
تا ثرات
الحمد للہ تاریخ اہل حدیث کی جلد سوم کی تکمیل کے ساتھ بر صغیر کی جماعت اہل حدیث کی تاریخ اور ورثے پر 2 ہزار صفحات پر مشتمل مواد مرتب ہو گیا ہے اور بفضلہ تعا لیٰ مزید کام جاری ہے اور نہ معلوم قلم کا یہ سفر ابھی کن کن سنگ ہا ئے میل کو عبور کرے گا۔
تاریخی نوعیت کے اس کام کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ بیسویں صدی کے اوا ئل میں اہل حدیث اکا بر ین نے تاریخ اہل حدیث کی تر تیب وتسوید کی ضرورت کو محسوس کیا ،پھرپوری صدی ہر طا لب و شا ئق تمنا کر تا رہا کہ جماعت اہل حدیث کی تاریخ مر تب ہو جا ئے۔
جیسا کہ اپریل 1913ء میں بنگال و بہار کے ایک سفر کے بعد مولانا ثناء اللہ امر تسری لکھتے ہیں :
’’ میں اس سفر میں یہ بات بھی سو چتا رہا کہ بنگا لہ میں اہل حدیث جماعت کی اتنی کثر ت کیسے اور کس ذریعہ سے ہو ئی، تو مجھے بتلایا گیا کہ جنا ب مولانا عنایت علی اور مولانا ولایت علی صا حبا ن کی یہ برکت ہے جس کا مفصل ذکر تاریخ اہل حد یث میں ہو گا، جس کی تصنیف اہل حد یث کا نفر نس کی طرف سے جنا ب مو لوی محمد ابرا ہیم سیا لکوٹی کے سپرد ہو ئی ہے جس کی فکر میں مولوی صاحب موصوف ابھی سے لگ رہے ہیں ۔ خدا راست لائے ۔
اہل علم کو چا ہیے کہ اپنے اپنے معلومات سے مولوی صا حب موصوف کو مدد دیں تا کہ یہ بے نظیر کتاب آئندہ جلسہ کا نفر نس تک چھپ کر تیار ہو جائے ۔‘‘
(ہفت روزہ اہل حدیث امرتسر، 25۔ اپریل 1913ء، ص 2 )
مولا نا ابراہیم میر سیالکوٹی ایک عر صہ تک تاریخ اہل حدیث کی تصنیف میں مصروف رہے لیکن خرا بی صحت اور دیگر تدریسی و تبلیغی مشاغل ان کی تصنیفی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو تے رہے ۔ ایک دفعہ بیماری سے صحت یاب ہو ئے تو انہوں نے اخبار اہل حد یث امر تسر کے قارئین کو مخا طب کرکے لکھا:
’’ آ پ حضرات دعا کر یں کہ خدا تعا لیٰ نے صحت دی ہے تو نیک اعما ل کی تو فیق دے اور اس کارعظیم یعنی تاریخ اہل حدیث کو ا ختتا م تک پہنچا کر اسے میرے اور دیگرو ں کے لئے با عث خیر و بر کت اور مو جب صلا حیت و ہدا یت کر ے ۔‘‘ آ مین ۔
(عبدہ محمد ابرا ہیم سیا لکو ٹی ، ہفت روزہ اہل حدیث، 17مارچ 1922ء ، ص 4)
اور اس مو ضوع پر کسی حد تک کام ہوا بھی ، جیسا کہ جناب محمد ابراہیم میرسیالکوٹی ، تاریخ اہل حدیث کی اشاعت کے منتظر ایک سا ئل کو بواسطہ جنا ب ثناء اللہ امر تسری لکھتے ہیں :
’’تا ریخ اہل حدیث کی با بت استفسار کر نے وا لے کو بذریعہ ا خبار اطلاع دے دیں کہ اس کی پہلی جلد ( یعنی حصہ اول ) تو صا ف خط میں لکھوا کر تیار کر ر کھی ہے لیکن اجلاس کا نفر نس میں اس لئے پیش نہیں کرتا کہ جب حا فظ صا حب غازی پوری ؒ اور مولانا ر حیم آبادی ؒ کا خیال آ تا ہے کہ وہ اب نہیں ہیں تو دل بجھ جاتا ہے کہ وہاں اب اس کو کون دیکھے گا، اسی شش و پنج میں تو قف ہو رہا ہے ۔ اور دوسری جلد شروع ہے ۔ مضمو ن کتا بوں کی ورق گردا نی کے لحا ظ سے کچھ محنت طلب آ گیا تھا ۔ دن کو بو جہ اشتغا ل مدرسہ دار الحد یث فرصت نہیں ملتی تھی، اس لئے تاریخ کا کام رات کو کرتا تھا ۔ دما غ پر محنت زیادہ پڑ نے کے سبب بیمار ہو گیا ۔ اس وقت سے تصنیف کا کام بند ہے۔ کتا بیں اسی طر ح سرہا نے رکھی ہو ئی ہیں۔ انشا ء اللہ آ ج کل پھر شروع کر دونگا ۔
( ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر ۔ 21 دسمبر 1923ء ص 13 )
جناب میر کے علاوہ دیگر کئی بزر گو ں نے بھی اس دشت خار میں رہ نوردی کی لیکن اکیسویں صدی کے اوا ئل میں مر کزی دارالعلوم جا معہ سلفیہ بنارس کے ادارۃ البحو ث ا لاسلا میہ کی سالانہ رپورٹ ( جو لا ئی 2006ء ) پیش کرتے ہو ئے ڈا کٹر مقتدی حسن ازہری حفظہ اللہ نے فرمایا :
بر صغیر میں جماعت اہل حد یث کی تا ریخ کی ترتیب ایک اہم علمی منصو بہ ہے اسے جماعت پر قر ض سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ افسو س کہ اس وقت جماعتی تاریخ کی بجا ئے افراد کی تا ریخ کو مدو ن کر نے کا ر حجان پیدا ہو رہا ہے ۔
جا معہ سلفیہ بنارس نے اللہ تعا لیٰ کی مدد سے جماعتی مدارس اور علمائے جماعت کی تصانیف کے مو ضو ع پر نقش او ل کے طور پر کچھ کام کیا لیکن اسے وسعت کے سا تھ مکمل کر نے کی ضرورت ہے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تو فیق سے اس کے ایسے بند ے ضرور ا ٹھ کھڑے ہو ں گے جو اس عظیم جماعتی خد مت کے لئے خود کو تیار کر یں گے ۔
گو یا زبان حا ل سے یہ کہا جا رہا تھا :
کا نٹو ں زبا ن سو کھ گئی پیاس سے یا ر ب
کو ئی آ بلہ پا وا دی پر خار میں آ ئے
اور شیخ عبد المعید مد نی حفظہ اللہ نے اسی تاریخ اہل حدیث کی جلد او ل پر اپنے تا ثرا ت قلمبند فرماتے ہو ئے اپریل 2007ء میں لکھا تھا :
ہماری تاریخ کے اوراق تتر بتر ہو گئے ۔ کچھ طو طیاں لے ا ڑیں ، کچھ قمر یاں اور کچھ زا غ و زغن کے ہا تھ لگا اور بہت کچھ پر نہنگو ں نے اپنا نشیمن بنا ڈا لا۔۔۔
اور تاریخ اہلحد یث کی ترتیب بہت مشکل کا م ہے ۔۔۔ ڈاکٹر بہاء الدین صا حب اپنی تاریخ کے اوراق کو ترتیب دینے بیٹھ گئے ہیں ۔ ان کے حو صلے اور ہمت ، جان کاری اور دیدہ ریزی کی داد پوری اہلحد یث برادری پہلے دے چکی ہے جب انہو ں نے چار جلدوں میں دو ہزار صفحات میں قا دیا نیت کے شجر ملعون کو اکھا ڑ پھینکنے کی اہلحد یث سر گر میو ں کو صفحات قر طاس پر سجایا تھا۔۔
( اب الحمد للہ 6 جلدیں چھپ چکی ہیں ، سا تویں اور آٹھو یں جلدیں چھپنے کیلئے ا نڈ یا و پاکستان بھیجی جا چکی ہیں ۔ جمیل )
اب پھر پوری برادری اور سارے حقیقی تاریخ کے متلاشی ان کیلئے دعا گو ہیں اور آ س لگا ئے بیٹھے ہیں کہ جماعت کا یہ قر ض وہ چکا دیں ۔ معبود حقیقی سے دعا ہے کہ یہ خواب پورا ہو اور مفصل، مد لل اور صحیح تاریخ اہلحد یث مر تب ہو جا ئے ۔
تاریخ اہل حد یث کی تر تیب بہت مشکل کا م ہے ۔ جو شئے کئی دہا ئیوں سے گمشدہ کے کھا تے میں پڑ ی ہو اسے تلاش کر لینا اس کے بس کی بات ہے جسے اللہ نے بہت بڑے حو صلے اور ہمت سے نوازا ہو ۔ اللہ اگر تو فیق نہ دے انسا ن کے بس کا کام نہیں۔
اور جنا ب مو لا نا محمد ر مضا ن یوسف سلفی فیصل آ باد سے لکھتے ہیں :
ڈا کٹر محمد بہا ء الدین ﷾جماعت اہل حد یث کے اس گروہ با صفا سے تعلق رکھتے ہیں کہ جنہو ں نے تصنیف و تا لیف کے ذریعہ دینی و جما عتی خد ما ت سر انجا م دی ہیں ۔ ان کا شمار عصر روا ں کے نا مور قلم کاروں میں ہو تا ہے اور انہو ں نے قلم و قر طاس کے ذریعہ تا ریخ کے سینے پر ان مٹ نقوش ثبت کئے ہیں، اب ان کا شمار بر صغیر پا ک وہند اور بر طا نیہ کی جماعت اہلحدیث کے چو ٹی کے مصنفین میں ہو نے لگا ہے اور اہل علم انہیں تحریک ختم نبوت اور تا ریخ اہل حد یث کے محقق و مو ر خ کے طور پر جا ننے لگے ہیں ۔ ان کی کتا بو ں میں عقیدے کی پختگی، فکر کی بلندی ، تا ریخی حالات و واقعات کی صحت و ثقا ہت، تو حید و سنت کا احیاء اور مسلک اہل حد یث کی حقا نیت کے پہلو نما یا ں دکھا ئی دیتے ہیں ۔ قلم کی زبا ن نہا یت شستہ و سلیس اور ند ر ت کا پہلو لئے ہو ئے ہے ان کی تحریر میں علمی شا ن اور مؤر خا نہ بصیرت وا ضح دکھا ئی دیتی ہے ۔
ڈاکٹر صاحب کے روا ں اور پر بہار قلم سے جو علمی تاریخی اور تحقیقی کتب معر ض و جود میں آ ئی ہیں ان میں تحریک ختم نبوت نہا یت بلند پا یہ تا ریخی کتاب ہے جس میں انہوں نے فتنہ مر زائیت کے خلاف اہل اسلام کی خد مات کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔
1891ء سے 1912ء تک کے دور کی تاریخ پر مشتمل اس کتا ب کی چار ہزار صفحات پر مشتمل 8 جلدیں تیارہو چکی ہیں مزید دو جلدیں تیار ہو رہی ہیں ۔ یہ قاموسی انداز میں تا ریخی نو عیت کا کا م ہے جس میں تحریک ختم نبوت کے ابتدا ئی دورکے واقعات پر تفصیلی روشنی ڈا لی گئی اس ضمن میں انہو ں نے مرزا قادیا نی اور اس کے قریبی لو گو ں کی کتا بوں سے اس کے افکار ونظریات عقائد باطلہ اور اس کی پیش گوئیوں کو نقل کر کے اس کی سخت گر فت اور نکیر کی ہے۔ اپنے موقف کی تا ئید میں سینکڑو ں حوا لے دئیے ہیں اور اس کے علاوہ بعض جلدو ں میں شخصیات کا عنوا ن دے کر اس دور کے مجاہدین ختم نبوت کی مساعی کا دل آ ویز تذ کرہ کیا ہے ۔
اس کتا ب میں علما ئے اہل حد یث کی ردّ قا دیا نیت پر نا در و نا یا ب تحریریں بھی شامل کر دی گئی ہیں جو کہ مرور زما نہ کے سبب نا پید ہو تی د کھا ئی دیتی تھیں۔
مرزا غلام ا حمدقا دیا نی کے خلاف جا ری ہو نے والے پہلے متفقہ فتوی تکفیر کو اس میں شا مل کر دیا گیا ہے اور اس فتوی کے مر تب کر نیوا لے جنا ب محمد حسین بٹالوی ؒکے ماہنا مہ اشاعۃ السنہ کاتقریباً ایک تہا ئی حصہ جو کہ ردّ قا دیا نیت پر تھا، ا ڈیٹ کر کے تلخیص و اختصار کے سا تھ اس کتا ب میں شامل کر دیا گیا ہے ۔ اسی طرح شحنہ ہند میر ٹھ کے ضمیمہ سے ردّ قا دیا نیت پر قیمتی مواد ، اور قا ضی محمد سلیما ن منصور پوری کی تا ئید الاسلام اور غا یۃ المرا م ، جنا ب محمد اسما عیل علی گڈ ھی کی اعلا ء ا لحق الصریح ۔ اورجنا ب محمد بشیر سہسوا نی کی الحق الصریح فی حیا ۃ المسیح ، جنا ب عبد المجید دہلوی کی بیان للناس ، جنا ب عبد اللہ شا ہجہا ن پوری کی شفا ء للناس ، جناب محمد جعفر تھا نیسری کی تا ئید آ سما نی ، شیخ غلام حیدر کی عشرہ کا ملہ ،جنا ب ثناء اللہ امر تسری کی تفسیر ثنا ئی سے ردّ قا دیا نیت کے مضامین ، جنا ب محمد ابرا ہیم میر سیالکو ٹی کی الخبر الصحیح ، اور شہادۃ القر آن ملخصاً ، اس کتاب میں شا مل کر دی گئی ہیں۔ (اور آ نے وا لی جلدو ں میں جنا ب ابو الحسن سیا لکو ٹی کی بجلی آسمانی بر سر دجال قا دیا نی ، اور منشی الٰہی بخش کی عصا ئے موسی کو اڈیٹ کر کے نذر قا رئین کر نے کا ارادہ ہے۔ بہاء الدین)
اس اعتبار سے یہ کتاب تحریک ختم نبوت پر ایک مستند مد لل اور تا ریخی دستاویز کی حیثیت ر کھتی ہے ، اور اس کی کیفیت و کمیت کے لحاظ سے یہ کہنا قطعاً مبالغہ نہیں ہوگا کہ زیر نظر موضوع پر ایسی کتاب اس سے پہلے مر تب نہیں ہو ئی ۔
ڈا کٹر بہا ء الدین نہا یت با اخلاق ملنسار اور نیک انسا ن ہیں، انہو ں نے تصنیف و تا لیف سے جماعت کیلئے گراں قدرخد مات سر انجا م دی ہیں ۔ اگست 2005ء میں مرکزی جمیعت اہل حد یث ہند نے انہیں مو ر خ عصر کے خطا ب سے نوازا ، اور فریوا ئی اکیڈ یمی ( ہند ) نے ان کی خد مات کے ا عترا ف میں انہیں 2008ء کیلئے ابو ہریرہ ایوار ڈ سے نوازا ۔بلاشبہ وہ جماعت کا عظیم سر ما یہ ہیں ۔ دعا ہے اللہ تعا لی انہیں صحت وسلامتی سے ر کھے اور ان کا راہوار قلم جماعت کیلئے لؤلو و لا لہ بکھیر تا رہے۔ انتہی مختصراً
حضرت مؤلف نے تاریخ اہل حد یث کی جلد اول میں عر ض مؤلف میں لکھا تھا کہ وہ علماء و صلحاء کے لئے عمومی طور استعمال کئے جا نے وا لے القا ب تر ک کر کے جنا ب کا لفظ استعما ل کریں گے
۔ اس پر جن بزرگوں نے نا پسند ید گی کا اظہار کیا تھا اس ضمن میں مؤلف محترم نے حضرت مولانا جنا ب ثناء اللہ امرتسری کی ایک نایاب تحریر سے مجھے واقف کرا یا ہے جو حقیقتاً دل چسپ اور نا ظرین کے علم میں لائے جانے کے لا ئق ہے ۔ حضرت مولا نا امر تسری ؒ فرماتے ہیں :
اسلا می اصطلا ح میں مولوی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو علوم شر عیہ بذریعہ عر بی زبان کے جا نتا ہو ۔ علوم شرعیہ میں بہت بڑا ما ہر ہو تو عزت کے طور پر مولانا کہا جاتا ہے مگر پنجا ب کے اسلا می جرا ئد نے مو لانا کے لفظ کو اس کثرت سے استعما ل کیا کہ جس میں علو م شرعیہ کی کو ئی ضرورت نہ رہی اسلئے مدرسہ نظا میہ فرنگی محل کے طلباء نے شو کت علی ، محمد علی صا حبا ن کو مولا نا کا آ نریری خطا ب دیا ۔
اس کے بعد تحریک خلافت شروع ہو ئی تو اس لقب نے وہ عمو میت حاصل کی کہ علی گڈ ھ گز ٹ میں ایک نظم چھپی اس میں ایک شعر یہ تھا :
نہ مذہب سے ہوئے واقف نہ دین حق کو پہچانا
پہن کر جبہ و شملہ لگے کہلانے مولانا
خدا بھلا کر ے معا صر زمین دار کا جو عین وقت پر سنبھلا اور اس نے محسوس کیا کہ مولا نا کا لفظ بہت پا ما ل ہو گیا اس لئے اس نے بروقت آ واز ا ٹھا ئی کہ احرار کیلئے مو لا نا کا لفظ نہ بو لا جا ئے گا ۔ اسکے اعلا ن کے الفاظ یہ ہیں :
زعماء اسلا م کا امتیازی لقب مو لانا کی بجائے آ قا
قا رئین کرا م کو یاد ہو گا کہ جنا ب نقا ش نے کچھ دن ہوئے زمیندار سے سفارش کی تھی کہ از بسکہ وہ تمام رہنما جو تحریک تر ک موا لات کے دور میں حشرات الار ض کی طر ح ملک کے ہر حصہ میں پیدا ہو گئے تھے مو لا نا کہلا نے لگے تھے اس لئے تمام ا حرار ملت کے لئے ان کے ایثار یا علم و فضل کے اعتبار سے کو ئی ایسا لقب تجو یز کر نا چا ہیے جس سے ایک گروہ کے عشق اور دوسرے گروہ کی ہو سنا کی کے در میا ن تمیز ہو سکے۔ آ ج جب حسن اتفاق سے صدر مجلس خلافت آقائے سید محمد دا ؤد غز نوی تشریف فر ما ئے لا ہور ہوئے تو جنا ب نقا ش کی تجو یز آ پ کے سا منے پیش ہوئی۔
آ پ نے اس خیا ل سے اتفاق ظا ہر فر ما یا کہ
مولانا کا لقب حقیقت میں اب بہت ہی عا میا نہ ہو گیا ہے اور نا اہلو ں نے اسے ذلیل کر دیا ہے اس لئے احرار اسلا م کے لئے آ قا کا تعظیمی لفظ مو زو ں ہو گا جو افغانستان، ایرا ن ، تر کستا ن اور سر حد میں شر فاء معززین اور زعماء قو م کا لقب ہے۔ اس بحث میں فخر احرار چو د ھری افضل حق نے بھی حصہ لیا اور اس تجویز پر صاد کیا ۔
زمین دار کا سر تسلیم اس فیصلہ کے آگے خم ہے اور آئندہ زعماء اسلا م کو اسی تعظیمی لقب سے یاد کیا جا ئے گا ۔ (زمین دار ۔ لا ہور۔21۔ اکتوبر 1928ء)
(مو لانا ثنا ء اللہ امر تسری ؒ فر ماتے ہیں) :
مو صو ف ( اڈیٹر زمین دار جنا ب ظفر علی خان) کے کلام کے اتنے حصے میں تو ہم متفق ہیں کہ مو لا نا کا لفظ ہر کہ و مہ پر بو لا جانے سے واقعی پا ما ل ہو گیا بقول:
مئے کہ بد نا م کند اہل خرد را غلط است بلکہ خود ، مئے ، شود از صحبت نا دا ں بد نا م
اس لئے ہم آ ئندہ کو سختی کے سا تھ اس لفظ کو اصلی اصطلا حی محل پر بو لیں گے ۔ لیکن آ قا کا لفظ بھی سردست ہم نہ بو لیں گے تا وقتیکہ ہمیں بضما نت یہ یقین نہ دلا ئی جا ئے کہ آئندہ کو اس کی بھی وہی در گت نہ بنے گی جو مولا نا کی بنی۔۔۔
مو لا نا کے بعد بیچارہ، علا مہ ، کی باری ہے ۔ دیکھئے اس کی بے عز تی کی انتہاء کب ہو تی ہے ۔ دہلی میں تو علا مہ کی انتہاء ہو چکی ہے جو لو گ دہلی کے محاورات خا صہ سے واقف ہیں وہ جا نتے ہوں گے کہ وہاں یہ لفظ کہاں تک انتہا ئی ذلت کو پہنچ چکا ہے ۔ اب لا ہور کی باری ہے خدا خیر کر ے ۔ ( ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر 2 نو مبر 1928ء ص 6 ۔ 7 )
اس تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ محترم ظفر علی خان ؒ ، علا مہ سید محمد دا ؤد غز نوی ؒ ، محتر م افضل حق ؒ، اور علا مہ ثناء اللہ امرتسری ؒ کااتفاق تھاکہ مو لانا و غیرہ کے القاب بے معنی ہوجا نے کے باعث تر ک کئے جانے کے قا بل ہیں۔ یہ بزر گ 80 سا ل قبل جن وجوہ سے اس فیصلہ پر پہنچے تھے غا لبا ً حضرت مؤلف کے فیصلہ کے پیچھے بھی وہی و جوہ کار فر ما ہیں ۔
تا ریخ اہل حد یث اور تحریک ختم نبو ت پر مجموعی طور پر چھ ہزار صفحات پر مشتمل تا لیفا تی کام کی انجام دہی پر محسن جماعت کی ہمت، حو صلے اور سعی پیہم کی داد دئیے بغیر چارہ نظر نہیں آ تا ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس بسطۃ فی العلم و الجسم کا م کو امت مسلمہ کے لئے نفع بخش اور حضرت مؤلف کے لئے تو شہ آ خر ت بنائے ۔ آ مین
ان پرو جیکٹوں کے سلسلہ میں یہ بندہ عا جز شروع ہی سے محسن جماعت کے سا تھ قریبی را بطے میں ہے اس لئے میرا خیا ل ہے کہ
آ ئندہ دو جلدیں حضرت میاں صا حب شیخ الکل سید نذیر حسین محد ث دہلوی ؒ ، اور حضرت مو لا نا محمد حسین بٹا لوی ؒ کے سوا نح اور خدمات پر مشتمل ہوں گی۔ اہل علم سے میری در خوا ست ہے کہ ان دو نوں بز ر گو ں کی حیات و خد مات کے کسی گوشے پر کسی قسم کی معلو مات و دستا ویزا ت ان کے علم میں ہو ں تو ان کی جا نب رہنما ئی کی در خواست ہے۔
اس موقع پر مر کزی جمیعت اہلحد یث ہندکی جملہ موجودہ قیادت بالخصو ص حضرت مولا نا اصغر علی امام مہدی سلفی، ناظم عمو می کو مبار ک باد پیش کر نا چا ہتا ہوں کہ تاریخ اہلحد یث کی اشاعت کا یہ عظیم الشا ن کام ان کے نصیب میں آ یا ہے ۔ آ پ پہلی اور دوسری جلد شا ئع کر کے عوا م وخوا ص سے خراج تحسین حاصل کر چکے ہیں اب تیسری جلد کی اشاعت کا اعزا ز بھی انہیں حا صل ہو رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ محسن جماعت مؤلف محتر م ڈا کٹر محمد بہاء الدین ﷾ کے سا یہ عاطفت کو صحت وتندرستی کے سا تھ جماعت پر تا دیر قا ئم ر کھے اور تاریخ اہل حد یث اور تحریک ختم نبوت کا جاں گسل تھکا دینے والا بقیہ کام بھی ان سے لے لے ۔ و ما ذ ا لک علی اللّہ بعزیز
٭٭٭
تبصرہ کریں