
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا ۚ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا ۚ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَن تَعْتَدُوا ۘ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (سورۃ المائدہ: 2)
’’اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، خدا پرستی کی نشانیوں کو بے حرمت نہ کرو، نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کرلو، نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ ان جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں ، نہ ان لوگوں کو چھیڑ وجو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مکان محترم (کعبہ) کی طرف جارہے ہوں ۔ ہاں احرام کی حالت ختم ہو جائے تو شکار تم کر سکتے ہو اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کر دیا ہے تو اس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو نہیں! جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو، اس کی سزا بہت سخت ہے۔‘‘
خدا پرستی کی کئی کئی نشانیاں ہیں جن کی تعظیم ہر مسلمان پر ضروری ہے۔ آیت مبارکہ میں یہ لفظ یوں ادا کیا گیا ہے: ﴿ لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ ﴾ اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو ۔ در اصل یہ لفظ شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں: ” علامت‘‘، یعنی آنکھوں سے دیکھے جانے والی چیزیں اور محسوس کی جانے والی باتیں وغیرہ۔ اللہ تبارک تعالیٰ یہاں پر جن شعائر کی طرف اہل ایمان کو متوجہ فرمارہے ہیں، یہ شعائر حج سے متعلق ہیں غرض کہ شعائر اللہ کے احترام کے عام حکم دینے کے بعد آگے کے فقرے میں چند خاص شعائر کا نام لیکر ارشاد ہو رہا ہے:
﴿وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ﴾ ’’نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کر لو۔‘‘ سال کے کل مہینوں کی تعداد 12 ہے جن میں کے 4 مہینے ادب والے ہیں:
1۔ ذوالقعدہ 2۔ ذی الحجہ 3۔محرم 4۔ رجب
جیسا کہ سورۃ التوبہ کی آیت 63 میں ارشاد ہوا ہے، فرمایا:
﴿مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ﴾
اور ان میں چار مہینے حرام ہیں یعنی ادب کے ہیں۔ تفاسیر کے مطالعہ سے ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ مذکورہ 4 مہینوں کا ادب و احترام سيدنا ابراہیم کے زمانے سے ہی چلا آرہا ہے اور اسلام کے ظہور میں آنے سے ایک عرصہ قبل تک بھی لوگ ان مہینوں کا لحاظ کرتے رہے اور ان مہینوں میں نہ جھگڑا کرتے اور نہ ہی خونریزیاں ہوا کرتیں لیکن عرب کی جہالت جب اپنی انتہا کو پہنچ چکی تو لوگوں نے ان ادب والے مہینوں کا پاس و خیال رکھنا چھوڑ دیا اور خود ساختہ طریقے پر عمل کرتے ہوئے ’’نسی“ کی رسم نکالی گئی، اور جب چاہتے حرمت والے مہینوں کی ترتیب میں الٹ پھیر کرتے اور اللہ نے جن مہینوں کو ادب والےمہینے قرار دیا ہے اس کی نافرمانی کرتے ہوئے۔ ایک قبیلہ دوسرے پر چڑھائی کرتا اور کسی چیز کا انتقام لینا ہوتا تو لے لیتا۔ اس طرح اللہ تبارک تعالیٰ عرب کے ان جاہلانہ فکر وعمل سے اہل ایمان کو بچانے کیلئے حکم فرمارہے ہیں کہ
’’اے میرے پیارے بند و! ادب والےمہینوں کی بے حرمتی نہ کرو۔ ‘‘
قربانی کے جانور اور بے حرمتی
آیت مبارکہ میں تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ ان جانوروں پر ہاتھ ڈالوجن کی گردنوں میں نذر خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے باندھے گئے ہوئے ہوں۔ آیت مبارکہ میں قربانی کے جانوروں سے متعلق دو باتیں آئی ہیں:
1۔ وَلَا الْهَدَى ’ھدی‘ ایسے جانور کو کہتے ہیں جو قربانی کیلئے حاجی اپنے ساتھ حرم کو لے جاتے ہیں۔
2۔ وَلَا القَلائِدَ قلادہ کی جمع قلائد ہے اس طرح قلادہ کے معنی پٹے کے ہوئے غرض کہ حرم ( کعبۃ اللہ شریف ) کونذ رخداوندی کیلئے لے جائے جار ہے ان جانوروں کو نہ روکو، اور نہ ہی ان کے ساتھ دست درازی کرو جن کے گلوں میں فی اللہ راہِ اللہ کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں۔ مطلب یہ کہ ان قربانی کے جانوروں کو کسی سے چھینا جائے اور نہ ہی حرم شریف تک پہنچنے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی کی جائے۔
اس سلسلہ میں مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی فرماتے ہیں:
’’ جسے مختصر طور پر نقل کیا جاتا ہے وہ لکھتے ہیں کہ
1۔ شعائر اللہ سے مراد وہ تمام علامات یا نشانیاں ہیں جو شرک و کفر اور دہریت کے بالمقابل خالص خدا پرستی کے مسلک کی نمائندگی کرتی ہوں۔
2۔ یا درکھنا چاہئے کہ شعائر اللہ کے احترام کا یہ حکم اس زمانے میں دیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں اور مشرکین عرب کے درمیان جنگ بر پاتھی ، مکہ پر مشرکین قابض تھے، عرب کے ہر حصہ سے مشرک قبائل کے لوگ حج و زیارت کیلئے کعبہ کی طرف جاتے تھے اور بہت سے قبیلوں کے راستے مسلمانوں کی زد میں تھے۔ اس وقت حکم دیا گیا کہ یہ لوگ مشرک ہی سہی تمہارے ان کے درمیان جنگ ہی سہی مگر جب یہ خدا کے گھر کی طرف جاتے ہیں تو انہیں نہ چھیڑو، حج کے مہینوں میں ان پر حملہ نہ کرو، خدا کے دربار میں نذر کرنے کیلئے جو جانور یہ لئے جارہے ہوں ان پر ہاتھ نہ ڈالو کیونکہ ان کے بگڑے ہوئے مذہب میں خدا پرستی کا جتنا حصہ باقی ہے وہ بجائے خود احترام کا مستحق ہے نہ کہ بے احترامی کا۔ (تفہیم القرآن:1؍934؛ حاشیہ : 5)
قربانی کے جانور اور تعظیم
امام ابن کثیر نے ( رواہ اہل السنن ) کے حوالے سے یوں تحریر فرمایا ہے کہ نبی کریمﷺ جب حج کیلئے نکلے تو آپﷺ نے وادی عقیق یعنی ذوالحلیفہ میں رات گزاری صبح اپنی نَو (9) بیویوں کے پاس گئے پھر غسل کر کے خوشبو ملی اور 2 رکعت نماز ادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کے کو ہان پر نشان کیا اور گلے میں پٹہ ڈالا اور حج اور عمرہ کا احرام باندھا، قربانی کے لئے آپ نے بہت خوش رنگ مضبوط اور نوجوان اونٹ 60 سے اوپر اپنے ساتھ لئے تھے۔
جیسے کہ قرآن کا فرمان ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے احکام کی تعظیم کرے اس کا دل تقویٰ والا ہے۔
بعض سلف کا فرمان ہے کہ تعظیم یہ بھی ہے کہ قربانی کے جانوروں کو اچھی طرح رکھا جائے اور انہیں خوب کھلایا پلایا جائے اور مضبوط اور موٹا کیاجائے۔
سیدنا علی بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ
’’ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانوروں کی آنکھیں اور کان دیکھ بھال کر خریدیں۔ ‘‘ (تفسیر ابن کثیر: 6؍631؛ پارہ 6)
مسجد الحرام کا قصد اور بے حرمتی
آیت مبارکہ میں چوتھا فرمان ربانی یوں ہورہا ہے کہ
﴿وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا﴾
مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی بھی بے حرمتی نہ کرو، جو عظمت والے گھر کعبۃ اللہ شریف کے قصد سے جارہے ہیں اور جو یہ چاہتے ہیں کہ پروردگار کا فضل اور اس کی خوشنودی حاصل کریں۔ بے حرمتی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مسافرین حج و عازمین حج کے اس سفر میں ان سے کسی بھی طرح کی کوئی مزاحمت نہ کرو اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی تکلیف و ایذا انہیں پہنچاؤ کہ شعائر اللہ کے یہ احکام ایسے حالات میں دیئے گئے ہیں جبکہ مشرکین مکہ اور مسلمانوں کے درمیان سخت قسم کی حق و باطل کی محاذ آرائی چل رہی تھی اور سارے عرب میں ماحول گرم تھا اور دوسری جانب مسلمانوں کو یہ مواقع حاصل تھے کہ حج کو جانے والے مشرک قبیلوں پر آسانی سے ہاتھ ڈال سکیں۔ ظاہر بات ہے کہ اس سے شعائر اللہ کی تو ہین ہوتی ہے اس طرح اللہ تبارک تعالیٰ اہل ایمان کو حکم فرماتے ہوئے، تو ہین شعائر اللہ سے بچارہے ہیں۔
یادر ہے کہ یہاں پر مشرکین کی تعظیم مقصود نہیں ہے بلکہ یہ لوگ شعائر اللہ کی علامتوں کے ساتھ جو سفر کر رہے ہیں اس کی اصل تعظیم مقصود ہے۔
مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب اس سلسلہ میں یوں تحریر فرمایا ہے کہ
’’بظاہر یہ شان صرف مسلمان کی ہے۔ یعنی جو مخلص مسلمان حج و عمرہ کے لئے جائیں ان کی تعظیم و احترام کرو اورن کی راہ میں روڑے مت اٹکاؤ اور جو مشرکین حج بیت اللہ کیلئے آئے تھے ، اگر وہ بھی اس آیت کے عموم میں داخل ہوں کیونکہ وہ بھی اپنے زعم اور عقیدہ کے موافق خدا کے فضل و قرب اور خوشنودی کے طالب ہوتے تھے تو کہنا پڑے گا کہ یہ حکم اس وقت سے پہلے کا ہے جبکہ ﴿ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَٰذَا﴾ منادی کرائی گئی۔
(حوالہ القرآن الکریم و تر جمہ مع حاشیہ تفسیر صفحہ 140 ، حاشیہ5، مطبوعہ سعودی عرب)
ممانعت شکار کی حد
آیت مبارکہ میں پانچواں حکم یہ آیا ہے کہ
﴿وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا﴾
’’اور جب احرام سے نکلو تو شکار تم کر سکتے ہو۔ ‘‘
مذکورہ حکم نازل کرنے سے قبل تو اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لئے حلال نہ کر لو ، جس کی تفصیل پچھلے صفحات پر گذر چکی۔
غرض کہ اب اس بات کی اجازت دی جارہی ہے کہ احرام کی حالت ختم ہو جائے تو تم شکار کر سکتے ہو ۔ یعنی ”احرام‘‘ بھی منجملہ شعائر اللہ میں شامل ہے اس لئے حالت احرام میں شکار کرنے سے اہل ایمان کو روک دیا گیا تھا کیونکہ ایسی حالت میں شکار کرنا شعائر اللہ کی توہین ہے لیکن اب اس کی اجازت دی جارہی ہے کہ (طواف افاضہ ) حج مکمل کرنے کے بعد تم چاہو تو شکار کر سکتے ہو ( بشرطیکہ وہ شکار حرم میں نہ ہو )
( کتاب الحج) کے صفحہ 329 پر یہ عبارت لکھی ہوئی ہے کہ یعنی جب تم احرام کھول ڈالو تو شکار کرو اور جس شخص نے طواف الا فاضہ نہیں کیا اس کا پورا احرام نہیں کھلا۔ (موطا امام مالک اردو ترجمہ)
سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ
نبی کریمﷺ نے اس وقت تک کوئی چیز ، جسے آپ نے احرام باندھنے کے بعد حرام فرمایا تھا اپنے اوپر حلال نہیں کی جب تک آپ نے اپنا حج مکمل نہ کر لیا۔ قربانی کے روز آپ نے طواف افاضہ کیا پھر آپ نے ہر چیز حلال کر لی ۔ ( صحیح بخاری وصحیح مسلم )
ظلم کا بدلہ ظلم سے نہیں آیت مبارکہ کے مضمون میں چھٹا حکم یہ آیا ہے کہ اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کر دیا ہے تو اس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں نارواز یا دتیاں کرنے لگو۔
یہاں پر اس گروہ کا نام نہیں لیا گیا بلکہ مسجد حرام کا راستہ مسلمانوں کیلئے روکنے والے مشرکین کے متعلق فرمایا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے تمہیں مسجد حرام (کعبۃ اللہ ) کو جانے سے روک کر شعائر اللہ کی توہین کی اور تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے لیکن اے میرے پیارے بند و!تم ہرگز اس طرح کا کوئی عمل نہ کرو کیونکہ یہ شعائر اللہ کی بے حرمتی ہے۔
اس سلسلہ میں مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع صاحب نے یوں تحریر فرمایا ہے:
’’یہ چند واقعات تھے کہ جن کی بناء پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی کہ شعائر اللہ کی تعظیم تمہارا اپنا فرض ہے۔ کسی دشمن کے بغض و عداوت کی وجہ سے اس میں خلل ڈالنے کی قطعاً اجازت نہیں ۔ ’اشہر حرم‘ میں قتل وقتال بھی جائز نہیں ۔ قربانی کے جانوروں کو حرم تک جانے سے روکنا یا ان کا چھین لینا بھی جائز نہیں اور مشرکین احرام باندھ کر اپنے خیال کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل و رضا حاصل کرنے کے قصد سے چلے ہیں۔ (اگر چہ بوجہ کفران کا یہ خیال خام ہے ) تاہم، شعائر اللہ کی حفاظت و احترام کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے کوئی مزاحمت نہ کی جائے نیز وہ لوگ جنہوں نے تمہیں عمرہ کرنے سے روک دیا تھا ان کے بغض عداوت کا انتظام اس طرح لینا جائز نہیں کہ مسلمان ان کو مکہ میں داخل ہونے یا شعائر حج ادا کرنے سے روک دیں کیونکہ یہ ان کے ظلم کے بدلہ میں ہماری طرف سے ظلم ہو جائے گا جو اسلام میں روا نہیں ۔‘‘ (حوالہ معارف القرآن: 3؍16 تا 17)
نیک کام میں ساتھ دو اور بُرے کاموں میں تعاون نہ کرو
آیت مبارکہ کے اختتام پر ایک ایسی اصولی بات بیان فرمائی گئی ہے جس میں انسان کی فلاح و کامیابی اور خود انسان کی اپنی خیر، بقا امن و سلامتی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ اس طرح اہل ایمان بندوں کو حکم ہو رہا ہے کہ ہر اس نیکی کے کام میں تعاون کر و جو رضائے الٰہی اور فلاح آخرت تک پہنچاتا ہو اور ہر اس برائی و زیادتی سے بچو جس کے کرنے سے غضب الٰہی تم سے متعلق ہوتا ہے۔ پھر آخر میں فرمایا گیا کہ اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے احوال پر اچھی طرح نظر رکھے ہوئے ہیں یعنی اگر تم نے اوپر بیان کئے گئے احکام پر عمل نہ کیا یا پھر اپنی نفسانی خواہش میں آکر حق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تو یا درکھنا! میری طرف سے دی جانے والی سزا بڑی سخت ہے۔
٭٭٭
ایک عالم باعمل اور مخلص داعی کی وفات
حیدر آباد دکنی کے ایک ممتاز عالم دین اور اسکالر مولانا سید عبد الحکیم جو سرکاری ملازم ہونے کے باوجود اپنی زندگی کتاب وسنت کی اشاعت میں صرف کر دی، آپ عثمانیہ یونیورسٹی سے ایم اے تھے اور اپنے قیام قطر کے زمانے میں بہت سے فلپائنیوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ، اردو ، عربی اور انگریزی تینوں زبانوں میں دعوت وتبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتے تھے، امریکہ میں مقیم آپ کے فرزند سید عبد القدیر عمری کی دعوت پر امریکہ گئے مگر وہاں کا ماحول پسند نہیں آیا تو واپس حیدر آباد آ گئے اور وہیں دعوت وتبلیغ کے کام سے جڑ گئے۔ ان کےفرزند سید عبد الوکیل نے ان کی نمازجنازہ پڑھائی اور وہی تدفین عمل میں آئی، ہزاروں لوگ ان کی وفات پر سوگوار ہیں۔
اللہ کریم انہیں جنت الفردوس میں داخل فرمائے۔ آمین یارب العالمین
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
٭٭٭
وفیات
ڈڈلی کے امیر جمعیۃ حاجی ذوالفقار قریشی کے نسبتی برادر ہیرو لندن میں وفات پا گئے۔ مرحوم بہت سی خوبیوں کے تھے۔
ڈڈلی مسجد کے ذمہ دار حاجی محمد عمر کے نسبتی برادر جناب مظہر الحق 57 سال کی عمر میں کوٹلی میں وفات پا گئے۔ پسماندگان میں بیوہ اور ایک بیٹی سوگوار ہیں۔
چوہدری عبد الرشید ڈڈلی کے بڑے بھائی پاکستان میں وفات پا گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
دعا ہے کہ اللہ پاک ان تمام مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
موت اس کی ہے کرے جس پر زمانہ افسوس
ورنہ دنیا میں سب ہی آتے ہیں مرنے کے لیے
تبصرہ کریں