عصری علوم کے ساتھ دینی علوم کی ضرورت۔ڈاکٹر سید حسین مدنی

بچے مسلم سماج اور دینی معاشرے کا بیش بہا سرمایہ اور امت وملت بلکہ انسانیت کی تعمیروترقی کے لیے بنیادی اساس اور کلیدی اثاثہ ہوتے ہیں ،ان کے تئیں کسی بھی طرح کا تساہل ،اور کسی بھی زاویے سے بے اعتنائی وتغافل زمین پر تمکنت کی بجائے ہزیمت وذلت سے دوچار کردیتا ہے ،اسی لیے ہمیں عصر حاضر میں جہاں معاشی بدحالی سے نمٹنا ہے وہیں ترجیحی بنیادوں پر نسل نو کی دینی حمیت کی پاس داری بھی کرنی ہے ۔

علم اورتعلیم کی ابتدا انسان کے وجودکے ساتھ وابستہ ہے ،اور جو علم آدم علیہ السلام کو دیا گیا ،وہ اشیا کے اسما کا علم ہے ،اور اسما سے مراد بعض مفسرین کے یہاں مسمیات یعنی اشیا کے خواص ہیں اور اِسی علم کا نام سائنس ہے۔

پہلی وحی میں پہلی آیت الہیات واخلاقیات ،دوسری آیت حیاتیات وجنینیات کے سائنسی حقائق ،تیسری آیت عقیدہ اور حیات ،چوتھی آیت علم اور ذرائع علم ،اور پانچ ویں آیت جدید سائنس اور میدان علم کی وسعتوں سے متعلق ہے۔

انبیاء علیہم السلام نے دینی علم ودنیوی علم کوعملی طور پر یکساں اہمیت دی ،جیساکہ آدم علیہ السلام زراعت کیا کرتے تھے ،نوح علیہ السلام اور زکریا علیہ السلام Carpenter تھے ،ادریس علیہ السلام Tailoring جانتے تھے ،داود علیہ السلام لوہا اور اس کی مصنوعات میں ماہر تھے ،اور سلیمان علیہ السلام ہوا اور پرندوں کے بارے میں خرق عادت بخوبی واقف تھے ،غرض یہ کہ انبیا نے دین ودنیا کی رہنمائی یکساں طور پرفرمائی ،اور ہم دینی ودنیوی اعتبار سے عمومی طور پر انبیاء کے نقش قدم پر چلنے کے پابند ہیں۔ (سورۃ الانعام:90)

عنوان بظاہر اس بات کا عکاس ہے کہ عصری علوم اور دینی علوم کے درمیان نمایاں فرق اور کھلا امتیاز ہے ،جب کہ سارے عصری علوم کی اصل اور ابتدا کہیں نہ کہیں اسلام اور مسلمانوں سے وابستہ ہے ،اسی لیے آپ کو کتب حدیث میں مستقل طور پر کتاب الطب ،کتاب البیوع ،کتاب الأطعمۃ ،و کتاب النفقات اور دیگر کتابیں ملے گیں ،اور بالخصوص عصر حاضر میں طب نبوی Alternative Medicine کے طور پر معروف ومقبول ہے۔

امام سیوطی رحمہ اللہ نے الإتقان فی علوم القرآن میں العلوم المستنبطۃ من القرآن کے تئیں اقوال سلف کی روشنی میں فرمایاکہ کائنات کی ہرشے کا علم کسی نہ کسی لحاظ سے قرآن میں ہے۔

شیخ عبد الرحمن سعدی رحمہ اللہ نے دینی وعصری علوم کی تفریق مٹاتے ہوئے مستقل کتاب لکھی:

“الدلائل القرآنية فی أن العلوم والأعمال النافعة العصرية داخلة في الدین الإسلامی.”

لیکن امام ابن عثیمین رحمہ اللہ (شرح ریاض الصالحین: 5؍451) ، شیخ بن باز رحمہ اللہ (مجموع فتاوی بن باز: 2؍ 302) اورشیخ صالح الفوزان(شرح الاصول الثلاثہ:19) وغیرہ نے شرعی علوم اور عصری علوم کے درمیان تفریق کی ،مگر شیخ بن بازرحمہ اللہ (مجموع فتاوی ومقالات متنوعہ:2؍314) نے فرمایاکہ مسلمانوںکی ضرورت کے لحاظ سے غیر شرعی علوم کا سیکھنا کبھی کبھار واجب اور فرض کفایہ ہوجاتا ہے ،اور جس قدر نیت خالص اور درست رہے گی اسی قدر بندے کے اعمال عبادت بن جاتے ہیں ،ورنہ نیت کے بغیر وہ مباح شمار ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ اکثر عصری علوم کے بنیادی اصول وفروع مسلم مفکرین کی مرہون منت ہیں ،لیکن انہیں انگریزی لاحقے کے ساتھ متعارف کیا گیا ،جیسا کہ دنیا کو جنگی تدابیر میں منجنیق کا تصور غزوۂ طائف سے ملا، بحری بیڑے کی ایجاد مسلمانوں کا عظیم الشان کارنامہ، بالخصوص تخلیق سائنس مسلمانان اندلس کا کرشمہ ہے ۔

نبی ﷺ نے مکہ میں دار ارقم قائم کیا جہاں عمر رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ نے علم حاصل کیا ،مدینے میں صفہ قائم رہا جہاں ابو ہریرہ اور انس رضی اللہ عنہما جیسے تقریباً 70 صحابہ نے علم حاصل کیا ،اور باقاعدہ مدرسہ تو مدرسۂ بیہقیہ کے نام سے چوتھی صدی ہجری میں قائم ہوا ،بالخصوص برصغیر میں انگریزوں کے غلبے سے پہلے عصری ودینی علوم کے درمیان کوئی فرق نہیں تھا ،کیوں کہ ایک ہی درس گاہ سے ڈاکٹر ،انجینیر ،سائنس داں ،محدث ،فقیہ اور مفتی فارغ التحصیل ہوا کرتے تھے ،جیساکہ امام غزالی اور البیرونی نے ایک ہی مدرسے میں ایک ساتھ پڑھائی کی ،اور امام غزالی ایک مکتب فکر کے بڑے عالم دین بنے ،جب کہ البیرونی کیمیا ،جغرافیہ ،فارمیسی اور طبیعیات و فلکیات کے بڑے سائنس داں بنے۔

احمد سرہندی ایک مخصوص مکتب فکر کے عالم اور ان کے ہم جماعت احمد لاہوری تاج محل لعل قلعہ اور جامع مسجد دہلی کے آرکیٹیکٹ تھے۔

تقریباً 1780ء سے قبل مدارس کی اصطلاح دینی درس گاہ کے ساتھ مختص نہیں تھی ،لیکن انگریزوں نے مسلمانوں کے لیے عصری علوم کے دروازے بند کرنے کے لیے اسکولس اور مدارس کے درمیان خط امتیاز کھینچا اور عصری و شرعی علوم کے مابین تفریق شروع کی ،دفتری وعدالتی نظام فارسی کی بجائے انگریزی رکھا ،اور عمومی قانون فقہ اسلامی کی بجائے انگریزی قانون بنایا۔

متقدمین میں امام زہری جغرافیہ داں ،امام رازی نام ور طبیب ،امام ابن البناء المراکشی ریاضیات اور علم ہیئت ،امام تفتازانی ما بعد الطبیعیات ،جابر بن حیان اور موسی خوارزمی کیمیا Chemistry،Physics ،Algebra اور Geometry کے ماہر ومتخصص تھے، عمر قیام Great Mathematican تھے ،ابن ہیثم نے Camera ایجاد کیا ،مامون نے Geography کی بڑی خدمت کی ،ابو عبید Paper Making میں مشہور ہوئے ،عمومی طور پر Industry صنعت وحرفت میں اسپین ،بغداد ،بخاری اور سمرقند بہت آگے رہے۔

آج سائنس جس عروج پر ہے یہ مسلمانوں کی ان گنت محنتوں کا ثمرہ ہے ،جنھوں نے ایجادات ،انکشافات اور سائنسی تحقیقات پر ایسی کتابیں تحریر کیں جو یورپ میں داخل نصاب رہیں ،پر انھوں نے ان کے اور مولفین نام بدل ڈالے ،جیسے ابن سیناFather of Algebra کی القانون کو The canon of Medicine ابو بکر الرازی کا نام Rhasis ،ابن سینا کا نام Avicenna رکھا۔

واضح رہے کہ ان میں سے بعض ماہرین پر عقیدے اور منہج کے لحاظ سے اہل علم نے ملاحظات ذکر کئے ہیں۔

بفضلہ تعالی آج کل ملک کے طول وعرض میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا اہتمام کیا گیا اور فی الوقت بحمد اللہ ضرورت محسوس کی گئی کہ عصری علوم کے ساتھ دینی تعلیم بھی ازحد ضروری ہے۔

دنیوی علوم کے ساتھ دینی علوم اس لیے ضروری ہیں کیوں کہ شرعاً ان کی اہمیت ،فضیلت اور دنیوی واخروی افادیت ہے۔

دنیوی علوم کے ساتھ دینی علوم اس لیے ضروری ہیں کیوں کہ اللہ تعالی نے ان افراد کی مذمت بیان کی جو آخرت کے علم سے غفلت برتتے ہوئے صرف دنیا کے تھوڑے سے ظاہری علوم سے واقف رہتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا : یعلمون ظاہرا من الحیاۃ الدنیا وہم عن الآخرۃ ہم غافلون۔سورۃ الروم/7۔

واضح رہے کہ درج بالا آیت میں اخروی علم کے بمقابل ظاہری دنیوی علم کی قلت کی طرف اشارہ ہے ،کیوں کہ ظاہر کو نکرہ رکھا گیا ہے جو تقلیل کے ساتھ ساتھ تحقیر پر بھی دلالت کرتا ہے۔

مذکورہ آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کفاردنیا بسانا(Civil engineering) اور زِراعت (Agriculture) جانتے تو ہیں، لیکن دین کے معاملے میں جاہل ہیں،اسی طرح قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ تجارت، (Commerce) حِرفت وہنر (Craft )اور خرید وفروخت (Sale)جانتے تو ہیں۔۔۔، بِعَینہ عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا کہ سلائی (Tailoring) جانتے تو ہیں لیکن دین کے معاملے میں جاہل ہیں۔

لہذا اہل ِایمان کفار کی طرح صرف دنیوی تعلیم کو اہمیت نہ دیں بلکہ سب سے پہلے فرض دینی علم کو اہمیت دیں ، یا کم ازکم دونوں کے درمیان توازن تو برقرار رکھیں، ورنہ محض جہالت اور صرف دنیوی علم کے درمیان کسی بھی طرح فرق باقی نہیں رہ جائے گا ۔محاسن التأویل لجمال الدین القاسمي۔

دینی علم سے غفلت برتنے والا اور دنیوی علم کو اہمیت دینے والا نہ صرف قابل ِمذمت ہے بلکہ اللہ تعالی کی محبت سے محروم ، اور اللہ کی سخت ناپسندیدگی کا شکار بھی ہے، جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ یقینا اللہ عزوجل ہر اس شخص کو ناپسند کرتا ہے جو دنیا کا علم اپنے پاس تو رکھتا ہے، لیکن آخرت کے علم کے بارے میں جاہل ہے۔(فردوس الأخبار بمأثور الخطاب، یا الفردوس بمأثور الخطاب یا مسند الفردوس للدیلمي ، باب الألف:558 ، بَروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، بَسند صحیح)

دنیوی علوم کے ساتھ دینی علوم بلکہ دنیوی علوم سے پہلے دینی علوم اس لیے ضروری ہیں کیوں کہ نبی ﷺ نے معاش سے وابستہ دنیوی اصلاحات سے پہلے اخروی کام یابی کی ضامن دینی اصلاحات کی دعا فرمائی ،جیسا کہ ارشاد فرمایا : اللہم أصلح لي دیني الذي ہو عصمۃ أمري وأصلح لي دنیاي التي فیہا معاشي الحدیث۔صحیح مسلم ،کتاب الذکر ،باب التعوذ من ۔۔۔ ،ح/2720 ،بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔

جب دنیوی علوم دراصل شرعی علوم ہی کا ایک حصہ ہیں اور انھیں قدرے اہمیت دی جاتی ہے تو جو شرعی علوم اصل ہیں انھیں کس قدرمکمل اہمیت دینی چاہیے۔

دنیوی علوم کے ساتھ دینی علوم اس لیے بھی ضروری ہیں کیوں کہ

٭ اللہ تعالی نے ہماری عزت وقوت دین سے وابستگی میں رکھی ۔ مستدرک حاکم ،کتاب الایمان ،ح/208 ،بقول عمر رضی اللہ عنہ۔

٭عصری علوم کے ساتھ شرعی علوم اس لیے ضروری ہیں کیوں کہ شرعی علوم ہی دراصل نفع بخش ہیں جن کے حصول کے لیے دعا سکھائی گئی ہے۔جامع الترمذی ،ابواب الدعوات ،ح/3599 ،بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ،بسند صحیح۔

٭ طلبا رب شناس ،فرض شناس اور تقوی شعار وپرہیزگار بن سکیں۔

٭ طلبا کو ناحق تکفیر وتفجیر جیسے منحرف افکار سے بچا سکیں۔

٭ طلبا کوشبہات وشہوات کے داخلی وخارجی فتنوں کے شکار ہونے سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

ورنہ محض دنیوی علوم کی وجہ سے طلبا کے دل ودماغ سے مذہب کی عظمت ختم ہوجاتی ہے ،اور ارتداد کا ڈر لاحق رہتا ہے۔

طلبا میں مذہبی بے اعتمادی وبے اطمینانی بلکہ شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں۔

طالبات کی عصمت وعفت غیر محفوظ اور طلبا کی پاک دامنی متاثر ہوتی ہے۔

روشن خیالی کے نام پر غیر اخلاقیات بلکہ انسانیت مخالف حرکات فروغ پانے لگتے ہیں۔

حلال وحرام اور جائز ونا جائز کی تمیز مٹ جاتی ہے۔

مادیت غالب رہتی ہے اور انسانیت واخروی فکر عَنقا ہوجاتی ہے۔

اورمحض دنیوی علم لعنت کا سبب بن سکتا ہے۔

علاوہ ازیں طلبا مخرب اخلاق نشاطات اور منشیات کے عادی بن جاتے ہیں۔

اور تو اورمسلم طلبا School Assembly میں روزآنہ شرکیہ کلمات اداکرتے ہوئے اور کفریات وخرافات کا ارتکاب

کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

یاد رہے کہ عصری علوم شرعی کے بغیر ہوں تو دہریت پیدا ہوتی ہے اور دنیوی علوم سے اگر کلی لا تعلقی ہوتو رہبانیت کا خدشہ ہوسکتا ہے ۔

حاصل کلام یہ ہے کہ ماضی بعید کی طرح عصر حاضر میں دینی علوم کے نمایاں امتزاج کے ساتھ عصری علوم کا نصاب اور تعلیمی نظام تیارکرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ،ملت کے لیے خیر خواہی ونصیحت ہے تاکہ مسلمان اپنی روشن تاریخ کو پھر سے دہرا سکیں اور دونوں جہانوں میں کام یاب ہو سکیں۔

جوہر میں ہو لا الہ تو کیا خوف تعلیم ہو گو فرنگیانہ۔

قارئین کرام ! دین اسلام نے دین و دنیا کے ما بین توازن برقرار رکھا ،اسی لیے کہا گیا جب نماز جمعہ ادا کی جائے تو تلاش معاش کرو ،اور دعا سکھائی گئی کہ

دنیا وآخرت کی بھلائی مانگی جائے ،جنگ بدر کے قیدیوں کا فدیہ دنیوی تعلیم ،زبان و بیان اور کتابت ومخاطبت کی شکل میں رکھا گیا ،اور بارہا نظام کائنات پر تدبر کرنے اور آفاق وانفس کا مشاہدہ کرنے کی تلقین کی گئی ،اور کتب سیر و تراجم سے پتا چلتا ہے کہ مہاجر صحابہ ماہرین تجارت اور انصار صحابہ ماہرین زراعت تھے ۔

علاوہ ازایں علم وتعلیم میں احسان واتقان کی مطلوبہ شکل یہ ہے کہ دینی ودنیوی علوم کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے ،لیکن بدقسمتی سے ہم نے عصری علوم کو دینی علوم پر ترجیح دی ،نتیجتاً ہمارے ذہن عصری علوم کے غلام بن گئے ،اوراس میںبہت حد تک غیر شعوری وغیر ارادی طور پرہم بھی قصور وار ہیں ،اور کسی حد تک ہمارا ناقص تعلیمی نظام بھی ذمہ دار ہے۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیر ہے ساقی

واضح رہے کہ جن عصری مدارس میں ہم دینی داخل نصاب کرنے سے عاجز ہیں وہاں متبادل حل کے طور پر محلے کی ہر مسجد میں صباحیہ ومسائیہ مکاتب کھولنے چاہیے اور ان صحیح نقوش پر دینی وایمانی تربیت کرنی چاہیے۔

٭٭٭

زندگی تو جنت کی ہے

امام ابن الجوزی فرماتے ہیں:

”میں نے اپنے آپ پر غور کیا تو اپنے آپ کو ہر شے سے مفلس پایا۔ اگر بیوی پر تکیہ کرتا ہوں تو وہ میری مراد کے مطابق نہیں ہو سکتی۔

حُسن ہے تو اخلاق ناقص ہیں، اخلاق عمدہ ہیں تو مفادات اس کے اپنے ہیں، اور شاید اسے میری موت کا ہی انتظار ہو۔ بچوں کو دیکھوں تو یہی معاملہ ہے۔ خادم اور مرید کو دیکھوں تب بھی یہی، اگر انہیں میرے سے کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو تو انہیں مجھ سے کیا مطلب!

دوست ویسے کوئی نہیں ہے، اخوت فی اللہ محض خیالی فلسفہ رہ گیا، اہلِ خیر کا اتہ پتہ رکھنے والے معتقدین راہیِ عدم ہو چکے۔

میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ اپنے نفس کو دیکھتا ہوں، تو یہ کمبخت بھی مجھ سے مخلص نہیں ہے، کوئی حالتِ سلیمہ اسے راس نہیں آتی۔ پس پیدا کرنے والی ذاتِ سبحانی کے علاوہ کوئی بھی باقی نہیں ہے!

اس کی بھی نعمتیں ہیں تو آزمائش کا پہلو لیے ہوئے، اس کے عفو کی امید ہے مگر سزا کا دھڑکا بھی۔

ہاااہ، نہ اطمینان ہے نہ دل کو قرار ہے،

ہائے یہ بے چینی و اضطراب کی شدّت، ہائے یہ سینے میں لگی آگ کی حدّت!

اللہ کی قسم، زندگی تو جنت کی ہے۔ جہاں ایمان کے ساتھ ہی رضائے الٰہی بھی ہو گی، جہاں معاشرہ خیانت و ایذا رسانی سے پاک ہو گا۔

رہی دنیا تو یہ بے سکونی کی آماجگاہ ہے اور بس!“

(صيد الخاطر لابن الجوزی: ص 342)

٭٭٭

تبصرہ کریں