
اللہ رب العزت نے مسلمانوں پر باجماعت وقت پر نمازفرض کی ہے اللہ رب العالمین کافرمان:
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾
’’یقینا نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر (جماعت کے ساتھ ) فرض ہے۔ ‘‘ (سورۃ النساء:103)
باجماعت نماز روح کوجلابخشتی ہے جماعت کے بہانے نمازی کا زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں گذرتا ہے نماز کی ادائیگی کے لئے جماعت کی پروانہ کرنا انتہائی درجہ کی غفلت،سستی اور کاہلی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ وہ آدمی شیطان کے نرغے میں ہے۔ ممکن ہے وہ اسے جلدی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجائے او ر اس سے بڑا نقصان کیا ہوسکتا ہے کہ وہ کئی سعادتوں سے محروم ہوجاتاہے۔ باجماعت نماز ادا کرنے والے خوش نصیب بندے کے لئے بہت سی خوشخبریاں احادیث نبویﷺ میں بیان ہوئیں ہیں۔
نبیِٔ کائنات ﷺ سےد ریافت کیا گیا کہ “أی العمل أحب الی اللہ عزوجل؟”’’(عمل میں سے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب عمل کون سا ہے؟‘‘«قال الصلاة علی وقتھا.»’’آپﷺ نے فرمایا:نماز کو وقت پے(جماعت کےساتھ) ادا کرنا۔‘‘ (صحیح بخاری:5970)
آپﷺ نےفرمایا کہ باجماعت نمازپڑھنا تنہاپڑھنے سے بیس اور کچھ گنازیادہ فضیلت رکھتاہے۔
اور ایک روایت کےا لفاظ یہ ہیں کہ’’جیسے بیس اور کچھ زیادہ نمازیں گھر میں پڑھی جائیں۔‘‘ (ترغیب وترہیب:405)
اور فرمایا کہ ’’باجماعت نمازانفرادی نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 645؛ صحیح مسلم:249؛ جامع ترمذی: 215789)
سیدنا ابوہریرہ سےمروی حدیث میں ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: «تفضل صلاة الجميع صلاة أحدكم وحده، بخمس وعشرين جزءا، وتجتمع ملائكة الليل وملائكة النهار في صلاة الفجر » (سلسلہ صحیحہ:268)
’’جماعت کی نماز آدمی کے اکیلے نمازپڑھنے سے پچیس گنا زیادہ افضل ہے، اور اگر وہ کسی جنگل میں نماز پڑھے،اس کاوضو ،رکوع اور سجود پورے کرے تو اس کی نماز پچاس گنا درجے تک پہنچ جاتی ہے۔‘‘
باجماعت نماز اداکرنے والے بندے کے لئےکتنی بڑی خوش نصیبی ہے کہ جب تک وہ نماز باجماعت کی انتظار میں بیٹھا رہتا ہے تو وہ نماز میں ہی لکھاجاتاہے اور مقرب فرشتے اس کی مغفرت کےلئے دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔
آپﷺ نے فرمایا کہ ’’باجماعت نمازپڑھنے کا ثواب گھر یابازار میں پڑھنے سے پچیس گناز یادہ ہے وہ اس طرح کہ کوئی اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پھر صرف اورصرف نماز کے لئے مسجد چل پڑتاہے تو ہر قدم اٹھانے پر اس کا ایک ایک درجہ بڑھتا ہے اور اس کی ایک ایک خطا معاف کی جاتی ہے پھر جب نماز پڑھ چکتا ہے تو فرشتے اس کے لئے اس وقت تک مسلسل دعائے مغفرت کرتے ہیں جب تک وہ نماز والی جگہ پربیٹھا ہو اور جب تک باوضورہے فرشتے یہ دعا کرتے ہیں: ’’اللہ! اس کی مغفرت فرما اور اس پر رحم فرما اور یوں جب تک وہ نماز کاانتظار کرتا ہے اس وقت تک وہ نماز میں مصروف سمجھا جاتا ہے۔‘‘ (ترغیب ترہیب: 402)
باجماعت نماز ادا کرنے والے خوش نصیب بندے کے لئے یہ بھی خوشخبری ہے کہ خالق کائنات اس بندے کے کیے گئے گناہوں کی مغفرت فرمادیتاہے۔ امام کائنات ﷺ نے فرمایا کہ
’’جواچھی طرح وضو کرے پھر فرض نماز کے لئے چل پڑے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے اس کے گناہ معاف ہوجائینگے۔‘‘ (صحیح ترغیب ترہیب:407)
باجماعت نماز ادا کرنے والے شخص کی معیشت میں بھی بہتری ہوگی اور باجماعت نماز ادا کرنے والے بندے کی موت بھی بہتری میں آئے گی اور اس بندے کو قبر وآخرت کے عذاب سے محفوظ رکھا جائے گا۔(ان شاءاللہ)
اس طرح گناہوں سے پاک ہونا جیسا بندہ ماں کے پیٹ سے ابھی نکلاہو یہ سعادت حج کرنےوالے حاجی اور باجماعت نماز ادا کرنے والے نمازی کے لئے ہی ہے،قارئین سے سوال ہے کہ کیا یہ کو ئی کم تر خوشخبری ہے؟
سیدنا قباث بن اشیم لیثی بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:
« صلاةُ رجلَيْنِ يَؤُمُّ أحدُهما صاحِبَهُ أزْكى عند اللهِ من صلاةِ أربعةٍ تَتْرَى ، وصلاةُ أربعةٍ يَؤُمُّهمْ أحدُهُمْ أزْكَى عند اللهِ من صلاةِ ثَمانِيةٍ تَتْرَى ، و صلاةُ ثمانِيةٍ يَؤُمُّهمْ أحدُهمْ أزْكى عند اللهِ من صلاةِ مِائةٍ تَتْرَى» (سلسلہ صحیحہ:529)
’’دوآدمیوں کی نماز جس میں ایک دوسرے کی امامت کرائے پے درپے پڑھی جانے والی آٹھ نمازوں سے بہتر ہے اور چار اشخاص کی نماز جس میں ایک دوسروں کی جماعت کرائے۔ لگاتار پڑھی جانے والی سو (100) نمازوں سے بہتر ہے۔‘‘
سیدنا عبداللہ بن عمر سے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:« إِنَّ الله لَيَعْجَبُ مِنَ الصَّلاَةِ في الْجَمِيعِ » (سلسلہ صحیحہ:652)
’’بیشک اللہ تعالیٰ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنےسے خوش ہوتا ہے۔‘‘
اور اسی طرح ہی سیدنا سلمان فارسی سے ایک مرفوع روایت میں ہے کہ نبیٔ کائنات ﷺ نے فرمایا:
«البَرَكَةُ فِي ثَلَاثَةٍ؛ الجَمَاعَةُ وَالثَّرِيدُ وَالسُّحُورُ» (سلسلہ صحیحہ:685)
’’تین چیزوں میں برکت ہے جماعتوں میں،ثرید میں اور سحری کھانے میں۔‘‘
باجماعت نماز ادا کرنے سے بندے کو اللہ رب العزت منافقت جیسے قبیح مرض سے بچاتا ہے اور اسے جہنم کی آگ سےآزاد کردیتا ہے۔
آپﷺ نے فرمایا کہ
«مَنْ صَلَّى لِلَّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الأُولَى كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَتَانِ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاقِ » (جامع ترمذی؛ سلسلہ صحیحہ:530)
’’جس نے اللہ کی (رضاکے لئے) چالیس دن جماعت کے ساتھ نماز ادا کی تکبیر اولیٰ(تحریمہ) کو ترک نہیں کیا اس کے لئے دو براءتیں لکھی جاتی ہیں ایک براءۃ (جہنم کی)آگ سے اور دوسری براءۃ نفاق سے۔‘‘
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نماز باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے اور بیان کردہ خوشخبریوں سے نوازے۔ آمین یامجیب السائلین
٭٭٭
ڈاکٹر ف عبد الرحیم ایک عبقری انسان تھے،
جو ہم میں نہ رہے۔
جنوبی ہند میں جامع دار السلام عمر آباد کے قریب ایک علاقہ وانمیاڑی میں ف عبد الرحیم پیدا ہوئے اور بچپن سے انہیں عربی زبان سیکھنے کا شوق دامنگیر تھا،کبھی کبھی اس غرض سے وہ جامع دار السلام عمر آباد کا قصد کرتے تھے لیکن باقاعدہ طور پر بحیثیت طالب علم وہ جامع دار السلام عمر آباد یا کسی بھی مدرسہ جامعہ اور دار العلوم میں داخلہ نہیں لیا۔ بس اپنے ذاتی شوق اور دلچسپی سے تعلیم کے زینے طے کرتے رہے، مدراس یونیورسٹی سے انگریزی زبان میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، عربی زبان میں علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی، عربی زبان اور دینی علوم پر مدراس یونیورسٹی سے افضل العلماء کی ڈگری حاصل کی۔ عربی زبان میں ازہر یونیورسٹی ، مصر سے Ph.D کی ڈگری حاصل کی۔ وہ عربی، انگریزی ، اردو، فارسی، ہندی، ٹمل، فرنسی، جرمنی، یونانی اور ترکی وغیرہ کل پندرہ زبانوں کے ماہر تھے۔ سوڈان میں ام درمان یونیورسٹی میں انگریزی زبان کے صدر مقرر ہوئے، بعد میں مدینہ میں عربی زبان کی تعلیم کے شعبہ میں صدر مقرر ہوئے۔ مدینہ منورہ میں جہاں دنیا کا سب سےبڑا پریس ہے، جس میں دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن حکیم کے تراجم چھپ کر ساری دنیا میں پہنچتے ہیں۔ ملک فہد قرآن پرنٹنگ پریس کے صدر مقرر ہوئے جو 23 سال سے اس ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ تھے، 90 سال کی عمر پا کر مالک حقیقی سے جا ملے اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت المعلیٰ میں دفن ہوئے۔ اس عرصہ میں ہزاروں طلباء کو عربی زبان سکھائی اور ان کی تصنیف کردہ عربی زبان سیکھنے کی کتاب جو 3 تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ ’تعلیم اللغۃ العربیۃ لغیر الناطقین بہا‘ مدینہ منورہ یونیورسٹی اور سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں داخل نصاب ہے، اس کے علاوہ دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں ان کی یہ کتاب پڑھائی جاتی ہے۔
انہوں نے 30 سے زائد کتابیں لکھی ہیں اور یہ ایسی کتابیں ہیں جو اس سے پہلے کسی اسکالر نے نہیں لکھی ہیں، ان کی ایک مشہور کتاب جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ عربی زبان کے الفاظ کن کن زبانوں میں لیے گئے ہیں اور وہ کیا ہیں؟ خود عرب حضرات ان کی کتابوں سےششدر رہے کہ اللہ نے اس عجمی شخص کو کن کن صلاحیتوں سے سرفراز کیا ہے۔ آئندہ ان کے تعلق سے بہت سی کتابیں لکھی جائیں گی اور بہت سے مضامین مجلات اور میگزینوں کی زینت بنیں گے۔ ان شاء اللہ
ہمارا مرحوم کے ساتھ خاص تعلق ہونے کی بنا پر ہم نے اسی پر اکتفاء کیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹرف عبد الرحیم کسی مدرسہ یا کسی استاذ سے تعلیم حاصل نہیں کی۔ صرف اپنے ذاتی محنت اور کوشش سے اللہ نے انہیں آسمان علم پر پہنچا دیا۔ جس پر دنیا حیرت زدہ ہے۔ ﴿ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ﴾ ایک عرصہ میں مدینہ منورہ میں رہنے کی وجہ سے مدینہ کے کبار علماء و شیوخ کی صبحت نے انہیں عالم دین بنا دیا، اس طرح پندرہ زبانوں کے عالم کو اللہ تعالیٰ نے دین کا عالم بھی بنا دیا۔ ان کی وفات پر جمیعۃابنائے قدیم جامعہ دار السلام عمر آباد، برطانیہ میں مقیم مولانا محمد عبد الہادی العمری المدنی، مولانا محمد حفیظ اللہ خاں العمری المدنی، مولانا شیر خان ، جمیل احمد عمری، مولانا عبد الباسط العمری، مولانا محمد عبد الرؤف عمری ریاضی، مولانا جی عبد الحق عمری مدنی، مولانا رشاد احمد اعظمی عمری، مولانا جمال انور اعظمی مدنی اور ڈاکٹر عبد الرب ثاقب عمری سلفی اور مرکزی جمعیۃ اہل حدیث برطانیہ کے امیر مولانا شعیب احمد مکی میرپوری، ناظم اعلیٰ قاری ذکاء اللہ سلیم وغیرہم نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ کریم مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور عالم اسلام کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین
بار دنیا میں رہو غمزہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کر کے چلو یہاں کے بہت یاد رہو
ڈاکٹر عبد الرب ثاقب العمری
٭٭٭
تبصرہ کریں