
بیوی کے لئے عمومی نان و نفقہ سے زائد عطا کرنے کا حکم
سوال : میں اس بات سے تو واقف ہوں کہ بیوی کو بطور نان ونفقہ کھانے پینے ، رہائش اور لباس کی صورت میں بقدر معروف دینا لازم ہے ، لیکن چند ایسے اخراجات جو ضروریات میں سے نہیں ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟ (یعنی شوہر سے اُن کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے) جیسے:
1۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا خرچ
2۔ کبھی کسی سہیلی کے ساتھ قہوہ خانے میں کافی کا پینا۔
3۔ بچوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کے دوران ان کے لئے سنیک خریدنا ۔
4۔ بالوں کو سنوارنے کی اجرت
5۔ چھوٹی موٹی چیزوں کا روزانہ خریدا جانا ۔
بیوی کی اپنی کوئی ذاتی آمدنی نہیں ہے اور وہ معاشی طور پر پوری طرح شوہر پر انحصار کرتی ہے۔ لیکن شوہر شریعت کا حوالہ دے کر ان زائد اخراجات کو دینے پر آمادہ نہیں ہے ۔ کیا آپ یہ واضح کر سکتے ہیں کہ اس ماڈرن زمانے ہیں ، جب کہ رہائش بھی فرانس میں ہے ، مندرجہ بالا اخراجات معروف، رحمت وشفقت اور رفع الحرج (شقت سے بچنے) کے ضمن میں نہیں آتے ؟ کیا بیوی کے لئے تو وہ شریعت کو حرف بحرف عمل میں لانا چاہتا ہے اور خود اپنی تفریح اور دلچسپی کے لیے جو چاہتا ہے، خرچ کر لیتا ہے !!
جواب : گو فقہاء کے درمیان اس بات میں تو اختلاف نہیں ہے کہ بیوی کی تمام ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کیا جائے اور وہ اس بات کا بھی لحاظ رکھتے ہیں کہ
ضروریات کے ساتھ ساتھ تحسینیات (Luxury) کا بھی ایک حد تک اہتمام کیا جائے، اگر شوہر کے ذرائع آمدنی اچھے ہیں، تو اُسے بیوی کے ان جائز اور متوسط قسم کے اخراجات کو بھی اٹھانا چاہئے جو اس کے وقار اور عزت میں اضافہ کرتے ہیں۔ جو باتیں آپنے اپنے سوال میں درج کی ہیں ، وہ یوروپین ماحول کے مطابق معمول کی چیزیں ہیں، جن کا لحاظ کرنا ضروری ہے ۔ ان معمولی اخراجات پرناک بھوں چڑھانا اور اپنی تفریح اور پسند کے لئے جو چاہنا خرچ کرنا ، عائلی تعلقات کو سنوارنے میں رکاوٹ ثابت ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا ﴾ (سورة الطلاق : 7)
’’کشادگی والے کو اپنی کشادگی میں سے خرچ کرنا چاہیے اور جس پر رزق تنگ کر دیا گیا ہو ، وہ اس میں سے خرچ کرے جو اُسے اللہ نے دے رکھا ہے ، اللہ کسی شخص پر اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے جتنا اسے دیا ہے، بےشک الله تنگی کے بعد آسانی بھی دے گا ۔‘‘
اس آیت میں ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص کو اپنی آمدنی کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔ اگر آمدنی معقول ہو تو اس کا ہا تھ بھی کھلا ہونا چاہیئے۔ لیکن اگر معقول آمدنی کے باوجود انسان بخل کا مظاہرہ کرے تو یہ قرآنی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے جو کہ احسان ، نرمی، شفقت اور رواداری کو فروغ دیتی ہیں ۔ (از ڈاکٹر نعیم الرحمن ، ممبر فتویٰ کمیٹی ،برطانیہ)
حرام کھانے کی ڈلیوری کے بارے میں ایک اور سوال
سؤال : میں روس کے شہر ’بنیزا‘ میں اپنے بھائی کے ساتھ مقیم ہوں ، ہمارے والد ہمارے اخراجات کو بمشکل پورا کر پاتے ہیں، اس لئے میں نے جزوی طور پر ایک کام کرنا شروع کیا ہے، کام یہ ہے کہ میں کھانے کے آرڈرز بذریعہ آن لائن وصول کروں اور پھر انہیں ان کے طالبین تک پہنچا دوں ۔ مشکل یہ ہے کہ بعض اوقات ایسے آرڈر موصول ہوتے ہیں جن میں سؤر یا سؤر کے گوشت پر مشتمل اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ آرڈر ملنے سے قبل مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ اس میں کیا مطلوب ہے، اور ایک دفعہ آرڈرقبول کرنے کے بعد میرے لئے ضروری ہے کہ میں اسے مطلوبہ دکان سے اٹھاؤں اور پھرا ُسے صاحب طلب تک پہنچاؤں ، میرا کام صرف اسے ڈلیور کرنا ہے ، نہ میں خود اُسے خریدتا ہوں نہ ہی اسے خود تیار کرتا ہوں ، مجھے ایک دوسرا کام بھی ملا ہے لیکن اس کے اوقات اتنے نہیں ہیں کہ جو ہماری ضروریات کے لئے کافی ہوں ، تو کیا میں اپنی سابق مصروفیت کو جاری رکھ سکتا ہوں کہ جس میں اتنی آمدنی ہو جاتی ہے کہ میں اپنی ضروریات کو پورا کر سکوں اور والد کے بوجھ کو کچھ کم کر سکوں؟
جواب: پہلے تو ہم آپ کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس بات کا اجر عطا فرمائے کہ آپ حلال روزی کے طلبگار ہیں اور دوسرے یہ کہ اپنے والد کی ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں جو کہ ایک باعث اجر خدمت ہے۔ آپ کے سوال کے بارے میں عرض ہے کہ کام کی جو شکل آپ نے عرض کی ہے، وہ جائز ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا یہ کام اصلاً جائز ہے یا نہیں ؟ آپ کا کام کھانے کو سائل تک پہنچانا ہے جو کہ ایک مباح کام ہے ، جو اپنی ذات میں حرام کام نہیں ہے ، لیکن کبھی کبھار اس میں حرام کھانے کی ڈلیوری کا موقع بھی آجاتا ہے ، تو اس وجہ سے آپ کی ساری کمائی حرام نہیں ہو جاتی ، خاص طور پر اس لئے بھی کہ نہ آپ خود کھانا تیار کرتے ہیں، نہ اسے خریدتے ہیں، اور نہ ہی آرڈر کو قبول کرنے سے قبل یہ جانتے ہیں کہ اس آرڈر میں کیا مطلوب ہے اور ایک دفعہ آرڈر قبول کرنے کے بعد اُسے کینسل کرنے کا حق بھی نہیں رکھتے ، تو پھر بطور اصل آپ کا کام جائز ہے اور آپ کی کمائی کو حرام قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن اس کے باوجود ہم اس بات کی نصیحت کریں گے کہ بہتر ہے کہ آپ کوئی دوسرا کام تلاش کریں، جس میں کوئی شبہ نہ ہو، جس میں حلال و حرام کے درمیان تردد نہ ہو ۔
اس لیے کہ شبہات سے دور رہنے ہی میں عافیت ہے، اس میں قلبی اطمینان بھی حاصل ہوتا ہے اور اگر اللہ کی خاطر کو ئی چیز چھوڑی جائے تو اللہ اس سے بہتر عوض دیتا ہے۔ آپ نے ناکافی اوقات کا بھی تذکرہ کیا ہے یعنی دوسرے کام میں اتنے گھنٹے صرف نہیں ہوتے کہ آپ اپنی تعلیم بھی جاری رکھ سکیں اور معقول آمدنی بھی حاصل کرتے رہیں، توہم یہ کہیں گے کہ سب سے پہلے تو آپ یہ دیکھیں کہ آپ دینی فرائض جیسے نماز ، روزے اور زکاۃ کو برابر ادا کر رہے ہیں یا نہیں !
آپ کے روز و شب نماز کے مطابق گزرتے ہوں نہ کہ نماز آپ کی مصروفیات کے تابع ہو ، تو اگر آپ نے نماز کی محافظت کی اور نماز کی بنیاد پر اپنے اوقات کی تقسیم کی تو اللہ تعالیٰ آپ کے اوقات میں بھی برکت عطا فرمائیں گے اور آپ کی تعلیم اور آپ کی روزی میں بھی نکھار آجائے گا۔ اعتدال کو ملحوظ خاطر رکھیں، جتنی ہمت اور طاقت ہے اس سے زیادہ بوجھ اپنے آپ پر نہ ڈالیں ، اپنے کام ، اپنی پڑھائی اور اپنی جد و جہد میں خالصۃً اللہ کی رضا کو مطلوب رکھیں۔
ہم اللہ تعالیٰ سے پھر دعا گو ہیں کہ وہ آپ کو با برکت رزق عطا فرمائے ، تعلیم میں توفیق سے نوازے اور آپ کو دین پر قائم رکھے ۔ (فتوی کمیٹی برطانیہ)
وراثت کے بارے میں ایک استفسار
سوال : میں بعض مصلحتوں کی بنا پر وراثت میں اپنا حصہ اپنی والدہ اور بھائیوں کو دینا چاہتا ہوں ۔ ہم برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں، میں اولاد میں سب سے بڑا ہوں والدفروری 2025 میں انتقال کر گئے تھے، چند جائدادیں میرے پیسے سے خریدی گئی تھیں ، لیکن میری شادی کے ایک ماہ بعد ہی ماں کے اصرار پر ان کے نام منتقل کردی گئیں اور پھر انہیں میرے بھائیوں کے نام کر دیا گیا ۔
میری طلاق 2004 ہی میں ہو گئی تھی ۔ والدین کے ادب کی خاطر میری خاموشی کو کمزوری سمجھا گیا اور یوں میری سختیوں میں اضافہ ہوتا گیا ۔
2005 میں میرے چھوٹے بھائی نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ میرے اوپر جنات کا اور جادو کا اثر ہے۔ جو کہ میرے سابقہ سسرالی رشتہ داروں کی کارستانی معلو م ہوتی ہے۔ میں نے پچھلے 21 سال علاج معالجہ کے لئے کئی ملکوں کا سفر کیا ، خوب پیسہ بھی خرچ کیا لیکن نتیجہ کچھ نہ نکلا ، حقیقت یہ ہے کہ یہ میری بیٹی کی جدائی کا افسوس اور غم تھا، جسے ان لوگوں نے جادو کا نام دیا، میری والدہ مجھے تعویذ لا کر دیتی رہیں، لیکن اب مجھے احساس ہو گیا کہ یہ سب کچھ مجھے ان کا تابع رہنے کے لئے کیا جارہا تھا، اس لیے میں نے یہ تعویذ ضائع کر دیئے ہیں۔ اب میری عمر 55سال کی ہو چکی ہے ۔ میری ایک ہی بیٹی ہے جسے میں نے پچھلے 15 سال سے نہیں دیکھا ۔
میں نے یہ سوال دیانت دارانہ طور پر سمجھنے کے لئے کیا ہے کہ گھر کی اس صورتحال میں مزید پریشانی اور الجھنوں سے بچنے کے لئے اگر میں اپنا حصہ ماں اور بھائیوں کے لئے چھوڑ دوں تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا ۔ بعض علما کا کہنا ہے کہ حصہ چھوڑ دینے کا مطلب ہے کہ آپنے اپنی اولاد کو ترکہ سے محروم کر دیا ، لیکن یہ بھی تو ہو سکتا کہ ایک آدمی اپنا حصہ وراثت وصول کرلے اور پھر وہ کسی وجہ سے ضائع ہو جائے تو ایسی صورت میں بھی تو اولاد محروم رہے گی؟
برائے مہربانی قرآن اور سنت کی روشنی میں میری رہنمائی کی جائے۔
ہاں! یہ بھی بتایا جائے کہ اگر میں فیملی کی خوشی کی خاطر اپنا حصہ چھوڑ دیتا ہوں تو کیا یہ عمل میرے لیے باعث اجر وثواب ہو گا؟
جواب : ہمیں آپ کے دل گرفتہ حالات جان کر بہت افسوس ہوا، ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کے حالات بہتر فرمائیں، آپ کی مشکلات کو آسان فرمائیں اور آپ کے لئے آسانیاں پیدا فرما دیں۔
آپ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اپنے اقرباء نے آپ کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں۔ اصولی اعتبار سے ترکہ میں سے آپ کا حصہ آپ کا حق بنتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا شدہ ایک واجب ہے اور آپ کا استحقاق اس لئے بھی بڑھ جاتا ہے کہ پراپرٹی کی خرید میں بھی آپ کا تعاون حاصل تھا ۔ جہاں تک رضا کارانہ طور پر وراثت میں اپنا سارا حصہ یا جزوی حصہ چھوڑ دینے کا مسئلہ ہے تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ایسی کوئی صریح دلیل نہیں ہے کہ جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ امر ناجائز ہے اور ایسے ہی ایسی کوئی دلیل بھی نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ وراثت میں اپنا حصہ کسی اور کے حق میں چھوڑ دینا کوئی باعث اجر عمل ہے، کیونکہ یہ تو وہ حصہ ہے جو اللہ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی نیک نیتی کا ثواب تو آپ کو ملے گا کہ آپ نے یہ کام صرف اس لئے کیا کہ خاندانی تعلقات میں رخنہ پیدا نہ ہو، فتنہ مزید نہ بڑھے ، اور کسی کو تکلیف نہ پہنچے ، اللہ بہتر جانتا ہے کہ دل میں کیا ہے اور وہ اپنے بندے کو کیسے نوازتا ہے ۔
اس تمہید کے بعد ہم یہ گزارش کریں گے کہ آپکے لئے بہتر یہی ہوگا کہ آپ ایک مناسب باوقار اور حکیمانہ طریقے سے اپنے حق کا مطالبہ کریں ۔ اسلام میں اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرنا مشروع ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ ﴾
(سورۃ الشورى: 41)
’’اور جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو اور وہ اس کا بدلہ لے تو اس پر کوئی الزام نہیں ہے ۔ ‘‘
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا :
’’ اے اللہ کے رسول ! اگر ایک آدمی میرے سے میرا مال چھیننا چاہے تو آپ کیا کہیں گے ؟اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’اپنا مال مت چھوڑنا ۔‘‘
اس نے کہا: لیکن اگر وہ مجھ سے لڑائی کرنا شروع کر دے تو ؟ آپ نے کہا : ’’ تو پھر تم اسے لڑائی کرو ۔ ‘‘
کہا :
’’اگر وہ مجھے مار دے ؟ ‘‘ کہا: ’’تم شہید شمار ہو گے۔‘‘
اس نے کہا : ’’اور اگر میں اس کو مار دوں ؟ ‘‘
کہا: ’’تو وہ شخص نارِ جہنم واصل ہوگا ۔‘‘ ( صحیح سلم)
ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ
وہ آپ کے حالات سازگار کردے ۔ آپ کوہمت اور حوصلہ عطا فرمائے اور آپ کو دنیا و آخرت میں توفیق عطا فرمائے ۔
( فتوی کمیٹی برطانیہ کے اجلاس کے شرکاء :ڈاکٹر صہیب حسن ، مفتی برکۃ الله ،ڈاکٹر نعیم الرحمن، سیکرٹری اجلاس : سفیان ضبابی (تونس) ، کا تب جوابات از ریکارڈنگ: محمد جان شیر خان الأثرى )
٭٭٭
قیام کیلئے غسل کرنا، مسواک کرنا، خوبصورت لباس پہننا، بہترین خوشبو استعمال کرنا
1۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
نبی کریم ﷺ کے پاس ایک برتن تھا جس میں آپ کی مسواک رکھی جاتی، جب آپ رات کو قیام کیلئے اٹھتے ، استنجا کرتے، مسواک کرتے، وضو کرتے اور پھر اپنی ازواج کے گھروں میں سے خوشبو تلاش کرتے اور لگاتے۔
2۔ سیدنا عبداللہ بنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے کہ
ان کو پسند تھا کہ جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اچھے، صاف ستھرے کپڑے پہنیں اور خوشبو لگائیں۔
3۔ حضرت تمیم داری رحمہ اللہ جب رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو عمدہ بہترین خوشبو لگاتے اور ایک ہزار (درہم) کی قیمت کا جوڑا خریدا رکھا تھا جو قیام کے وقت زیب تن کرتے۔
4۔ حضرت ابنِ محیریز رحمہ اللہ جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو بہت قیمتی خوشبو منگواتے اور اسے بہت زیادہ لگاتے جس سے انکے کپڑے بہت زیادہ معطر ہو جاتے۔
5۔مغیرہ بن حکیم صنعانی رحمہ اللہ جب تہجد کے لیے اٹھتے تو بہترین کپڑے پہنتے اور اپنے گھر والوں سے خوشبو لے کر لگاتے۔ (ان کا ایک اور وصف بیان ہوا کہ) وہ تہجد گزاروں میں سے تھے۔
6۔ علامہ عمرو بن الاسود رحمہ اللہ نے اسی (80) دینار کا ایک (بشت) حلہ خریدا اور اسے ایک دینار میں رنگوایا، وہ اسے سارا دن سنبھال کر لپیٹے رکھتے اور رات اسی میں قیام کرتے۔
7۔ امام مجاہد بن جبر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ رات کے وقت لہسن اور پیاز وغیرہ کھانا اچھا نہیں سمجھتے تھے اور انہیں پسند تھا کہ آدمی جب رات کو قیام کرے تو خوشبو لگائے، اور وہ خوشبو اپنی داڑھی مونچھوں کو بھی لگائے۔
8۔ امام عبداللہ بن زکریا رحمہ اللہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ اور ان کے تمام ساتھی عشاء کے بعد جب قیام کا ارادہ کرتے تو روزانہ غسل فرماتے۔
(مختصر قیام اللیل وقیام رمضان لمحمد بن نصر المروزی: ص 112)
٭٭٭
حاجی محمد حنیف رحمانی کو صدمہ
برمنگھم کے حاجی محمد حنیف رحمانی اور حاجی محمد رفیق رحمانی کی ہمشیرہ اور ماہنامہ صراط مستقیم برمنگھم کے سابق ٹائپسٹ اور آرٹسٹ جناب مظہر اقبال کی خوشدامن صاحبہ محترمہ گلزار بیگم 72 سال کی عمر میں قضائے الٰہی سے وفات پا گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
مرحومہ پابند توحید وسنت اور صوم وصلوٰۃ کی پابند تھیں، ان کی نماز جنازہ مسجد محمدی الم راک برمنگھم میں ادا کی گئی۔ جس میں برطانیہ بھر سے اعزہ واقارب نے شرکت کی۔ مولانا محمد عبد الہادی العمری نے نماز جنازہ پڑھائی اور سٹن کولڈ فیلڈ برمنگھم میں تدفین عمل میں آئی، پسماندگان میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی سوگوار ہے۔ دعا ہے کہ اللہ کریم مرحومہ کے گناہوں کو معاف فرما دے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔ آمین یا رب العالمین
٭٭٭
تبصرہ کریں