
بدنما ناک کی سرجری کا حکم
سوال: میری ناک اونچی اور اوپر سے ٹیڑھی بھی ہے۔ بچپن سے مجھے اس غیر فطری بناوٹ کی وجہ سے پریشانی لاحق رہی ہے۔ میں نے پلاسٹک سرجری اور خوبصورتی کے بارے میں کافی تحقیق کی ہے اور مجھے اس بات کا علم ہوا ہے کہ اس کی سرجری ایسے کی جا سکتی ہے کہ مذکورہ بدصورتی کا بھی ازالہ ہو جائے اور انسان کی انسانی خصوصیات میں بھی زیادہ تبدیلی نہ آئے۔ میری غرض صرف اتنی ہے کہ ناک کا ٹیڑھا پن کچھ کم ہو سکے اور اس کی قدرتی شکل باقی رہ جائے۔
میں یہ نہیں چاہ رہا کہ ناک کی شکل و صورت میں مغرب زدگی کا شکار ہوں، صرف اتنا چاہتا ہوں کہ ناک کے اوپر کا اُبھار کم ہو جائے اور قدرتی شکل باقی رہے۔
مجھے خوبصورتی نہیں بلکہ احساسِ کمتری کے احساس کو زائل کرنا ہے۔ میں اسی طریقۂ علاج کو اپنانے سے قبل آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔
جواب: بنیادی بات تو یہی ہے کہ صرف خوبصورتی کی خاطر ایسا کوئی علاج نہ کیا جائے کہ جس سے بلا ضرورت اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ خلقت کو بدلنے کی خواہش ہو، اس بات سے شریعت میں منع کیا گیا ہے جس کی کئی دلائل ہیں۔
لیکن بعض اسباب کی بنا پر ایسا کیا جا سکتا ہے، جیسے کسی پیدائشی یا حادثاتی عیب کو زائل کرنا ہو، یا کسی بدنی یا نفسیاتی عیب کا ازالہ مقصود ہو تو بقدرِ ضرورت اسے زائل کرنا جائز ہے، جیسے کہ حدیث میں اس شخص کا قصہ بیان ہوا ہے جس کی ناک کٹ گئی تھی تو اللہ کے رسول ﷺ نے اُسے سونے کی ناک بنانے کی اجازت دی تھی۔
اور اسی بنا پر آگے اس مسئلے کو دیکھا جا سکتا ہے، اور وہ یہ کہ ناک قدرتی شکل پر نہیں ہے، اس میں کچھ غیر معمولی اونچائی یا ٹیڑھا پن پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے نفسیاتی طور پر گھبراہٹ رہتی ہے، اور خواہش یہ نہیں کہ اسے بہت خوبصورت بنایا جائے بلکہ اس عیب کو زائل کرنا اور اسے قدرتی شکل عطا کرنا ہے، اور اس مقصد کی خاطر اتنی سرجری کرائی جا سکتی ہے جس سے یہ عیب زائل ہو جائے۔ لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ سرجری کامیاب رہے گی اور یہ نہیں ہوگا کہ اس عیب سے بڑا کوئی عیب نکل آئے۔ یعنی علاج بقدرِ ضرورت ہو، اور کوئی شرعی مانع بھی نہ ہو۔
خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ صرف خوبصورتی کی خاطر تو ایسا کرنا جائز نہیں، البتہ کسی ظاہر عیب یا محسوس ضرر کے لیے بقدرِ ضرورت ایسا کرنا جائز ہے۔
(فتویٰ کمیٹی، برطانیہ)
جنسی کمزوری کی بنا پر طلاق کا مطالبہ کرنا
سوال: میں ایک مسلمان شادی شدہ خاتون ہوں۔ شادی کے بعد معلوم ہوا کہ میرا شوہر شدید جنسی کمزوری کا شکار ہے، اور اس بنا پر ہمارے درمیان پانچ مرتبہ سے زیادہ قربت نہیں ہوتی ہے۔ میں نے جب طلاق کا مطالبہ کیا تو اس نے صاف انکار کر دیا۔ یہ صرف یہی ایک عیب نہیں بلکہ وہ نماز بھی نہیں پڑھتا، فاسقانہ زندگی گزارتا ہے، جس کی وجہ سے میں اس سے زیادہ نفرت کرنے لگی ہوں۔
میں چھ ماہ قبل اسے چھوڑ چکی ہوں اور ہمارے درمیان کوئی راہ و رسم باقی نہیں رہی، لیکن وہ اب بھی مجھ سے محبت کا دم بھرتا ہے اور مجھے طلاق نہیں دیتا۔ لیکن میں کسی صورت اس کے ساتھ ازدواجی زندگی نہیں گزار سکتی، خواہش ہے کہ کسی اور کے ساتھ صحیح ازدواجی زندگی گزاروں۔
میرے پاس بطورِ ثبوت ایسی تصاویر ہیں جو شوہر کی جنسی کمزوری ظاہر کرتی ہیں، جو بوقتِ ضرورت پیش کر سکتی ہوں تاکہ میری کوفت اور تکلیف کا اندازہ ہو سکے۔ مجھے ان سوالات کے جوابات درکار ہیں۔ میں جرمنی میں اقامت پذیر ہوں، جہاں کوئی شرعی ادارہ نہیں ہے جو مجھے طلاق دلوا سکے۔
کیا میں اس کی جنسی کمزوری اور اپنے اوپر واقع ہونے والے ضرر کے سبب فسخِ نکاح کا مطالبہ کر سکتی ہوں؟
اگر کسی شرعی عدالت تک رسائی نہ ہو اور شوہر خود طلاق دینے پر راضی نہ ہو تو کیا میرا نکاح بذاتِ خود فسخ سمجھا جا سکتا ہے؟
اور ایسی صورت میں شریعت کا کیا تقاضا ہوگا؟
جواب:نبی ﷺ کا قول ہے:
«لا ضرر ولا ضرار»
کہ نہ تم کسی کو ضرر پہنچاؤ اور نہ ہی ضرر کو اپنے اوپر قبول کرو۔
لہٰذا اگر ضرر کا واقع ہونا یقینی ہو، جس کی ایک صورت جنسی کمزوری بھی ہے، جو نکاح کے اصل مقصود کو حاصل کرنے میں مانع ہے، اور پھر اس کے علاوہ شوہر میں دوسرے عیب بھی پائے جاتے ہیں، جیسے فسق و فجور کا اظہار کرنا، نماز نہ پڑھنا، تو یہ اسباب فسخِ نکاح کے لیے کافی ہیں۔
اگر صرف جنسی کمزوری ہی ہوتی تو اس کے لیے علاج کا وسیلہ موجود ہے، اور پھر بھی اگر یہ عیب دور نہ ہوتا تو بھی عورت کے پاس اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ اسے محبت کرتی ہے تو صبر و شکر کے ساتھ اس کی بیوی بن کر زندگی گزار دے، یا بعد میں ایسے شوہر سے علیحدہ ہو جائے، یا پھر خلع کا مطالبہ کرے، اور خلع یا فسخ حاصل ہونے کے بعد بنیادی اصول تو یہی ہے کہ فسخِ نکاح کے لیے کسی شرعی عدالت یا اس کے قائم مقام کسی ادارے کی طرف رجوع کیا جائے، لیکن اگر ایسا کوئی انتظام نہ ہو تو مقامی طور پر کسی اسلامی مرکز کی طرف رجوع کیا جائے یا کسی مصالحتی جمعیت (Mediation) کا سہارا لیا جائے جو طرفین میں مصالحت کرانے کے سلسلے میں معروف ہو۔ ایک عورت از خود نکاح کو مفسوخ نہیں شمار کر سکتی، کیونکہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے جس میں احتیاط لازم ہے۔
3۔ اگر فسخ، خلع یا طلاق کا فیصلہ ہو جائے تو پھر عورت اپنی عدت شروع کر سکتی ہے، اور اس کی تین صورتیں ہیں:
اگر حمل نہیں ہے تو تین حیض شمار کرے۔
اگر حمل ہے تو بچے کی ولادت یا حمل ختم ہونے کی کوئی دوسری صورت ہو جائے تو عدت بھی تمام ہو جائے گی۔
اگر حیض نہیں آتا ہے تو تین قمری مہینے انتظار کرے۔
اگر وہ دوسری شادی کرنا چاہے تو عدت کے ایام کا پورا ہونا ضروری ہے۔(فتویٰ کمیٹی، برطانیہ)
٭٭٭
کیا اسقاطِ حمل جائز ہے؟
سوال:ایک حساس مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ میرے ایک دوست کا نومولود بچہ ولادت کے بعد تھوڑے سے وقت میں فوت ہو گیا۔ اسے ایک نادر قسم کا وراثتی مرض لاحق تھا جسے (MMDS3) کہا جاتا ہے۔ زوجین دونوں ہی DNA میں جینیاتی خلیے کی غلط ترکیب کے آثار رکھتے تھے، اور یہ اتنی سنگین نوعیت کے تھے کہ بچے کا زندہ رہنا مشکل تھا۔ ڈاکٹروں نے اب یہ بتا دیا ہے کہ آئندہ اگر حمل ٹھہرے تو اسی مرض کی بنا پر بچے کی زندگی کو سخت خطرہ لاحق رہے گا، اور اگر وہ زندہ رہے بھی تو اس کی صحت بری طرح متاثر رہے گی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر دورانِ حمل حاملہ کی جسمانی جانچ کے بعد اس بات کا یقین کر لیں کہ جنین کو مذکورہ مرض لاحق ہے تو کیا وہ اسقاطِ حمل کرا سکتے ہیں، یا انہیں ہر صورت حمل کو باقی رکھنا چاہیے، حالانکہ ڈاکٹر یہ بھی بتا چکے ہیں کہ اگر بچے کی ولادت ہو بھی گئی تو وہ چند گھنٹوں یا چند دنوں کا مہمان ہوگا؟
جواب:بنیادی طور پر تو اسقاط کرانا شرعاً حرام ہے، کیونکہ یہ ایک جان کو ختم کرنے کی صورت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾(الأنعام: 151)
اور جس نفس کے مارنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، اسے ناحق قتل نہ کرو۔
فقہاء نے اسقاط کے کچھ ضوابط بنائے ہیں کہ جن کا تعلق روح کے جنین میں پھونکے جانے سے ہے۔
1- نفخِ روح، یعنی حمل کے پہلے ایک سو بیس (120) دن کا مرحلہ:
اگر قابلِ اعتماد اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے یہ رپورٹ دی ہو کہ جنین ایسے خطرناک وراثتی مرض کا حامل ہے، جو اگر زندہ بھی رہے تو انتہائی تکلیف کے ساتھ زندگی بسر ہونے کا امکان ہے، تو ایسی صورت میں ضرر کے ازالے کے لیے نفخِ روح سے قبل اسقاط کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک شرعی قاعدہ ہے کہ جہاں ضرورت ہو تو اس کا ازالہ کیا جائے۔ کئی فقہی ادارے یہی فتویٰ دے چکے ہیں۔
2- نفخِ روح، یعنی ایک سو بیس (120) دن کے بعد:
اگر مرض کی تشخیص ہو چکی ہو، تو اسقاط بالکل ناجائز ہے، الا یہ کہ ڈاکٹر اس بات کا غالب امکان ظاہر کرتے ہوں کہ
اگر یہ حمل باقی رہا تو پھر ماں کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ روح پھونکے جانے کے بعد جنین اب ایک فرد کی جان کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن ماں کی جان بچانے کے لیے ایسا کیا جانا ضروری ہے، بشرطیکہ کم از کم دو یا تین ڈاکٹروں کی متفقہ رائے کے بعد ایسا کوئی قدم اٹھایا جائے۔(فتویٰ کمیٹی، برطانیہ)
٭٭٭
طلاق کے بعد عورت کے نان و نفقہ سے متعلق احکامات
سوال:میں جرمنی میں رہائش پذیر ایک مسلمان عورت ہوں۔ خاوند سے طلاق کا مقدمہ چل رہا ہے۔ میں چونکہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا چاہتی ہوں، اس لیے مجھے مندرجہ ذیل سوالات کا جواب مطلوب ہے تاکہ شرعاً میں بری الذمہ قرار پاؤں۔
وہ نفقہ جو شوہر نے بیوی کو نہیں دیا، کیا وہ اس کے ذمے واجب الادا ہوگا؟
کیا رہائش مہیا کرنا واجب نفقہ کا حصہ ہے، چاہے وہ حکومت کی جانب سے مہیا کر دی گئی ہو؟
اگر حکومت کی طرف سے مالی امداد ملتی ہو تو شوہر کے ذمہ نان و نفقہ کی ادائیگی ساقط ہو جائے گی یا اس میں تخفیف حاصل رہے گی؟
جیسے مہرِ مؤخر وغیرہ جو ابھی تک ادا نہیں کیا گیا، شوہر کے ذمے واجب الادا ہے، ایسے ہی وہ نفقہ جو شوہر نے ازدواجی زندگی میں ادا نہیں کیا، کیا اس کا مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے؟
مجھے واضح شرعی احکامات بتائے جائیں تاکہ مجھے اطمینانِ قلب حاصل ہو۔
جواب:1۔ جہاں تک نان و نفقہ کا تعلق ہے تو وہ مرد پر واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾(البقرۃ: 233)
’’بچے کے باپ پر دستور کے مطابق ان (ماؤں) کے کھانے اور لباس کی ذمہ داری ہے۔‘‘
اسی طرح حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ
ابو سفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں اور انہیں مناسب نفقہ نہیں دیتے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دی کہ:
«خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ»
ترجمہ: تم اپنے اور اپنے بچے کے لیے دستور کے مطابق جتنا کافی ہو، ان کے مال سے لے سکتی ہو۔
لہٰذا اگر شوہر نے واجب نفقہ ادا نہیں کیا، اور عورت کا یہ حق ثابت ہو جائے یا عدالت اس کا فیصلہ کر دے، تو وہ نفقہ شوہر کے ذمے واجب الادا رہے گا۔ البتہ نفقے کی مقدار شوہر کی مالی حیثیت کے مطابق متعین کی جائے گی؛ اگر وہ مالدار ہے تو اس کی وسعت کے مطابق، اور اگر تنگ دست ہے تو اس کی استطاعت کے مطابق۔
2۔ رہائش کی فراہمی بھی نان و نفقہ ہی کا حصہ ہے اور خاوند کے فرائض میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ﴾
(الطلاق: 6)
’’ انہیں وہاں رہائش دو جہاں تم اپنی استطاعت کے مطابق رہتے ہو۔‘‘
جب مطلقہ عورت کو بھی عدت کے دوران رہائش دینا واجب ہے تو بیوی کو، بدرجۂ اولیٰ، رہائش فراہم کرنا واجب ہوگا۔
اگر حکومت نے میاں بیوی کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے رہائش فراہم کر دی ہے تو اس ضرورت کی تکمیل ہو گئی۔ یعنی جہاں شوہر رہ رہا ہے، بیوی کو بھی وہاں رہنے کا حق حاصل ہوگا۔
3۔ تیسرے اور چوتھے سوال کا جواب بھی اسی میں آ گیا۔ اگر حکومت میاں بیوی کی مالی تنگی کی وجہ سے مالی امداد فراہم کر رہی ہے تو اس سے نان و نفقہ اور رہائش کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔
البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ اگر شوہر خود کمانے کی استطاعت رکھتا ہے تو حکومت عموماً مکان کا پورا کرایہ ادا نہیں کرتی بلکہ اس کی آمدنی کے مطابق کرائے میں معاونت کرتی ہے۔
4۔ جہاں تک مہرِ مؤخر کا تعلق ہے، اگر وہ ابھی تک ادا نہیں کیا گیا تو وہ شوہر کے ذمے واجب الادا رہے گا۔
البتہ یہ بات یاد رہے کہ اگر شوہر اپنی طرف سے طلاق دیتا ہے تو اسے مہر پورا ادا کرنا ہوگا، جبکہ اگر عورت خلع کا مطالبہ کرتی ہے تو عام اصول کے مطابق اسے وصول شدہ مہر واپس کرنا ہوگا۔
موافقتِ اراکینِ فتویٰ کمیٹی برطانیہ
ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)
مفتی برکت اللہ (لندن)
ڈاکٹر بسّام شطی (کویت)
ڈاکٹر نعیم الرحمٰن (مانچسٹر)
ڈاکٹر محمد علی بلاؤ (برمنگھم)
محمد جان شیر خان نے اس کارروائی کو انگریزی زبان میں تحریر کیا۔
حقیقتِ توحید
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں:
إنَّ حَقِيقَةَ التَّوْحِيدِ أَنْ نَعْبُدَ اللّٰـهَ وَحْدَهُ، فَلاَ يُدْعَى إلاَّ هُوَ، وَلاَ يُخْشَى إِلاَّ هُوَ، وَلاَ يُتَّقَى إِلاَّ هُوَ، وَلاَ يُتَوَكَّل إِلاَّ عَلَيْهِ، وَلاَ يَكُونُ الدِّينُ إِلاَّ لَهُ، لاَ لأحَدٍ مِنَ الخَلْقِ، وَأَلاَّ نتَّخِذَ المَلاَئِكَةَ وَالنَبيِّين أَرْبَابًا، فَكَيْفَ باِلأئمَّةِ، وَالشُّيُوخِ، والعُلَمَاءِ، وَالمُلُوكِ، وَغَيْرِهِم.
’’توحید کی حقیقت یہ ہے کہ ہم صرف اکیلے االلّٰہ ہی کی عبادت کریں۔محض اسی کو پکارا جائے، اسی سے ڈرا جائے، اسی کا خوف رکھا جائے، صرف اسی پر توکل کیا جائے، اطاعت ہو تو صرف اسی کی، نہ کہ مخلوق میں سے کسی کی۔ توحید کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ہم فرشتوں اور نبیوں کو رب نہ بنائیں، ائمہ، مشایخ، علما اور بادشاہوں کا تو ذکر ہی کیا۔‘‘
(منہاج السنہ النبویہ: 3؍490)
٭٭٭
لوگوں کی ضروریات پوری کرنا
امام ابوداؤد طیالسی رحمہ اللہ کا بیان ہے:
’’ہم محدث شعبہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کے پاس بیٹھے تھے کہ سلیمان بن مغیرہؒ روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: میرا گدھا مر گیا ہے، تو میرا جمعہ بھی ضائع ہو گیا اور ضروریات بھی پوری نہیں کر پا رہا-
امام شعبہ رحمہ اللہ نے پوچھا: ’’گدھا کتنے میں خریدا تھا؟ ‘‘کہا: ’’تین دینار میں۔‘‘
امام شعبہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’میرے پاس یہ تین دینار ہیں اور ان کے سوا کچھ بھی موجود نہیں۔ پھر وہ دینار سلیمان کو دے دیے۔‘‘
(سیر اعلام النبلاء : 2؍ 211)
تبصرہ کریں