جاوا کے دن اور جاوا کی راتیں (قسط1)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

عنوان میں اختصار ملحوظ ہے وگرنہ میں یہ کہنا چاہتا تھا :

انڈونیشیا کے دن اور انڈوند نیشیا کی راتیں

کہاں لندن اور کہاں جا کرتا !! باعتبار وقت جاکرتا ہم سے چھ گھنٹے آگے ہے اور بطور مسافت کوئی چودہ پندرہ گھنٹے کا فضائی سفر، وہ بھی اگر ڈائرکٹ ہو وگرنہ اگر ایک اسٹاپ بھی بیچ میں آن پڑے تو اس میں دو پروازوں کے درمیان کا وقفہ بھی شامل کر لیں ، وہ دو گھنٹے کا بھی ہو سکتا ہے بلکہ اسے بھی زیادہ ۔

مناسبت سفر ایک جوڑے کے ملاپ کی حسین تقریب تھی ۔

اُسید حسن میرے پوتے ہیں، میرے صاحبزادے اسامہ کے بیٹے ، سلمیٰ احمد ان کی والدہ ہیں اور پروفیسر خورشید احمد ہے ان کے نانا ۔

جا کرتا کی ڈاکٹر فرح عائشہ نے انگلینڈ میں اپنی تعلیم کا آخری سال مکمل کر لیا تھا۔ منگنی پچھلے سال ہو چکی تھی۔ اب تقریب نکاح کی مناسبت سے جا کرتا یاترا کی نوبت آئی۔

میرا جانا اس لئے بھی ضروری ٹھہرا کہ عزیزم اسامہ کے لئے اپنے علاج کے باعث فضائی سفر ناسازگار تھا ، اس لئے وہ اپنے بڑے صاحبزادے زید کے ہمراہ گھر ہی سے تمام تقریب میں براہ آن لائن شریک رہے۔

5؍ا گست (2026ء) کی شام ہمارے سفر کا آغاز ہوا ۔ لندن سے ابو ظہبی سات گھنٹے اور پھر وہاں دو گھنٹے کے انتظار کے بعد اتحاد کی دوسری پرواز سے جا کرتا آٹھ گھنٹے کی اڑان تھی جو سوتے جاگتے ، کچھ کتاب کی رفاقت کا حق ادا کرتے اور کچھ سیٹ کے سامنے ان ڈور اسکرین پر عربی انگریزی خبر ناموں ، تصویری حکایتوں اور جہاز کے رُوٹ کے مشاہدے میں گزری۔

روٹ (یعنی گزرگاہ پرواز) کے ذکر سے یہ بات عیاں ہوئی کہ ان دنوں آبنائے ھر مز میں جنگی کیفیات کی بنا پر لندن سے اُڑان لیتی ہوئی پرواز نے بجائے ترکی اور بحر اسودکی فضا کو اختیار کرنے ، اٹلی، مصر اور پھر سعودیہ کی فضا میں جھولتے ہوئے ابوظہبی کی راہ لی اور دوبارہ جب جاکرتا کا قصد کیا تو مسقط سے کنارہ کشی کرتے ہوئے پہلے تو سرزمین عمان کو شروع سے آخر تک پار کیا کی اور پھر بحر ہند کی فضائے بسیط میں اپنا سفر جاری رکھا اور اگر ابوظہبی سے جاکرتا ایک سیدھی لکیر کھینچی جائے تو پھر جہاز کی گزر گاہ میں گوا، بنگلور، چنائی (مدراس) کی فضا آجاتی ہے اور وہاں سے نکلتے ہی دوبارہ بحر ہند آ لیتا ہے اور پھر ایک طویل مسافت کے بعد انڈونیشیا کے اولین جزیرے سو مطرہ کے نقوش ابھرتے نظر آ ہیں جن کے ختم ہو ہی جہاز جاکرتا جا پہنچتا ہے جو جزيرہ جاوا کا نقطہ آغاز ہے ۔

آٹھ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد ہم جاکرتا کے وسیع و عریض ائیر پورٹ کی وسعتوں کو ناپتے ہوئے ، امیگریشن کے مراحل سے گزرتے ہوئے بالا خر اس ہال میں پہنچے جہاں ہم نے اپنا سامان وصول کرنا تھا ۔ خیال رہے کہ پچھلے دو تین سالوں سے بوجہ کبر سنی اور ٹانگ کے درد کی بنا پر تمام اسفار میں وھیل چیئر کی خدمات حاصل کرتے رہے ہیں جو ہم دونوں میاں بیوی کے لئے ائیر پورٹ کی راہداریوں کے طویل فاصلے قریب لے آتے ہیں۔ دستیابی سامان کا ہال ایک اچھا خاصا میوزیم معلوم ہوتا تھا ، بالائی دیوار انتہائی بلند اور سبزے سے ڈھکی ہوئی ، دوسری طرف کی دیوار کا بالائی حصہ 3D کی تصویر کشی کے باعث گھنے جنگلوں ، طرح طرح کے متحرک جانوروں اور خوبصورت مناظر کو پیش کر رہا تھا۔ میں نے دنیا جہاں کے ائر پورٹ دیکھے ہیں لیکن ایسے جاذب نظر منظر کم ہی دیکھے ہیں!!

مرکیور ہوٹل: مہمانان شادی خانہ آبادی نے اپنے قیام کا انتظام جنوبی جاکرتا کے مرکیور ھوٹل میں کر رکھا تھا ۔ ہمارا کمرہ 28 ویں منزل پر تھا ۔ کمرے کی دبیز چابی پہلے لفٹ کو حرکت میں لاتی تھی تو بعد ازاں کمرے کے دروازے کو ۔ اگلے سات دن کے لئے یہ ھوٹل ہمارا مستقر ٹھہرا۔ ہوٹل کے ہر دو اطراف میں فراخ سڑکیں ہیں ، میڑو ( METRO) بس کی خصوصی گزرگاہ اور اسٹیشن ہیں اور پھر لوکل ریلوے ایک بالائی پل پر اپنا راستہ طے کرتی نظر آتی ہے۔ ہمارا کمرہ ہوٹل کے صدر دروازے کی سمت میں نہیں ، بلکہ عقبیٰ جہت میں تھا ، یہاں ایک خصوصیت ہمیں حاصل رہی جو دوسری طرف کے مکینوں کو حاصل نہ تھی۔

اول تو یہ کہ 28 ویں منزل سے ہمیں یہ علاقہ دور دور تک نظر آرہا تھا ۔ مکانات گوبے ترتیب ہی سہی لیکن جا بجا سر اونچا کیے مینار اللہ کے گھروں کی نشاندہی کر رہے تھے۔ جاکرتا بلند و بالا عمارتوں کا شہر ہے ، وہ عمارتیں جنہیں ٹاور کا نام دیا جاتا ہے، ایک تو بالکل ہمارے سامنے تھے ،Allo Bank کی عمارت جو ہمارے ہوٹل کے متوازی اور غالباً اتنی ہی بلند تھی اور کچھ دور پرے جو فضا میں آلودگی کی بنا پر کبھی صاف اور کبھی مدھم نظر آتی تھیں ۔

دوسری یہ کہ صبح ساڑھے چار بجے سے مساجد کے میناروں سے گنگناہٹ شروع ہو جاتی تھی ، کچھ اوراد اور کچھ قراءت قرآن کی آواز ، پھر پونے پانچ بجے سے فجر کی اذان کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا ، پھر قراءت فجر اور بعد کے اور اد جو سوا پانچ تک جاری رہتے ۔

ہوٹل کی دوسری جانب مرکزی شاہراہ گزرتی ہے اس لئے وہاں ٹریفک کا شور گاڑیوں ، ٹرین اور بسوں کی گڑگڑاہٹ ندائے آسمانی کے سماع سے حائل رہتی ہے۔ خیال رہے کہ انڈونیشیا کے دو بڑے جزیروں سومطرہ اور بورنیوسے خط استواء گزرتا ہے، جاکرتا جنوب میں صرف 6فیصد درجے کی مسافت پر ہے۔ اس لئے یہاں سارا سال دن رات کا دورانیہ برابر رہتا ہے۔ سورج چھ بجے کے لگ بھگ طلوع ہوتا ہے اور پھر چھے بجے شام غروب ہو جاتا ہے اور اس کے سوا گھنٹے بعد تک عشاء کی نماز ادا کر دی جاتی ہے۔ ایسا ہی تجریہ مجھے نیروبی کے نوسالہ قیام کے دوران بھی حاصل رہا کہ جس سے دن رات کی سرگرمیوں میں ایک نظم وضبط کی کیفیت رہی ۔ لندن جو خط استواء سے بجانب شمال 50 ڈگری عرض بلد کے لگ بھگ واقع ہے ، وہاں کا دن گرمیوں میں سولہ گھنٹے کی طوالت کو جاتا ہے اور سردیوں میں سکڑ کر آٹھ گھنٹے میں رخصت ہو جاتا ہے اور یوں اگر موسم گرما میں مغرب ساڑھے نو تک پہنچ جاتی ہے تو سردیوں میں شام چار بجے ہی اندھیرا چھا جاتا ہے، اس لئے نمازوں کی تقویم کی جتنی ضرورت لندن اور تمام شمالی علاقوں میں محسوس ہوتی ہے، وہاں استوائی خطے کے علاقے ان تمام تکلفات سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔

ہوٹل کی 17 ویں منزل پر تیراکی کا ایک تالاب اور جسمانی ورزش کے لئے ایک جم مکینان ھوٹل کے لئے صلائے عام کا نعرہ بلند کرتی ہے ۔ پانچویں منزل پر ریسٹوران ہے، جہاں ناشتے کے لئے تقریباً روزانہ حاضری دیتے رہے اور جہاں اس تقریب سعید کے دوسرے مہمانوں سے بھی ملاقات ہوتی رہی۔

اُسید کی ننہیال( تین ماموں اور دو خالائیں) مع اپنے بچوں اور ازواج کے لیسٹر اور اسکاٹ لینڈ سے اس تقریب کو دو آتشہ کر رہے تھے اور اُسید کی ددھیال (یعنی میری نسبت سے) ایک تایا اور ایک چچا (وہیب کیلی فورنیا سے اور مجاہد واشنگٹن سے) اور دو پھوپھیاں ( خولہ اور حفصہ لندن سے) آچکی تھیں ۔ حفصہ کے شوہر شہرالدین چونکہ ملیشیا سے ہیں ، لندن میں دوبارہ اقامت پذیر ہونے سے قبل کوالالمپور کے باسی رہے، اس لیے ان کا ملیشیا آنا جانا رہتا ہے اور اس مناسبت سے گویا انڈونیشیا ان کا پڑوس ہے اور اس لحاظ سے انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ حاضر ہو کر پڑوسی کا حق کر دیا ۔

مسجد استقلال : ہم جمعرات کی شام جاکرتا پہنچے تھے، جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لئے جاکرتا کی مرکزی مسجد ’جامع استقلال‘ کی زیارت ایک خوش نصیبی تھی۔ ہم گیارہ بجے صبح چند ٹیکسیوں میں سوار مسجد کے احاطے میں جمع ہو چکے تھے ۔ ایک ہجوم تھا جو مسجد کی طرف رواں دواں تھا۔ ساڑھے گیارہ بجے کے بعد سے کسی خطیب کی آواز مقامی بھاشا انڈونیشیا میں ہر طرف گونجنے لگی ۔ اندازہ یہی ہوا کہ یہ کوئی اضافی تقریر ہے ، جو خطبے کے لئے بطور تمہید دی جا رہی ہے۔ ہم کئی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد مرکزی ہال میں داخل ہوئے ، یہ ایک بہت وسیع گرانڈیل ہال تھا۔ سامنے ایک بڑی اسکرین پر تمام کاروائی آواز اور صورت کے ساتھ قابل دید اور قابل سماعت تھی ۔ غالباً کوئی اہم شخصیت مخاطب تھیں۔

موضوع انڈونیشیا کی آزادی (استقلال) سے متعلق تھا

اور مسجد استقلال میں اس کا بیان ہونا بالکل مناسب تھا ،ہم نے آتے وقت یہ مشاہدہ کیا تھا کہ جا کرتا کی اکثر سرکاری اور غیر سرکاری عمارتیں سرخ و سپید رنگ کی حامل جھالروں سے ایک جاذب نظر منظر پیش کر رہی تھیں۔

81 کا عندیہ اس زینت کا مرکزی نشان تھا ۔ انڈونیشیا کو 17 اگست 1945 میں آزادی ملی ، ایک طرف دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی اور انڈونیشیا اور ملحقہ ممالک میں جاپان نے ہتھیار ڈالے اور یوں اس ملک کو ولندیزی استعمار سے چھٹکارا حاصل ہوا ۔ اس لحاظ سے یہ آزادی کی 81 ویں سالگرہ تھی ۔ خطیب محترم کی تقریر کا ایک لفظ بھی ہمارے پلے نہیں بڑا لیکن آواز کی اٹھان اور شخصیت کی آن بان بتا رہی تھی کہ موضوع خطاب آزادی ہی سے متعلق ہے اور پھر جب اذان کے بعد خطیب مسجد خطبے کے لئے تشریف لائے تو انہوں نے بھی وطن سے محبت اور آزادی کی برکتوں کو اپنے خطبے کا عنوان بنایا۔ نماز کے لئے علیحدہ سے امام تھے جو مصلے پر اپنی باری کے منتظر تھے۔ انہوں نے بھی نماز کی دورکعتوں میں پہلے سورت الانبیاء اور پھر سورہ سبا کی آیات ( بلدة طيبة ورب غفور) کی تلاوت سے بھی وہی پیغام دینا چاہا جو پہلے دونوں خطباء کی طلاقت لسانی سے ادا ھو چکا تھا :

اس مسجد کے بارے میں اگر اہل انڈونیشیا فخریہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جنوب مشرقی ایشیاء کی سب سے بڑی مسجد ہے تو تعجب نہ ہوگا ۔ ہمیں اپنی بادشاہی مسجد (لاہور) پر ناز ہے ، بادشاہی مسجد اپنے وسیع و عریض صحن کے اعتبار سے تو عظیم ہے لیکن لیکن اگر اس کی مکانیت کا مسجد استقلال سے موازنہ کیا جائے تو یقیناً مسجد استقلال بازی لے جائے گی۔ کچھ تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ایسا ہی ہے۔

بادشاہی مسجد کا کل رقبہ 2564مربع میٹر ہے ، چھتے حصے میں دس ہزار اور کھلےصحن میں ایک لاکھ نمازیوں کی گنجائش ہے، مسجد استقلال کا بیشتر حصہ چھتا ہوا ہے ، جس کا رقبہ 80,948 مربع میٹر ہے اور مسجد کے مرکزی ہال راہداریوں بشمول کھلے حصے کے ، دو لاکھ نمازیوں کی گنجا ئش رکھتے ہیں۔

ہم مسجد کے باہر ایک چبوترے کا سہارا لئے آنے جانے والوں کا مشاہدہ کرتے رہے، محسوس ہوا کہ ہمارے گروپ کے اجنبی چہرے یہاں کے باسیوں کے لئے زیادہ قابل توجہ دکھائی دیتے ہیں،چند نے سلام سے بھی نوازا اور کئی متجسس نظروں کے ساتھ پاس سے گزرتے گئے۔

ایک رفیق سفر نے کہا کہ سامنے اس ملک کا سب سے بڑا کیتھیڈرل ہے ، کیوں نہ اس پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ چنانچہ ہم ہجوم میں اپنا راستہ بناتے ہوئے ، سڑک کو احتیاط سے عبور کرتے کراتے کنیسہ کے احاطہ تک پہنچ گئے ۔ یہ رومن کیتھولک عیسائیوں کا سب سے بڑا چرچ تھا، جس کی تاریخ ولندیزی استعمار کی قدامت کی نشاندہی کر رہی تھی ،

ہم اندر داخل ہوئے مجسموں کے درمیان ایستاده بنچ زائرین کے منتظر تھے ، ہماری طرح کئی سیاح اور زائرین آئے ۔ چند لمحے اندرون کنیسہ کی تصویروں کو اپنے کیمروں میں محفوظ کرتے رہے اور پھر چل دیئے ۔ ہمیں کنیسہ کا اندرونی ماحول ہر جگہ یکساں نظر آیا ۔ جا بجا مجسمے چھت اور دیواروں پر مسیح علیہ السلام ! اور ان کے حواریوں کی تصاویر ، مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی موم بتیوں کا جھرمٹ !!

کہاں مسجد استقلال کی گہما گہمی اور کہاں اس کنیسہ کی تنہائی اور ویرانی !!

دروازےسے متصل دیوار پر چند الواح ثبت تھیں ۔ ایک میں تعارف تھا، اس پہلے پادری کا جس نے اپنی ساری زندگی عیسائیت کی خدمت میں گزار دی اور اُس کا جس نے اس عبادت گاہ کو کھڑا کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

مسجد اور اس کے بالمقابل کنیسہ کا منظر ہمیں استانبول کی یاد دلا گیا ۔ وہ جگہ جو روزانہ ہزارہا زائرین کو کھینچے کھینچ کر لاتی ہے ۔ نیلی مسجد (یا مسجدسلطان احمد ) اور اس کے بالمقابل باز نطینی عیسائیت کا مرکز اولین ’آيا صوفیہ‘ گواب ا سے بھی مسلمان کر لیا گیا ہے اور مسجد کی حیثیت دے دی گئی ہے لیکن اس کی بناوٹ اور تاریخ اس کے اصلی خدو خال کو بخوبی ظاہر کرتی ہے ۔

ذرا فاصلے پر یاد گار (MONUMENT) کی بلند و بالا عمارت یا لاہور مینار پاکستان کی مانند ایک انتہائی اونجا مینار سیاحوں کے لئے کشش کا باعث بنتا ہے، مینار کے چہار اطراف میں درختوں سے گھرا ہوا ایک وسیع پارک ہے۔ جو تھکے ہارے شہریوں اور سیاحوں کے سستانے کے لئے اپنی آغوش و اکیے رکھتا ہے ۔

مضافات بکاسی (BIKASI ) : ہمیں بتایا گیا کہ آج کی شام گھر کے چند محدود افراد فرح کے والدین سے ملاقات کرنے اور ’ بری‘ کے تحفے تحالف دلہن کے گھر پہنچانے کے لئے ان کی رہائش کا رخ کریں گے۔ ہم ایک ٹیکسی میں جاکرتا سے متصل ڈسٹرکٹ ’بکاسی ‘ کا قصد کر رہے تھے ۔

جو نہی جا کرتا کی وسیع و فراخ شاہراہ کا راستہ چھوڑا تو ہم ویسی ہی تنگ اور موٹر سائیکلوں کے ھجوم در هجوم سے بھر پور اور ذیلی سڑکوں میں آ داخل ہوئے ، جہاں دکانوں کا انداز وہی تھا جو پاکستان کے بڑے شہروں سے متصل آبادی میں ہوتا ہے ، موٹر بائیک کے ذکر سے یاد آیا کہ جا کرتا بلکہ انڈونیشیا میں کہیں بھی چلے جائیں۔ یہ سواری اس کثرت سے ملے گی کہ سٹرک کا پار کرنا محال ہوگا ۔ میں سونامی کے بعد ایک دفعہ بندا آچے (جزيرہ سومطرہ) کا دورہ کر چکا ہوں جو ایک چھوٹا سا شہر ہے لیکن وہاں بھی اس برقی ٹرانسپورٹ کا بازار سرگرم ہے ۔ ایک حوالے سے معلوم ہوا کہ صرف جا کرتا میں موٹر بائیک کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز ہے ۔جب کہ پرائیویٹ رجسٹرڈ موٹروں کی تعداد تین لاکھ 37 ہزار ہے ۔

ہم اپنے میزبان کے گھر پہنچے ، چار افراد ( دو بہنوں اور ماں باپ ) پرمشتمل ایک متوسط گھرانہ !! باپ انجینئر ہیں ۔ دونوں بیٹیوں کو یونیورسٹی تک تعلیم دلائی اور اب ایک بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو رہے ہیں ۔ محلے کی مسجد میں مغرب کی اذان بلند ہوئی ، ہم تینوں مرد (بشمول حُمید، اسامہ کے چھوٹے صاحبزادے ) مسجد میں با جماعت نماز کی ادائیگی سے سرشار ہوئے ، لوح مسجد پر ’مسجد المجاہدین‘ کا نام ثبت تھا۔ ہمارے میزبان نے کہا کہ الحمد للہ اس مسجد سے قدیمی رشتہ ہے اور پانچوں نمازیں ادا کرنے کی سعادت حاصل رہتی ہے۔

عشائیہ کے لئے انہوں پونے گھنٹے کی مسافت پر ’آستانہ‘ ریسٹوران میں بکنگ کرا رکھی تھی، ایک صاف ستھرا بڑا سا ریستوران ، کھانا پیش کرنے کا انوکھا انداز دیکھا۔ ایک ٹرالی میں ہر صنف کے کھانے کی ایک ایک پلیٹ باریک ورق سے ڈھکی ہوئی ہمارے سامنے میز پر ڈھیر کر دی گئی، جب پلیٹ کے ورق کو ہٹا کر چکھ لیا وہ حساب میں لکھی گئی اور جسے نہ دیکھا وہ باحفاظت واپس کر دی گئی ۔ کھانا انڈونیشین مذاق کے مطابق تھا لیکن ہمیں بھا گیا ۔ والحمد لله

بروز ہفتہ کا ظہرانہ : میرے صاحبزادے وھیب نے باہر سے آئے ہوئے تمام مہمانوں (جن میں اُسید کی ددهیال اور ننھیال شامل تھے) کے لئے ظہرانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ ہم بارہ بجے تک ’اُمانیہ‘ ریستوان پہنچ گئے تھے۔ ریسٹورانٹ کیا تھا، انڈونیشین موسم اور ماحول کا حسین مرقع تھا۔ رنگ برنگی مچھلیوں سے بھر پور ایک تالاب کے گرد چند لکڑی کے احاطے تھے، جن میں ایک ایک پارٹی جہاں کام و دھن کی لذت کے مزے اڑاتی وہاں تالاب کی خنکی اور مچھلیوں کی دید سے بھی لطف اندوز ہوتی۔ تالاب کے پرلے سرے پر ایسا ہی لکڑی کا ایک بڑا ھال تھا، جہاں بڑے پیمانے پر ضیافت اور اس کے لوازمات مہیا تھے ، یہاں پچاس پچین افراد کی ہماری جماعت کے اکثر افراد حاضر تھے ، جن میں میرے داماد شہر الدین کے والد زین الدین خاص طور پر کوالا لمپور سے تشریف لاتے تھے۔ یہ تالاب پودوں اور پھولوں سے یوں گھرا ھوا تھا جسے جنگل میں منگل کا سماں ہو ، ہمارے اس دو منزلہ ہال کی چھت سے پانی اس تیزی اور دھمک کے ساتھ گر رہا تھا، جیسے برسات کا سماں ہو۔ ایک لمحے تو میں یہی سمجھا کہ شدید بارش ہو رہی ہے لیکن پھر احساس ہوا کہ یہ بارش بھی غالباً ضیافت ہی کا ایک حصہ ہے ، پانی کی یہ رم جھم نہ صرف ہمارے ہال کی چھت سے بلکہ تالاب کے دوسری طرف اس چھت سے بھی جاری تھی، جہاں سے ہم داخل ہوے تھے۔ ماحول مسحور کن تھا ۔ موبائل کے کیمرے ان مناظر کو اپنے اندر سمو لینے کے لئے بے تاب تھے، انڈونیشی کھانوں میں ابلے ہوئے سفید چاول لازم ہیں اور پھر اس کی صحبت میں سوشی ، انواع و اقسام کی مچھلی ، نوڈلز وغیرہ میز کی رونق کو دوبالا کرتے ہیں۔ ہال سے نکلتے وقت مصلے کا نشان دیکھا تو ظہر اور عصر کی نماز باجماعت ادا کرنے کی توفیق حاصل ہونے پر اللہ کا شکریہ ادا کیا ۔ (جاری ہے)

تبصرہ کریں