غرناطہ ، جو سب سے زیادہ موثر کن ہیں ۔ میرے محتاط اندازے میں بال جبریل کے مصنف کی نظم مسجد قرطبہ میں جو سوز و گداز ہے وہی ڈاکٹر صہیب کی نثر میں ہے ۔اس کے پس منظر میں پورا اندلس، قرطبہ اور غرناطہ کی اسلامی تہذیب و تمدن کی یادیں موجود ہیں۔اس تحریر میں مؤلف کے دل کا درد تین بڑے پہلوؤں میں نمایاں ہوتا ہے:

1۔ عظمتِ اندلس کی یاد

جب صاحب کتاب قرطبہ اور غرناطہ کی سرزمین پر پہنچے تو انہیں مسلمانوں کے شاندار ماضی کی یاد ستانے لگی ۔ وہ اس تہذیب کو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایمان، عشق اور تخلیقی قوت کا مظہر سمجھتے ہیں۔ البتہ ڈاکٹر صاحب کو مسجد قرطبہ کے محراب کے قریب اذان کہنے اور نماز باجماعت ادا کرنیکی سعادت نصیب ہوگئئ ۔ جو ایک نایاب چیز تھی ۔

2۔زوالِ مسلم کا درد

مسجدِ قرطبہ کی عظمت دیکھ کر ان کے دل میں یہ حسرت ابھرتی ہے کہ جن لوگوں نے ایسی عظیم تہذیب قائم کی تھی، ان کی اولاد آج کمزوری، انتشار اور غلامی اور حدیث نبوی کے بقول “ وھن “کا شکار ہے۔

الا ایھا اللیل الطویل الا انجلی

یصبح وما الا صباح منک بامثل

’’اے طویل رات اب تو چھٹ جا ، لیکن صبح ہو بھی گئی تو تجھ سے بہتر نہ ہوگی ۔‘‘

3۔ بیداری اور انقلاب کی دعوت

مصنف ماضی پر صرف نوحہ نہیں کرتے بلکہ امت کو بیدار ہونے کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قوموں کی زندگی مسلسل جدوجہد اور انقلاب میں ہے:

جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی

روحِ اُمم کی حیات، کشمکشِ انقلاب

انقلابی پیغام کا نچوڑ ہے۔

دردِ دل کی سب سے نمایاں مثال

دل کا سوز و گداز اقبال کے ان اشعار میں بہت نمایاں ہے:

اے حرمِ قرطبہ! عشق سے تیرا وجود

عشق سراپا دوام، جس میں نہیں رفت و بود

اور

نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر

یہاں ’’خونِ جگر‘‘ سے مراد وہ داخلی درد، قربانی، اخلاص اور سوز ہے جس کے بغیر کوئی قوم عظمت حاصل نہیں کرسکتی۔

ڈاکٹر صہیب حسن کے اس طویل مضمون میں

 اندلس کی عظمت پر فخر،

 مسلمانوں کے زوال پر درد،

 مسلمانان اندلس پر کیا بیتی ؟

 اور امت کو تجدید و بیداری کی دعوت

یہ تینوں جذبات یکجا ہو گئے ہیں۔امراؤ القیس کا ایک دلگداز شعر کہ

جادك الغیث إذا الغیث ھمی

یا زمان الوصل بالأندلس

لم یکم عھدك إلا حکما فی

الکری أو خلسة المختلس

ابر برسے تو تجھے جل تھل کردے

ہائے اندلس کی وہ ساعت وصل

وہاں کے ایام تھے کہ نیم بیداری کا خواب

یا چوری چھپے نگاہ غلط انداز کی ایک جھلک

مجھے یہ الفاظ ’’ قرطبہ ،اندلس ،غرناطہ ، سپین ، اشبیلیہ “ اس لیے بھی بہت متاثر کرتے ہیں کہ ابھی تک اس سفر سے محروم ہوں رب کریم توفیق عطا فرمائے اور ہم بھی اس کا سفر ضرور کریں گے ۔

اس مجموعے میں چند باتیں جن کی کمی محسوس ہوتی ہے ان میں سے ایک ناشر کی جانب سے مؤلف کتاب کا تعارف بھی شامل ہونا چاہیئے تھا تاکہ نسل نو کو مؤلف کی حیات و خدمات سے شناسائئ رہے ۔ دوسری بات کہ مؤلف محترم کی جانب سے اپنے تمام سفر نامے سن وار ایک سے زیادہ جلدوں میں جمع کردیے جائیں تاکہ ایک دستاویز بن سکے ۔

اب قاری کو یہ پتہ نہیں چلے گا کہ امام حرم کی میزبانی میں یہ سفر حرمین شریفین کب وقوع پذیر ہوا ۔یہی صورت عموما دوسرے مضامین میں واضح ہے اگر اس کا اہتمام کردیا جائے تو یہ تاریخ کے لیے ایک بڑی اہم بات ہوگی ۔

یاد رہے کہ

جس سفر کا انہوں نے دو لفظوں میں ذکر کیا یعنی 2014 میں اس پر میرا رپور تاژ شرعی کونسل کے آفس میں موجود ہے ۔ ڈاکٹر صاحب اسے بھی شامل اشاعت کرلیں ۔

ایک توجہ کتاب کے ٹائٹل پر مؤلف کے نام کے املا کے لیے بھی کہ

اردو املا کے لحاظ سے “صہیب حسن” درست ہے، جبکہ ’’صھیب حسن‘‘ درست املا نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ نام عربی “صُهَيْب” (Ṣuhayb) سے ماخوذ ہے، جس کی عربی رسم الخط میں ہجاء ص + ہ (هـ) + ی + ب = صہیب۔ لہٰذا اردو میں بھی اسے صہیب ہی لکھا جانا چاہیئے ۔ باقی کتاب کمال قسم کی دلچسپ معلومات سے لبریز ہے جو مولانا صہیب حسن کے رہرو قلم کی خاصیت ہے نیز یہ مضامین وقتاً فوقتاً ماہنامہ صراط مستقیم بر منگھم اور ’’المنبر “ فیصل آباد میں چھپ کر قارئین سے داد سمیٹتے رہے ہیں بہت اچھا ہوا کہ زیور طباعت سے آراستہ ہو کر ہر شخص کی پہنچ میں آگئے ہیں ۔ اس پر ناشر کا بھی شکریہ بنتا ہے ۔

خاکسار:حافظ عبدالاعلیٰ درانی ۔ بریڈفورڈ

بدھ 3 جون 2026

٭٭٭

متواضع کون؟

امام ابن القیم رحمہ الله فرماتے ہیں:

“لا تصح لك درجة التواضع ‏حتى تقبل الحق ممن تحب وممن تبغض ‏ ، فتقبله من عدوك ‏كما تقبله من وليّك.”

تم درجہ تواضع کے لائق نہیں‌بن سکتے ہیں یہاں تک کہ تم ہر اس شخص سے حق بات قبول کرو جس سے تم محبت کرو یا جس سے نفرت کرو، پس تم حق کو قبل کرو اپنے دشمن سے، جس طرح اپنے دوست سے قبول کرتے ہو۔(مدارج السالكين: 2؍ 321)

تبصرہ کریں