عصر حاضر کے عظیم محدث علامہ الشیخ محمد ناصر الدین البانی۔ مولانا محمد عبد الہادی العمری

اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میں ایسے علماء پیدا کیے جنہوں نے اپنی علمی ،بصیرت، بلند ہمتی اور بے لوث جذبہ کے ساتھ امت کی رہنمائی کی ، تعلیمات اسلامی کے چشمۂ صافی کو پراگندہ خیالات اور مشتبہ باتوں سے گدلا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا، کیونکہ یہ دین اللہ نے نازل فرمایا، جو قیامت تک آنے والوں کے لیے آخری پیغام ہدایت ہے ، اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود اللہ رب العالمین نے اپنے اوپر لے رکھی ہے۔ فرمايا :

﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ (سورۃ الحجر: 9)

اسلام فہمی کے دو بنیادی ماخذ قرآن و سنت ہیں، اس ذخیرہ کو محفوظ رکھنے کی ، ہر دور میں توفیق الٰہی سے علماء ربانی نے گرانقدر کوششیں کیں، ان عظیم ہستیوں میں ایک بڑا نام علامہ الشیخ محمد ناصر الدین البانی ﷫کا ہے، جن کی پیدائش 1914ء یورپ کے علاقہ البانیہ میں ہوئی ، لیکن لڑکپن ہی میں ہجرت کر کے والدین کے ہمراہ شام آکر آباد ہوئے۔ حفظ، عربی ادب اور فقہ کی ابتدائی تعلیم پہلے والد سے حاصل کی، پھر مختلف علماء سے استفادہ کیا، ذاتی محنت سے بتدریج علمی منازل طئے کرتے گئے، گزر بسر کے لیے والد نے گھڑی کی مرمت سازی کا ہنر سکھا دیا تھا، اسی مناسبت سے انہیں الساعاتی بھی کہا جاتا تھا ، قافلہ محدثین میں پیشوں کے اعتبار سے ذہبی، حداد اور نجار وغیرہ کی اصطلاحات تو ملتی ہیں ان میں الساعاتی کا اضافہ ہوا۔

اس معاشی پیشہ سے علامہ موصوف کو طلب علم اور تحقیق و جستجو کی راہ میں سہولت ہوئی، وہ اپنی دوکان پر اتنی دیر کام کرتے، جتنی دیر روزینہ کے لیے ضروری ہوتی ، پھر دوکان بند کر کے باقی وقت لائبریری میں گذارا کرتے، آپ کے ذوق مطالعہ کو دیکھ کر دمشق کی مشہور لائبريرى مكتبہ ظاہریہ كى چابی آپ کے حوالہ کردی گئی تھی کہ سرکاری ٹائم ٹیبل کی پابندی سے آپ مستثنیٰ قرار پائے، اس اہم مکتبہ کے شعبہ مخطوطات کی فہرست موصوف کی ہی مرہون منت ہے۔ یہ مرحلہ کٹھن ہوتا ہے کہ آدمی کسب معاشی کی فکر بھی کرے اور علمی سفر بھی جاری رکھے ، اس راہ میں بیشتر افراد کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں ، گھر بار اہل و عیال اور مالی مسائل کی فکر انہیں علمی میدان میں آگے بڑھنے سے روک دیتی ہے ، شیخ موصوف مالی مسائل کو اپنے علمی سفر پر اثر انداز ہونے نہ دیا اور آہستہ آہستہ لوگ ان کے مقالات اور دعوتی سرگرمیوں کے باعث ان کی صلاحیتوں کے قائل ہوتے گئے کہ

بلا شک وشبہ علامہ البانی عصر حاضر کے عظیم محدث تھے، احیاء سنت کے لیئے انہوں نے جو گرانقدر اور ٹھوس علمی خدمات انجام دی، اسے زمانہ کبھی بھول نہیں سکے گا ، معاشرہ میں رائج ضعیف اور موضوع احادیث کی نشاند ہی کی، تخریج احادیث کا اتنا ملکہ آپ کو حاصل تھا۔

بہت سے علماء ، پروفیسرز اور خطباء حرمین سے لے کر عام مساجد کے ائمہ تحقیق کی زحمت سے بچتے ہوئے عموماً شیخ البانی کا حوالہ دینا کافی سمجھتے ہیں۔ کہ صححہ الالبانی یا ضعفہ کہ فلان حدیث کو البانی نے صحیح قرار دیا یا فلاں کو ضعیف، علامہ نے سلسلۃ الاحاديث الصحيحہ الضعیفہ کے نام سے ہزاروں احادیث کی خالص علمی اسلوب سے تحقیق کی، اور اس سلسلہ کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ علمی مجلسوں میں آپ کو صرف صاحب السلسلہ کہا جاتا ہے۔کتب فروشوں نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا۔ شیخ محترم کی کتابیں گراں قیمت فروخت ہونی لگیں کہ ایڈیشن کے ایڈیشن دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہوتے گئے۔ شیخ محترم نے احادیث کی مشہور کتب

ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ وغیره کا ازسر نو جائزہ لیا ، ان میں پائی جانے والی بعض ضعیف احادیث کی خالص على اسلوب میں نشاندہی کی، یہ ایسا جرأتمندانہ کارنامہ ہے کہ اس دور میں اس کی مثال نہیں ملتی، اگرچیکہ بعض شارحین حدیث نے ضمناً بعض احادیث کی نشاندہی اپنی کتب شرح میں کی، لیکن اس پر مستقل کام کرنے کی ضرورت تھی۔ کیونکہ عرف عام کسی حدیث کا مذکورہ کتابوں میں پایا جانا ہی کافی سمجھا جاتا رہا، گو کہ محدثین نے خود یہی بعض احادیث کے ساتھ اس کی حیثیت بھی درج کر دی تھی ۔ یہ ایک نہایت جر أتمندانہ اور کٹھن علمی معرکہ تھا، لیکن احیاء سنت کے جذبہ سے سرشار علامہ نے یہ معرکہ نہایت کامیابی سے سر کر کے قرون اولی کی یاد تازہ کر دی اور امت آپ کا احسان فراموش نہیں کر سکتی۔

خليفہ ہارون الرشید کے زمانہ میں ایک دین دشمن کو اس کی حدیث میں دراندازی اور من گھڑت روایات کے پرچار کی بنیاد پر گرفتار کرکے سخت سزا کا مستحق قصور وار قرار دیا گیا ، اس زندیق نے کہا کہ اگر مجھے مار دو گے تو ان سینکڑوں روایات کا کیا ہوگا جو میں نے خود سے گھڑ کر رسول اللہﷺ کے نام سے منسوب کر کے لوگوں میں پھیلا دیا، گویا یہ دھمکی بھی تھی کہ میرے بعد ان من گھڑت روایات کو لوگ دین کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیں گے اور یہ چشمہ صافی اس آمیزش سے مکدرہوگا، اس پر حقیقت حال سے باخبر حکمران ہارون الرشید نے اطمینان سے جواب دیا کہ يعيش لها جهابذة العلم تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ علامہ الفرازی اور علامہ ابن مبارک جیسی علم وعمل کی چٹانیں ہمارے درمیان موجود ہیں جو ذخیرہ احادیث سے ان کثافتوں کو چھان کر الگ کر دیں گے جیسے دودھ سے مکھی نکال کر پھینکی جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں ایسے علماء ربانی پیدا فرمایا جو فن حديث ميں خصوصی مہارت رکھتے تھے، جنہوں نے رسول اکرم ﷺکے شب و روز کو یوں محفوظ فرمایا کہ مستشرقین Orientalists کو تک اعتراف کرنا پڑا :

“ليفتحر المسلمون على علم حديثهم ما شاؤا”

مسلمانوں کو حق حاصل ہے کہ وہ ذخیرہ احادیث پر جتنا چاہے، فخر کریں۔ کیونکہ اس کے ذریعہ پیغمبر اسلام ﷺ کے شب و روز اور آپ کے فرامین کو اتنا محفوظ کر دیا گیا کہ آپ کے علاوہ دنیا میں کوئی شخصیت دینی ، سماجی یا سیاسی ایسی نہیں، جس کی زندگی کا ریکارڈ اس قدر محفوظ ہو۔

موجودہ دور میں حدیث کے حوالے سے کئی سعادت مندوں نے زبردست کارنامے انجام دیے۔ ایک بڑا نام ڈاکٹر مصطفی اعظمی ﷫ کا بھی ہے ، جن کا تعلق شمالی ہند کے علاقہ مئو سے تھا، انہوں نے حدیث کی مشہور گم گشتہ کتاب صحیح ابن خزیمہ کے قلمی نسخہ کو یورپ کے مکتبات سے ڈھونڈ نکالا، جس سے علمی دنیا ورطۂ حیرت میں پڑ گئی کہ حدیث کا یہ انمول خزانہ جو عرصہ سے غائب تھا، کیسے تلاش کیا گیا۔ امام ابن خزیمہ کا شمار امام بخاری کے معاصرین میں ہوتا ہے، پھر انہوں نے احادیث کو ماڈرن ٹیکنالوجی کمپیوٹرائز کرنے کا بھاری منصوبہ شروع کیا ، اس ہندوستانی محقق اور اسکالر کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں عالم اسلام کا پُر وقار شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا ۔

جب وہ انعام وصول کرنے کے لیے خالص ہندوستانی لباس میں ملبوس پہنچے تو شاه فہد سمیت معززین کافی دیر تک انہیں دیکھتے رہے ۔

پھر ڈاکٹر پروفیسر ضیاء الرحمن اعظمی عمری نے مشہور راوی حدیث صحابی جلیل سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات کے حوالہ سے ایسی تحقیق پیش کی کہ منکرین حدیث اور مستشرقین کے اعتراضات کہ حدیث کے سب سے بڑے راوی مشرف باسلام ہونے والے متاخرین صحابہ میں شمار ہوتے ہیں، صحبت نبوی ﷺ میں رہنے کا انہیں ساڑھے تین برس کا قلیل عرصہ ملا اور یہ کیسے ممکن ہے کہ اس مختصر عرصہ کے باوجود متقدمین اور کبار صحابہ کے مقابلہ میں زیادہ احادیث بیان کریں، ڈاکٹر صاحب نے اسی اعتراض کا منطقی اور اصولی ایسا علمی جواب دیا کہ اس نو مسلم ڈاکٹر اعظمی کے مقالہ کو عالم اسلام نے ہاتھوں ہاتھ لیا، اہل علم نے اس کو خوب سرا ہا، پھر ایک حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا۔ حدیث کی ایسی کتاب مرتب کی جس میں صحیح احادیث کا احاطہ کر کے ایک جگہ جمع کر دیا ” الجامع الکامل في الحديث الصحيح الشامل” میں نے اعظمی صاحب کو ایک مجلس میں فرماتے ہوئے سنا کہ شاید اللہ نے مجھے قبول اسلام کی توفیق خدمت حدیث کے لئے ہی دی ہو اور ان کی آخری کتاب سیرت کے ہی متعلق ہے جو کہ محدثین کے اسلوب پر مرتب کی گئی ۔ ’سيرة المصطفىٰ الصحیحۃ على منہج المحدثين ‘ سیرت نگاری کا یہ اسلوب گزشتہ 9 سو برس میں پہلی کوشش تھی، اگر چیکہ سیرت پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں لیکن مورخین کے طرز پر، اس کتاب میں دو ابو اپ کا اضافہ کر کے اعظمی صاحب نے اس کی اہمیت کو دو چند کر دیا۔ نبی کریم ﷺ کی پیشن گوئیاں اور واقعاتی دنیامیں ان کی صداقت اور مختلف غير اسلامى مصادر میں رسول اللہ ﷺ کی آمد کے تذکرے ۔

ڈاکٹر ضیاء سے پہلے مشہور محقق ، متعدد زبانوں کے ماہر ڈاکٹر حمید الله حیدر آبادی نے مشہور راوی حدیث سیدنا ابو ہریرہ کے شاگرد ہمام بن منبہ کے مجموعہ حدیث کو تلاش کرکے ایڈیٹنگ کے ساتھ پیش کیا، تو معترضین کی زبانیں گنگ ہو گئیں جن کا اعتراض ہوا کرتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ڈیڑھ ، دو سال بعد جمع کی گئیں۔ احادیث کی صحت کا کیا اعتبار ، ڈاکٹر صاحب کی یہ کوشش سلسلہ حدیث کو محدثین اور رسول اللہﷺتک مربوط کرنے کا انتہائی مؤثر ذریعہ ثابت ہوئی ، آج بھی ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کا اسم گرامی علمی مجالس میں عزت واحترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ علماء ہند کی خدمت حدیث کے لیے ایک تفصیلی مقالہ درکار ہے کہ

ان بزرگوں نے کن حالات میں یہ کارنامے انجام دیئے اللہ ان کی مساعی جمیلہ قبول فرمائے۔

ميدان حدیث میں قدم رکھنے والوں کے لیے آبلہ پائی ضروری ہے ورنہ یہ جانگسل منزل طے نہیں ہو سکتی حتی کہ وہ امام بخاری﷫ ہی کیوں نہ ہوں جو کہ بالاتفاق اقلیم حدیث کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں بھی سخت آزمائشی مراحل سے گزرنا پڑا اور بڑی قربانیاں دینی پڑیں، امام مالک﷫ پر اس قدر ظلم کیا گیا کہ دوست احباب کو بھی پہچاننے میں دقت ہو رہی تھی ۔ جلیل القدر امام کو خود اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہنا پڑا:

” من عرفني فقد عرفني و من لم يعرفني فأنا مالك بن أنس .

’’جو مجھے پہچان سکا وہ جانتا ہے اور پہچاننے میں دقت ہو رہی ہو تو سن لو میں مالک بن انس ہوں۔‘‘ (﷫)

اور میرے ساتھ یہ سلوک اس لیے کیا گیا کہ کہ حاکم وقت کی مرضی کے مطابق میں غلط فتوی نہیں دے سکتا ۔

اور امام احمد بن جنبل﷫ کی راہ حق میں ثابت قدمی نے اسلامی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا، ان پر ایسے کوڑے برسائے گئے کہ امام ذہبی ﷫کے بقول اگر کسی مست ہاتھی پر بھی مارے جاتے تو بلبلا اٹھتا ۔ (سیر اعلام النبلاء)

لیکن ان کوڑوں کی شدت کے باوجود زبان حق سے غلط فتوی نہیں نکل سکا۔ بھلا ان صبر و عزیمت کی چٹانوں کے مقابلہ میں شیخ البانی کیسے محفوظ رہ سکتے تھے، انہیں دو مرتبہ قید خانہ میں ڈالا گیا، ملک بدر کیا گیا جلا وطنی اور دربدر کی ٹھوکریں کھانی پڑیں اور گردو نواح مسلکی تعصب کا زور اتنا زیادہ تھا کہ ایک مسلک کے امام کے پیچھے دوسرا نماز تک ادا نہیں کرتا۔

دمشق کی مسجد جامع التوبہ میں دو امام مقرر تھے، شافعی امام کے بعد حنفی امام امامت کرواتا۔ اتفاق دیکھئے کہ خود علامہ البانی کے والد ہی حنفی امام کی حیثیت سے مقرر تھے۔

علامہ البانی نے اس انتشار کے خلاف رواداری کو عام کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ترغیب دی کہ کم از کم نماز ایک امام کے پیچھے ادا کر کے وسعت نظری اور اعتدال پسندی کا مظاہرہ کیا جائے۔ لیکن برا ہو تعصب کا اس اصلاحی آواز کے خلاف علامہ الالبانی کو زیر عتاب لاتے ہوئے پس زنداں کر دیا گیا اور دوسری مرتبہ حاکم وقت کی تائید نہ کرنے کی پاداش میں دمشق کے قلعہ میں محصور کر دیا گیا ، یہ وہی قید خانہ ہے جس میں عالم اسلام کے مجدد امام ابن تیمیہ﷫ کو بند کیا گیا تھا۔ لیکن قید و بند کی صعوبتیں پائے ثبات میں جنبش تک پیدا نہ کر سکیں ۔

یہ محدثانہ شان ہے کہ اس راہ میں حق و صداقت، امانت و دیانت کا اعلیٰ معیار محدثین نے قائم کیا ، چاہے جرح و تعدیل کی زد میں کوئی بھی آئے۔

علی بن المدینی (متوفیٰ 234ھ) دنیائے حدیث کا ایک اونچا نام ہے۔

امام احمد بن حنبل، امام بخاری﷭ و غیره کے ساتھ ان کا نام لیا جاتا ہے ، ان کے والد بھی محدث تھے، جب کسی نے ان سے والد کے متعلق دریافت کیا کہ رجال حدیث میں ان کا مرتبہ کیا ہے ، تو کہا:

’’ یہ حدیث اور امانت کا تقاضہ ہے، میرے والد اس قافلہ میں ضعیف متصور ہوں گے ! کسی راوی کے ثقہ ہونے کے لیے شخصی عمل اور حسن اخلاق کی صفات کافی نہیں، یہ باب مزید اوصاف کا متقاضی ہے۔‘‘

کچھ معاصر اہل علم کی شہادت شیخ الالبانی کے متعلق پڑھ لیجیے:

علامہ الشیخ عبد العزيز بن باز ﷫ مفتی عام سعودی عرب و صدر سپریم کونسل آف سینئر علماء : میں شیخ البانی کو عرصہ سے جا نتا ہوں، وہ بہترین علماء میں سے ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی حدیث اور سنت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے، وہ لائق احترام اور قابل توجہ ہیں ، ان کی کتابوں سے بھر پور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔ میں خود ان سے مستفید ہوتا ہوں، میرے علم کے مطابق حدیث کے شعبہ میں اس وقت ان کا کوئی ہمسر نہیں، تاہم وہ ایک انسان ہیں، جیسے دیگر علماء بشر ہیں، اس سے بھی خطا و نسیان ممکن ہے، حدیث پر حکم لگانے تصحیح اور تضعیف میں کبھی غلطی کا امکان ہے۔

علامہ الشیخ محمد بن صالح العثيمين فرماتے ہیں:

’’ الشیخ الالبانی اہل سنت کے گرانقدر علماء میں شمار ہوتے ہیں ، وہ حدیث میں درجہ امامت پر فائز ہیں۔ دور حاضر میں ان کی برابری کرنے والا کسی دوسرے کو میں نہیں جانتا۔

علامہ الشیخ عبد المحسن بن حمد العباد سابق وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی مدینہ منوره :

وہ ایک بڑے عالم اور مشہور محدث تھے ،جن کی قابل قدر خدمات ہیں، احادیث کی تحقیق اور اسناد پر حکم لگانے میں انہیں زبردست ملکہ حاصل ہے، کوئی طالب علم ان کی کتابوں سے مستغنی نہیں ہو سکتا ، ان کی تصنیفات میں خیر کثیر ہے ۔ اگر چیکہ شیخ محترم سے کچھ فرو گزاشت بھی ہوئی لیکن خیر و برکت کے علمی سمندر میں چند غلطیوں کی اہمیت نہیں ، وہ ان تسامحات میں بھی اجتہادی اجر کے مستحق ہی ہوں گے ۔

یا د ر ہے کہ شیخ العباد نے بعض آراء میں شیخ البانی کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے گفتگو بھی کی، لیکن بعض مسائل میں اختلاف کے باوجود موصوف کے ساتھ عقیدت و محبت اور اعتراف حقیقت کا اظہار علماء ربانی کی شان اور عظمت کا مظہر ہے۔

امام ابن تیمیہ ﷫ معتبر اہل علم کی لغزشوں کے متعلق فرماتے ہیں:

’’علمی باریکیوں اور مسائل کی پیچیدگیوں میں فرو گزاشت قابل معافی ہے، ورنہ قابل معافی نہ ہوتیں تو امت کے بیشتر علماء ہی ہلاک ہو جائیں کیونکہ ہر مجتہد اور عالم سے علمی لغزشیں اور غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔‘‘

امام ابن قیم ﷫ فرماتے ہیں جو شخص شریعت کا علم رکھتا ہو اور حالات سے باخبر ہو وہ یقینی طور پر جانتا ہے کہ ہر مشہور عالم اور جس کی خدمات بھی قابل قدر ہوں اس سے بھی بھول چوک اور غلطیوں کا صادر ہونا یقینی ہے ، لیکن ان غلطیوں میں وہ قابل معافی بلکہ اپنے اجتہاد میں باعث اجر ہی ہوگا، اس کی ان غلطیوں میں پیروی نہیں کی جائے گی لیکن ان تسامحات کے باعث اس کا نہ مقام گھٹے گا اور نہ ہی لوگوں سے اس کی عقیدت کم کرنے یا ان کے خلاف بدظن کرنے کی کوشش درست ہوگی ۔

اللہ تعالیٰ نے شیخ الالبانی کو حدیثوں کی تحقیق و تخریج میں جو ملکہ عطا فرمایا ، ان کی کتابوں میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، حالانکہ ایک زمانہ میں بعض علماء نے تو یہ رائے تک دی تھی کہ اسانید احادیث پر حکم لگا نے تصحیح و تضعیف کے باب کو بند کر دیا جائے۔متاخرین کے لیے بہتر ہے کہ متقدمین کے فیصلوں کو ہی قبول کر لیا کریں، جس حدیث پر جو حکم لگا دیا گیا اسی پر اکتفاء کیا جائے جیسے علامہ حافظ ابن الصلاح (متوفیٰ 643ھ) کی رائے تھی، لیکن علم و تحقیق کے باب میں یہ رائے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی، اسی لیے ابن صلاح ﷫کے بعد بھی احادیث کی جانچ کا سلسلہ جاری رہا۔ جیسے علامہ ابن حجر عسقلانی﷫ کی تحقیقات اور احادیث پر ان کی جانب سے لگایا جانے والا حکم ان کی تصنیفات کے مطالعہ سے طالب علم جان سکتا ہے۔ اسی طرح امام نووی (متوفیٰ 676ھ) نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا۔

اہل علم جانتے ہیں کہ احادیث کی ایک قسم ضعیف ہے لیکن بعض اسانید میں پایا جانے والا ضعف یا علت کسی دوسری سند جو کہ خود بھی ضعف سے خالی نہیں، لیکن اس میں علت مختلف ہوگی، ایسی اسانید کو متابعات اور شواہد میں بعض شرائط کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے، گویا ایک عنوان کی چند احادیث ایک دوسرے کی تقویت کا سبب بن سکتی ہیں، بعض متقدمین نے کسی حدیث کو ایک سند کی بنیاد پر ضعیف قرار دیا، ان کے سامنے اس عنوان کی دوسری روایات نہیں تھیں۔ بعد میں آنے والوں نے متابعات کی بنیاد پر ان روایات کو قابل قبول قرار دیا کیونکہ متقدمین کی علت متاخرین کی کوششوں سے دور ہو گئی ۔

پروفیسر ضیاء الرحمن اعظمی نے مختلف احادیث کو مذکورہ اصول پر حسن لغیره ضعیف سے ایک درجہ بلند قرار دیا۔ علامہ البانی نے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ایسا ہی حکم لگایا ، شیخ موصوف اس مسئلہ میں تقلید اور تعصب سے بہت بلند تھے ،بعض مشاہیر کی تحقیق کا دائرہ مخصوص مسلک کی تقویت کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے، حالانکہ تحقیق کی جولان ان تنگنائیوں سے بہت وسیع ہے ،لیکن تقلید و تعصب کے دائروں میں پھنسے احباب نے احادیث کو اپنے مسلک میں محصور کر کے پڑھنے پڑھانے کی نا مسعود کوشش کی، گویا کسی امام کی رائے فرمان رسالت ﷺ پر فوقیت رکھتی ہے ، اس نظریہ کے حاملین کو محدثانہ مساعی کبھی راس نہ آئی، ہند و پاک کی کئی درسگاہوں میں آج بھی دورہ حدیث کا رواج ہے ۔

جہاں حدیث کی تفہیم اور تشریح سے زیادہ بطور تبرک دورہ کیا جاتا ہے ،اگرحدیث مخصوص فقہی فریم کے مطابق ہوگی قبول کرلی جائے گی ورنہ وہ معیار سند کے اعتبار سے کتنی ہی عالی کیوں نہ ہو اس کو یا تو رد کر دیا جائے گا یا بے سروپا تاویلات کا سہارا لیا جائے گا۔ یوں عملی اعتبار سے اصل دین فقیہہ کی رائے ہے۔ حدیث رسول ﷺ کی حیثیت ثانوی ہے۔ جبکہ مشہور ائمہ اور فقہاء ﷭ نے اس طرز فکر کو سخت ناپسند کیا ۔

امام شافعی ﷫سے ایک حدیث کے متعلق دریافت کیا گیا۔ انہوں نے اس کی تصدیق کی کہ یہ حدیث درست ہے۔ سائل نے پھر پوچھا کہ آپ کی اپنی رائے یا فتوی کیا ہے، اس بارہ میں، امام شافعی﷫ سخت ناراض ہوتے ہوئے فرمایا : کیا تم نے مجھے غیر مسلم ،ذمی سمجھ لیا، یا مجھے کسی کنیسا سے نکلتے ہوئے دیکھا کہ کسی حدیث کے متعلق تصدیق کروں کہ یہ فرمانِ رسول ﷺ ہے اور خود اس کے خلاف رائے دوں۔ پھر حسرت سے فرمایا :

’’ کس آسمان کا حصہ مجھ پر سایہ فگن ہو گا یا زمین میرا بوجھ اٹھا پائے گی۔ اگر میں رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث بیان کروں اور خود اس کے مطابق فتوی نہ دوں !!! ‘‘

کیا ہی اچھا ہوگا کہ ہمارے علماء امام شافعی﷫ کی اس بات کو حرز جان بنا لیں ۔اسی لیے شیخ البانی﷫ نے کتاب و سنت کی اہمیت کے ساتھ منہج سلف کو اختیار کرنے پر زیادہ زور دیا۔ کیونکہ منہج سلف کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں کتاب و سنت کے نام پر فکری انتشار اور انارکی کا خدشہ ہو سکتا ہے، یوں فکر و نظر کے زاویوں کی سمت درست فرمائی کہ فہم دین کی بنیا د قرآن و سنت ہو، منہج سلف کے مطابق۔

یہاں اپنی تحقیق اور رائے ۔ اصل معیار نہیں بلکہ حق و صداقت کی دریافت اور عمل اصل مطلوب ہے، اسی پر علامہ موصوف نے عمل کیا اور اپنے شاگردوں کو تلقین کی کہ حق جب بھی واضح ہو، قبول کرنے میں تردد نہ کرو، کیونکہ راہ حق میں جمود اور ٹھہراؤ نہیں ، ہر گام آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ خطاء سے صواب، صحیح سے اصح، مفضول سے افضل کی جانب بڑھنا چاہئے ، شیخ نے متعدد تحریری اور صوتی پیغامات میں دہرایا کہ ہم کسی غلطی پر اصرار کرنے کے قائل نہیں، جب بھی کسی فروگزاشت کے بارے میں آگاہی ہو ہم فوراً حق اور سچائی کو قبول کریں گے اور اس پر عمل کیا۔ انہیں اپنی تحقیق پر اعتماد ضرور تھا۔ لیکن بشری تقاضوں کو نظر انداز نہیں کرتے بلکہ کوئی اگر علمی اسلوب میں کسی کوتاہی کی طرف نشاندھی کرتا تو نہ صرف قبول کرتے بلکہ بسا اوقات اس کے نام کا اعلان کر کے شکریہ بھی ادا کرتے۔ علامہ موصوف کی تضيفات صفۃ صلاة النبی ﷺ كتاب الجنائز، آداب الزفاف، سلسلۃ الأحاديث الضعیفہ وغيره وغيرہ میں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ شیخ کہا کرتے کہ ہمارا طرز عمل اسلاف کے مطابق ہونا چاہیے کہ سوچ سمجھ کر تحقیق و جستجو کے بعد ایک رائے اپنانے کے باوجود اس سے زیادہ مضبوط دلیل یا رائے سامنے آئے تو کبھی اپنی رائے پر اصرار نہ کریں، مشہور ائمہ اور فقہاء کا یہی انداز رہا ہے۔

فاضل گرامی ڈاکٹر وصی اللہ پروفیسر ام القری مکہ مکرمہ یونیورسٹی و مدرس حرم نے شیخ البانی﷫ کی علمی تحقیق اور صداقت کے آگے تواضع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض مسائل میں شیخ کی رائے سے ڈاکٹر صاحب کی رائے مختلف تھی، ڈاکٹر صاحب نے دائرہ اداب میں رہتے ہوئے ، شیخ موصوف سے اس کا ذکر کچھ اس اسلوب میں کیا کہ اس مسئلہ میں میرا یہ شبہ ہے یعنی ڈاکٹر صاحب نے اپنے دلائل مذکورہ مسئلہ میں پیش کر کے کہا کہ ان دلائل کی روشنی میں کچھ اشکال ہے ، شیخ البانی ڈاکٹر صاحب کی بات غور سے سنتے رہے، جواب سے پہلے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ کا اسلوب اور ادب مجھے پسند آیا۔ اپنے دلائل بھی پیش کر رہے ہیں اور اختلاف کے آداب بھی ، پھر شیخ نے مناقشہ کے بعد ڈاکٹر صاحب کے کچھ دلائل تسلیم کئے اور کچھ کے بارہ اپنے ہی موقف کو مضبوط اور درست ثابت کیا۔

شیخ اسحاق الحوینی مصر کے مشہور عالم ہیں۔ انہوں نے شیخ البانی کے بارہ میں اپنا ایک واقعہ بیان کیا کہ موصوف سے ملاقات کی غرض سے میں اردن گیا، مجھے شیخ محترم کے ساتھ نماز ادا کرنے کا موقع ملا، شیخ نے نماز کے بعد میرے کسی عمل کے متعلق پہلے استفسار فرمایا کہ آپ نے یہ کہیں پڑھا ہے یا آپ کی تحقیق ہے، میں نے جب جواب دیا کہ یہ میرا فہم ہے ، تو شیخ محترم نے اس کی تصحیح فرمائی ۔

شيخ الحوينی حیرت زدہ تھے کہ

اتنے بڑے عالم دین خود ہی اصلاح کرنے سے پہلے مجھ سے استفسار فرما رہے ہیں ، جبکہ ہمارے ہاں بہت کم علم رکھنے والے بھی بڑے بڑوں پر یلغار کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔

رجوع الی الحق کی مثالیں مشہور ائمہ اور فقہاء کے فتاوی میں بکثرت دیکھی جا سکتی ہیں۔

امام ابو حنیفہ﷫ کی کتنی آراء ہیں جن سے امام موصوف کے شاگردوں نے اختلاف کیا، خود امام صاحب نے بعض فتاوی اور آراء سے رجوع کیا ۔

امام ما لک ﷫ تاکید کیا کرتے:

كل منا يؤخذ ويرد إلاصاحب هذا القبر

’’رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی شخصیت ایسی نہیں، جس کی ہر بات کلام آخر ہو۔‘‘

امام شافعی﷫ نے کتنے فتاوی سے رجوع کیا، مذہب قدیم اور مذہب جدید ایک اصطلاح ہی متعارف ہو گئی۔

امام احمد بن حنبل کے فتاوی میں قول قدیم اور قول جدید عام ہے، رحمہم اللہ جمیعاً

لیکن برا ہو مسلکی تعصب کا اور تقلید جامد کا علمائے حدیث کی مساعی جمیلہ اور رجوع الی الحق کے جذبہ صادق کو کچھ لوگوں نے کمزوری اور کم علمی پر محمول کیا، اگر حق اور صواب کی طرف رجوع کمزوری ہے تو فقہاء عظام اور کبار علماء کمزور اور ناقابل اعتبار قرار پائیں گے ، اس عمل کو امت ان بزرگوں کے تقوی اور للہیت شمار کرتی ہے ،مذکورہ فقہاء کے اسماء گرامی پر ایک بار پھر نظر ڈال لیجیئے اور شیخ البانی﷫ کے بعض مسائل اور حکم حدیث پر تبدیلی کو کم علمی کا طعنہ دینے والے غور کریں، کہیں ایسا تو نہیں :

تیری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی

وه تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں تھی

کسی کو غلط فہمی نہ ہو کہ جب شیخ البانی نے عمل بالحدیث اور احیاء سنت اور تخریج کا عظیم الشان منصوبہ بنایا تو مشہور علماء اور فقہاء کے فیصلوں کو نظر انداز کر کے اپنی ایک دیوار کھڑی کی ، یہ طعنہ وہی دے سکتا ہے جس نے ان کی کتابوں اور خصو صاً حکم حدیث پر ان کی تحقیق کا مطالعہ ہی نہ کیا ہو یا پھر تعصب کی عینک کے ساتھ ہی پڑھا ہوگا، ورنہ اپنی تحقیق میں جگہ جگہ علماء ثقات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے اقوال نقل کرتے ہیں۔ البتہ تحقیق کی راہ تقلید سے جدا ہے، وہاں ’’خطائے بزرگان گرفتن خطا است‘‘ پر عمل ہوتا ہے یا ہر وہ حدیث جو فرمانِ امام کے خلاف ہو اسے ضعیف سمجھ کر چھوڑ دیا جائے یا اس کی تاویل کی جائے کے فرمودہ پر، لیکن تحقیق اور حق پسندی ، طرز صحابہ اور منہج اسلاف اس سے مختلف ہے، یہاں حق آشکارا ہوتے ہی بلا چوں وچرا سر تسلیم خم کر دیا جاتا ہے ، شیخ موصوف نے اس اسلوب کو جس توازن اور اعتدال کے ساتھ پیش کیا، اس کا نمونہ ان کی تحقیقات میں جگہ جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے باوجود علامہ البانی بشر تھے ان سے تسامحات کاصدور ممکن ہے، تحقیق و تخریج کا باب نہایت ہی نازک ہے کوئی اس وادی پر خار سے گزرے اور اس کا دامن کہیں نہ الجھے یہ محال ہے، شیخ محترم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں اور بعض مسائل میں کچھ شذو ذبھی سامنے آئے ہوں گے، لیکن جیسے علامہ العباد نے کہا :

خیر و برکت کے سمندر کو چند لغزشیں متاثر نہیں کرتیں، بلکہ حدیث رسول ﷺ کے مطابق مجتہد ہر لحاظ سے اجر کا مستحق ہی قرار پاتا ہے۔

شیخ محترم نے جن کٹھن حالات میں زندگی کا بیشتر حصہ گزارا اور ان رکاوٹوں کے باو جود علمی سفر جاری رکھا، اس سے اسلاف کی یادیں تازہ ہوتی ہیں ، علامہ موصوف کے ایک شاگرد عزیز الشیخ مشہور بن حسن آل سلمان نے شیخ کے ساتھ پیش آیا ذاتی واقعہ سنایا، دل پر ہاتھ رکھ کر پڑھ لیجئے، وہ ہمارے لیے چشم کشا ہے۔

شیخ محترم کے مسودات کی ترتیب و تبییض میں وہ تعاون کیا کرتے تھے ، پریس میں بھیجنے سے قبل ، چونکہ شیخ دمشق میں اپنی مرمت سازی کی دوکان پر بقدر کفاف ہی وقت دیا کرتے ، زیادہ وقت کتابوں میں گزارتے ۔

اس لیے ابتدائی معاشی حالت ایسے ہی تھی، شیخ محترم نے سلسلۃ الاحادیث کی پانچویں جلد کا مسودہ ان کے حوالہ کیا کہ اسے مرتب کر دیں ، وہ کہتے ہیں کہ مسودہ کا بیگ کھولا، تو خود پر یقین نہیں آیا جو کچھ دیکھا، لائق شاگرد کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے ، اس عظیم کتاب کو جس کا علمی دنیا بے چینی سے انتظار کر رہی ہے، جن اوراق پر لکھا گیا تھا، وہ عموماً اناج اور غلہ فروخت کرنے والے اشیاء پیک کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لوگ گھر لاتے ہی مطلوبہ اشیاء لے کر کا غذات کوڑے دان کی نذر کرتے ہیں۔

حدیث کی اہم ترین کتاب شیخ موصوف نے ان ردی کے کاغذات پر تحریر فرمائے تھے ،شیخ نے وفادار شاگرد کو حوصلہ دیا کہ اس وقت مناسب کا غذ حاصل کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔ میں نے اس کو عذر نہیں بنایا اور ان ذیلی باتوں پر وقت ضائع کئے بغیر یہ حل نکالا، الحمد للہ کام تو مکمل ہو گیا، اس مسودہ کو ٹائپ کر کے پریس میں بھیج دیا جائے گا: اس کے ساتھ ہی اس کاغذ کی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی۔

شیخ محترم کی صلاحیتوں کا بتدریج دنیا کو علم ہوا، مدینہ منورہ میں قائم ہونے والی اسلامی یونیورسٹی میں بحیثیت استاذ حدیث آپ کی خدمات حاصل کی گئیں، وہاں آپ نے تین سال خدمات انجام دیں نہایت خوشگوار یادیں چھوڑیں۔ شاید یہی سبب تھا کہ بعد میں بھی وہاں آپ کا آنا جانا رہا شیخ محترم نے اپنی ذاتی لائبریری اسی یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری کے لیے وقف کی، جو آپ کی وفات کے بعد وصیت کے مطابق مدینہ منورہ پہنچادی گئی۔ علامہ کی عظيم خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے 1419ھ بمطابق 1999ء کا فیصل ایوارڈ ان کی خدمت میں پیش کیا گیا ، ان کی تصنیفات کے زندگی ہی میں متعدد ایڈیشن قانونی طور پر شائع ہوئے، اور بلا علم و اجازت یا غیرقانونی جو کتابیں شائع ہوئیں وہ تو اللہ ہی جانتا ہے، جہاں لوگوں نے علمی استفادہ کیا، وہیں تاجروں نے شیخ محترم کے نام پر مادی فائدہ حاصل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

بالآخر 2؍ اکتوبر 1999ء عصر بعد تقریباً نوے (90) برس کی عمر پا کر علم و عمل کا یہ سورج اردن میں غروب ہو گیا اور اسی دن عشاء کے بعد تدفین عمل میں آئی۔

پس ماندگان نے ضروری سمجھا کہ جس شخص کی زندگی احیاء سنت اور عمل بالحدیث کی دعوت میں گزری ہو، مرنے کے بعد اس میں کوئی کوتاہی نہ ہونے پائے ، چونکہ تدفین میں عجلت مسنون ہے، لہٰذا اس کی پرواہ کئے بغیر کہ عقیدتمندوں کی تعداد لاکھوں سے متجاز ہے اور اگر تاخیر کی جائے تو قرب وجوار سے ہزارہا لوگ شریک جنازہ ہو سکتے ہیں۔ لیکن موت کے چند ہی گھنٹوں بعد وصیت کے مطابق صلاة الجنازہ اور تدفین عمل میں آئی، جس نے اتباع سنت کی دعوت کو اپنا مشن بنائے رکھا، اس پاک طینت صالح بزرگ کی موت بھی دنیا کو ایک پیغام دے گئی۔

الله کریم ان کی بشری لغزشوں کو معاف فرمائے ، ان کے درجات بلند کرے اور ان کی کاوشوں کو صدقہ جاریہ بنا دے۔

شیخ محترم اپنے پیچھے کروڑوں عقیدت مند اور علمی سرمایہ کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ مختلف ممالک میں احیاء سنت کی شمع چلائی، برطانیہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں، سن 1974ء میں مدینہ منورہ یونیورسٹی کا ایک وفد علامہ موصوف کی اور الشیخ عبد الوہاب البنا کی سرکردگی اور کچھ طلبہ کے ساتھ برطانیہ خصوصاً برمنگھم کا سفر کیا، اس وقت شیخ یونیورسٹی کے اسٹاف میں نہیں تھے لیکن وفد میں شامل کرلیا گیا تھا ، مختلف علاقوں کی وزٹ کے بعد شیخ نے محسوس کیا کہ ظلمت کدہ، یورپ میں بھی تو حید وسنت کا چراغ جلانا چاہیے، علامہ موصوف کی ہی تحریک پر یہاں یہ سلسلہ شروع ہوا، جو بعد میں الحمد لله تناور درخت بن گیا ۔

اس کے سایہ میں یورپ کے کئی علاقے چھاؤں حاصل کر رہے ہیں ،نہ جانے دنیا میں کتنے مقامات شیخ محترم کی کوششوں سے روشن ہوئے۔ یہ ایک مستقل عنوان ہے کہ شیخ محترم کی کوششوں کا عالم سلام پر اثر۔

شیخ محترم مسائل میں اعتدال پر اتنا زور دیتے کہ موصوف کے خاص معتقدین بھی کبھی شکوہ کرتے نظر آئے، شیخ کے ہاں اسبال کا تعلق صرف کپڑوں کے ساتھ مخصوص نہیں کہ ٹخنوں سے اوپر ہو وہ ایک علامت ہے، ورنہ اور مسائل بودوباش، وضع قطع بہت سی چیزوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے کہ ہر چیز میں اعتدال اور توازن مطلوب و محبوب ہے۔

اللهم اغفر له وارحمه

٭٭٭

تبصرہ کریں