Cryptocurrency کی تکنیکی حقیقت اور شرعی حیثیت (قسط1) ڈاکٹر سید حسین مدنی

پیش گفتار

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الأمين وعلى آله وصحبه أجمعين

مورخہ: 13؍اکتوبر 2024ء بروز اتوار، بمقام جامع مسجد اہل حدیث مؤمن پورہ بائیسکلہ ممبئی اسلام کا نظام تجارت کے عنوان پر ۔بحمد اللہ۔ ایک روزہ عظیم الشان علمی اور شعور بیداری کا نفرنس کامیاب طور پر منعقد ہوئی، جس میں فقہ الواقع کے تئیں انتہائی عمدہ موضوعات اور بڑی ہی چنندہ شخصیات کا انتخاب کیا گیا ۔ زیر بحث موضوعات جیسے تجارت کے اسلامی اصول، تجارت اور صحابہ کرام، انشورنس کی قسمیں اور ان کی شرعی حیثیت، مضاربت اور پارٹنر شب کے اسلامی اصول، جوے کی جدید شکلیں، زیورات کی خرید و فرخت سے متعلق غلطیاں، آن لائن بزنس ڈراپ شپنگ اور افیلیٹ مارکیٹنگ، کمیشن کی جائز و ناجائز صورتیں، سود کی شکلیں اور ان سے بچنے کا طریقہ، کیش بیک، بونس، منی ٹرانسفر اور ڈسکاؤنٹ کا شرعی حکم، کرپٹو کرنسی کی تکنیکی حقیقت و شرعی حیثیت، نیٹورک مارکیٹنگ کی حقیقت اور اس کا شرعی حکم، ہیوی ڈپازٹ کی شرعی حیثیت، کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کا حکم، قسطوں (EMI) میں خرید و فروخت کے مسائل، شیئر و کموڈیٹی مارکیٹ اور فوریکس کیا صحیح کیا غلط و دیگر موضوعات شرکائے اجلاس کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

میں اس مناسبت پر رب کریم کا احسان عظیم بجالانے کے بعد فاضل ترین شخصیت فضیلۃ الشیخ کفایت اللہ سنابلی ﷾ داعی و باحث اسلامک انفارمیشن سنٹر ممبئی وڈائریکٹر آئی پلس ٹی وی اور ان کے جملہ انتظامی و علمی رفقائے کارکو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اللہ کے فضل کے بعد جن کی شبانہ روز مخلصانہ کاوشوں سے یہ یادگار کانفرنس اور سابقہ متعدد کا نفرنسیں منعقد ہوئیں۔

26؍ جنوری 2018ء کو میں نے ۔ بحمد اللہ ۔ کرپٹو کرنسی کی سب سے معروف قسم بٹ کوائن پر ایک مضمون لکھا تھا، لیکن اس کے بعد ان دنوں عمومی طور پر کر پیٹو کرنسی کی بابت طلبا وعلما اور عوام وخواص کے سوالات زیادہ ہونے لگے۔ علاوہ ازیں کانفرنس نے حسن اتفاق بلکہ حسن مقدر مجھے کر پٹو کرنسی کا موضوع دیا اور بفضلہ تعالیٰ یہ موضوع ترتیب پایا، ساتھ ہی ساتھ میں ہر دل عزیز، ماہر اسلامی شریعت فضیلۃ الدکتور طارق صفی الرحمن مبارکپوری مدنی ﷾ اور اپنے محسن ومشفق ، ماہر اسلامی تجارت فضیلۃ الشیخ الدكتورحافظ ارشد بشیر عمری مدنی ﷾ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ ان فضلائے مشائخ نے ہجوم مشاغل کے باوجود اس مضمون کی نظر ثانی فرمائی۔

اللہ جل شانہ اس جیسی ساری نگارشات کو شرف قبول سے نوازے تمام محسنین ومعاونین کو دونوں جہانوں میں جزائے خیر عطا فرمائے اور ساری علمی خدمات کو بے لوث ذخیرۂ آخرت اور نجات کا ذریعہ بنائے۔

خیراندیش

دکتور سید حسین مدنی (سیکرٹری ادارہ علمی تحقیقات کل ہند

14 / ربيع الآخر 1446 ھ بمطابق 18؍ اکتوبر 2024ء

٭٭٭

تمہید

کر پٹو کرنسی کی تکنیکی حقیقت اور شرعی حیثیت:

عصر حاضر کا ایک انتہائی پیچید ہ ، حساس، گرم اور اہم موضوع ہے، جس کی تکنیکی حقیقت و شرعی حیثیت کے افہام تفہیم کے لیے 2009ء سے مسلسل متعدد کتابیں رسالے و مقالے لکھے گئے اور دنیا بھر میں مختلف اجلاس بھی منعقد کئے گئے۔

زیر بحث موضوع کے دو عناصر ہیں :

ایک کر پٹوکرنسی کی تکنیکی حقیقت

دوسرا کر پٹوکرنسی کی شرعی حیثیت

عنوان کی ترتیب در اصل امام ابن رشد اور امام ابن تیمیہ ﷫ کے بیان کردہ اصول فقہ کے متفقہ قاعدے:

الْحَكْمُ عَلَى الشَّيْءِ فَرْعَ عَنْ تَصَوُّرِهِ -کے تحت ہے، یعنی کسی بھی شے پر حکم لگانے سے قبل مجتہد ومفتی کے پاس اس کا مکمل اور صحیح تصور ہونا چاہیے۔

حق اور حقیقت ہے کہ کر پٹوکرنسی کی تکنیکی حقیقت اور شرعی حیثیت کو کما حقہ طور پر بیان کرنے کے لیے ماہرین معیشت و ماہرین ٹیکنالوجی کی خدمات اور با قاعدہ فتوی کمیٹی کا اجتماعی فتوی درکار ہے، لیکن مختصراَ دونوں امور پیش خدمت ہیں۔

کرنسیوں کی تاریخ

ابتدائے انسانیت کے وقت ایک انسان دوسرے انسان سے اپنی ضرورت کی چیز کسی دوسری چیز کے بدلے میں لیا کرتا تھا جس کو نظام المقايضہ Barter System کہا جاتا ہے، پھر جب اس طریقے سے کسی کی ضرورت اور کسی اور کی عدم ضرورت کے اعتبار سے دشواری ہونے لگی تو کثیر الاستعمال اشیاء جیسے چاول، نمک، لوہا وغیرہ بطور ثمن استعمال ہونے لگے اور اس طریقے کو نظام النقود السلعیہ Commodity Money System کہا جانے لگا ، پھر جب اس طریقے سے بھی حمل و نقل کے اعتبار سے دشواری ہونے لگی تو نظر انتخاب سونے اور چاندی پر جم گئی اور انہیں بطور ثمن تسلیم کر لیا گیا اور اس نظام کو نظام النقود المعد نیہ Metallic Money System کہا جانے لگا، پھر جب مالی تحفظ کے اعتبار سے اس طریقے سے بھی دشواری ہونے لگی تو لوگ سونا اور چاندی سناروں کے پاس بطور امانت محفوظ کرنے لگے اور ان سے اس کی رسید لینے لگے اور رفتہ رفتہ یہی رسیدیں کاغذی نوٹ کا کام کرنے لگیں اور اِن رسیدوں کا چلن اس قدر زیادہ ہوا کہ تقریباً سترہ ویں صدی کے آغاز میں سویڈن کے اسٹاک ہوم بینک نے سب سے پہلے ان رسیدوں کو کاغذی نوٹ اور مال کا درجہ دیا، لیکن دنیا دن بدن ترقی کرتی گئی اور دوسرے ملک میں اپنے ملک کی نوٹ قابل استعمال نہیں رہی تو بینکوں نے کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ متعارف کرائے اور اس کے بعد فی الحال کر پٹو کرنسی کا موضوع زیر بحث ہے۔

٭٭٭

کرپٹو کرنسی کی ماہیت و تکنیکی حقیقت

محتاط اندازے کے مطابق چوں کہ کر پٹو کرنسی کی موجودہ شکلیں Bitcoin Litecoin اور Ripple جیسی تقریباً چھے ہزار سے زائد متنوع شکلیں ہیں، چنانچہ مسلمہ قاعدے کے طور پر کوئی ایک بات بتانا بڑا مشکل کام ہے، لیکن ان کے درمیان قدر اشتراک والی حقیقت یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی Mining Process کے ذریعے وجود میں آنے والا برقی ، غیر محسوس اور غیر ٹھوس اثاثہ Intangible ‘ خفیہ الیکٹرانک کرنسی Electronic currency، ای کامرس کرنسی E-Commerce Currency ڈیجیٹل ٹوکن Digital Token یا ڈیجیٹل منی Digital Money اور محض پروگرامنگ Programming کا نام اور Peer( ہم کار) To Peer نظام ہے، جو فرضی رقم Virtual money اور کسی مرکزی قانونی نظام کی پابندی کے بغیر ایک ایسی آزاد Decentralized کرنسی ہے جس کا دار ومدار Blockchain Technology کہلانے والی Public Ledger عوامی ڈیجیٹل دفتر پر منحصر ہے۔

واضح رہے کہ The Hindu اخبار کے مطابق فی الحال 47 Million سے زیادہ کر پٹو کرنسی کے صارفین دنیا بھر میں موجود ہیں۔

توجہ طلب بات یہ ہے کہ Central Bank کی Digital Currency حقیقت میں Form of Cash نقد ہی کی شکل ہوتی ہے، جب کہ کر پٹو کرنسی محض ایک فرضی کرنسی ہوتی ہے۔

کر پٹو کرنسی کی ابتدا2008ء میں Satoshi Nakamoto کہلانے والے غیر معروف چاپانی سائنس دان کے ذریعے Online Payments کے راز دارانہ انداز سے Digital Alternative متبادل کے طور پر کرپٹو کرنسی کی حیثیت سے ہوئی، جسے عام کرنسی اور فرضی کرنسی دونوں اعتبار سے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کی ایجاد کی وجوہات میں Quick Payments فوراً ادائی کی سہولت، ساتھ ہی ساتھ Transaction Fee اور Bank Charges سے اور مال کی چوری سے بچنا اور اپنی Anonymity شناخت کو صیغہ راز میں رکھنا بھی شامل ہے، لیکن اس کے اشتراک و استعمال کے لیے Cryptocurrency Wallet کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے لیے Traditional Brokersیا Cryptocurrency Exchanges کے ذریعے ایک پیالی Cofee کی خریداری سے Real Estate میں تک سرمایہ کاری ممکن ہے ، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے کسی دستاویز کی ضرورت نہیں۔

کہا جاتا ہے کہ کرپٹو کرنسی مستقبل کی کرنسی ہے اور مستقبل مکمل ڈیجیٹل کرنسی کا ہوگا، اسی لیے ان جیسے موضوعات پر ہر لحاظ سے تحقیقات جاری ہیں ۔

٭٭٭

امام ابن القيم ﷫فرماتے ہیں :

“المصالح والخيرات واللذات والكمالات، كلها لا تُنال إلا بحظ من المشقة، ولا يُعبر إليها إلا على جسر من التعب ؛ وقد أجمع عقلاء كل أمة على أن النعيم لا يُدرك بالنعيم، وأن من آثر الراحة فاتته الراحة، وأن بحسب ركوب الأهوال واحتمال المشاق تكون الفرحة واللذة ؛ فلا فرحة لمن لا هَمَّ له، ولا لذة لمن لا صبر له، ولا نعيم لمن لا شقاء له، ولا راحة لمن لا تعب له ؛ بل إذا تعب العبد قليلا استراح طويلا.”

’’مصالح و خیرات اور لذات و کمالات؛ سب ایک مشقت کے بعد حاصل ہوتے ہیں، تھکاوٹ کے پل سے گزرنا ہوتا ہے۔ داناؤں کا اجماع ہے کہ خوشیوں کے راستے میں خوشیاں نہیں ہوتیں، جو راحت کیلیے رک جائے وہ راحت سے محروم ہو جاتا ہے، اور راستے کے خطرات و مشقتوں کے بقدر ہی بعد میں راحت و سکون ملتا ہے۔ جو غم نہیں سہتا وہ خوشی نہیں پاتا، جو صبر نہیں کرتا وہ لذت نہیں چکھتا، جو مشکلیں نہیں دیکھتا وہ آسائش سے بھی محروم رہتا ہے، جو تھکتا نہیں ہے اسے سکون نہیں ملتا۔ طویل تر سکون کیلیے کچھ گھڑی کی تھکاوٹ ضروری ہے۔‘‘( مفتاح دار السعادة : 2؍15)

تبصرہ کریں