
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ﴾(سورۃ ہود: 116)
’’ظالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وہ گناہ گار تھے۔“
قارئین ! ہمارے معاشرے میں عیش پرستی ایک ایسی موذی بیماری ہے جو انسان کی غیرت اور ہمت کوموت کی نیند سلا دیتی ہے، اس بیماری سے انسان حقیقی زندگی کی مٹھاس سے محروم ہو جاتا ہے اور اس عارضی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اپنی آخرت کو تباہ کر دیتا ہے۔
عیش پرستی کی مذمت قرآن کریم میں
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی ایک مقامات پر عیش پرستی کی مذمت کی ہے اور وہ درج ذیل ہیں:
1۔عیش پرستی ظالموں اور کافروں کی صفت :
اللہ تعالیٰ کفار کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
﴿وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ﴾ (سورۃ ہود: 116)
’’ظالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑگئے جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وہ گناہ گار تھے ۔“
علامہ ابن جریر طبری فرماتے ہیں:
بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ بے شک گزری ہوئی ہر امت میں سے وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ، اور اللہ تعالیٰ کا انکار کیا اور وہ دنیاوی لذتوں کے پیچھے پڑ گئے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے تکبر کیا اور اکڑ گئے اور اللہ کی راہ سے روکنے لگے، کلام عرب میں یہی لوگ عیش پرست ہیں، جن پر انعام کیا گیا ہو اور وہ لذتوں میں پلے بڑھے ہوں۔“
2۔عیش پرستی آخرت میں عذاب کا سبب:
ارشا در بانی ہے:
﴿فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا﴾ (سورۃ مریم: 59)
’’پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گے۔‘‘
سیدنا کعب الاحبار فرماتے ہیں :
’’اللہ کی قسم ! میں اللہ کی کتاب میں منافقین کی یہ صفات پاتا ہوں : شراب نوش ، تارک نماز ، گیٹ کھیلنے والے فجر اور عشاء کی نمازوں سے سو جانے والے، کام پر جانے میں تاخیر کرنے والے، نماز جمعہ ترک کرنے والے ۔‘‘ پھر مذکورہ بالا آیت کریمہ تلاوت فرمائی تھی۔ (الدر المنثور: 5؍526)
3۔دنیا میں ہلاکت کا سبب:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ 0 فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ 0 لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ﴾ (سورۃ الانبیاء: 11۔13)
’’اور کتنی ہی بستیاں ہم نے توڑ کر رکھ دیں جو ظالم تھیں اور اُن کے بعد اور لوگ نئے پیدا کر دیے، تو جب انہوں نے ہمارا عذاب محسوس کیا اچانک وہ ان (بستیوں) سے بھاگ رہے تھے ، بھا گو نہیں اور ان (جگہوں) کی طرف واپس آؤ جن میں تمہیں خوش حالی دی گئی تھی اور اپنے گھروں کی طرف ، تا کہ تم سے پوچھا جائے۔‘‘
علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں:
﴿لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ﴾ (سورۃ الانبیاء: 13)
’’یہ اُن لوگوں سے ٹھٹھا کیا جا رہا ہے گویا اُن سے کہا جارہا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے سے بھاگ دوڑ کر کے بچنے کی کوشش نہ کرو، اور ان نعمتوں اور سرور ومعیشت اور پرتعیش رہائش گاہوں کی طرف پلٹ جاؤ۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر : 5؍335)
4۔دوسروں کی ہلاکت کا سبب
عیش پرستی کی اذیت دوسرے لوگوں کو بھی پہنچتی ہے کئی قومیں اپنی عیش پرستی کی وجہ سے ہلاک ہو چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا ﴾ (سورۃ الاسراء: 16)
’’اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ کسی بستی کو ہلاک کریں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ اس میں حکم نہیں مانتے تو اس پر بات ثابت ہو جاتی ہے، پھر ہم اسے برباد کر دیتے ہیں، بری طرح بر باد کرنا۔“
آپ لوگوں کی زندگیوں میں اس چیز کا مشاہدہ کرتے ہوں گے کہ عیش پرستوں کا فساد صرف ان تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اس کے مضر اثرات دوسرے لوگوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگ اپنے ہاتھوں میں موجود چیزوں کی نمود و نمائش کرتے ہیں، اور کوشش کرتے ہیں کہ لوگ بھی ان کی تقلیدکرنے لگ جائیں۔
5۔ نیکی سے دوری کا سبب:
اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے متعلق فرماتے ہیں جو شدت کی گرمی میں جہاد کے لیے نہ نکل سکے، جو سایہ دار اور ٹھنڈی جگہوں پر رہنے کے عادی ہو چکے تھے :
﴿فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَرِهُوا أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالُوا لَا تَنفِرُوا فِي الْحَرِّ ۗ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا ۚ لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ ﴾(سورۃ التوبہ: 81)
’’وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہو گئے اور انہوں نے ناپسند کیا کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور انہوں نے کہا گرمی میں مت نکلو۔ کہہ دو،جہنم کی آگ کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش! وہ سمجھتےہوتے ۔“
عیش پرست لوگوں پر گرمی اور مشقت کی بنا پر اللہ کی راہ میں نکلنا گراں گزرا۔ جس کی وجہ سے انہوں نے مختصر سی اور ختم ہو جانے والی دنیا کی راحت کو آخرت کی ابدی و کامل راحت پر ترجیح دی اور اُس گرمی سے ڈر گئے جس سے سایہ کے ذریعے بچنا ممکن تھا جس میں صبح و شام کے ٹھنڈے اوقات میں بھی چلا جا سکتا تھا مگر اس شدت کی گرمی کا کوئی خیال نہ کیا جس کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور اس میں آگ شعلےمارتے ہوئے بھڑک رہی ہے۔
6۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ 0 وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ﴾ (سورۃ الفجر: 15۔16)
’’پس لیکن انسان جب اس کا رب اسے آزمائے ، پھر اُسے عزت بخشے اور اسے نعمت دے تو کہتا ہے: میرے رب نے مجھے عزت بخشی، اور لیکن جب وہ اُسے آزمائے ، پھر اس پر اس کا رزق تنگ کر دے تو کہتا ہے : میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔“
عیش پرست لوگوں کا یہ حال ہے جب اللہ تعالیٰ اس پر فراخی رزق اور وسعت نعمت کا انعام کرتے ہیں تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے معزز و مکرم بنا یا اس لیے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اُسے مختلف قسم کی آزمائشوں میں مبتلا کرتے ہیں تو گریہ وزاری اور آہ و بکا کرنے لگ جاتا ہے اور یہ سب کچھ عیش پرستی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اگر ایسا انسان زاہد بن کر زندگی بسر کرتا تو ان مصائب و پریشانیوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا اور ان پر راضی رہتا بلکہ ان پر صبر کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا۔ اگر ہم غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ صبر کرنا غنا پر صبر کرنے کی نسبت بہت آسان ہے۔
عیش پرستی کی مذمت احادیث نبوی میں
بہت ساری احادیث نبویہ میں عیش پرستی کی مذمت وارد ہوئی ہے۔ یہ سب عیش پرستی سے ڈرانے کے لیے ہے تا کہ دل کا تعلق اس دنیا اور دنیا کی لذتوں اور ختم ہونے والی نعمتوں ہی میں نہ کھو جائے۔
سیدنا ابوسعید خدری فرماتے ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺجَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ إِنِّي مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا
’’بے شک نبی ﷺایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم بھی منبر کے اردگرد بیٹھے ، آپﷺ نے فرمایا: میں اپنے بعد تم لوگوں کے متعلق دنیا کی زیب وزینت سے ڈرتا ہوں کہ اس کے دروازے تم پر کھول دیئے جائیں گے۔“ (صحیح بخاری: 1465؛ صحیح مسلم: 1053)
سیدنا ابوسعید خدری نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ»
’’دنیا میٹھی سرسبز ہے اور اللہ تعالی تمہیں اس میں خلیفہ و نائب بنانے والا ہے پس وہ دیکھے گا تم کیسے اعمال کرتے ہو۔ پس دنیا سے بچو اور عورتوں (کے فتنہ میں مبتلا ہونے ) سے بچو۔‘‘ (صحیح مسلم : 2742 )
سید نا عبد الله بن بریدہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی فضالہ بن عبید سے ملنے کے لیے گئے وہ اس وقت مصر میں مقیم تھے۔ جب اُن کے پاس پہنچےتو کہا:
أَمَا إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ أَنَا وَأَنْتَ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ؟ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَمَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الْأَرْضِ؟! قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ، قَالَ: فَمَا لِي لَا أَرَى عَلَيْكَ حِذَاءً؟! قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَأْمُرُنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا.
’’میں تمہارے پاس زیارت کے لیے نہیں آیا، لیکن میں اور آپ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سنی تھی ۔ میں اس امید پر آیا ہوں شاید آپ کے پاس اس کے بارے میں کوئی علم ہو۔ انہوں نے پوچھا: وہ کونسی حدیث ہے؟ بتایا کہ ایسے ایسے حدیث ہے، تو فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پراگندہ ( غبار آلود ) حالت میں دیکھتا ہوں، حالانکہ آپ اس علاقہ کے امیر ( گورنر ) ہیں؟ جواب دیا: ”بے شک رسول اللہ ﷺ ہمیں بکثرت زیب و زینت اختیار کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے پھر پوچھا: کیا وجہ ہے میں آپ کو ننگے پاؤں دیکھ رہا ہوں؟ فرمایا: ”بے شک رسول اللہ ﷺ حکم دیا کرتے تھے ہم کبھی کبھار ننگے پاؤں چلا کریں۔“ (سنن ابی داؤد: 4160)
ہاں نبی کریم ﷺانہیں کبھی کبھار ننگے پاؤں چلنے کا حکم دیا کرتے تھے تا کہ ان کے پاؤں سخت ہو جائیں اور مختلف قسم کی جگہوں پر چلنے کے عادی ہو جائیں۔
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اللهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا
”اے اللہ ! آل محمد کا رزق اُن کے لیے بقدر کفایت کر دے۔“ (صحیح مسلم: 1055)
یعنی صرف اتنی روزی دے کہ وہ کسی سے مانگنے کے محتاج نہ رہیں، اور نہ ہی اس میں اتنی زیادتی ہو جس کی وجہ سے عیش وعشرت میں مبتلا ہو جائیں۔
عیش پرستی کے اسباب
عیش پرستی کے اسباب بہت سے ہیں ۔ اُن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
1۔لمبی امیدیں اور موت کو بھلا دینا :
عیاشی کے اسباب میں اہم سبب موت کو بھلا کر زندگی کی لمبی امیدیں لگانا ہے۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ اس دنیا میں رہنے والا ہے ، ابھی اس کو اتنی جلدی موت آنے والی نہیں۔
2۔ اندھی تقلید اور بُرے معاشرے کا اثر قبول کرنا:
بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو دوسرے لوگوں کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔ وہ کسی چیز میں ذرا برابر بھی کوئی غور و فکر نہیں کرتے کہ کیا عقل و نظر میں بھی اُن کا کوئی حصہ ہے یا نہیں ۔ جیسے کہا جاتا ہے :
” انسان اس بات میں رغبت رکھتا ہے کہ وہ معاشرے کا اہم رکن ہو، اور یہ معاشرہ تو عیش پرستی اور شان و شوکت میں ڈوبا ہوا ہے۔ تو ضروری ہے کہ وہ بھی اسی کشتی کا سوار ہو، اور وہ بھی کھانے پینے میں ، لباس اور رہائش میں ایسے ہی فضول خرچی کرے۔ معاملہ تو صرف تقلید تک ہی نہیں رہا بلکہ اب اس سے آگے بڑھ کر مقابلہ بازی اور سبقت تک پہنچ گیا ہے اور ہر شخص دوسرے پر اس میدان میں سبقت لے جانا چاہتا ہے۔
3۔ مال و دولت اور نعمتوں کی کثرت :
مال و دولت انسان کو اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے انسان نعمت کی فروانی اور راحت پسندی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ مال دار اپنی جھوٹی انا اور شان وشوکت کی خاطر مال خرچ کرنے لگ جاتا ہے۔
فرمان الٰہی ہے:
﴿كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ 0 أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ﴾ (سورۃ العلق: 6۔7)
’’ہر گز نہیں، بے شک انسان یقیناً حد سے نکل جاتا ہے اس لیے وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی ہو گیا ہے۔“
اس سرکشی اور آپے سے باہر ہونے کی سب سے واضح صورت یہ ہے کہ انسان نعمتوں پر سرکشی کرنے لگتا ہے اور غیر ضروری طور پر صرف مقابلہ بازی کے لیے ، اور نمایاں نظر آنے کی چاہت میں خرچ کرنے لگتا ہے۔
4۔ شہوت پرستی:
یہ محبت انسان کی فطرت میں رچی بسی ہوئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
﴿زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ﴾ (سورۃ آل عمران:14)
’’لوگوں کے لیے نفسانی خواہشوں کی محبت مزین کی گئی ہے، جو عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان لگائے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی ہیں، یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔“
یہ محبت اپنی ذات کی حد تک انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے جس پر اسے کوئی ملامت نہیں کی جا سکتی ۔ مگر مذموم بات تو یہ ہے کہ انسان ان چیزوں کی محبت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ٹیم کی محبت پر ترجیح دے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾ (سورۃ التوبہ: 24)
’’ کہہ دیں اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہاراخاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
دنیا شیطان کی شراب ہے جس نے اس شراب سے پی لیا وہ کبھی ہوش میں نہیں آتا، الا یہ کہ جب موت کی گھڑیاں سر پر کھڑی ہوں تو ندامت و شرمندگی کے ساتھ گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جاتا ہے۔
5۔دشمن کی چالیں:
جب ہمارے دشمنوں کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ سابقہ امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کی عیش پرستی تھا تو وہ ایسی پلاننگ کرنے لگے جس سے امت اسلامیہ کو مختلف قسم کی عیش پرستیوں، دنیا کی لذات اور ( فکر آخرت سے ) غافل کر دینے والی چیزوں میں غرق کیا جاسکے اور ہم بھی ان کے ساتھ دوستی اور محبت کی حرص میں مبتلا ر ہیں۔ خصوصاً جب عیاشی اور لذت اندوزی کے ساز و سامان کے مالک بھی وہ ہیں۔ یہودیوں نے اپنے پروٹو کولز میں بھی یہ بات کہی ہے :
” ہم جیسے تیسے بھی ہوں ان لوگوں کو عیش پرستی میں مبتلا کر دیں گے ۔‘‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ
” ہم عنقریب لوگوں کی اکثریت کو مختلف قسم کے کھیل تماشوں اور غافل کر دینے والے امور ، فراغت کے اوقات میں دُنیا کی نئی نئی رنگینیوں اور لذات میں مبتلا کر دیں گے۔“
عیش پرستی کے نقصانات
1۔نعمتیں امتحان و آزمائش :
اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ اس دنیا میں بندوں پر نعمتوں کی وسعت امتحان اور آزمائش ہے۔ یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ جس شخص پر نعمتوں کی کثرت ہے، اللہ تعالیٰ اس سے راضی اور اُس سے محبت کرتا ہے جیسا کہ بہت سارے عیش و عشرت کے دلدادہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں۔ اُن کے خیال میں ان پر ان نعمتوں کی کثرت اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس عیش پرست پر کیسے راضی ہو سکتا ہے جو اس کی نعمتوں کو بطور ناراضی اور تکبر استعمال کرتا ہے؟ ان سے پہلے کفار بھی ایسا ہی گمان کیا کرتے تھے۔ جب انھوں نے مال و اولاد کی کثرت دیکھی تو کہنے لگے :
﴿وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ﴾ (سورہ سبا: 35)
’’اور کہنے لگے کہ ہم مال اور اولا دزیادہ رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب ہونے والا نہیں۔“
اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ اُن کا یہ اعتقاد درست نہیں۔
﴿وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُم بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِندَنَا زُلْفَىٰ إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ﴾ (سورہ سبا: 37)
’’اور نہ تمہارے مال ایسے ہیں اور نہ تمہاری اولاد جو تمہیں ہمارے ہاں قرب میں نزدیک کر دیں، مگر جو شخص ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو یہی لوگ ہیں جن کے لیے دو گنا بدلہ ہے، اس کے عوض جو انہوں نے عمل کیا اور وہ بالا خانوں میں بے خوف ہوں گے۔“
ایک دوسرے مقام پر فرمایا :
﴿ ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا 0 وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَّمْدُودًا 0 وَبَنِينَ شُهُودًا 0 وَمَهَّدتُّ لَهُ تَمْهِيدًا 0 ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ 0 كَلَّا ۖ إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا﴾ (سورۃ المدثر: 11۔16)
’’چھوڑ مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا، اور میں نے اُسے لمبا چوڑا مال عطا کیا، اور حاضر رہنے والے بیٹے ( عطا کیے)، اور میں نے اس کے لیے سامان تیار کیا، ہر طرح تیار کرنا، پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں، ہر گز نہیں ! یقیناًوہ ہماری آیات کا سخت مخالف رہا ہے۔‘‘ یعنی وہ یہ گمان کرتا ہے کہ ہم آخرت میں بھی اُسے زیادہ بیٹے اور مال دیں گے، ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ نے تو ان عیش پرست عقل کے مسکین لوگوں کے لیے یہ بات پہلے سے بیان کر دی ہے کہ ان پر یہ انعامات محض ایک ڈھیل ہیں۔
﴿أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ ۚ بَل لَّا يَشْعُرُونَ﴾
’’کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم مال اور بیٹوں میں سے جن چیزوں کے ساتھ ان کی مدد کر رہے ہیں ، ہم انہیں بھلائیاں دینے میں جلدی کر رہے ہیں بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔“(سورۃ المؤمنون: 55۔56)
مزید فرمایا:
﴿وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ﴾ (سورۃ التوبہ: 85)
’’اور تجھے ان کے اموال اور ان کی اولاد بھلے معلوم نہ ہوں، اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کےذریعے دنیا میں سزادے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔“
مزید فرمایا:
﴿فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ﴾
’’پس تجھے نہ ان کے اموال بھلے معلوم ہوں اور نہ ان کی اولاد، اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انہیں اُن کے ذریعے دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور اُن کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔‘‘(سورۃ التوبہ: 55)
ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًاۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ (سورۃ آل عمران: 178)
’’اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، ہر گز گمان نہ کریں کہ بے شک جو مہلت ہم انہیں دے رہے ہیں وہ اُن کی جانوں کے لیے بہتر ہے، ہم تو انہیں صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھ جائیں اور اُن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔“
ارشاد ربانی ہے:
﴿فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَٰذَا الْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ﴾ (سورۃ القلم: 44)
’’پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے، ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو گا۔“
2۔دنیاوی نعمتوں سے آخرت کی نعمتوں کا زوال :
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے متعلق خبر دی ہے جن کی نیکیوں کا بدلہ انھیں دنیا کی زندگی میں ہی مل جائے گا۔
﴿وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ﴾ (سورۃ الاحقاف: 20)
’’اور جس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، آگ پر پیش کیے جائیں گے تم اپنی نیکیاں اپنی دنیا کی زندگی میں لے جاچکے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے، سو آج تمہیں ذلت کے عذاب کا بدلہ دیا جائے گا، اس لیے کہ تم زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کرتے تھے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کیاکرتے تھے۔“
ابو مجلز فرماتے ہیں:
’’کچھ لوگ ( روزِ قیامت) ایسے بھی ہوں گے جو دنیا کی زندگی میں کی گئی نیکیاں مفقود پائیں گے اُن سے کہا جائے گا: تم دنیا کی زندگی میں اپنے مزے اڑا چکے اور اس سے فائدہ لے چکے ، یعنی حساب کے دن کچھ لوگوں کو لایا جائے گا، وہ اپنی نیکیوں کے بارے میں پوچھیں گے ، جو نیکیاں انہوں نے کی تھیں مگر آج اُن کا اجر نظر نہیں آرہا ہو گا تو انہیں خبر دی جائے گی کہ انہوں نے دنیا کی زندگی میں مختلف قسم کی نعمتوں سے مزے اڑانے میں اپنی ساری نیکیاں ختم کر دی ہیں۔ صحابہ کرام اور تابعین اس دنیا میں نعمتوں کا بہت کم استعمال کرتے تھے تا کہ وہ ان نعمتوں کو آخرت کی زندگی کے لیے ذخیرہ کر کے رکھ سکیں۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ فر ماتے ہیں:
’’ مجھے سید نا عمر نے دیکھا تو میں نے ہاتھ میں گوشت لٹکایا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا : اے جابر ! یہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: یہ گوشت ہے جو میں نے ایک درہم میں اپنی بیویوں کے لیے خریدا ہے، انہیں اس کا بہت شوق ہے۔ انہوں نے فرمایا: ” کیا تم میں کوئی انسان جب بھی کسی چیز کا شوق رکھتا ہے، پھر اسے کر گزرتا ہے؟ تو کیا تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنے پیٹ کو اپنے چچا زاد اور پڑوسی کے لیے سمیٹ لے تم اس آیت کریمہ سے کتنے دور ہو گئے ہو؟
﴿ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا﴾
’’تم دنیا کی زندگی میں اپنی پاکیزہ چیزوں کے مزے اڑا چکے۔“ (سیدنا جابر کہتے ہیں: ”میں جب واپس پلٹا تو میں کہہ رہا تھا کہ اے کاش! ان سے اچانک سامنا ہی نہ ہوا ہوتا ۔“ (أخرجه عبد بن حمید کما فی الدر المنثور :7؍447)
سید نا عمر فاروق فرما یا کرتے تھے :
’’اگر میں چاہتا تم میں سب سے زیادہ اچھا کھانا کھانے والا ، اور سب سے زیادہ نرم لباس پہننے والا ہوتا مگر میں اپنی نیکیوں کو آخرت کے لیے باقی رکھتا ہوں۔“ (تفسیر الطبری: 22؍120)
2۔قیامت کے دن نعمتوں پر جوابدہی:
اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں خبر دی ہے کہ دنیا کی جن نعمتوں میں انسان گزر کر رہا ہے، اُن کے متعلق روز قیامت ضرور پوچھا جائے گا کہ کیا اُن کا شکر ادا کیا تھا یا نہیں؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾
’’پھر عنقریب تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا۔“(سورۃ التکاثر: 8)
حسن بصری اور قتادہ فرماتے ہیں:
’’ تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ابن آدم سے قیامت والے دن سوال نہیں کیا جائے گا، ان کے علاوہ جتنی بھی چیزیں ہیں اُن کے متعلق سوال بھی ہوگا اور اُن کا حساب بھی ،مگر جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ چاہے ( حساب سے ) معاف کر دے ۔وہ کپڑا جس سے اپنی شرمگاہ چھپا لے۔ روٹی کا وہ ٹکڑا جس سے اپنی کمر سیدھی کرلے۔ وہ وہ گھر جس کا سایہ حاصل کر سکے۔“ (تفسیر الطبری: 8؍277)
لیجیے ! یہ اسلامی سلطنت کے تین عظیم المرتبت انسانوں کا قصہ ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺگھر سے نکلے تو سامنے سیدنا ابوبکر وسیدنا عمر کو پایا۔ آپﷺ نے پوچھا:
مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟
’’اس وقت تمہیں کس چیز نے گھر سے نکالا ہے؟ ‘‘
کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول (ﷺ)! بھوک نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَى رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرْأَةُ قَالَتْ مَرْحَبًا وَأَهْلًا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺلَّمَ أَيْنَ فُلَانٌ قَالَتْ ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنْ الْمَاءِ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَكْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي قَالَ فَانْطَلَقَ فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ كُلُوا مِنْ هَذِهِ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنْ الشَّاةِ وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النَّعِيمُ
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے بھی اسی چیز نے گھر سے نکالا ہے جس نے تم دونوں کو گھر سے نکالا ہے، کھڑے ہو جاؤ ۔ وہ دونوں آپ ﷺ کے ساتھ چل دیئے سید نا ابوایوب انصاری کے گھر گئے ، وہ کھجور کا ایک خوشہ لائے جس میں کچی اور پکی کھجوریں تھیں، اور عرض گزار ہوئے کہ یہ تناول فرمائیے اور خود چلے گئے، پھر ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور اُن کے لیے گوشت بھون لائے ، انہوں نے گوشت کھا یا اور کھجوریں بھی ۔ جب سیراب ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر سے فرمایا:
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! روز قیامت تم سے ضرور بالضرور ان نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا، تمہیں گھر سے بھوک نے نکالا ، اور پھر اس وقت تک گھر نہیں پلٹے جب تک کہ تمہیں یہ نعمتیں نہیں مل گئیں۔“ (صحیح مسلم: 2038)
اگر اس اُمت کے سب سے بڑے تین افراد کا یہ حال ہے کہ اُن سے بھی ان نعمتوں کے متعلق سوال ہوگا جو کہ انہیں بہت سخت بھوک کے بعد ایک ہی بار حاصل ہو گئیں تو پھر ہم لوگوں کا کیا حال ہوگا جو روزانہ تین وقت اعلیٰ قسم کے مرغن اور پرتعیش قسم کے کھانے کھاتے ہیں۔
عیش پرستی کی مروجہ صورتیں
زمانہ حال کی ہماری اس زندگی میں عیش پرستی کی کئی ایک صورتیں پائی جاتی ہیں۔ اُن میں سے چندذیل میں درج کی جارہی ہیں۔
1۔تزئین اور نظافت میں مبالغہ :
کوئی انسان بہت زیادہ دیر حمام یا غسل خانے میں لگاتا ہے بعض لوگ تو غسل خانوں کے لیے انواع و اقسام کی عطرات ، خوشبوئیں قسم قسم کے صابن اور اس طرح کی دیگر جدید عیش پرستی کی ایسی چیزیں استعمال کرتے ہیں جو ہمارے اس زمانے سے پہلے نہیں تھیں ۔ اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ اسلام نے خوبصورتی وصفائی کا خیال رکھنے کی تعلیم دی ہے بلکہ حکم دیا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ (سورۃ الاعراف: 31)
”اے اولاد آدم ! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت پر اپنا لباس پہن لیا کرو ۔“
مگر یہ حکم حد سے زیادہ تجاوز نہ کرنے اور زیادہ عیاشی نہ کرنے سے جڑا ہوا ہے۔
یہ عیاشی نہیں کہ انسان نہائے دھوئے ، پاکیزگی اور صفائی ستھرائی کا اہتمام کرے۔ پسینہ وغیرہ کے اثرات ختم کرنے کے لیے اچھا صابن یا دیگر کوئی چیز استعمال کرے، تا کہ صفائی دیر تک باقی رہے اور وہ پسینہ کی اس بُو سے دوسروں کو تکلیف نہ دے، نہ ہی مسجد میں اور نہ ہی دوسری جگہوں پر ۔
عیاشی یہ ہے کہ انسان ان چیزوں میں مبالغہ کرے، اِن امور پر بہت سارا مال خرچ کرے اور ان چیزوں کے پیچھے پڑ کر اپنا بہت سارا قیمتی وقت ضائع کر دے۔
2۔ زلفوں کا بناؤ سنگار :
ہر وقت بالوں کو خوبصورت بنانا، کنگھی کرتے رہنا، انہیں سنوارنا اور اُن کے لیے مختلف قسم کی کریمیں خریدنا تا کہ بالوں کو اچھی صورت میں پیش کیا جائے۔ بالوں کے متعلق بھی اسلام کی تعلیمات اعتدال پر مبنی ہیں۔ جن لوگوں کے بال ہوں ، انہیں بالوں کا اکرام کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہر دن کنگھی کرنے اور بنانے سنوارنے سے منع کیا ہے مگر ایک دن چھوڑ کر ایک دن ایسا کرنا چاہیے۔ سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ كَانَ لَهُ شَعْرٌ فَلْيُكْرِمْهُ»
’’جس کے بال ہوں اُسے چاہیے ان کا احترام کرے یعنی انہیں بنا سنوار کر رکھے۔“ (سنن ابی داؤد: 4163)
سید نا عبد اللہ بن مغفل سے مروی ہے:
نَهَى رَسُولُ الله ﷺ عَنِ التَّرَجُلِ إِلَّا غِبًّا
’’رسول اللہ ﷺ نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر کبھی کبھی ایک دن کے بعد ایک دن)۔“ (سنن ابی داؤد: 4159)
علامہ ابن قیم ان دونوں حدیثوں کے متعلق فرماتے ہیں: حق بات تو یہ ہے کہ ان دونوں حدیثوں کے درمیان کسی طرح بھی کوئی ٹکراؤ یا تعارض نہیں اس لیے کہ انسان کو اس کے بالوں کا اکرام کرنے کا حکم دیا گیا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی بناؤ سنگھار اور نعمت گزاری میں زیادتی سے منع کیا ہے۔ انسان بالوں کا اکرام کرے مگر انہیں نعمتوں کی بے قدری، عیش پرستی یا نعمت کے غلط استعمال کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ ایک دن کے بعد ایک دن کنگھی کرے ۔“
(حاشیہ ابن قیم علی سنن أبو داؤد:11؍147)
3۔ لباس کی خریداری میں مبالغہ :
ایک وقت تھا کہ انسان کے پاس پہننے کے لیے صرف ایک جوڑا کپڑوں کا ہوتا تھا۔ جب وہ اُسے دھونا چاہتا یا صاف کرنا چاہتا تو اس کی مجبوری ہوتی تھی کہ وہ گھر میں ٹکار ہے، یہاں تک کہ اس کے گھر والے اس کپڑے کو صاف کر کے خشک کر لیں۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اپنا انعام کیا کہ ایک ایک شخص کے پاس کپڑوں کے کئی جوڑے ہیں ، اس میں کوئی حرج والی بات نہیں، جب تک کہ یہ حدود کے اندر عرف کے مطابق ہوں، لیکن بعض لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ مخصوص و معروف کمپنیوں کے تیار کردہ لباس ہی پہنتے ہیں جو اُن کے آرڈر پر تیار کیے گئے ہوتے ہیں تا کہ وہ باقی لوگوں سے منفرد شخصیت نظر آئے۔ اگر یہ چیز عیش پرستی نہیں تو پھر عیش پرستی کیا ہے؟ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ایسے اچھے کپڑے پہنیں جو ہم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا مظہر ہوں مگر یہ چیز میانہ روی اور اقتصاد کی حدود کے اندر ہے۔
سید نا عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ» قَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ: «إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ».
’’جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ اس پر ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے اُس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جوتی بھی اچھی ہو۔ آپ ﷺنے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔“ (صحیح مسلم: 91)
علامہ ابوالفرج ابن جوزی فرماتے ہیں:
” سلف صالحین درمیانہ قسم کا لباس پہنا کرتے تھے جو نہ ہی بہت اعلی قسم ہوتا اور نہ ہی زیادہ ہلکی قسم کا ہوتا اور اُن میں سے اچھی قسم کا لباس جمعہ کے دن اور دوست و احباب سے ملاقات کے لیے چن لیا کرتے تھے، اُن کے ہاں اچھے لباس کا انتخاب برانہیں سمجھا جا تا تھا جبکہ وہ لباس جو کہ صاحب لباس کی عزت و تکریم کو گم کر دیتا لیکن وہ اُسے زُہد یا فقیری کے اظہار کو متضمن سمجھتا۔ گویا کہ وہ اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ پر شکوہ کر رہا ہے جس سے پہننے والے کو بھی حقیر سمجھا جاتا، یہ تمام چیزیں سلف کے ہاں مکروہ سمجھی جاتی تھیں، پس بہترین امور وہ ہیں جو اعتدال (میانہ روی) پر مبنی ہوں ۔
4۔کھانے پینے میں غلو:
عیش پرست لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کھانے پینے میں غلو کرتے ہیں۔ وہ صرف وہی کھانا کھاتے اور وہی چیزیں پیتے ہیں جن کی قیمتیں گراں قدر ہوں ، وہ نفیس ترین اور فاخرترین چیزوں پر ہی راضی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ایک وقت میں ایک یا دو قسم کے کھانے پر راضی نہیں ہوتے بلکہ اُن کے ہاں ضروری ہوتا ہے کہ ایک وقت کا دستر خوان مختلف قسم کے کئی ایک کھانوں سے بھرا ہو اور اگر اُن کے سامنے صرف ایک ہی قسم کا کھانا رکھ دیا جائے تو وہ اس کے کھانے سے ہچکچاتے ہیں۔
5۔ٹھنڈے کھانے کو پھینک دینا:
بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو وہی کھانا کھاتے ہیں جو تازہ ہو۔ ایسا کھانا جو بھی فریزر میں لگا ہو تو اس کا لقمہ اُن کے لیے منہ میں رکھنا ممکن نہیں بلکہ ایسے کھانے کو کچرے میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس چیز سے ارفع سمجھتے ہیں کہ ٹھنڈے کھانے کو گرم کر کے کھا ئیں اگر چہ اس کا ذائقہ، رنگ اور بو بھی ٹھیک ہو، مگر ایسا صرف عیش پرستی کے لیے کرتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ انسان کبھی کبھار اپنے لیے اچھے قسم کے کھانے تیار کر لے یا ایسے نفیس کھانے خریدے جن کی قیمت اعلی ہو، مگر ایسا کبھی کبھی ہونا چاہیے۔ اگر یہ بات کسی کی خصلت و عادت بن جائے تو یہی چیز مذموم ہے جسے نہ شریعت مانتی ہے اور نہ ہی عقل۔
6۔ فاخرانہ برتنوں میں ہی کھانا کھانا:
کھانا کھانے کے لیے انتہائی فاخرانہ اور بیش قیمت برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ امیر گھرانے کے لوگوں کو دیکھیں گے جو کہ صرف ٹریڈ مارک رکھنے والی کمپنیوں کے برتنوں میں ہی کھاتے ہیں۔ اُن کے پکانے کے لیے بھی وہ برتن استعمال کرتے ہیں جو بڑی کمپنیوں کے تیار کردہ ہوتے ہیں وہ کسی درمیانے درجہ کے کارخانہ کے تیار کردہ دیگچے ، گلاس اور پلیٹیں استعمال کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے ۔
7۔ کھانے کے لیے مہنگے ترین ہوٹل کا انتخاب:
بڑے بلند و بالا اور عالمی شہرت رکھنے والے ہوٹلوں کے چکر لگائے جاتے ہیں۔ بس اس ہوٹل اور کسی دوسرے ہوٹل کے کھانے میں فرق صرف ہوٹل کے نام اور اس کی اعلیٰ ڈیکوریشن کا ہوتا ہے ، باقی نہیں۔
8۔ کھانے کے ساتھ سوڈاواٹر کولازم سمجھنا:
یہ بھی عیش پرستی ہے کہ کھانے پینے میں کثرت کے ساتھ سوڈا واٹر اور مختلف انواع کے مشروبات کا استعمال ہو، جنہیں اب کھانے کے ساتھ ضروری سمجھا جانے لگا ہے۔ اب ہر شخص کھانے کے ساتھ یا کھانے کے بعد سوڈا واٹر پینا ضروری سمجھتا ہے۔ یہ کیسے نہ ہو؟ لوگوں کو اس چیز کی انتہائی سخت ضرورت ہوتی ہے کہ جو کچھ انہوں نے کھایا ہے اُسے ہضم بھی کیا جائے۔ جبکہ انہوں نے خود ہی اپنے آپ کو بدہضمی میں مبتلا کیا، اپنے پیٹ کو مختلف انواع کے کھانوں اور میٹھے سے بھر لیا۔ اب انہیں ایسی چیز کی ضرورت پڑی ہے جو کھانا ہضم کرنے میں اُن کی مدد گار ثابت ہو۔ابن سیرین فرماتے ہیں کہ
ایک آدمی نے سید نا عبد اللہ بن عمر سے کہا کہ میں آپ کے لیے ”جوارش‘‘ تیار کر دوں؟ آپ نے پوچھا : جوارش کیا ہوتا ہے؟ کہنے لگا : ایک ایسی چیز ہے جب آپ کو کھانا تنگ کرے تو اس کے ہضم کرنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر نے فرمایا: ”میں نے تو چار ماہ سے پیٹ بھر کر کھانا ہی نہیں کھایا اور ایسا نہیں کہ مجھے کھانا نہیں ملتا بلکہ میں نے ان لوگوں کے ساتھ وقت گزارا ہے جو کہ ایک وقت سیر ہو کر کھاتے ہیں تو ایک وقت بھوکے رہتے ہیں۔“ (الزهد لامام احمد: 189)
9۔شادی کی محفلیں اور تقریبات:
شادی بیاه و دیگر تقریبات پر ہر شخص منفرد چیز پیش کرنے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ شادی کی محفلوں میں فضول خرچی کا نقصان مال ضائع ہونے اور لوگوں میں حسد و بغض کے پھیلنے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کا نقصان دوسرے نو جوانوں تک سرایت کر جاتا ہے۔ بعض لوگ جب اتنے اخراجات دیکھتے ہیں جن کے وہ متحمل نہیں ہو سکتے تو وہ شادی کرنے سے ہی مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔
10۔رہائش گاہیں اور اُن کی آرائش :
کئی خاندان ایسے بھی ہیں جو اپنے گھر کا ساز و سامان مسلسل سلسلہ وار شکل میں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ بعض گھرانے تو ہر چھ ماہ کے بعد گھر کے جملہ لوازمات کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ بعض گھرانے سال بعد اور بعض تین یا پانچ سال بعد یعنی جس طرح کی استطاعت ہو۔ رنگ برنگ مختلف قسم کے سامانِ زیب وزینت ملک اور بیرونِ ملک سے طلب کیے جاتے ہیں۔ پھر اس فن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، جنہیں اس ڈیکوریشن کے عوض کے طور پر بھاری رقوم ادا کی جاتی ہیں۔ اب تو واش روم بھی اس قدر زیب وزینت سے تیار کیے جاتے ہیں گویا کہ وہ اعلیٰ قسم کی بیٹھک ہوں ۔ جنہیں رنگ برنگی خوشبوؤں ، اعلی سنگ مرمر اور بہترین قسم کے شیشوں سے سجایا جاتا ہے۔
11۔ نوکر چاکر اور خدمت گار
یہ معاملہ یہاں تک نہیں رہا کہ گھر میں ایک آدھ نوکرانی ہو جو گھر کے امور نبھانے میں گھر والوں کی مدد کرے ۔ اب تو معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ایک گھر میں کئی کئی نوکرانیاں ہیں، جو اپنے اپنے کاموں کی ماہر جانی جاتی ہیں۔ اگر ایک صفائی کے کام کی ماہر ہے تو دوسری کھانا پکانے کی اور تیسری بچوں کی نگہداشت کی ، ایسے ہی نوکروں میں ایک مالی ہے جو باغیچہ میں درختوں کی دیکھ بھال کا ماہر ہے تو ایک چوکیدار اور ساتھ ہی ڈرائیور ۔ ایسے بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ گھر کے ہر فرد کے لیے الگ الگ ڈرائیور ہو۔ بعض گھرانے تو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہاں پر نوکروں اور نوکرانیوں کی تعداد گھر کے افراد سے زیادہ ہوتی ہے۔
12۔موبائل اور دیگر اشیاء:
آئے روز مہنگے ترین موبائل فون خریدنا پھر اُن کے لیے رنگ برنگے غلاف ، نیٹ پیکجز اور دیگر لوازمات پورے کرنا بھی عیش پرستی کی صورتوں میں سے ہے۔ اب تو گولڈن نمبر کی فروخت کے لیے بولیاں لگتی ہیں جن میں بعض نمبر ز خیالی حد تک بلند قیمتوں میں فروخت ہوتے ہیں۔
13۔ گاڑیاں، اُن کے نمبر ز اور زیب وزینت :
ہمارے معاشرے میں عیش پرستی کی پھیلتی ہوئی صورتوں میں سے ایک نئے نئے ماڈل کی گاڑیوں کا التزام بھی ہے۔ سالانہ بنیاد پر نئی گاڑیاں خریدی جاتی ہیں اور پھر اُن کے لیے گولڈن نمبر ز حاصل کرنے کے لیے بڑی بڑی رقوم خرچ کی جاتی ہیں۔ خلیجی ممالک میں سے ایک ملک میں گاڑی کے خصوصی نمبر کے لیے بولی لگائی گئی ، جس میں کئی ملین صرف نمبروں کے حصول پر خرچ کیے گئے۔
14 کھیل کو دو تفریح میں مبالغہ :
تفریح اور پکنک کے لیے ایسے ہوٹلز اور شہر آباد کیے گئے ہیں جن کی تعمیر و تیاری پر اربوں خرچ کئے گئے ہیں۔ پھر عوام الناس یہاں پر تشریف لاتے ہیں تا کہ اپنے تفریحی پروگرام سے بھر پور استفادہ کر سکیں ۔ دوسری طرف کھیل اور کھانے کے پوائنٹ ہیں۔ کیا آپ اس کے بارے میں تصور کر سکتے ہیں کہ یہاں پر آنے والے لوگ کس قدر بڑی رقوم ان خدمات کے عوض پیش کرتے ہیں۔
قارئین! یہ زندگی جو عیش پرست لوگ بسر کر رہے ہیں صرف اور صرف دنیا کی زندگی کی زیب وزینت ہے۔ یہ زائل ہو جانے والی نعمتیں ہیں جن کے عطا کرنے سے اللہ تعالیٰ کا مقصد اپنے بندوں کا امتحان لینا ہے اور اس کے بندوں میں سے بہت تھوڑے ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔
فضول خرچی کے نقصانات سے بچو اور عیش پرستی کے بُرے انجام سے خبر دار رہو۔ اس لیے کہ یہ دونوں چیزیں اپنے پیچھے فقر و تنگدستی چھوڑ جاتی ہیں۔ ان کی وجہ سے لوگوں کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسا کرنے والے ذلیل ورسوا ہو کر رہ جاتے ہیں۔ عیش پرستی اور راحت پسندی اگر چہ تمام لوگوں کے حق میں ہی بری ہے، مگر طلبہ دین، علماء کرام اور داعیان الی اللہ کے لیے یہ بہت ہی بری چیز ہے۔ یہ مرض عوام و خواص میں پھیل چکا ہے، بہت کم ہی لوگ ایسے ہوں گے جو اس سے محفوظ ہوں۔
بہترین امور اعتدال والے ہیں اور پاکیزہ اشیاء کے استعمال میں افراط سے بچنا چاہیے۔ اس لیے کہ افراط انسان کو عیش پرستی اور تکبر کی طرف لے جاتا ہے اس کی وجہ سے انسان شبہات میں واقع ہونے سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ جو انسان ان چیزوں کا عادی بن جائے ، اور کبھی کبھار یہ چیزیں اُسے نہ مل سکیں تو وہ صبر کا دامن چھوڑ کر حرام کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے جیسا کہ وہ انسان جو اپنے آپ پر تمام حلال چیزوں کو حرام کر لیتا ہے، وہ بھی اس کی وجہ سے راہ حق سے خارج ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں اور ہماری اولا دوں کی اصلاح فرما دے اور ہماری زندگیوں کو بقدر کفایت کر دے اور ہمارے معاملات کو سدھار دے۔ آمین
تبصرہ کریں