
مادر علمی جامعہ دار السلام عمر آباد، جنوبی ہند کی دوسری جماعت کا میں طالب علم تھا کہ اس سال ہماری ایک درسی کتاب شیخ التفسیر مولانا حافظ عبدالکبیر رحمہ اللہ کے ہاں مقرر تھی۔ اس زمانے میں مروجہ نظام کے مطابق ابتدائی درجات عموماً جونیئر اساتذہ کو دئیے جاتے تھے اور اونچے درجات سینئر اساتذہ کو، لیکن اس سے اساتذہ اور طلبہ کے درمیان خلیج سی حائل رہتی اور بڑے اساتذہ سے چھوٹی جماعتوں کے طلبہ استفادہ نہیں کر پاتے تھے۔ اس لیے جامعہ نے طے کیا تھا کہ سینئر ز کو بھی ایک آدھ سبق جو نیئر ز کا دیا جائے۔ یوں ہمارا ایک سبق مولانا کے پاس آیا۔ ہم کم عمر تھے اور مولانا کا شمار سینئر اساتذہ میں ہوتا تھا۔ اس وقت مولانا اپنی کلاس جامعہ کی عمارت کی بجاے مسجد عمر آباد میں لیا کرتے تھے۔ اس لیے یہ کلاس اور بھی پُر وقار بن گئی تھی۔ جب ہم نئے سال کے آغاز میں پہلے دن مولانا کے درس میں حاضری کے لیے مسجد پہنچے تو طلبہ اپنی مرضی سے ادھر ادھر بیٹھنے لگے لیکن مولانا نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا کہ ’’یہ مسجد ہے، یہاں بیٹھنے کے کچھ آداب ہیں ، اس کا آپ سبھوں کو خیال رکھنا ہوگا۔‘‘
پھر ہم سے سال گزشتہ کے نتائج دریافت کیے کہ کس کے کیا نمبرات تھے۔ اتفاق سے میرے نمبر زیادہ تھے ، تو فرمایا کہ تم پہلے بیٹھ جاؤ۔ نتائج کے حساب سے تمام طلبہ کو بٹھا دیا گیا اور تاکید کی کہ آئندہ اسی ترتیب سے آپ بیٹھیں گے۔ میرے لیے یہ پریشانی کی بات تھی کہ بڑے استاذ نئی کلاس اور ترتیب میں پہلے بٹھا دیا گیا۔ آگے پتہ نہیں مجھ سے کیا کہیں گے۔ شاید میرے لیے یہ اعزاز تھا، مگر اس وقت یہ وجہ مرعوبیت بن گیا۔ چنانچہ استاذ محترم نے پہلا سوال جو عربی گرامر کے متعلق تھا مجھ سے ہی کیا: جواب دینے کی بجائے میں تو ان کا چہرہ ہی دیکھتا رہ گیا کہ پتہ نہیں آگے کیا ہو گا، لیکن جواب نہ دینے کے باوجود وہ مسکرا ہی رہے تھے۔ اتنے میں ساتھیوں نے یاوری کی اور میری مشکل ٹلی۔ اب سوالات دوسرے طلبہ سے کیے جا رہے تھے۔ بتدریج میرے حواس ٹھیک ہوتے گئے کہ یہ استاذ صاحب نہ مار رہے ہیں نہ ہی ڈانٹ رہے ہیں ۔ اس گھنٹی میں مختلف لڑکوں نے سوالات کے عجیب و غریب، دل چسپ اور یادگار جوابات دیئے۔ در اصل استاذ محترم ہماری صلاحیتوں کا امتحان لے رہے تھے ، تا کہ آگے کا منصوبہ بنا سکیں ۔ یہ استاذ محترم مولانا سید عبدالکبیر رحمہ اللہ کی پہلی گھنٹی تھی ، جو ہم جیسے سینکڑوں طلبہ کی پون صدی تک اپنے خون جگر سے علمی پیاس بجھاتے رہے۔
منکسر المزاج، شہرت طلبی سے دور ، طبیعت میں سادگی کچھ ایسی کہ تعارف نہ کرایا جائے تو اجنبی مجلس میں لوگ موصوف کے ساتھ اجنبیت ہی کا سلوک کریں۔ خصوصی موقعوں پر بھی اسٹیج اور اگلی نشستوں پر بیٹھنے سے عموما کتراتے ۔ شاید یہ حدیث پیش نظر ہوتی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إن الله يحب العبد التقى الغنى الخفى» (صحیح مسلم: 2965)
ہم نے مختلف مضامین ان سے پڑھے لیکن تین ایسے مضامین تھے جو جامعہ میں استاذ محترم کے ساتھ ہی مختص تھے۔ علم الفرائض، اصول تفسیر اور بیضاوی اگر مقررہ نصاب کی تدریس میں کچھ اسباق باقی رہ جائیں تو عموماً مغرب یا عشا کے بعد اضافی وقت میں اس کی تکمیل کی جاتی ۔ خصوصاً علم الفرائض میں اس کی ضرورت پیش آتی ، کیوں کہ وراثت کی تقسیم کے لیے عملی مشق و تمرین کی بھی ضرورت پڑتی ہے، جو کہ مقررہ وقت میں کلاس کے اندر ہو نہیں پاتی۔ احساس ذمہ داری اور جذبہ تدریس سے سرشار شخصیتیں ہی یہ کام کر سکتی ہیں کہ دن بھر کی اعصاب شکن مصروفیات کے بعد اپنی راحت کے اوقات بھی تشنگان علوم کو سیراب کرنے میں لگا دیں، ورنہ عرب اور یورپی ممالک کے خوش حال اساتذہ کے لیے عمل اضافی مکافات اضافیہ کے ساتھ مشروط ہوتا ہے، جب کہ ہمارے دیس کی دینی درس گاہوں میں اضافی مشاہرہ کی بات بھی معیوب متصور ہوتی ہے کہ سب کچھ اگر یہیں لیں گے تو یوم الاجر کیا پائیں گے۔ ان بزرگوں کا تو کل بھی کچھ عجیب نوعیت کا تھا کہ کچھ نہ ہونے کے باوجود الحمد للہ اور شکر یا اللہ کے کلمات بار ہا سننے کو ملتے اور یہاں بہت کچھ ہونے کے باوجود ہائے اور وائے قسمت کے شکوے حتی کہ کسی نے ایک ترقی یافتہ خوش حال ملک ریاست ہائے امریکہ کے متعلق کہا کہ اسے ریاست ہائے کی بجائے ’’ریاست ہائے ہائے ‘‘ پڑھیے کہ وہاں ہر آدمی ہائے ہائے کی رٹ لگائے رہتا ہے۔
مشرقی ممالک کے مقابلہ میں مغربی دنیا کی ترقی خوشحالی اور چمک دمک واضح ہے لیکن عمومی اعتبار سے یہ دین بیزار معاشرہ ہے، مادی ترقی ہی سب کچھ سمجھ لی گئی۔ اس چمک کو حاصل کرنا ہی زندگی کا اصل مقصود بن گیا ، اس کو پانے کے امکانات اور ذرائع بظاہر آسان اور پرکشش بنا دیئے گئے، لیکن اس کے پیچھے جن تلخ حقیقتوں کا سامنا کرتا ہوتا ہے اور بعد میں جن بھیانک نتائج کو بھگتنا ہوتا ہے،اس کی تصویر کربناک ہے کہ گھر کے قریبی افراد ایک دوسرے سے لا تعلق حتی کہ خاندان کے کے معدودے چند لوگوں کے سوا اکثر سے ناواقف آدمی خوشحال زندگی کی سہولتوں کو پانے کے لیے مختلف سودی اداروں سے بھی مدد لیتا ہے اور جب چند روز کے بعد ادائیگی کے بلز اور تقاضے پیچھا کرتے ہیں تو یہی چمک دمک اس کے ذہنی سکون کو برباد کر کے اس شخص کو ہاسپٹل اور دواؤں کا محتاج بنا دیتی ہیں اور بعض تو ان بلز کے ناقابل برداشت بوجھ سے خود کو نکالنے کے لیے خود کشی کرنے سے تک دریغ نہیں کرتے
طالب علمی کا آخری سال ہر طالب علم کے لیے بڑا اہم اور یادگار ہوتا ہے اور ہمارے لیے یہ سال 1977 ء زیادہ یاد گار اس لیے ثابت ہوا کہ یہ جامعہ کا جشن طلائی کا سال تھا۔ تعلیم و تدریس کے اس سفر میں جامعہ نے پچاس سال پورے کر لیے تھے۔ اس مناسبت سے ایک ایسے جلسہ کا اہتمام کیا گیا جس کی نظیر یا مثال قرب و جوار میں ابھی تک دیکھنے میں نہیں آئی۔ علم وادب اور فکر و نظر کی ایسی قد آور شخصیتیں عرب و عجم سے عمر آباد جیسے مختصر قریہ میں جمع ہوئیں، گویا کہکشاں اس بستی میں اتر آئی ہو۔ علاقہ بھر کے کیا ہندو کیا مسلمان، ہر ایک ان یاد گار لمحات کو اپنے دل و دماغ میں محفوظ کرنے کے لیے چشم براہ تھا۔ مقامی اخبارات اور ریڈیو پوری فیاضی سے اس کی رپورٹنگ کر رہے تھے۔ ہر ایک کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔
ایسے موقعوں پر عموماً سینئر طلبہ پیش پیش ہوتے ہیں۔ چوں کہ ہم آخری سال میں تھے، اس لیے ہمیں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انتظامات میں بھر پور حصہ لیں۔ اس وقت استاذ محترم پر جامعہ کی نظامت کی بھی ذمہ داری تھی۔ یوں موصوف کی براہ راست نگرانی میں غیر درسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع میسر آیا۔ یہ وہ دن تھے جب تمام اساتذہ کرام اور منتظمین جامعہ ان تاریخی لمحات کو با مقصد بنانے میں جٹے ہوئے تھے۔ معتمد جامعہ محترم کا کا محمد عمر رحمہ اللہ اور شریک معتمد مولانا کا کا سعید احمد عمری حفظہ اللہ براہ راست تمام کاموں کی نگرانی کچھ اس انداز سے کر رہے تھے کہ ان کی پھرتی اور لگن بہت ساروں کے لیے مہمیز کا کام کر رہی تھی۔ نصف رات بیت گئی لیکن آفس میں کام جاری ہے۔ صبح فجر کے بعد دیکھیے کام ہو رہا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے کام کی نگرانی اس طرح فرمارہے تھے کہ کہیں کسی جگہ کوئی نقص نہ رہ جائے۔ بہت کم درس گاہوں کو ایسے ذمہ داران اور منتظمین میسر آئے ہوں گے ، جن کے شب و روز کا بیشتر حصہ جامعہ کی سربلندی کی نذر ہو ۔ جزاهم الله خيراً استاذ موصوف علیہ الرحمہ کی ایک خاص اور خاموش صفت جس کا راقم نے کئی بار مشاہدہ کیا وہ صلاة الحاجہ کا اہتمام تھا۔ اہم موقعوں پر وہ نماز کا اہتمام فرماتے۔ ویسے تو وہ باوضو اکثر رہا کرتے ۔ آں محترم کی کلاس مسجد میں ہوا کرتی ، اس لیے بھی اور حکم ربانی پر عمل کا جذبہ بھی یقینا رہا ہوگا۔ واستعينوا بالصبر والصلاة و انها لكبيرة الا على الخاشعین ۔ اور فرمایا کرتے کہ تعلیم میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہیے، لیکن صرف اپنی کوششوں ہی پر بھروسہ نہ کیجیے۔ قرآن مجید کے وہ نہایت پختہ حافظ تھے۔ اس پختگی کا ایک سبب آں محترم کی تلاوت کا معمول تھا۔ روزانہ پابندی سے وہ اپنی منزل ضرور سنایا کرتے، ورنہ عموماً حفاظ کرام صرف رمضان میں اس کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن استاذ محترم کا سال بھر یہ معمول تھا۔ مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ روزانہ فجر بعد ان کی منزل سنوں۔ ایک سال بقر عید کی چھٹیوں میں ہم جامعہ ہی میں تھے۔ ویسے بھی اس وقت دور کے طلبہ صرف سالانہ چھٹی میں اپنے گھر جایا کرتے تھے۔ عید کی چھٹیاں جامعہ ہی میں گزرتیں۔ عید کے دن میرا خیال تھا کہ آج قرآن نہیں سنائیں گے۔ میں احتیاطاً کمرہ کے سامنے پہنچا اور ادھر سے استاذ محترم تشریف لے آئے ۔ معمول کے مطابق قرآن سنایا۔ پھر عید کی تیاری کی ہدایت دیتے ہوئے وہ اپنے گھر روانہ ہو گئے۔ تلاوت کا یہ التزام ہم سب کے لیے دعوت عمل رکھتا ہے۔
بہار ہو کہ خزاں مجھے ہےحکم اذان لا الہ الا اللہ
موصوف علیہ الرحمہ کا پسندیدہ موضوع قرآن مجید تھا۔ دوران تدریس تفسیر میں عموماً الفاظ کی گہرائی اور نحوی قواعد پر زیادہ زور دیتے۔ شاید اس لیے کہ یہ قرآن فہمی کی پہلی کڑی ہے اور حاملین علوم نبوت کی معلومات ٹھوس بنیادوں پر استوار ہو سکے، نہ کہ صرف ثقافتی باتوں پر ۔
تفسیر بیضاوی کی عبارت درست پڑھنے کی ترغیب اس طرح فرماتے کہ روزانہ ایک طالب علم کے ذمے ہوتا کہ عبارت بآواز بلند پڑھے اور ساتھ ساتھ وہ اس کی تشریح فرمایا کرتے۔ درس میں مکمل عبارت کوئی اگر بغیر کسی غلطی کے پڑھے تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک انعام مقرر تھا۔ وہ یہ کہ
خود اپنے ساتھ اسے چائے پلاتے۔ یہ بڑا اعزاز تھا۔ چائے سے زیادہ صاحب چائے کے ساتھ بیٹھنے کا شرف، اس لیے بجا طور پر وہ شاگرد اپنے دوستوں کی محفل میں فخریہ کہا کرتا کہ میں نے مولانا سے چائے پی ہے۔ اس کے لیے طالب علم کو خصوصی محنت کرنی پڑتی کہ عبارت کی خواندگی میں کہیں جھول نہ رہے۔ یہ ہمارے ان بزرگ اساتذہ کرام کی محبت اور اخلاص کی مثال ہے کہ اپنا وقت اور اپنا پیسہ صرف کرتے، تا کہ اپنے شاگردوں کو علم دین کا حقیقی وارث بنا سکیں۔ یہ ایسی نیکیاں ہیں جن کے ثواب جاریہ ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے:
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ، إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ»
خود درس نظامی کی تکمیل کے بعد 72 سال ایک ہی درس گاہ میں بڑی نیک نامی کے ساتھ گزار دیے۔ اس دوران نہ جانے کتنے طلبہ کے قلوب و اذہان کو منور کیے اور کتنے خاندانوں کو روشن ! اللهم اجعل في ميزان حسناته
اس طویل دورانیہ میں یقینا انسان کی زندگی میں مختلف موڑ آتے ہیں ۔ گرمی ، سردی ، تلخ و شیریں، نشیب و فراز۔ ہر قسم کے حالات اور تجربات سے زندگی عبارت ہے۔ جذبہ صادقہ کے بغیر زندگی کے تیز وتند ہواؤں کے جھونکے انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ آج کے اس مادی دور کے مہیب اندھیروں میں ایسے رجال کار چراغ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ہمارا آخری سال مکمل ہوا۔ ہم اپنی اسناد اور ضروری کاغذات کے حصول میں متحرک تھے ۔ استاذ محترم بطور ناظم آفس میں تشریف فرما تھے اور محترم ماسٹر خلیل صاحب کو ہدایات دے رہے تھے۔ انگریزی دستاویزات کی تیاری کا کام ان ہی کے سپرد تھا۔ اس سال سند فضیلت حاصل کرنے والوں میں سے چھے طلبہ کا داخلہ شہرہ آفاق دانش گاہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں متوقع تھا اور چھے طلبہ ہم سے پہلے کے فارغین جامعہ تھے۔ کل ہم بارہ ساتھی تھے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک ہی جماعت کے اتنے طلبہ کو داخلہ مل رہا تھا اور وہ بھی فراغت ہی کے سال، ورنہ وہاں داخلے کے لیے کئی سال انتظار کرنا پڑتا تھا۔ ہم جب اپنے کاغذات لینے پہنچے تو کچھ اور فارغین بھی ساتھ تھے ، جو اپنی اسناد حاصل کرنا چاہتے تھے مگران کی مرضی کے کاغذات کے حصول میں کچھ دشواریاں تھیں۔ مولانا چاہتے تھے کہ وہ علیحدہ آئیں، تا کہ ان کے مسائل الگ سے حل کیے جائیں، لیکن ان طلبہ کو اندازہ تھا کہ الگ سے آنے میں ان کے لیے کچھ خسارہ ہے ۔ استاذ محترم دونوں گروہوں کی اداؤں کو اپنی اسی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ ماسٹر صاحب مولانا کے حکم کے منتظر تھے کہ کس کی اخلاقی سند پر کیا لکھوں۔ موصوف کے ساتھ میری طالب علمی کے زمانہ کی یہ آخری نشست تھی۔ جس مسکراہٹ کے ساتھ پہلی نشست کا آغاز ہوا تھا، چھے سال بعد اسی تبسم کے ساتھ آخری نشست اختتام پذیر ہوئی۔ مجھے میرے کا غذات مل گئے اور استاذ محترم نے مدینہ منورہ کے متوقع امیدواروں کو بروقت پاسپورٹ بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے ہمیں جامعہ سے رخصت کیا۔ اس وقت وہاں پاسپورٹ بنانا بھی ایک مہم سر کرنے کے برابر تھا۔
حکومتی پابندیاں اور رکاوٹیں کچھ زیادہ ہی تھیں، الحمدللہ پاسپورٹ اور ویزہ وغیرہ کے مراحل بحسن وخوبی مکمل ہوئے اور ہم بڑی تمناوں اور آرزوؤں کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے۔ ہم نے مختلف شعبوں میں داخلہ لیا۔
کلیۃ القرآن الکریم کے طلبہ کو نصاب کے متعلق ابتدائی دنوں میں کچھ مشکلات کا سامنا تھا۔ استاذ محترم نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوے جو خط لکھا، وہ بروقت اور نہایت ہی اہمیت کا حامل تھا کہ قرآن فہمی اور تفسیری مہارت میں فنِ قراءت کی کتنی اہمیت ہے، وغیرہ۔
اس خط کی وجہ سے بعض ساتھیوں کے ڈگمگاتے قدم جم گئے ۔ غرض اپنے عزیز شاگردوں کی فکر اور ان کی رہ نمائی جامعہ سے فراغت کے بعد بھی مولا نا فرماتے رہے۔
اللهم اغفر له وارحمه وتقبل حسناته و تجاوز عن سيئاته
٭٭٭
شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا ایک عربی شعر
ایک مرتبہ حضرت شیخ الحدیث مرحوم نے کہا کہ میں نے طالب علمی کے زمانہ میں ایک فارسی شعر کا منظوم عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ وہ فارسی شعر یہ ہے:
آں کس کہ نداند و بداند کہ بداند
در جہل مرکب ابد الدہر بماند
’’وہ شخص جو نہیں جانتا ہے (لیکن بزعم خود) یہ جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے، ایسا شخص ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہالت ہی میں رہے گا۔‘‘
شیخ الحدیث کا عربی میں منظوم ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
“الذي لا يعلم وهو يعلم أنه يعلم يكون في الجھل المركب أبدا أبدا
اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه
٭٭٭﷾
برمنگھم میں
محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ کا خطاب عام
الہدیٰ انٹرنیشنل کی عالمی شہرت یافتہ داعیہ اور مبلغہ استاذہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہکا جامع مسجد گرین لین برمنگھم میں خواتین کے لیے خطاب عام تھا۔ جس میں بہت سی خواتین نے ان کے خطاب سے استفادہ کیا۔ منتظمین نے استاذہ محترمہ کا شکریہ ادا کیا اور ان کی صحت وعافیت کے لیے دعا کی۔ واضح رہے کہ برمنگھم میں دیگر مساجد میں ان کے خطابات بھی ہوئے۔
٭٭٭
تبصرہ کریں