سفر مسجد اقصی اور ا رض فلسطین کی روح افزا روئیداد۔ حافظ عبد الاعلیٰ درانی

شہر سدوم کاحدود اربعہ

شہرسدوم بحیرہ میت کے جنوب میں آباد تھا۔ اس کے قریب عامورہ نامی ایک بڑاشہرتھا، اس علاقے کو کتب سابقہ میں موآب بھی کہاگیا ہے۔ جبکہ تلمود کے مطابق سدوم اور عمورہ Sodom and Gomorrah کے علاوہ اس علاقے میں اور بھی چار بڑے شہرتھے۔ انہی میں سے ایک شہر’’ ضُغر یا ضوغر‘‘تھا۔ جہاں سیدنا لوط بعد میں قیام پذیر رہے۔ بائبل میں اس قوم کا صدر مقام ’’سدوم‘‘ بتایاگیا ہے۔ قرآن نے ﴿الْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ﴾ ’’عذاب کے باعث الٹا دیے گئے شہر‘‘ کہا ہے۔ بحیرہ مردار کے جنوبی کنارے پر جہاں ضُغر واقع تھا وہاں آج کل’’ غور الصافی‘‘ نامی قصبہ آبادہے۔ اس سے تقریباً30کلو میٹر مشرق میں الکرک واقع ہے۔ جو صلیبی جنگوں کے زمانے میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا ایک مضبوط قلعہ تھا۔ بحر میت کے مغرب میں فلسطین کا مغربی کنارا اور مشرق میں اردن واقع ہے۔ اس جگہ سے بیت المقدس اٹھارہ بیس میل سے زیادہ نہیں ہے۔ قرآن کریم کی زبان میں یہ علاقہ اس’’ سبیل مقیم‘‘ عام شاہرہ، جانی پہچانی اور مستعمل گزر پر تھا جہاں سے اہل مکہ اپنے تجارتی قافلے لے کر گزرتے تھے۔ تفسیر طبری میں ہے:

“وقد کانت قریش تمر سدوم والبحر المیت فی طریقھا للتجارة إلی الشام فھی ظاهرة واضحة ولهذا قال سبحانه وتعالیٰ ﴿وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ﴾.”

سیدنا قتادۃ﷫ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“نعم واللہ صباحا ومساء یطئونھا وطئا من أخذ من المدینة إلی الشام أخذ علی سدوم قرية قوم لوط.” (الطبری: 21؍105)

العربیہ ڈاٹ کم۔۔۔نیٹ کے مطابق امریکی ماہرین آثار قدیمہ کی ٹیمPopular Archaeologyنے پروفیسرکولینزکی قیادت میں کئی سال جنوبی اردن کے کھنڈرات میں تحقیق کی۔

28ستمبر کو تحقیقی ٹیم کے سربراہ نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ سدوم نامی شہرتک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس خبر کو بڑے پیمانے پر عربی اور مغربی ذرائع میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ ماہرین نے بتایا کہ تباہ شدہ شہر کے کھنڈرات اورکئی قدیم عمارتوں کی موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک وسیع و عریض شہرتھا۔ غالباً یہ شہر 3500سال پہلے برونز دور حکومت میں تباہی سے دوچار ہوا ۔جو جنوبی وادی اردن تک کے علاقے تک پھیلا ہوا تھا۔ تاہم برونزی سلطنت کے علاقوں کے موجودہ نقشوں میں اس شہر کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ محققین کاکہنا ہے کہ

یہ شہر دوحصوں میں منقسم دکھائی دیتا ہے۔ ایک بالائی اور دوسرا زیریں حصہ ہے۔ شہر کے گرد مٹی کی اینٹوں کی10میٹر اونچی اور 5.2میٹر چوڑی دیوار بھی دریافت ہوئی ہے۔ شہر کے دروازوں کی باقیات بھی ملی ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ

جب یہ شہر تباہ ہواتو اس وقت بھی لوگ روزمرہ کے معمولات میں مشغول تھے۔ یعنی زندگی اچانک ہی ختم ہوگئی تھی۔ اس شہر کی تباہی کے سبب جو خلا پیدا ہوا تھا۔ وہاں پانی اوپر آگیا ۔ اسی وجہ سے یہ علاقہ عام سمندرکی سطح سے1300فٹ گہراہے۔ دنیا کا سب سے نیچے والا منفرد علاقہ اورسمندری جھیل بن گیا۔ اس دریاکی گہرائی1300 فٹ ہے، لمبائی 50میل اور چوڑائی 11 میل ہے۔ اس بحر میت کااردگردکے کسی سمندردریاسے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے قریب ترین سمندر بحیرہ روم ہے ، خلیج عقبہ اردن سے ملتی ہے، لیکن بحرلوط سے ساڑھے تین سو کلومیٹرکافاصلہ ہے۔ اور1300فٹ اس سے اونچا ہے۔

بحیرہ احمر بھی یہاں سے کافی دور اور اس سے کم ازکم 1300فٹ اونچا ہے۔ یوں یہ سمندر سمندر کم اور 351 مربع میل لمبی جھیل زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ’’ڈیڈ سی ‘‘دنیا کا واحد سمندر ہے جس میں کوئی حیات نہیں پائی جاتی۔ اس میں مچھلی ہے نہ کوئی پودا حتی کہ اس میں کائی بھی نہیں اگتی۔ اس کے پانی میں موج بھی پیدا نہیں ہوتی۔ اس میں کشتی ،موٹر بوٹ اور بحری جہاز نہیں چل سکتے کیونکہ اس میں نمکیات کی مقدار 23 سے25فیصد ہے عام سمندرمیں یہ مقدار 4 سے 6 فیصد ہوتی ہے۔ چنانچہ بھاری نمکیات کی وجہ سے بحرمیت میں زندگی ممکن ہے اور نہ کشتی رانی۔ سمندرکاپانی بخارات بن کر اڑتارہتاہے جس کی وجہ سے فضا میں خوابناک سی دھندچھائی رہتی ہے۔ پوری دنیا سے لوگ قدرت کے اس عجوبے کو دیکھنے آتے ہیں۔ بحرمیت کی مٹی اور پانی کو جلد کے لیے شافی سمجھا جاتاہے۔ اردن کی کئی کمپنیاں بحر میت کی نمکیات سے جلد کی مصنوعات بناتی ہیں۔ ان میں ڈیڈ سی مڈ ماسک‘‘ زیادہ مشہور ہے۔

بحر میت جائے عبرت ہے تماشانہیں

خاکسار جب راستے میں احباب کو اس علاقے کے بارے میں معلومات دے رہا تھا تو سوال ہوا کہ کیا اس عذاب والے علاقے کاوزٹ جائز ہے ؟ یہ بہت قدیمی سوال تھا کیونکہ جب ہم مدینہ یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھے تو مدائن صالح کی طرف ہمارے لیے ٹرپ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ہماری کلاس میں مصری نوجوان بھی تھے، بڑے متدین اور نیک لیکن انہوں نے وہاں جانے سے انکار کردیا تھا۔ پھر ہم نے تحقیق کی کہ

کیاان عذاب شدہ علاقوں میں جانا چاہیے یا نہیں۔ کچھ کا موقف تھا کہ نہیں جانا چاہیے کیونکہ تبوک کو جاتے ہوئے مدائن صالح سے گزرتے ہوئے رسول اللہﷺ نے تیزی کیساتھ گزرنے کی ہدایت فرمائی تھی اوروہاں ٹھہرنے سے منع فرمایا تھا۔ اس کا جواب علماء نے یوں دیاکہ مشغلے کے طور پر تو واقعی بندے کو اتنی دلیری نہیں دکھانی چاہیے لیکن بطورعبرت کے یہ سفر جائز ہے۔ انسان مستحضررکھے کہ یہ قومیں کیوں تباہ کی گئی ہیں۔ ایسے اعمال سے انسان توبہ کرے اور ڈرتے ہوئے جائے۔ کیونکہ عبرت کاسفراللہ تعالیٰ نے ممنوع نہیں فرمایا:

﴿ قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ﴾

ان سے کہو وہ زمین میں چل پھر کر متکبرین کاانجام دیکھیں۔ قوم لوط کی تباہی کے علاقے سے گزرتے ہوئے بھی یہ لوگ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اسی لیے فرمایا:﴿أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴾ اب بھی نہیں سوچتے۔

الشیخ فہد باھمام الدلیل الفقہی میں کہتے ہیں :

“ینبغی للزائر البحر المیت الاعتبار و تذکر قصة قوم لوط عليه السلام وعذاب اللہ لمن عصاہ واللہ عز وجل یقول بعد ذکر مرور الناس بھا أفلا تعقلون. أی أفلا یدلکم عقلکم بعد روية مواطن عذابھم إلی الاعتبار بحالھم و مفارقة المعاصی ولھذا قال بعد ذکر عذاب اللہ لقوم لوط والخسف بھم و رمیھم بالسجیل﴿مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ ﴾.”

کہ یہ علاقہ ان لوگوں سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں ہے۔ قوم لوط کی شاہرہ سے گزرنے والوں کو عبرت حاصل کرنے کا تو حکم دیاگیا ہے لیکن کہیں بھی وہاں جانے سے روکا نہیں گیا۔ اسی لیے اس علاقے کے سفر کرنے سے کسی نے منع نہیں فرمایا۔ حالانکہ یہ شاہرہ پر واقع تھا۔بلکہ اسے﴿وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُّقِيمٍ﴾ فرمایابے شک وہ لوگ شاہراہ عام سے گزرتے رہتے ہیں ۔رہا رسول اللہ ﷺ کا فعل تو آپ امت کے امام تھے۔ ہمیشہ ان کاموں سے بچاتے تھے جو اللہ کے غضب کے مستحق بن سکتے ہوں۔ آپ اللہ کے عذاب سے بہت ڈرتے تھے اور امت کو ڈراتے رہتے تھے اور ہر وقت یہ احساس بیدار رکھنا چاہتے تھے۔ تیزطوفان بادو باراں کے وقت بھی آپ کی یہی کیفیت ہو جایا کرتی تھی۔ بہر حال عبرت و فکرحاصل کرنے کے لیے اس قسم کے مقامات کاسفرممنوع نہیں ہے۔ رب تعالیٰ کاخوف ، اپنے اعمال و گناہوں کاشدت سے احساس ساتھ رہے تو اس طرح کے سفرباعث زیادتی ایمان بن جاتے ہیں۔

الشیخ باھمام نے مزید لکھا کہ

’’ بحر میت سمندر سے نکلنے والی پراڈکٹ کااستعمال بھی ممنوع نہیں ہے۔ اس کے پانی سے علاج بھی جائز ہے کیونکہ وہ تیزابی پانی ہے جس سے انسانی جلد کی کئی بیماریاں ٹھیک ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ نبی ﷺ نے بئرناقہ کے پانی کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ حالانکہ وہ عذاب کا علاقہ تھا۔ بہرحال ممنوع ہونے کے لیے کوئی واضح دلیل ہونی چاہیے جو کہ موجود نہیں ہے۔‘‘ (البحر المیت الموقع الدلیل الفقہی تحت اشراف الشیخ فہد باھمام)

اسرائیل نے1967میں اس کے مغربی کنارے پر قبضہ کرلیاتھا یوں اس کا جنوب مشرقی علاقہ اردن اور مغربی علاقہ اسرائیل کے پاس ہے۔ بحرمیت کے فلسطینی اور اردنی ساحل پرسیاحوں کے لیے سے کئی ہوٹل اور قیام گاہیں بنی ہوئی تھیں جو 1973 میں اسرائیلیوں نے حملے کرکے تباہ کرڈالیں لیکن ان کے نشانات باقی ہیں۔

چند لمحے یہاں ٹھہر کر چند باتیں سوچناہیں …قوم لوط جن گناہوں کے سبب تباہ ہوکر جہان والوں کے لیے نشان عبرت بن گئی ان میں سب سے نمایاں کام مردوں کے ساتھ بدفعلی (Homosexuality) کا تھا۔ دنیا کی کسی آسمانی کتاب یا شریعت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسلام میں اس فعل سدومیت کے مرتکب کی سزا بعض فقہاء کے نزدیک یہی ہے کہ ایسے شخص کو بلند جگہ سے گراکر پتھر وں سے ہلاک کر دیاجائے ۔ کیونکہ اسی فعل بدکی وجہ سے یہاں عذاب نازل ہوا۔ جہاں آج بھی اوراس کے اردگرد میں عذاب کی نحوست دکھائی دیتی ہے۔ کہاں یہ دنیا کاخوبصورت ترین اور سرسبر وشاداب علاقہ تھا لیکن اب سوائے جائے عبرت کے کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ برکت و رحمت کی ٹھنڈک ذرا بھی محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن افسوس آج دنیا کے مہذب ترین کہلانے والے اور سمجھے جانے والے ممالک جن میں برطانیہ ، امریکہ اوریورپ کے کئی ممالک ہیں۔ ان کے نزدیک قانونی طور اس فعل بد کو جائز قرار دے دیا گیا ہے اور یہی لعنتی مہم انسانی آزادی کے نام سے مسلمان ممالک میں بھی حلال کرنے کے لیے بھی چلائی جارہی ہے، جو نہایت ہی شرمناک ہے ، قانون پاس کرنے والے اداروں کواللہ کے غضب سے ڈرنا چاہیے اور خاص طورپر جوخالص عیسائی ، یہودی یا مسلمان اراکین پارلیمنٹ ہیں انہیں یہ ملعون قانون ختم کرانے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ کم ازکم اس مہم کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کو ٹال دے کہ کچھ توستارے روشن اورایمان کے پھول مہکتے دکھائی دیں۔ بہرحال میں نے بحرمیت کے کنارے پہنچ کررفقاء سفر کواس علاقے کی تاریخ سے آگاہ کیا۔ اور دعا کی کہ

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نافرمانیوں سے بچائے اور عباد الصالحین میں شامل کرے۔ شام کاجھٹپٹاتیزی سے اتر رہا تھا۔ کسی سیاحتی پوائنٹ پر جانے کا وقت نہیں تھا۔ اسی اثنا میں ایک اسرائیلی موبائل وہاں سے گزررہی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ بھی تو مسلمانوں کے لیے عذاب ہی کی ایک نشانی ہے۔

اے ارحم الراحمین ، فلسطینیوں کے لیے ان سے نجات کا سامان پیدا فرمادے۔ اورکشمیر وبرما ، روہنگیاوغیرہ کے تمام مسلمانوں کوظلم وستم سے نجات دے۔ ان اعمال سے سے بچائے جن کی پاداش میں پہلی قومیں تباہ ہوئیں اور اللہ کریم کا غضب ان پر حلال ہوا۔

اَللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ

’’ اے اللہ ہمیں اپنے غصے و غضب کا نشانہ نہ بنانااور اپنے غصے سے پہلے ہی معاف فرمادینا۔‘‘آمین یارب العالمین۔

’’ شہر اریحا ‘‘کی سیر

بحرمیت کے مختصر سے وزٹ کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا اور ہمارا رخ بحر میت سے بالکل قریبی شہر اریحا ہے۔ چند کلو میٹر کے فاصلے پربڑی شاہراہ سے بائیں جانب ایک سڑک پرجاؤ تو۔ اریحا۔ کاسائن آ جاتا ہے۔ اریحا (انگریزی میںJerichoجریکو) فلسطینی مغربی کنارے( ضفۃ الغربیہ) کاایک خوبصورت شہر ہے۔ جس کے بارے میں ہم نے بچپن میں بہت کچھ سنااور بڑے ہوکر بہت کچھ پڑھا تھا۔

اریحا کا معنی خوشگوار(Fragrant) راحت والا اور خوشبو دار۔

بائبل میں اسے سٹی آف پام ٹری کہا گیاہے۔ غالباً دنیا کا سب سے قدیمی شہر یہی ہے۔ کم و بیش 9 ہزار سالہ بعض محققین کے مطابق اس سے بھی قدیم ہے۔ بائبل کے مطابق اریحا۔۔ ہیروڈیس اعظم کے دور میں اس کا سرمائی صدرمقام رہا ہے۔

یاد رہے کہ ہیروڈیس ولادت عیسوی سے چار سال قبل وہیں فوت ہوا تھا۔

1950کی کھدائی سے ہیروڈیس کا قلعہ موجودہ شہر سے سوا میل جنوب میںدریافت ہواہے۔ جو رومن طرزتعمیر اور رومن عہد کی یادگار ہے۔ اس شہر کے گرد حفاظتی دیوار تعمیر کی گئی جو دنیا کی سب سے قدیمی اور مضبوط حفاظتی دیوار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے کچھ حصے اب بھی موجودہیں۔ پتھرکا ایک بہت بڑا مینار بھی یہاں موجودہے۔ جو اس شہر کی قدامت ظاہر کرتاہے۔

دینی تاریخ کے لحاظ سے بھی یہ شہربڑی اہمیت کاحال ہے۔ یعنی یہ وہ پہلا شہر ہے جس میں قوم موسیٰ کو سب سے پہلے داخل ہونے کا حکم دیا گیاتھا۔ یا یوں کہہ لیجئے اسی شہر سے قوم موسیٰ کی فتوحات کاآغاز ہواتھا۔ قصہ یوں ہے کہ

سیدنا موسیٰ فرعون کی غرقابی کے بعداپنی قوم کو لے کرجزیرہ نمائے سینامیں ’’ارواء ،ایلیم کے راستے کوہ سینا کی طرف آئے اور ایک سال سے کچھ زائد مدت تک اس مقام پر ٹھہرے رہے۔ یہیں سے توریت کے بیشتر احکام آپ پر نازل ہوئے۔ پھرآپ کو حکم ہواکہ بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین جاؤ اور اسے فتح کرلوکہ وہ تمہاری میراث میں دیا گیا ہے۔ چنانچہ سیدنا موسیٰ بنی اسرائیل کو لیے ہوئے تبعیر اور حصیرات کے راستے دشت فاران تشریف لائے۔ اور وہاں سے آپ نے بنی اسرائیل کے 12سرداروں کو فلسطین کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا تاکہ وہاں کے حالات معلوم کرکے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن کا دورہ کرکے وہاں سے واپس آئے اور قادس کے مقام پر انہوں نے قوم کے مجمع عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دودھ اورشہد کی نہریں بہتی ہیں۔ لیکن جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زور آور ہیں۔ ہم ان پر حملہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ بیان سن کر سارا مجمع چیخ اٹھا کہ ’’اے کاش ہم مصر ہی میں مرجاتے۔ یا کاش ہم اسی بیابان ہی میں مرجائیں۔‘‘

ان کی بزدلی دیکھ کردوسردار یوشع بن نون اور کالب اٹھے اور انہوں نے قوم کی بزدلی پر لعن طعن کی اور اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کی۔ آخرکار اللہ کا غضب بھڑکااور اس نے فیصلہ فرمادیاکہ

’’ اب یوشع اور کالب کے سوااس قوم کے بالغ مردوں میں سے کوئی بھی اس سرزمین میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس سال تک بے خانماں پھرتی رہے گی۔‘‘

چنانچہ اس فیصلہ خداوندی کے مطابق بنی اسرائیل کو دشت فاران سے شرق اردن تک پہنچتے پہنچتے پورے38برس لگ گئے۔ اس دور میں وہ سب لوگ مرکھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر سے نکلے تھے۔ شرق اردن فتح کرنے کے بعد سیدنا موسیٰ کابھی انتقال ہوگیا اسکے بعد یوشع بن نون کے عہد خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین کو فتح کرسکیں۔ سیدنا یوشع نے مشرق کی جانب سے دریائے اردن کو پار کرکے ’’شہر اریحا ‘‘کو فتح کرلیا۔ یہ فلسطین کا پہلا شہر تھا جو بنی اسرائیل کے قبضے میں آیا۔ پھرایک قلیل مدت میں پورا فلسطین فتح ہوگیا۔ ( تفہیم القرآن: 1؍460)

یہ تفصیلات بائبل کی کتاب گنتی، استثناء اور یشوع میں ملیں گی اور قرآن کریم کی سورہ مائدہ آیت نمبر21تا26میں اسی کاذکر کیاگیاہے۔ جب سیدنا موسیٰ نے قوم سے کہا:

﴿يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِينَ﴾

’’اے میری قوم! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جائو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھی ہوئی ہے ، وہاں جانے سے پیٹھ نہ پھیرو ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔‘‘

لیکن بنی اسرائیل کی بزدلی اورتن آسانی حملے کرنے میں آڑے آئی۔ اور بولے :

﴿قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِن يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ 0‏ قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ0 قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا ۖ فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ 0‏ قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي ۖ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ 0‏ قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةً ۛ يَتِيهُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ ﴾

’’اے موسیٰ وہاں کے لوگ تو بہت زور آور ہیں ، اس لیے ہم اس وقت تک وہاں نہ جائیں گے جب تک وہ لوگ خود بخود وہاں سے نکل نہ جائیں۔ اور جب وہ خود بخود نکل جائیں گے تو پھر ہمیں حاضر سمجھو ۔ تب دو خدا ترس آدمیوں نے ، جن پر اللہ کا فضل تھا کھڑے ہو کر کہا کہ تم ان کا مقابلہ کرتے ہوئے شہر کے دروازے میں گھس جاؤ ، دروازے میں قدم رکھتے ہی یقیناً تم غالب آ جاؤ گے اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ قوم نے جواب دیا کہ اے موسیٰ! جب تک وہ وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے، لہٰذا تم اور تمہارا رب جا کر دونوں ہی لڑ و، ہم یہیں بیٹھ کر دیکھیں گے۔ سیدنا موسیٰ نے عرض کی اے رب ! مجھے اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی اور پر کوئی اختیار نہیں ہے، پس تو ہم میں اور ان نافرمانوں میں جدائی کر دے۔ نتیجے میں ان سے کہاگیاکہ اب یہ 40 سال سینا کی صحرانوردی کرتے رہیں گے۔ ارشاد ہوا کہ اب وہ سر زمین ان پر چالیس سال تک حرام رہے گی، یہ جگہ جگہ مارے مارے پھرتے رہیں گے۔ اب تم ان فاسقوں کی بدحالی پر غم زدہ نہ ہونا۔‘‘

سیدنا موسی کاانتقال تواسی صحرانوردی کے دوران میں ہوگیا تھا۔ لیکن ان کے بھانجے سیدنا یوشع بن نون کے دور میں حالات نے پلٹا کھایا اوران کی قیادت میں جب فلسطین فتح ہواتو سب سے پہلا شہر یہی اریحا تھا۔ ارض فلسطین کو ارض مقدسہ کہا گیاہے۔ اس لحاظ سے شہر اریحا شہر مقدس قرار پاتاہے کیونکہ یہی سب سے پہلا مفتوحہ شہربنا۔ یہیں سے بیت المقدس کاعلاقہ شروع ہوتاتھا۔

ارائیں برادری کی مناسبت

اسلامی تاریخ میں بھی اس شہر کا بڑا نام ہے ۔محققین کے مطابق کہ حجاج بن یوسف کے دور میں مجاہدین کا جوقافلہ محمد بن قاسم کی قیادت میں سندھ کے جہادمیں شامل ہواتھا۔اس کے اکثرسپاہیوں کا تعلق فلسطین کے اس تاریخی شہر’’اریحا ‘‘سے تھا۔ان کی تعدادکم وبیش 6000 بتائی جاتی ہے ۔ یہ لوگ ہندوستان ہی میں بس گئے اور انہی کی نسل ۔۔اریحا ۔۔ کی نسبت سے ارائیں کہلائی۔

یہی وجہ ہے کہ دو برادریاں مکمل طور پر مسلم برادریاں ہیں۔ ایک اعوان اور دوسرے ارائیں۔ ان میں کوئی ہندو یا سکھ نہیں ہے کیونکہ یہ خالص مسلمان نسل سے ہیں۔ واللہ اعلم ۔

جغرافیائی طور پر شہر اریحا فلسطین کے سولہ محافظات (اضلاع)میں سے ایک ہے۔ فلسطینی مغربی کنارے میں59کلومربع میٹر میں پھیلا ہوا یہ شہر۔ 1949سے1967تک اردن کے زیر قبضہ تھا اور 1967میں اسرائیل نے قبضہ کرلیا۔ 1994میں اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی انتظامیہ کے زیر اثر آ گیا 2006کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 20.300ہے۔ اس میں یہودیوں کو داخل ہونے کی قطعاًاجازت نہیں ہے۔ داخل ہوتے وقت حفاظتی چوکی پرواضح لکھاہے کہ

’’کوئی یہودی اس شہر میں داخل نہیں ہوسکتا۔‘‘

اورنہ کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ لیکن ہم تو بڑے فخر کے ساتھ سینہ تان کر اریحا کے اندر داخل ہوئے کہ جیسے اپنے لاہور میں داخل ہوتے ہیں۔ گویایہ بھی ہمارا اپنا شہر ہے ایسی ہی کیفیت ہماری بیت اللحم میں داخلے کے وقت بھی ہوئی تھی۔ یہاں کی اہم پیداوار مجھول کھجور ہے، جو اپنی موٹائی، لمبائی اور لذت میں مشہور ہے۔ کھجوروں کے بازار میں اس کی قیمت بھی زیادہ ہے لیکن اس معروف مجہول کھجور کی وجہ تسمیہ سمجھ میں نہیں آئی۔ تن آسان لوگوں نے اس کانام مجہول رکھا جبکہ اصل نام شاید مہجول ہے۔ واللہ اعلم

٭٭٭

تبصرہ کریں