
12؍ دن کی مسلسل بیماری کے بعد بالآخر 12؍ ربیع الاول 11 ہجری، بروز دوشنبہ چاشت کا وقت عالم انسانیت پر انتہائی کرب و الم اور کائنات کاسیاه ترین بن کر گزرا، جس دن کو نین کے تاجدار حبیب کبریا ، احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ، خاتم النبین ، سید المرسلین والآخرین، رحمتہ للعالمین ، شافع محشر ، ساقی کوثر اس دنیائے فانی سے رخصت اور داعی اجل کو لبیک کہا تھا :
“إنا للہ وإنا إلیه راجعون” اس وقت آپ ﷺ کی زبان مبارک پران کلمات کا ورد تھا:
«اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى» ’’اے اللہ، مجھے بخش دے ! اے اللہ مجھ پر رحم کر اور مجھے رفیق اعلیٰ میں پہنچا دے، اے اللہ رفیق اعلی ٰ۔ ‘‘ (صحیح بخاری : 5674 ؛ صحیح مسلم : 2444 ؛صحیح الجامع : 1267)
اس دن اہل بیت الا طہار اور ان نفوس قدسیہ کو جنہوں نے تاجدار مدینہ کا اپنی نگاہوں سے دیدار کیا اور آپ سے فیض حاصل کرنے کا شرف حاصل کیا، جنہوں نے آپ ﷺ پر جاں نثاری کی ، اپنا سب کچھ آپ پر قربان کر دیا، سفر و حضر میں آپ کی معیت اختیار کی ، ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے 12؍ربیع الاول کا دن کرب و الم ، اضطراب و بے چینی و بے بسی کا سیاہ ترین دن بن کر گزرا ۔ اس دن کا یا درکھنا ہر مسلمان کے لئے لازم اور ضروری ہے ۔ اس دن جو تکلیف و مصیبت کے پہاڑ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر گرے اس کا تذکرہ سیرت نگاروں نے اس طرح کیا جس کا جاننا ہر مسلمان کے لئے فریضہ ہے۔
فاطمة الزہرا (رضی اللہ عنہا) کا غم
اس دن کے کرب والم ، مصیبت و تکلیف ، ورنج کے متعلق جگر گوشۂ حبیب کبریا، جنت میں خواتین کی سردار، سیدۃ النساء،حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اپنے ایک شعر میں یوں بیان فرمایا کہ
ضَبَتْ عَلَى مَصَائِبٍ لَوْ أَنَّهَا
صَبَّتْ عَلَى الأَيَّامِ صِرْنَ لَيَالِهَا
’’مجھ پر رنج والم کے پہاڑ توڑ دئیے گئے اگر یہ دنوں پر توڑے جاتے تو سارے دن شدت الم کی بنیاد پر راتیں بن جاتے اور دن کا نور ختم ہو جاتا ۔ ‘‘ (الدر المنثور)
ایک اور روایت میں ہے کہ مارے غم کے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا :
“يَا أَنَس! أَطَابَتْ أَنْفُسَكُمْ أَنْ تَحْتوَا عَلَى رَسُولِ التَّرَابَ.”
’’اے اَنس تم نے یہ کیسے گوارا کر لیا کہ کہ نبی ﷺکے جسم اطہر پر مٹی ڈال کر آ گئے ۔‘‘ (صحیح بخاری : 4463)
حضرت فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے شدت غم کا یہ عالم تھا کہ امام بخاری نے ان کے الفاظ کو یوں نقل کیا ہے کہ
“يَا أَبَنَاهُ! أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ يَا أَبَتَاهُ مِنْ جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ مَاوَاهُ، وَيَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيْل نَنْعَاهُ.”
”اے میرے ابا جان! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا ، ہائے ابا جان! جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔ اے ابا جان !ہم جبرئیل کو آپ کی وفات کی خبر دیتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری : 4463)
اس غم کے ساتھ ہی حضرت فاظمۃ الزھراء، بتول، سیدۃ النساء اہل الجنۃ کی آنکھوں سے آنسوں رواں دواں ہوتے رہے، غم سے نڈھال، چور چور فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا سے لوگوں نے کہا کہ
”فاطمہ ایسے وقت میں تم آنسو کیوں بہا رہی ہو، جبکہ تمہارے ابا جان نے اس موقع پر آنسو بہانے سے منع کیا ہے؟‘‘ کہنے لگیں کہ
”میں اس لئے آنسو نہیں بہار ہی ہوں کہ میرے بابا فوت ہو چکے ہیں، بلکہ میرے آنسو اس لئے بہہ رہے ہیں کہ اب جبرئیل کا آسمان سے زمین پر آنا بند ہو گیا۔ ‘‘
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا غم
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غم کا یہ عالم تھا اس وقت وہ مقام ’’سخ‘‘ واقع اپنے مکان پر تھے، جب وفات النبی کی خبر پہنچی، اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر مسجد نبوی میں داخل ہوئے ، لوگوں سے گفتگو کی اور سیدھے حجرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں داخل ہوئے، رسول اللہ ﷺ کا قصد کیا ، آپ ﷺ کا جسد مبارک دھاری دار یمنی چادر سے ڈھکا ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ کے رخ انور سے چادر ہٹائی اور اسے چوما اور اشکبار ہوئے پھر فرمایا:
” میرے ماں باپ آپ پر قربان ! اللہ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا ، جو وفات آپ پر لکھ دی گئی تھی وہ آچکی ہے۔‘‘ ( خاتم النبیین ﷺ الشيخ ابوزہرة : ص 1489)
اس کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حجرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے باہر تشریف لائے اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جذبات سے مغلوب لوگوں سے محو گفتگو تھے ، سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے آواز لگائی اور کہا کہ ’’عمر بیٹھ جاؤ۔ ‘‘
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا ، ادھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی جانب متوجہ ہوئے، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
“مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدَ مَحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدَ اللهُ فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمْوَت قَالَ الله: ﴿ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ ﴾
’’اما بعد!تم میں سے جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، وہ جان لے کہ محمدﷺ کی وفات ہو چکی ہےاور تم میں سے جو شخص اللہ کی عبادت کرتا آیا ہے تو یقیناً اللہ زندہ رہنے والا ہے، کبھی نہیں مرے گا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
محمد ﷺ نہیں ہیں، مگر رسول ہی، ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، تو کیا اگروہ محمد وفات پا جائیں یاوہ قتل کر دئیے جائیں تو کیا تم لوگ اپنی ایڑی کے بل پلٹ جاؤ گے؟ اور جو شخص اپنی ایڑی کے بل پلٹ جائے تو ( یادر کھے کہ ) وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو جزا دے گا۔‘‘
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس خطاب کو سن کر یقین آگیا کہ واقعی آپ ﷺ وفات پاچکے ہیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ’’اللہ کی قسم! لوگوں نے جانا ہی نہ تھا کہ اللہ نے یہ آیات نازل فرمائی ہے، یہاں تک کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت فرمائی تو سارے لوگوں نے ان سے یہ آیت اخذ کی اور اب جس کسی انسان کو میں سنتا ہوں تو اسی کی تلاوت کر رہا تھا۔ ‘‘
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
”واللہ ! میں نے جوں ہی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا، انتہائی متحیر اور دہشت زدہ ہو کر رہ گیا، حتی کہ میرے پاؤں مجھے اٹھا ہی نہیں رہے تھے اور حتی کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سن کر میں گر پڑا، کیونکہ میں جان گیا تھا کہ واقعی نبی ﷺ کی وفات واقع ہو چکی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
وفات نبوی ﷺ کے بعد کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت اوسط بن عمر ورحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کے ایک سال بعد مدینہ تشریف لایا، میں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے ، انہوں نے کہا:
“قَامَ فِينَا رَ سَوْلَ اللهِ ﷺ عَامِ الأَوَّلِ فَخَنَخْتَهُ العَنَزَةَ ثَلاثَ مِرَارِثَمَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسِ : سَلُو اللهَ المُعَافَاةَ … الخ .”
”رسول اللہ ﷺ گزشتہ سال ہمارے درمیان کھڑے ہوئے یہ کہہ کر ان کی آواز آنسوں کی وجہ سے بند ہوگئی، تین بارایسے ہی ہوا بالآخر کہا: لوگو! اللہ سے عافیت کا سوال کرو…الخ ۔‘‘ (مسند احمد : 12180)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا غم
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک جب آپ ﷺ کی وفات مبارکہ کی خبر پہنچی، تو آپ کے غم کا یہ عالم تھا کہ ان کے اوسان قطع ہو گئے، کھڑے ہو کر بآواز بلند کہنے لگے :
” کچھ منافقین سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺکی وفات نہیں ہوئی بلکہ آپ اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں، جس طرح موسی بن عمران علیہ السلام تشریف لے گئے تھے اور اپنی قوم سے چالیس رات غائب رہ کر ان کے پاس پھر واپس آگئے تھے، حالانکہ واپسی سے پہلے کہا جارہا تھا کہ وہ انتقال کر چکے ہیں۔ اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ ضرور پلٹ کر آئیں گے اور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے جو سمجھتے ہیں کہ آپ کی وفات واقع ہو چکی ہے۔ ‘‘ (سیرت ابن ہشام )
اور اور روایت میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے غم کا اظہار یوں نقل کیا گیا کہ
”وفات النبی کی خبر سنتے ہی فاروق اعظم کے اوسان خطاء ہو گئے، انہوں نے اپنی تلوار تھام لی اور ببانگ دہل یہ اعلان کیا کہ
اللہ کی قسم ! جو بھی یہ کہتا ہے کہ محمدﷺ وفات پاچکے ہیں، اللہ کی قسم ! میں اس کی گردن کاٹ دوں گا۔‘‘ ( خاتم النبیین ﷺ الشيخ ابوزہرة: ص 1489)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا غم
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ پر اتنا شدید غم تھا کہ وہ گم سم ہو گئے، کسی کی طرف کوئی دھیا نہیں رہا، غم سے نڈھال ایک مکان کے سائے میں بیٹھ گئے وہ خود اپنا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں :
”جب نبی کریم ﷺکی وفات ہوئی تو بعض صحابہ کرام پر اس کا شدید اثر ہوا اور قریب تھا کہ ان میں سے بعض کی حالت غیر ہو جاتی، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
”میں بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھا، میں ایک مکان کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میرے سامنے سے گزرے، انہوں نے مجھے سلام کیا لیکن مجھے ان کے گزرنے اور سلام کرنے کا علم ہی نہ ہوا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر حضرت ابو بکر صدیق رضی ا اللہ عنہ سے اس کی شکایت کی اور کہا:
کیا یہ بات آپ کے لئے تعجب انگیز نہیں کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا اور سلام کیا لیکن انہوں نے سلام کا جواب تک نہیں دیا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہو چکے تھے وہ دونوں میرے پاس آئے دونوں نے مجھے سلام کیا ، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا :
تمہارے بھائی عمر رضی اللہ عنہ نے میرے پاس آکر شکایت کی کہ وہ تمہارے پاس سے گزرے اور سلام کیا مگر آپ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا اس کی کیا وجہ تھی؟ میں نے عرض کیا: میں نے ایسا کیا ہی نہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :
کیوں نہیں؟! اللہ کی قسم! میں نے سلام کیا ہے، اور آپ نے جواب نہیں دیا ، اے بنو امیہ!یہ تمہار متکبرانہ عادت ہے میں نے عرض کیا :
اللہ کی قسم مجھے تو پتہ ہی نہیں ہے کہ آپ میرے پاس سے گزرے ہوں یا سلام کیا ہو ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا :
عثمان رضی اللہ عنہ درست کہتے ہیں آپ کو رسول اللہ ﷺ کی جدائی کا غم تھا اسی لئے آپ ادھر توجہ نہیں دے سکے، میں نے بھی کہا :
جی ہاں حقیقت ایسے ہی ہے : انہوں نے کہا
: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا:
”اللہ تعالی نے اپنے نبی کو وفات دے دی اور ہم آپ سے یہ تو دریافت ہی نہیں کر سکے کہ قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے نجات کیسے ہوگی ؟؟۔۔۔۔الخ ۔ (مسند احمد : 118037)
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا غم
حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ جو آپ کے چچا تھے ان کے غم کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی جدائی کے دن یاد کرتے ہوئے بار بار رو پڑتے اور آنسو رواں دواں ہو جاتے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا غم
خادم رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے غم کا یہ عالم تھا کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
’’ جس دن رسول اللہ ﷺ ہمارے یہاں تشریف (یعنی مدینہ ) لائے اس سے بہتر اور تابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا اور جس دن آپ ﷺنے وفات پائی اس سے قبیح اور تاریک دن بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ (نقوش سیرت ، اسلم شاد عمری : 225)
ایک اور روایت میں ہے کہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے غم سے نڈھال ہو کر کہا:
” ایک دن نبی نے مدینہ کو روشن کر دیا اور ایک دن مدینہ کو تاریک کر دیا ۔ ‘‘
روشن کب کیا؟ جب ہجرت کر کے مدینہ میں داخل ہوئے ، اس دن یہ منور تھا، روشن تھا اور تاریک کب ہوا جب اللہ کے نبیﷺ وفات پاگئے ۔ (صحیح ترمذی : 3618)
اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :
“وَمَا نَفَضْنَا أيدينا عن التراب وإِنَّا فِيْ دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرنَا قُلُوْبِنَا.”
ہم نے نبی ﷺ کو دفن کر کے اپنے ہاتھ جھاڑے، ہم ان کی تدفین ہی میں تھے ۔ تو ہمیں اسی وقت اپنے دلوں کی حالت بدلی ہوئی محسوس ہوئی ۔ ( سنن ابن ماجہ 1631 ؛ مسند احمد 13830؛ صحیح السيرة النبویہ: ص 729 ؛ السيرة النبویۃ اللصلابی 892،اس ضمن میں مختلف روایات ہیں )
حضرت بلال کا غم
رسول اللہ ﷺ کی وفات پر مؤذن رسول سیدنا بلال کے غم کی کیفیت کو سیرت نگاروں نے مختلف انداز میں ذکر کیا ہے اس میں بعض روایات معتبر ہیں اور بعض روایات غیر معتبر ہیں کہا جاتا ہے کہ
’’رسول اللہ ﷺکی وفات کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دینا ترک کر دیا ان سے پوچھا گیا کہ
”اے بلال رضی اللہ عنہ! تم نے اذان دینا کیوں چھوڑ دیا ہے تو بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
”اب : ”أشهد أن محمد الرسول اللہ کہہ کر کس کے چہرہ پر انوار کو دیکھوں گا ۔‘‘
اسی طرح بعض روایات میں یہ بات آئی ہے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کے مغموم ہو کر مدینہ طیبہ سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ وفات رسول کے بعد مدینہ کی گلیوں میں لوگوں سے پوچھتے پھرتے تھے کہ کیا تم نے کہیں نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے۔‘‘
اس سلسلے میں ایک واقعہ منقول ہے کہ سعید بن عبد العزیز اور ابن جابر کہتے ہیں کہ
”حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے بعد کسی خلیفہ کے لئے اذان نہیں کہی، کیونکہ وہ جہاد کے ارادے سے جانا چاہتے تھے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں مدینہ میں قیام کے لئے روکا اور مدینہ میں مقیم ہونے کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا کہ اگر آپ نے مجھے اس لئے آزاد کیا تھا تو مجھے جہاد سے مت رو کئے، اگر آپ نے مجھے اس لئے آزاد کیا تھا تو میں مدینہ میں رک جاتا ہوں تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو مدینہ سے سفر کرنے کی اجازت دے دی تو وہ ملک شام مقیم ہو گئے یہاں تک کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملک شام کے جابیہ تشریف لائے تو مسلمانوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمائش کی کہ
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے کہیں کہ
وہ اذان دیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اذان دینے کو کہا تو بلال رضی اللہ عنہ نے اہل شام کے لئے ایک دن یا ایک نماز کے لئے اذان دی۔
راوی کہتے ہیں کہ اس دن سے زیادہ لوگوں کو روتا ہوا نہیں دیکھا جب انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنا اور اس سے پھر انہیں نبی کریم ﷺ کا زمانہ یاد آ گیا۔‘‘ (تاریخ الأوسط للبخاری : 165 ؛ الزهد لابی داؤد، من خبر بلال : ص : 238،رقم الحديث : 262)
صحابہ كا تادیر غم
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب بعض صحابہ کرام رضی الله عنہم پر کوئی ایسا واقعہ پیش آتا جس کا تعلق نبی کریم ﷺ سے ہوتا تو وہ نبی کریم ﷺ کو یاد کر کے اشکبار ہو جاتے تھے ایسا ہی ایک معتبر واقعہ منقول ہے کہ
جب خلافت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں حضرت موذن رسول بلال رضی اللہ عنہ ملک شام تشریف لے گئے تو وہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے اذان دینے کی فرمائش کی اس فرمائش کی تعمیل میں آپ نے اذان دی تو اس وقت موجود صحابہ کرام نے عہد نبوی ﷺ یاد کر کے اشکبار ہوئے۔‘‘
لیکن افسوس کہ مسلمانوں کو صحابہ کا یہ غم یاد نہ رہا انہوں نے 12؍ ربیع الاول کو خوشی ، جشن اور کھیل کود، تماشہ بازی کا دن بنالیا ہے۔ اے مسلمانوں!غور کرو اور اپنے ایمان و عمل کا جائز ہولو، اللہ تعالیٰ ہم سب کو غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
وآخر دعوانا عن الحمد لله رب العالمين
٭٭٭
شرک کالی چیونٹی سے بھی زیادہ مخفی
سیدنا معقل بن یسار کہتے ہیں :
میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا.
آپ ﷺ نے فرمایا :
اے ابو بکر شرک لوگوں کے اندر کالی چیونٹی کی طرح چھپا ہوا ہے۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :
کیا اللہ تعالی کے ساتھ کسی دوسرے کو الہ ماننے کے علاوہ بھی کوئی عمل شرک ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
قسم ہے اس ذات کی جس قبضے میں میری جان ہے، شرک کالی چیونٹی سے بھی زیادہ مخفی ہے۔
کیا میں تمہیں بتاؤں ایسی دعا جس کی بدولت تم چهوٹے اور بڑے ہر شرک سے محفوظ رہ سکتے ہو۔
تم کہا کرو :
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لا أَعْلَمُ
اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں جان بوجھ کر شرک کروں اور تجھ سے معافی مانگتا ہوں، اس شرک سے جسے میں انجانے میں کروں۔
رواه البخاري في الأدب المفرد (739)، وصححه الألباني)
٭٭٭
نفاق کا خشوع
علامہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا :
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے :
خبردار رہو، تم نفاق کا خشوع نہ کرنا۔ لوگوں نے پوچھا:
نفاق کا خشوع کیا ہے؟
فرمایا :
نفاق کا خشوع یہ ہے کہ بدن پر خشوع طاری ہو اور دل غافل ہو. اس پر خشوع کا اثر نظر نہ آئے۔
(مدارج السالكين : 1؍517)
٭٭٭
اپنے گهروں کا جائزہ لیجئے
ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فكلما كان أهل البيت أكثر قراءة للقرآن، وأكثر مذاكرة للأحاديث، وأكثر ذكرا لله وتسبيحا وتهليلا، كان أسلم من الشياطين وأبعد منها.
وكلما كان البيت مملوءا بالغفلة، وأسبابها من الأغاني والملاهي والقيل والقال، كان أقرب إلى وجود الشياطين المشجعة على الباطل.
’’جس گھر والے جتنا زیاده قرآن پڑهیں گے، پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مذاکرہ کریں گے اور اللہ کے ذکر و اذکار ميں مصروف رہیں گے وه گھر اتنا ہی زیادہ شیطان سے دور اور ان کی آفات و شرور سے محفوظ رہے گا۔
اس کے بر عکس جس گھر والے جتنا زیادہ اللہ کے ذکر و اذکار سے غافل و لاپرواہ ہوں گے یعنی گانے بجانے، لہو و لعب اور قیل و قال میں مصروف رہیں گے اس گھر ميں اتنا ہی زیادہ شیطانوں کا بسیرا ہوگا۔
(الفوائد العلمية من الدروس البازية: 1؍142)
٭٭٭
تبصرہ کریں