
اسلام کی ابتدائی دعوت میں نبی رحمتﷺ حکم الٰہی کے ساتھ جہاں قل هو الله أحد کی دعوت دیتے ہیں، وہی اہل مکہ اور پوری دنیا کے معبودان باطلہ کے خلاف قل یا ایها الکافرون کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ سیرت کے اس پہلو کا مفہوم یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے میدان میں کسی طرح کی مداہنت ، مصلحت پسندی یا دنیوی مفاد کو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ جب کہ رواداری کا تعلق معاشرتی معاملات میں حسن اخلاق کے ساتھ ہے، جو سیرت نبوی کا ایک حسین باب ہے، جس کا اظہار ہر ہر سنت نبوی سے ہوتا ہے۔
شدت پسندی اور مداہنت یہ دونوں انتہا ئیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے اور ہمارا نو جوان اس کا شکار ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ
شدت کی جگہ پر اعتدال کا رویہ عام کیا جائے اور مداہنت کے مقابلے میں رواداری اور حسن اخلاق کو فروغ دیا جائے ، تاکہ مختلف مسالک اور اصحاب علم وفن کے درمیان معاشرتی ربط و تعلق برقرار رہے اور اسلامی معاشرہ امن وسلامتی کا گہوارہ بن سکے۔
حسن اختلاف کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عقائد ونظریات کے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کی جائے، اچھے الفاظ سے مخاطب کیا جائے ، غمی و خوشی میں ایک دوسرے کے کام آیا جائے ، دکھ ودرد میں شریک ہوا جائے ، چغلی وغیبت سے بچا جائے ، ہر ایک بھلا چاہا جائے ، نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیا جائے۔
سیرت طیبہ کے مطالعہ سے ہمیں یہ بھی سبق حاصل ہوتا ہے کہ رواداری کا تعلق سماجی معاملات سے ہے، نظریات اور عقائد سے نہیں۔ رسول رحمت ﷺ نے تمام مسلمانوں کو حکم ہے کہ
وہ معاشرتی معاملات میں حسن سلوک اختیار کریں، لیکن اچھے اخلاق کا یہ مطلب نہیں کہ گمراہ افکار ونظریات پر تنقید کرنے میں کسی قسم کی لچک دکھائی جائے یا حق گوئی و بے باکی سے گریز کیا جائے یا منکر کے خاتمہ کے لیے خاموشی اختیار کی جائے بلکہ ایسا رویہ مداہنت یا مصلحت پسندی ہوگا، جو دین میں ممنوع ہے۔
سیرت طیبہ سے مذہبی رواداری کا ثبوت
امام الانبیاء سید الاولین والآخرین ﷺ کو اپنی حیات طیبہ میں بے دین اور مشرک کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں صابیوں، مجوسیوں، عیسائیوں اور یہودیوں سبھی سے واسطہ پڑا۔ ہم جانتے ہیں کہ ان سب سے ہر معاملہ میں آپ ﷺ نے شاندار حسن سلوک فرمایا۔ اس طرح تاریخ انسانی میں مذہبی رواداری کی عظیم مثالیں رقم فرمائی۔ لیکن آج مسلمانوں کی اکثریت اسوہ کامل ﷺ سے لاعلمی کے سبب یا بے رخی سے، عقیدہ کا اختلاف رکھنے کے خلاف تعصب اور عدم رواداری اور نا انصافی کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
افسوس! طرفہ تماشا یہ ہے کہ اسوہ رسول ﷺکے برخلاف یہ سرگرمیاں محبت رسول کے نام پر اور لبیک یا رسول اللہ کے نعروں کے ساتھ پروان چڑھائی جاتی ہیں۔
دعوت کے میدان میں رواداری کا مفہوم:
دعوت کے میدان میں ایک داعی کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ حق گوئی کے ساتھ ساتھ اپنے مخاطب کے لیے درددل سے اور اخلاص کے ساتھ دعا بھی کرے کہ بلا شبہ ہدایت دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی رحمت ﷺ سے کہا گیا کہ آپ اہل مکہ کے لیے بددعا کیوں نہیں کرتے، آپﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا:
”میں رحمت بنا کے بھیجا گیا ہوں۔“
مولانا ابوالکلام آزاد سیرت نبوی کی انہی خوبیوں کو اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مظلومی میں صبر، مقابلے میں عزم، معاملے میں راست بازی، طاقت و اختیار میں عفو و درگزر اور رواداری کا مظاہرہ کرنا، تاریخ انسانی کے وہ نوادر ہیں جو کبھی کسی انسان کی زندگی میں جمع نہیں ہوئے۔‘‘
سید نا ابوسفیان ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے کہ حاکم یمامہ سید نا ثمامہ بن اثال نے اہل مکہ کی گندم اور اناج بند کر دیا۔ جس کے لیے ابوسفیان مکہ سے مدینہ سفارش کرنے آئے کہ ہم نے آپ کو ہمیشہ رحم دل اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا پایا ہے۔
سیرت کو دیکھئے! آپ ﷺ نے رواداری اور کمال حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے جانی و مالی اور ایمانی دشمنوں کے لیے اناج کی ترسیل کا حکم نامہ جاری فرما دیا۔
ایسی ہی موقع کے لیے رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
«أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ»
”اے لوگو! بلاشبہ میں سراپا رحمت اور کائنات کے لیے تحفہ ہوں۔“(سنن الدارمی: 1؍116 (15) ؛ سلسلہ صحیحہ : 490)
سیرت سے مذہبی رواداری کی چند مثالیں
دوست و دشمن ہر ایک کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے جو حسن سلوک کا برتاؤ کیا، وہ رواداری میں انمول ضرب المثل کی حیثیت کا حامل ہے، مذہب وملت اور زبان و نسل سے بالا تر آپ ﷺ نے ہمیشہ انسانی کرامت و شرافت کو پیش نظر رکھا ، مدنی اور معاشرتی زندگی میں ہر دم اخوت و بھائی چارگی ، رواداری اور حسن سلوک کا حکم دیا۔
اس تناظر میں مذہبی رواداری کے حوالے سے اسوہ نبوی ﷺ کو دہرانا افادۂ عام کے لیے ضروری ہوگا۔ جس اسوہ کامل نے ہر قسم کی تنگ نظری ، تعصب اور انتہا پسندی کو مٹا کر دنیا میں بلا امتیاز رواداری کو فروغ دیا ہے۔
آپ ﷺ کی حیات طیبہ ایسے واقعات بھری پڑی ہے، درج ذیل چند ایک کا حوالہ دیا ہے:
کافر کی مہمان نوازی
سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک غیر مسلم رسول اللہ ﷺ کے ہاں مہمان ہوا۔ آپ نے اسے بکری کا دودھ پیش کیا، لیکن وہ سیر نہ ہوا۔ پھر دوسری بکری کا دودھ پیش کیا، پھر بھی اس کی تسلی نہیں ہوئی۔ اس پر تیسری، چوتھی یہاں تک کہ وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا۔ آپ ﷺ اس کی اس حرص پر مسکرائے لیکن مہمان سے ہاتھ نہیں کھینچا، پھرفرمایا:
«الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعَى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءِ»
’’مسلمان ایک آنت میں پیتا ہے، جبکہ کا فرسات آنتوں میں پیتا ہے۔“(صحیح مسلم: 2063)
غیر مسلموں کی دعوت قبول کرنا
رسول اللہ ﷺ غیر مسلموں کی دعوت بھی قبول کر لیتے اور ان کے ساتھ اور ان کے برتنوں میں کھانے پینے میں کوئی عار نہ جانتے، الا کہ ان کے برتن شراب یا حرام اشیاء کے لیے استعمال ہوں، تو انھیں استعمال نہ کرنے کا حکم ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تحفہ قبول فرما لیتے لیکن صدقہ کو قبول نہیں فرماتے تھے۔
خیبر میں ایک یہودی عورت کی آپ ﷺ کی دعوت کی ، آپﷺ نے اسے قبول کیا، آپﷺ کی خدمت میں بکری کے بھنے ہوئے گوشت کا تحفہ پیش کیا، آپﷺ نے اسے قبول فرما لیا۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس میں زہر ملا ہوا تھا۔
(سنن ابوداود: 4512)
عیادت کرنے میں رواداری کا مظاہرہ
رسول اللہ ﷺبیماروں کی عیادت کرنے میں مسلم و غیر مسلم میں کوئی فرق نہ کرتے تھے۔ دوست و دشمن، مؤمن و کا فرکسی کی تخصیص نہ تھی۔ صحیح بخاری میں غیر مسلموں کی عیادت کا ایک واقعہ لکھا ہے:
ایک دفعہ مدینہ میں ایک یہودی نوجوان بیمار ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو عیادت کے لیے تشریف لے گئے ۔ اس کی حالت کو نازک پا کر اسے تبلیغ فرمائی اور وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا:
«اَلْـحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ»
’’اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اس کو آگ کے عذاب سے نجات عطا کر دی ہے۔“(صحيح بخاری: 1356)
یہودی کے جنازے کی تعظیم میں کھڑے ہونا
رسول اللہ ﷺ جنازوں کے احترام میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہ کرتے۔ چنانچہ بخاری میں درج ہے:
شام کی فتح کے بعد دو صحابہ ایک جنازہ کو دیکھ کر تعظیماً کھڑے ہو گئے۔ ایک نئے مسلمان نے تعجب کیا اور کہا یہ توایک عیسائی کا جنازہ تھا۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں ہم جانتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ کا یہی طریقہ تھا۔
ایک بار ایک جنازہ کے احترام میں آپﷺ کھڑے ہو گئے تو کسی نے کہا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا تو فرمایا:
« أَلَيْسَتْ نَفْسًا »
’’ کیا یہودی انسان نہیں ہوتے؟“ (صحيح بخاری: 1312)
مکی ومدنی زندگی میں رواداری کے عمدہ نمونے
اگر چہ اہل مکہ رسالت محمد کے منکر رہے، لیکن رسول اکرم ﷺ کی صداقت وامانت کے زبان حال وقال سے معترف تھے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنی دعوت یا منہج و موقف میں کوئی نرمی اختیار کر لی تھی بلکہ آپﷺ کے اخلاق اور مخلوق خدا کے ساتھ حسن سلوک اور بہترین روا داری کے مظاہرہ کی وجہ سے دشمنوں کی نظر انتخاب بھی صرف آپ ہی تھے کہ آپ کے علاوہ یہ جامع کمالات کسی اور میں نظر نہیں آتے۔
نبی کریم ﷺ اخلاق حسنہ کی معراج پر فائز تھے، برداشت و رواداری ، حلم و بردباری اور اغیار کے ساتھ حسن سلوک کرنا آپ کا نمایاں وصف تھا۔
مدینہ منورہ ہجرت کے بعد آپ ﷺ نے قبائلی معاہدہ کیا، جو میثاق مدینہ سے تعبیر ہے۔ بلا شبہ یہ تاریخ انسانی کا پہلا تحریری دستور اور قرارداد تھا۔ اس معاہدے میں آپس کی جنگ بندی اور حرمت انسانی کی پاسداری کی دفعات پر دونوں فریق نے دستخط کیے۔ جن سے ہر فر اور ہر جماعت کو اپنے اپنے طور طریقے اور مسلک و مشرب کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی کا حق حاصل ہوا، انسانی کرامت و شرافت کا بول بالا ہوا، اموال کو تحفظ ملا اور شہر امن وسکون کا گہوارہ بن گیا۔
مداہنت کا مفہوم
مداہنت کی تعریف میں اہل علم نے لکھا ہے کہ
اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی دنیاوی غرض یا مفادات کی خاطر اس بات سے خاموش ہو جانا کہ جس کا بولنا یا کہنا واجب تھا اور اس قول و فعل کو ترک کر دینا جس کا کرنا یہ کہنا واجب تھا۔ جب کہ مدارات یا رواداری کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہوئے اپنے آپ سے یا لوگوں سے شر کو دور کرنا۔
مداہنت کا مفہوم حافظ ابن حجر کے نزدیک:
حافظ ابن حجر نے دونوں میں فرق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مدارات یعنی رواداری یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ نرمی بھرتی جائے ، جاہل کو محبت کے ساتھ تعلیم دی جائے، فاسق کو برائی سے روکا جائے اور سوسائٹی میں منکر کی روک تھام احسن طریقے سے کی جائے۔ اس لحاظ سے روا داری کا تعلق مسلمانوں کے اخلاق و آداب کے ساتھ ہے، جب کہ مداہنت بالکل اس کے برعکس ہے۔
بلکہ حافظ ابن حجر نے یہاں تک لکھا ہے:
“وَظَنَّ بَعْضُهُمْ أَنَّ الْمُدَارَاةَ هِيَ الْمُدَاهَنَةُ فَغَلَطَ لأن المداراة مَنْدُوبٌ إِلَيْهَا وَالْمُدَاهَنَةُمحرمة.”
’’بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ مدارات یعنی رواداری کا مطلب مداہنت ہے، حالانکہ یہ بالکل غلط ہے، اس لیے کہ رواداری مستحب اور قابل تعریف امر ہے جب کہ مداہنت اختیار کرنا حرام ہے۔“
(فتح الباری: 10؍528)
اہل زبان کے نزدیک مداہنت کے معانی
مداہنت کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ جو چیز انسان نے اپنے ضمیر میں چھپا رکھی ہو، اس کے برعکس اس کا اظہار کرے یعنی منافقت کی ایک صورت ہے۔
علامہ ابن منظور نے لسان العرب میں اس کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ قربت اور نزدیکی کا اظہار کرنا جب کہ در پردہ عداوت اور حسد چھپا ہو۔
(لسان العرب لابن منظور: 13؍162)
اسی طرح مداہنت کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ لوگوں کے ساتھ ان کی حسب منشا معاملہ کرنا اور ان کی ایسی تعریف کرنا یا ان کی ناجائز کاموں میں مدد کرنا خواہ لوگ باطل پر ہی کیوں نہ ہو۔
جبکہ رواداری کا مطلب یہ ہے کسی کبھی شئے کے مقابلے میں اچھی چیز کو حاصل کرنے کا اظہار اور اس کی کوشش کرنا اس شرط کے ساتھ کہ انسان کے دین اور ایمان کو سلامتی حاصل ہو۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
﴿ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ﴾
’’(برائی کو ) اس ( طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے۔“ (سورة فصلت: 34)
مد اہنت کے لغوی معنی نرمی کرنا ہے۔ یعنی ناجائز اور گناہ والے کام دیکھنے و سننے کرنے کے بعد بھی (اسے روکنے پر قادر ہونے کے باوجود ) اسے نہ روکنا اور دینی معاملے کی مدد و نصرت میں کمزوری و کم ہمتی کا مظاہرہ کرنا ، مداہنت کہلاتا ہے۔
اسی طرح ایک مفہوم یہ ہے کہ کسی بھی دنیوی مفاد کی خاطر دینی معاملے میں نرمی یا خاموشی اختیار کرنا مداہنت ہے۔
مداہنت کے اسباب
مداہنت کے بے شمار اسباب ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔ مثلا :
اہل مال کی قربت حاصل کرنے کے لیے یا خود مال کی طلب یا عہدے کی خواہش یا کسی بڑے انسان کی قربت چاہنے کے لیے یا کسی بھی حزبی جماعت کی نصرت و حمایت یا اپنی ذات کی شہرت اور برتری یا خواہشات کے غلبے کے تحت مداہنت کا رویہ اختیار کرنے پر انسان مجبور ہو جاتا ہے، یعنی اس میں مداہنت پیدا ہوتی ہے اللہ تعالی ہم سب کو دین میں مداہنت سے محفوظ فرمائے اور ہمارے دلوں کو ہمارے معاملات کو دین اسلام پر ثابت قدمی اور قائم فرمائے۔
مداہنت کا ایک سبب دنیوی غرض ہے کہ بندہ کسی دنیوی غرض کی وجہ سے برائی سے منع نہیں کرتا۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دنیوی اغراض و مقاصد کو اُخروی اغراض و مقاصد پر ترجیح دینے کے وبال پر غور کرے کہ جو لوگ آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔
مداہنت کا ایک سبب جہالت ہے کہ بندہ جب امر بالمعروف یعنی نیکی کی دعوت دینا اور نہی عن المنکر یعنی برائی سے منع کرنے کی مختلف صورتوں کے بارے میں علم حاصل نہیں کرتا، تو مداہنت یعنی برائی دیکھ کر اُسے منع کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود منع نہ کرنے جیسے مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اس طرح مداہنت کا ایک سبب قرابت (رشتے داری) ہے کہ بندہ جس شخص میں برائی دیکھ رہا ہے وہ اس کا قریبی رشتہ دار ہے۔ لہٰذا یہ روکنے پر قادر ہونے کے باوجود اُسے منع نہیں کرتا۔
رواداری اور مداہنت میں فرق
رواداری میں دوسروں کے لیے جائز نرمی کا رویہ اپنا ہوتا ہے، جب کہ مداہنت سے مقصود غیر شرعی نرمی ہے اور شرعی احکام سے جان چھڑانا ہوتا ہے۔ کفار کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ اہل ایمان کو ورغلانے کے لیے مداہنت کا شکار کرتےہیں۔ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ﴾ (سورة القلم: 9)
’’ وہ چاہتے ہیں کاش! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔“
مداہنت سے کیسے بچا جائے؟
مداہنت سے بچنے کے لیے صرف اللہ ورسول اللہ ﷺکی پکی اور مکمل اطاعت کرنا ہی اس کا علاج اور حل ہے۔
اس سلسلے میں قرآن مجید کی ایک آیت کریمہ اور اس کا تفسیری مفہوم آپ کو پیش کر رہے ہیں، جس میں مداہنت کا علاج ہے۔
کامل اطاعت رسول اللہ ﷺ ہی زندگی اور نجات ہے:
فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُوْلِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ﴾ (سورۃ الانفال: 24)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اور رسول کی دعوت قبول کرو، جب وہ تمہیں اس چیز کے لیے دعوت دیں جو تمھیں زندگی بخشتی ہے۔“
آیت کریمہ کا تفسیری مفہوم:
اس کی تفسیر میں امام قتادہ فرماتے ہیں:
﴿لِمَا يُحْيِيكُم ﴾ سے مراد زندگی بخشنے والی چیز قرآن مجید ہے، کیوں کہ اس میں نجات، بچاؤ اور زندگی گزارنے کا لائحہ عمل ہے۔
امام سدی فرماتے ہیں:
’’اس سے مراد اسلام ہے، جس نے لوگوں کو کفر سے نکال کر زندگی بخشی ہے۔‘‘
سیدنا عروہ بن زبیر اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’اس سے مراد جہاد ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ذلت سے نکال کر عزت بخشی ہے، کمزوری کےبعد قوت عطا کی اور دشمن کے قبر سے نجات دے کے آزادی جیسے نعمت سے نوازا ہے۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے دل درمیان حائل ہے یعنی ایمان اور کفر کے درمیان رکاوٹ ہے۔ بلاشبہ سارے دل اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔‘‘(تفسیر ابن کثیر :4؍35)
شریعت میں مصلحت اور ہماری مصلحت پسندی کا مفہوم
شرعی مصلحت کا مفہوم
مصلحت کا معنی فائدہ، منفعت یا کسی بھی دینی اور دنیاوی فائدے کو حاصل کرنے کا طریقہ یا قاعدہ مصلحت کہلاتاہے۔ یہ سارے معنی مصلحت کے لفظ میں موجود ہیں۔
جب کہ مصلحت پسندی ایک اصطلاح ہے جو آج کل ہمارے ہاں اردو میں استعمال کی جاتی ہیں، جس کے کئی معانی ہیں۔ بہر کیف ہم شرعی مفہوم کو واضح کر دیتے ہیں کہ دوسرا معنی سمجھنا آسان ہو جائے۔
سب سے پہلے اس بات کو سمجھ لیں کہ اس باب میں اصل مسئلہ مصلحت کا اختیار کرنا ی مصلحت کا تعین کرنا ہوتا ہے۔
اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ شریعت میں وہی مصلحت معتبر ہوتی ہے جس کا اعتبار کتاب وسنت میں موجود ہے، لیکن جس مصلحت کی بنیا د رائے ہو یا اقوال پر ہو تو ایسی مصلحت کا سرے کوئی اعتبار نہیں خواہ اس کے ہزار تاویلیں کی جائیں، کیونکہ اس کی بنیاد کتاب وسنت پر نہیں۔
ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے:
یادر ہے! ہمارا یہ منہج وموقف ہے اور ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ تمام انسانیت کے لیے مصلحت اور فائدے کی تمام چیزیں دین اسلام نے واضح دی ہیں۔ پھر کسی نئی مصلحت پسندی میں پڑنا یا اس کا شکار ہونا کسی فتنے سے کم نہیں۔ دین مکمل ہو چکا ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے پوری امت مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ﴾ (سورۃ المائدة:3)
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔“
آیت کریمہ کا تفسیری مفہوم
اس آیت کریمہ کی مخاطب پوری امت ہے۔ لہٰذا دنیا کی مصلحتیں کتاب وسنت کے تابع ہیں نہ دین ان کے اس کی ایک مثال سید نا عمر فاروق سے ہمیں ملتی ہے کہ انہوں نے اپنے زمانے میں ایک مجلس برپا کی ہے اور ان کے سامنے یہ سوال رکھا کہ ہم نبی کریمﷺ کے زمانے میں طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے تھے اور اس کی ایک مصلحت اور حکمت تھی جو کہ آج ختم ہوگئی ہے تو پھر ہم یہ رمل کیوں کرتے ہیں؟ کیوں کہ اب یہ دوڑ کر تین چکر کس کو دکھانے ہیں اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، لہذا میرا تم لوگوں سے سوال ہے کہ رمل کیوں کرتے ہیں؟
لیکن ساتھ ہی حاضرین مجلس کو دو ٹوک یہ سنت نبوی سمجھاتے ہوئے اعلان کرتے ہوئے کہا: یاد رکھو! یہ رل قیامت تک باقی رہے گا تم میں سے کوئی میرے بعد یہ نہ سمجھ لے کہ اس کی مصلحت ختم ہو گئی ہے، لہٰذا اس کو ترک کر دینا چاہیے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے اور شریعت کا حصہ ہے، لہٰذا دین کا ہر حکم اپنی مصلحت کے ساتھ قیامت تک باقی رہے گا، اسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔
شرعی احکام کی تبدیلی بھی دین اسلام میں موجود ہے:
یہی سے محدثین نے یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ شریعت کے احکام زمان و مکان اور حالات کے بدلنے سے نہیں بدلتے بلکہ تبدیلی بھی وہ قابل قبول ہے جو کتاب وسنت میں موجود ہے، کسی بندے کی ذاتی رائے یا عقلیات کی بنیاد پر شریعت کے احکامات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔
شرعی احکام کی پانچ مصلحتیں
شریعت کا ہر حکم انسانوں کی مصلحت اور فائدے پر مشتمل ہے خواہ انسانی عقل اس کو سمجھ سکے یا اس کی عقل میں نہ آ سکے۔ لیکن یادر ہے! شریعت کے تمام احکام کی پانچ مصلحت ہے:
لہٰذا ہر حکم اور ہر مستحب عمل لازمی طور پر ان پانچ میں سے کسی ایک کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے، سب سے پہلی مصلحت حفظ جان، حفظ دین، حفظ مال، حفظ عزت و حرمت اور پھر حفظ نسب۔
اس کی مثال لیجئے: عقیدہ تو حید کو قبول کرنا اور نماز کی پابندی کرنا، دین کی حفاظت میں سے ہے، اگر انسان کفر و شرک میں پڑا رہے تو یہ دین کی خرابی ہے جو کہ اسلام کی مصلحت کے خلاف ہے۔ لہذا اسلام یہ چاہتا ہے کہ ہر بندے کادین محفوظ ہو۔
اسی طرح اس بات کو دیکھیں ایک بندہ نماز پڑھتا ہے، لیکن وہ مسنون طریقہ پر نہیں، بلکہ مصنوعی طریقے سے پڑھتا ہے تو اس کی نماز قابل قبول نہیں، کیوں کہ جس نے اتباع سنت کو ترک کیا، اس نے اپنے اعمال کو برباد کیا ہے۔
جیسے سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدُّ»
’’ جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا حکم نہیں، تو وہ عمل مردود ہے۔“(صحیح مسلم: 1718)
موجودہ حالات پر منطبق امام بن حزم کا زریں قول:
ہمارے معاشرے میں افراط وتفریط ہے، خواہ مذہبی طبقہ ہو یا سیاسی، ہر کوئی شدت پسندی یا مصلحت کیشی کا شکار نظر آتا ہے، پھر نو جوان نسل کی اس ماحول میں تربیت جلتی پر تیل کا کام کرنا ہے، ہر معاشرے کے سدھرنے کے امکانات کم سے کم آنے لگتے ہیں، لیکن اہل علم وحلم اور عدل وانصاف کرنے والوں کو اسی ماحول اپنا کام بھی کرنا ہے۔ اس حوالے سے آئیے ہم اپنا جائزہ لیں اور اصلاح کریں:
امام ابن حزم (متوفی 456 ھ ) فرماتے ہیں:
’’انسان اور (دیگر جانداروں ) گدھوں، کتوں اور حشرات الارض کے درمیان حد فاصل اس کی گفتگو اور انداز کلام ہے۔ اس مناسبت سے لوگ تین طرح کے ہیں:
1۔ ’’بعض لوگ اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ وہ کیا بول رہے ہیں، جو بھی ان کی زبان پر آ جائے اسے اگلتے ہی چلے جاتے ہیں، حق کی تائید اور باطل کی تردید ان کا مقصود و صح نظر نہیں ہوتا ، لوگوں میں غالب اکثریت اسی طرح کے افراد پر مشتمل ہے۔ ‘‘
2۔ بعض لوگ حقیقت حال ( حقائق) جانے بغیر حق و باطل کی تائید و تردید میں بولتے ہی چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے موقف پر بضد رہتے ہیں، اس طرح کے لوگ بھی بکثرت موجود ہیں، لیکن یہ پہلے کی نسبت کم ہیں۔
3۔ ایسے لوگ جو موقع و مناسبت کے لحاظ سے برمحل گفتگو کرتے ہیں اور یہی لوگ نایاب ہیں۔“
(الأخلاق والسير فى مداواة النفوس لابن حزم : ص 99)
٭٭٭
وفات برادرِ اکبر حافظ حبیب الرحمٰن حبیب
مولانا حافظ حبیب الرحمن حبیب سابق ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے برادرِ اکبر محمد افتخار اختر رحمه اللہ رحمة واسعة کی وفات پر مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کا اظہار تعزیت
مرکزی جمعیت اہلحدیث برطانیہ کے امیر مولانا شعیب احمد میر پوری﷾، ناظم اعلیٰ قاری ذکاء اللہ سلیم ﷾اور ناظم مالیات برادر افتخار احمد﷾ نے مولانا حافظ حبیب الرحمن حبیب سابق ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے برادرِ اکبر محمد افتخار اختر کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ
اللہ تعالی انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی بشری خطاؤں سے درگزر فرمائے۔ اللہ تعالیٰ مولانا حافظ حبیب الرحمن حبیب ﷾سمیت تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
إِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ، إِنَّا للهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلِّ شَيْئٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُّسَمًّى.
اَللَّهُـمَّ اغْفِـرْ لَه وَارْحَمْـه وَعَافِه وَاعْفُ عَنْـه وَأَكْـرِمْ نُزُلَـه وَوَسِّـعْ مُدْخَـلَه وَاغْسِلْـه بِالْمَـاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَـرَدِ وَنَقِّـه مِنَ الْخَطَـايَا كَمَا نَـقَّيْتَ الـثَّوْبَ الأَبْيَـضَ مِنَ الدَّنَـسِ وَأَدْخِـلْه الْجَـنَّةَ وَأَعِـذْه مِنْ فِتنَةِ الْقَـبْرِ وَعَذَابِ النَّـار، اللهم أَدْخِلْهُ الْجَنَّة وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ، اللهم أَلْحِقْهُ بِالصَّالِحِيْن.
٭٭٭
امام حسن بصری فرماتے ہیں:
“إِنَّ الرَّجُلَ كان يُشَاكُ الشَّوْكَةَ يقول؛ إني لأَعْلَمُ أنكِ بِذَنْبٍ وما ظَلَمَني رَبِّي عز وجل.”
’’سلف میں کسی کو کانٹا بھی چبھتا تو وہ کہتا: مجھے معلوم ہے کہ تو مجھے کسی گناہ کی وجہ سے چبھا ہے؛ ورنہ میرے پروردگار نے تو مجھ پر کبھی ظلم نہیں کیا۔‘‘
(الزھد للإمام أحمد)
تبصرہ کریں