
مختلف خطرات ، اندیشوں اور پیشن گوئیوں کے برخلاف رونالڈ ٹرمپ نے بالآخر دوسری مرتبہ امریکی صدارت کا حلف اٹھا ہی لیا، گزشتہ الیکشن میں بائیڈن کے مقابلہ میں وہ شکست کھا گئے تھے، ان کے طرفداروں نے امریکی روایات کے برخلاف انتقال اقتدار کی راہ میں سخت رکاوٹیں کھڑی کر کے نئی تاریخ رقم کی، کچھ نے تو کیپٹل ہل ہی پر ہلہ بول کر توڑ پھوڑ کی اور ممبران پارلیمینٹ کو وہاں سے جان بچا کر بھاگنا پڑا ، اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے حمایت یافتگان کی اس شرمناک حرکت کے بعد میدان سیاست سے باہر ہو چکے ہیں، اب امریکی سیاست میں ان کا کوئی مقام نہیں رہا۔ لیکن
یہ بازار سیاست ہے یہاں کچھ بھی ممکن ہے،
یہاں منڈیاں لگتی ہیں، نیلامی ہوتی ہے، ضمیروں کی ، عزتوں کی، مفادات کی، عقائد ونظریات کی، یہاں اپنے پرایوں کا خون بہتا اور بہایا جاتا ہے۔
امریکی روایات اور کلچر کے بر خلاف تقریب حلف برداری کو بڑی حد تک محدود رکھنے کی کوشش کی گئی ، کھلے عام تقریب کے انعقاد، سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر محفوظ ہال میں یہ رسم انجام دی گئی، ویسے سرد موسم بھی سازگار نہیں تھا، توقع کی جا رہی تھی کہ امریکہ کی دو ریاستوں میں بھڑکنے والی خوفناک آگ کے سبب شاید تقریب کے بجائے آفس میں حلف برداری کے بعد کام شروع کر دیا جائے گا۔
اس یادگار مناسبت میں شرکت کے لئے سیاسی رہنماؤں سے زیادہ کاروباری شخصیات مدعو تھیں، جو صدر کی ترجیحا ت کا عندیہ دے رہی تھیں، تاہم امریکی روایات کے مطابق مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شعبوں کے نمائندے بھی کسی حد تک شریک رہے، سابق صدور اور اعلیٰ عہدیداروں کی شرکت بھی مثبت پیغام دے رہی تھی کہ آپسی اختلافات کے باوجود ملکی مفادات کیلئے ہم متحد ہیں۔
غور طلب بلکہ خوشگوار پہلو یہ تھا کہ صدر نے افتتاحی تقریر میں اور مذہبی پیشواؤں نے ایک نکتہ پر زور دیتے ہوئے کئی بار اس کا اعادہ کیا کہ ہمارا بھروسہ خدا پر ہے :
IN GOD WE TRUST
صدر نے تو یہاں تک کہا کہ ہم اپنے خدا کو فراموش نہیں کر سکتے :
We will not forget our GOD
ہالی ووڈ میں تصور خدا سے متعلق ایک عجیب سا واقعہ آگ لگنے سے کچھ دیر پہلے پیش آیا، جس میں امریکی کلچر کو خدا بیزار کلچر بتایا گیا تھا۔ نیز صدر نے رنگ ونسل اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں کی تقسیم کے بجائے زور دے کر کہا کہ اب ملک میں صرف دو ہی جنس مرد اور عورت کا ہی اعتبار ہوگا، یہ جملہ ٹرمپ کے منہ سے اچھا اس لیے لگا کہ انہیں عموماً دائیں بازو سفید فام گروه کا حمایتی تصور کیا جاتا ہے۔ گویا اب امریکا میں لوگوں کو اخلاق و کردار اور صلاحیت کی بنیاد پر اہمیت دی جائے گی، جس کا قرآن مجید میں بہت پہلے ذکر کیا گیا:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ (سورۃ الحجرات :13)
آخری نبی ﷺ نے مختلف موقعوں پر اس کی تاکید فرمائی تھی ، تمام انسان اولاد آدم ہیں اور آدم مٹی سے تخلیق کئے گئے ہیں ۔ ( جامع ترمذی )
لیکن اس آفاقی پیغام کو عرب و عجم میں بڑی حد تک فراموش کر دیا گیا ۔
امریکا کی دو ریاستیں کیلیفورنیا اور لاس اینجلیس میں بھڑک اٹھی آگ نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا، دنیا کا طاقتور ترین ملک اور متمول ترین ریاست اپنی ساری ٹیکنالوجی اور ترقی کے باوجود ایک ہفتہ تک آگ پر قابو پانے میں ناکام رہے، اس آگ سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کا تخمینہ لگانے میں کئی دماغ سرگرداں ہیں، ابھی تک مرنے والوں کی بھی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں ہو سکا، پولیس اس آگ میں جھلسنے والی انسانی لاشوں کی باقیات REMAININGS تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ کچھ لوگ اس آگ سے جان بچا کر بر وقت نکلنے میں ناکام ہو کر جھلس گئے تھے۔
موت کسی کی بھی ہو افسوسناک ہے اور اگر قدرتی آفات کی زد میں آکر کوئی مرے تو اور زیادہ تکلیف ہوتی ہے، انسانی زندگی کا خاتمہ خود تکلیف دہ ہے، آگ کی اذیت تو مزید سخت ہوتی ہے، وہ چاہے آتشیں اسلحہ کی شکل میں کہیں گولے اوربم برسا کر ہو یا کہیں لوگوں کی بھڑکائی ہوئی ہو یا قانون فطرت کے تحت لگی آگ ۔ چاہے اس کا رخ امریکا کی طرف ہو یا خلیج عربی، چاہے کیلیفورنیا اور لاس اینجلیس ہو یا فلسطینی اور شام کا علاقہ ہو.۔
اس نازک اور افراتفری کے ماحول میں کئی مساجد ، مسلمان، عیسائیوں اور کنیساؤں کی جانب سے متاثرین کی مدد کی جا رہی ہے، جو قابل قدر جذبہ ہے، لیکن برا ہو میڈیائی تعصب کا اعلان کیا جا رہا ہے کہ
اہل کنیسا کی یا اور کچھ مذہبی تنظیمیں رفاہی کیمپ لگا کر پریشان حال لوگوں کی مدد کر رہے ہیں ، لیکن مساجد اور مسلمان کہتے ہوئے اس موقع پر بھی ان کے حلق خشک ہونے لگتے ہیں، دراصل میڈیا کو عادت سی ہو چلی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو نمایاں کو ریج منفی قسم کی خبروں اور تبصروں میں دی جاتی ہے اور جہاں ان کی نیک نامی کا پہلو نکلے وہاں طوطا چشمی سے کام لیا جاتا ہے۔
کیلیفورنیا میں آتش زدگی کا واقعہ نیا نہیں، وہاں گھنے باغات اور درختوں کے جھنڈ کے باعث گرم موسم میں اس کا خطرہ رہتا ہے، لیکن جس انداز کی اب آگ بھڑک اٹھی وہ سابقہ ریکارڈ توڑنے والی اور ناقابل فہم آگ تھی ۔ یہ امریکہ کی خوشحال ترین ریاست ہے، وہ یہاں آئی ٹی کا ہب ہے ، اس کا ریاستی بجٹ کئی ممالک کے مرکزی بجٹ سے زیادہ ہے اور لاس اینجلس اور اسی میں فلمستان ہالی ووڈ واقع ہے۔وہ کونسی برائیاں ہیں جو یہاں نہ ہوتی ہوں گی ، دنیا کے مہنگے قحبہ خانے، جو اخانے، شراب خانے یہاں پائے جاتے تھے، دنیا کی رنگ رلیوں میں مست لوگ دین بیزار اور رب بیزار کلچر کے دلدادہ تھے ،آتش زدگی سے کچھ ہی پہلے وہاں گولڈن گلوب کی جانب سے فلمی مقابلے جاری تھے، نئی بننے والی کس فلم کا کیا درجہ ہے وغیرہ، ان میں ایک فلم تھی ، خدا ہی دنیا کا خالق ہے:
God is the creator of the World
اس کا درجہ سب نیچے تھا، اناؤنسر نے اس موقع پر یہ جملہ کہا کہ خدا بیزار معاشرہ میں ایسی فلموں کے لیے یہ درجہ تعجب خیز نہیں اور اب رب بیزار دہریے ملحد یہ دہائی دے رہے ہیں کہ خدا کی مدد کب آئے گی! طاقت، ٹیکنالوجی اور وسائل کے دعویدار ہواؤں کے جھونکوں کے آگے بے بسی اور درماندگی سے ہاتھ مل رہے ہیں اور بار بار قوانین قدرت اور فطرت کی دہائی دی جا رہی ہے:
﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾ (سورۃ یوسف: 12)
’’اللہ ہی اپنے فیصلہ پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔ ‘‘
رفاہی تنظیموں کی جانب سے ان بے گھروں اور پریشان حال لوگوں کی فوری مدد کے لیے جو سامان پہنچایا جا رہا ہے، ان میں کچھ اشیاء غور طلب بلکہ باعث عبرت ہیں کہ کب کسی پر کیا افتاد آتی ہے، پینے کے پانی کی بوتلیں، اشیاء خورد و نوش، سامان صفائی ٹوتھ برش، پیسٹ استعمال شدہ اور نئے کپڑے تن ڈھانکنے کے لیے، عارضی طور پر لگائے گئے خیموں میں مساجد اور چرچ کمیٹیوں کی جانب سے جب مذکورہ چیزیں رکھ دی گئیں کہ ضرورت مند آئیں اور اپنی احتیاج کے مطابق چیزیں مفت میں چن لیں ، جہاں دینے والوں کا اور رضا کاروں کا جذبہ لائق ستائش ہے کہ مشکل گھڑی میں سہارا بننے کی کوشش کی گئی وہیں حاصل کرنے والے بھی دوسروں کے لیے نشان عبرت بن گئے کہ یہ امدادی سامان حاصل کرنے کے لیے وہ لوگ بھی بیتاب تھے جو چند روز قبل تک امیر ترین اور دنیا کے مہنگے ترین گھروں میں مقیم تھے. جن کی دولت کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں تھا، ان میں فلمی دنیا کے مشاہیر، شو بزنس کے سرکرده ، صنعتکار ، عالمی تاجر وغیرہ شامل ہیں ۔
اسی علاقہ میں ہالی ووڈ فلمستان واقع ہے، یہاں کے بعض علاقے تخیلاتی قسم کی خوبصورتی اور زیبائش سے آراستہ تھے ، افسانوی طرز زندگی دولت کی ریل پیل اور ہر طرح کی سہولتیں میسر تھیں، اس چمک دمک کو دیکھ کر کمزور ایمان والے بجا طور پر فتنہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں لیکن پختہ ایمان والوں کا یقین مزید مضبوط ہوگا کہ رہے ذو الجلال نے پہلے ہی سے اس کی خبر دے رکھی ہے۔
اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی ڈگر پر چل پڑیں گے، ہم رحمٰن کا انکار کرنے والوں کو مزید نوازتے، ان کے گھروں کی چھتوں اور سیڑھیوں کو دیدہ زیب چاندی اور سونے کی بنا ڈالتے ،کیونکہ یہ سب حیات فانی کی چیزیں ہیں ، اور آخرت اور اس کی سدا بہار نعمتیں آپ کے پروردگار کے متقی بندوں کے لئیے ہیں ۔ (سورۃ الزخرف: 35)
یہ زوال پذیر فانی زندگی کی چمک دمک اور عارضی چکا چوند نہ جانے کب چھن جائے، وہاں مومن بندوں کے لیے جو نعمتیں ہیں، وہ انسانی تخیل و تصور سے بھی ماورا اور لذیذ تر ہوں گی، جن کے زوال کا کبھی خطرہ نہیں ہوگا۔
زندگی کی اسی چمک دمک نے ان میں بیشتر کو خود فراموش بنا دیا تھا کہ فلسطین میں روا رکھے گئے مظالم پر وہ شادیانے بجاتے رہے اور اکثر نے آنکھیں موند لیں تھیں، جب ہزاروں معصوم بچے خواتین اور بوڑھوں کو بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا جا رہا تھا ، ہر درد دل رکھنے والا حساس شخص تڑپ رہا تھا، مائیں جنگ بندی کی فریاد کر رہی تھیں اور معصوم بچے دہائی دے رہے تھے، ان سوختہ دلوں کی فریاد کا جواب بعض فلمی دنیا سے وابستہ افراد جیسے جیمس وو ڈ نے انتہائی تلخ انداز میں کہا کہ
No cease fire
فلسطینیوں پر برسائی جانے والی آگ میں کمی نہ کی جائے، ان کے لیے رحم کی گنجائش نہیں، آج جب یہ علاقہ آتشی شعلوں کی زد میں تھا اور کل کا کروڑ پتی جیمس ووڈ اپنے کروڑوں ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے گھر کے ملبہ پر ٹھہر کے آنسو بہا رہا تھا تو کچھ دل جلوں نے اسی کے الفاظ میں جواب دیا کہ
No cease fire
صرف انہوں نے غزہ کی جگہ لاس اینجلس لگا کر رستے زخموں پر مزید نمک پاشی کی۔
یااللہ آگ نہ بجھے ، شاید اسی کو کہتے ہیں :
“الجزاء من جنس العمل”
’’جیسی کرنی ویسے بھرنی۔‘‘
فلسطینی عوام اور علاقوں پر اندھا دھنا بمباری ہو رہی تھی ، ان و حشیانہ مظالم پر جو لوگ جشن مناتے رہے، جنہوں نے بربریت کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی دولت، عہدہ، منصب اور اختیارات کا بے دریغ استعمال کیا ، اب جب یہاں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں، دنیا کا طاقت ور ترین ملک اور متمول ریاست بنیادی سہولتوں سے محرومی کا تجربہ کر رہی ہے، آگ بجھانے کے لیے آبی وسائل کی قلت کا سامنا ہے ، سپر پاور ملک کی ساری ٹیکنالوجی ، قدرتی آگ کے آگے دھری کی دھری رہ گئی۔
﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ (سورۃ الروم: 41)
’’خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا تا کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا مزہ چکھایا جائے شاید کہ وہ باز آجائیں ۔‘‘
وسائل کی فراہمی کے باوجود ایک ہفتہ گزر گیا، آگ پر پوری طرح قابو نہیں پایا جاسکا بلکہ آگ کے مزید بگولوں کی آمد کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے:
﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ ﴾
’’بلا شک و شبہ تمہارے رب کی گرفت بڑی مضبوط ہے۔‘‘ (سورۃ البروج: 12)
امریکی صدر ٹرمپ نے چند ہی روز قبل کہا تھا کہ اگر میرے عہدہ صدارت سنبھالنے سے قبل اسرائیلی گرفتار شدگان کو آزاد نہ کیا گیا تو علاقہ کو جہنم بنا ڈالوں گا، سابق صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ ہم بہت طاقتور ہیں، کوئی طاقت ہمارے آگے ٹھہر نہیں سکتی، اس دعویٰ کے چند ہی دنوں بعد دو امریکی ریاستیں کیرولینا اور فلوریڈا طوفان کی زد میں آئیں، یہ تو رب رؤف ورحیم کا کرم ہوا کہ طوفان کی شدت ساحل تک پہنچتے پہنچتے گھٹ گئی۔
صدر بائیڈن نے تو اعلان کر دیا تھا، اس علاقہ سے جلد نکل جاؤ، ورنہ ہم تمہیں کفن بھی دینے کے قابل نہیں ہوں گے، کیونکہ ماہرین نے ان کو اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر اگر طوفان کی شدت ایسے ہی باقی رہی تو علاقہ کی 80 (اسی) فیصد آبادی ختم ہو جائے گی.۔تاہم اربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔
اور موجودہ صدر نے مشرق وسطی کو جہنم بنانے کا اعلان کیا ، پھر آسمانی قہر دو ریاستوں پر آگ برسانے لگا، دیکھتے ہیں دیکھتے کیلیفورنیا اور لاس اینجلیں آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آگئے، خوشحال ریاست ، متمول لوگ اور پر تعیش زندگی کے دلدادہ پلک جھپکتے میں بنیادی سہولتوں سے تک محروم ہو گئے، زمین پر انسان کا پلان کچھ ہوتا ہے اور قدرتی پلان کچھ اور ہوتا ہے۔ صدر نے پہلے دور اقتدار میں میکسیکو کے خلاف سخت زہر افشانی کی تھی، وہاں سے آنے والے مزدوروں پر پابندی عائد کی بلکہ انہیں روکنے کے لیے دیوار کھڑی کی، اس مصیبت کی گھڑی میں وہیں سے لوگ آئے کہ ہم تمہاری بے بسی میں انتقام لینے کے بجائے آگ بجھانے میں مدد کریں گے۔ وہ تمہارا ظرف تھا ہمارے خلاف اور یہ ہمارا ظرف ہے تمہارے بارےمیں ۔
صدر نے کینیڈا کو بھی چند روز قبل بڑی حقارت سے مشورہ دیا تھا کہ کینیڈا امریکا کی چھاؤنی بن جائے تو زندگی کی زیادہ سہولیتیں حاصل کرپائے گا۔ آج اس مصیبت میں اسی کینیڈا نے آگ پر قابو پانے کے لیے اپنے افراد اور سامان روانہ کیا، قدرتی لاٹھی بھی دیکھئے کہ صدر نے جن دو ملکوں کے بارہ میں گل افشانی کی اس نازک گھڑی میں ان ہی دونوں ملکوں نے راحت رسانی کی کوشش کی، ان کی مدد صدر اور حکمران ٹولہ کے منہ پر خاموش طمانچہ ہے۔گویا ان عنایات پر کہہ رہے ہوں:
ہم نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
٭٭٭
سلو کی ایک شریف طینت شخصیت بھی عقبیٰ کی طرف چل بسے!
بہت نیک صفات کے حامل تھے، سلو میں پوجس لین کی مسجد میں بڑا جنازہ۔ ڈڈلی کے ڈاکٹر راجا منیر کے بڑے بھائی جناب عباد محمد ایڈووکیٹ نمونیہ کے مرض میں سلو ہسپتال میں 65 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
مرحوم انتہائی شریف الطبع اور اچھے اخلاق سے متصف تھے، جنازہ میں آئے ہوئے بہت سارے اقارب و احباب، ور فقاء کی زبان پر ان کے اخلاق حمیدہ، ذکر خیر تھا۔ پسماندگان میں دو بیٹے وقاص محمد اور وہاب محمد اور اہلیہ سوگوار ہیں۔ سلو مسجد پوجس میں بہت بڑا جنازہ تھا اور سلو میں ان کی تدفین عمل میں آئی، سلو کے خان فاروق خان مرحوم کے ہم زلف تھے۔ جنازہ میں جناب عبد اللہ خالد جنجوعہ، جناب محمد نصیر بھی شریک جنازہ تھے۔ ڈڈلی سے تقریباً سارے ہی رشتہ دار شریک جنازہ تھے، راجا ندیم، حاجی ظفر جنجوعہ، جناب عابد محمود جنجوعہ، جناب آصف محمود زرگر، حاجی ثاقب شبیر، جناب نبیل شبیر، جناب محمد عمر بھی شامل تھے۔ تعزیت کرنے والوں میں مولانا شعیب احمد میرپوری، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا محمد عبد الہادی العمری، حاجی ذوالفقار قریشی، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور دیگر علمائے کرام اور قائدین جمعیہ نے ڈاکٹر راجا منیر سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
زندگی موم ہے جل جل کے پگھل جاتی ہے
اسی طرح موت کے سانچے میں وہ ڈھل جاتی ہے
تبصرہ کریں