
’اورفا‘ یہ نام سب سے پہلے اس وقت سننے میں آیا جب یورپین کونسل برائے فتویٰ اور ریسرچ کا سالانہ اجلاس منعقد کرنے کے لئے کسی مناسب جگہ کی تلاش تھی اور پھر ہمارے ترکی کے ممبر جناب مصطفی داوش نے یہ پیشکش کی کہ ان کے آبائی شہر اور فا کی بلدیہ سے بات چیت کے بعد انہوں نے کمال مہربانی سے ہمارے اجلاس کی میزبانی قبول فرمائی ہے ۔
’’اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ‘‘
ہمیں اپنے محدود وسائل کی روشنی میں ایسی جگہ کی تلاش تھی کہ جو ہماری 25۔30 اعضاء پر مشتمل کونسل کی سہ روزہ اجلاس کی اقامت اور میز بانی کا بار اٹھا سکیں۔ سو یہ مسئلہ یوں حل ہو گیا۔
کونسل کا یہ 36 واں اجلاس تھا جو نومبر کے آخری عشرہ میں منعقد ہو رہا تھا اور جس میں کونسل کے اکثر ممبرز کہ جن کا تعلق یورپ سے ہے شرکت کرتے ہیں۔ یورپ کے باہر کے ممبران میں قطر، کویت، تونس ، الجزائر کے مندوبین کی آمد بھی متوقع رہتی ہے۔ ممبران کے علاوہ وہ علماء اور مفکرین بھی شرکت کے متمنی رہتے ہیں جو اپنے تحقیقی مقالات پیش کرنے کے خواہشمند رہتے ہیں ۔
اس سال کے اجلاس کا بنیادی موضوع یہ تھا :
’’ رفاہی کاموں سے متعلق فقہی مسائل کا جائزہ ۔‘‘
میں نے اپنے تحقیقی مقالہ کے لئے حسب ذیل عنوان کا انتخاب کیا تھا ، اس میں رفاہی تنظیموں کو درپیش چیلنج، قانونی اور دستوری ضوابط کی پابندی اور ایک بین الاقوامی رفاہی تنظیم (مسلم ایڈ) کے ساتھ میرے تجربات کا نچوڑ شامل تھا ۔
اب آئیے ہم اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں ۔
یہ 21 ر نومبر جمعہ کی شام تھی، جب میں اپنی اہلیہ ، صاحبزادی خولہ کے ساتھ لندن ہیتھرو ائر پورٹ سے عازم سفر ہوا ۔ بیٹی خولہ ، آبزرور کی حیثیت سے پچھلے سالانہ اجلاس منعقدہ قونیہ، ترکی (نومبر 2024ء) میں شرکت کر چکی تھیں اور آئنده اس سلسلے کو جاری رکھنا چاہتی تھیں ۔
ٹرکش ائیرویز کی ساڑھے تین گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم استانبول کے نئے چہچہاتے ائیر پورٹ پر اتر چکے تھے، جس کی طویل راہداریاں ،وسیع اور کشادہ گذر گاہیں ، چین و جاپان اور مشرق و مغرب کے سیاحوں کی ریل پیل سے ایک میلے کا سماںباندھ رہی تھیں ۔ اللہ بھلا کرے ان متحرک کرسیوں (وھیل چیئرز) کا جو ہم جیسے عمر رسیدہ اور ٹانگوں کا بوجھ کم کرنے کے خواہشمند بزرگوں کا کہ جن کی موجودگی ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی اور جن کی مدد سے ہم اس وسیع و عریض ائیر پورٹ کے طول و عرض کو بخوبی ناپ سکے۔
ہم انٹرنیشنل مسافرین کے امیگریشن کاؤنٹرز کے باہر سے گزرے، جہاں زائرین قطار در قطار کھسکتے نظر آئے ۔ یہاں سے آگے نکلے تو ایسا ہی ایک دوسرا سیکشن نظر نواز ہوا، وہی ہجوم اور ویسی ہی قطاریں ، پھر تیسرے اور غالباً چوتھے سیکشن کو بھی پار کر آئے کہ جس کے بعد اندرونی پروازوں کے سیکشن برائے امیگریشن کی باری آئی ۔ یہاں قدرے سکون تھا ۔ کرسی سے اترتے ہی کاؤنٹر ہمارے سامنے تھا اور خاتون آفیسر نے چند لمحوں میں ہمارے پاسپورٹ پر مہر دخول ثبت کر دی۔کسی زمانے میں ویزے کے لئے بیس پاؤنڈ کا نذرانہ پیش کرنا پڑتا تھا لیکن اب ترکی حکومت نے سیاح حضرات کی پذیرائی کے لئے اور خاص طور پر مغر ب سے آنے والے زائرین کی مفت انٹری سے استقبال کر کے ان کی خوشی میں اضافہ اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی ہے۔
کاؤنٹر سے نکلے تو ایک اور صاحبہ متحرک کر سی لئے ہماری منتظر تھیں ۔ ’’اورفا‘‘جانے والی پرواز کے گیٹ کے سامنے انتظار گاہ تک پہنچے تو کئی خوشگوار لمحات نے ہمارا استقبال کیا۔ میرے ایک نواسے سِنان ایک دن پہلے استانبول آچکے تھے اور پھر انہوں نے ہماری ہمراہی کا حق ادا کرنے کے لئے اسی فلائٹ سے اپنی سیٹ بک کرا لی تھی۔ سب سے پہلے تو سِنان کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا اور پھر اٹلی کے مندوب شیخ امین حزمی پر نظر پڑی جو اپنی بیٹی کے ساتھ رات کے پہلے پہر استانبول ائیر پورٹ پر اترے تھے اور اب سات گھنٹے کے انتظار کے بعد ’’اور فا‘‘ کا رخ کر رہے تھے۔ انہی کے ساتھ یوکرین کے نوجوان مفتی مراد سلیمانوف کے ساتھ ملاقات بھی ہو گئی ۔ لندن سے ہماری اسی فلائٹ سے برطانیہ کے دو مندوبین مفتی برکۃ اللہ اور ڈاکٹر اکرم ندوی بھی ہمسفر تھے لیکن ان سے لندن سے روانہ ہوتے وقت سرسری ملاقات رہی تھی ، تفصیلی ملاقات یہاں مقدر تھی۔ ’أورفا ‘‘ ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ دن کی روشنی نے جہاز کی شیشہ بند کھڑکی سے بیرونی مناظر کی جھلکیوں کا ایک بند دروازہ کھول دیا تھا ۔
’’اورفا‘‘ کی آمد سے قبل اونچی نیچی پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا ، وہ پہاڑیاں جو برف سے ڈھکی ہوئی تھیں اور وہ بھی جن کے دامن میں کہیں کہیں برف چمکتی نظر آرہی تھی ۔
اب ہر جگہ اس شہر کو ’’شانلی اور فا‘‘ کے نام سے لکھا اور پہچانا جاتا ہے . یہ کوئی 1984ء کی بات ہے، جب اس شہر کو اس کے لقب سے نوازا گیا تھا، جس کا مطلب ہے :’’عظیم الشان ‘‘ اس طویل اور صبر و عزم کے مظاہرے کی بنا پر جو اس شہر کے باسیوں نے پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد فرانسیسی فوج کے محاصرہ پر کیا تھا۔
اس شہر کی تاریخ کے حوالے سے بہت کچھ کہنا باقی ہے جو آئندہ صفحات کی زینت بنتا رہے گا۔
’’اورفا‘‘ چونکہ ایک داخلی ائیر پورٹ ہے ، اس لئے وہاں جہاز کی سیڑھیوں سے اُترتے ہی سامنے استقبالیہ ہال ہے، جہاں پا پیادہ جایا جا سکتا ہے۔
ہمیں خوش آمدید کہنے کےلیے دو ترک نوجوان محمد فاتح اور محمد علی ہمارے منتظر تھے آ ور جن کے ساتھ جرمنی سے آنے والے ہمارے مندوب شیخ خالد حنفی بھی تھے جو ہم سے ایک گھنٹہ قبل پہنچ گئے تھے لیکن اجتماعی روانگی کی خاطر ہمارا انتظار کرتے ہے ۔
ہمارا یہ قافلہ ایک خوبصورت منی بس میں شہر کی طرف روانہ ہوا جو آدھ پون گھنٹے کی مسافت پر تھا۔
راستہ چٹیل میدان ، اونچی نیچی پہاڑیوں اور گہری وادیوں سے گزرتا گیا،شہر کے قریب کچھ ٹریفک نے آلیا تو ہم ایک گھنٹے کے سفر کے بعد اپنی رہائش گاہ تک پہنچ گئے جو ایک ماڈرن ہوٹل کی نشاندہی کر رہا تھا ۔
بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خوبصورت عمارت وزارت زراعت اور جنگلات کا مہمان خانہ ہے کہ جسے مقامی بلدیہ نے ہماری ضیافت کے لئے منتخب کر رکھا تھا اور جس میں کوئی تیس ، چالیس اشخاص کے لئے اقامتی کمرے تھے ، کچھ سنگل کچھ ڈبل ۔ ہمیں چوتھی منزل پر جو کمرہ دیا گیا وہ اس لحاظ سے سیلون کہلایا کہ اس سے ملحق ایک استقبالیہ کمرہ بھی تھا جہاں ایک اضافی صوفہ سیٹ ، ایک ٹی وی اور چند دوسرے لوازمات ضیافت اپنے مہمانوں کے لئے چشم براہ تھے، کمرے کی کھڑکی سے سامنے ہی ایک چھوٹی سی خوشنما مسجد اپنے گنبد اور میناروں کے ساتھ جلوہ گر تھی ۔ صبح و شام اس مسجد سے بلند ہونے والی اذان ہمیں دن کے اتار چڑھاؤ کا خوب پتہ دے رہی تھی۔ صبح چھ بجے اذان فجرا ور ساڑھے پانچ بجے اذان مغرب، ہماری اقامت گاہ کے مرکزی گیٹ کے سامنے ایک طویل لوہے کی تاروں سے جکڑی فصیل ہمارے اور مسجد کے درمیان حائل تھی یعنی مسجد تک رسائی حاصل کرنے کے لئے پہلے ہم فصیل کے ساتھ ساتھ اپنی عمارت کے صدر دروازے تک جائیں اور پھر وہاں سے مسجد جانے والی سڑک پر چلتے ہوئے مسجد تک پہنچیں۔ ہم نے براہ جستجو یہ راستہ بھی قدموں سے ناپ لیا لیکن کا نفرنس کی مصروفیات کی بنا پر نماز کی ادائیگی ھوٹل کے تہ خانہ میں مصلے کی مخصوص جگہ پر یا اپنے کمرے میں ادا کی۔
لندن میں اپنے گھر سے لے کر ’’اور فا‘‘ کی اس رہائش گاہ تک پہنچنے کے لئے ہم بارہ گھنٹے قربان کر چکے تھے، جس میں رت جگا شامل تھا ، اس لیے ناشتہ کرتے ہی ایک آرام دہ بہتر کا سہارا لیا۔
ہمارے لئے یہ امر باعث اطمینان تھا کہ کونسل کے 36 ویں سیشن کی غرض سے منعقد ہونے والا افتتاحی پروگرام چھ بجے شام بعد از نماز مغرب رکھا گیا تھا ۔ اب کچھ بات اس عظیم الشان شہر کے بارے میں ہو جائے ۔
ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ شہر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مولد و مسکن رہا ہے اور ایسے ہی حضرت ایوب اور چند دوسرے انبیاء علیہم اسلام کا۔
اپنے مطالعے کے اعتبار سے اب تک ہم پڑھتے آئے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام جنوبی عراق (بابلون) کے شہر ’’اور‘‘ (UR) میں پیدا ہوئے تھے جو کہ بادشاہ وقت نمرود کی سلطنت کا حصہ تھا ۔
لیکن مقامی روایات کی بنا پر اہل تر کیا اُسے ’’اور فا‘‘قرار دیتے ہیں نہ کہ اُور عراق ، ان روایات کے مطابق حضرت ابراہم علیہ السلام کو کو یہیں آگ میں پھینکا گیا تھا ۔ سرگذشت مزید، کانفرنس کے تعارف کے بعد اُٹھا رکھتے ہیں۔ کا نفرنس کا افتتاحی اجلاس اس عظیم مہمان خانے کے ایک شاندار ہال میں ہوا، جس میں مقامی ترک خواتین اور حضرات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ علوم شریعہ کے مدرسین، طلبہ اور طالبات بھی حاضر تھے ۔ بلدیہ کے میئر جناب رحمت قاسم نے ترکی زبان میں خوش آمدید کہتے ہوئے اور فا کی تاریخی داستان بیان کی، تقریر کے دوران چند آیات کی تلاوت ان کی عربی دانی کا پتہ دے رہی تھی ۔ مصطفی داواش اسلامی امور کی مجلس اعلیٰ کے ساتھ کام کرتے ہیں ، انہی کی کاوش سے آج ہم یہاں پر اجلاس منعقد کرنے میں کامیاب رہے تھے، اس لئے ان کا خطاب باہمی تعاون اور برادران اسلام کے مابین الفت اور محبت کے پیغام کو عام کرنے سے عبارت تھا ۔
اٹلی سے آئےہوئے مندوب شیخ امین حزمی اصل میں یمن سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے فصیح و بلیغ عربی میں مجلس کے اہداف و مقاصد کو واضح کیا ۔ شیخ حسین حلاوہ ایئرلینڈ سے تشریف لائے تھے ، مصر سے تعلق ہے ، اسلام آباد کی عالمی سلامی یونیورسٹی کے استاد ر ہے ہیں اور پھر عرصہ دراز سے مجلس سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے ہیں، انہوں نے مائیک سنبھالا اور بلدیہ اُورفا اور اس کے قابل احترام ارباب کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا ، اور وہ یقیناً اس شکریہ کے مستحق تھے ، کیا ہم برطانیہ یا کسی دوسرے یورپی شہر کی سول انتظامیہ سے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ پانچ دن کے لئے نہیں صرف تین دن کے لئے کونسل کا اجلاس منعقد کرنے کے سارے اخراجات بشمول اقامت و ضیافت برداشت کر سکے !!
اورفا کے مفتی طلحہ رمضان نے بھی ترکیہ کے نظام افتاء پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی ۔ مجلس اعلیٰ کے صدر ڈاکٹر عبدالرحمن جاکلی نے رفاہی کاموں سے متعلق چند فقہی مباحث کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا ، آخر میں یورپین کونسل برائے فتویٰ اور ریسرچ کے صدر کی حیثیت سے مجھے چند کلمات کہنے کا موقع دیا گیا ۔ عین وقت پر مجھے فارسی کی یہ کہاوت یاد آئی کہ ’’زبان یارمن تُرکی و من ترکی نمی دانم ‘‘
(میرے یار کی زبان تو ترکی ہے اور میں ترکی نہیں جانتا ) میں نے کہا کہ ہمیں اب اس کہاوت کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے ترک بھائیوں نے عربی زبان میں اتنی استعداد پیدا کرلی ہے کہ ان کی زبان سے نکلا ہر کلمہ عربی کی وساطت سے ہمارے کانوں میں رس گھول رہا ہے۔
اورفا کے تعلق سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت ولادت کی روشنی میں اس شہر کی تاریخی حیثیت کا ذکر کیا اور پھر اس بات کا بھی کہ یہ شہر اپنی داد و دھش میں ایک نام رکھتا ہے اور اب ہماری کونسل اس کی میزبانی کا فیض اٹھا رہی ہے ۔ رفاہی کاموں کی مناسبت سے سیرت رسول ﷺ میں مذکور اس واقعہ کا حوالہ دیا کہ ایک دن مضر قبیلہ کے بہت سے افراد انتہائی فقر و فاقہ کے عالم میں مسجد بنوی پہنچے۔ نبی ﷺ ان کی حالت زار کو دیکھ کر بہت بے قرار ہوئے ۔ گھر گئے اور پھر واپس آگئے کہ وہاں کچھ تھا ہی نہیں کہ ان کی داد رسی کا سامان کرتے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو کہا کہ اذان دو اور نماز کی اقامت کہو ۔ نماز کے بعد ایک مختصر سا خطبہ دیا جس میں چندے کی کوئی اپیل نہ تھی کی ، صرف دو آیات کی تلاوت کی۔
سورة النساء کی پہلی آیت :
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ﴾
اور پھر سورة الحشر کی یہ آیت :
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾
گویا پہلی آیت کے حوالہ سے رشتہ انسانیت کی یاد دلائی اور رحمی رشتوں کی پاسداری کو ضروری قرار دیا اور دوسری آیت کے حوالہ سے اپنی آخرت کو سدھارنے کے لئے زاد آخرت آگے آگے بھیجنے پر زور دیا ۔
حدیث کے راوی المنذربن جریر (جو اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں) کہتے ہیں کہ پھر تو ہر شخص جو لا سکتا تھا لے آیا ، گیہوں یا جَو کا صاع ، در هم و دینار کے سکے ، کھجور چاہےوہ آدھی کیوں نہ ہو ، پھر ایک انصاری تشریف لائے ، ہاتھ میں چاندی کی ایک بھاری تھیلی تھی، اتنی بھاری کہ اُٹھائے نہ اٹھتی تھی جو انہوں نے مسجد نبوی کے صحن میں ڈھیر کر دی ، پھر کیا تھا کہ صحابہ کا تانتا بندھ گیا ۔ لوگ بھاگ بھاگ کر جاتے اور جو کچھ بن پڑتا لے آتے ۔ یہاں تک کہ صحن مسجد میں دو ڈھیریاں نمایاں ھو گئیں ، ایک طعام ولباس کی اور ایک درہم و دینار کی ، ایسے موقع پر اللہ کے رسول کا چہرہ خوشی سے تمتمام اٹھا اور پھر آپ نے وہ الفاظ کہے کہ جو قیامت تک کے لئے مشعل راہ بن گئے۔
’’جو شخص بھی اسلام میں ایک اچھی سنت قائم کرتا ہے تو اس کا ثواب اُسے ہوتا ہے اوران تمام لوگوں کا ثواب بھی جو اس سنت پر عمل پیرا ہوتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان اپنے ثواب میں کوئی کمی واقع ہو ، اور جو شخص کوئی بری سنت قائم کرتا ہے تو وہ اس کا بوجھ خود بھی اٹھائے گا اور ان تمام لوگوں کا بھی جو اس بری سنت پر عمل کریں گے لیکن ان کے اپنے بوجھ میں کمی نہ ہوگی ۔
ایک لمحہ فکریہ ! یہ کام جس انصاری نے کیا تھا کہ جس کی بنا پر اللہ کے رسول ﷺ نے یہ الفاظ کہے ، کیا کوئی شخص ان کا نام جانتا ہے ؟
نہیں ! کسی بھی راوی حدیث نے ان کا نام درج نہیں کیا لیکن اس کا نیک عمل جو لوگوں کے لئے اس خیر کا باعث ہوا، اسے تاریخ میں مقام دوام پر بٹھا گیا ۔ تو جو کام اللہ کی رضا کے لئے کیا جائے ، چاہے دنیا میں اس کی توصیف اور ثنا نہ بھی ہو، اللہ کے رجسٹر میں اس کا نام لکھا جاتا ہے اور اسے بڑھ کر بندے کو اور کیا چاہئے۔‘‘
پروگرام کے اختتام پر میئر نے اپنے مہمانوں کو اعزازی شیلڈ سے نوازا اور پھر قریب ہی ایک ریسٹورنٹ میں ممبران مجلس کو ایک بھر پور عشائیہ جس میں شرکت کے بعد خیر سے اقامت گاہ کو لوٹے۔
اگلی صبح کا آغاز مسجد ابراہیم خلیل میں نماز فجر کی ادائیگی سے ہوا ۔
’اُورفا‘ شہر کے تین انتظامی ڈسٹرکٹ ہیں، خلیلیہ کہ جہاں کا قصد تھا ،
ایوبیہ جہاں حضرت ایوب علیہ السلام سے منسوب وہ غار ہے جہاں انہوں نے اپنی بیماری کے ماہ وسال گزارے تھے اور جہاں بالآخر اللہ کی شفقت اور عنایت نے انہیں جالیا ، ان سے کہا گیا:
﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾
’’اپنا پیر (زمین پرما رو) یہاں غسل کے لئے بھی اور پینے کے لئے بھی ٹھنڈا پانی ملے گا ۔‘‘ تیسری ڈسٹرکٹ کا نام ترکی میں ہے۔
ہم فجر کی اذان کے ساتھ ساتھ مسجد ابراہیم میں پہنچے۔
اُموی طرز پر تعمیر کردہ یہ مسجد ایک صحن اور مسجد کے مرکزی ہال پر مشتمل ہے۔ صحن کے درمیان ایک حوض ہے جس کے اطراف میں پانی کی ٹونٹیاں وضو کا پانی فراہم کرتی ہیں ۔ یہ اتوار کی صبح تھی، مسجد نمازیوں سے بھر پور نظر آئی۔ محراب کے سامنے ایک نوجوان شیخ سورہ یوسف کی تلاوت کر رہے تھے۔ اس سے پہلے ہم استانبول اور قونیہ کی مساجد میں دیکھ چکے تھے کہ عموماً نماز فجر سے قبل سورة یاسین کی تلاوت کی جاتی ہے لیکن مسجد فاتحہ میں خاص طور پر سورة الفتح کی تلاوت کی جاتی ہے ، یہاں خانوادہ ابراہیم کی مناسبت سے سورۃ یوسف کی تلاوت کی جارہی تھی۔ آخری دو رکوع سے قبل تلاوت تمام ہوئی تو ہمارا خیال تھا کہ اب نماز کی اقامت کہی جائے گی لیکن پھر بآواز بلند تسبیحات کا دور چلا اور چلتا گیا ، پھر کہیں اقامت کی نوبت آئی – امام تشریف لا چکے تھے ، انہوں نے پہلی رکعت میں سورت الفاتحہ کے بعد سورة البقرة کے آخری رکوع کی تلاوت فرمائی اور دوسری رکعت میں سورة آل عمران کے آخری رکوع کی ! اور پھر نماز ختم ہوتے ہی مکبر سے بعد از نماز، تسبیحات کا دور چلا ، وقفے وقفے سے مکبّر بلند آواز سے سبحان اللہ کہتا اور پھر لوگ اپنی انگلیوں پر سبحان اللہ گنتے جاتے ، پھر ایسے ہی الحمد لله، الله اکبر اور بالآخر لا إله الا اللہ پر اختتام ۔
دعا کے لئے کے ہاتھ اٹھائے گئے اور دعا کے ختم ہوتے ہی اکثر لوگوں نے اُٹھنا شروع کر دیا جن میں ہمارے وفد کے ساتھی بھی شامل تھے لیکن اوراد کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ۔ واقفان حال نے بتایا کہ اس مسجد میں سلسلہ قادریہ کی پابندی کی جاتی ہےاور یہ سلسلہ ابھی ایک ساعت اور چلے گا اور پھر یہی معمول بعد نماز عصر بھی دہرایا جائے گا۔
مسجد کے احاطہ کے باہر کئی نوادرات ، ہمارے منتظر تھے !!
ہم پانی کی ایک مصنوعی نہر کے ساتھ ساتھ ایک پختہ فٹ پاتھ پر چل رہے تھے،جس کا منبع ایک چشمہ تھا اور جس میں سیاہ رنگ کی بیشمار مچھلیاں اٹھکیلیاں کرتی نظرآئیں ۔ نہر کی دوسری طرف ایک مسجد اور مدرسے کی عمارت نظر آئی اور ہمارے گائیڈ نے بتایا کہ یہاں واقعی ایک مدرسہ قائم ہے جہاں تعلیم جاری ہے ۔
اس چھوٹی سی نہر کے اختتام پر بائیں طرف ہمارے لئے دو مناظر تھے ۔ ذرا فاصلے پر ایک پہاڑی سے بھرتا ایک اونچا سا قلعہ جس کی نسبت شاہ نمرود کی طرف کی گئی ہے اور ہمیں اپنے سامنے ایک بالاخانہ نما کمرہ نظر آیا حس کی پیشانی پر عربی اور ترکی میں یہ الفاظ کندہ تھے کہ ’’یہ وہ جگہ ہے جہاں قصر سلطانی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک منجنیق( CATAPULT) میں بٹھا کر اس آگ میں پھینکا گیا تھا ، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے بطور سزا بھڑکائی گئی تھی ۔ اس وقت یہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا لیکن جونہی حضرت ابراہیم علیہ السلام اس مقام پر گرے ، یہاں ایک چشمہ پھوٹ پڑا اور اللہ کا یہ فرمان پورا ہوا :
﴿يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ﴾
یہ روایت یہیں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ اس پر پوری ایک کہانی رقم کر دی گئی ہے کہ آگ جب بجھ چکی تو اس کی راکھ سے مچھلیوں نے جنم لیا جو راکھ کی مانند گہرا سیاہ رنگ رکھتی ہیں اور مذکورہ چشمے کے پانی نے جب بہنا شروع کیا تو یہ چھوٹی سی نہر ان مچھلیوں کی آماجگاہ بن گئی۔
اور پھر اس چھوٹی سی مخلوق پر تقدس کی چادر چڑھا دی گئی کہ ان کا شکار کرنا اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالنا ہے اور ان کو کھلانا ثواب ہے، چنانچہ نہر کے کنارے دو تین جگہوں پر چند نوجوان چھوٹی چھوٹی ٹھیکریوں میں جَوکی مانند رنگ برنگے دانے فروخت کر رہے تھے کہ زائرین انہیں خریدیں اور پھر مچھلیوں کے لئے سامان ضیافت مہیا کریں ۔ مذکورہ کو ٹھری سے ملحق ایک اور چھوٹا سا مصلیٰ نظر آیا ، جسے بھی مسجد ابراہیم کا نام دیا گیا تھا۔
اس نہر کا پانی ایک تنگنائی سے ہوتا ہوا ایک بڑے سے حوض میں گر رہا تھا، جسے حوض زلیخا کا نام دیا گیا ہے۔ روایت میں بتایا گیا ہے کہ زلیخا نمرود کی بیٹی کا نام تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لے آئی تھی اور پھر اس نے دل برداشتہ آگ میں چھلانگ لگا دی تھی۔ گویا اس نے اپنی جان آگ کی نذر کردی لیکن نمرود کی خدائی کو للکار کے رکھ دیا۔
ہم و اپسی کی راہ پر چل پڑے، اب یہ نہر ایک نالی کی شکل اختیار کر چکی تھی، ہم نے اپنے ترک تھیوں سے پوچھا کہ وہ اس ساری حکایت پر یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ علماء ان سب باتوں کو جانتے ہیں لیکن وہ یوں خاموش ہیں کہ ان روایات پر پوری ایک عمارت قائم ہو چکی ہے ، یہ ساری جگہ زائرین کے لئے باعث کشش ہے ، لوگ یہاں کثرت سے آتے ہیں ۔
نماز بھی ادا کرتے ہیں اور اہل محلہ کے رزق کا باعث بھی بنتے ہیں۔
ہم آغا ز ہی میں ذکر کر چکے ہیں کہ ’اُورفا ‘ کا مولد ابراہیم ہونا محل نظر رہا ہے۔ تاريخی شواہد عراق میں مذکور ’اور‘ جو موجودہ ناصریہ کے قریب بتایا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ابتدائی حالات سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ، وہاں کھدائی کے بعد ’اُور‘ کے کھنڈرات بھی ملے ہیں اور پھر اہل بابل کا ستارہ پرست ہونا بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مجادلہ (جیسے سورۃ الانعام میں ذکر کیا گیا ہے ) سے مطابقت رکھتا ہے ۔ صرف ایک بات ’’اُورفا ‘‘کے حق میں جاتی ہے کہ ان کا یہاں سے ہجرت کرکے پچاس کلو میٹر دور جانا اور پھر حرّان سے اور آگے شام و فلسطین کی راہ اختیار کرنا جغفرافیائی لحاظ سے زیادہ قرین قیاس ہے بہ نسبت اُور عراق کے، جہاں حرّان بالکل شمال میں ہے، مسافت بھی بہت زیادہ ہے، کوئی چھ سومیل کا فاصلہ ہو گااور پھر شمال سے جنوب کی طرف واپس آنا اور فلسطین پہنچنا، ایک معمہ نظر آتا ہے۔
آئندہ سطور میں حرّان کی زیارت کا حال نذر قارئین رہے گا ،’’اُورفا‘‘ کے بارے میں یہ عرض کرتا چلوں کہ اس نے ماضی بعید میں بھی لوگوں کو پناہ دی ہے اور پچھلے چند سالوں میں ان ہزاروں شامی مہاجرین کو بھی جو سیریا کے آمر خاندان حافظ اسد کے ظلم وستم کا شکار ہوتے رہے اور پھر حرّان ، اورفا ہوتے ہوئے ترکی میں پناہ لیتے رہے ۔
والله لا يضيع أجر المحسنين
(جاری ہے)
٭٭٭
بدعاتِ ماہ رجب اور اقوال ائمہ کرام
اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مجید میں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے فرامین میں سال کے 12 مہینوں میں سے چار مہینوں ”محرم، رجب، ذی قعدہ اور ذی الحجہ” کو حُرمت یعنی ادب و احترام کا مہینہ قرار دیا ہے اور ادب و احترام کے خاطر ان مہینوں میں جنگ و جدال ، قتل و غارت کو ممنوع قرار دیا اور ان میں عبادت کے ثواب اور نافرمانی کے گناہ کو بہت بڑھا دیا ہے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
“خص الله من شهور العام أربعة أشهر، فجعلهن حرماً، وعظم حرماتهن، وجعل الذنب فيهن والعمل الصالح والأجر أعظم.”
اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر چار مہینوں کو قابل احترام قرار دیا ہے اور ان کی عظمت و احترام کو بڑا عظیم قرار دیا ہے ان میں گناہ کرنے کے عذاب کواور نیک عمل کے ثواب کو بہت بڑھا دیا ہے۔1
ماہ رجب حرمت والے مہینوں میں شامل ہونے کی وجہ سے قابل احترام اور متبرک ہے لیکن بطورِ خاص ماہ رجب کی فضیلت میں کوئی بھی روایت ثابت نہیں ۔ مگر بے حد افسوس کی بات ہے کہ دین اسلام کے بعض نام نہاد ٹھکیداروں نے اسلام کے پاک صاف دین کو بدعات سے بھر دیا ہے۔ یہاں تک کہ کوئی اسلامی مہینہ ایسا نہیں چھوڑا جس میں خود ساختہ عبادات اور بدعات رائج نہ کی ہوں ۔ چنانچہ انہی مہینوں میں سے ماہ رجب بھی وہ مظلوم مہینہ ہے کہ جس میں بدعات کی کثرت پائی جاتی ہے ۔ درج ذیل سطور میں ماہ رجب میں پائی جانے والی چند بدعات کی نشاندہی اور انکے بارے میں علماء کرام کے اقوال نقل کیے جاتے ہیں ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“لَمْ يَرِدْ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَجَبٍ، وَلَا فِي صِيَامِهِ، وَلَا فِي صِيَامِ شَيْءٍ مِنْهُ معَيّنٌ ، وَلَا فِي قِيَامِ لَيْلَةٍ مَخْصُوصَةٍ فِيهِ، حَدِيثٌ صَحِيحٌ يَصْلُحُ لِلْحُجَّةِ .”
’’ایسی کوئی بھی صحیح اور قابل حجت حدیث وارد نہیں جو ماہ رجب میں مطلقاً روزے رکھنے یا رجب کے کسی معین دن کا روزہ رکھنے یا اس کی کسی رات کے قیام کی فضیلت پر دلالت کرتی ہو۔‘‘
امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“لم يرد فی رجب علی الخصوص سنة صحيحة ولا سنة ضعيفة ضعفا خفيفا بل جميع ما روی فيه علی الخصوص اما موضوع مکذوب أو ضعيف شديد الضعف.”
’’خاص طور پر ماہ رجب کے متعلق کوئی صحیح، حسن یا کم درجے کی ضعیف سنت وارد نہیں بلکہ اس سلسلے میں وارد تمام روایات یا تو من گھڑت اور جھوٹی ہیں یا شدید ضعیف ہیں ۔‘‘
امام عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
“لا يصح في فضل رجب حديث .”
’’رجب کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔‘‘
ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“لم يرد في فضل رجب حديثٌ صحيح، ولا يمتاز شهر رجب عن جمادى الآخرة الذي قبله إلا بأنه من الأشهر الحرم فقط، وإلا ليس فيه صيام مشروع، ولا صلاة مشروعة، ولا عمرة مشروعة ولا شيء، هو كغيره من الشهور.”
’’ماہِ رجب کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے اور ماہِ رجب کی ماہ جمادی الثانی سے انفرادیت صرف اتنی ہے کہ یہ مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے، وگرنہ اس میں خصوصی روزے رکھنا، مخصوص نماز کی ادائیگی کرنا، یا کسی خصوصیت کیساتھ عمرہ وغیرہ کرنا صحیح نہیں ہے، بلکہ یہ مہینہ دیگر مہینوں جیسا ہی ہے۔‘‘
البتہ اگر کوئی شخص رجب کی خاص فضیلت کا اعتقاد رکھے بغیر روزہ رکھے تو حصولِ خیر کا ذریعہ ہو گا کیونکہ روزہ خود ایک نیک عمل ہے اور پھر ماہِ رجب حرمت کا مہینہ ہے تو یہ دونوں مل کر عام دنوں سے زائد حصولِ اجر کا باعث بن جائیں گے ۔
٭٭٭
تبصرہ کریں