سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

زکاۃ کے بارے میں شیخ البانی کی آراء کا تذکرہ (پچھلی قسط کا تسلسل )
٭ اصل سے جو فائدہ حاصل ہو کیا اس پر زکاۃ ہے ؟
اور اس سے مراد ہے جیسے گھر کو کرائے پر چڑھا دیا یا جانور کو اجرت کے طور پر دے دیا تو جو آمدنی اسے حاصل ہوگی، اس پر زکاۃ دے جائے گی یا نہیں ؟
شیخ البانی اس مسئلہ میں امام شوکانی کی رائے کے حامل ہیں کہ پہلے تینوں زمانوں میں کہ جن کو خیر القرون کہا جاتا ہے ، ایسا کوئی دستور نہ تھا ، اور اصل تو یہی ہے کہ ایک مسلمان کا مال اس کی ملکیت میں رہتا ہے اور اگر اس سے کچھ لیا جائے تو اس کی کوئی دلیل ہونی چا ہیئے۔
یہاں بہتر ہوگا کہ سعودی عر ب کے مؤقر ادارے دارالافتاء کی رائے سے بھی آگاہ کر دیا جائے ، وہ کہتے ہیں :
’’وہ مال جوانسان کی ملکیت میں ہوا کئی قسم کا ہو سکتا ہے، اگر نقدی کی شکل میں ہو تو اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس پر زکاة واجب ہو جاتی ہے اور اگر زرعی اراضی ہوں تو اس سے دانوں یا پھل کی شکل میں جو بھی پیداوار حاصل ہوگی اور جب بھی اس کی فصل کی کٹائی ہو گی تو اس میں زکاة واجب ہو جائے گی اور جو زمین کرائے پر دی جائے یا جو عمارت کرائے پر دی جائے تو ایک سال کے گزرنے کے بعد اس سے حاصل کردہ کرائے پر زکاة واجب ہوگی ۔
اس زمین یا عمارت کی قیمت پرز کاۃ نہیں ہوگی، اور جو زمین یا عمارتیں یا سامان تجارت ، بغرض تجارت ہوں وہ بھی ایک سال گزر جانے کے بعد زکاة کے قابل ہوں گے اور اگر اصل مال نصاب کو پہنچ جاتا ہے اور پھر اسی پر مزیدنفع بھی حاصل ہوتا ہے تو دونوں کو ملا کر ان پر زکاۃ دی جائے گی ۔‘‘
(بدستخط عبدالله بن منیع، عبدالله بن غدیان ، عبد الرزاق عفیفی)
اور یہی رائے شیخ عبد العزیز بن باز کی بھی ہے کہ جو گھر کرائے کی غرض سے رکھے گئے ہوں ، ان گھروں پر تو زکاۃ نہیں ہے لیکن ان سے حاصل کردہ کرائے پر زکات واجب ہوگی اگر وہ رقم نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک سال بھی گزر جائے۔ نصاب کی مقدار سونے کے اعتبار سے 20 مثقال سونا ہے (یا 84 گرام سونے کی مالیت ہے۔)
زراعتی اشیاء کی زکاة
شیخ البانی کی رائے کے مطابق زکاة صرف چار زرعی اشیاء میں ہے اور وہ ہیں :
گندم جَو ، کشمش اور کھجور
اور اسی مذہب کے قائل ہیں عبد اللہ بن عمر اور تابعین ، اور ان کے اخلاف میں سے ثوری، شعبی ابن سیرین اور عبداللہ بن مبارک ۔
امام احمد کی ایک رائے بھی اس مذہب کے مطابق ہے۔
ابن حزم بھی سوائے کشمش کے ، باقی چیزوں میں زکاۃ کے قائل ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ کشمش میں کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے ۔ امام شوکانی بھی اسے درست قرار دیتے ہیں۔
دلیل کے طور پر ابی بُردہ کی روایت پیش کی جاتی ہے ۔ وہ ابو موسی اور معاذ سے روایت کرتے ہیں کہ جب انہیں نبی ﷺ نے یمن بھیجا تھا تاکہ وہاں کے لوگوں کو دین سکھا سکیں تو انہیں اس بات کا بھی حکم دیا تھا کہ وہ سوائے ان چار چیزوں کے کسی اور چیز میں سے زکاۃ نہ لیں۔ (حاکم، بیہقی ، شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے )
اس رائے کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نبی ﷺ کے زمانے میں لوگوں کے پاس زمین کی پیداوار میں سے اور چیزیں بھی تھیں لیکن جب اللہ کے رسول ﷺ نے ان کا ذکر نہیں کیا، تو پھر تمہیں بھی ان پر زکاۃ واجب نہیں کرنا چاہیے، جیسے اللہ کے رسول نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاة کا ذکر نہیں کیا۔
ابو عبید نے کتاب الاموال میں یہی رائے صحیح قرار دی ہے ۔
دوسری رائے یہ ہے کہ جو کچھ لوگ زمین میں اُگاتے ہیں ، ان سب پر زکاۃ ہے ، اور اس رائے کے قائلین میں سے ہیں : عمر بن عبد العزیز، امام ابو حنیفہ، داؤد ظاہری ، اوراسی رائے کو شیخ یوسف القرضاوی نے اپنی کتاب ’ فقہ الزكاة ‘ میں اختیار کیا ہے۔ بطور دلیل وہ یہ آیات اور حدیث پیش کرتے ہیں :
1۔ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ﴾ (سورة التوبہ: 267)
’’ اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں میں سے خرچ کرو جو تم کھاتے ہو اور جنہیں ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا۔‘‘
تو یہ آیت عام ہے اور زمین کی ہر پیداوار اس میں شامل ہے ۔
2۔ ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ﴾ (سورۃ الأنعام141)
’’اور فصل کی کٹائی کے وقت اس کا حق ادا کرو۔‘‘
اور اس آیت سے قبل ہر طرح کی پیداوار کا ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا۔
باغات جو چھتریوں پر چڑھائے جاتے ہیں یا نہیں چڑھائے جاتے ، کھجور اور مختلف قسم کی کھیتیاں ، زیتون ، انار وغیرہ
اور پھر اللہ کے رسول ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’جو بارش سے پانی حاصل کرے ، اس میں عشر (دسواں حصہ) ہے اور جو رہٹ کے پانی سے سیراب ہو تو اس ميں نصف العشر (یعنی بیسواں حصہ) ہے ۔
اور یہی رائے شیخ ابن باز اور دارالافتاء (سعودی عرب) کی بھی ہے۔
ان کے نزدیک ہر اس محصول میں زکاة ہے، جس کی پیمائش کی جاسکے اور جسے ذخیرہ کیا جاسکے جیسے کھجور کشمش، بادام، اخروٹ، پستہ اور اس کی دلیل فرمان نبویﷺ ہے کہ
’’ کھجور ہو یا دانے ہوں، اگر پانچ وسق کی مقدار کو پہنچ جائیں تو ان میں زکوٰۃ واجب و گی۔ (صحیح بخاری اور صحیح مسلم )
ایک وسق ، ساٹھ صاع کے برابر ہوتا ہے اور پانچ وسق تین صاع کے برابر ہوئے ، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر وہ پیمائش کے قابل نہ ہوں تو پھر وہ زکاۃ کی مد میں نہیں آتے ۔
پھلوں کے اندر یہ عمومی قاعدہ ملاحظہ ہو کہ اگر ان کی تجارت کی جائے تو پھر انہیں سامان تجارت سمجھا جائے گا ، یعنی جتنی آمدنی حاصل ہوگی اس پر شرط نصاب اور گزران سال زکاۃ واجب ہوگی، جیسے ناریل کو بطور مثال لے لیا جائے ۔ یہ وہ پھل ہےکہ نہ اس کی پیمائش ہوتی ہے ، نہ اسے ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، تو اس کی کٹائی کے وقت تو زکاة واجب نہیں ہوگی لیکن اگر ا سے تجارت میں لگایا جائے تو اس کی آمدنی پر مذکورہ دونوں شرطوں کے ساتھ زکاة واجب ہوگی ۔ (بحوالہ : فتاوی دائمی کمیٹی برائے فتاوی اور بحوث علمیہ: 9؍ 239۔240)
شہد کی زکاة
شہد میں زكاة ہے یا نہیں ؟ حکم لگانے سے پہلے ان احادیث کا جائزہ لے لیتے ہیں ، جو اس باب میں وارد ہوئی ہیں۔
1۔ روایت عمرو بن شعیب : بنی متعان کا ایک شخص ’ہلال ‘نبی ﷺ کے پاس اپنے شہد کے چھتوں کے عشر لے کرآیا، اس شخص اس شخص نے نبی ﷺ سے ایک وادی (سَلبہ) کے بطور حمیٰ دئیے جانے کا مطالبہ کیا تھا ۔
یعنی ایسی وادی جس میں وہ اپنے جانور چرا سکے اور وہ صرف اس کے استعمال کے لیے ہو تو آپﷺ نے اسے وہ وادی عطا کر دی تھی۔
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ آیا تو سفیان بن وہب نے انہیں اس بارے میں خط لکھا، جس میں اس وادی کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔
حضرت عمر نے جواب دیا کہ اس شخص کو بتا دو کہ وہ جیسے اپنے شہد کا عشر اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں پیش کیا کرتا تھا، ویسے ہی اب تمہیں (بطور والی) پیش کرتا ر ہے اور اس حمی کو برقرار رکھے ، اور اگرایسا نہ ہو تو پھر وہ ایک ابر کرم ہے جو چا ہے اس میں سے کھاتا رہے ۔
شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔ حافظ ابن حجر نے بھی فتح الباری میں اُسے قوی قرار دیا ہے ۔
لیکن بقول این زنجویہ (کتاب الأموال) اور خطابی (معالم السنن) یہ عشر اس وادی کو بطور حمی استعمال کرنے کے عوض میں تھا ۔
2۔ حدیث عبد الله بن عمرو کہ نبی ﷺ نے شہد میں سے عشر وصول کیا تھا۔ شیخ البانی نے اس روایت کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔
شیخ البانی نے امام بخاری کا یہ قول نقل کیا ہے کہ شہد کے بارے میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے ، اس لیے ان کا رجحان جمہور کی اس رائے کے موافق ہے کہ شہد میں زکاۃ نہیں ہے لیکن مذکورہ دونوں روایتوں کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ
آج کل کے رواج کے مطابق باغات اور کھیتوں میں جو شہد کے چھتے بنائے جاتے ہیں، ان میں زکاۃ نہیں ہے الا یہ کہ کوئی شخص بطیب خاطر زکاۃ دینا چاہے ۔
اور عبد اللہ بن عمرو کی روایت کو بھی وہ عمرو بن شعیب کی روایت کے تناظر ہی میں دیکھتے ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد بھی واضح کرتا ہے کہ
انہوں نے جب اپنے عامل کو یہ اختیار دیا کہ وہ اس وادی کو حمی قرار دئیے جانے کی بنا پر اس سے شہد کی زکاۃ لیتا رہے تو یہ بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ
یہ عشر بطور عوض لیا گیا تھا ، اور اگر یہ حمی نہ ہوتی تو پهر یہ شہدہرکس و ناکس کے لئے جائز تھا ۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ جمہور ائمہ بشمول امام شافعی اس بات کے قائل ہیں کہ شہد میں زکاۃ نہیں ہے۔
لیکن احناف اور حنابلہ مذکورہ روایت کی بنا پر شہد میں زکاۃ کے قائل ہیں۔ لجنہ دائمہ (سعودی عرب) کے فتویٰ کے یہ الفاظ ہیں :
وه شہد، جو شہد کی مکھی کے چھتے سے حاصل کیا جاتا ہے ، اس میں بذات خودزکاۃ نہیں ہے لیکن اگر اسے تجارت کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کی آمدنی میں سے زکاۃ دی جائے گی اگر نصاب اور سال پورا ہونے کی دونوں شرطیں پائی گئیں۔نصاب وہی ہے جو سونا چاندی کا ہے یعنی دس میں سے چوتھائی حصہ۔ (فتوی بدستخط عبدالعزيز بن عبد اللہ بن باز ، عبدالرزاق عفیفی، عبد الله بن قعود)
ر کاز ( دفینے ) کی زکاۃ
زمین میں سے جو کچھ بھی نکلے۔ ا س میں خرچ کرنے کا حکم ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ﴾ (سورة التوبہ: 267)
’’ اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں میں سے خرچ کرو جو تم کھاتے ہو اور جنہیں ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا۔‘‘
زمین میں سے نکلنے والی اشیاء میں معدنیات (سونا، چاندی، لوہا ، پیتل، سیسہ وغیرہ بشمول پٹرول اور جواہرات شامل ہیں اور ایسے ہی وہ دفن شده خزانے جو پچھلے لوگوں سے چلے آ رہے ہوں ، اور جن کا کوئی مالک نہ ہو ۔)
پہلی قسم پر معدنیات کا اور دوسری قسم پر رکاز کا اطلاق ہوتا ہے۔
اور دونوں کا ایک ہی حکم ہے پر بنائے حدیث نبوی: «وفي الركاز الخمس » (رواہ الجماعۃ)
’’رکاز میں پانچواں حصہ ہے ۔‘‘ اور اس میں نصاب کی شرط نہیں ہے ۔ اور یہی جمہور علماء کا مسلک ہے۔
اب رہا یہ سوال کہ رکاز میں سے نکالا ہوا پانچواں حصہ کہاں خرچ کیا جائے تو اس کی بارے میں شیخ البانی لکھتے ہیں:
اس مسئلہ میں دو رائیں پائی جاتی ہیں:
1۔ بقول امام شافعی اور امام احمد اسے زکاۃ ہی کی طرح خرچ کیا جائے گا ۔
امام احمد کہتے ہیں، اگر صرف مساکین ہی کو دیا جائے تو یہ کافی رہے گا۔
2۔ اسے فئے کی مانند خرچ کیا جائے گا ۔ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام احمد کا ایک روایت کے مطابق یہی قول ہے۔
فے کا مصرف سورۃ الحشر کی آیت 7 میں بتایا گیا ہے:
﴿ مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ﴾
’’بستیوں والوں کا جو مال تمہارے لڑائی کے بغیر اپنے رسول کے ہا تھ آئے وہ اللہ کا ہےاور رسول کا اور قرابت والوں اور یتیموں اور مساکین اور مسافروں کا ہے۔‘‘
شیخ البانی کہتے ہیں کہ دونوں آراء کے قائلین نے ایسے آثار کو بطور دلیل پیش کیا ہے جوسب کے سب ضعیف ہیں، سنت میں صراحت کے ساتھ ایک قول کو دوسرے قول پر ترجیح دینے کی دلیل نہیں ملتی ، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس کا خرچ کرنا مسلمانوں کے حکمران کی رائے پر موقوف ہے ، جہاں بھی حکومت کی مصلحت ہو ، وہاں خرچ کر سکتا ہے ، ابوعبید نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے ، اور بظاہر یہی حنابلہ کا بھی مذہب ہے ، انہوں نے رکاز کے بارے میں کہا ہے :
’’فے کی ماننداُسے جہاں بھی مصلحت کا تقاضا ہے خرچ کیا جا سکتا ہے ۔
اضافہ: پڑول اگر حکومت کے اخراجات سے زائد ہو تو کیا دوسرے اسلامی ممالک کا اس میں حق ہے؟
اس بارے میں السید احمد المخزعی لکھتے ہیں :
’’ پٹرول کی زائد مقدار کو تمام اسلامی ممالک میں بقدر حاجت تقسیم کیا جانا چاہئے۔ اس طرح ہم عالم اسلام میں فقر کا علاج کر سکتے ہیں کہ جس کی وجہ سے وہ متمدن قوموں سے پیچھے رہ گئے ہیں ، دلیل کے طور پر ڈاکٹر الفنجری نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس خط کا حوالہ دیا ہے جو انہوں نے قحط کے سال مصر کے گورنر عمرو بن العاص کو لکھا تھا۔ اس میں یہ الفاظ کہے گئے تھے:
’’أما بعد ، کیا تم یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ میں اور میرے ساتھ جو لوگ ہیں وہ سب کے سب ہلاک ہو جائیں اور تم خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ زندہ رہو ، تو المدد المدد المدد )
اس کے جواب میں عمرو بن العاص نے لکھا : اما بعد ! مدد تم تک پہنچ رہی ہے ، میں تمہارے پاس غلے کے اتنے اونٹ بھیجوں گا کہ ان کا پہلا تمہارے پاس ہوگا اور آخری میرے پاس ۔‘‘ (حوالہ الاسلام والضمان الاجتماعی)
تو اگر مصر کا غلہ صرف اصل مصر ہی کے لئے ہوتا تو حضرت عمر اتنے سخت لہجے میں والی مصر سے غلہ بھیجنے کا مطالبہ کرتے ؟
اور یہی حضرت عمر ہیں جنہوں نے کہا تھا:
’’یہ شام اور عراق کے خراج کا جو مال میرے پاس آیا ہے ، اس میں سے سے صنعا کے پہاڑ پر ایک چرواہے کو بھی اس کا حق ملے گا ۔‘‘ ” (اضافہ از كاتب السطور)
٭٭٭

تبصرہ کریں