تذکرہ ایک مشہور قریہ کا۔مولانا محمد عبد الہادی العمری

مشہور دینی درسگاه جامعہ دار السلام ایک چھوٹے سے قریہ میں واقع ہے۔ عمر آباد، لیکن اس کی شہرت چہار دانگ عالم کچھ ایسی ہے کہ لوگ ٹمل ناڈو کے اس گاؤں کے متعلق نہ جانے کیسے کیسے خواب یا خاکے سجا لیتے ہیں ، اللہ ہی جانتا ہے ، اس درسگاہ کی بنیاد کس خلوص اور جذبہ سے رکھی گئی کہ اس کے فیض یافتگان اور فارغین دنیا کے مختلف حصوں میں اسلامی تعلیمات کی ترویج اور تبلیغ میں مصروف ہیں۔

برطانیہ کے شہر برمنگھم میں سالانہ دو بڑے اجتماعات سردی اور گرمی کے موسم میں منعقد ہوتے ہیں، ان میں نوجوان کثیر تعداد میں حاضر ہو کر ،علماء کرام کے خطابات سےمستفید ہوتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کے ایک نامی گرامی عالم دین جو میدان علوم قراءت قرآن کے ماہر ہیں اور انہیں اجازة الحديث جمع کرنے کا بہت شوق ہے، اس مقصد کے لیے انہوں نے ہندوپاک کے علاوہ کئی ممالک کے سفر کئے۔ خصوصاً ہند و پاک میں حدیث کی سند کا وہ طریقہ رائج ہے جو عرب ممالک میں کم ہی پایا جاتا ہے ،کہ کونسی حدیث کتنے واسطوں سے ہم تک پہنچ رہی ہے ۔

بطور مہمان مقرر شیخ محترم خطاب فرما رہے تھے، ذکر چل رہا تھا علماء ہند کی حدیث کے حوالہ سے خدمات کا، چند علماء کا تذکرہ سعودی مہمان نے اس انداز سے کیا کہ نوجوانوں کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں کہ ایسی نامور ہستیاں اور اتنی ساده ان کی زندگیاں ۔ دوران خطاب لاہور کے ایک مشہور عالم اور نامور اہل قلم مولانا عزیز زبیدی ﷫ کا ذکر چھڑ گیا، جن کی تعلیم کا ایک مرحلہ دہلی میں طے ہوا تھا، مولانا زبیدی مختلف علمی مجلات کی ادارت بھی سنبھالتے رہے، انہوں نے صحیح بخاری کی مختصر شرح عربی زبان میں لکھی، نظرثانی اور طباعت کے لیے بنارس ارسال کی لیکن مسودہ کہیں غائب ہو گیا۔ مولانا کے ہاں اس کی کوئی کاپی بھی نہیں تھی، یہاں جماعت اہل حدیث برطانیہ کا ایک منصوبہ مشہور کتب حدیث کے لیے حواشی تیار کروانا تھا، کیونکہ یہ کتب دینی درسگاہوں کے نصاب میں مقرر ہوتی ہیں۔ طلبہ اور اساتذہ کے لیے طویل تشریحی کتابوں کے مطالعہ کا وقت نہیں ہوتا، انہیں مختصر جامع حواشی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس منصوبے کو مولانا زیبدی نے برمنگھم میں بروئے کار لاتے ہوئے مشہور کتاب سنن ترمذی پر حواشی کا کام شروع کر دیا ۔ وہ1987ء تقریبا6ماہ یہاں رہے، لیکن بوجوہ انہیں واپس جانا پڑ گیا۔واپسی کے بعد وہاں حالات کچھ ایسے پیش آئے کہ یہ کام آگے نہ بڑھ سکا، مولانا کی صحت گرتی چلی گئی اور دوسری طرف منصوبہ کے روح رواں مولانا محمود احمد میر پوری ﷫ ناظم اعلیٰ جمعیت اہل حدیث ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہو گئے ۔ اللهم اغفر لهم أجمعين

ہمارے عرب مہمان مولا ناز بیدی سے اجازۃ الحدیث لینے کی غرض سے لاہور پہنچے ، ان کے ذاتی حالات بتاتے ہوئے مہان نے ایک واقعہ کا ذکر کر کے مجلس کو اشکبار کر دیا کہ ہمارے علماء کی اتنی سادہ زندگی یا کمزور معاشی حالت تھی۔ بتایا کہ میرے قیام لاہور کے دوران موصوف کی طبیعت ناساز ہوگئی۔ صرف ایک دن کا ناغہ کر کے دوسرے دن درس حدیث جاری رکھا ۔شناساؤں نے بھانپ لیا کہ مولانا کی طبیعت سنبھلی نہیں، انہیں دو ایک روز مزید آرام کا موقع ملنا چاہیے۔لیکن مولانا آرام کے بجائے درس جاری رکھنے پر زور دیتے رہے کہ میں نے ضروری حد تک دوا استعمال کرلی ہے طبیعت سنبھل جائے گی۔ عربی مہمان نے کسی طرح ان کے معالج کا پتہ چلا لیا انہوں نے بتایا کہ مرض کے لیے تجویز کردہ دوائیں کچھ گراں تھیں، مولانا نے صرف ایک خوراک استعمال کی ، مزید کے لیے ان کی مالی حالت متحمل نہیں ، اور وہ اپنے کسی شاگرد سے اس کا ذکر کر کے خدمت حدیث کا اپنا ثو اب کم نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی درس کا ناغہ کرنے پر آمادہ ہیں۔

وما أسئلكم عليه من أجر کے وہ قائل ہیں۔ یہ انبیاء کرام کی سنت رہی ہے کہ وہ اپنی تبلیغی مساعی کا صلہ لوگوں سے نہیں طلب کرتے،حالانکہ اس وقت ہمارے مقرر جو کہ سعودی عرب کے خوشحال شخص تھے، ان کی مالی مدد کرنے پر آمادہ تھے۔ بالآخر کسی حیلے سے مہمان نے شیخ کے لئے دوا کا انتظام کروا دیا، ورنہ مولانا موصوف نہ ان سے کوئی مدد لینا چاہتے تھے اور نہ ہی کسی کے سامنے تذکرہ کرنا پسند کرتے تھے۔ جن ہستیوں سے کسب فیض کی غرض سے سعودی عرب سے لوگ سراغ لگا کر لاہور پہنچیں اور ان کی مالی حالت کچھ ایسی نا قابل بیان، اس کے باوجود مولانا صاحب کا یہ کہنا کہ اگر کوئی علم حدیث کی طلب میں یہاں تک آئے اور میں آرام کرتے ہوئے ناغہ کردوں یہ حدیث اور محبان حدیث کی ناقدری ہوگی، جسے میں گوارہ نہیں کر سکتا ۔

مہمان مقرر نے یہ دلچسپ بات بتائی کہ وہ حدیث کی سند عالی کی تلاش میں عمر آباد پہنچے ، انہیں اطلاع ملی تھی کہ وہاں ایک بزرگ ہیں، استاذ گرامی قدر مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی ﷫ استاذ جامعہ دار السلام ان کی صحیح مسلم کی سند سب سے کم واسطوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺتک پہنچی تھی ، ویسے اس اہم درسگا ، میں نامور شيوخ الحديث مسند تدريس کی زینت بنتے رہے، شیخ الحدیث مولانا محمد گوندلوی پنجابی آزادی سے پہلے علامہ احسان الٰہی ظہیر کے خسر جو بعد میں مدینہ یونیورسٹی میں حدیث کے استاد مقرر ہوئے، مولانا محمد نعمان اعظمی اور مولانا حافظ عبد الواجد رحمانى ﷭ جو علم وتقوی کی چٹان تھے ، ایک مرتبہ ہمارے استاذ محترم مولانا عبدالواجد ﷫ نے دوران تدریس بتایا کہ عرصہ سے معمول ہے ، روزانہ ایک پارہ، قیام اللیل میں پڑھتا ہوں اور حساب چاند کی تاریخ کا رکھتا ہوں۔ پہلا پارہ پہلی تاریخ ہم نے مولانا ظہیر الدین ﷫ سے سنن ترمذی سمیت کئی کتابیں پڑھیں۔ استاذ محترم کسی کو سند تکلفا یا بطور مروت نہیں دیا کرتے، انہیں کو عطا کرتے جو زانوئے تلمذ طے کر کے کتاب پڑھتے ۔حتی کہ یہی اصول امام و خطیب مسجد نبوی شیخ ڈاکٹر عبد المحسن القاسم کے لئے بھی برقرار رکھا، استاذ محترم جب سفر حرمین پر تشریف لے گئے ، مدینہ منورہ میں قیام کے

دوران امام صاحب جو مدینہ منورہ کے اپیل کورٹ میں قاضی بھی ہیں، عدلیہ میں یہ اونچا عہدہ سمجھا جاتا ہے، یو میہ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر صحیح مسلم پڑھتے رہے، امام القاسم نے ساری کتاب پڑھ کر استاذ گرامی سے سند حدیث حاصل کرنے کا شرف حاصل کرکے اوروں کو یہ پیغام دیا کہ حصول علم کی راہ میں عہدہ، منصب اور دولت رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ یہاں یہ دلچسپ بات بھی سن لیجئے کہ قیام مدینہ منورہ کے دوران شیخ القاسم

جب استاذ مو صوف کی قیام گاہ چلتے ہوئے پہنچے،دیکھا کہ استاذ محترم ایک عام سے ہوٹل میں فروکش تھے، امام القاسم نے استاذ محترم ۔

کے لیے ایک عمدہ ہوٹل میں پورا سوٹ بک کروا کر استاذ محترم کو وہاں منتقل کیا، لیکن استاذ گرامی اس عالی شان ہوٹل کے اس قیمتی کمرہ کے قیام کو پسند نہ کرتے ہوئے عام رہائش کو ترجیح دیتے رہے۔ قدر شناس ہو نہار شاگرد نے سوچا کہ شاید اس سے بہتر رہائش گاہ کی ضرورت ہے ۔

استاذ محترم نے ان کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا معیار کچھ زیادہ ہی اونچا ہے، مجھ عمر آباد سے آنے والے دیہاتی کے لیے عام سی رہائشی ہی مناسب ہے، بالآخر اس بات پر دونوں استاد اور شاگرد کا اتفاق ہو گیا کہ رہیں گے اسی ہوٹل ہیں۔ البتہ خاص سوٹ کے بجائے عام کمرہ میں قیام کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی رنگینیوں کو ٹھکرایا اور پھر دنیا رینگتی ہوئی ان کے قدموں میں آگری، شیخ القاسم نے بتایا کہ مدینہ منورہ میں مولانائے محترم کے درس کا سلسلہ جاری تھا، ریاض سے امام موصوف کو شاہی دعوت موصول ہوئی، اس میں شرکت کا مطلب درس میں دو دن کا ناغہ تھا، قدردان علم و علماء شیخ القاسم نے دعوت شاہی پر معذرت کر کے استاذ محترم کی صحبت کو ترجیح دی ۔

أولئك أبائى فجئنى بمثلهم

عمر آباد کی شہرت کی بنیادی وجہ اس میں واقع درسگاہ، جامعہ دار السلام ہے۔ حصول علم کی غرض سے کئی متلاشیان علم اس کا رخ کرتے رہے ہیں، ہمارے دور طالب علمی میں مالدیپ، منکوئی، سری لنکا، نیپال، ملیشیا، اور فیجی کے طلبہ بھی زیر تعلیم تھے ، لیکن حالات کی ستم گری کہ حکومتی قوانین میں شدت ایسی اختیار کی گئی کہ بیرون ہند کے طلبہ کے لیے داخلہ محال کر دیا گیا، ورنہ جامعہ کی کیفیت یہ ہے کہ

’’دل کشادہ ہے میرا گاؤں کے آنگن کی طرح ‘‘

ہمارے سعودی مہمان نے عمرآباد کے متعلق دو باتیں بیان کیں، عموماًموصوف پانچ ستارہ ہوٹل میں قیام کرتے ہیں، یہ جب عمر آباد کے لیے روانہ ہوئے ان کا خیال اس عالمی شہرت یافتہ بستی کے متعلق شاہد یہی تھا کہ وہاں پہنچ کر کے فائیو اسٹار ہوٹل میں کمرہ لے لیں گے ، ان کے ذہن میں رہا ہوگا کہ یہ مدراس اور بنگلور سے ملتا جلتا شہر ہوگا، ویسے بھی یہ دونوں شہروں کے درمیان ہی واقع ہے۔ لیکن جب وہ عمر آباد پہنچ گئے، خوشگوار حیرت میں پڑ گئے کہ اتنی مشہور بستی اور یہی پانچ گلیوں کا شہر ہے ، عمرآباد پہاڑوں کے دامن میں پانچ گلیوں پر مشتمل ایک گاؤں ہے، تین میں مسلم آبادی اور دو میں هند و آبادی ہے۔ ایک جامع مسجد اور ایک چھوٹی سی مندر۔ چند دیہاتی طرز کی دوکانیں، اور پانچ ہی چائے خانے تھے، ہمارے دور میں ۔ ان میں عبدالصمد بھائی کی چائے کی بہت شہرت تھی۔ اساتذہ اور طلبہ کی اکثریت ان کے ہاں سے چائے نوشی کو ترجیح دیا کر تے کیونکہ وہ گاہک کے ذوق کا لحاظ کرتے ہوئے چائے بناتے ، ان کے چائے خانہ جس کو مقامی طور پر صمد بھائی کی ہوٹل کہا جاتا، اس کی یہ کیفیت تھی کہ ایک بینچ سی پڑی ہوتی جسے اس پر بیٹھنے کی جگہ مل جائے وہ اس پر براجمان ہوتا ورنہ کہیں کنارہ ہی کھڑے کھڑے چائے نوشی کر لیتا، یہ معیار تھا اس وقت وہاں کی فائیو اسٹار کا، ہمارے مہمان جب عمر آباد پہنچے، انہیں وہاں صرف ایک ہی فائیو اسٹار ہوٹل دکھائی دی، جامعہ دارالسلام کا مہمان خانہ ، بھلا کسی فائیو یاسیون اسٹار میں وہ روحانی سکون میسر آسکتا ہے جو دارالسلام کی چھاؤں میں مل سکتا ہے، یہاں پہنچ کر نہ کوئی امیر اور نہ ہی غریب، نہ ان کے درمیان کوئی امتیاز باقی رہتا ہے ، متمول اور غریب ترین گھرانوں کے طلبہ کے لیے قیام و طعام ، پڑھنا اور کھیلنا کچھ ایسے اکٹھے ہوتا کہ بظاہر کسی کی خوشحالی یا درماندگی پر پردہ پڑا رہتا، تا وقتیکہ ساتھیوں کی بے تکلفانہ محفلوں میں وہ خود ہی نقاب کشائی نہ کر دے۔ رہا درسگاہ میں یہاں تو سیکھنے سکھانے کے سب کو برابر کے مواقع ہوتے، جو اس میدان میں سبقت لے جائے بازی اسی کی، ہم سے کافی سینئر ایک طالب علم تھے جن کی صلاحیتیوں کی بنیاد پر انہیں طلبہ کی بڑی انجمن کا صدر بنایا گیا تھا، جس جمعرات ان کی صدارت کی باری ہوتی وہ اپنے ایک ہم سبق ساتھی کے کپڑے زیب تن کرلیا کرتے، کیونکہ ان کا ذاتی لباس کچھ ایسا نہیں ہوتا کہ اس حالت میں صدارت کریں ،لیکن یہ اتنے خاموشی سے ہوتا کہ چند قریبی دوستوں کے علاوہ کسی کو خبر نہیں ہوتی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی کی مالی تنگدستی اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی تھی۔ دل پر ہاتھ رکھ کر پڑھ لیجئے کہ کچھ طلبہ ایسے بھی ہوتے کہ وہ اپنے کپڑے ذاتی خرچ پر نہیں دھلواپا تے اور نہ ہی بالوں کی اصلاح کروا سکتے۔ جامعہ کی جانب سے دھوبی اور نائی کی سہولتیں مفت دستیاب تھیں۔ اورعلاج معالجہ کی ضروریات کے لیے حکیم و مربی مولانا عبدالسبحان اعظمی ﷫کا مطلب تھا، جن کی تجویز کردہ دواؤں میں مسیحائی اثر ہوتا۔ مولانا اعظمی ﷫ کا مطلب جسمانی علاج کے ساتھ روحانی تربیت کا مرکز بھی تھا۔ طلبہ کو اذکار اور نوافل کے اہتمام کی خصوصی ترغیب دیا کرتے، کسی طالب علم کی کوتاہی پر تنبیہ فرماتے ، اس مطب میں ایک سفوف ملتا جسے عرف عام میں طلبہ جادو کی پڑیا کہا کرتے، موسمی اثرات نزلہ، زکام: بخار وغیرہ کے لیے یہ دوا اکسیر تھی۔ دو ایک خوراک میں ہی مرض رفو چکر ہو جاتا، نہیں معلوم کہ دوا دینے والوں کی کرامت تھی یا خلوص یا پھر دوا کی اپنی تاثیر ۔

ہمارے انگریزی کے استاذ محترم ٹی محمد غوث ﷫ کہا کرتے تھے کہ دار السلام واقعی سکون اور سلامتی کی جگہ ہے، جمعرات، جمعہ چھٹیوں میں گھر جاتا ہوں تو واپسی تک بے چینی سی رہتی ہے، یہاں پہنچ کر ہی قرار آتا ہے، یعنی اپنے اہل و عیال کے ساتھ وہ سکون نہیں ملتا جو دار السلام کی چھاؤں میں میسر آتا ہے۔

یہ باتیں اپنے بچوں کو بھی سمجھانا یہاں آسان نہیں، جہاں ناشتہ سے لے کر رات کے کھانے کی تیاری سے پہلے ان کی فرمائش دریافت کی جاتی ہے۔ بہر حال جامعہ کے دامن میں اتنی وسعت تھی اور ہے کہ ہمارے سعودی مہمان نے وہاں اطمینان سے پڑاؤ ڈالا، عمر آباد کے متعلق مہمان موصوف نے بڑی دلچسپ بات بتائی، مجھے حیرت ہوئی کہ یہ ایسا گاؤں ہے کہ یہاں بازار میں دہی بھی نہیں ملتا، عرب حضرات کے معدے مقامی کھانوں خصوصاًمرچ مصالحوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے، اس لئے وہ چاہتے تھے کہ غذا ہلکی اور سادہ ہوتا کہ مختصر قیام میں پوری توجہ پڑھنے پڑھانے پر مرکوز رہ سکے، دریافت کرنے پر مہمان کو بتایا گیا اس کے لیے انہیں آٹھ کلومیٹر دوسرے ٹاؤن جانا ہوگا، وہاں کے بازار میں یہ نعمت مل سکتی ہے، انہیں آمبور کا نام تو یاد نہیں تھا لیکن مسافت اور بڑے بازار سے اندازہ ہوا کہ کسی نے بتایا ہوگا کہ گھی اور دہی کی تلاش میں آپ کو آمبور جانا ہوگا ۔ عمر آباد سے نسبتاً قریبی بڑا ٹاؤن یہی ہے ،اسی سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ جامعہ کے جشن طلائی منعقد 1977ء کی مناسبت سے پیش آیا، اس موقع پر عالم اسلام کی عظیم اور نامور ہستیاں جمع ہوئی تھیں، ان کے لیے آمد و رفت اور رہائش کے شایان شان انتظامات کئے گئے تھے۔ انتظامات کی براہ راست نگرانی محترم کا کا محمد عمر﷫ اور محترم مولانا کا کا سعید احمد کر رہے تھے ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نظر رکھے ہوئے تھے ۔کا کا عمر ﷫کی دور اندیشی اور انتظامی صلاحیتیں ضرب المثل تھیں۔ عمر آباد جہاں شہری سہولتوں کا فقدان ہو، معززین کی رہائش کا مناسب بندوبست کسی چیلنج سے کم نہیں، لیکن دونوں برادران نےاس مسئلہ کو یوں حل کیا کہ کسی کمی کا احساس تک نہ ہونے دیا ۔ لیکن کیا کہئیے کہ اس وقت بھی کچھ معززین عمرآباد کی شہرت سے غلط فہمی کا شکار ہو گئے ، منتظمین کو اپنی آمد کی پیشگی اطلاع دینا ضروری نہیں سمجھا- مصر سے ایک نامی گرامی مہمان مدراس

ائیر پورٹ پہنچے، شاید ذہن میں رہا ہوگا کہ عمر آباد ہوائی اڈا سے متصل ہی ہوگا۔ بذریعہ ٹیکسی پہنچ جائیں گے ۔ جب ہوائی اڈہ کے باہر تشریف لائے حسن اتفاق نیو کالج مدراس کے ایک طالب علم سے آمنا سامنا ہوا، مہمان نے اپنا مدعا بیان کیا تو ہو نہار طالب علم خطرہ بھانپ گیا، اسے عمر آباد کے جشن طلائی کی اطلاع تھی ، اس نے ازراہ ہمدردی مہمان کو متعلقہ پبلک بس میں سوار کروا دیا، تقریباً6، 7 گھنٹوں کے پر مشقت سفر کے بعد جب عمر آباد پہنچے تو استاذ گرامی مولانا حفیظ الرحمن اعظمی ﷫ کے بقول سب سے پہلے کچھ کھانا طلب کیا اور آرام کی جگہ۔ نہ جانے وہ کب کے کھائے ہوئے تھے۔جیب میں ھندوستانی سکے بھی نہیں تھے کہ راستہ میں شکم سیری کر لیتے ۔ اس پر منتظمین اجلاس بھی پریشان اور مہمان گرامی بھی نادم ہو رہے تھے کہ عمر آباد کے متعلق انہوں نے خواہ مخواہ بڑے شہر کا خواب سجا لیا تھا کہ ائیر پورٹ سے باہر نکلتے ہی کچھ دیر میں عمرآباد پہنچ جائیں گے ، لہذا پیشگی اطلاع کے ذریعہ منتظمین کو کیوں زحمت دی جائے ۔

مولانا محمد علی جوهر ﷫ہندوستان کی سیاسی اور صحافتی تاریخ کا بڑا نام ہے۔ انگریزی زبان پر انہیں اتنا عبور تھا کہ ان کے پرچہ کا مریڈ کے نئے شمارہ کا اعلی انگریزی طبقہ کو انتظار رہتا تھا، اس صلاحیت کا سراغ لگانے کے لیے کسی نے دریافت کیا کہ انگریزی کہاں سیکھی ، مولانا جوہر نے ظریفانہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک دیہات میں۔ اگر آکسفور اور کیمبرج سے مشہور یونیورسٹیوں کو نکال دیا جائے تو یہ علاقے اب بھی گاؤں ہی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مولانا نے آکسفورڈ کے بجائے دیہات کہہ کر مخاطب کو مزید پریشان کر دیا، اگر جامعہ دار السلام کو حذف کر دیا جائے تو عمر آباد ایک عام سا گاؤں ہی باقی رہ جائے گا اور جامعہ کے ساتھ اس کی حیثیت عالمی قریہ جیسی ہو گی، جس کی روشنی ایک جہاں کو منور کر رہی ہے، اس سے بلند ہونے والی صدائے اعتدال آج ہر انصاف پسند دانشور کا نعرہ بن چکی ہے۔ دعا ہے کہ یہ چراغ یوں ہی جلتا رہے ۔

تبصرہ کریں