برصغیر میں اگر اہل حدیث نہ ہوتے۔۔۔شیر خان جمیل عمری

ریاست تامل ناڈو میں مسلک اہل حدیث کے علم بردار نامی کتاب مؤلف محمد انعام الحق عمری منظر عام پر آئی ہے، زیر نظر تحریر ’برصغیر میں اگر اہل حدیث نہ ہوتے‘ اس کتاب سے ماخوذ ہے۔ جس کو افادۂ عام کی غارض سے نذر قارئین کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

الحمد لله رب العالمین و الصلاة و السلام على خاتم النبین و على آله وصحبه اجمعين وعلى من تبعهم بإحسان إلى يوم الدين وبعد!

رسول اکرمﷺ نے پیشن گوئی فرمائی کہ «لاتزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق لايضرهم من خذلهم حتى يأتي أمر الله »

’’میری امت کا ایک گروہ حق پر غالب رہے گا اور ان کو ترک کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجاے ( یعنی قیامت قائم ہوجائے گی)۔ (صحیح مسلم)

نبی ﷺ کی وفات کے بعد خلیفہ اول کے انتخاب کو لے کر صحابہ کرام میں اختلاف رائے رونما ہوا۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق نے حدیث رسول ﷺ «الأئمة من قريش» (صحیح الجامع ،مسند احمد) پیش فرما کر اس اختلاف کو چٹکیوں میں ختم کردیا اور طائفہ منصورہ اہل حدیث جماعت کے پہلے رکن بن کر امت کے لئے اسوہ چھوڑا۔ آپ کے بعد عامل بالحدیث کا یہ قا فلہ بنتا گیا اور حکم رسول ﷺ «فليبلغ الشاهد الغائب» کی تعمیل کرتے ہوئے چھوٹی سی چھوٹی سنت کا احیاء کیا ۔ سنت کے مطابق اپنے قول وفعل کو ڈھالنے کی ترغیب دلائی۔

کتاب وسنت کی خالص تعلیمات کو عام کرنے میں بھی کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوئے ۔ تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ہر صدی میں قرآن و حدیث کے علم برداروں کا یہ طبقہ موجود رہا اور کتاب وسنت کی خالص تعلیمات کو دنیا کے سامنے بلاخوف پیش کیا۔ اس کے لئے انہیں طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرناپڑا، قید وبند کی زندگی گزارنی پڑی، چھوٹی بڑی مصیبتیں اٹھانی پڑیں، ہر قسم کی تکلیف کو وہ برداشت کرتے ہوئے قرآن وحدیث کے مقام ومرتبہ کو اجاگر کیا۔

برصغیر میں تاریخ اہل حدیث کا اگر آپ بغور مطالعہ کریں گے تو یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ ’’تاریخ اہل حدیث‘‘ دراصل ’’تاریخ اسلام‘‘ ہے۔ تقلید جامد، بزرگوں کے اقوال کو قرآن وحدیث پرترجیح دینا، گمراہ کن تاویلات، عقائد کا بگاڑ، شرک وبدعات کی بھرمار ، ایسے ماحول میں حدیث پیش کرنے والا بالکل اجنبی ہوتا اور غریب نظر آتا تھا۔ فقہ اور ائمہ کرام کے اقوال کے مقابلہ میں صحیح حدیث کو پیش کرنا، اس پر عمل کرنا اور اس کا پرچار کرنا جرم گردانا جاتا تھا۔ حدیث بلکہ قرآن کی آیت پیش کرنے والے سے بھی یہ مطالبہ ہوتا تھا کہ وہ فقہ میں سے دلیل پیش کرے۔ الغرض اہل حدیث جماعت کو غیر مقلد، وہابی ، گمراہ فرقہ، فتنہ پرور ، سماج میں تفرقہ ڈالنے والے، نہ جانے کس کس نام سے انہیں یاد کیا جاتا اور طرح طرح کے طعنے دے کر انہیں زدوکوب کیا جاتا۔ آخر ان کا جرم کیا تھا؟ احادیث کو پیش کرنا اور ان پر عمل کرنا، اس کے علاوہ اور کیا تھا؟ حدیث پیش کرنے پر ان کی زبان کتنی تھی ، حدیث پرعمل کرنے پر ان کا مسجدوں سے اخراج ہوتا تھا، جگہ جگہ مقدمات قائم کر کے انہیں عدالتوں میں گھسیٹا جا تا تھا۔ انگریزی حکومت سے ان کی مخبری تک کی جاتی تھی لیکن اس طائفہ منصورہ نے ان تمام تکالیف کو برداشت کرنا پسند کیا لیکن قرآن و حدیث پر عمل اور اس کی تبلیغ سے باز نہ آیا۔ احقاق حق کے لئے انھوں نے بے شمار مباحثے کئے ، مناظرے کئے ، سینکڑوں مضامین لکھے، پمفلٹس شائع کئے ،اخبار، ماہنامے، جرائد و رسائل کا اجراء کیا، ردود بھی لکھے اور جواب الجواب کا تبادلہ بھی کیا۔ غربت میں تھے ، قلت میں تھے، پھر بھی تن من دھن کی بازی لگا کر قرآن وحدیث کی بالا دستی کو قائم کیا۔

برصغیر میں اگر اہل حدیث نہ ہوتے تو آج حدیث کا نام لینے والا کوئی نہ ہوتا۔ دعوی بہت بڑا ہے لیکن یہ سچا ہے اور تلخ بھی۔ مؤرخین نے تاریخ کے اوراق میں اس کے سینکڑوں ثبوت محفوظ کر رکھے ہیں ۔ کئی غیر اہل حدیث اساطین نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے ۔ احناف بالخصوص دیوبندی حضرات نے اہل حدیث حضرات ہی کی بدولت اپنے مدارس میں حدیث پڑھانا شروع کیا تھا جیسا کہ مولانا سید مناظر احسن گیلانی حنفی نے لکھا ہے۔ ’’دارالعلوم دیوبند اور اس کے متعلقہ مدارس میں حدیث کا دورہ ہوتا ہے اس کی تار یخ یہ ہے کہ حضرت گنگوہی نے اس فتنہ (ترک تقلید) کے مقابلہ میں جو غیر مقلدیت شکل میں نمایاں ہوا، بطور اختیاری مضمون کے حدیث کے دورے کا افتتاح کیا ، وہی دوره گنگو ہ والا دیو بند میں جاری ہے۔‘‘ ( پاک و ہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم وتربیت: 2؍90؛ منقول علمائے اہل حدیث کی خدمات، از مولانا ارشادات اثری ﷾: ص61)

مولانا مناظر احسن گیلانی کے شاگرد رشید قاضی محمد عبد الرحمن ایم اے عثمانی لکھتے ہیں:

’’اہل حدیث کی یہ تحریک بجائے خود کیا تھی، کیسی تھی، مجھے اس سے بحث نہیں تاہم یہ ماننا پڑے گا کہ حنفی مسلمانوں میں ’’الكتاب والسنۃ‘‘ کے پڑھنے پڑھانے کا جو ذوق عام ہو گیا اس میں بہت کچھ دخل اسی تحریک کو ہے۔‘‘ (تدوین فقہ: ص 59؛ منقول علمائے اہل حدیث کی خدمات، مولانا ارشادالحق اثری ﷾: ص 141)

اسی طرح ایک قدآورحنفی ، دیوبندی معروف عالم دین جن سے میری ملاقات ہے، جو علامہ ڈاکٹر خالدمحمود کے نام سے جانے جاتے تھے، وہ لکھتے ہیں:

’’جماعت اہل حدیث سے ہمیں تحقیقات حدیث میں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو لیکن اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پچھلی (انیسویں) صدی میں اپنی بے بضاعتی کے باوجود حدیث کے جھنڈے انہی لوگوں نے قریہ قریہ اور شہر شہر اٹھائے ہیں، اس وقت نہ انہیں کوئی بیرونی امداد حاصل تھی جس کے سہارے بڑی بڑی بلڈنگیں اور تنظیمیں بنی ہوں، بس ایک جذبہ اور ولولہ تھاجوان کے عوام کو ہر جگہ تراجم حدیث اٹھائے لئے پھرتا تھا، میں سچ کہتا ہوں کہ برصغیر میں اگر ترک تقلید کی ہوا نہ چلتی تو علمائے دیوبند بھی اورنگ زیب سے آگے نہ بڑھتے۔ (آثار الحدیث، ڈاکٹر علامہ خالد محمود: 2؍23؛ منقول از برصغیر میں اگر وہابی نہ ہوتے)

غیر اہل حدیث بزرگوں کی اس طرح کی کھلی اعترافی شہادتیں سینکڑوں کی تعدادمیں تاریخ میں محفوظ ہیں۔ دو تین بزرگوں کے اعترافی بیانات کو بطور مثال نقل کر دیا ہے۔

زیر نظر کتاب پچھلی ایک ڈیڑھ صدی میں تامل ناڈو جنوبی ہند کی انہی نفوس قدسیہ اہل حدیث حضرات کے احیاء کتاب وسنت کی جد و جہد کی سنہری تاریخ ہے۔ جنوبی ہند کے سا حلى علاقوں میں قرآن وحدیث کی دعوت عام کرنے میں جن علماء اور رؤساء نے اہم کردار ادا کیا ہے ان کی خدمات کی مکمل نہیں بلکہ ایک ادنی سی جھلک ہے۔

خطہ مدراس میں کتاب وسنت کے احیاء کی تاریخ مادر علمی جامعہ دارالسلام عمرآباد کے تذکرہ کے بغیر نامکمل ہو گی۔ لگ بھگ ایک صدی سے یہ ادارہ کتاب وسنت کی تعلیم و اشاعت میں اہم رول ادا کر رہا ہے۔ محسن جنوبی ہند، بانئ جامعہ جناب کا کا محمد عمر خود اہل حدیث گھرانے کے چشم وچراغ تھے۔ سونے پر سہاگہ آپ نے امرتسر پنجاب میں برسوں اہل حدیث غزنوی علمائے کرام بالخصوص مولانا سید عبد اللہ غزنوی اور مولانا سید عبد الجبار غزنوی کے دروس اور صحبتوں سے فیض اٹھایا اور کتاب وسنت کے شیدائی بن گئے ۔ پھر انہی غزنوی بزرگوں کی ایماء، مشورے اور دعاؤں سے بڑے خلوص دل کے ساتھ 1924ء میں جامعہ دارالسلام کی بنیادرکھی ، آپ 1918ء میں تامل ناڈوجمعیت اہل حدیث جس کا نام اس وقت ’’انجمن اہل حدیث“ تھا اس کے پہلے صدر منتخب ہو کر جمعیت کی خدمت کی تھی۔ (اخبار اہل حدیث امرتسر، 5 دسمبر، 1922ء، ص 3۔4)

کا کا خاندان کے دیگر معزز بزرگوں کے علاوہ بانی جامعہ کے ہم نام ، مایہ ناز پوتے، حکمت و دانائی کے پیکر جناب کا کا محمد عمر ( ثانی ) تامل ناڈو جمعیت کے کلیدی عہدوں پر سالوں فائر رہے۔ ان کا مسکرا تا، دمکتا چہرہ ، کریمانہ چال، مدبرانہ گفتگو، حکیمانہ فیصلے جلال و جمال اور ان کا ’’ تامل ناڈو جمعیت اہل حدیث‘‘ کا نائب صدر کا عہدہ سنبھالنا مجھے اب بھی اچھی طرح یاد ہے۔ اللہ ان کا ٹھکانہ جنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء وصالحین کے ساتھ بنائے آمین۔ آپ مجھے بہت ہی عزیز رکھتے تھے، جامعہ کے ہر مہمانِ خصوصی کی خدمت کیلئے میرا ہی انتخاب فرماتے تھے۔ جامعہ دارالسلام کے کئی نامور نظماء اور اساتذہ مثلا شیخ العرب والعجم مولانا حافظ محمد گوندلوی، مولانا عبدالوہاب آروی، شیخ الحدیث مولانا محمد نعمان اعظمی، شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالواجد عمری رحمانی، شیخ الحدیث حکیم مولا نا عبد السبحان اعظمی، شیخ الحدیث مولا نا ظہیر الدین اثری رحمانی وغیرہم صوبائی جمعیت بلکہ بعض نے ملکی جمعیت کے بھی کلیدی عہدوں پر فائز ہو کر کتاب وسنت کی شمع جلائی، جامعہ کے کئی فارغین فضلاء نے ملک بلکہ بیرونی ملک میں بھی جمعیت اہل حدیث کے کلیدی عہدوں پر فائز ہوکر قرآن وحدیث کے پرچم کو بلند کیا ہے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ میرا ننھال مدراس ہے۔ میرے نانا محترم پروفیسر مولانا عبد العزيز جامی عمری بی اے، اسی جامعہ دارالسلام عمرآباد کے فارغ التحصیل تھے، پورے 55 سال آپ نے جمعیت اور دیگر مختلف پلیٹ فارمس کے ذریعہ شہرمدراس اور صوبہ میں قرآن وحدیث کی خالص دعوت کو عام کیا۔ آپ کی دعوت سے صوبہ کے سینکڑوں تجار، عوام وخواص عالی بالکتاب و السنہ ہوئے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد نعمان اعظمی کا خانواده بالخصوص استادمحترم مولانا عبد السبحان اعظمی عمری ، مولانا خلیل الرحمن اعظمی عمری، مولانا حبیب الرحمن اعظمی عمری، مولانا حفیظ الرحمٰن اعظمی عمری مدنی نے کتاب وسنت کی دعوت کو عام کرنے میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے ۔ اسی خانوادۂ کے چشم و چراغ اور ابن جامعہ شیخ انیس الرحمٰن اعظمی عمری مدنی صوبائی جمعیت اہل حدیث تامل ناڈو و پانڈی چیری کے موجودہ امیر ہیں ۔صوبہ کے سابق امیر خطیب شہیر، استاد محترم مولانا محمد عبداللہ عمری مدنی حیدرآبادی بھی اسی ادارہ کے فارغ التحصیل ہیں۔ مولانامحمد ثناء اللہ عمری ایم اے عثمانی سے کون واقف نہیں ہے، جن کو میں ہند کا اسحاق بھی کہتا ہوں ، مجلہ اہل حد یث ہریانہ میوات کے ایک عرصہ سے معاون مدیر رہ کر آپ نے مسلک اہل حدیث کی آبیاری کی ہے،آپ سینکڑوں سلفی علماء کے سیرت نگار ہیں ، آپ کی اب تک 10 سے زائد تصنیفات منظر عام پر آ کر نہ صرف دادتحسین حاصل کر چکی ہیں بلکہ تاریخ دانوں کے لئے مرجع کا رول ادا کر رہی ہیں۔ آپ نے مادرعلمی میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے پہلے ڈائریکٹر بن کر اس ادارہ میں تصنیف و تالیف کی بنیاد ڈالی ہے ۔ آپ اسی ادارہ جامعہ دارالسلام کے فارغ التحصیل ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ تالیف ، کتاب حدیث “الجامع الصحيح الكامل في الحديث الصحيح الشامل” کے مؤلف ، کلیۃ الحدیث جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے عمید اور استاد حد یث ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی عمری مدنی بھی اسی جامعہ دارالسلام عمرآباد کے فارغ التحصیل ہیں ۔ مسلک اہل حد یث کے ایک ستون ’’امام ابن تیمیہ‘‘ کی سیرت پر مشتمل ضخیم تصنیف کے مصنف مولانا محمد یوسف کوکن بھی ایک عمری ہی ہیں فہرست بہت طویل ہے جناب حفیظ جالندھری کے ایک مصرعہ کو معمولی تصرف کے ساتھ مادرعلمی جامعہ دار السلام عمرآباد کے نام کرتا ہوں۔

ایک صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

اس وقت یہ میرا موضوع نہیں ہے، مجھے صوبہ تامل ناڈو میں مسلک کتاب وسنت کی ترویج و اشاعت میں مادرعلمی جامعہ دارالسلام عمرآباد کے کلیدی رول کو بھی ریکارڈ میں لانا مقصود ہے۔

ایک صدی یا اس سے زائد عرصہ پر محیط تاریخی معلومات گھوم پھر کر اکٹھا کرنا جگر گردے کا کام ہے، مجھے اس کا خوب اندازہ ہے۔ میرے دوست محسن ومؤرخ جماعت ڈاکٹر بہاء الدین ﷾ کے ساتھ دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے منسلک ہوں۔ برصغیر میں تاریخ اہل حدیث کی خدمات پر مشتل تاریخی مواد کو اکٹھا کرنا اور اس کو تنقیح وتصحیح کے بعد کتابی شکل میں شائع کرنے کی مہم میں آپ کے ساتھ ایک ادنیٰ معاون کی حیثیت سے جڑا ہوا ہوں ۔ یہ کتنا مشکل کام ہے اس کا مجھے خوب علم ہے۔ جو حضرات اس وادی پر خار سے نہیں گزرے ہیں انہیں اس راہ کی تکالیف کا قطعاً علم نہیں ہوسکتا ہے۔ الحمد للہ، اب تک تاریخ اہل حدیث کی 9 ضخیم جلدیں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند سے شائع ہوکر داد تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ مزید 5 جلدوں کا مواد مرتب ہو کر طباعت کے مرحلے سے گذرنے والا ہے۔ ان شاء اللہ

’’ریاست تامل ناڈو میں مسلک اہل حدیث کے علم برادر‘‘ کا یہ تاریخی مسوده در اصل میرے کرم فرما ڈاکٹر آر کے نور محمد عمری مدنی سابق ناظم اعلیٰ صوبائی جمعیت اہل حدیث تامل ناڈو و پانڈی چیری ورکن دستور کمیٹی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی تحریک کا ثمرہ ہے اور آپ ہی کے خواب کی تعبیر بھی۔ ڈاکڑ آر کے نور محمد عمری ہی نے اس کا خاکہ وخطہ بنایا تھا اور اس پروجیکٹ کی تیاری کے لئے باضابطہ طور پر مولانامحمد انعام الحق عمری کو مکلف کیا تھا۔ اپنے رفقاء و معاونین سے اس کے اخراجات کا بیڑا بھی اٹھایا تھا لیکن اللہ کی مرضی ! اس پروجیکٹ کی تکمیل سے قبل ہی آپ نے اپنے خالق و مالک کے بلاوے پر لبیک کہا اور ہم سے جدا ہو گئے ۔اللهم اغفر له وارحمه …

آپ نے اول دن سے ہی مجھے اس پروجیکٹ سے آگاہ کر رکھا تھا اور تعاون کی اپیل بھی کر رکھی تھی۔ کئی مرتبہ آن لائن میٹنگز میں مجھے اپنے ساتھ شریک رکھا اور مشورہ لیتے رہے۔ ان کی مرضی اور خواہش تھی کہ یہ مسودہ صوبائی جمعیت اہل حدیث تامل ناڈوو پانڈی چیری کی سر پرستی میں شائع ہو، یہی وجہ تھی کہ اس کے لئے میں نے کوشش کی لیکن بوجوہ یہ ممکن نہ ہو سکا۔ بہرحال چونکہ ڈاکٹر آر کے نورمحمد عمری مدنی کا یہ پروجیکٹ تھا اور مولانامحمد انعام الحق عمری نے بڑی لگن سے اپنی بساط کے مطابق مواد جمع کیا تھا۔ اس کو ضائع ہونے سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مولانامحمد انعام الحق عمری بھی ایک لمبے عرصہ سے مجھ سے رابطہ میں رہ کر مشورے لیتے رہے ۔ انہوں نے بہت پہلے اپنا کچا مسودہ بھیج کر مجھ سے مشورہ لیا تھا۔ پھر جب یہ مکمل تیار ہوگیا تو اس کو بھی نظر ثانی کی غرض سے بھیجا اور تقریظ لکھنے کی بھی استدعا کر ڈالی ۔ لیکن افسوس پچھلے چند ماہ سے میں اس قدر مصروف رہا ہوں کہ چاہ کر بھی اس تاریخی مسودہ کو حرفاً حرفاً پڑھ نہیں سکا۔ فہرست اور چیدہ چیدہ ورق گردانی سے اندازہ ہوا کہ اب تک جو کچھ مواد اکٹھا ہوا ہے وہ سردست بہت غنیمت ہے، کمی اور کوتاہیوں کا ازالہ دوسرے ایڈیشن میں کیا جاسکتا ہے۔ کمال تو اللہ کی ذات کو حاصل ہے ۔ یہ تاریخی مسودہ صوبہ تامل ناڈو وپانڈی چیری کی جماعت اہل حدیث کی روداد ہے۔ اس کی ماضی کی تصویر ہے۔ موجودین کے لئے غذا اورمستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے بہترین نمونۂ عمل ہے۔

برادر عزیز مؤلف کے مطالبہ اور مسلسل اصرار پر میں نے یہ چند سطریں لکھی ہیں۔

مجھے امید ہے کہ اس کوشش کو جماعتی حلقے میں سراہا جائے گا۔ ان شاءاللہ

میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ

وہ اس مسودہ کو مفید بنائے، محرک محترم ڈاکٹر آر کے نورمحمد عمری مدنی اور مؤلف مولانا محمد انعام الحق عمری صاحب سمیت تمام معاونین کو جزائے خیر عطا کرے۔ آمین

سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين

٭٭٭

تبصرہ کریں