قرض اور اس کے احکام و مسائل-حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی

1۔قرض کی تعریف اور معنیٰ و مفہوم (قرض اور دَین میں فرق)

قرض کی تعریف:

قرض کا معنی ہے: کاٹنا، اسی سے قینچی کو “مِقراض” کہا جاتا ہے۔قرض کو قرض اس لیے کہتے ہیں کیونکہ انسان اپنے مال سے ایک حصہ کاٹ کر کسی اور کو دے رہا ہوتا ہے.

قرض اور دَین میں فرق:

قرض کہتے ہیں اُس مال کو جو آپ نے کسی کو ادھار کے طور پر دیا ہے چاہے آپ نے اسے لکھا ہو یا نہ لکھا ہو، جبکہ دَین اس مال، سامان یا چیز کو کہتے ہیں جو آپ نے کسی کو ایک متعینہ مدت کے لیے ادھار کے طور پر دیا ہے اور اسے لکھ بھی لیا ہے، اسی لیے اللہ نے قرآن میں اس تعلق سے جب لکھ لینے کی بات کہی تو وہاں دَین کا لفظ ہی استعمال کیا ہے جیسا کہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 282 میں تفصیل ہے جو “آیت دَین” کے نام سے ہی معروف ہے۔

2۔قرض کا لین دین کیوں؟

شریعت نے مال کمانے کے تمام حرام راستوں پر جانے سے منع کیا جیسے دھوکہ، رشوت، سود، چوری اور ڈاکہ زنی وغیرہ تو پھر انسانی ضرورتوں کے وقت لین دین کے لیے قرض کا راستہ کھول دیا اور اسے مباح قرار دیا تاکہ ان ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے۔

﴿وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ﴾ (سورة المزمل: 20) اس آیت کے تحت علماء نے لوگوں کو قرض دینا بھی شامل مانا ہے۔

3۔قرض لینا بظاہر کوئی اچھا عمل نہیں ہے

نبی ﷺ قرض سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے :

أنَّ رَسولَ اللَّهِ ﷺ كانَ يَدْعُو في الصَّلاةِ: اللَّهُمَّ إنِّي أعُوذُ بكَ مِن عَذابِ القَبْرِ، وأَعُوذُ بكَ مِن فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجّالِ، وأَعُوذُ بكَ مِن فِتْنَةِ المَحْيا، وفِتْنَةِ المَماتِ، اللَّهُمَّ إنِّي أعُوذُ بكَ مِنَ المَأْثَمِ والمَغْرَمِ فَقالَ له قائِلٌ: ما أكْثَرَ ما تَسْتَعِيذُ مِنَ المَغْرَمِ، فَقالَ: إنَّ الرَّجُلَ إذا غَرِمَ، حَدَّثَ فَكَذَبَ، ووَعَدَ فأخْلَفَ.

’’ رسول اللہ ﷺ نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا، وَفِتْنَةِ المَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ»

’’اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور فتنہ دجال سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ کا طالب ہوں۔‘‘ آپﷺ سے کسی نے عرض کیا:

آپ قرض سے بہت پناہ مانگتے ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا:

’’انسان جب قرض دار ہو جاتا ہے تو بات کرتے وقت جھوٹ بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔‘‘ (صحيح بخاری:832)

4۔قرض لو یا دو تو لکھ لو اور گواہ بنا لو:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ ۚ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَإِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ ۚ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ ۖ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ ۚ وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا ۚ وَلَا تَسْأَمُوا أَنْ تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَىٰ أَجَلِهِ ﴾ (سورۃ البقره: 282)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب کسی مقرر مدت کے لیے تم آپس میں قرض کا لین دین کرو، تو اسے لکھ لیا کرو فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہو، اسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے وہ لکھے اور املا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے (یعنی قرض لینے والا)، اور اُسے اللہ، اپنے رب سے ڈرنا چاہیے کہ جو معاملہ طے ہوا ہو اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے لیکن اگر قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو، املا نہ کرا سکتا ہو، تواس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کرائے پھر اپنے مردوں سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرا لو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بھول جائے، تو دوسری اسے یاد دلا دے یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہییں، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو گواہوں کو جب گواہ بننے کے لیے کہا جائے، تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، میعاد کی تعین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھوا لینے میں تساہل نہ کرو ۔‘‘

5۔قرض کا معاملہ لکھنے اور گواہ بنانے کا فائدہ

﴿ ذَٰلِكُمْ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَىٰ أَلَّا تَرْتَابُوا ۖ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ ۚ وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾ (سورۃ البقره: 282)

’’اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لیے زیادہ مبنی بر انصاف ہے، اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے، اور تمہارے شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں، مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کر لیا کرو کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے ایسا کرو گے، تو گناہ کا ارتکاب کرو گے اللہ کے غضب سے بچو وہ تم کو صحیح طریق عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔‘‘

6۔قرض واپسی کی نیت سے لینا چاہیے کیونکہ پھر اللہ اس کی ادائیگی کے راستے آسان کر دیتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَن أخَذَ أمْوالَ النّاسِ يُرِيدُ أداءَها أدّى اللَّهُ عنْه، ومَن أخَذَ يُرِيدُ إتْلافَها أتْلَفَهُ اللَّهُ.» (صحيح بخاری: 2387)

’’جو شخص لوگوں سے مال اس نیت سے لیتا ہے کہ وہ اس کی ادائیگی کرے گاتو اللہ تعالیٰ اسے ادا کرنے کی توفیق دے گا اور جو شخص لوگوں کا مال ضائع کردینے کے ارادے سے لے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع کردے گا۔‘‘

7۔سودی قرض کے لین دین سے بچو

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ 0‏ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ‎0‏ وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾ (سورة البقرة: 278-280)

’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو ۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ اور اسکے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اب بھی توبہ کر لو (اور سود چھوڑ دو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔ تمہارا قرض دار تنگ دست ہو، تو ہاتھ کھلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو صدقہ کر دو، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو ۔‘‘

كل قرض جر منفعة فهو ربا

(حدیث ضعیف ہے لیکن اس کا معنیٰ اہل علم کے نزدیک درست ہے۔

8۔قرض دار کو مہلت دینے کی فضیلت

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا قَالَ فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ.

’’ایک شخص لوگوں کوقرض دیا کرتاتھا۔ اس نے اپنے نوکر کو یہ کہہ رکھا تھا کہ جب تم نے کسی تنگدست کے پاس جاؤ تو اسے معاف کردیاکرو، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے سے ہمیں بھی معاف کردے، چنانچہ جب اس کی اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا۔‘‘ (صحیح بخاری: 3480؛صحيح مسلم: 1562)

9۔ قرض ادا نہ کرنے کا نقصان

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْن »

(صحيح مسلم: 1886)

’’شہید کا ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے، سوائے قرض کے۔‘‘

نبی ﷺ ایسے لوگوں کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے جن کے ذمے قرض کا ادا کرنا رہ گیا ہو۔

سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ

انَ النَّبِيُّ ﷺ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيْتٍ فَسَأَلَ أَعَلَيْهِ دَيْنٌ قَالُوا نَعَمْ عَلَيْهِ دِينَارَانِ قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ ﷺ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ (سنن نسائی: 1962)

’’نبی کر یم ﷺ ایسے شخص کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس پر قرض ہوتا تھا۔ ایک میت آپ کے پاس لائی گئی۔ آپﷺ نے پوچھا:

”کیا اس پر قرض ہے؟“

لوگوں نے کہا: جی ہاں! اس پر دو دینار قرض ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ”پھر تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔“سیدنا ابوقتادہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ دو دینار میرے ذمے ہیں۔ آپ نے جنازہ پڑھ دیا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو فتوحات دیں تو آپﷺ نے فرمایا: ”میں ہر مؤمن کے لیے اس کے نفس سے بھی بڑھ کر قریبی ہوں، لہٰذا جو قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے (یعنی بیت المال کے) ذمے ہے اور جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کو ملے گا۔“

10۔میت کا قرضہ اس کے مال سے ہی ادا کیا جائے گا: ﴿ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾

’’ جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے ۔‘‘(سورة النساء: 11)

11۔قرض کی ادائیگی کی دعا

اللّٰهُمَّ اكْفِنْي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَ أغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ (سنن ترمذی: 3563، حسن)

12۔قرض کے غلبے سے پناہ مانگنے کی دعائیں

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ، قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ:«التَمِسْ غُلاَمًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى خَيْبَرَ» فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي، وَأَنَا غُلاَمٌ رَاهَقْتُ الحُلُمَ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، إِذَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا يَقُولُ:«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَنِ، وَالعَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالبُخْلِ وَالجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» (صحیح بخاری: 2893)

سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے سیدنا ابوطلحہ سے فرمایا:

’’اپنے بچوں میں سےکوئی بچہ میرے ساتھ کرو جو غزوہ خیبر میں میری خدمت کرے جب میں خیبر کا سفر کروں۔‘‘

سیدنا ابو طلحہ مجھے اپنے پیچھے بٹھا کرلے گئے۔ میں اس وقت بلوغ کے قریب لڑکا تھا۔ جب بھی رسول اللہ ﷺ راستے میں کہیں پڑاؤ کرتے تو میں آپ کی خدمت کرتا تھا۔ میں بکثرت آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا:

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَنِ، وَالعَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالبُخْلِ وَالجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ»

’’اے اللہ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم اور پریشانی سے، عاجزی اورکاہلی سے، بخل اور بزدلی سے، قرضے کے بوجھ اور لوگوں کے دباؤسے۔‘‘

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ (سنن نسائی: 5475)

’’سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ

”اے اللہ! میں قرض اور واجب الادا حق کے غلبے (اور بوجھ)‘ دشمن کے غلبے اور دشمنوں کی دل آزار خوشی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“

٭٭٭

زکات، عشر اور صدقات سے سحری افطاری کا حکم؟

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

شیح مکرم! میرا سوال یہ ہے کہ جماعت کی طرف سے سحری و افطاری کروائی جاتی ہے زکوٰۃ، عشر اور صدقات کے پیسوں سے۔ کیا ان سے سحری وافطاری کروائی جاسکتی ہے؟اور کیا زکوٰۃ، عشر اور صدقہ دینے والا خود بھی اس سحری وافطاری میں شامل ہوسکتا ہے؟برائے مہربانی تفصیل سے وضاحت فرما دیں۔

جواب: زکاۃ، صدقات اور عشر صرف انہی جگہوں اور مصارف میں دیا جا سکتا ہے جن کی تعیین شریعت نے کر دی ہے جیسا کہ سورہ توبہ آیت نمبر 60 میں بتایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور مصرف میں عمدا زکاۃ وصدقات کی رقم دینے سے یہ فریضہ ادا نہیں ہوتا۔

اور اگر کوئی شخص لوگوں سے صدقات وغیرہ لے کر یہ رقم سحری وافطاری میں خرچ کر دیتا ہے تو وہ ناجائز اور غلط عمل کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ سے ڈرنا چاہیے اور لوگوں کے اموال کو باطل طریقے سے خرچ کرنے سے باز رہنا چاہیے۔

بالخصوص آج کل کچھ لوگ اپنے پرائیویٹ اداروں اور سیاسی مذہبی تنظیموں کی پبلسٹی یا ووٹ پاور بڑھانے کے لیے اسلامی شعائر کا جس بے دردی سے استحصال کر رہے ہیں، ایسے لوگوں سے کسی قسم کا تعاون نہیں کرنا چاہیے اور نہ ان کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ بلکہ ازخود قرب وجوار کے فقراء ومساکین سے مالی تعاون کرنا چاہیے، کیونکہ زکاۃ وغیرہ کی رقم سے اشیائے ضروریہ خرید کر دینا حتی کہ فقراء کو راشن یا سحری افطاری خرید کر دینے سے بھی زکات ادا نہیں ہوتی، بلکہ ان کو رقم دینا ہی لازم ہے۔

اب غور کیجیے کہ جب فقراء کو از خود کھانے پینے کا سامان ہم زکات کی رقم سے خرید کر نہیں دے سکتے تو کوئی شخص لوگوں سے زکات وصدقات کی رقم اکٹھی کر کے اس سے بلا تمیز امیر وغریب کو افطاری سحری کروائے تو بلا شبہہ یہ بڑا جرم اور ناجائز عمل ہے جس سے بچنا لازم ہے۔ اسی طرح جو شخص زکاۃ وصدقات کی رقم سے سحری وافطاری کا انتظام کرے، اس کا خود اس سے کھانا بھی ناجائز ہے، کیونکہ یہ اپنی زکاۃ آپ ہی کھانے کے مترادف ہے۔ لہٰذا نہ وہ زکات کی رقم سے کسی دوسرے کے لیے سحری افطاری کر سکتا ہے اور نہ از خود اس سے کھا پی سکتا ہے۔ واللہ الموفق

تبصرہ کریں