الجامع الکامل پروجیکٹ کی معنویت و افادیت۔ حافظ عبد الحسیب عمری مدنی

’الجامع الكامل فی الحديث الصحیح الشامل‘ تاریخ اسلام کی اس پہلی عظیم کاوش کا نام ہے جس میں تمام کتب حدیث سے اکٹھا کر کے جملہ صحیح احادیث کو یکجا کیا گیا ہے اور نقش اول جس حد تک بہتر ہو سکتا ہے اس اعتبار سے یہ بڑی ہی کامیاب کوشش ہے۔

امت مسلمہ کی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ میں فنِ حدیث کے ماہرین کم و بیش ہر دور میں رہے ہیں۔ خود ہماری اپنی صدی میں علم حدیث کے ماہرین اور اس کے خدام کی کوششیں اس قدر عظیم رہی ہیں کہ یہ دور بھی تاریخ اسلام کے سنہرے ادوار میں شمار کیا جائے گا۔ تا ہم تمام صحیح احادیث کو ایک کتاب میں جمع کرنا ایک ایسا غیر معمولی کارنامہ ہے جو تاریخ میں پہلی بار انجام پایا۔

ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی صاحب سے قبل کسی اور نے اس کی کوشش کیوں نہیں کی؟

اس سوال کا سب سے معقول جواب یہ ہے:

﴿ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا ﴾

’’یقیناً اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ طے کر رکھا ہے۔ ‘‘ (سورۃ الطلاق:3)

تاہم اگر مادی اسباب کی طرف دیکھیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ماضی بعید میں اس کے امکانات کم تھے۔ اس اجمال کی تفصیل جاننے کے لیے حدیث کی تدوین اور تہذیب سے متعلق کچھ بنیادی باتوں کا ہمارے علم میں ہونا ضروری ہے۔

عہد نبوی کے بعد جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مختلف صوبوں میں پھیل گئے تو ان سے احادیث نبویہ کوسن کر روایت کرنے والے راوی بھی بڑھتے گئے اور اسانید کی تعداد بھی حتی کہ تیسری صدی کے اختتام سے لے کر جب کہ حدیث کی مشہور و متداول کتابیں لکھی گئیں، پانچویں صدی تک جب کہ تقریباً تمام حدیثیں کتابوں میں درج کر لی گئیں ، صورتحال یہ تھی کہ اگر کوئی احادیث کے ذخیرے میں سے غالب حصے کا احاطہ کرنا چاہتا تو اسے لاکھوں اسانید کے ساتھ احادیث جمع کرنی ہوتی۔

امت میں ایسے عالم ضرور ہوئے جنہوں نے اس معرکہ کو بھی سر کیا اور لاکھوں حدیثیں یاد کیں، یاجمع کیں ۔ جیسے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“أحفظ مائة ألف حديث صحيح وأحفظ مائتي ألف حديث غير صحيح.”

’’مجھے ایک لاکھ صحیح اور دولاکھ غیر صحیح احادیث یاد ہیں۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء: 11؍415)

حتی کہ ان میں سے بعض محدثین کے متعلق یہ تک کہا گیا کہ جس حدیث کو فلاں محدث نہ جانتا ہو وہ حدیث ہی نہیں۔ جیسے امام احمد نے یحییٰ بن معین کے متعلق فرمایا ہے:

“كل حديث لا يعرفه يحيى بن معين فليس هو بحدیث .”

’’ ہر وہ حدیث جسے یحییٰ بن معین نہ جانتے ہوں وہ حدیث ہی نہیں ہے۔ ‘‘ (طبقات الحنابلہ :220)

متعدد جليل القدر محدثین سے متعلق ان جیسے کئی قول مروی ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ علماء لاکھوں احادیث کے حافظ تھے۔ تاہم کیا وہ تمام احادیث کا احاطہ کرنے میں کامیاب ہوے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے دو پہلو ہیں:

ایک یہ کہ تمام احادیث اپنے حافظے اور کتاب دونوں میں محفوظ رکھنا اس طرح کہ اکثر احادیث یا د ہوں اور جو یاد نہ ہوں وہ لکھی ہوئی رکھی ہوں۔ اس ناحیے سے محدثین نے بالخصوص ایسے محدثین جن میں سے بعض کا تذکرہ اوپر ہوا ہے اور انہی کے پایے کے دیگر محدثین نے قریب قریب تمام حدیثوں کا احاطہ کیا تھا، سوائے بعض احادیث کے جن کی حیثیت چند فی صد سے زیادہ نہیں۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان تمام احادیث کو یا ان میں سے صحیح احادیث کو یکجا کر کے ایک کتاب تصنیف کر دی جائے۔ اس حیثیت سے دیکھیں تو محدثین نے حدیثوں کا قریب قریب احاطہ تو کیا مگر ان میں سے کسی نے بھی ایسی تمام صحیح احادیث کو ایک تصنیف میں یکجا کرنے کا نہ عزم کیا نہ دعوی۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ اس قدر وسعت علم و حفظ کے باوجود اس زمانے میں احاطے کا دعویٰ کرنا مشکل تھا یا پھر اس دور میں اس دعوے کی اس قدر اہمیت نہیں تھی، کیوں کہ اس دور میں دارو مدار کتابوں سے زیادہ علماء کے حفظ واتقان پر تھا۔ اس سلسلے میں امام احمد سے ایک قول منقول ہے، جو انہوں نے اپنی سند کے بارے میں فرمایا ہے:”هذا الكتاب جمعته وانتقيته من سبع مائة ألف وخمسين ألفا ، فما اختلف المسلمون فيه من حديث رسول الله فارجعوا إليه ، فإن وجدتموه فيه وإلا فليس بحجة .”

’’میں نے یہ کتاب جمع کی اور اسے ساڑھے سات لاکھ احادیث میں سے منتخب کر کے لکھا ہے۔ اب مسلمان کسی بھی حدیث کے بارے میں با ہم اختلاف کر بیٹھیں تو تم اس کتاب کی طرف رجوع کر لو۔ اگر اس میں وہ حدیث نہ ملے تو سمجھ لو کہ وہ حدیث حجت بننے کے لائق نہیں ہے۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء: 11؍ 329)

امام احمد رحمہ اللہ کے مذکورہ بالا قول سے بظاہر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے اپنی مسند کے اندر تمام صحیح احادیث کا احاطہ کیا ہے لیکن دوسری طرف مسند احمد کی تمام احادیث کے صحیح ہونے کا کوئی دعوی امام احمد رحمہ اللہ نے نہیں کیا ہے۔ یعنی امام احمد رحمہ اللہ کے بقول تمام صحیح احادیث اس کتاب میں ہیں ، مگر اس کتاب کی تمام احادیث صحیح ہوں یہ ضروری نہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ مسند احمد میں بعض ضعیف احادیث بھی ہیں، ورنہ مسند احمد پہلی ’الجامع الکامل‘ ہو سکتی تھی۔

رہی بات مسند احمد میں تمام صحیح احادیث کے احاطے کی تو اس باب میں مسند احمد پر استدارک کی گنجائش باقی رہتی ہے، کیونکہ امام احمد رحمہ اللہ کی فن حدیث میں جلالتِ قدر کے باوجود اس وقت بھی بعض احادیث ایسی تھیں جو اس دور میں روایت کی جاتی تھیں مگر امام احمد رحمہ اللہ کی پہنچ سے باہر تھیں، اسی لیے امام ذہبی رحمہ اللہ نے امام احمدرحمہ اللہ کے مذکورہ قول پر استدراک کرتے ہوئے لکھا ہے:

“قلت : في الصحيحين أحاديث قليلة ليست في المسند .”

’’یعنی خود صحیحین میں بعض ایسی احادیث ہیں جو مسند میں نہیں ہیں۔ ‘‘ (سیر اعلام النبلاء :11؍ 329)

ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی صاحب نے بھی امام احمد رحمہ اللہ کے اس دعوے پر استدراک کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کے زمانے میں تمام احادیث کا اکٹھا کر لیا جانا ممکن نہیں تھا، جس کے کئی اسباب تھے۔ ان میں سے ایک اہم سبب یہ بھی تھا کہ بعض راویانِ حدیث تک امام احمد رحمہ اللہ کی پہنچ نہیں تھی۔ اس سلسلے میں امام ذہبی رحمہ اللہ کے حوالے سے امام احمدرحمہ اللہ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے:

“لوكان عندي خمسون درهما لخرجت إلى جرير (هو ابن عبد الحميد الضبي إلى الري .”’’اگر میرے پاس پچاس درہم ہوتے تو میں ری شہر جا کر جریر بن عبد الحمید الضبی سے علم حاصل کرتا ۔ ‘‘ (سیر أعلام النبلاء: 11؍ 183)

آگے بڑھنے سے قبل یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ لاکھوں کی اس تعداد سے مراد صرف مرفوع متون نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد مرفوع کے ساتھ ساتھ موقوف و مقطوع آثار وغیرہ سب ہیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“وكانوا يعدون في ذلك المكرر والأثر وفتوى التابعي ومافسر ونحو ذلك وإلا فالمتون المرفوعة القوية لا تبلغ عشر معشار ذلك .”

’’یعنی محمدثين جب یہ تعداد بتلاتے تھے تو اس میں مرفوع احادیث کے ساتھ ساتھ مکرر، مرفوع متون آثار صحابہ تابعین کے اقوال وغیرہ بھی شامل ہوتے تھے ، ورنہ صرف صحیح مرفوع متون اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ ‘‘ (سیر اعلام النبلاء: 11؍187)

تمام احادیث کے احاطے سے متعلق مذکورہ بالا صورت حال تیسری صدی کی ہے جب کہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے مطابق محض روایت پر دارومدار کا زمانہ اختتام کو پہنچ چکا تھا اور اس کے بعد بھی پانچویں صدی کے اختتام تک یہی صورت حال برقرار رہی۔ پانچویں صدی میں بچی کچی احادیث تمام کی تمام کتابوں میں جمع کر دی گئیں، حتی کہ محدثین کے نزدیک یہ ضابطہ بن گیا کہ پانچویں صدی کے بعد اگر کوئی راوی محض اپنی یادداشت سے کوئی روایت بیان کرے جس کی کتابوں میں کوئی اصل نہ ہو تو وہ مردود ہے۔

پانچویں صدی کے بعد جب کہ تمام حدیثیں کتابوں میں درج کی جا چکی تھیں، یہ ہونا چاہیے تھا کہ اب انہی کتابوں میں جمع شدہ اسانید کی تحقیق کر کے تمام صحیح احادیث یکجا کر دی جاتیں، مگر پھر بھی ایسا نہ ہوا، جس کی بنیادی طور پر دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں:

1۔ ایک وجہ تو یہ کہ لوگوں کی ضرورت اس کے بغیر بھی پوری ہو رہی تھی۔ احادیث کی معروف و متداول تصانیف کافی وشافی معلوم ہوتی تھیں۔

2۔ دوسری اور زیادہ اہم وجہ یہ کہ حدیثیں تو کتابوں میں درج ہوگئی تھیں ، مگر تمام کتابوں تک ہر ایک شخص کی رسائی ممکن نہیں تھی، کیونکہ یہ کتابیں پورے عالم اسلام کے مختلف صوبوں میں الگ الگ مصنفین نے لکھی تھیں اور اس دور میں کتابوں کی نقل تحریری طور پر ہی ہوتی تھی، جس کی وجہ سے تمام مصادر کو یکجا کر لینا خود ایک بڑا معرکہ سر کرنے جیسا تھا۔ پانچویں صدی سے پرنٹ کے دور تک کے علماء کی سوانح میں جابجا تذکرہ ملتا ہے کہ بعض بڑے علماء بھی بعض کتابوں کو دیکھنے سے قاصر رہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر (852ھ) کو مسند اسحاق بن راہویہ مکمل نہ ملی۔

ان دو بنیادی وجوہات کے علاوہ ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب نے ’الجامع الکامل‘ کے مقدمے میں مزید تین وجوہات کا تذکرہ فرمایا ہے:

1۔ مؤلفین کا منبع یہ تھا کہ وہ صرف وہی حدیثیں اپنی کتابوں میں درج کرتے تھے، جو اُن کی سنی ہوئی ہوں۔ یعنی وہ خود جن کے راوی ہوں۔ ایسی حدیثیں جو معروف تو ہوں لیکن ان کی مسموعات میں سے نہ ہوں ان کی روایت نہیں کرتے تھے۔ اس طرح جب سب احادیث سنی نہیں تو تمام کی روایت بھی خود اپنی سند سے ممکن نہیں، اس شرط کی وجہ سے احادیث کا احاطہ کسی کتاب میں کرنا نا ممکن تھا۔

2۔ صحیح احادیث پر مبنی کتابوں کے مؤلفین کے پیش نظر ہمیشہ یہ پہلور ہا کہ کتاب تمام موضوعات کو تو شامل ہو، تا ہم مختصر ہو ، تا کہ اس سے مستفید ہونے والے آسانی محسوس کر سکیں۔ بعض علماء نے اس ارادے سے کتاب لکھی کی کہ وہ تمام حدیثوں کو اکٹھا کریں گے مگر اس احاطے کا دائرہ صرف احکام کی احادیث تک محدود رکھا۔ جیسا کہ امام ابو داؤد نے اپنی سنن میں کیا، مگر وہ اس شرط کو بھی پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

تدوین حدیث سے متعلق یہ تفصیلات اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کے لیے کافی ہیں کہ طباعت کے زمانے سے پہلے تک مختلف اسباب اور وجوہات کی وجہ سے یہ ممکن نہ تھا ، یا اس طرف توجہ بھی نہ تھی کہ ایک کتاب میں تمام صحیح حدیثیں اکٹھا کر لی جائیں۔

اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ یہ صحیح حدیثیں محفوظ نہیں رہیں۔ صحیح احادیث امت کے پاس ہمیشہ سے محفوظ رہی ہیں، مگر ایک ہی شخص کے پاس یا ایک ہی کتاب میں نہیں۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”لا نعلم رجلا جمع السنن فلم يذهب منها عليه شيئ فإذا جمع علم عامة أهل العلم بها أتى على السنن وإذا فرق علم كل واحد منهم ذهب عليه الشيئ ، منها ثم كان ماذهب عليه منها موجودا عند غیرہ .”

’’ہمیں نہیں معلوم کہ ایسا بھی کوئی شخص ہے جو تمام احادیث کا جانکار ہو، اس طرح کہ اس سے کوئی حدیث نہ چھوٹے۔ البتہ اگر کوئی تمام محدثین کے علم کو اکٹھا کر پائے تو یقیناً تمام احادیث کو جان لے گا اور اگر ہر شخص کے علم کو اس کے پاس ہی رہنے دے تو کچھ نہ کچھ ہر شخص کے پاس کمی رہے گی ۔ البتہ جوحدیث ایک کے پاس نہ ہو وہ دوسرے کے پاس ضرور محفوظ ہوگی ۔ ‘‘ (الرسالۃ : 1؍340)

عصر حاضر میں کتابوں کی بکثرت طباعت، علم حدیث کی طرف لوگوں کی رغبت، مختلف یونیورسٹیوں میں تخصص کے طور پر فن حدیث کی تدریس اور ساتھ ہی دنیا کی بڑی لائبریریوں تک بہ آسانی رسائی حتی کہ مخطوطات تک پہنچ اور ساتھ ہی مشروع یا پروجیکٹ کی شکل میں تقسیم کار کے امکانات وغیرہ کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ اس دور میں یہ کام ہو۔ گویا اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ تھا کہ یہ عظیم کا رنامہ اس صدی کے حصے میں آئے۔ ان سارے اسباب کے میسر آنے کے باوجود اور حدیث کی تصحیح و تضعیف پر خصوصی محنت کے باوجود اس انداز میں سوچنے اور اس طرز پر کام کرنے کی یہ سعادت عصر حاضر کے بہت سارے اہل علم کو حاصل نہ ہوئی۔ خود محدث العصر شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس طرز پر کام نہیں کیا، حالانکہ فن حدیث میں ان کے اپنے کارنامے اپنی انفرادی نوعیت کی وجہ سے مجددانہ رہے ہیں۔ اللہ کی توفیق خاص سے یہ سعادت ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ کو حاصل ہوئی کہ تقریباً چودہ سو سال بعد انہوں نے اس عظیم پروجیکٹ کو پورا کرنے کا نہ صرف خواب دیکھا بلکہ دنیا سے رخصت ہونے سے قبل اسے مکمل بھی کر گئے۔

اس پروجیکٹ کی ابتدا کیسے ہوئی؟ کیسے ان کے ذہن میں یہ مشروع آیا ؟ اس کی بابت ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب نے ”الجامع الکامل” کے مقدمے میں یہ بیان کیا ہے کہ مختلف لوگوں نے ان کے سامنے بارہا اس قسم کی کوئی کتاب تصنیف کیے جانے کا مطالبہ رکھا، جب کہ اس کی ایک دوسری وجہ بھی ہے جس کا تذکرہ ڈاکٹر صاحب نے راقم کے سامنے کیا تھا، ممکن ہے دوسرے احباب کے سامنے بھی کیا ہو۔ ڈاکٹر صاحب نو مسلم تھے، تلاشِ حق کی جو جستجو انھیں اسلام تک لائی تھی وہ قبول اسلام پر آکر نہیں ر کی۔ اس جستجو نے اپنا سفر جاری رکھا۔ فطری طور پر اسلام تعلیمات اسلام اور مصادرِ اسلام سے متعلق تجسس اور استفسار کا جذبہ آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ایک دن دوران درس اپنے استاذ شیخ التفسیر سید عبدالکبیر عمری رحمہ اللہ سے پوچھ لیا کہ قرآن تو ایک جلد میں ہمارے سامنے ہے، اس طرح احادیث رسول بھی یکجا کہاں ملیں گی ؟ استاذ نے جواب دیا کہ اس کے لیے آپ کو لائبریری میں کتب احادیث کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر صاحب کا بیان ہے کہ یہ سن کر پہلے پہل دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ احادیث کو بھی قرآن کی طرح ایک جلد میں اکٹھا کر دیا جائے۔

یہ سوچ جس قدر فطری تھی اسی قدر معصوم بھی تھی۔ ان کو نہ اس کام کی وسعت کا اندازہ تھا، نہ اس کے لیے درکار وسائل اور جدوجہد کا ۔ آج یہ سوچ ایک واقعہ کا روپ دھار چکی ہے، لیکن جب اس سوچ نے جنم لیا تھا اس وقت کسی بھی ماہر فن یا علم دوست شخص سے اس کا تذکرہ کیا جاتا تو وہ اسے محض ایک دیوانے کا خواب سمجھتا، کیوں کہ اسلامی علوم وفنون میں علم حدیث اپنی تصانیف کے اعتبار سے سب سے زیادہ وسیع فن ہے، جس کی فروعات بھی بہت ہیں، لیکن ڈاکٹر صاحب کے جواں حوصلوں کا کمال دیکھیں کہ جو ایک بارٹھان لیا تو اس کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لیا۔

ڈاکٹر صاحب نے جامعہ دار السلام عمر آباد سے عالمیت اور فضیلت کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد سب سے پہلے فن حدیث میں تخصص کیا۔ سعودی عرب اور مصر کی مختلف یونیورسٹیوں سے بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں اسی تخصص میں حاصل کیں۔ پھر اسی شعبے میں تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ ساتھ ہی اسی فن کی مختلف فروعات میں کئی ایک تحقیقی کام کیے اور تقریبا ساٹھ سال کی عمر تک اس فن کے تمام پہلوؤں کو سیکھتے ، پر کھتے اور برتتے رہے اور پھر ریٹائر منٹ کے بعد اپنی زندگی کے اس عظیم پروجیکٹ کو اپنی صبح و شام کا مشغلہ بنالیا۔ ملنے ملانے والوں سے ہمیشہ یہی کہتے کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری زندگی میں مزید دس سال دے دے، تاکہ میں اپنا پروجیکٹ مکمل کر سکوں۔ اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ پروجیکٹ نے توقع سے بڑھ کر وقت لیا اور پورے بیس سال لگ گئے۔ ڈاکٹر صاحب خود لکھتے ہیں:

“وقد استغرق تأليفه نحو عشرين سنة متتالية عملت خلالها ليل نهار منقطعا عن الزيارات واللقاءات تاركا الأسفار والرحلات معتذرا عن حضور الندوات والمؤتمرات .”(مقدمہ الجامع الكامل )

اس کتاب کی تالیف میں بیس سال لگ گئے جن میں میں نے رات دن کام کیا لوگوں کی ملاقات وزیارت اسفار، کانفرنسوں وغیرہ سے کٹارہا۔ ‘‘

اللہ نے عمر بھی دراز کی اور صحت بھی برقرار رکھی جتی کہ الجامع الکامل کی پہلی طباعت (1436ھ) کے بعد بھی شیخ یہ کہتے تھے : ’’ابھی اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔‘‘ یہاں تک کہ طبع ثانی (1440ھ ) میں شائع ہوئی تو شیخ نے اطمینان کا سانس لیا اور اسی طباعت کو معتمد و مستند قرار دیا اور اس کے بعد زیادہ دن با حیات بھی نہ ر ہے اور 9 ذی الحجہ 1441ھ کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ غفر الله له …

یہ پروجیکٹ امت کے لیے کسی عظیم تحفے سے کم نہیں ہے اور اس کے پیچھے کس قدر محنت لگی ہے اس کا اندازہ درج ذیل چند حقائق سے لگایا جا سکتا ہے:

1۔ پروجیکٹ کا سب سے پہلا مرحلہ یہ تھا کہ اس بات کا پتا لگایا جائے کہ احادیث کہاں کہاں پائی جاتی ہیں۔ کیونکہ متداول و معروف کتابوں کے علاوہ بیسیوں کتابیں ایسی بھی ہیں جو غیر معروف ہیں، یا وہ کتب حدیث کے طور پر معروف نہیں ہیں۔ بسا اوقات رواۃ کے تراجم سے متعلق کتابوں میں بھی بعض مسند احادیث مروی ہوتی ہیں۔ ان تمام کا احاطہ کرنا یہ پہلا بنیادی مرحلہ تھا۔ ڈاکٹر ضیاء الرحمن صاحب نے اپنی تقریباً چالیس سالہ زندگی اس فن سے جڑے رہ کر گزاری، جس کے نتیجے میں یہ مرحلہ بحسن و خوبی انجام کو پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول ایسی کتابیں دوسو سے زائدہ ہیں جن میں احادیث سند کے ساتھ مروی ہیں۔ ان میں سے تقریباً 165؍ا ر کتابیں اکٹھا کر لی گئیں۔ باقی ماندہ کتابوں کے بارے میں جول نہ سکیں ڈاکٹر صاحب کا اندازہ یہ تھا کہ ان میں وہی احادیث جوان165؍ر کتابوں میں مروی ہیں دیگر اسانید سے وارد ہوں گی، لہٰذا اسانید سے صرف نظر صرف نئے متون کا اعتبار کریں تو زیادہ سے زیادہ مزید پانچ فی صدمتون ان کتابوں میں ہو سکتے ہیں۔ بقیہ پچانوے فیصد متون ان حاصل شدہ کتابوں میں سے اکٹھا کر لیے گئے ہیں۔ ان 165کتابوں کی فہرست ڈاکٹر صاحب نے الجامع الکامل کے مقدمہ میں پیش کر دی ہے۔

2۔ دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ حدیث کی مذکورہ بالا تمام کتابوں سے احادیث کو نکال کر یکجا کیا۔ ان کتابوں میں ڈاکٹر صاحب کے اندازے کے مطابق تکرار کے بغیر تقریباً چالیس ہزار متن تھے ( تقریباً آٹھ ہزار کتب ستہ میں 19 ہزار مجمع الزوائد میں ( مجمع الزوائد میں درج ذیل کتابوں کی وہ زائداحادیث ہیں جو کتب ستہ میں نہیں ہیں، مسند أحمد، مسند البزار،مسند ابی یعلی اور طبرانی کی تینوں معاجم کبیر صغیر اور اوسط] اور ان کے علاوہ اہم بارہ کتابیں ہیں، جن میں تقریبا دس ہزار متن)۔ حدیث کے متون کی اس تعداد میں صرف مرفوع احادیث شمار کی گئی ہیں اور شیخ نے ذکر کیا ہے کہ ذاتی تخمینے کے بعد دیکھا کہ امام سیوطی رحمہ اللہ کا تخمینہ بھی اس عدد کے بالکل قریب ہے۔ امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“الأحاديث الصحاح التي بين أظهرنا بل وغير الصحاح لو تتبعت من المسانيد والجوامع والسنن والأجزاء وغيرها لما بلغت مائة ألف بلا تكرار بل ولا خمسين ألفا .”’’ جو صحیح احادیث ہمارے سامنے موجود ہیں بلکہ غیر صحیح کو بھی شامل کر لیں اور ان کو مسانید جوامع سنن اور اجزاء وغیرہ سے اکٹھا کر لیا جائے تو سب کی سب مل کر بغیر تکرار کے ایک لاکھ تک بھی نہیں پہنچتیں، بلکہ پچاس ہزار تک بھی نہیں۔ ‘‘ (تدریب الراوی: 1؍106)

الجامع الکامل کی پہلی اشاعت کے مقدمے میں ڈاکٹر صاحب نے یہی چالیس ہزار کی تعداد لکھی ہے۔ بعد میں ڈاکٹر صاحب مرفوع متون کی تعداد تقریبا پچاس ہزار بتلاتے تھے۔ یہ بات میں نے خود ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے آخری ایام میں شخصی ملاقات میں ان سے سنی ہے اور یہ بھی پتا چلا کہ مسجد نبوی کے درس میں بھی ڈاکٹر صاحب بارہا یہی تعداد بتلایا کرتے تھے۔

3۔ یہ چالیس یا پچاس ہزار متن مذکورہ کتابوں میں مجموعی طور پر تقریباً تین لاکھ اسانید سے مروی تھے۔

4۔ ان اسانید میں راویان حدیث کی تعداد تقریبا پچاس سے ساٹھ ہزار تک ہے۔ تین لاکھ اسانید، تقریبا پچاس ہزار متن اور پچاس ہزار رواۃ کے جائزے اور تفصیلی تحقیق پر مبنی یہ عظیم کام کس قدر غیر معمولی تھا اس کا اندازہ کوئی بھی صاحب علم بخوبی لگا سکتا ہے۔ اس عظیم پروجیکٹ کو ڈاکٹر صاحب نے خود پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے، جس میں انہوں نے پورے 20 سال میں پانچ فنِ حدیث کے ماہر ایم اے اور پی ایچ ڈی کے طلبہ سے مدد لی ، جن کا اس پروجیکٹ میں حصہ اس قدر تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے طے کردہ خطہ اور خاکہ کے مطابق ڈاکٹر صاحب کے ساتھ وہ مکتبہ میں ایک ایک حدیث سے متعلق معلومات اکٹھا کر کے لاتے اور انہی کے طے کردہ طریقے کے مطابق ابتدائی تحقیق کر کے ڈاکٹر صاحب کے سامنے پیش کرتے۔ ڈاکٹر صاحب جو خود بھی ان کے برابر تخریج اور تحقیق میں لگے ہوتے، ان معاونین کے کام کا از اول تا آخر حرف بہ حرف مراجعہ کرتے ، ان معاون طلبہ کے کام میں اپنی صوابدید کے مطابق رد و بدل اور اصلاح کرتے۔ بسا اوقات ایک ایک حدیث پر رک کر بعض دیگر محققین کی تحقیق کے ساتھ موازنہ کر کے بتلاتے کہ کہاں ان سے اتفاق ہے اور کہاں اختلاف اور اختلاف کی وجہ کیا ہے۔ اس طرح یہ کام نہ ایسا پروجیکٹ تھا جس پر کام تو محققین کی ایک ٹیم انجام دیتی ہے مگر پروجیکٹ کے نگران اپنے نام سے شائع کر لیتے ہیں اور نہ ہی ان معاونین کی حیثیت محض ایک محرر کی تھی جو صرف لکھے اور مزید اس کا کوئی حصہ نہ ہو۔ وہ خوش نصیب اہل علم جنہوں نے اس پروجیکٹ پرفن حدیث کے معاون کی حیثیت سے کام کیا درج ذیل ہیں: دکتور کمال قالمی (الجزائر)، دکتور عیسی جا کیتی ( کینیا)، دکتور عبید الرحمن (ہندوستان)، دکتور یوسف ابوطلحہ (ہندوستان)، دکتور عبد الحلیم بسم اللہ (نیپال)۔ آخر الذکر نے اس پروجیکٹ پر سب سے زیادہ وقت تقریباً آٹھ سال صرف کیا ہے۔ ان پانچ شخصیات کے علاوہ مزید بعض افراد اور اہل علم سے فن حدیث کے مسائل سے ہٹ کر پروجیکٹ کے دیگر معاملات میں ڈاکٹر صاحب نے مدد لی ہے۔

اس عظیم پروجیکٹ کا ثمرہ جو ڈاکٹر صاحب نے پیش کیا وہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر صحیح احادیث کی تعداد 16546ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا ابتدائی اندازہ یہ تھا کہ صحیح احادیث کی مجموعی تعداد بارہ ہزار سے پندرہ ہزار تک ہو سکتی ہے، جس کا تذکرہ آپ نے ’الجامع الکامل‘ طبع اول کے مقدمے میں فرمایا ہے۔ تاہم ’الجامع الکامل‘ کی دوسری طباعت میں جس کو شیخ معتمد قرار دیتے تھے، صحیح احادیث کی تعداد 16546ہے۔

واضح رہے کہ اس میں صرف مرفوع احادیث شامل ہیں، موقوف یا مقطوع روایات کو شیخ نے ذکر نہیں کیا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی کہ صحیح کی اصطلاحی تعریف پر بس نہیں کیا ہے، بلکہ اسے عرفی معنے میں استعمال کیا ہے، جس میں حسن درجے کی احادیث بھی شامل ہیں۔ آپ چاہیں تو شیخ کی اس اصطلاح کو مقبول کے معنے پر محمول کر سکتے ہیں ، یا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام مسلم کی طرح کتاب میں اصل اعتبار واعتماد تو صرف صحیح پر ہے، ضمناً حسن درجے کی روایتوں کو بھی کتاب میں جگہ دے دی ہے۔ شیخ نے خود لکھا ہے :

” فلما رأيت كل ذلك شعرت بأهمية تأليف كتاب يجمع الصحاح والحسان والجياد من الأحاديث المسندة المرفوعة المتفرقة في دواوين السنةفاستخرت الله سبحانه وتعالى . ..” ( مقدمۃ الجامع الكامل)

یہ جانکاری بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ بعض حضرات کے اس استفسار پر کہ بعض احادیث ضعیف ہونے کے باوجود بعض مسائل میں مشہور ہو چکی ہیں ان کی پہچان کیسے ہو پائے گی ؟ ڈاکٹر صاحب نے پہلے پہل یہ موقف اپنایا کہ اگر وہ حدیث میری کتاب میں نہ ملے تو جان لیں کہ وہ ضعیف اور نا قابل حجت ہے۔ جیسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی کتاب مسند احمد کے بارے میں فرمایا تھا: ”اب مسلمان کسی بھی حدیث رسول ﷺ کے بارے میں باہم اختلاف کر بیٹھیں تو تم اس کتاب کی طرف رجوع کرلو۔ اگر اس میں وہ حدیث نہ ملے تو سمجھ لو کہ وہ حدیث حجت بننے کے لائق نہیں ہے۔ ‘‘ (سیر اعلام النبلاء:11؍ 329)

تاہم پھر ڈاکٹر صاحب کی رائے تبدیل ہوئی اور آپ نے ضمناً ایسی مشہور مگر ضعیف احادیث کا بھی تذکرہ اپنی کتاب میں کر دیا ہے مگر ان حدیثوں کو الگ سے کوئی نمبر نہیں دیا یہ بتلانے کے لیے کہ یہ الجامع الکامل کا حصہ نہیں ہیں۔ احادیث کی مذکورہ بالا تعداد 16546صرف صحیح احادیث کی ہے۔ یہ ضعیف احادیث ان میں شامل نہیں ہیں۔ کتاب میں جس طرح بعض فقہی فوائد کا تذکرہ ہوا ہے اسی طرح ان احادیث کے ضعیف ہونے کو بتلانے کے لیے اور اس پر تنبیہ کے لیے انہیں درج کر دیا گیا ہے۔ ان ضعیف احادیث کے ذکر کرنے کے بھی دو طریقے ہیں:

جو حدیثیں ضعیف ہیں لیکن ان کا ضعف شدید نہیں ہے انہیں وفی الباب ‘ کے عنوان کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اور جن حدیثوں کا ضعف شدید ہے یا وہ موضوع ومن گھڑت ہیں انہیں”وأما ما روي “کے تحت بیان کیا ہے۔

اس طرح ’الجامع الکامل‘ تمام صحیح احادیث کی جامع کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ حدیث کی کتابوں میں مزید دو حیثیتوں سے ممتاز ہوگئی۔ ایک تو یہ کہ ان میں صرف مرفوع حدیثیں ہیں اور دوسری یہ کہ ان میں صرف صحیح ( مقبول ) احادیث ہیں۔ عام طور پر ’الجامع الکامل‘ سے پہلے کتابیں صحیح بھی ہوں تو مرفوع و موقوف سب کو شامل ہوتی تھیں، جیسے صحیحین۔

اور دوسری یہ کہ ان میں سے اکثر صحیح کے ساتھ بعض ضعیف احادیث پر بھی مشتمل ہوتی تھیں، جیسے کتب ستہ ، مسند احمد اور موطا مالک وغیرہ۔ الجامع الکامل حدیث کی وہ پہلی کتاب بن گئی جس میں تمام صحیح اور صرف مرفوع احادیث یکجا ہیں۔ (جاری ہے)

تبصرہ کریں