
ایک جا ہل سے جا ہل شخص بھی ان احا دیث کا مطلب یہ نہیں سمجھے گا کہ و ضو کر کے پہلے بیوی کا بوسہ لینا ضروری ہے ، یا کھڑے ہو کر پیشاب کر نا ضروری ہے ، یا اپنی بچیو ں کو کند ھو ں پر ا ٹھا کر نماز پڑ ھنا ضروری ہے، یا با لغ آد می کو دود ھ پلا نا ضروری ہے ۔ اہل حدیث عوا م و خوا ص کے دلو ں میں چو نکہ ا حا دیث رسو ل کا پورا ا حترا م و تقدس ہے اس لئے وہ مذ کورہ احادیث کا نہ انکار کر تے ہیں اور نہ ان کا استخفا ف ، بلکہ ان کو مخصو ص حا لا ت پر محمو ل کر تے ہیں اور ان کے جواز کے قائل ہیں ۔ ہم اس، شیخ الحد یث و التفسیر، سے پو چھتے ہیں کہ اگر یہ حد یثیں صحیح ہیں تو کیا آ پ کے لئے ان کا ما ننا ضروری نہیں ہے ؟ اگر جواب اثبات میں ہے توذرا و ضا حت فر ما ئیں کہ ان کی حیثیت استمراری سنت کی ہے یا ان میں صرف جواز کا بیا ن ہے جس کا مطلب ہو تا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو عمل کیا جا سکتا ہے ۔ صرف اہل حد یث کو مورد طعن بنا نا ، کیا اس با ت کی غمازی نہیں کر تا کہ شیخ الحد یث کے منصب پر بیٹھ کر ساری زند گی ا حا دیث کا رد ّکر تے کر تے دل سے ا حا دیث کا ا حترا م اور تقدس ختم ہو گیا ہے ۔ مذ کورہ اقتباس اسکا وا ضح نمو نہ ہے ۔
اس اعتبار سے صحیح ا حا دیث سے گر یز و اعراض اور عند المحدثین ضعیف روایا ت سے استد لا ل دو نو ں ہی گرو ہو ں کا وتیرہ اور طر یقہ ہے اور یو ں تھو ڑے سے ا ختلاف کے سا تھ جس کی وضا حت ہم نے کی ہے، ان کے فکر و عمل میں اتحاد و یکسا نیت ہے ۔
بنا بر یں دو نو ں گرو ہو ں سے اہل حد یث کا بنیادی اور اصولی ا ختلا ف ہے اور یہ ا ختلا ف اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک یہ احا دیث صحیحہ کو ان ا صول وضوا بط کی روشنی میں دل سے تسلیم نہیں کر یں گے جو ما ہر ین علم حد یث نے ، جو صرف محد ثین ہیں ، مقرر فر ما ئے ہیں اور آ خر میں ہم ان حا میا ن تقلید جا مد سے، جو ان کے اکا بر کے نز د یک بھی حرا م اور کفر کے قریب ہے ، صرف ایک سوا ل کر یں گے کہ اما م ابوحنیفہ اور ان کے ار شد تلا مذہ کے وہ اجتہادی اصول دنیا کی کس کتا ب میں در ج ہیں جن کی بنیاد پر صحیح احا دیث کو ضعیف اور ضعیف ا حا دیث کو صحیح قرار دیا جا رہا ہے ؟ کیو نکہ ہمارے علم و مطا لعہ کی حد تک ان اجتہادی ا صولو ں کا انتساب ان آ ئمہ ثلا ثہ کی طرف یکسر جھو ٹ اور بے بنیاد ہے ۔ قیا مت کے دن یہ ا ئمہ کرا م اپنے ان نا م لیوا ؤں سے یہی کہیں گے: سبحانك هذا بهتا ن عظیم ۔ اگر ان کے اس دعوی میں ذرا بھی صداقت ہے تو اس کا ثبو ت پیش فرما ئیں:هاتوا برهانکم إن کنتم صادقین
بہر حا ل علما ئے ا حنا ف کے مذ کورہ دو نو ں گرو ہو ں کا رو یہ اور طرز فکر کم و بیش کے کچھ فرق کے سا تھ اپنے ا ئمہ ثلا ثہ کے طرز فکر و عمل سے یکسر مختلف ہے اہل حد یث کا ا ختلا ف اگر نہیں ہے تو آ ئمہ ثلا ثہ کے طر ز فکر و عمل سے نہیں ہے ، ان سے ا صو ل و فروع میں مطا بقت کا دعوی جیسا کہ علمائے اہل حد یث نے کیا ہے ،کیا جا سکتا ہے لیکن مذ کورہ دو نو ں گروہو ں کی جو تفصیلا ت گز شتہ صفحات میں بیا ن کی گئی ہیں ، جو صحا بہ و تا بعین و تبع تا بعین کے طر یقے کے خلاف اور ان محدثین کرا م کی روش کے بر عکس ہے جنہو ں نے احادیث کی حفا ظت و صیا نت کا بے مثال کار نا مہ سر انجا م دے کر رسو ل اللہ ﷺ کے اس اسوہ حسنہ کو قیا مت تک کے لئے محفو ظ کر دیا جس کی با بت اللہ تعا لی نے فرما یا:
﴿ لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ﴾ (سورة الاحزاب: 21)
’’یقیناتمہارے لئے رسو ل اللہ ( کی ذات گرا می ) میں بہترین نمو نہ ہے ، اس شخص کے لئے جو اللہ اور یو م آخر ت پر ایما ن ر کھتا اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے ۔‘‘
ان سے اتحاد و اتفاق کس طر ح ممکن ہے ؟ انہی کے خلاف تو اہل حد یث کا جہاد ہے جو صدیو ں سے وہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور حد یث رسو ل لا تزا ل طا ئفۃ من امتی تقا تل علی الحق ( الحد یث ) کے مطا بق ابد تک جاری رہے گا ۔ خوش نصیب ہے وہ گروہ جو اس سعا د ت ابدی سے بہروہ ور رہاہے، ہے ، اور رہے گا جعلنا منھم
(حا شیہ نمبر25۔ج) محمد بن اسحاق بن یسار
حا فظ زبیر علی ز ئی لکھتے ہیں :
جناب محمد سر فراز خا ن صفدر دیو بندی گکھڑوی نے اپنی کتا ب ، احسن الکلا م فی تر ک القرأۃ خلف الا ما م میں سبب تا لیف کے تحت لکھا ہے:
ہم نے بعض مقا ما ت پر آ ئمہ جر ح وتعدیل اور جمہور محد ثین کرا م کے مسلّمہ اور طے شدہ ا صول و ضوا بط کے عین مطا بق ثقہ راویو ں سے متعلق ثقا ہت اور عدالت کے اقوال تو نقل کر دئیے ہیں ، لیکن اگر بعض ا ئمہ کا کو ئی جر حی کلمہ ملا ہے، تووہ نظر انداز کر دیا ہے ۔ اسی طر ح اگر کسی ضعیف اور کمزور راوی کے بارے میں امام کا کو ئی تو ثیق کا جملہ ملا ہے تو اسکو بھی در خور اعتنا نہیں سمجھا، کیو نکہ فن ر جا ل سے اد نی وا قفیت والے بھی بخو بی اس امر سے وا قف ہیں کہ کو ئی بھی ایسا ثقہ ( را وی ) جس پر جر ح کا کو ئی کلمہ منقول نہ ہو یا ایسا ضعیف ( راوی ) جس کو کسی ایک نے بھی ثقہ نہ کہا ہو ، کبر یت ا حمر کے مترادف ہے ۔۔۔ بایں ہمہ ہم نے تو ثیق و تضعیف میں جملہ آ ئمہ جر ح و تعدیل اور ا کثر ائمہ حد یث کا ساتھ اور دا من نہیں چھو ڑا ۔ مشہور ہے: زبا ن خلق کو نقا رہء خدا سمجھو ( ا حسن الکلا م طبع دو م:1؍40،طبع دہم : 1 ؍61 و ا للفظ للاو ل )
اس عبارت میں جو ا صول ، نظریہ اور مسلک پیش کیا گیا ہے لائق تعریف ہے اور ہم سوفی صد اس کے ساتھ متفق ہیں لیکن د یکھنا یہ ہے کہ کیا جنا ب سر فراز صفدر نے خود اپنے اس صو ل پر اپنی اس کتا ب میں عمل کیا، یاا صو ل شکنی کا ارتکاب کیا ہے؟
اما م المغازی محمد بن اسحاق بن یسار المد نی نے ، حد یث مکحو ل عن محمود بن الر بیع ا لا نصاری عن عبادۃ الصامت کی سند سے ایک حد یث بیا ن کی جس میں آ یا ہے ، رسو ل اللہ ﷺ نے( اپنے مقتد یو ں سے ) فرمایا:
میں تمہیں د یکھتا ہو ں کہ تم اما م کے پیچھے پڑھتے ہو ؟ صحا بہ نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ہم پڑ ھتے ہیں ۔ آ پ ﷺنے فر ما یا :
ایسا مت کرو مگر سورہ فا تحہ ( پڑھو ) کیو نکہ اس کی نماز نہیں ہو تی جس نے اسے نہیں پڑ ھا۔ (مسند ا حمد: 23125)
اس حد یث سے معلو م ہوا کہ نماز میں سورہ فا تحہ پڑ ھنا ہر مکلف پر فر ض ہے اور مقتدی کی نماز بھی سورہ فا تحہ پڑ ھے بغیر نہیں ہو تی۔
اس حد یث پرجر ح کرتے ہو ئے جنا ب سر فراز خا ن صفدر لکھتے ہیں :
پہلا جوا ب : محمد بن اسحاق کو گو تا ریخ اور مغازی کا اما م ما نا جا تا ہے لیکن محد ثین اور ار باب جر ح وتعدیل کا تقریباً پچا نوے فی صدی گرو ہ اس با ت پر متفق ہے کہ روا یتِ حد یث میں اور خا ص کر سنن اور ا حکا م میں ان کی روایت کسی طر ح بھی حجت نہیں ہوسکتی اور اس لحا ظ سے ان کی روا یت کا و جود اور عد م و جود بالکل برا بر ہے ۔ تصریحات ملا حظہ کر یں :
امام نسا ئی فر ما تے ہیں کہ وہ قوی نہیں۔ ( ضعفاء صغیر: ص52 )
ابو حا تم کہتے ہیں کہ وہ ضعیف ہے۔ ( کتاب العلل:1؍433)
ابن نمیر کہتے ہیں کہ وہ مجہو ل رواۃ سے با طل روا یا ت نقل کر تا ہے۔ ( بغدادی : 1؍ 227 )
دار قطنی کہتے ہیں کہ اس سے ا حتجا ج صحیح نہیں۔ (ایضاً: 1؍232 )
سلیمان تیمی کہتے ہیں کہ وہ کذا ب ہے، ہشا م بن عروہ کہتے ہیں کہ وہ کذا ب ہے ،ا مام جر ح و تعدیل یحی قطان کہتے ہیں کہ میں اس با ت کی گوا ہی دیتا ہو ں کہ وہ کذا ب ہے۔ ( میزا ن۔ جلد 3 ص 21 )
و ہیب بن خا لد اس کو کاذب اور جھو ٹا کہتے ہیں۔ ( تہذ یب التہذ یب۔ جلد 9 ص45 )
اما م ما لک فر ما تے ہیں کہ وہ دجا لو ں میں کا ایک د جا ل تھا۔ ( میزا ن:3؍ 21 و تہذ یب التہذ یب: 9؍ 41 )
نیز اما م ما لک نے اس کو کذا ب کہا ہے۔ ( تاریخ بغدادی ،جلد1 ص 232 )
جر یر بن عبد الحمید کا بیا ن ہے کہ میرا یہ خیا ل نہ تھا کہ میں اس زما نہ تک زندہ رہوں گا جس میں لو گ محمد بن اسحاق سے ا حادیث کی سماعت کر یں گے ( تہذ یب التہذ یب۔ جلد 2 ص 306 )
ابو زرعہ کا بیا ن ہے کہ بھلا ابن اسحاق کے با رے میں بھی کو ئی صحیح نظر یہ قام کیا جا سکتا ہے ؟ وہ تو محض ہیچ ہے۔ ( تو جیہہ النظر: ص 280 )
اما م بہیقی فر ما تے ہیں کہ محد ثین اور حفاظ حد یث ابن اسحاق کے تفر دا ت سے گر یز کر تے ہیں ۔( سنن الکبری بحوا لہ الجو ہر النقی جلد 1 ص 155 )
علا مہ ما ر دینی لکھتے ہیں کہ ابن اسحاق میں محد ثین کے نز د یک مشہور کلام ہے ( الجو ہر النقی: 1؍ 155)
عبد اللہ فر ما تے ہیں کہ میرے والد ا ما م ا حمد بن حنبل لم یکن یحتج به فی السنن۔ ( بغدادی : 1؍ 230 و تہذیب التہذیب : 9؍44 ) سنن اور ا حکا م میں وہ ان سے ا حتجاج نہیں کر تے تھے ۔
حنبل بن اسحاق کا بیا ن ہے کہ میں نے اما م ا حمد سے در یا فت کیا، ابن اسحاق جب کبھی حد یث کے بیا ن کر نے میں متفرد ہو تواس کی حد یث حجت ہو گی ؟ قال لاو اللہ ( بغدادی : 1؍ 230 ) فر ما یا: بخدا ہر گز نہیں
ابن ابی خیثمہ کا بیا ن ہے کہ ابن معین نے اس کو لیس بذ لک ، ضعیف اور لیس بالقوی کہا ، میمو نی کا بیا ن ہے کہ ابن معین نے اسکو ضعیف کہا ہے ۔( بغدادی : 1 ؍ 231؛ تہذ یب التہذ یب:9؍44 )
علی بن المد ینی کا بیا ن ہے لم یضعفہ عندی ا لا روا یۃ عن اہل الکتا ب( تہذ یب: 9؍45 ) میرے نز دیک ابن اسحاق کو صرف اس بات نے ضعیف کر دیا ہے کہ وہ یہود و نصاری سے روا یتیں لے لے کر بیا ن کرتاہے ۔
اما م تر مذی لکھتے ہیں کہ بعض محد ثین نے ان کے حافظہ کی خرا بی کی و جہ سے اس میں کلا م کیا ہے۔ (کتاب العلل: 2؍ 237 )
اما م نووی لکھتے ہیں کہ جو راوی صحیح کی شر طو ں کے مطا بق نہیں ہیں ان میں سے ایک محمد بن اسحاق بھی ہے (مقدمہ نووی۔ ص 16 )
علا مہ ذہبی لکھتے ہیں کہ ابن اسحاق کی روایت در جہ صحت سے گری ہو ئی ہے اور حلا ل و حرا م میں اس سے ا حتجا ج درست نہیں ( تذ کرہ ۔جلد1 ص 163 )
حا فظ ابن حجر لکھتے ہیں :
ابن اسحاق ا حکا م کی روا یت میں حجت نہیں خصوصاً جب کہ متفرد ہو اور جب کوئی ثقہ راوی اس کے خلاف روا یت کرتا ہو تو ابن اسحاق کی روایت قا بل تو جہ ہی نہیں ہو سکتی۔ ( درایہ: ص 193)
حا فظ ابن القیم لکھتے ہیں کہ اما م ا حمد نے ابن اسحاق کی روا یت کو منکر کہا ہے اور اس کو ضعیف بتا یا ہے۔ ( زاد المعاد : 1؍ 143 )
علا مہ منذ ری اور حافظ سخاوی لکھتے ہیں کہ اما م ا حمد نے فر ما یا: مغازی میں ابن اسحاق کی روا یا ت تو لکھی جا سکتی ہیں لیکن جب حلا ل و حرا م کا مسئلہ ہو تو اس میں ایسے ایسے راوی ( یعنی ثقہ اور ثبت ) در کار ہیں۔ ( تر غیب و تر ہیب : 4؍290 ؛ فتح المغیث: ص 120) ۔( احسن الکلا م: 2؍70 تا72 وا للفظ لہ ، دوسرا نسخہ: 2؍ 77۔80 )
اس کے بعد جنا ب سر فراز خا ن صفدر نے شو کا نی ،نوا ب صدیق حسن خا ن اور محمود حسن دیو بندی کی جر حیں نقل کر کے لکھا ہے :
آ پ ملا حظہ کر چکے ہیں کہ شا ید ہی جر ح کا کو ئی ادنی سے اعلی تک ایسا لفظ ملے گا جو جمہور محد ثین اور ارباب جر ح و تعدیل نے محمد بن اسحاق کے با رے میں نہ کہا ہو ۔ (احسن الکلا م: 2 ؍ 72 ، دوسرا نسخہ ص 80)
جر ح و تعدیل میں خیا نتو ں اور تحریفات سے قطع نظر مذ کورہ کل جا ر حین کے نا م علی التر تیب در ج ذیل ہیں:
1 ۔ نسا ئی ۔ 2 ۔ ابو حا تم۔ 3 ۔ ابن نمیر ۔ 4 ۔ دار قطنی۔ 5 ۔ سلیما ن تیمی۔ 6 ۔ ہشا م بن عروہ۔ 7۔ یحی القطان۔ 8 ۔ وہیب بن خا لد ۔ 9 ۔ ما لک ۔ 10 ۔ جر یر بن عبد اللہ۔ 11 ۔ ابو زرعہ ۔ 12 ۔ بہیقی۔ 13 ۔ ماردینی ( ابن التر کما نی حنفی ) ۔ 14 ۔ احمد بن حنبل ۔ 15۔ ابن معین ۔ 16 ۔ علی بن المد ینی ۔ 17 ۔ تر مذی ، 18 ۔ نووی ، 19 ۔ ذہبی ۔ 20 ۔ ابن حجر ۔ 21۔ابن قیم ۔
احسن الکلا م کے جد ید ا ڈیشن میں محمد بن اسحاق بن ند یم را فضی گمراہ کو بھی جا ر حین میں ذکر کیا گیا ہے لیکن عا م طلبا کو بھی معلو م ہے کہ غیر ثقہ را فضی کی جرح یا تعدیل کا کو ئی اعتبار نہیں ہو تا ۔ ابن الجوزی کو بھی جا ر حین میں شمار کیا گیا ہے لہذا را فضی کو ملا کر سر فراز خا ن صفدر کی عبارت میں کل جار حین کی تعداد 23 ہے۔ یاد رہے کہ سر فراز خا ن کے ذکر کردہ جا ر حین اور جرح کے بہت سے حوا لو ں میں نظر ہے ۔ تفصیل کے لئے د یکھئے جنا ب ارشاد الحق ا ثری کی کتا ب تو ضیح الکلام ۔
شو کا نی، صد یق حسن اور محمود حسن و غیرھم کو ہم زمانہ تا بعین کے راوی پر جر ح و تعدیل سے ایک طرف ر کھ کر عر ض کرتے ہیں کہ
محمد بن اسحاق بن یسار کو پچاس سے زیادہ محد ثین اور علمائے کرا م نے ثقہ و صدوق اور روا یت حد یث میں صحیح الحد یث یا حسن الحد یث قرار دیا ہے جس کے مستند اور مضبو ط حوا لے مو جود ہیں۔ بسم اللہ کیجئے اور ملا حظہ فر ما ئیں:
1 ۔ اما م شعبہ بن الحجا ج نے فر ما یا :
محمد بن اسحاق صدوق فی الحد یث ۔ محمد بن اسحاق حد یث میں صدوق ( سچے ہیں)۔ ( کتا ب الجر ح و التعدیل : 7؍192 192 و سندہ صحیح )
اور فر ما یا محمد بن اسحاق امیر المحد ثین ( محد ثین کے امیر : محمد بن اسحاق)۔ ( کتا ب الجر ح و التعدیل: 7؍192 و سندہ حسن )
امام شعبہ نے ایک روا یت میں فر ما یا : امیر المو منین لحفظہ ( وہ اپنے حا فظے کی و جہ سے محد ثین کے امیر تھے)۔ ( جز ء القرأۃ للبخاری بتحقیق حا فظ زبیر علی زئی : 146 ،و سندہ صحیح ، التا ر یخ الکبیر للبخاری: 1؍ 40)
اور فر ما یا : ابن اسحاق سید المحد ثین لحا ل حفظہ ۔( ابن اسحاق اپنے حا فظے کی و جہ سے محد ثین کے سر دار تھے۔ ( تاریخ بغدا د۔ جلد1 ص 228 و سندہ صحیح )
امام شعبہ نے فر ما یا : محمد بن اسحاق امیر المو منین فی الحدیث ۔ (محمد بن اسحاق حد یث میں امیر المو منین تھے)۔ ( تا ریخ بغداد: 1؍ 228 و سندہ صحیح )
2 ۔ المفضل بن غسا ن الغلا بی نے اما م یحی بن معین سے محمد بن اسحاق کے با رے میں سوا ل کیا تو انہوں نے فر ما یا : کا ن ثقۃ و کا ن حسن الحد یث ۔ وہ ثقہ تھے اور وہ حسن الحد یث تھے۔ (تا ریخ بغداد: 1؍218، ت 51 و سندہ صحیح )
اور ایک روا یت میں فر ما یا : کا ن محمد بن اسحاق ثبتاًفی الحد یث ۔ محمد بن اسحاق حد یث میں ثبت ( ثقہ ) تھے۔ (کتا ب الثقا ت لا بن حبا ن : 7؍ 283 و سندہ صحیح)
امام یحی بن معین سے پو چھا گیا : اگر کو ئی شخص کہے کہ محمد بن اسحاق ( حد یث میں ) حجت تھے تو کیا یہ شخص حق بجا نب ہے ؟ انہو ں نے فر ما یا: لا ، و لکنہ ثقۃ ( نہیں ، لیکن وہ ثقہ تھے) ۔ ( تا ریخ ابی زر عہ الد مشقی ، 1180، و سندہ صحیح )
3 ۔ اما م بخاری نے صحیح بخاری میں محمد بن اسحاق سے شوا ہد اور متا بعا ت و غیرہ میں بہت سی روا یا ت لیں مثلاً : ح1468، 1774، 1838، قبل ح 2192،ح 2383، 2384، 2525، 2709، 2718، قبل ح 2990، ح 3140، 3856، قبل 3949، قبل 4028، قبل 4086، ح 4127 ، قبل 4138 ، ح 4259، قبل 4358، قبل 4366، ح 4931، 5527،5934، 5992، 6795، 7126(
٭٭٭
تبصرہ کریں