
بلادِ شام The Levant جسے احادیث ِنبویہ میں ’شام، کہا گیا ہے، دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق ایک بابرکت اور مقدس سرزمین ہے۔ احادیث مبارکہ میں جس خطہ ارضی کو ’شام، کہا گیا ہے، اس کی جغرافیائی حدود اس مملکت سے بہت وسیع ہیں جسے معاصر دنیا ’شام، Syriaکے نام جانتی ہے۔ معاصر شام 1946 میں فرانس کے قبضے سے آزاد ہونے کے بعد دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ اس سے پہلے شام The Levant کے نام سے موجود خطہ ارضی میں فلسطین، اسرائیل، موجودہ شام، اردن، لبنان، سائپرس اور ترکی کا ایک صوبہ شامل تھا۔
اہل ِعلم اور جغرافیہ دان حضرات کی ایک جماعت ابو اسحاق اصطخری، یاقوت الحموی، ابن شداد، زکریا القزوینی، شمس الدین اسیوطی اور ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے شام کی حدود کم وبیش ایک ہی جیسی بیان کی ہیں اور وہ طولاً (یعنی شمالاً جنوباً) فرات سے عریش مصر اور عرضاً (یعنی شرقاً غرباً) جبل طے سے بحیرۂ روم تک ہیں۔ حالیہ جغرافیائی تقسیم کے تناظر میں شام سے مراد فلسطین، موجودہ شام، اردن اور لبنان کا علاقہ بنتا ہے۔( بسام بن خلیل الصفدی، الفتن والملاحم وأشراط الساعۃ فی بلاد الشام، الجامعۃ الإسلامیۃ، غزۃ، 2008ء، ص51۔81)
اگرچہ احادیث میں ’شام، سے مراد بلادِ شام ہے کہ جس میں موجودہ شام کے علاوہ فلسطین، اردن اور لبنان بھی شامل ہے لیکن اس پورے خطہ میں فلسطین میں ’بیت المقدس، اور موجودہ شام میں ’دمشق، کی اہمیت وفضیلت نصوص میں بطور خاص منقول ہے۔
بلادِشام کے فضائل وبرکات
قرآن مجید میں کئی ایک ایسے مقامات ہیں جو بلادِشام کی فضیلت پر دلالت کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ﴾ (سورۃ الانبیاء: 71)
”اور ہم نے (سیدنا) ابراہیم اور (سیدنا) لوط کو اسی سر زمین میں پناہ دی کہ جسے ہم نے اہل دنیا کے لیے بابرکت بنایا ہے۔“
امام ابن جریر طبری فرماتے ہیں:
’’اس آیت سے مراد سرزمین شام ہے، کیونکہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدنا ابراہیم اور سیدنا لوط کی ہجرت عراق سے شام کی طرف تھی۔‘‘ ( جامع البیان عن تأویل آی القرآن: الأنبیاء: 17)
اسی طرح بلادِشام کے بارے میں احادیث ِنبویہ میں بھی کئی ایک فضائل وبرکات منقول ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے یہ دعا فرمائی:
«اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِیْ شَامِنَا وَفِیْ یَمَنِنَا» قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَفیِ نَجْدِنَا؟ قَالَ: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِیْ شَامِنَا وَفِیْ یَمَنِنَا» قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَفِیْ نَجْدِنَا؟ فَاَظُنَّهُ قَالَ فِی الثَّالِثَةِ: «هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِھَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ»
”اے اللہ تعالیٰ! ہمارے لیے ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت فرما۔‘‘ اس پر صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! اور ہمارے نجد میں بھی؟ (یعنی نجد میں بھی برکت کی دعا فرمائیں)۔ اللہ کے رسول ﷺ نے دوبارہ دعا فرمائی: ”اے اللہ! ہمارے شام اور یمن کو ہمارے لیے بابرکت بنا“۔ راوی کہتے ہیں کہ غالباً تیسری مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے (نجد میں برکت کی دعا کی درخواست پر) فرمایا: ”وہاں زلزلے اور فتنے برپا ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ برآمد ہو گا۔“(صحیح بخاری)
اس روایت میں اللہ کے رسول ﷺ نے بلادِ شام کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے جو اس خطہ ارضی کی فضیلت کی دلیل ہے۔ اس حدیث میں نجد سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ معروف جغرافیہ دان یا قوت الحموی نے اپنی کتاب ’معجم البلدان، میں اہل عرب کے نزدیک کئی ایک نجد کے علاقوں کا تذکرہ کیا ہے جن میں نجد ِیمامہ، نجد ِ یمن، نجد ِ حجاز، نجد ِ عراق، نجد ِ خال، نجد ِ عقاب اور نجد ِ اجاء وغیرہ اہم ہیں۔
ابن عبد البر وغیرہ کا اپنی کتاب ’التمہید، میں یہ قول منقول ہے کہ اس حدیث میں نجد سے مراد نجد ِعراق ہے۔ امام خطابی اور امام ابن حجر کا بھی یہی قول ہے۔ علامہ البانی کا کہنا ہے کہ اس روایت کے متعدد طرق’عراق‘ ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کیونکہ بعض روایات میں ’نجد، کی بجائے’مشرق، کے الفاظ ہیں (صحیح بخاری، کتاب المناقب) اور مدینہ کا مشرق عراق ہے۔ امام بخاری نے بھی اس حدیث پر ’الفتنۃ من قبل المشرق، کا باب باندھ کر یہ واضح کیا ہے کہ نجد سے مراد مدینہ کے مشرق کی سمت ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نجد ِ حجاز ہے، لیکن اس قول کی صورت میں شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے سے شیخ محمد بن عبد الوہاب کی طرف اس کی نسبت کرنا درست نہیں ہے، جیسا کہ علامہ البانی نے ’السلسلۃ الصحیحۃ، میں لکھا ہے کہ اشخاص کا مقام ورتبہ ان کے افکار واعمال کے تناظر میں طے ہوتا ہے نہ کہ جگہ کے تقدس وتشاؤم کے پہلو سے، ورنہ تو مقدس سرزمین فلسطین پر اسرائیل کی ریاست قائم ہے۔سیدنا زید بن ثابت سے مروی ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
«طُوْبٰی لِلشَّامِ» فَقُلْنَا: لِأَیِّ ذٰلِكَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ مَلَائِکَةَ الرَّحْمٰنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَھَا عَلَیْھَا» (سنن الترمذی)
”شام کے لیے خوشخبری ہو۔ “ ہم نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! کس وجہ سے خوشخبری؟ تو آپ نے فرمایا: ”رحمان کے فرشتوں نے اپنے پر شام پر پھیلائے ہوئے ہیں۔“
یہ روایت بھی شام کی سرزمین کے بابرکت ہونے کی واضح دلیل ہے۔ ( سلسلہ صحیحہ: 2؍12)
دورِ فتن میں شام میں قیام کی تاکید
احادیث نبویہ میں کئی ایک روایات ایسی ملتی ہیں کہ جن میں دورِ فتن میں سرزمین بلادِ شام میں قیام کی تاکید کی گئی ہے۔ سیدنا ابوردراء سے مروی ایک روایت کے الفاظ ہیں:
«بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذَا رَأَیْتُ عُمُوْدَ الْکِتَابِ احْتَمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِیْ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوْبٌ بِهِ فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِیْ فَعُمِدَ بِهِ إِلَی الشَّامِ أَلاَ وَإِنَّ الْاِیْمَانَ حِیْنَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ» (مسند احمد)
”اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ کتاب کا عمود میرے سر کے نیچے سے کھینچ لیا گیا، پس مجھے یہ یقین ہو گیا کہ اب یہ جانے والا ہے تو میری نگاہ نے اس کا پیچھا کیا اور وہ شام تک پہنچ گئی۔ خبردار! فتنوں کے وقت ایمان شام کی سرزمین میں ہو گا۔“
کتاب کے عمود سے کیا مراد ہے؟ اس کے بارے میں اہل ِعلم کا اختلاف ہے۔ اہل ِتعبیر یہ کہتے ہیں کہ خواب میں عمود سے مراد ’دین، یا وہ شخص ہو تا ہے کہ جس پر دین کا انحصار ہو۔ اس لیے خواب میں عمود کی دو معروف تعبیرات میں سے ایک ’دین، اور دوسرا ’سلطان، کی گئی ہے۔( فتح الباری: 21؍304)
بہرحال دونوں تعبیرات کی روشنی میں شام کی فضیلت و اہمیت مسلم ہے، جیسا کہ ایک اور روایت کے الفاظ ہیں۔ حضرت معاویہ بن قرۃ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَیْرَ فِیْکُمْ، لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِیْ مَنْصُوْرِیْنَ لَا یَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ» (سنن الترمذی، ابواب الفتن، باب ما جاء فی الشام)
”جب اہل شام بگڑ جائیں گے تو پھر اس اُمت میں کوئی خیر باقی نہیں رہے گا۔ اور میری اُمت میں سے ایک گروہ ہمیشہ ایسا رہے گا کہ جسے قیامت تک خدائی نصرت شامل حال رہے گی۔ جو انہیں ذلیل کرنا چاہے وہ ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا۔“
پس بلادِشام میں اصحاب علم وفضل اور اہل حل وعقد کی ایک جماعت قیامت تک ایسی رہے گی کہ جسے خدائی نصرت شامل حال رہے گی۔ امام ابن تیمیہ نے ایک لطیف نکتہ یہ بیان کیا ہے کہ خلق وامر میں مبدا و معاد مکہ اور شام ہیں، ارادہ کونیہ ہو یا ارادہ شرعیہ۔ دنیا و دین کی ابتدا مکہ سے ہوئی اور دنیا و دین کی انتہا شام میں ہو گی۔ اللہ کے رسول ﷺ کے دین کی ابتدا اور ظہور مکہ سے ہوا اور اس کا کمال وعروج شام میں مہدی کے ظہور سے حاصل ہو گا۔ (مجموع الفتاوی: 72؍705)
جیسا کہ بعض روایات میں سیدنا عیسیٰ بن مریم کے نزول کے بارے میں یہی بشارت منقول ہے کہ دمشق کی مشرقی جانب موجود سفید منارہ پر دو فرشتوں کے پَروں پرہاتھ رکھے ان کا نزول ہو گا۔ (سنن أبی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال)
سیدنا عبد اللہ بن حوالہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
«سَیَصِیْرُ الْأَمْرُ إِلٰی أَنْ تَکُوْنُوْا جُنُوْدًا مُجَنَّدَةً جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْیَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ» قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ خِرْ لِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنْ أَدْرَکْتُ ذٰلِكَ، فَقَالَ: «عَلَیْكَ بِالشَّامِ فَإِنَّهَا خِیَرَةُ اللّٰہِ مِنْ أَرْضِه یَجْتَبِیْ إِلَیْهَا خِیَرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ، فَاِمَّا إِنْ أَبَیْتُمْ فَعَلَیْکُمْ بِیَمَنِکُمْ، وَاسْقُوْا مِنْ غُدْرِکُمْ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَوَکَّلَ لِیْ بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ» (سنن أبی داؤد، کتاب الجھاد، باب فی سکنی الشام)
”تمہارے دین اسلام کا معاملہ یہ ہو گا کہ تم لشکروں کی صورت میں بٹ جاؤ گے۔ ایک لشکر شام میں، ایک عراق میں اور ایک یمن میں ہو گا“۔ ابن حوالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اس زمانے کو پا لوں تو مجھے اس بارے میں کوئی وصیت فرما دیں۔ آپﷺ نے فرمایا: شام کو پکڑ لے کیونکہ وہ اللہ کی زمینوں میں سے بہتر سرزمین ہے۔ اللہ کے بہترین بندے اس کی طرف کھنچے چلے جائیں گے۔ پس اگر تمہارا ذہن شامی لشکر کا ساتھ دینے پر مطمئن نہ ہو تو یمن کی طرف چلے جانا اور صرف اپنے گھاٹ سے پانی پینا۔ اللہ تعالیٰ نے میرا اکرام کرتے ہوئے شام اور اہل شام کی ذمہ داری لے لی ہے۔“ (صحیح أبو داؤد: 4422)
اپنے گھاٹ سے پانے پینے سے مراد یہ ہے کہ اپنے آبی وسائل تک محدود ہو جاؤ، کیونکہ دورِ فتن ہے، لہٰذا دوسروں کے گھاٹ سے استفادہ کی کوشش فتنوں اور لڑائیوں میں مزید اضافہ کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک اعتبارسے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں میں باہمی افتراق و فتن کے ایسے دور میں اللہ کے رسول ﷺ پہلے سے موجود وسائل وذرائع پر قناعت کی تلقین فرما رہے ہیں اور مزید کی حرص وتلاش سے منع فرما رہے ہیں تا کہ یہ عمل امت میں مزید افتراق و انتشار کا باعث نہ بن جائے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
«سَتَکُوْنُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِیَارُ أَهْلِ الْاَرْضِ اَلْزَمُهُمْ مُهَاجَرَ إِبْرَاهِیْمَ وَیَبْقٰی فِی الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا» (سنن أبی داؤد)
”ہجرت(مدینہ) کے بعد ایک اور ہجرت ہو گی اور زمین پر موجود بہترین لوگ سیدنا ابراہیم کی ہجرت کی جگہ کی طرف ہجرت کریں گے اور بقیہ زمین پر صرف شریر لوگ باقی رہ جائیں گے۔“ (سلسلہ صحیحہ: 414)
یہ دورِ فتن کی ہجرت ہے اوراسے ہجرتِ مدینہ کی ہجرت کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ پس اسلام میں پہلی ہجرت، ہجرت مدینہ تھی جو اہل مکہ کے فتن و آزمائشوں کے سبب ہوئی اور مدینہ منورہ اس ہجرت کے سبب عظیم سلطنت اسلامیہ کے قیام کی نہ صرف بنیاد بنا بلکہ خلافت اسلامیہ کا مرکز اول بھی قرار پایا۔ اسلام میں آخری ہجرت کفار کی آزمائش کے سبب بلادِ شام کی طرف ہو گی جو سیدنا عیسیٰ کے نزول اور مہدی کے ظہور کی سرزمین ہے اور اسی سرزمین میں سیدنا عیسیٰ دجال کو قتل کرنے کے بعد دوسری بار خلافت اسلامیہ علیٰ منہاج النبوۃ کی بنیاد رکھیں گے۔ پس اسلام کے ابتدائی عروج کا مرکز مدینہ تھا تو انتہائی عروج کا مرکز ارضِ مقدس ہے۔
بعض روایات میں اس طرف اشارہ ہے کہ اہل ِروم کی طرف سے اہل ِشام پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ سیدنا ابو نضرۃ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ کے پاس تھے کہ انہوں نے فرمایا:
«یُوْشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا یُجْبٰی إِلَیْهِمْ قَفِیْزٌ وَلَا دِرْهَمٌ، قُلْنَا مِنْ أَیْنَ ذٰلِكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ یَمْنَعُوْنَ ذٰلِكَ، ثُمَّ قَالَ: یُوْشِكُ أَهْلُ الشَّامِ أَنْ لاَ یُجْبٰی إِلَیْهِمْ دِیْنَارٌ وَلَامُدْیٌ، قُلْنَا مِنْ أَیْنَ ذٰلِكَ؟ قَالَ: مِنْ قِبَلِ الرُّوْمِ» (صحیح مسلم)
”قریب ہے کہ اہل عراق کو ان کا قفیز (ماپ تول کا ایک پیمانہ) اور درہم (چاندی کی کرنسی) کچھ فائدہ نہ دے۔ ہم نے کہا: ایسا کہاں سے ہو گا؟ تو انہوں نے کہا: عجم (غیر عرب) سے ہو گا، وہ اسے روک دیں گے۔ پھرسیدنا جابر نے کہا: قریب ہے کہ ِاہل شام کو ان کا دینار (سونے کی کرنسی) اور مدی (ماپ تول کا ایک پیمانہ) کچھ فائدہ نہ دے۔ تو ہم نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ تو سیدنا جابر نے کہا: یہ ا ہل روم کی طرف سے ہو گا۔“
اس روایت کے مفہوم سے اہل فلسطین بھی مراد لیے جا سکتے ہیں کہ جنہیں اسرائیل کی طرف سے متعدد پابندیوں کا سامنا ہے اور موجودہ شام بھی مراد ہو سکتا ہے کہ جسے حالیہ شورشوں کے سبب کئی اعتبارات سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔
ایک اور روایت میں دورِ فتن میں سر زمین شام کو مسلمانوں کا وطن قرار دیا گیا ہے۔ سیدنا سلمہ بن نفیل کندی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے کہا:
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَذَالَ النَّاسُ الْخَیْلَ وَوَضَعُوا السِّلَاحَ وَقَالُوْا لَا جِھَادَ قَدْ وَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَھَا، فَأَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِوَجْهِهِ وَقاَلَ: «کَذَبُوا الْآنَ الْآنَ جَاءَ الْقِتَالُ وَلَا یَزَالُ مِنْ أُمَّتِی أُمَّةٌ یُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ وَیُزِیْغُ اللّٰہُ لَهُمْ قُلُوْبَ أَقْوَامٍ وَیَرْزُقُهُمْ مِنْهُمْ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ وَحَتّٰی یَاْئتِیَ وَعْدُ اللّٰہِ، وَالْخَیْلُ مَعْقُوْدٌ فِیْ نَوَاصِیْھَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ وَهُوَ یُوْحٰی إِلَیَّ أَنِّیْ مَقْبُوْضٌ غَیْرَ مُلَبَّثٍ وَأَنْتُمْ تَتَّبِعُوْنِیْ أَفْنَادًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ وَعُقْرُ دَارِ الْمُؤْمِنِیْنَ الشَّامُ» (سنن النسائی، کتاب الخیل)
اے اللہ کے رسولﷺ!لوگوں نے گھوڑوں کو حقیر سمجھ لیا ہے اور ہتھیار رکھ دیے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ اب کوئی جہاد نہیں ہے،جنگ ختم ہو چکی ہے۔ اللہ کے رسولﷺ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اورکہا: یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ جنگ تو اب شروع ہوئی ہے۔ اور میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ اقوام کے دلوں کو ان کے تابع کر دے گا اور اللہ تعالیٰ انہیں ان سے رزق دے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے اور اللہ کا وعدہ آ جائے۔ گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے دن کے لیے خیر باندھ دی گئی ہے۔ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ مجھے اٹھا لیا جائے گا اور تم مختلف فرقوں کی صورت میں میری اتباع کرو گے۔ اور ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے۔ ان حالات میں شام اہل ایمان کا گھرہو گا۔“
مختلف فرقوں سے مراد مذہبی اور جغرافیائی بنیادوں پر اُمت ِمسلمہ کی تقسیم ہے۔ دورِ فتن میں مختلف مکاتب فکر کے پیروکار اور ممالک اسلامیہ کے باشندے اپنے اپنے طور اللہ کے رسول ﷺکی اتباع کریں گے۔ ایسے حالات میں بلادِ شام کو اہل ایمان کا وطن قرار دیا گیا ہے۔
قرب قیامت اور بلادِ شام
قرب قیامت کے حالات وواقعات میں بھی سرزمین شام کی اہمیت کئی ایک روایات میں منقول ہے۔ ایک روایت میں علامات قیامت کے ظہور کے بعد شام میں قیام کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ سیدنا سالم بن عبد اللہ بن عمر اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا:
«سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَ مَوْتَ أَوْ مِنْ نَحْوِ حَضْرَ مَوْتَ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَةِ تَحْشُرُ النَّاسُ» قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «عَلَیْکُمْ بِالشَّامِ» (جامع ترمذی)
”قیامت کے دن سے پہلے حضرموت یا حضر موت کے قریب سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ایک جگہ جمع کرے گی۔‘‘ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”شام کی سرزمین کو پکڑ لو!“
اس روایت میں قرب قیامت میں سرزمین شام میں قیام کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
ایک اور روایت کے الفاظ ہیں کہ خروجِ دجال کے دور میں مسلمانوں کی ہجرت کی سرزمین شام ہو گی۔ حضرت ثعلبہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک دن حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے ایک خطبہ میں موجود تھا اور وہ یہ حدیث اللہ کے رسول ﷺ سے نقل کر رہے تھے:
«وَإِنَّهُ یَحْصُرُ (أی الدجال) الْمُؤْمِنِیْنَ فِیْ بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَیُزَلْزِلُوْنَ زِلْزَالًا شَدِیْدًا ثُمَّ یُهْلِکُهُ اللّٰہُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی وَجُنُوْدَهُ حَتّٰی إِنَّ جِذْمَ الْحَاءِطِ أَوْ قَالَ أَصْلَ الْحَائِطِ وَقَالَ حَسَنٌ الْأَشْیَبُ وَأَصْلَ الشَّجَرَةِ لَیُنَادِیْ أَوْ قَالَ یَقُوْلُ یَا مُؤْمِنُ اَوْ قَالَ یَا مُسْلِمُ هٰذَا یَهُوْدِیٌّ أَوْ قَالَ ھٰذَا کَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْهُ»
”دجال اہل ایمان کو بیت المقدس میں محصور کر دے گا۔ پس اہل ایمان اچھی طرح آزمائشوں سے ہلا مارے جائیں گے۔ پھراللہ تعالیٰ دجال اور اس کے لشکروں کو ہلاک کر دے گا۔ یہاں تک کہ دیوار کی بنیاد اور حسن اشیب نے کہا ہے کہ درخت کی جڑ پکارے گی اور کہے گی:اے بندۂ مومن! یا اے بندۂ مسلم! یہ یہودی ہے، یا یہ کہے گی یہ کافر ہے، آؤ! اسے قتل کرو۔“(مسند احمد: 33؍943)
ایک روایت میں سرزمین شام سے چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں کو اہل ایمان کے لیے رحمت وفضل الٰہی قرار دیا گیا ہے۔ روایت کے الفاظ ہیں۔سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص سے سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
«یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِیْ أُمَّتِیْ فَیَمْکُثُ أَرْبَعِیْنَ، لاَ أَدْرِیْ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًا أَوْ أَرْبَعِیْنَ شَھْرًا أَوْ أَرْبَعِیْنَ عَامًا، فَیَبْعَثُ اللّٰہُ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ کَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُوْدٍ فَیَطْلُبُهُ فَیُهْلِکُهُ، ثُمَّ یَمْکُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِیْنَ لَیْسَ بَیْنَ اثْنَیْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ یُرْسِلُ اللّٰہُ رِیْحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ فَلاَ یَبْقٰی عَلٰی وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِیْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَیْرٍ أَوْ إِیْمَانٍ إِلاَّ قَبَضَتْهُ، حَتّٰی لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ دَخَلَ فِیْ کَبَدٍ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَیْهِ حَتّٰی تَقْبِضَهُ» (صحیح مسلم، کتاب الفتن)
”دجال میری امت میں چالیس تک رہے گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ چالیس سے مراد چالیس دن، یا چالیس مہینے یا چالیس سال ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ بن مریم کو بھیجیں گے جو عروہ بن مسعود سے مشابہ ہوں گے۔ پس وہ دجال کو تلاش کریں گے اور اسے قتل کریں گے۔ پھر لوگ 7سال تک اس حال میں رہیں گے کہ دو آدمیوں کے مابین بھی دشمنی نہ ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجیں گے اور دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص باقی نہ رہے گا کہ جسکے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان یا خیر ہو، چاہے وہ پہاڑ کی کھوہ میں ہی داخل کیوں نہ ہو جائے، وہاں بھی وہ ہوا گھس کر اس کی روح قبض کر لے گی۔“
اس روایت میں اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت اور اس دن کی سختیاں صرف شریر لوگوں کے لیے ہوں گی اور اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اس سے پہلے ہی اٹھا لیں گے۔
ایک اور روایت کے الفاظ ہیں، سیدنا ابو امامہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے فرمایا:
«لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی یَتَحَوَّلَ خِیَارُ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَی الشَّامِ وَیَتَحَوَّلَ شِرَارُ أَهْلِ الشَّامِ إِلَی الْعِرَاقِ» وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: «عَلَیْکُمْ بِالشَّامِ» (مسند احمد: 63؍163)
”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ عراق کے بہترین لوگ شام اور شام کے بدترین عراق میں نہ چلیں جائیں۔ اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ایسے حالات میں شام میں سکونت اختیار کرو۔“
اس روایت کے مطابق قیامت سے پہلے تمام اہل ایمان شام میں جمع ہو جائیں گے۔ مذکورہ بالا روایات اور اس جیسی روایات سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ خیروشر کے آخری معرکہ میں اصل کردار جس خطۂ ارضی نے ادا کرنا ہے وہ سرزمین بلادِ شام ہے۔ بلادِشام کی فضیلت واہمیت، اہل ایمان کو دورِ فتن میں سر زمین مقدس کی طرف ہجرت کی ترغیب وتشویق، تا قیامت بلادِ شام کو اللہ کی نصرت پر مبنی مسلمانوں کی علمی و سیاسی قیادت و سیادت کا مرکز قرار دینا، دورِ فتن میں بلادِ شام کو مسلمانوں کا وطن قرار دینا، ارضِ شام میں نزولِ عیسیٰ اور ظہورِ مہدی کی خبریں وغیرہ ایسی تعلیمات ہیں جو اُمت ِمسلمہ کے عروجِ ثانی میں سرزمین شام کے فیصلہ کن کردار کا فیصلہ سنا رہی ہیں۔
تبصرہ کریں