دل کا سکون پانے کا اصلی راز۔ پروفیسر سینیٹر ساجد میر

بسم الله الرحمن الرحيم

﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ‎0‏ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ 0‏ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ (سورة يونس: 62-64)

حمد و ثنا، شکر و تعریف، بڑائی، کبریائی اور عظمت، سب اللہ رب العالمین کے لیے، جو مالک الملک، خالق کل اور عالم کل ہے۔ خلّاق ہے، رزاق ہے۔ وہی قابلِ عبادت ہے اور وہی معبود برحق ہے۔ صلوۃ و تسلیم، درود و سلام سرور انبیاء کے لیے، جو امام کائنات، رحمت کائنات، سید کائنات ہیں اور رحمت اللعالمین ہیں ۔

قرآن کریم کی جو آیات کریمہ ابھی خطبہ مسنونہ کے ساتھ میں نے تلاوت کی ہیں، یہ سورہ یونس کی آیات ہے۔ اس میں رب العالمین کا ارشاد ہے کہ

﴿ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ (سورة يونس:62)

لوگو! گوشِ ہوش سے اور توجہ سے سنو! خبردار ہو کے ، دھیان سے سنو ! کیا سنو؟ کیا سنایا جا رہا ہے ؟یہ کہ اولیاء اللہ، اللہ کے دوست ہیں، ان پر کوئی خوف نہیں اور وہ غم سے بھی آزاد کر دیئے جائیں گے۔ اولیاء اللہ یہ کون ہیں؟ ان کی پہچان کیا ہے؟ فرمایا:

﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾ (سورة يونس: 63)

وہ کوئی الگ مخلوق نہیں ہے۔ ان کے کوئی الگ نشانات یا علامات نہیں ہیں۔ان کی دو بنیادی صفات ہیں کہ ان کا ایمان پکا ہے اور وہ تقویٰ سے مزین ہیں ۔ پھر فرمایا:

﴿لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ (سورة يونس: 64)

انہی کے لیے خوشخبریاں ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی اقدار، اللہ کی سنتیں، اللہ کے طریقے بدلنے والے نہیں۔ ہر زمانے میں اور ہر وقت یکساں ہیں۔ یہ قانون ہے۔ ایمان اور تقویٰ کے نتیجے میں تمہیں اطمینان ملے گا، سکون ملے گا، خوشی ملے گی، خوشخبریاں ملیں گی۔ یہ قانون ہے اللہ کا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔ فرمایا:

﴿ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ (سورة يونس: 64)

یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہی کامیابی کا راز ہے۔ یعنی ایمان اور تقویٰ۔

دنیا کی زندگی میں، سب لوگ اور سب انسان خواہش رکھتے ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ ان کی یہ زندگی پرسکون ہو، اطمینان والی ہو، مزے والی ہو جبکہ اس میں مزے اور تلخ حقیقتیں، دلچسپیاں اور مصیبتیں ملی جلی ہیں، کبھی یہ کبھی وہ لیکن ہر ایک کی خواہش یہ ہے کہ وہ ایک پرسکون اور کامیاب اور بامراد زندگی بسر کرے۔

لوگ اس سکون اور کامیابی کو تلاش کہاں کرتے ہیں؟ کچھ لوگ مال میں تلاش کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مال ہو گا، دنیا ہو گی، دنیا کی سہولتیں ہوں گی تو مزے اور سکون سے زندگی گزرے گی۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اچھی اولاد ہو، بیٹے ہوں تو زندگی پرسکون بن جائے گی۔ زندگی مزے اور خوشی میں گزرے گی۔ کچھ لوگ اقتدار اور منصب کے یا اس عزت کے آرزومند رہے ہیں جو اقتدار کے ذریعے ملے یا کسی اور طریقے سے ملے ، لوگ سکون، اطمینان زندگی کی خوشی اور کامیابی تلاش کرتے ہیں لیکن دیکھا یہ ہے، مشاہدہ یہ ہے، دنیا بھر کا، سب کا تجربہ یہ ہے کہ ان تمام چیزوں سے خواہ مال ہو، اولاد ہو، منصب ہو، اقتدار ہو یا عزت ہو، ان سب چیزوں سے اگر خوشی، اطمینان، سکون اور اطمینان قلب ملے گا بھی تو یہ تھوڑا بھی ہوگا اور فانی بھی ہوگا، عارضی بھی ہوگا۔ کچھ لوگوں کو تو ان میں بھی سکون نہیں ملتا، کچھ لوگوں کو ان میں تھوڑا سا سکون ملتا ہے اور پھر وہ ختم ہو جاتا ہے، کسی نہ کسی طریقے سے چھپ جاتا ہے، تو یہ زندگی کو پرسکون بنانے کے لیے کوئی پائیدار یا مستقل قابل اعتبار ذریعہ نہیں ہے۔

اگرمال اور دنیاوی سہولتوں سے، دنیاوی عیش و آرام سے، زندگی کامیاب اور پرسکون اور اطمینان والی بنتی، تو یہ جو ترقی یافتہ مغربی ممالک ہیں، یورپ ہے، امریکہ ہے۔ ان کے پاس مال اور دنیاوی سہولتیں کچھ کم نہیں ہیں۔ وہاں اگر آپ کے پاس روزگار ہے تو وہ عموماً اچھا روزگار ہو گا، نہیں ہے تو حکومت اچھا خاصا بے روزگاری کا الاؤنس دے گی، بڑھاپا آئے گا، تو پھر سرکاری محکمے میں نوکری کی ہے یا نہیں کی؟ بڑھاپے کی تنخواہ اور پنشن ملے گی۔ بعض ملکوں میں بچہ پیدا ہوا تواس کے لیے الگ Allowance شروع ہو جاتا ہے، شادی ہوئی تو اس کے لیے رقم مل گئی، مال مل گیا، بیماری ہوئی تو اس کے لئے سہولتیں مل گئیں ۔ علاج مفت ہو گیا۔ بچوں کی تعلیم پہ بھی کوئی زیادہ اخراجات نہیں۔ یہ تمام دنیاوی، مادی سہولتیں اور آرام ان کو میسر ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہاں تھوڑے نہیں، بہت بڑے بڑے پیمانے پر لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں، ان کی زندگی میں ٹینشنز اور اَن دیکھی تلخیاں پتہ نہیں کہاں سے آ جاتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں سالانہ خودکشیاں ہوتی ہیں۔ تمام سہولتوں،آرام اور ظاہری اطمینان کے باوجود لوگ مختلف طریقوں سے اپنے ہاتھوں سے اپنی جانیں لیتے ہیں ۔ ان کے ہاں بھی زندگی سے بیزاری اور بے اطمینانی ہے تو یہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مادی سہولتیں اور دنیاوی مال ، خوشی حاصل کرنے کے لیےیہ کوئی لازمی سپورٹ نہیں کرتے ۔اضطراب، انجانے خوف، پریشانیاں یہ ان لوگوں کو اکثر لاحق رہتی ہیں۔ قرآن نے کہا :﴿فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ﴾ (التوبة: 55)

اے دیکھنے والے ! ان دنیا پرستوں اور ان کافروں کے مال اور ان کی اولادیں تجھے کسی وہم میں مبتلا نہ کر دیں۔ تجھے پریشان نہ کر دیں کہ ان کو اتنا ملا ہے۔ کیوں ملا ہے؟ آخر اللہ تعالیٰ چاہتا کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی مرضی کیا ہے ؟ تو دیکھتا نہیں کہ مال اور اولاد دے کے دنیا میں بھی اللہ ان کو انہی چیزوں کے ذریعے عذاب دیتا ہے، تمہیں وہ نظر نہیں آتا، ان کے دماغ ، ان کے دل اور ان کے جسم اس عذاب کو محسوس کرتے ہیں۔ ان پر بے یقینی اور بے سکونی کا عذاب ہے۔ جیسا کہ نبی محترم ﷺ نے حدیث میں فرمایا، ترمذی میں حدیث آتی ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص پر ہر وقت دنیا کی اور دنیا کے مال کی فکر سوار رہتی ہے۔ اس کی زندگی کئی الجھنوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ پریشانیوں کا شکار ہو جاتی ہے اور جسے آخرت کی فکر زیادہ ہے، اللہ اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے۔ بظاہر وہ غنی نہیں ہے، مالدار نہیں ہے مگر اس کا دل غنی ہو جاتا ہے۔ وہ قناعت کرتا ہے، صبر کرتا ہے اور مالدار سے زیادہ بہتر اور اطمینان والی زندگی بسر کرتا ہے۔ خوش بختی کو، اطمینان کو، سعادت کو، خوشی کو، روپے سے، ڈالر سے، ریال سےیا پاؤنڈ سے خریدا نہیں جا سکتا اور حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اللہ کی عطا ہے اور اس کے حاصل کرنے کے، اللہ سے اسے لینے کے ذریعے مختلف ہیں،جن کا میں آج ذکر کروں گا۔

کچھ لوگ علم اورسائنس کو ، زندگی کی کامیابی یا اطمینان اور خوشی کی دلیل اور چابی سمجھتے ہیں۔ علم ہمارے دماغ میں پیدا ہونے والے کائنات کے بارے میں،انسان کے بارے میں، مختلف سوالوں کے جواب دیتا ہے۔ سائنس ہمارے لیے زندگی کی کئی سہولتیں پیدا کرتی ہے۔ یہ بجلی، یہ پنکھے، یہ اے سی اور یہ فریج اور یہ ساری چیزیں۔ سائنسی ایجادات زندگی میں کچھ نہ کچھ تو سکون پیدا کرتی ہیں لیکن انہی چیزوں کو سکون کا اور مکمل سکون کا ذریعہ سمجھ لینا غلطی ہے۔ جرمن مفکر نطشے نے کہا تھا کہ علم یا سائنس ایک پردہ کھولتی ہے۔ کچھ معلومات ہمیں زندگی اور کائنات کے بارے میں دے دیتی ہے۔ جس کے آگے کئی اور پردے حائل ہو جاتے ہیں۔ کئی سوالوں کے جواب پھر اس کے پاس نہیں ہوتے اور ایک علمی یا سائنسی ترقی کے نتیجے میں زندگی با سہولت بنتی ہے تو ساتھ تکلیفوں اور مصیبتوں کے کئی راستے بھی کھل جاتے ہیں۔

ایک بیماری کا علاج دریافت ہوتا ہے تو دس بیماریاں اور سامنے آ جاتی ہیں۔ سائنس نے زندگی کو تیز رفتار بنا دیا۔ یہ گاڑیاں، ٹرینز، کاریں اور جہاز،جنہوں نے سفر کو آسان کر کے زندگی کو آسان کر دیا لیکن یہی چیزیں حادثات کا بڑا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ انہی سے بہت زیادہ موتیں بھی ہوتی ہیں، انہی سے لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں۔ انہی سے لوگ زندگیاں کھو دیتے ہیں تو اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ سائنسی اور علمی ترقی میں مزے ہی مزے ہیں، آرام ہی آرام ہے، تو یہ غلط بات ہے ۔ سب ملی جلی چیزیں ہیں۔ مکمل اطمینان اور سکون کا ذریعہ نہیں ہے۔

میں اولاد کی بات کر رہا تھا، اولاد سے بھی بہت سی توقعات وابستہ ہو جاتی ہیں۔ بے اولاد الگ اپنے غم میں ہوتا ہے کہ بچوں کی رونق اس کے گھر میں نہیں آئی، اسے اولاد نہیں ملی ، لیکن جس کو ملتی ہے، کیا وہ پریشانیوں سے آزاد ہو جاتا ہے؟ یا اس کی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں؟ ان کے لیے کمانا، ان کے لیے روٹی، کپڑا اور دیگر ضروریات مہیا کرنا۔ ان کی بیماری اور مشکلات کو دیکھنا اور برداشت کرنا۔ خدانخواستہ اگر ان میں سے کوئی گستاخ یا نافرمان نکل آئے تو اس کا ایک الگ غم ہے۔ اس کا ایک الگ صدمہ ہے۔ مشہور انگریزی مصنف، شاعر ڈرامہ نویس شیکسپئر نے کہا تھا کہ نافرمان بیٹا جب ڈستا ہے تو اس کا زہر، زہریلے ناگ سے زیادہ تکلیف دیتا ہے۔ قرآن نے کہا :

﴿زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ﴾ (سورة آل عمران: 14)

قرآن نے دنیا کی کچھ چیزوں کو گنوایا ، سب سے پہلے عورتیں،پھر بیٹے اور بتایا کہ ان میں لوگوں کے لیے بڑی کشش ہے ، لیکن یہ کشش ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر جگہ ان کی زندگی کو کامیاب،بامراد یا پرسکون نہیں بناتی۔ ایک عربی قول میں نے ذکر کیا تھاکہ اولاد کی نافرمانی، گستاخی اور ان کی طرف سے آنے والی پریشانی دیکھ کر اس نے اپنے تجربے کی روشنی میں کہا تھا کہ خوش قسمت اولاد والا نہیں ، بے اولاد ہے۔

پھر اقتدار کو لے لیجئے، کوئی بڑا منصب یا عہدہ ہو، اس عہدے سے ملنے والے اختیار اور عزت کے پیچھے لوگ بھاگتے ہیں۔ اللہ دے دے تو اس کی عطا ہے، لیکن لوگ اس کے پیچھے بھاگتے ہیں اور اس کے لیے ہر پاپڑ بیلتے ہیں، ہر جائز وناجائز کوشش کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اقتدار ہو گا، منصب ہو گا، تو لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے، اختیار مزے سے استعمال کریں گے، دوسروں پر حکم چلائیں گے لیکن کیا حکومت؟ کیا اقتدار؟ کیا بادشاہت؟ کیا حاکمیت حقیقی ، مکمل اور صحیح معنوں میں اطمینان کا سبب بنتی ہے؟ نہیں بنتی! اگر بنتی تو اس طرح کے محاورے نہ ہوتے، یہ محاورےکسی بھی زبان میں ایسے ہی نہیں بنتے، یہ لمبے تجربات کے بعد بہت سے لوگوں کے تجربات کے بعد بنتے ہیں۔ محاوروں میں بڑی معنویت ہوتی ہے اور یہ سینکڑوں سال کے تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ انگریزی میں اقتدار کے حوالے سے ایک محاورہ ہے، دوسری زبانوں میں بھی ہیں، لیکن انگریزی میں مؤثر الفاظ میں محاورہ ہے کہUneasy lies the head that wears a crown

جس سر پر تاج ہوتا ہے، وہ آرام سے نہیں سوتا۔ اسے آرام کی نیند نہیں آتی۔ اسے سکون کی نیند نہیں آتی۔ اس کی زندگی میں اس طرح کا مکمل سکون نہیں ہوتااور اس کے بہت سے ثبوت تاریخ میں موجود ہیں۔ نپولین بہت بڑا بادشاہ اور بہت بڑا فاتح تھا، جس نے آدھی دنیا فتح کی۔ انجام کیا تھا؟ ایک چھوٹے سے جزیرے میں قید تنہائی میں دن گزارے اور وہیں مرا اور پھر مرتے ہوئے اس نے کہا کہ میں دنیا میں دو چیزوں کی تلاش میں رہا، میں دو چیزوں کا بھوکا تھا ، ایک یہ کہ دنیا میں سچی محبت مل جائے اور دوسری یہ کہ حکومت مل جائے۔ سچی محبت ملی نہیں، حکومت ملی، اس نے بھی وفا نہیں کی۔ تو یہ اس کی بات تھی۔

ہارون الرشید مسلمانوں کی تاریخ میں زبردست حکمران تھا، وسیع سلطنت، بھرپور خزانے، دنیاوی اور علمی ترقی بھی عروج پر۔ دور دور تک اس کا اقتدار پھیلا ہوا تھا لیکن اپنی اس شاہانہ اور ظاہری طور پر کامیاب اور پرسکون زندگی پر اس کا تبصرہ کیا تھا؟ آخر وقت میں اس نے کیا کہا؟ اس نے کہا کہ میں نے مجموعی طور پر ایک فکر مند اور مغموم زندگی بسر کی۔ لوگو!گواہ رہنا، صرف ایک سرمایہ ہے، میرے پاس، یہ کہ میں اللہ رسول کو ماننے والا ہوں۔ میں اللہ کے حق ہونے کی گواہی دے کر دنیا سے جانا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ یہ سب کچھ یہیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، ساتھ صرف ایمان لے کر جا رہا ہوں۔

عبدالملک بنو امیہ،یعنی اموی خاندان کا ایک بااقتدار اور مقتدر حکمران تھا۔ اس نے بھی آخری وقت میں کہا کہ دور سے بادشاہت کے مزے دیکھ کر میری بھی بڑی خواہش تھی کہ بادشاہ اور حکمران بنوں، مگر مجھے دھوکہ ہوا۔ بادشاہت ملی تو پتہ چلا کہ اس میں مسائل زیادہ ہیں، پریشانیاں زیادہ ہیں، فکریں زیادہ ہیں، مزے کم ہیں۔ تو مال اور منصب ہو، اقتدار ہو، بادشاہت ہو، حاکمیت ہو، اولاد ہو، علم ہو، ترقی ہو، اس نوع کی جو بھی سہولتیں ہوں لیکن یہ پُرسکون زندگی کے لیے حقیقی ضامن نہیں ہے ۔

حسرتوں کا مزار ہے دنیا

کارواں کا غبار ہے دنیا

داغ سے کوئی دل نہیں خالی

کیا کوئی لالہ زار ہے دنیا؟

گرچہ ظاہر میں صورت گل ہے

حقیقت میں خار ہے دنیا

پھر کیا چیز ہے یا کیا چیزیں ہیں، جو پرسکون زندگی کی حقیقی ضامن ہیں، جو زندگی کو کامیاب اور پرسکون بنانے والی ہیں؟دو چیزیں تو آپ کے سامنے آگئیں، باقی ان کی تفصیل ہے۔ اصل چیز تو قرآن نے بتا دی۔ فرمایا:﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾ (سورة يونس: 63)

ایمان اور تقویٰ زندگی کو کامیاب بھی کرتے ہیں اور زندگی کو پُرسکون بھی بناتے ہیں۔ اس کی آگے پھر کچھ شاخیں اور تقاضے ہیں، ایمان کے یاتقویٰ کے۔ ان میں نمایاں کیا ہے؟

﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ (سورة الرعد: 28)

کان کھول کر سن لو!اطمینان حاصل ہوتا ہے تو اللہ کے ذکر سے۔ یہ بات ہم نہیں سمجھ سکتے۔ جنہوں نے سمجھی، وہ جانتے ہیں۔ یہ ذکر اس کے تقاضوں اور آداب کے مطابق، توجہ اور لگن سے کیا جائے تو یہ دل کو اطمینان سے بھرتا ہے۔ پریشانیوں کو دور کرتا ہے ۔ذکر میں سب چیزیں آجاتی ہیں۔ قرآن کی تلاوت بھی ذکر ہے۔ قرآن سے دل لگاؤ۔ قرآن کو اپنی زندگی کا نسخۂ شفا بناؤ ،یہ شفا ہے۔ قرآن نے خود کہا:

﴿وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ﴾ (سورة يونس: 57)

’’بے شک قرآن مؤمنوں کے لیے شفا بھی ہے ، ہدایت بھی ہےاور رحمت بھی ہے۔‘‘

نبی کریم ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا ہے۔ اسمائے حسنیٰ کا ، اسماء الہیہ کا واسطہ اور حوالہ دے کر آپ اللہ سے عرض وگزارش کرتے ہیں۔

«أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي» (صحيح ابن حبان:972)

یا اللہ! قرآن کو میرے دل کی بہار بنا دے۔ ہم نے اسے بہار بنانا سیکھا نہیں ہے۔ قرآن کو میرے دل کی بہار بنا دے اور اس قرآن كو میرے غم کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے اور میری فکر، میری پریشانیاں، میری مصیبتیں، میری سوچیں، ان کو دور کرنے کا اس کو ذریعہ بنا دے۔ آپ بھی یہ دعا کیا کریں، عربی الفاظ نہیں جانتے تو اپنی زبان میں کریں اور پھر صرف دعا نہیں کریں۔ قرآن کے ساتھ دل لگائیں۔ یہ آپ کے دل کو لگائے گا۔ آپ قرآن کے ساتھ دل لگائیں آپ کا دل قرآن لگائے گا۔ دنیا کی پریشانیوں سے ہٹائے گا۔

پھر ذکر کے دوسرے طریقے ہیں، بہت کچھ حدیث میں بتایا گیا ہے، جو مسنون ہیں:

سُبْحَانِ اللہِ، اَلْـحَمْدُ لِلَّہِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ، اَللہُ أَکْبَرُ الگ الگ ان کو پڑھنا یا اکٹھا پڑھنا۔ سُبْحَانِ اللہِ، اَلْـحَمْدُ لِلَّہِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ، اَللہُ أَکْبَرُ پھردرود شریف ہے، استغفار ہے، درود شریف جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایک مرتبہ اللہ سے میرے لیے رحمت مانگو گے تو اللہ تمہیں دس رحمتوں سے نوازے گا۔

بظاہر یہ نبی کریم ﷺ کے لیے مزید رحمت اور مزید درجات کی دعا ہےلیکن اس کا فائدہ ہمیں لوٹ کر پہنچتا ہے۔ استغفار جس کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا : میں آج اس دنیا میں اس شخص کو خوشخبری دینا چاہتا ہوں۔ جس کے نامۂ اعمال میں کل کثرت سے اَسْتَغْفِرُ اللہُ، اَسْتَغْفِرُ اللہُ، اَسْتَغْفِرُ اللہُ لکھا ہوا ملے گا۔ لمبے صیغے ،لمبی دعائیں، استغفار کے نہیں پڑھ سکتے تو اَسْتَغْفِرُ اللہُ، اَسْتَغْفِرُ اللہُ، اَسْتَغْفِرُ اللہُ رَبِّی، اَسْتَغْفِرُ اللہُ جو بھی پڑھیں، ٹھیک ہے مگر استغفار بکثرت کریں۔ استغفار دل کو دھوتا ہے، پریشانیوں کو دور کرتا ہے۔ کئی مصیبتوں کا علاج ہے۔ فرمایا:﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ﴾ (سورة النوح: 10)

حضرت نوح سے یہ بات چلی آ رہی ہے۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ استغفار کرو ۔پھر فرمایا:﴿إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا﴾ (سورة النوح: 10)وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور﴿يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا﴾ (سورة النوح: 11) استغفار کی برکت سے تمہیں بارش اور پیداوار ملے گی۔ اور﴿‏وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ﴾ (سورة النوح: 12)

دنیا کا مال جس کے لیے ترستے ہو، بھاگے پھرتے ہو اور اولاد استغفار سے ملے گی۔

﴿وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا﴾ (سورة النوح: 12)

باغات پھلیں پھولیں گے۔ پیداوار کثرت سے ہو گی، رونقیں ہوں گی، مزے ہوں گے۔ استغفار بھی بڑی قوت ہے، بڑی دولت ہے۔ بخاری کی ایک حدیث ہے ،فرمایا:«ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ » (صحيح بخاري:660)

ذکر کسی قسم کا بھی ہو، مسنون دعا یا تلاوت ہو یا استغفار ہو یا درود ہو ، اس کو کبھی الگ بیٹھ کر وقت نکال کر اور دنیا کی مصروفیات سے تنہائی میں جا کر بھی کرنا چاہیے۔ اس سے ہوتا کیا ہے؟ مؤمن اللہ کا ذکر الگ ہو کے کر رہا ہے، اپنی تقصیروں اور گناہوں کو یاد کر کے یا اللہ کی عظمت کو اور اس کی خوبیوں اور صفات کو یاد کر کے اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ ذکر سے حاصل ہونے والا اطمینان اورسکون الگ اور پھر یہ کہ یہ آنسو اس کے گناہوں کو دھو دیں گے اور اسے قیامت کے دن جب سوائے سایہ عرش کے کوئی سایہ نہیں ہوگا، تو اللہ تعالیٰ اسے بلا کر اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے گا اور کیا چاہیے؟ جنت تو خود مل رہی ہے اور مزید ان چیزوں کے ساتھ اطمینان چاہتے ہو، تو دنیا اور دنیا کی زندگی میں جو اللہ کی طرف سے ملا ہے، اس پر اس کا شکر کرو ۔ ٹھیک ہے کہ مزید کے لیے کوشش کرو، تم آزاد ہو، یہ جائز ہے لیکن جو ملا ہے اس پر شکر کرو اور اس کے اندر رہنا سیکھو۔

مذہب اسلام امن عالم کا ضامن

مذہب نہیں سکھاتا دہشت گری کوئی بھی

ظلم وستم شقاوت وحشت ہر اک طرح کی

ہر اک دیں ہے کرتا پر چار آشتی کا

الفت، اخوت، اُنس اور پیار اور دوستی کا

اسلام ہی تو پہلا اور آخری ہے مذہب

ہے اس لئے یقینی یہ عالمی ہے مذہب

اسلام کے ہیں معنی امن و سلامتی کے

یعنی کے عافیت اور چین اور سمپتھی کے

کرتے ہیں مہربانی دشمن پہ بھی مسلماں

بوڑھوں پہ عورتوں پہ بچوں پہ اہل ایماں

انسانوں سے ہیں کرتے ہر ایک خیر مسلم

فرق ان میں کچھ نہ دیکھیں مسلم کہ غیر مسلم

حیوانوں پر ہیں کرتے رحم و کرم مسلماں

پھولوں، پھلوں، درختوں کا حفظ ان کا ایماں

’سوئی سائڈ‘ جو کرے وہ بیشک نہیں ہے مسلم

ناحق کسی کو مارے لا ریب ہے وہ مجرم

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

٭٭٭

انتقال پر ملال !

گذشتہ دنوں برمنگھم کے جناب ناصر محمود چوہدری کے چچا جناب محمد شاہین 68 سال کی عمر میں میر پور آزاد کشمیر میں وفات پاگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

مرحوم پابند صوم و صلاۃ تھے اور اچھے اخلاق سے متصف تھے، پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ سات بچے سوگوار ہیں ۔ چوہدری عبد القدیر سابق کونسلر محمد ادریس، جناب محمود حسین، حاجی اللہ دتہ، محمد سلیمان جوہدری ، قاری ابو حمزه مدنی ، محمد شبیر چوہدری، بریڈ فورڈ، قاری حفیظ الرحمن، مولانا محمد عبد الہادی العمری، جناب محمد نسیم چوہدری اور برطانیہ کے طول و عرض سے سینکڑوں اقارب واحباب نے مسجد محمدی الم راک بر منگھم میں جناب ناصر محمود چوهدری سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے ۔ آمین

جو شاخ دفن ہوئی تب کھلا ہے پھول اُس پر

کہ پہلے موت ہوئی بعد میں شباب آیا !

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

تبصرہ کریں