
انسانی عضو کا عطیہ کرنا
سوال: کیا ایک شخص اپنی زندگی میں ایک دوسرے حاجت مند شخص کو اپنے جسم کا کوئی عضو بطورِ عطیہ كر سکتا ہے؟
جواب: کچھ ضروری شرائط کے ساتھ ایسا کرنا جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا﴾(المائدہ: 32)
اور جو کسی جان کو زندہ كرتا ہے ، اس نے سارے انسانیت کو زندہ کیا۔ مشہور فقہی قاعدہ ہے کہ ضرر کا ازالہ کرنا مطلوب ہے اور ایسے ہی انسانی جان کی حفاظت شریعت کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے۔ ضروری شرطیں یہ ہیں:
1۔ جس عضو کے بغیر زندگی ممکن نہیں، جیسے دل وغیرہ اور ایسا عضو کے جس کے بغیر انسان تو زندہ رہ سکتا ہے لیکن تھوڑا بہت ضرر لاحق رہتا ہے تو اس کے بارے میں پہلے مفتیان حضرات اور ڈاکٹروں سے مشورہ کر لیا جائے اور اگر ان کی طرف سے اجازت ہو تو عطیہ کیا جا سکتا ہے۔
2۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس عضو کی سرجری عام طور پر کامیاب رہی ہے اور مریض اس سے نفع حاصل کرتا رہا ہے۔
3۔ عطیہ کرنے والا شخص اپنی آزادانہ مرضی سے ہبہ کر رہا ہے۔ اسے مجبور نہیں کیا جارہا ۔
4۔ عضو کو ہبہ کرنے کے سلسلہ میں کوئی خرید وفروخت کا معاملہ نہیں کیا جا رہا ، عضو کا فروخت کرنا اصلا بالکل نا جائز ہے۔
5۔ایک معتمد میڈیکل بورڈ کی جانب سے اس سرجری کی اجازت دی گئی ہے اور یہ کہ یہ سارا معاملہ بطور احسان اور ایک جان کو بچانے کی نیت سے کیا گیا ہے۔ (فتوی کمیٹی برطانیہ )
ایک خاتون کے لئے سر کا ڈھانپنا
سوال: میں ایک حیادار خاتونی ہوں اور اسی بات پر ایمان رکھتی ہوں کہ کیا اور بدن کا چھپانا اسلام کی بنیادی باتوں میں سے ایک ہے ، گو میں حجاب نہیں کرتی لیکن حجاب لینے کو ایک مسلمان عورت کے لئے باعث فضیلت سمجھتی ہوں، لیکن ابھی تک میں اس بات پر مطمئن نہیں ہوں کہ قرآن میں دوسرے فرائض کی طرح بالوں کو چھپانے نے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ میرے علم میں اس موضوع سے متعلق احادیث مخفی نہیں ہیں لیکن کیا واقعی حجاب نہ لینا گناہ شمار کیا جاتا ہے جب کہ عورت ساتر لباس پہنتی ہو اور ملتے جلتے میں شرم و حیاکا خیال رکھتی ہو، یہ سوال میں اس لئے بھی کر رہی ہوں کہ میں ایک ایسے شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں جو حجاب کو واجب سمجھتا ہے اور میں اس موضوع پر شرح صدر چاہتی ہوں ۔
جواب: حجاب اس معنی میں کہ سر کے بالوں کو اور اپنے جسم کو غیر محرم مردوں سے چھایا جائے۔ جمہور علماء کے نزدیک واجب ، صرف فضیلت یا ایک بہتر اختیار کی حد تک محدود نہیں ہے۔ مختصر دلائل عرض ہیں :
1۔ سورۃ النور میں جہاں مومن عورتوں کے لئے غضّ بصر شرمگاہ کی حفاظت کے احکامات دیے گئے ہیں ، وہاں یہ بھی ارشاد فرمایا :
﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾ ( النور: 31)
’’اور وہ اپنے خمار اپنے سنیوں پر ڈال لیں ۔‘‘
اہل لغت کے مطابق خمار اس کپڑے کو کہا جاتا ہے کہ جس سے سر کو ڈھانپا جائے۔ خود لفظ ’خمر‘ چھپانے اور ڈھانپنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
الکوحل یا شراب کے لئے بھی ’حمر‘ کا لفظ استعمال کیا گیا کہ وہ ایسا مشروب ہے جو انسان کی عقل کو ڈھانپ لیتا ہے۔
2۔ مسند احمد کی ایک روایت ہے :
«إنه كان يمسح على الخف والخمار»
’’نبی ﷺ خف اور خمار پر مسح کیا کرتے تھے ۔‘‘
خُفَّ یعنی چمڑے کا وہ موزه حوا گر وضو کے بعد پہن لیا جائے تو اگلی دفعہ جب و ضو کی حاجت ہو تو بجائے پاؤں دھونے کے اس پر مسح کرنا کافی ہے اور ایسے ہی نبی کریمﷺ خمار پر بھی مسیح کیا کرتے تھے۔
صاحب النہایہ لکھتے ہیں کہ یہاں خمار سے مراد عمامہ ہے کہ جس طرح خمار سے عورت اپنے سر کو ڈھا نیتی سے ویسے ہی مرد عمامہ سے اپنے سر کو ڈھانپتا ہے ، عمامہ سے مراد عربوں کا وہ عمامہ سے جس کی ایک گرہ ٹھوڑی کے نیچے سے ہوتے ٹھوئے گردن کی دوسری جانب سر سے جاملتی ہے تو اُسے بار بار اتارنے میں دقت ہوتی ہے ، تو خُف کی طرح اس پر بھی مسح کیا جا سکتا ہے ۔ (ص68)
اور اس وضاحت کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ ہوا کہ عورتیں جو خمار ( دوپٹہ) پہنتی ہیں وہ سر کے بالوں کے چھپانے تک محدود رہے بلکہ اُسے اپنے سینوں پر بھی ڈال لیں تاکہ سینہ بھی پوری طرح ڈھک جائے ۔
اور پھر صحابیات کے عمل سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس آیت کیسے عمل کیا گیا۔
صفیہ بنت شیبہ روایت کرتی ہیں کہ ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مجلس میں تھے اور وہاں قریش کی عورتوں کی فضیلت کا ذکر ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : بیشک قریش کی عورتیں بڑی فضلیت رکھتی ہیں اور میں نے اللہ کی قسم، انصار کی عورتوں سے زیادہ افضل کسی کو نہیں دیکھا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾ تو انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ وحی پر کیسے ایمان لایا جاتا ہے اور کتاب اللہ کی کیسے تصدیق کی جاتی ہے۔ جب یہ آیت اتری تو ان کے مرد گھر جاتے ہیں ۔ اپنی بیوی، بیٹی بہن اور دوسری قریبی رشتے دار عورتوں کو یہ آیت پڑھ کر سناتے ہیں اور جونہی انہوں نے یہ حکم الٰہی سنا تو انہوں نے اپنا نقشین دوپٹہ اٹھایا اور اس سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیا۔ (فاعتجرت) اور یوں اللہ کے حکم پر ایمان اور تصدیق لے آئیں اور جب وہ فجر کی نماز میں اللہ کے رسول کے پیچھے نماز ادا کر رہی تھیں (معتجرات) تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہیں۔ (سنن ابو دا ؤد)
یہاں ان کی اس کیفیت لباس کو لفظ ’معتجرات‘ سے تعبیر کیا ۔ یہ لفظ عمامہ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ (اعتجر بعمامته) اور اہل لغت نے اس کا یہ معنی لکھا ہے کہ وہ اپنے عمامے سے سر کو ڈھانپ لے اور اس کا ایک کنارہ چہرے پر لٹکتا دکھائی دے اور ٹھوڑی کے نیچے کچھ نہ ڈالے۔ ( النہایہ: 153)
2۔ سورة الاحزاب میں ارشاد فرمایا :
﴿ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ﴾(سورۃ الاحزاب: 59) ’’اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مؤمنین کی عورتوں کو کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر جلباب ڈال لیا کریں۔‘‘
یہ حکم گھر سے باہر جانے کے وقت دیا گیا ہے کہ جب خواتین گھر سے باہر نکلیں تو اپنے روز مرہ لباس کے اوپر ایک اور چادر بھی ڈال لیا کریں تا کہ جسم سارا کا سارا ساثر نظر آئے ۔ یہ چادر عموماً سر سے پاؤں تک ہوتی ہے۔ گویا خمار کے ساتھ ساتھ اگر جادو بھی سر پر آجائے تو ستر میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
3۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سے کہا تھا : اے اسماء ! جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے جسم میں سے سوائے چہرے اور دو ہتھیلیوں کے اور کچھ نظر نہیں آنا چاہیے ۔‘‘ (سنن ابو داؤد) گو یہ روایت مرسل ہے لیکن شیخ البانی کی تحقیق کے مطابق اس روایت کا دارومدار قتادہ پر ہے، جنہوں نے دونوں طرح سے روایت کیا ہے، یعنی مرسل اور مسند ، گو الفاظ کا اختلاف ہے لیکن دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ اس لیے اس حدیث سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ مذاہب اربعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایک مسلمان عورت کو اپنے بال اور اپنے جسم کو غیر محرم لوگوں کے سامنے چھپانا چاہئے جس میں صرف چہرے اور ہتھیلیوں کا استثناء ثابت ہے۔ اس سے زیادہ نہیں ۔ واللہ اعلم ( فتوی کمیٹی برطانیہ)
فضائی چھتری سے کودنے کی مشق کرنا (PARASHOOT)
سوال: میرا سوال چند پُر خطر جسمانی مشقوں کا حصول ہے۔ میں سمندر میں غوطہ خوری (SCUBA DIVING) کا لائسنس رکھتا ہوں اور اب ہوائی جہاز سے پیرا شوٹ کے ذریعے کودنے (SKYDIVING) کی مشق کرنا چاہتا ہوں اور اس کے لئے برطانیہ میں پرائیویٹ طور پر پہلے سے پائلٹ کا لائسنس حاصل کروں گا اور اس مقصد کے لئے اس فن کے ماہرین کے تحت تمام سلامتی پر مبنی احتیاطی سازو سامان اور متعلقہ اداروں کی اجازت کے ساتھ اس عمل کو سر انجام دوں گا۔
میرا مقصد ہے کہ میں اپنی مہارت کو جلا بخشوں، زیادہ سے زیادہ تجربہ حاصل کروں، ایک محفوظ ماحول میں باقاعدگی اور نفسیاتی طاقت کو بڑھانے کا موقع پیدا کروں ۔ میں ایک عرصہ سے عسکری اڑان (AIR FORCE) کا شائق رہا ہوں لیکن بطور پیشہ اسے اختیار نہ کر سکا، اس لئے چاہتا ہوں کہ مذکورہ مشاغل کے توسط سے اپنی اس خواہش کو پورا کر سکوں۔
ان مشقوں میں مجھ نہ کچھ خطرات تو در پیش ہوں گے لیکن اس ملک میں خطرات کے سد باب کے لئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں اور اعداد و شمار کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے کہ حادثات کی نسبت بہت کم ہے۔ تو ان تمام عوامل اور خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ کیا میں یہ مشاغل اختیار کر سکتا ہوں؟
جواب: پہلے اس ارشاد باری کو مد نظر رکھنا جائے۔
﴿وَلَا تُلْقُوْا بِأَيْدِيْكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ (سورۃ البقرة: 195)
’’اور اپنے ہا تھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالوں۔‘‘
تو اس فرمان کے مطابق جان بوجھ کر ایسی مصروفیت میں اپنے آپ کو نہ ڈالو کہ جس میں جان کے ضائع ہو جانے کا غالب گمان ہو۔
شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ انسان کو اسباب قوت فراہم کرنے چاہیں اور مختلف فنون میں مہارت حاصل کرنی چاہیے ، اور خاص طور پر ایسی مہارت جو جنگ و جدال میں مطلوب ہو اور فائدہ مند بھی ہو، اس لئے نبی ﷺ نے گھڑ دوڑ ، تیراندازی ، نیزہ بازی جیسے فنون کو سیکھنے کی ہمت افزائی فرمائی تھی ، ہر دور میں جدید سے جدید فنون پیدا ہوتے رہے ہیں جس میں پیرا شوٹ سے کودنے کا فن بھی شامل ہے ، اس کے سیکھنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے ۔ صرف اسی بات کا اطمینان حاصل رہے کہ معتمد اداروں اور اس فن کے ماہرین کے تحت یہ مشقیں کی جائیں ، حفظ وسلامتی کے تمام اسباب مہیا ہوں، خطرات لاحق ہونے کی نسبت کم ہو ، البتہ اگر ضرر پہنچنے کا امکان غالب ہو تو پھر اپنے مشغلے سے پر ہیز کیا جائے اور اپنی جان کو بےجا ہلاکت میں نہ ڈالا جائے۔ (فتوی کمیٹی برطانیہ)
٭٭٭
تبصرہ کریں