جہنم میں اہل جہنم کی حالت زار ۔ قاری احمد صدیق

جہنم کا ذکر دلوں کو ہلا دیتا ہے، آنکھوں کو اشکبار کر دیتا ہے اور غفلت میں ڈوبے انسان کو اپنے انجام کی فکر دلاتا ہے۔ یہ اس مقام کا تذکرہ ہے جہاں پہنچ کر حسرتیں باقی رہ جائیں گی، مگر واپسی کا کوئی راستہ نہ ہوگا؛ فریادیں بلند ہوں گی، مگر کوئی سننے والا نہ ہوگا؛ موت مانگی جائے گی، مگر موت بھی نصیب نہ ہوگی۔

ارشاد ربانی ہے :

﴿فَأَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ﴾

’’پس میں نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے۔‘‘(سورۃ اللیل: 14)

اے اللہ کے بندو! دنیا کی آگ سے انسان چند لمحوں میں بے قرار ہو جاتا ہے، لیکن اس آگ کا کیا حال ہوگا جس کی شدت کو بیان کرنے سے الفاظ عاجز ہیں؟ قرآن و سنت نے اہلِ جہنم کی جو حالت بیان کی ہے، وہ انسان کو جھنجھوڑنے اور توبہ کی طرف پلٹانے کے لیے کافی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾

’’وہ پکاریں گے: اے مالک! تمہارا رب ہمارا کام تمام کر دے۔ وہ کہے گا: تمہیں ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔‘‘

(سورۃ الزخرف: 77)

یہ وہ مقام ہوگا جہاں انسان اپنی کوتاہیوں پر پچھتائے گا، مگر پچھتاوا فائدہ نہ دے گا۔ لہٰذا عقل مند وہ ہے جو موت سے پہلے تیاری کر لے اور حساب سے پہلے اپنا حساب کر لے۔

آج ہم قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھیں گے کہ جہنم میں اہلِ جہنم کی حالت کیا ہوگی، ان کی ذلت، حسرت، فریاد اور دردناک انجام کیسا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے اور جنت الفردوس کا وارث بنائے۔ آمین۔

جہنم میں مجرموں کی ذلت و رسوائی

سلف صالحین فرمایا کرتے تھے:

“مَنْ خَافَ الْوَعِيدَ قَصُرَتْ عَلَيْهِ الشَّهَوَاتُ.”

’’جو شخص اللہ کی وعید سے ڈرتا ہے، اس کے لیے خواہشات خود بخود محدود ہو جاتی ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے جہنم کو صرف عذاب کی جگہ نہیں بنایا بلکہ اسے کفار، مشرکین، منافقین اور سرکش مجرموں کی ذلت و رسوائی کا مقام بھی بنایا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِالْكِتَابِ وَبِمَا أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ 0 إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ 0 فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ﴾

’’جن لوگوں نے اس کتاب اور اس چیز کو جھٹلایا جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسول بھیجے، وہ عنقریب جان لیں گے، جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی، انہیں کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘

(سورۃ غافر: 70-72)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“هذا غاية الإهانة والإذلال لأهل الكفر يوم القيامة.”

’’یہ قیامت کے دن اہلِ کفر کے لیے انتہائی ذلت اور رسوائی کی کیفیت ہوگی۔‘‘(تفسير ابن كثير، سورۃ غافر)

اسی طرح فرمایا:

﴿إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ 0 يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ﴾

’’بے شک مجرم گمراہی اور آگ میں ہوں گے۔ جس دن انہیں منہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا (اور کہا جائے گا:) چکھو دوزخ کا مزہ۔‘‘(سورۃ القمر: 47-48)

ذرا تصور کیجیے! دنیا میں انسان اپنے چہرے کی معمولی سی بے عزتی بھی برداشت نہیں کرتا، لیکن قیامت کے دن مجرموں کو منہ کے بل گھسیٹا جائے گا۔ نہ عزت باقی رہے گی، نہ طاقت، نہ کوئی مددگار۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ؟ قَالَ: أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟

صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کافر کو قیامت کے دن منہ کے بل کیسے چلایا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس ذات نے اسے دنیا میں پاؤں پر چلایا، کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں؟‘‘ (صحيح بخاری: 4760؛ صحيح مسلم: 2806)

یہ ذلت صرف جسمانی نہیں ہوگی بلکہ روحانی بھی ہوگی۔ دنیا میں جن لوگوں نے اللہ کے احکام کو ٹھکرایا، رسولوں کی مخالفت کی، تکبر کیا اور گناہوں پر اصرار کیا، وہ اس دن سب کے سامنے رسوا ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ 0 خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ﴾

’’جس دن سخت ہولناک معاملہ پیش آئے گا اور انہیں سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو وہ سجدہ نہ کر سکیں گے، ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ذلت انہیں گھیرے ہوئے ہوگی۔‘‘(سورۃ القلم: 42-43)

معزز مسلمانو!

یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ جہنم کا عذاب صرف آگ کا نام نہیں، بلکہ وہاں ذلت، رسوائی، بے بسی، حسرت، ندامت اور دائمی محرومی بھی ہے۔ اسی لیے اہلِ ایمان ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے:

﴿رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا 0 إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا﴾

’’اے ہمارے رب! ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دے، بے شک اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے، یقیناً وہ بہت ہی برا ٹھکانا اور رہنے کی جگہ ہے۔‘‘ (سورۃ الفرقان: 65-66)

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نافرمانی، تکبر اور گناہوں سے محفوظ رکھے، اور قیامت کے دن کی ذلت سے بچاتے ہوئے جنت الفردوس کا وارث بنائے۔ آمین۔

جہنمیوں کے چہرے آگ سے جھلس جانا اور سیاہ ہو جانا

انسان کی عزت و شناخت کا سب سے نمایاں حصہ اس کا چہرہ ہے۔ دنیا میں معمولی سی خراش بھی انسان کو بے چین کر دیتی ہے، لیکن جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کو اپنا شعار بنایا، قیامت کے دن ان کے چہرے ذلت، رسوائی اور آگ کے عذاب کا سب سے بڑا نشانہ ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ﴾

’’آگ ان کے چہروں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں بدصورت، ہونٹ سکیڑے ہوئے اور دانت نمایاں کیے ہوئے ہوں گے۔‘‘(سورۃ المؤمنون: 104)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

أي: تلفح النار وجوههم فتشويها، فتتقلص الشفاه عن الأسنان، ويصيرون في أقبح منظر.

’’یعنی آگ ان کے چہروں کو بری طرح جلا دے گی، ہونٹ سکڑ جائیں گے، دانت باہر نکل آئیں گے، اور وہ انتہائی بدصورت حالت میں ہوں گے۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر، سورۃ المؤمنون، آیت 104)

امام ابو جعفر طبری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

“الكالح: الذي قد تقلصت شفتاه من شدة لفح النار حتى بدت أسنانه.”

’’کالح اس شخص کو کہتے ہیں جس کے ہونٹ آگ کی شدت سے سکڑ جائیں اور دانت نمایاں ہو جائیں۔‘‘

(!جامع البيان، تفسیر سورۃ المؤمنون، آیت 104)

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“وهذه غاية في التشويه والإهانة.”

’’یہ انتہائی بدصورتی اور انتہا درجے کی ذلت و رسوائی کی کیفیت ہے۔‘‘( الجامع لأحكام القرآن، تفسیر سورۃ المؤمنون، آیت 104 )

چہروں کا سیاہ ہونا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ﴾

’’جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔ جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے، ان سے کہا جائے گا: کیا تم ایمان لانے کے بعد کفر کر بیٹھے تھے؟ پس اپنے کفر کے سبب عذاب کا مزہ چکھو۔‘‘

(سورۃ آل عمران: 106)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“أي: تسود وجوه أهل الكفر والبدع والنفاق، وتبيض وجوه أهل الإيمان والطاعة.”

’’یعنی کفر، نفاق اور گمراہی والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے، جبکہ ایمان اور اطاعت والوں کے چہرے روشن ہوں گے۔‘‘( تفسیر ابن کثیر، سورۃ آل عمران:106 )

آگ چہروں کو ڈھانپ لے گی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿سَرَابِيلُهُمْ مِنْ قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ النَّارُ﴾

’’ان کے لباس تارکول کے ہوں گے اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔‘‘(سورۃ ابراہیم: 50)

امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“خصَّ الوجوه؛ لأنها أشرف الأعضاء وأشدها إحساسًا بالألم.”

’’اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر چہروں کا ذکر فرمایا، کیونکہ یہی جسم کا سب سے معزز اور تکلیف کو سب سے زیادہ محسوس کرنے والا حصہ ہے۔‘‘ ( معالم التنزيل، تفسیر سورۃ ابراہیم: 50 )

جہنمیوں کو منہ کے بل گھسیٹا جانا، طوق، بیڑیاں اور زنجیروں میں جکڑ دیا جانا

اہلِ جہنم کے لیے صرف آگ کا عذاب ہی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایسی ذلت و رسوائی بھی ہے جسے سن کر ایمان والا کانپ اٹھتا ہے۔ دنیا میں مجرموں کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنائی جاتی ہیں، لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے باغی اور نافرمان ایسے طوق، زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑے جائیں گے جن کی حقیقت اور شدت کا تصور بھی دنیا میں ممکن نہیں۔

گردنوں میں طوق اور زنجیریں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ 0 فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ﴾

’’جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی، ان کو کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ (سورۃ غافر: 71-72)

الأغلال: گردن میں ڈالے جانے والے لوہے کے طوق۔

السلاسل: لمبی زنجیریں جن سے باندھ کر کھینچا جاتا ہے۔امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“تُشدُّ أيديهم إلى أعناقهم بالأغلال، ثم يُسحبون بالسلاسل سحبًا. “

’’ان کے ہاتھ طوقوں کے ذریعے ان کی گردنوں سے باندھ دیے جائیں گے، پھر انہیں زنجیروں سے گھسیٹا جائے گا۔‘‘

(جامع البيان، تفسیر سورۃ غافر (71-72)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

” وهذا منتهى الإهانة والذل. “

’’یہ ذلت اور رسوائی کی آخری حد ہے۔‘‘

منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں لے جایا جائے گا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ 0 يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ﴾

’’بے شک مجرم گمراہی اور آگ میں ہوں گے، جس دن انہیں آگ میں ان کے چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا (اور کہا جائے گا:) دوزخ کا مزہ چکھو۔‘‘ (سورۃ القمر: 47-48)

اسی طرح فرمایا:

﴿الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ أُولَٰئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضَلُّ سَبِيلًا﴾

’’جو لوگ اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے، یہی لوگ بدترین ٹھکانے والے اور سب سے زیادہ گمراہ ہیں۔‘‘(سورۃ الفرقان: 34)

اس کیفیت کی وضاحت نبی کریم ﷺ نے فرمائی

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

«أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ؟ قَالَ: «أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟»

’’ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کافر کو قیامت کے دن منہ کے بل کیسے چلایا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس ذات نے اسے دنیا میں پاؤں پر چلایا، کیا وہ اسے قیامت کے دن اس کے چہرے کے بل چلانے پر قادر نہیں؟‘‘( صحيح بخاری: 4760 )

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“وفيه إثبات كمال قدرة الله تعالى، وأن هذا الحشر يكون حقيقة. “

’’اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت کا اثبات ہے اور یہ کہ منہ کے بل اٹھایا جانا حقیقت پر محمول ہے۔‘‘( شرح صحيح مسلم: 17؍ 200 )

ستر ہاتھ لمبی زنجیر

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ﴾

’’پھر اسے ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو۔‘‘(سورۃ الحاقہ: 32)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“أي: يُنظَم فيها كما يُنظَم الجراد في الخيط. “

’’یعنی اسے اس زنجیر میں اس طرح پرو دیا جائے گا جیسے دھاگے میں ٹڈیاں پروئی جاتی ہیں۔‘‘

( تفسیر ابن كثير، سورۃ الحاقہ: 32 )

امام قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

“ولا يعلم حقيقة عظم هذه السلسلة إلا الله سبحانه. “

’’اس زنجیر کی اصل ہیئت اور عظمت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘( الجامع لأحكام القرآن : 18؍ 278 )

جہنمیوں کی چیخ و پکار، آہ و بکا، حسرت اور موت کی آرزو

جب اہلِ جہنم کو آگ میں ڈال دیا جائے گا، طوق اور زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا، اور ہر طرف سے آگ انہیں گھیر لے گی، تو ان کی زبانوں پر چیخ و پکار، آہ و زاری، حسرت اور موت کی آرزو کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ لیکن وہ دن ایسا ہوگا کہ نہ ان کی فریاد قبول ہوگی، نہ موت آئے گی، نہ عذاب میں کمی ہوگی۔

جہنمیوں کی چیخ و پکار

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ﴾

’’اور وہ جہنم میں چیخیں مار رہے ہوں گے: اے ہمارے رب! ہمیں یہاں سے نکال دے، اب ہم پہلے کے برعکس نیک اعمال کریں گے۔‘‘(سورۃ فاطر: 37)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“أي: يستغيثون ويستصرخون، ويسألون الرجعة إلى الدنيا، فلا يجابون إلى ذلك. “

’’یعنی وہ فریاد کریں گے، مدد کے لیے پکاریں گے، دنیا میں واپس بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، مگر ان کی کوئی درخواست قبول نہیں ہوگی۔‘‘

( تفسیر ابن كثير، سورۃ فاطر 35:37)

جہنمی موت کو پکاریں گے

شدتِ عذاب سے تنگ آ کر وہ موت کو آواز دیں گے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾

“وہ پکاریں گے: اے مالک! اپنے رب سے کہو کہ وہ ہمارا کام ہی تمام کر دے (ہمیں موت دے دے)۔ وہ جواب دے گا: تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے۔”

(سورۃ الزخرف: 77)

یہ جواب جہنمیوں کے لیے سب سے بڑی محرومی ہوگی کہ وہ موت مانگیں گے مگر موت بھی نصیب نہ ہو گی ـ

امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“أي: سل ربك أن يميتنا فنستريح من العذاب، فيجيبهم بأنهم مقيمون لا يخرجون منها. “

’’یعنی وہ کہیں گے: اپنے رب سے کہو کہ ہمیں موت دے دے تاکہ عذاب سے نجات مل جائے، مگر جواب ملے گا کہ تم ہمیشہ اسی میں رہو گے۔‘‘

( جامع البيان، تفسیر سورۃ الزخرف (77)

انہیں کہا جائے گا: آج ایک موت نہیں، بہت سی موتوں کو پکارو

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا﴾

’’آج ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی ہلاکتوں کو پکارو۔‘‘(سورۃ الفرقان: 14)

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“أي: لا ينفعكم الدعاء بالهلاك، فإن الهلاك لا يأتيكم، وإنما يزداد عليكم العذاب. “

’’یعنی ہلاکت کی دعا تمہارے کسی کام نہیں آئے گی، کیونکہ موت نہیں آئے گی، بلکہ عذاب بڑھتا ہی جائے گا۔‘‘

( الجامع لأحكام القرآن، تفسیر سورۃ الفرقان 14 )

نہ موت آئے گی، نہ زندگی سکون دے گی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى﴾

’’وہ نہ اس میں مرے گا اور نہ ایسی زندگی پائے گا جس میں آرام ہو۔‘‘ (سورۃ الأعلى: 13)

اور فرمایا:

﴿لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا﴾

’’نہ ان پر موت طاری کی جائے گی کہ مر جائیں، اور نہ ان سے جہنم کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔‘‘ (سورۃ فاطر: 36)

ہر طرف سے موت محسوس ہوگی، مگر موت نہیں آئے گی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ وَمِنْ وَرَائِهِ عَذَابٌ غَلِيظٌ﴾

’’اس کے پاس ہر طرف سے موت آئے گی، مگر وہ مرنے والا نہیں ہوگا، اور اس کے آگے سخت عذاب ہے۔‘‘

(سورۃ ابراہیم: 17)

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“أي: تأتيه أسباب الموت وآلامه من كل جهة، ولا يموت فيستريح. “

’’یعنی موت کی تمام تکلیفیں ہر طرف سے اس پر آئیں گی، مگر وہ مرے گا نہیں تاکہ اسے آرام مل سکے۔‘‘

( جامع البيان، تفسیر سورۃ ابراہیم: 17 )

دنیا میں واپسی کی حسرت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿رَبِّ ارْجِعُونِ 0 لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ كَلَّا﴾

’’وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے واپس بھیج دے تاکہ میں نیک اعمال کر سکوں۔ ہرگز نہیں!‘‘

(سورۃ المؤمنون: 99-100)

اگرچہ یہ آیات موت کے وقت ءکی کیفیت بیان کرتی ہیں، لیکن یہی حسرت جہنم میں بھی بار بار ظاہر ہوگی، جیسا کہ سورۃ فاطر (35:37) میں ان کی فریاد مذکور ہے۔

جہنمیوں کا کھانا اور پینا ، زقوم، ضریع، کھولتا ہوا پانی اور پیپ

اللہ تعالیٰ نے اہلِ جنت کے لیے لذیذ نعمتوں کا وعدہ فرمایا ہے، جبکہ اہلِ جہنم کے لیے ایسا کھانا اور پینا تیار کیا ہے جو بھوک اور پیاس بجھانے کے بجائے ان کے عذاب میں مزید اضافہ کرے گا۔

زقوم کا درخت: جہنم کی غذا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ 0 طَعَامُ الْأَثِيمِ 0 كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ 0 كَغَلْيِ الْحَمِيمِ﴾

’’بے شک زقوم کا درخت بڑے گناہ گار کی غذا ہوگا، وہ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں کھولے گا، جیسے کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔‘‘ (سورۃ الدخان: 43-46)

اسی طرح فرمایا:

﴿أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ 0 إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِّلظَّالِمِينَ 0 إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ 0 طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ 0 فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ﴾

’’کیا یہ بہتر مہمانی ہے یا زقوم کادرخت؟… وہ جہنم کی جڑ سے نکلنے والا درخت ہے، اس کے خوشے گویا شیاطین کے سر ہیں، پھر وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اپنے پیٹ بھر لیں گے۔‘‘ (سورۃ الصافات: 62-66)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” جعل الله شجرة الزقوم عذابًا لأهل النار، فإذا جاعوا أكلوا منها، فزادتهم ألمًا على ألم.”

’’اللہ تعالیٰ نے زقوم کے درخت کو اہلِ جہنم کے لیے عذاب بنایا ہے، جب وہ بھوکے ہوں گے تو اسی میں سے کھائیں گے، اور وہ ان کے درد میں مزید اضافہ کرے گا۔‘‘( تفسیر ابن كثير، سورۃ الصافات:62-66)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي دَارِ الدُّنْيَا لَأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعَايِشَهُمْ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَكُونُ طَعَامُهُ؟»

’’اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کی زندگی خراب کر دے، پھر اس شخص کا کیا حال ہوگا جس کی غذا ہی زقوم ہوگی؟‘‘

( جامع ترمذی: 2585 )

امام ترمذی نے فرمایا: حديث حسن صحيح ، جبکہ شیخ البانی نے ضعیف کا حکم لگایا ہے ۔

ضریع: کانٹے دار غذا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِيعٍ 0 لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ﴾

’’ان کے لیے ضریع کے سوا کوئی کھانا نہیں، جو نہ جسم کو طاقت دے گا اور نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ (سورۃ الغاشیہ: 6-7)

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“الضريع شوك من نار، لا ينتفع به آكله، بل يزيده عذابًا.”

’’ضریع جہنم کا کانٹے دار پودا ہے، جسے کھانے والے کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس کا عذاب مزید بڑھ جائے گا۔‘‘( الجامع لأحكام القرآن، سورۃ الغاشية 6-7 )

کھولتا ہوا پانی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾

’’انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔‘‘ (سورۃ محمد: 15)

اور فرمایا:

﴿وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ﴾

’’اگر وہ پانی مانگیں گے تو انہیں ایسا پانی دیا جائے گا جو پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘(سورۃ الكہف: 29)

پیپ اور خون

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿مِنْ وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ 0 يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُ﴾

’’اس کے سامنے جہنم ہے، اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا، جسے وہ گھونٹ گھونٹ کر پینے کی کوشش کرے گا مگر آسانی سے حلق سے نہ اتار سکے گا۔‘‘

(سورۃ ابراہیم: 16-17)

امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“الصديد: ما يسيل من لحوم أهل النار ودمائهم.”

’’صديد سے مراد اہلِ جہنم کے جسموں سے بہنے والی پیپ اور خون ہے۔‘‘ (جامع البيان، سورۃ ابراہیم: 14:16)

کھانے پینے سے عذاب کم نہیں ہوگا

یہ کھانا بھوک ختم نہیں کرے گا اور یہ پانی پیاس نہیں بجھائے گا، بلکہ ہر لقمہ اور ہر گھونٹ عذاب میں اضافہ کرے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ﴾

’’پھر اس (زقوم) کے بعد ان کے لیے کھولتے ہوئے پانی کی آمیزش ہوگی۔‘‘ (سورۃ الصافات: 67)

جہنمیوں کا لباس، ان کی کھالوں کا بار بار جلایا جانا، اور عذاب کا مسلسل نیا ہونا

جہنم کا عذاب صرف آگ میں جلنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ جہنم کے لباس، ان کی کھال، ان کے جسم اور ان کے احساس تکلیف سب کو عذاب کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ جب ایک کھال جل کر ختم ہو جائے گی تو دوسری کھال پیدا کر دی جائے گی، تاکہ عذاب میں کوئی کمی نہ آئے۔

آگ کے لباس

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ﴾

’’پس جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے آگ کے لباس کاٹے جائیں گے، اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔‘‘(سورۃ الحج: 19)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“أي: جعلت لهم ثياب من النار تحيط بهم من جميع جوانبهم.”

’’یعنی ان کے لیے آگ ہی کے لباس بنائے جائیں گے جو انہیں ہر طرف سے گھیر لیں گے۔‘‘

( تفسیر ابن كثير، سورۃ الحج (22:19)

کھولتا ہوا پانی سروں پر انڈیلا جائے گا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«﴿يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ 0 يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ﴾

’’ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا، جس سے ان کے پیٹ کی تمام چیزیں اور ان کی کھالیں پگھل جائیں گی۔‘‘ (سورۃ الحج: 19-20)

امام قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

“أي: يذيب الحميم ما في البطون من الأحشاء، كما يذيب الجلود .”

’’کھولتا ہوا پانی ان کی آنتوں اور پیٹ کے اندرونی اعضاء کو بھی پگھلا دے گا، اور ان کی کھالوں کو بھی۔‘‘

( الجامع لأحكام القرآن ، سورۃ الحج 19-20 )

لوہے کے گرز

جب اہلِ جہنم درد سے تڑپ کر نکلنے کی کوشش کریں گے تو فرشتے انہیں لوہے کے بھاری گرزوں سے مار کر دوبارہ جہنم میں دھکیل دیں گے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«﴿وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ 0 كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ﴾

’’اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے۔ جب بھی وہ غم کی شدت سے جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو انہیں اسی میں لوٹا دیا جائے گا، اور کہا جائے گا: جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو۔‘‘(سورۃ الحج: 21-22)

کھالوں کا بار بار بدلنا

یہ قرآنِ مجید کی نہایت خوفناک آیات میں سے ایک ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾

’’جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا، ہم انہیں عنقریب آگ میں داخل کریں گے۔ جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی، ہم ان کے بدلے دوسری کھالیں پیدا کر دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔ بے شک اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔‘‘

(سورۃ النساء: 56)

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“في هذه الآية دليل على أن الإحساس بالألم متعلق بالجلود، ولذلك جددها الله لهم.”

’’اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ درد کا تعلق کھال سے ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ اسے بار بار بدل دے گا تاکہ عذاب مسلسل محسوس ہوتا رہے۔‘‘

( الجامع لأحكام القرآن، سورۃ النساء 56 )

جہنمیوں کی حسرت، باہمی مکالمے، فریادیں اور دائمی محرومی

جہنم میں پہنچنے کے بعد اہلِ جہنم کو صرف جسمانی عذاب ہی کا سامنا نہیں ہوگا، بلکہ وہاں سب سے بڑی تکلیف حسرت، ندامت، بے بسی اور ہمیشہ کے لیے محرومی ہوگی۔ دنیا میں جن لوگوں نے حق کو پہچان کر بھی ٹھکرا دیا، نصیحت سن کر بھی غفلت اختیار کی، اور مہلت ملنے کے باوجود توبہ نہ کی، قیامت کے دن وہ اپنی غلطی کو پہچانیں گے، مگر اس وقت پچھتاوا کسی کام نہ آئے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾

’’اور انہیں حسرت کے دن سے ڈراؤ، جب فیصلہ کر دیا جائے گا، حالانکہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔‘‘(سورۃ مریم: 39)

جہنمیوں کا آپس میں جھگڑنا

دنیا میں جو لوگ گمراہی کے راستے پر ایک دوسرے کے ساتھی تھے، قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا حَتَّىٰ إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ﴾

’’جب بھی ایک گروہ داخل ہوگا، اپنے سے پہلے والے گروہ پر لعنت کرے گا، یہاں تک کہ جب سب جہنم میں جمع ہو جائیں گے تو بعد والے پہلے والوں کے بارے میں کہیں گے: اے ہمارے رب! انہوں نے ہمیں گمراہ کیا، انہیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ اللہ فرمائے گا: ہر ایک کے لیے دگنا ہے، لیکن تم نہیں جانتے۔‘‘ (سورۃ الأعراف: 38)

یہاں معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن باطل کی دوستی دشمنی میں بدل جائے گی۔

سرداروں اور پیروکاروں کی گفتگو

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّهُ لَهَدَيْنَاكُمْ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ﴾

’’اور سب اللہ کے سامنے ظاہر ہو جائیں گے، تو کمزور لوگ متکبر لوگوں سے کہیں گے: ہم تمہارے تابع تھے، کیا تم اللہ کے عذاب میں سے کچھ ہم سے دور کر سکتے ہو؟ وہ کہیں گے: اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں بھی ہدایت دیتے، اب ہمارے لیے برابر ہے کہ ہم صبر کریں یا بے صبری کریں، ہمارے لیے کوئی بچنے کی جگہ نہیں۔‘‘(سورۃ ابراہیم: 21)

دنیا میں جنہیں اپنا رہنما، سردار اور کامیابی کا ذریعہ سمجھا تھا، آخرت میں وہی بے بسی کا اظہار کریں گے۔

شیطان کا جہنمیوں سے خطاب

شیطان جس کے پیچھے چل کر لوگ گمراہ ہوئے، قیامت کے دن ان سے بری الذمہ ہو جائے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ﴾’’اور جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا: بے شک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا پھر میں نے تم سے وعدہ خلافی کی۔ میرا تم پر کوئی زور نہ تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں بلایا اور تم نے میری بات قبول کر لی۔ پس مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔‘‘ (سورۃ ابراہیم: 22)

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“في هذه الآية تخويف من اتباع الشيطان، فإنه يتبرأ من أتباعه يوم القيامة.”

’’اس آیت میں شیطان کی پیروی سے ڈرایا گیا ہے، کیونکہ قیامت کے دن وہ اپنے پیروکاروں سے براءت کا اظہار کرے گا۔‘‘(الجامع لأحكام القرآن، ابراہیم: 22)

اہلِ جنت کو پکارنا

جب جہنمی عذاب کی شدت میں مبتلا ہوں گے تو اہلِ جنت کو آواز دیں گے:

﴿وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ﴾

“دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے کہ ہم پر کچھ پانی بہا دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کچھ دے دو، وہ کہیں گے: بے شک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔”

(سورۃ الأعراف: 50)

آخری حسرت: واپس دنیا میں جانے کی خواہش

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال دے، پھر اگر ہم دوبارہ ایسا کریں تو ہم ظالم ہوں گے۔‘‘(سورۃ المؤمنون: 107)

لیکن جواب ہوگا:

﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾

’’دھتکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔‘‘(سورۃ المؤمنون: 108)

یہ قرآن کا وہ مقام ہے جو جہنم کی دائمی محرومی کو انتہائی مؤثر انداز میں بیان کرتا ہے۔

اے اللہ کے بندو!جہنم کا ذکر ہمیں مایوس کرنے کے لیے نہیں، بلکہ جگانے کے لیے ہے۔ یہ اس لیے بیان کی گئی ہے کہ انسان اپنی آنکھ کھولے، اپنے اعمال کا جائزہ لے، اور اس دن کی تیاری کرے جس دن نہ مال کام آئے گا، نہ منصب، نہ دنیا کی شہرت۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ 0 إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾

’’جس دن نہ مال فائدہ دے گا نہ اولاد، مگر وہ شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے پاس پاکیزہ دل لے کر آئے گا۔‘‘ (سورۃ الشعراء: 88-89)

اپنے گھروں کو ایمان اور نیکی کا گہوارہ بنائیں گے۔

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ وَعَمَلٍ.

٭٭٭

برمنگھم میں ایک نوجوان کی وفات

گزشتہ دنوں الم راک، برمنگھم ہیر سیلون کے اونر جناب عنایت مرحوم کے فرزند عباس عنایت کا 40 سال کی عمر میں اچانک انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

پسماندگان میں ایک بیٹا، بیوہ اور پورا خاندان سوگوار ہے۔ محمدي مسجد میں ماضی قریب میں اتنا بڑا جنازہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ وسیع وعریض مسجد اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کر رہی تھی اور ہر ایک کی زبان پر اس نوجوان کے اچھے اخلاق اور صفات حمیدہ کا چرچا تھا۔ سچ ہے:

’’زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو‘‘

مسجدکے اطراف واکناف کے سارے راستے گاڑیوں کی کثرت کی وجہ سے مسدود تھے، جنازہ میں مرحوم کے چچا جناب کفایت، مرحوم کے چھوٹے بھائی وقاص، حاجی ذوالفقار علی رحمانی، رحمت علی،مظہر اقبال، حاجی الطاف حسین، حاجی عبد الغفور، عبد الاول، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری اور بہت سے احباب واقرباء موجود تھے۔ خواتین کی حاضری ریکارڈڈ تھی، مولانا محمد عبد الہادی العمری نے نماز جنازہ پڑھائی اور اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ دیکھیے صحت مند نوجوان کو اچانک موت آ سکتی ہے تو پھر زندگی کا کیا بھروسہ ہے، اس لیے کہتے ہیں کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنا چاہیے۔ اسی دن سٹن کولڈفیل برمنگھم، قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ دعا ہے کہ اللہ کریم اس نیک وصالح نوجوان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔

گر پیر بصد سالہ بمیرد عجبے نیست

ایں ماتم سخت است کہ گویند جواں مرُد

’’اگر سو سال کی عمر کےبزرگ کا انتقال ہوتا ہے تو اتنا تعجب نہیں ہوتا مگر یہ بڑا صدمہ ہوتا ہے کہ ایک نوجوان دنیا سے چل بسا ہے۔‘‘

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب

تبصرہ کریں