
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الأمين وعلى آله وصحبه أجمعين
تمہید:دور حاضر میں انشورنس کا موضوع اس لیے اہم ہے، کیونکہ اللہ نے باطل ذریعے سے مال کھانے سے منع کیا اور فرمایا :
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ﴾
’’اے ایمان والو! اپنے آپسی مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ مگر یہ کہ خرید و فروخت تمہاری آپسی رضامندی سے ہو۔‘‘ (سورۃ النساء: 29)
اور رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
«مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَة »
’’(روز قیامت سوال ہوگا کہ ) اپنا مال کہاں سے کمایا اور اسے کہاںپر خرچ کیا؟‘‘ (جامع ترمذی، ابواب الصفۃ، باب فی القیامۃ: 2416)
انشورنس کا موضوع اس قدر طویل اور اہم موضوع ہے کہ جس کی صرف ایک شکل تعاونی ہیلتھ انشورنس پر جامعۃ الملک میں ماجستیر Master’s degree کی گئی اور صرف ہیلتھ انشورنس پر جامعہ الامام میں دکتو راہ Doctorate کیاگیا۔
انشورنس کا موضوع اس قدر پیچیدہ اور قابل احتیاط بھی ہے کہ شیخ صالح بن حمید حفظہ اللہ جیسے جید و متبحر عالم نے کچھ دن پہلے فرمایا کہ میرے پاس انشورنس کی بعض شکلوں کا مکمل تصور نہیں ۔
مفہوم وابتدا: انشورنس کو ہندی اور اردو میں بیمہ اور جدید عربی میں تامین کہا جاتا ہے،اور قدیم علما نے انشورنس کو سوکرہ کا نام دیا جو SECURITY کا معرب ہے اور تجارتی انشورنس کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کو کسی تحفظ یا تلافی نقصان کی غرض سے یک مشت یا اقساط پر مخصوص اور متعین رقم فراہم کرتا ہے اور دوسرا فریق اس کے عوض حسب معاہدہ بھی رقم تو کبھی کوئی شے تو کبھی کوئی خدمت ومنفعت فراہم کرتا ہے اور کبھی کچھ کمپنیوں اور حکومتوں کی جانب سے اپنے ملازمین و باشندوں کے لیے فریق ثالث کے طور پر رقم کی ادائی ہوتی ہے۔
انشورنس کی ابتدا تو سمندری تجارتی سفر کو محفوظ بنانے کی غرض سے چودہ ویں صدی عیسوی میں جنوبی یورپ کے ملک اٹلی ITALY میں ہوئی، لیکن انشورنس کی شکلیں بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں متعارف ہوئیں اور اس سے متعلق پہلا قانون بھی اسی وقت Germany میں بنا۔
انشورنس کے موضوع پر عدم گفتگو متاخرین فقہاء میں سب سے پہلے امام ابن عابدین دمشقی (ت 1252) نے کی اور دیار اسلام میں نہیں بلکہ صرف دار الحرب میں حربی کی رضامندی سے سوکرہ کا مال لینے کی اجازت دی۔( حاشیہ ابن عابدين رد المحتار : 4؍ 170)
انشورنس کی اقسام: انشورنس کا تعلق فقہ النوازل والمستجدات سے ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ الاقليات، فقہ المآلات، فقہ الاولويات، فقہ الموازنات اور فقہ الواقع سے بھی ہے۔
علمی و اصولی اور فرضی طور پر انشورنس کی متعدد قسمیں بتائی گئیں، لیکن بنیادی طور پر رائج یا علماء کے یہاں معروف دو بڑی قسمیں ہیں:
1۔تعاونی 2۔تجارتی۔
تعاونی Cooperative انشورنس: فریق اول کی جانب سے کسی بھی طرح سے رقم کی ادائی کے بغیر انشورنس اگر حکومت یا اصحاب خیر کی جانب سے تعاونی Cooperative ہو تو شیخ عبد اللہ بن منبع حفظہ اللہ کے علاوہ سب کے یہاں متفقہ طور پر جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى ﴾ (سورۃ المائدہ: 2)
’’اور تم نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ہاتھ بٹاؤ۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ الْأَشْعَرِنِينَ إِذَا أَرْ مَلُوا فِي الْغَزْوِ أَوْ قَلَّ طَعَامُ عيالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوا مَا كَانَ عِندَهُمْ فِي ثَوْبِ وَاحِدِ ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بالسوية»( صحيح بخاری : 2354)
’’اشعری قبیلے کا تو شہ میدان جنگ میں جب ختم ہو جاتا یا مدینے میں ان کے اہل خانہ کا غلہ کم پڑ جاتا تو وہ ایک کپڑے میں اپنی ساری پونجی اکھٹا کر لیتے، پھر ایک برتن سے اسے برابر برابر اپنے درمیان تقسیم کر دیتے۔
تجارتی Commercial انشورنس: انشورنس اگر تجارتی Commercial ہو تو اس کی فقہی تکییف و تصویر کرنے میں اختلاف کی بنا پر حکم بیان کرنے میں بھی اجتہادی اختلاف پایا جاتا ہے۔
بلاد اسلامیہ یا غیر بلاد اسلامیہ کی تمیز و تفریق کے بغیر جمہور اور بیشتر اہل علم نے بالخصوص مجمع الفقہ الإسلامی الدولی International Islamic Fiqh Academy کی اکثریت ہیئۃ كبار العلماء سعودیہ لجنۃ دائمہ للبحوث العلمیہ والافتاء سعودیہ امریکی مجمع فقہاء الشريعۃ شیخ ابن عثیمین، شیخ البانی، شیخ بن باز سابق مفتی دیار مصر شیخ محمد بیت المطیعی اور ملک شام کے معاصر فقیہ دکتور و ہبہ زحیلی رحمہم اللہ دیگر نے تجارتی انشورنس کو کئی وجوہات کے پیش نظر حرام قرار دیا، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
1۔ غرر اور ضرر: تجارتی انشورنس میں غرر Uncertainty اور ضرر پایا جاتا ہے اور انشورنس میں عقود کی مکمل وضاحت اور پابندیوں کی صراحت نہیں ہوتی، اس لحاظ سے اس نوعیت والا معاملہ منع ہے کیونکہ نبی ﷺ نے :
” نَهَى رَسُولُ اللهِ ﷺ … عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ” ’’نبیﷺ نے غرر والے معاملے سے منع کیا۔‘‘ (صحیح مسلم، كتاب البيوع : 1513)
غرر یعنی جہل اور معاملہ کی عدم شفافیت ہے اور کبھی غرر دھو کے یا دھو کے کے شبہ اور خطرے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور انشورنس میں غرر غرر فاحش یعنی بے تحاشا ہے، اس اعتبار سے کہ انشورنس کرانے والے کو ضرورت پڑے گی یا نہیں، اگر پڑے گی تو کم ہوگی یا زیادہ ہوگی، ضرورت نہ پڑنے یا کم پڑنے کی صورت میں انشورنس کرانے والے کو نقصان ہوگا اور ضرورت زیادہ پڑنے کی صورت میں کمپنی کو نقصان ہوگا۔
2۔ میسر و قمار اور رہان یا مراہنہ : قمار۔۔جوا۔۔ Gambling کی شکل ہے، اس لحاظ سے کہ انشورنس کرانے والا کبھی بغیر غلطی اور بغیر زیادتی رقم ادا کر کے نقصان میں رہتا ہے اور فائدہ نہیں اٹھا پاتا، تو بھی کمپنی بغیر محنت فائدے میں رہتی ہے اور جب بھی اس طرح سے معاملہ داری میں جہالت اور لا علمی یقینی طور پر ہو تو وہ میسر قمار اور جوا شمار ہوتا ہے، جس سے اللہ نے منع فرمایا اور جب منع فرمایا تو اس قمار کو شراب اور بت پرستی کے ساتھ ذکر کیا ۔
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ 0 إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ ﴾
’’اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب جو تھان اور فال نکالنے کے تیر یہ سب گندی باتیں اور شیطانی حرکتیں ہیں، لہٰذا ان کاموں سے بالکل الگ رہو تا کہ تم فلاح یاب ہو، شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے آپسی بغض و دشمنی ڈال دئے اور اللہ کی یاد اور نماز سے تم کو باز رکھے تو کیا تم باز آنے والےہو؟‘‘
اور یہ انشورنس اُس رہان یا مراہنہ یعنی شرط لگانا داؤ لگانا یا سٹے بازی Betting کی شکل بھی ہے جس کی اسلام نے اجازت نہیں دی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: « لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خَفْ أَوْحَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ»(سنن ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی السبق: 2574)
’’ شرطیہ مقابلہ صرف اونٹوں اور گھوڑوں کے مقابلے اور تیراندازی کے مقابلے ہی میں درست ہے۔ ‘‘
3۔ باطل ذریعے سے مال کمانا : انشورنس میں طرفین دلی اور حقیقی رضامندی کے بغیر ناحق اور باطل ذریعے سےUnjustly /Unlawfully مال کماتے اور کھاتے ہیں، جب کہ اللہ نے اسے فرمایا:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾
’’اے ایمان والو ! تم آپس میں اپنا مال باطل ذریعے سے نہ کھاؤ۔ ‘‘ (سورۃ النساء: 29)
4۔ ربا: انشورنس کی غرض سے کمپنی کو مال کم دیا جاتا ہے، لیکن واپس زیادہ لیا جاتا ہے یا قسط وقت پر ادا نہ کرنے کی صورت میں کمپنی کو زائد رقم دینی پڑتی ہے تو یہ ربا الفضل ہے اور کمپنی وہی رقم بعد میں ادا کرتی ہے تو یہ ربا النسیئۃ ہے اور اگر کمپنی زائد رقم بعد میں ادا کرتی ہے تو ایسی صورت میں ربا الفضل اور ربا النسيئة دونوں بھی پائے جاتے ہیں۔
انشورنس کمپنیاں اپنی آمدنی کی رقم سودی معاملات میں لگاتی ہیں اور سودی منافعے سے اپنا کام کرتی ہیں، جب کہ اللہ نے سود کو حرام قرار دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (سورۃ البقرہ: 275) ’’اللہ نے تجارت حلال کی اور سود حرام کیا۔‘‘
تنبیہ: بالخصوص اس تعلیل و توجیہ سے دیگر اہل علم نے اختلاف کیا کیوں کہ لائف انشورنس کے علاوہ دیگر قسموں میں پیسے کا تبادلہ پیسے سے نہیں ہوتا بلکہ کبھی ٹھوس چیز Commodity تو بھی منفعت و خدمت Service سے ہوتا ہے جو کہ سود نہیں ۔
کچھ دیگر افراد جیسے شامی عالم مصطفى زرقاء رحمہ اللہ ، باحث مجمع الاسلامي الدولي ، مصری فقیہ عبد الوہاب خلاف رحمہ اللہ و دیگر نے عمومی طور پر تجارتی انشورنس کو جائز قرار دیا، کیونکہ ان کے یہاں جواز کی چودہ سے زائد وجوہات ہیں، جن میں کچھ نمایاں وجوہات درج ذیل ہیں:
اعتبار اصل: معاملات میں اصل اباحت ہے اور انشورنس کی حرمت منصوص نہیں ۔
باہمی تعاون: انشورنس نیکی اور پرہیز گاری میں تعاون کی بنیاد پر قائم ہے۔
مصالح مرسلہ میں شمار : انشورنس مصالح مرسلہ میں سے ہے۔
عقد موالات پر قیاس : عقد موالات پر قیاس یعنی جیسے مجہول النسب آدمی معلوم النسب شخص سے کہہ سکتا ہے کہ تم میرے وارث ہو سکتے ہو اور انشورنس کا معاملہ بھی اسی طرح ہے۔
ضرورت: ضرورات یعنی مجبوریاں محظورات وممنوعات کو مباح و جائز کر دیتی ہیں ۔
تنبیہ: واضح رہے کہ آخری تعلیل کے علاوہ اس قول کی جملہ دلیلیں اور ساری تحلیلیں عام ہیں، جب کہ جمہور کے موقف کی دلیلیں انشورنس کی رائج حقیقت پر مبنی ہیں، لہٰذا اگر پہلے قول کی معقول دلیلیں اور تعلیلیں نہ ہوتیں تو اس قول کا عموم و قیاس محل نظر ہونے کی بجائے قابل اعتبار ہوتا اور موالات پر قیاس بھی اس لیے بے محل ہے کیوں کہ موالات اخوت پر مبنی ہوتی ہے جب کہ تجارتی انشورنس محض کاروبار ہے اور ان دلائل کا مزید سیر حاصل علمی محاکمہ و مناقشہ اور تفصیلی تحلیلی دراسہ قرارات الفقہ الإسلامی الدولی فقہ النوازل للأقليات المسلمۃ ، رسالة الدكتوراه بالأزہر لمحمد يسرى إبراهيم ، اور الفقہ الميسر للدكتور عبد اللہ الطیار میں موجود ہے۔
لائف انشورنس:
لائف انشورنس کے حوالے سے دار الإفتاء المصریہ فتوى نمبر/ 8539 نے سورۃ المائدۃ 1 کے عموم سے لائف انشورنس کے معاہدہ کو عمومی طور پر جائز قرار دیتے ہوئے بڑا اور زائد توسع اختیار کیا بلکہ اس کے جواز کے لیے محض طیب نفس کی بنا پرکسی دوسرے کے مال کو حلال قرار دیا، منصوص شرعی احکام کی طرح مسلمانوں کے اچھے نظریے کو اللہ کے یہاں بہتر گردانا اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لیے نبی ﷺ کی وصیت ’’ تم اپنے بچوں کو مال دار چھوڑ کر جاؤ یہ تمہارے لیے بہتر ہے ‘‘ سے انشورنس کی متعدد قسموں کو اور بالخصوص لائف انشورنس کو جائز بتایا جب کہ لائف انشورنس میں سابقہ شرعی مخالفتوں کے ساتھ ساتھ پیسے کا تبادلہ منفعت یا عین سے ہونے کی بجائے جب پیسے ہی سے ہوتا ہے تو یہ عین سود قرار پاتا ہے، مزید برآں لائف انشورنس میں بد عقیدگی بھی پائی جاتی ہے، اس حیثیت سے کہ تدبیر کا ئنات میں اللہ پر کما حقہ تو کل نہیں ہوتا، اس موضوع کی مزید تفصیل کے لیے آئندہ موضوع کا مطالعہ کیجیے۔
تجارتی میڈیکل یا ہیلتھ انشورنس:
اکثر میڈیکل اور ہیلتھ انشورنس دونوں ہم معنی استعمال ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھار اس اعتبار سے فرق کیا جاتا ہے کہ میڈیکل انشورنس کا دائرہ نسبتاً اور قدرے محدود ہوتا ہے جیسے دوا خانے میں شریک کرنا اور علاج اور سرجری کرنا وغیرہ جب کہ ہیلتھ انشورنس کا دائرہ وسیع ہوتا ہے جس میں دوائیں فراہم کی جاتی ہیں اور احتیاطی اقدامات بھی کئے جاتے ہیں، بلکہ ساری طبی نگہداشت کی جاتی ہے، لیکن شرعی حکم کے اعتبار سے دونوں ایک ہی درجے میں ہیں۔
تجارتی ہیلتھ انشورنس بھی سابقہ وجوہات کی بنا پر اصل حرام ہی ہے، بریلوی مکتب فکر کے ساتھ ساتھ دیوبندی مکتب فکر کی مجلس تحقیقات شرعیہ نے دسمبر 1965ء میں اور دار العلوم دیو بند فتوی نمبر 1047-998 نے بھی اسے دو سال قبل حرام قرار دیا اور مولانا مفتی تقی عثمانی نے تقریباً 12 سال قبل اس پر حرمت کا فتوی لگایا، لیکن مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے 15؍ اگست 2019ء کے شمع فروزاں شمارے میں لکھا کہ ملکی بدلتے حالات کے پیش نظر مذکورہ مجلس تحقیقات شرعیہ نے جان و مال کے تحفظ و بقا اور صنعت و حرفت کی عملی زندگی میں در پیش دشواریوں کے مدنظر لائف انشورنس اور دیگر اقسام کی انشورنس کی گنجائش پیدا کی، پھر درپیش حالات کے تئیں 1990ء میں إدارة المباحث الفقہیہ جمعيت علماء ہند نے بھی جواز کا فتوی دیا ۔ 30؍اکتوبر 1992ء کو اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے اسی نقطہ نظر کو دہرایا، لہٰذا جن علاقوں میں غریب مسلمانوں کو جانی و مالی فسادات کا خطرہ لاحق ہو تو صرف ان کے لیے لائف اور املاک کے انشورنس کی اجازت ہوگی کہ وہ فسادات کی صورت میں پالیسی کی مکمل ادا شدنی زائد رقم سے استفادہ کریں، عام حالات میں صرف اپنی ادا کردہ رقم پر اکتفا کریں اور زائد رقم صدقہ کر دیں اور واضح کیا کہ یہ اجازت مال داروں کے لیے نہیں۔ انتہی باختصار
حالیہ بیان میں مزید کہا کہ سچر کمیٹی نے رپورٹ دی کہ مسلمان تعلیمی پسماندگی کے ساتھ ساتھ صحت کے اعتبار سے بھی انتہائی پسماندہ ہیں اور عوام کے علاج کا ذمہ حکومت کا ہوتا ہے، لیکن دیکھا جا رہا ہے کہ حالات دنیا بھر میں بڑی برق رفتاری سے تبدیل ہورہے ہیں، نتیجتاً وطن عزیز میں بھی مغربی سرمایہ دارانہ نظام Capitalism فروغ پارہا ہے نتیجتاً اور عملاً طبی معیشت کے نجی شعبے یعنی Corporate sectors بڑھ گئے یا بڑھا گئے ہیں تاکہ Tax کا حصول زیادہ سے زیادہ ہو سکے اور بھی کچھ مقامات پر تو حالات بے اختیار ہوتے نظر آتے ہیں، لہٰذا اس پس منظر میں صرف غیر محفوظ علاقوں میں رہنے والوں کے لیے جان و مال اور دکان و مکان کی حفاظت کے لیے لائف انشورنس اور دکان و کاروبار کے انشورنس کی اجازت ہے اور مختلف ملکی سطح کے شرعی و تحقیقی اداروں کے حوالے سے کہا کہ عمومی طور پر ضرورت مندوں کے لیے صرف ہیلتھ انشورنس کی اجازت ہوگی۔ مزید تنبیہ بھی کی کہ مال داروں کو اس سے بچنا چاہیے اور واضح کیا کہ اگر کوئی فریق ثالث میڈکل انشورنس کرا دے تو اس کا حکم اور آسان ہو گا۔
جامعۃ الامام کے کچھ سابقہ مشائخ اور دمشق واز ہر کے کچھ علما نے شیخ بکرابو زید رحمہ اللہ کی صداراتی مجلس میں تجارتی ہیلتھ اور میڈیکل انشورنس کو جعالہ پر قیاس کیا اور بتایا کہ جیسے جعالہ میں مخاطب اور معاوضہ عام اور غیر معلوم ہوتا ہے، ہیلتھ انشورنس کا معاملہ بھی اسی طرح ہے۔ ( مجلہ مجمع الفقہ الإسلامی: 11؍ 432)
امام مرداوی رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر کسی نے کسی کے لیے شفایابی تک علاج کا مطالبہ کیا اور کوئی معاوضہ مقرر کر لیا تو جعالہ کی حیثیت سے یہ عمل درست ہو گا۔
” من داوى لي هذا حتى يبر أمِن جُزجه أو مَرَضِه أو رَمَدِه… تصِحُ جَعالةً ” ( الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف : 16؍170)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا :
’’ اگر کوئی شخص مریض کی شفا ہونے تک کسی طبیب سے معاہدہ کرلے تو یہ معاملہ بطور جعالہ جائز ہوگا۔
” إِذَا جَعَلَ لِلطَّبِيبِ جَعَلا عَلَى شِفَاءِ الْمَرِيضِ جَازَ ” ( مجموع الفتاوی: 20؍ 507)
کویت کی لجنۃ الإفتاء نے امریکی طالب علم کو لائف انشورنس کے علاوہ بقیہ ساری اقسام بشمول تجارتی ہیلتھ انشورنس کرانے اور اس کے محکمہ میں کام کرنے کی اجازت دی۔ ( الدرر البہية من الفتاوى الكويتيہ: 6؍ 311۔314)
بالخصوص تجارتی ہیلتھ انشورنس کے حوالے سے مجمع الفقه الإسلامي الدولي نے اپریل 2005ء میں قرارداد نمبر 149 (7؍ 16) منظور کی کہ
” إذا كان التأمين الصحي مباشرًا مع المؤسسة العلاجية فإنه جائز شرعًا بالضوابط التي تجعل الغرر يسيرًا مغتفرًا مع توافر الحاجة التي تنزل منزلة الضرورة لتعلق ذلك بحفظ النفس والعقل والنسل وهي من الضروريات التي جاءت الشريعة
بصيانتها.
و من الضوابط المشار إليها: وضع مواصفات دقيقة تحدد التزامات كل من الطرفين. دراسة الحالة الصحية للمستأمن والاحتمالات التي يمكن التعرض لها.
أن تكون المطالبات المالية من المؤسسة العلاجية إلى الجهة مرتبطة بالأعمال التي تم تقديمها وليس بمبالغ افتراضية كما يقع في شركات التأمين التجارية. “
’’اگر ہیلتھ انشورنس براه راست علاج فراہم کرنے والے ادارے Medical Institution کے ساتھ مرتبط ہو تو ہ شرعی طور پر ایسے ضوابط کے ساتھ جائز ہے جو انشورنس میں پائے جانے والے غرر کو معمولی اور قابل نظر انداز بناتے ہوں اور اس حالت میں جائز ہے جب کہ اس کی ایسی حاجت موجود ہو جو شرعی طور پر ضرورت کے درجے میں سمجھی جائے، کیوں کہ ہیلتھ انشورنس کا تعلق جان عقل اور نسل کی حفاظت سے ہے اور یہ وہ بنیادی ضروریات ہیں جن کی حفاظت کا حکم شریعت نے دیا ہے۔
ان شرعی ضوابط میں سے چند درج ذیل ہیں :
1۔ انشورنس کرانے والے اور ہیلتھ انشورنس کمپنی کی ذمہ داریوں کو متعین کرنے کے لیے واضح اور درست شرائط وضوابط طے کئے جائیں۔
2۔ انشورنس کرانے والے کی طبی حالت اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا جائے۔
3۔ حقیقت پر مبنی علاجی خدمات پر ہی مالی مطالبات Financial Claims ہوں تجارتی کمپنیوں کی طرح فرضی نہ ہوں۔
فتوی بورڈ قصیم کے ممبر دکتور عبد اللہ محمد الطیار حفظہ اللہ اور دیگر مشائخ سعودیہ نے بھی براہ راست دواخانہ سے ہیلتھ انشورنس کرانے کی اجازت دی اور بتایا کہ ایسی صورت میں غرر اور جہل اس قدر کم ہے وہ قابل نظر انداز ہے اور معاہدہ پر اس کا کوئی بھی اثر نہیں پڑے گا۔
“التأمين الصحي المباشر:عقد صحيح نافذ لاكتمال أركانه وتوافر شروطه لأن الجهالة التي ترد على محل العقد تعتبر من الجهالة اليسيرة التي تغتفر ولا يكون لها أثر في المعقود عليه ” (الفقه الميسر التأمين الصحي المباشر : 12؍ 90)
قصیم کے عالم شیخ دبیان بن محمد الد بیان حفظہ اللہ نے شیخ صالح آل الشیخ رحمہ اللہ اور شیخ صالح بن حمید حفظہ اللہ و دیگر مشایخ سعودیہ کی تقدیم کے ساتھ المعاملات المالية أصالة ومعاصرة کتاب لکھی اور اس میں اس نتیجے پر پہنچے کہ ہیلتھ انشورنس نقصان کی تلافی کے لیے ہے، اسی لیے مباح معاملات میں داخل ہے اور اس معاملہ میں ایک قول کے مطابق غرر کم ہے اور دوسرے قول کے مطابق غرر فاحش ہو تو بھی عوامی ضرورت یعنی عوامی مجبوری اس کو مباح کر دیتی ہے اور یہی صحیح موقف ہے۔ (4؍139)
بعض اہل علم نے کہا کہ کمپنی اپنے ملازم کا ہیلتھ انشورنس کرا رہی ہے تو جائز ہے۔ ( موقع الإسلام سؤال و جواب، فتوی نمبر: 180521)
جبری انشورنس:
حکومتوں کی جانب سے جبری و لازمی Mandatory Compulsory یا Auto انشورنس يعنى التأمين الإجبارى أو الإلزامي سے متعلق مجمع الفقه الإسلامي الدولي نے دسمبر 1985ء میں قرار داد منظور کی کہ اگر کسی کو گاڑی یا کسی اور شئے کے انشورنس کے لیے مجبور کیا جائے تو ایسی صورت میں وہ شخص ﴿وَقَد فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُم إِلَيْهِ﴾ (سورۃ الانعام:119) اور ﴿فَاتَّقُوا الله ما استطعتُم﴾ (سورۃ التغابن: 16) کے پیش نظر مکرہ یعنی مجبور و بے بس کے حکم میں ہے اور ﴿فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَّلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْه﴾ (سورة البقرة:173) کے تحت ( دلی کراہت کے ساتھ) (یہ اضافہ میرا یعنی باحث کا ہے۔) اسے کم شرعی خلاف ورزی والی پالیسی لینی چاہیئے اور انشورنس کرانے والا نقصان کی صورت میں زیادتی سے بچتے ہوئے اتنی مقدار ہی میں معاوضہ Compensation لے سکتا ہے جتنی رقم اس نے ادا کی۔
جبری یا غیر جبری انشورنس کی تفریق سے صرف نظر شیخ عبد اللہ بن جرین رحمہ اللہ نے معاوضہ لینے کے جواز میں اتنی مقدار کی قید نہیں لگائی جتنی رقم انشورنس کرانے والے کی جانب سے ادا کی گئی۔(موقع الإسلام سؤال وجواب فتوی نمبر / 70318 هل يأخذون دية ميتهم من شركة التأمين )
لیکن دیگر اہل علم نے کہا کہ شبہ کی چیز سے بچنا چاہیے ورنہ حرام کا ارتکاب ہوسکتا ہے۔(موقع الإسلام سؤال وجواب فتوى نمبر/ 102969 حكم التأمين على رخصة القيادة )
بحالت مجبوری انشورنس: نجی اور شخصی مجبوری میں انشورنس کے حوالے سے المجلس الأوروبي للإفتاء والبحوث European Council for Fatwa and Research نے قرار داد 7؍ 6 منظور کی کہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے در پیش سخت مشقت والے حالات کے مدنظر ہیلتھ یا دیگر انشورنس کی جاسکتی ہے کیوں کہ وہاں ان کے لیے کوئی جائز متبادل بندوبست نہیں۔ (قرارات وفتاوى المجلس الأوروبي، ص/ 154۔155، وفقه النوازل للأقليات المسلمة رسالة الدكتوراه بالأزهر لمحمد يسري إبراهيم: 2؍ 918۔919)
اور اسی مجلس نے قرارداد نمبر 2/ 18منظور کی کہ اگر کوئی مسلمان ایسا سخت مجبور ہو جائے کہ ممکنہ طور پر مقدور بھر کوشش کے باوجود اس کو انشورنس کی کمپنی کے علاوہ کسی اور جگہ کام نہ ملے تو دوسرا روز گار ملنے تک وہ انشورنس کمپنی میں کام کر سکتا ہے۔
انشورنس کا غرر اور شرعی تقابلی نقطۂ نظر:
کسی بھی طرح کے جبری انشورنس اور محبوری میں کئے جانے والے ہیلتھ انشورنس کی عمومی اجازت کچھ اہل علم نے اس لیے دی کیوں کہ بقول امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ جب ضرورت ہو اور مصلحت غالب ہو تو ایسی صورت میں میسر سے وابستہ غرر معاملہ مباح ہو جاتا ہے۔
” وَكَذلِك بَيْعُ الْغَرَرِ هُوَ مِنْ جِنْسِ الْمَيْسِرِ وَيُبَاحُ مِنْهُ أَنْوَاعْ عِندَ الْحَاجَةِ وَرَجْحَانِ الْمَصْلَحَةِ ” ( مجموع الفتاوى لابن تیمیہ: 14؍ 471)
مزید فرمایا کہ غرر پر مشتمل معاملہ داری اس لیے منع کردہ ہے کیوں کہ وہ میسر کی قسم ہے، لیکن جب اس سے بڑا نقصان اس سے ٹکرانے لگے تو ایسی صورت میر سے وابستہ غرر کو مباح کر دیتی ہے۔ واللہ اعلم
” وبيع الْغَرَرِ نَهَى عَنْهُ لأَنَّهُ مِنْ نَوعِ الْمَيْسِرِ الَّذِي يُفْضِي إِلَى أَكل المَالِ بِالْبَاطِلِ فَإِذَا عَارَضَ ذَلِكَ ضَرَرَ أَعْظَمُ مِنْ ذلِكَ أَبَاحَهُ دَفْعًا لِأَعْظَمِ الفَسَادِينِ بِاحْتِمَالِ أَدْنَاهُمَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ ” (مجموع الفتاوى لابن تیمیہ: 29؍ 483)
مزید فرمایا کہ غرر کا بگاڑ ربا کے ہم مقابل کم ہے، اسی لیے ضرورت کے تحت غرر کے معاملے میں رخصت دی گئی ہے، اسی لیے بنیاد اور دیواروں کو جانے بغیر کبھی ایک ساتھ عمارت بیچ سکتے ہیں اور حاملہ جانور کا حمل جانے اور دودھ دینے والے جانور کے دودھ کی مقدار کو جانے بغیر انہیں فروخت کر سکتے ہیں۔
“… الْحَاجَةُ مِنْهُ فَإِنَّ تَحْرِيمَهُ أَشَدُّ ضَرَرًا مِنْ ضَرَرِ كَوْنِهِ غَرَرًا مِثْلَ بَيْعِ الْعَقَارِ جمْلَةً وَإِنْ لَمْ يَعْلَمْ دَوَاخِلُ الْحِيطَانِ وَالْأَسَاسَ وَمِثْلَ بَيْعِ الْحَيَوَانِ الْحَامِلِ أَوَ الْمَرْضِع وَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ مِقْدَارُ الْحَمْلِ أَوِ اللَّبَن ” ( مجموع الفتاوى لابن تيمیہ: 29؍ 26)
مزید فرمایا کہ شارع غرر کی کسی ایک قسم کی وجہ سے لوگوں کی ضرورت کی چیزوں کے معاملات کو حرام نہیں کرتا ہے بلکہ غرر سے وابستہ لوگوں کی ضرورت کی چیز مباح کرتا ہے۔
” وَالشَّارِعُ لَا يُحَزِمُ مَا يَحْتَاجُ النَّاسُ إِلَيْهِ مِنْ الْبَيْعِ لِأَجْلِ نَوْعِ مِنَ الْغَرَرِ، بَلْ يُبيحُ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ فِي ذلِك ” (مجموع الفتاوى لابن تیمیہ: 29؍ 227)
شائد اس یقینی مصلحت کے مدنظر سعودیہ میں سارے اقامہ ہولڈرا جانب کے لیے ہیلتھ انشورنس لازم کیا گیا۔
بعض اہل علم نے کہا کہ دوا خانے میں ڈاکٹر کا انشورنس ڈپارٹمنٹ میں کام کرنا گناہ کے کام میں ہاتھ بٹانا نہیں۔ (موقع الإسلام سؤال وجواب فتوی نمبر/ 170654)
متفرقات
٭ اختیاری حالات میں تجارتی انشورنس والی کمپنی میں کسی بھی طرح کا کام حرام ہے کیوں کہ اللہ جب کسی شئے کو حرام قرار دیتا ہے تو اس کی قیمت یعنی تجارت و ملازمت سب کو حرام کر دیتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : « إِنَّ الله إِذَا حَرَمَ شَيْئًا حَرَّمَ ثَمَنَهُ» ( مسند أحمد: 2678، بروایت ابن عباس رضی اللہ عنہما، بسند صحیح، بعض روایات میں اکل شيء ہے۔)
’’اللہ جب کسی شے کو حرام قرار دیتا ہے تو اس کی قیمت (و تجارت) بھی یقینی طور پر حرام کر دیتا ہے۔
لا علمی یا اجتہادی غلطی کی بنا پر تجارتی انشورنس کمپنی میں ملازمت سے حاصل کردہ آمدنی جائز ہے۔‘‘
لجنہ دائمہ اور بالخصوص ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا:
“الذي يظهر لي أنه إذا كان لا يعلم أن هذا حرام فله كل ما أخذ وليس عليه شيء أو أنه اغتر بفتوى عالم أنه ليس بحرام فلا يخرج شيئاً، وقد قال الله تعالى: ﴿فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةً مِنْ رَبِّهِ فَانتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرَهُ إِلَى اللهِ ﴾ أما إذا كان عالماً فإنه يتخلص من الربا بالصدقة به تخلصاً منه.” ( فتاوى اللجنة الدائمة المجموعة الأولى : 15؍ 7، فتویٰ نمبر 14839، واللقاء الشهري توبة المرابي )
’’میرے یہاں ظاہر سی بات ہے کہ اگر کسی نے لاعلمی میں یا کسی عالم کے فتوی سے دھو کہ کھا کر کام کیا تو وہ مال رکھ سکتا ہے اور ایسے شخص کو ﴿ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةِ مِن رَّبِّهِ فَأَنتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهُ ﴾ ( سورة البقرة: 275) کے پیش نظر وہ مال نکالنے کی ضرورت نہیں لیکن کسی نے دانستہ طور پر کیا تو ایسا شخص اس مال سے چھٹکارا پانے کے لیے اسے صدقہ کر دے۔
اور امام ابن تیمیہ رحمہ الله نے لاعلمی کی شرط نہیں لگائی کیوں کہ اللہ نے سابقہ آیت میں اسلام اور وضاحت حرمت ذکر نہیں کی، جیسا کہ امام ابن مفلح رحمہ اللہ نے فرمایا: “له ما سلف للآية ولم يقل الله فمن أسلم ولا من تبين له التحريم .” ( الفروع لابن مفلح : 11؍ 140)
٭ انتقال کے بعد اگر لائف انشورنس کا مال وارثین کو ملے تو وارثین وہ مال لے سکتے ہیں کیوں کہ یہ مال بذات خود حرام نہیں بلکہ ذریعہ آمدنی کی وجہ سے حرام ہے اور ابن عثیمین رحمہ اللہ کا فتوی اس موقف سے ملتا جلتا ہے، تفصیل درج ذیل ہے:
“الشأن يختلف عند انتقال المال إلى الورثة إذا كان المال محرماً لا لعينه وإنما من حيث الكسب ، ويدخل فيه ما سأل عنه الأخ السائل وهو اكتساب المال نتيجة عقد التأمين ، فالربا والميسر والغرر من المال المحرم لكسبه وليس لذاته، وما حرم لكسبه فإن إثمه على كاسبه فقط وليس على من تعامل مع كاسبه بالبيع والشراء أو الإهداء أو الضيافةإثم. ودليل ذلك أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعامل اليهود في المدينة بالبيع والشراء ، وكان يؤاكلهم، وهم الذين وصفهم الله تعالى بأكل الربا و أخذهم أموال الناس بالباطل. وعليه فإذا انتقل المال المحرم بكسبه إلى الورثة صار حلالاً لهم، وهو قول المالكية، ورجحه الشيخ العثيمين رحمه الله.
قال العلامة محمد عليش المالكي – رحمه الله – : ” واختلف في المال المكتسب من حرام ، كربا ومعاملة فاسدة ، إذا مات مكتسبه عنه : فهل يحل للوارث؟ وهو المعتمد أم لا؟ وأما عين الحرام المعلوم مستحقه ، كالمسروق والمغصوب : فلا يحل له ” . انتهى من ” منح الجليل شرح مختصر خليل” (416/2).
وقد سئل الشيخ العثيمين – رحمه الله – :
إذا ورث إنسان مالاً من شخص ، وكان يعلم أن جزء من هذا المال مثلاً عشرة آلاف أو عشرين ألفاً ، أنه ربا صريح محرم والباقي لا يعلم عنه أو مختلط فماذا يفعل بالربا الصريح المحرم؟
فأجاب:”لا بأس به هو حل له لأنه ملكه بطريق مباح وهو إرث إلا إذا علمت أن هذا مال فلان، وأن الميت غصبه فحينئذ لا يحل لك، وأما إذا كان محرّماً لكسبه كالربا وما أشبه ذلك: فهذا لا بأس به ” (موقع الإسلام سؤال و جواب فتوی نمبر ، 184222، من توفي وجاء لورثته مبلغ تأمين على الحياة فهل يحل لهم؟)
Retirement Insurance اگر جبری ہوتو ملازمت سے استعفادینا ضروری نہیں البتہ تنخواہ سے منہا کردہ رقم سے زائد جوسودی رقم ہوگی اس کو صدقہ کرنا ضروری ہے۔( فتاوى الأسلام ویب فتوی نمبر 377659)
حاصل کلام:
٭ انشورنس کا مسئلہ غیر منصوص جدید شدید پیچیدہ اجتہادی و اختلافی فقہی مسائل میں سے ہے۔
٭ تعاونی Cooperative انشورنس متفقہ طور پر جائز ہے۔
٭ جمہور علما نے بلا د اسلامیہ وغیر بلاد اسلامیہ کی تمیز کے بغیر تجارتی Commercial انشورنس کو غر روضر ر، میسر و قمار اور رہان یا مراہنہ، باطل ذریعے سے مال کمانے، سودی شبہ اور دیگر وجوہات کی بنا پر حرام قرار دیا، جب کہ بعض نے اصل، عموم، قیاس، ضرورت یعنی مجبوری اور دیگر وجوہات کی بنا پر تجارتی انشورنس کو جائز بتایا۔
٭ لائف انشورنس بھی ایک تفصیلی طور پر اختلافی مسئلہ ہے لیکن اس میں بغیر مجبوری سودی شبہ اور بدعقید کی کا پہلو غالب ہے۔
٭ تجارتی میڈیکل یا ہیلتھ انشورنس بھی اصل کے اعتبار سے جمہور علماء کے یہاں حرام ہی ہے اسی لیے اس سے اختیاری حالات میں بچنا چاہیے لیکن:
بدلتے بے اختیار حالات اور منڈلاتے خطرات اور ضرورت و مجبوری کے مدنظر اور جعالہ پر قیاس کرتے ہوئے اہل علم نے اسے جائز قرار دیا اور اس کے غرر کو شدید ضرورت و مجبوری کے پیش نظر مغتفر ( قابل نظر انداز ) جانا لیکن بہر صورت تعاونی انشورنس اور براہ راست دواخانے سے دقیق و تفصیلی معاہدہ اولی وافضل ہے۔
٭ جبری انشورنس اور بحالت مجبوری انشورنس وقت ضرورت اور بقدر ضرورت دونوں بھی جائز ہیں ۔
٭ خوش حال مسلم معاشرے کو فقہ الترخیص سے فقہ التاسیس کی جانب آنا چاہیے اور تجارتی انشورنس کے بدائل تلاش کرنے چاہیے، فرض زکاة، نفل صدقات اور پندرہ قسم کے مشروع کفارات بھی متعارف کرانے چاہیے۔ والله أعلم
تبصرہ کریں