داعیان دین کے لیے گنج گراں مایہ حکمت۔ مولانا محمد عبد الہادی العمری

دعوتی میدان میں کامیابی کا انحصار جن چند اہم باتوں پر ہے ، ان میں ایک حکمت ہے۔ حکمت یعنی ٹھوس معلومات، موقع، محل اور مخاطب کی رعایت کرتے ہوئے اپنی بات پیش کرنا ، ممکن ہے کہ ایک اسلوب کسی کے لیے مناسب ہو لیکن وہی اسلوب دوسرے کے لیے غیر مناسب ، یا ایک جگہ کے لیے جو بات مفید ہو سکتی ہے ۔

دوسری جگہ کے لیے وہی غیر موزوں ہو، ملکی اور بین الاقوامی موجودہ حالات میں اس کی اہمیت مزید بڑھ کئی ہے، ایک ملک میں بیان کی جانے والی بعض باتیں یا بعض تعبیرات دوسرے ملک میں قابل مواخذہ بھی ہو سکتی ہیں۔ اس اعتبار سے ایک داعی کے لیے جہاں

ٹھوس دینی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے ، وہیں ارد گرد کے ماحول اور حالات کو سمجھنا بھی ضروری ہوگا، مخاطب کی رعایت جیسے ضروری ہے ویسے ہی جگہ اور حالات کی پاسداری لازمی ہے، اسی طرح وسائل تبلیغ کی کا صحیح استعمال ہے جو داعی کی کوششوں کو چار چاند لگا دے گا ۔

اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو یہ ملکہ عطا فرماتا ہے، جس سے وہ کئی گم گشتہ راه کی ہدایت کا سبب بنے اور مشاہیر کے مقابلہ میں میدان عمل کی نمایاں کامیابیاں ان کے حصہ میں آئیں، جبکہ نامی گرامی لوگ اس میدان میں کوئی قابل ذکر کامیابی نہ حاصل کر سکے، بڑوں کی باتیں مفروضات یا کتابوں تک ہی سکڑ کر رہ گئیں ۔

برمنگھم شہر کے ایک داعی جنہوں نے جامعۃ الامام ریاض سے تعلیم حاصل کی ان کی تقریر کا مرکزی نکتہ عموماً عرب ممالک کے حالات کے گرد گھومتا، قطع نظر عنوان کوئی بھی دیا جائے، ایک جمعہ میں . دوران خطاب خلیج کے حالات پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک ملک کو ہدف تنقید بنایا، سامعین میں اس علاقہ کے لوگ بھی تھے۔ دوران خطبہ ہی احتجاج کرتے ہوئے وہ کھڑے ہوگئے، یوں جمعہ کے دن ایک ناپسندیدہ صورتحال پیدا ہو گئی اور پھر شیخ موصوف کو بتدریج شہر کی بیشتر مساجد میں دروس بلکہ اظہار خیال سے ہی منع کر دیا گیا۔

وه مخلص اور با صلاحیت ہونے کے باوجود گھر تک ہی محصور ہو کر رہ گئے. خطبہ جمعہ عالمی تبصروں کے لیے نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس کا فائدہ ہوتا ہے۔

ایک عرب عالم دین نے اٹلی کے ایک اسلامی سنٹر میں درس دیتے ہوئے روایتی جوش و جذبات سے بھر پور حقوق زوجین پر گفتگو کی، اس میں بیوی کو حسب ضرورت سزا دینے کی بات کی، کسی نے متعلقہ حکام تک یہ بات پہنچادی، مقامی پولیس شیخ کو گرفتار کر کے لے گئی، ان کا وہاں کا رہائشی پر منٹ مستقل اقامہ نہیں بنا تھا، شیخ موصوف نے اپنی صفائی میں سورہ نساء کی آیت 34 پیش کی کہ یہ اس کی تشریح کر رہا تھا، لیکن اطالوی جج نے ان کی دلیل کو درخور اعتناء نہیں سمجھا، انہیں ملک بدر کر دیا گیا۔ در اصل یورپ میں بیوی پر دست درازی کو خلاف قانون سمجھا جاتا ہے۔ DOMESTIC VIOLENCE قابل مواخذه

جرم ہے ۔

جرمنی کے شہر برلن میں ایک مشہور خطیب جنہیں فقہ شافعی پر خاصی مہارت تھی، ان کی مختلف کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کے خطبات مقامی عرب کمیونٹی میں بہت پسند کئے جاتے، بیان میں عربوں کی زبوں حالی اور سربراہان کی مایوس کن کار کردگی پر زیادہ گفتگو کرتے، وفور جذبات میں بعض کلمات یہودی، صیہونی کا بے دریغ استعمال کرتے ، اچانک انہیں گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا گیا ، یہود ایک مذہب کے پیروکار ہیں، ان کے خلاف نفرت انگیز جملے قابل مواخذہ ہو سکتے ہیں جبکہ صیہونی اسی مذہب کے پیروکاروں کی سیاسی نوعیت کی تحریک سے وابستہ افراد ہیں، ان کے خلاف تنقید ہو سکتی ہے، الفاظ کا چناؤ بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔

خوش نصیب ہے وہ جسے یہ وصف ’حکمت‘ جیسا گوہر نایاب مل جائے، یہ اللہ کا انعام ہے جو خاص بندوں کو ملتا ہے :

﴿ يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ (سورۃ البقرة :269)

’’وہ جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے، اور جسے حکمت عطا کی جائے گویا اسے خیر کثیر سے نوازا گیا۔‘‘

داعی دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ حکیمانہ اسلوب اختیار کرے :

﴿قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ﴾ ( سورة يوسف : 108)

’’آپ کہہ دیجیئے کہ یہی میری راہ ہے، میں اور میرے فرمانبردار اسی کی طرف دعوت دے رہے ہیں ،بصیرت کے ساتھ ۔‘‘

آئیے،پہلے حکمت اور بصیرت کے مفہوم پر کچھ گفتگو کر لیں:

اہل لغت نے حکمت کا مطلب لکھا ہے کہ جو حق کو علم اور فہم کے ساتھ دریافت کرے ۔ (مفردات راغب اصفهانی )

لسان العرب میں کہا گیا کہ باتوں میں پختگی اختیار کرنا۔

امام این قیم﷫ نے امام شافعی﷫ کے حوالہ سے ذکر کیا ہے کہ

وضع کل شئی في موضعه

’’ہر چیز کو اس کی درست جگہ پر رکھنا۔‘‘ (مدارج السالکین : 2؍478)

امام ابن کثیر﷫ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جادہ حق کی طرف دعوت مکمل یقین اور عقلی و شرعی دلائل وبراہین کی متقاضی ہے ۔(تفسیر ابن کثیر )

حضرت لقمان کے ساتھ بطور لقب حکیم استعمال کیا جاتا ہے، انہیں دی گئی اس خاص نعمت کا خصوصی ذکر کیا گیا:

﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ﴾ (سورۃ لقمان: 12)

’’یہ کونسی حکمت ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا اس کا مطلب فہم، علم اور تعبیر کی صلاحیت ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)

امام ابن تیمیہ ﷫ نے فرمایا کہ

حکمت موقع محل کی رعایت کرتے ہوئے اپنایا جانے والا اسلوب ہے جو کبھی نرمی، صبر اور برداشت کے ذریعہ اور کبھی ترغیب، و ترهیب سے اور کبھی قوت دلیل اور طاقت کے استعمال سے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ لیکن یہ بحث و تکرار مد مقابل پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ غلبہ حق کے لیے ہو ۔

بصیرت اور حکمت کے لیے پختہ علم، نرمی اور صبر ضروری عناصر ہیں۔ یہ قابل رشک وصف ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«لاَ حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا» (صحیح بخاری: 73)

’’قابل رشک دو قسم کے لوگ ہیں :ایسا شخص جسے اللہ نے دولت دی، راہ حق میں خرچ کرتا ہے، دوسرا جیسے حکمت دی گئی اس سے وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے اور دوسروں کو علم سکھاتا ہے۔‘‘

علامہ ابن حجر عسقلانی ﷫ نے اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ ’الحكمة‘ کبھی یہ کلمہ قرآن مجید کے لیے بولا جاتا ہے، کیونکہ کلام ربانی سارے کا سارا حکمت سے پر ہے، اور کبھی سنت نبوی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خصوصاً جب کتاب و حکمت کہا جائے اس سے سنت مراد ہوگی اور کبھی یہ علم و معرفت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ (فتح الباري)

انبیاء کرام ﷩کی زندگیاں اس وصف سے پُر تھیں ، سیدنا ابراہیم کا تذکرہ قرآن مجید میں مختلف پیرایوں میں وارد ہوا ہے، ہر ایک حکمت کی اعلی مثال ہے، جب حکمران وقت کے سامنے اللہ عزوجل کے بارہ میں بتایا کہ وہی ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے، کم فہم اور کج رو حکمران نے دعوی کر دیا کہ اس کے لیے تمہیں آسمانوں کے مخفی خالق کی طرف جانے کی ضرورت نہیں، یہ کام تو میں بھی کر سکتا ہوں یعنی جیسے چاہوں قتل کر دوں اور جسے چاہے زندہ زندہ چھوڑ دوں ، میرا حکم سب کے لیے نافذ العمل ہے، جیسے دور حاضر کے خود سر حکمران ایسے سمجھتے ہیں، نبی برحق نے اسلوب بدلتے ہوئے اس کج روی کا ایسے ہی علاج کیا کہ وہ اپنی بے بسی اور عاجزی کے

آگے کھسیا نہ ہو گیا، کہا کہ اللہ عزوجل کا حکم کل کائنات پر جاری ہے۔ اس کے حکم سے سورج مشرق سے طلوع ہو کر مغرب میں غروب ہوتا ہے، آپ اپنے حکم سے کل کا سورج مغرب سے نکال دیجئے !

ایک مناسبت سے سیدنا ابراہیم نے علاقہ کے مرکزی بہت خانہ میں رکھی مورتیوں کو عیب دار کر دیا تاکہ لوگ ان مورتیوں سے جڑی حکایات کی کمزوری کا بچشم خود مشاہدہ کر سکیں کہ جو اپنے وجود کی حفاظت نہ کر سکیں وہ تمہارے لیے حاجت روائی اور مشکل کشائی کیسے کر سکتی ہیں۔ نبی جلیل کا یہ اقدام اپنے علاقہ اور وہاں کے طور طریقوں سے واقفیت کی بنیاد پر مفید ثابت ہوا، مخالفین توحید کے سامنے سیدنا ابراہیم کی دلیل کی حقانیت تو ثابت ہو گئی جس کا انہوں نے بھرے مجمع میں اعتراف کیا :

﴿قَالُوا مَن فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ ‎0‏ قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ ‎0‏ قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ 0‏ قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ ‎0‏ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ ‎0‏ فَرَجَعُوا إِلَىٰ أَنفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ أَنتُمُ الظَّالِمُونَ ‎0‏ ثُمَّ نُكِسُوا عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنطِقُونَ ‎0‏ قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ ‎0‏ أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ‎0‏ قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ ‎0‏ قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ‎0‏ وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ﴾ (سورة الانبیاء: 59۔ 70 )

پھر سرنگوں ہو کر کہنے لگے کہ آئے ابراہیم تم تو جانتے ہیں ہو کہ یہ بت تو بول بھی نہیں سکتے ،یہ اور بات ہے کہ اعتراف خطا کے با وجود سرکشی اور ہٹ دھری کے باعث ابراہیم کے وجود کو اپنے وطن میں ناقابل برداشت قرار دے کر علاقہ بدر کر دیا۔

کسی برائی سے روکنے کے لیے بھی حکمت کی شدید ضرورت ہوتی ہے ،یہاں فرمان نبوی ﷺ نہایت غور طلب ہے ۔

«مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ» (صحیح مسلم: 49)

اس حدیث میں منکر سے روکنے کے تین مختلف مراحل بتائے گئے ہیں ، حسب مصلحت ان میں سے کسی کو اختیار کرنا چاہئے ، گھر میں پائی جانے والی خرابی کو درست کرنے کا انداز بازار میں پائی جانے والی اسی نوعیت کی خرابی کو درست کرنے کے اسلوب سے مختلف ہوگا، ورنہ کسی مسئلہ میں جذباتی رویہ اختیار کرکے چند افراد کو تو خوش کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن چند لیڈروں کے جذباتی اسلوب کا سینکڑوں افراد کو خمیازہ بھگتنا ہوگا، اس غیر دانشمندانہ اسلوب کے نقصان کی بہت سی مثالیں گرد و نواح اور مختلف عرب ممالک اور بین الاقوامی سطح پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے رسول رحمت ﷺ کو حکمت و بصیرت کا وافر حصہ عطا فرمایا۔ واقعہ معراج انسانی تاریخ کا منفرد واقعہ ہے، اس کے ضمن میں ایک بات خاص طور پر ذکر کی گئی۔ آپ ﷺ کو اس سفر کے لیے تیار کرتے ہوئے آپ کے سینۂ انور کو ایمان و حکمت سے بھرا گیا۔

ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا، فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ

(صحیح بخاری: 349)

سیرت رسول ﷺ اور صحابہ کرام کے عہد زریں کی چند مثالیں ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں جو حکمت وبصیرت کی درخشاں مثالیں ہیں، کہ عہد نبوی اور صحابہ میں کیسے اس آیت پر عمل ہوتا رہا:

﴿ ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ (سورۃ النحل 125)

’’اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہتر نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان کے ساتھ مناسب طریقہ سے حجت قائم کیجئے۔‘‘

لیکن بگاڑ کے اس زمانہ یہ بتدریج حکمت و بصیرت کا فقدان دیکھنے میں آ رہا ہے اور نوجوان خاص طور پر اس کا شکار ہو رہے ہیں۔

مؤذن رسول ﷺ سیدنا بلال کعبہ کی چھت پر

یوں تو سیدنا بلال کی زندگی سبق آموز باتوں سے بھری ہوئی ہے، اس وقت ان کے حوالہ سے ایک واقعہ جو حکمت نبوی ﷺکی نہایت تابناک مثال ہے۔

فتح مکہ کے دن تقریباً دس ہزار مجاہد صحابہ کا لشکر آپ کے ساتھ تھا، مقدس ترین علاقہ آج فتح ہو رہا تھا۔ مخالفین ومعاندین اسلام کچھ مایوسی اور بے بسی کے عالم میں سرنگوں کھڑے تھے اور کچھ کونے کچلوں میں دبکے ہوئے اور کچھ نے راہ فرار اختیار کی ، لوگ صحن کعبہ میں جمع تھے، آج سے پہلے اس صحن میں قدم رکھنے کے لیے مشرکین مکہ نے بھونڈی شرائط عائد کر رکھی تھیں اور کعبہ میں داخل ہونے کے اور بھی سخت اصول تھے، یہاں رنگ ونسل اور حسب ونسب کی بنیاد پر اجازت ملتی، آج کے اس تاریخی موقع پر رسول رحمت ﷺ نے اذان دینے اور اعلان توحید باری تعالیٰ کے لیے ان ہزاروں جانثاروں میں سیدنا بلال کو منتخب فرمایا کہ

بلال جو ایک سیاہ فام، پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھتے تھے ،جب حکم نبوی کے مطابق کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے اور صدائے اذان بلند کی ،گردو نواح میں جمع غیر مسلم یہ منظر دیکھ کر تڑپ اٹھے کہ بلا شک و شبہ بلال کو یہ رتبہ بلند صرف اسلام کی چھاؤں میں ہی مل سکتا ہے۔

دہ جانتے تھے کہ یہ وہی بلال ہیں جنہیں کعبۃ اللہ کے قریب آنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن آج وہی بلال ہے کہ ان کے قدم کعبہ کی چھت کے اوپر ہیں، یہ وہی بلال ہے جنہیں مکہ کی تپتی ریت میں گھسیٹا جاتا تا کہ کلمہ حق کا انکار کر دے لیکن آج وہ توحید کا باقاعدہ اعلان کعبہ کی چھت سے کر رہے ہیں۔

گو کہ ہر صحابی کا اپنا مقام اور حیثیت لیکن اس وقت آپ ﷺ نےجاہلیت کے مختلف بتوں کو اپنے عمل کے ذریعہ پاش پاش کر دیا کہ اسلام میں انسان کی عظمت ہے ،اس کا کردار اسے عظیم بناتا ہے، رنگ ونسل اور معاشرتی نا انصافیوں کے بت آپ نے عملاً توڑ ڈالے۔ لوگوں کے سامنے عملی تصویر تھی۔

﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ (سورۃ الحجرات: 13)

اگر چہ کہ اذان بلالی میں کلمات وہی تھے جو ہر مسجد کا مؤذن دن میں پانچ بار دہراتا ہے، مگر آج کی اذان کی تاثیر کچھ اور ہی تھی۔

الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں، لیکن ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور

شاید یہ اذان کے پیغام اور معانی کی گہرائی کا اثر تھا کہ مؤذن نبی ﷺ آپ کی جدائی کے بعد پھر اذان نہیں دے سکے۔ دو ایک بار صحابہ کا شدید اصرار خصوصاً سیدنا صدیق اکبر کی خواہش پر اذان دینے کے لیے کھڑے تو ہوئے لیکن جب أشهد أن محمد رسول الله پر پہنچے تو بلال کی قوت اور ضبط جواب دے گیا ، ان کےقدم، ان کا یا کلمہ کا وزن سہار نہ سکے، پھر تو ان کے لیے مدینہ منورہ میں قیام کرنا بھی مشکل ہوگیا ۔

اگرچیکہ وہی گلی کوچے اور درو دیوار تھے لیکن دیدار نبوی سے محروم !

ثمامہ بن اثال

وقت کا مالدار، اپنے قبیلہ کا سردار، علاقہ کا بااثر شخص تھا ، قبول اسلام سے قبل رسول اللہ ﷺ کی ہجو اور دعوت حق کو روکنے کی ممکنہ تدبیریں کرنے والا ایک موقع پر صحابہ کرام کی جانب سے گرفتار کر کے بارگاہ رسالت ماب ﷺمیں پیش کیا گیا۔

بادی النظر میں یہ امید کی جا رہی تھی کہ اس گستاخ کے خلاف سخت کاروائی ہوگی ، اور خود ثمامہ کا بھی یہی خیال تھا، اس کی گفتگو سے تو اس کا اعتراف بھلکتا تھا لیکن در بار نبوی ﷺسے جو فیصلہ صادر ہوا وہ سب کی توقعات کے بر خلاف تھا، آپ ﷺنے حکم دیا کہ اس قیدی کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ کر ایسے رکھا جائے کہ کھانے پینے یا ضروریات کا مکمل خیال رہے، ایسے زبان دراز اور مخالف اسلام قیدی کے حوالہ سے لطف و کرم کا فیصلہ بہت سوں کے لیے کچھ انوکھا تھا لیکن فیض یافتگان نبی ﷺ واقف تھے کہ اس دربار کا کوئی حکم کوئی فیصلہ حکمت و مصلحت سے خالی نہیں، چنانچہ اس مشرک اور معاند اسلام قیدی کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ اپنایا گیا ، مدینہ منورہ میں اس قیدی کو بند کرنے کی جگہ کم نہیں تھی لیکن رسول اکرم ﷺنے جو سبق اسے دینا چاہا ،وہ مسجد ہی میں رکھنے سے پورا ہو سکتا تھا۔

ایک دن گذرا، دن بھر وہ صحابہ کرام کی آمد ورفت، عبادت میں ان کی رغبت،باہمی اخوت ومحبت، سر زمین عرب میں رائج طبقاتی اور قبائلی اونچ نیچ کے بر عکس یہاں برابری اور یکسانیت کا پھر ان کا اپنے محبوب رسول اور قائد کے ساتھ والہانہ لگاؤ اور برتاؤ کا بچشم خود مشاہده کرتا رہا، دن ڈھلے آپ ﷺ نے قیدی کا حال دریافت کیا۔ (صحیح بخاری: 4024)

اس نے نہایت کرخت لہجہ میں جواب دیتے ہوئی تین باتیں کی ،اگر تم میری قید کے عوض کچھ مال چاہتے ہو تو بتاؤ، کیا چاہتے ہو معاوضہ ادا کر دیا جائے گا ، اگر قتل کرنا چاہتے ہو تو اس کا اگرچیکہ تمہیں حق ہے لیکن یاد رکھنا کہ یہ خون مہنگا ثابت ہو‎گا، یعنی ایک بڑے قبیلہ کے سردار کا قتل تمہارے لیے گراں سودا ہو گا،گو کہ تمہیں اس کا حق حاصل ہے اور اگر عفو و درگذر کا رویہ اپناؤ گے تو اس احسان کا بدلہ اسی طرح لوٹایا جائے گا ۔ نفرت و حقارت اور جاہلی عصیت سے پر اس جواب کے بعد رسول حکیم ﷺ نے مزید ایک دن قید میں رکھنے کا حکم صادر فریایا۔

دوسرا دن بھی پہلے دن جیسا گزرا ،آپ ﷺ نے جب استفسار فرمایا تو وہی تین جملے اور اسی تیز وتند لب ولہجہ میں اس نے جواب دہرائے، آپ ﷺ نے تیسرے دن بھی مقید رکھنے کا حکم دیا ،تیسرا دن گزرا اور آپ نے جب استقسار کیا تو قیدی کا وہی پہلے دن والا تلخ اور درشت اسلوب باقی تھا، پھر آپﷺ نے اس مہنگے قیدی کو بغیر کسی معاوضہ کے آزاد کرنے کا حکم دے کر سب کو حیرت زدہ کر دیا کہ ایسا مغرور قیدی جو تین دن آپ کے ساتھ قید میں بھی بے ادبی کرتا رہا۔ اسے یوں ہی آزاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ قیدی آزاد ہونے کے بعد چند قدم آگے بڑھا ، وہاں کسی درخت کے کنارہ میسر پانی سے مشرک اور بغض نبیﷺ کی نجاست اور کثافت کو صاف کر کے واپس بارگاہ نبوی نیں ایک مطیع اور معتقد کے روپ میں لوٹا، قریب پہنچتے ہی اعتراف حق کا کلمہ دہرایا، أشهد أن لا إله إلا الله

حاضرین مجلس کے لیے یہ نہایت تعجب خیر لمحہ تھا کہ ایک سخت مخالف موم کی طرح پگھلا ہوا تھا، تین روز کی متکبرانہ اسلوب اپنا نے والا اس درجہ عجز و انکساری کا نمونہ بنا ہوا ہے ، وہ ایک صاحب فراست اور سردارہونے کا ثبوت دیتے ہوئے گویا وا، جس سے مسجد میں مقید رکھنے کی کی حکمت نبوی اشکارا ہوتی ہے، کہا کہ روئے زمین پر آپ سے زیادہ ناپسندیدہ شخصیت میرے نزدیک کوی نہیں تھی، آپ کے دین سے زیادہ برا دوسرا کوئی اور دین نہیں تھا، اور آپ کے شہر سے زیادہ برا کوئی دوسرا شہر نہیں تھا، لیکن آج آپ کے چہرہ انور سے زیادہ محبوب کوئی دوسرا چہرہ نہیں، آپ کے لائے ہوئے دین سے زیادہ پسند یدہ دوسرا کوئی دین نہیں اور آپ کے شہر سے زیادہ دوسرا کوئی شہر عزیز نہیں۔

مسجد نبوی میں ایک دن گزارنے اور مشاہدہ حق اور فیض یافتگانِ نبی ﷺ کی باہمی اخوت و محبت کے مشاہدہ کے ساتھ ہی دل و میں پائے جانے والی غلط فہمی دور ہو چکی تھی. جوابات میں لب ولہجہ کی درستگی کی وضاحت کی کہ یہ میں آزما رہا تھا کہ اس دعوت دین میں آپ کی ذاتی غرض کتنی شامل ہے، جب کرخت جوابات کا متوقع رد عمل نہیں آیا تو یقین ہو چلا کہ اس دعوت کا مقصد اپنی ذاتی منفعت اور جاہ وجلال نہیں، یہ خالص اللہ کے لیے ہے، اس راہ میں ہر طرح کے تلخ و تند جملوں اور حالات میں بھی ذاتی ناگواری اور رد عمل نہیں۔

باقی دو دن تو گویا اضافی تھے، میں نےآزادی کا انتظار کیا تاکہ کوئی یہ طعنہ نہ دے کہ قید کے ڈر یا مجبوری نے اعلان اسلام پر مجبور کیا، بتانا چاہتا تھا کہ یہ ایک آزاد شہری کی حیثیت سے اسلام قبول کر کے اس دین کی حقانیت کا اعتراف اور اعلان کروں۔ پھر عمرہ، ادا کرنے کی اجازت طلب کی جب انہیں اجازت مرحمت کی گئی تو ہجرت کے بعد سب سے پہلے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کا شرف پایا کہ بلند آواز سے تلبیہ کہتے ہوئے لبيك اللهم لبیک مکہ مکرمہ میں داخل ہو کر سرداران قریش اور مشرکین مکہ کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ،کہ اس کی مخالفت کریں گے تو بھوکوں مریں گے کیونکہ مکہ مکر مہ پہنچنے والا بیشتر اناج، غلہ اسی کی طرف سے آتا ہے اور اگر صدائے توحید کا تلبیہ بلند کرنے دیا جائے تو فرزند قریش محمد بن عبد اللہ ﷺ اور ان کے متبعین کی ہم نے مخالفت کیوں کی ؟

تقسیم غنیمت پرچہ میگوئیاں اور بر وقت حکیمانہ کاروائی

شوال 8 ہجری، غزوہ حنین کے لیے رسول اللہ ﷺ جب تقریباً دس ہزار صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے۔ قریب پہنچتے ہی اطراف کی پہاڑیوں میں مورچہ زن مشرکین نے غیر متوقع اچانک حملہ کرکے صحابہ کو منتشر کر دیا، مسلمانوں میں بھگدڑمچ گئی، رسول اللہ ﷺنے ہمت و شجاعت کے ساتھ منتشر صفوں کو متحد کیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے بڑی کامیابی عطا فرمائی۔

تقسیم مال غنیمت کے موقع پر آپ نے حسب ضابطہ ایک حصہ مجاہدین میں تقسیم فرمایا، اور خمس پانچواں حصہ اضافی مدد کے طور پر ان کے درمیان تقسیم کیا، جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ۔

اس اضافی تقسیم میں بظاہر محسوس ہوتا تھا کہ سینئر صحابہ خصوصاً انصار مدینہ کو نظر انداز کر دیا گیا ، اس تقسیم کے بعد کچھ انصاریوں نے اس پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہنا شروع کر دیا کہ اگر یہ رسول اللہ ﷺ کی صوابدید کا نتیجہ ہے، تو یہ قابل مواخذہ ہے، کیونکہ ہر مشکل موڑ پر جان جوکھم میں ڈال کر ہم نے ساتھ دیا اور تقسیم مال میں انہیں ترجیح دی گئی جن کی کوئی قابل ذکر کار کردگی یا قربانی نہیں ہے ۔

انصاریوں نے یا کسی نے نہیں کہا کہ آپ ﷺ نے ذاتی طور پر زیادہ فائدہ اٹھایا۔ اس کے باوجود قبائلی عصبیت کے اعتبار سے تعصب اور نفرت کی بجھتی ہوئی چنگاریوں کو شعلوں میں بدلتے دیر نہیں لگتی اور اس کے سنگین نقصانات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ جب آپ ﷺ تک یہ خبر پہنچی ، آپ نے بر وقت اس کی خبر لی اور حکیمانہ تدبیر سے اس چنگاری کو ایسے بجھا دیا کہ ہر سپہ سالار اور سیاسی رہنما کے لیے اس میں گہرا سبق ہے ۔بعض مسائل ابتدائی حالت میں معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن غیر ضروری تاخیر سے شعلہ جوالہ بن سکتے ہیں۔ آپ ﷺ نے متعلقہ انصاریوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا تا کہ شکایت کنندگان کی شکایات براہ راست سن سکیں اور وہ لوگ رہبر و رہنما ﷺ کا جواب اور وضاحت سے آگاہ ہو سکیں۔ ورنہ بسا اوقات درمیانی واسطوں اور راویوں کی کثرت سے غلط فہمیاں پختہ ہونے لگتی ہیں ۔ اس سے دوسرا سبق قائد اور عوام کا رابطہ اور تعلق بھی کس نوعیت کا ہونا چاہئے، سمجھا جا سکتا ہے کہ

آپ ﷺنے اس ایشو کو اپنی شان اور عظمت کا مسئلہ نہیں بنایا کہ میں ان کی وضاحت میں اپنا وقت کیوں ضائع کروں جو میں نے کیا وہ درست کیا، نہیں، آپ نے اپنی عظمت اور شان بلند کے باوجود ان کے ساتھ بیٹھنے کو ترجیح دی، نتیجہ کیا ہوا ، جب عظمت کا مینار آپ کے ساتھ بیٹھ جائے تو آدھے مسائل از خود دم توڑ گئے۔

پھر آغاز گفتگو میں آپﷺ نے خود انصاریوں کی دین پسندی اور اس راہ میں ان کی قربانیوں کا اعتراف فرمایا، لیکن ساتھ یہ بھی وضاحت کی کہ اس دعوت حق سے پیشتر ان کی اپنی اخلاقی اور معاشی پستی کا کیا حال تھا کہ آپس کی خانہ جنگیوں کے باعث بغض و عداوت کی دیواریں کھڑی تھیں، اس سے انہیں معاشی اور معاشرتی متعد د پریشانیاں گھیرے ہوئے تھیں۔ اس پریشان کن صورت سے پرامن معاشرہ اور خوشحالی کا یہ سفر رسول اللہ ﷺکی برکت اور فیض ہے۔ یہ ایسی حقیقت تھی جس سے سب واقف تھے، انہوں نے بھری محفل میں یہ اعتراف کیا کہ ہاں یہ سب خوشحالی آپ کی مرہون منت ہے۔

پھر آپﷺ نے وضاحت فرمائی کہ میں اگر کسی نو مسلم کو زیادہ نوازتا ہوں تو یہ اس کی اسلام کے لیے قربانی کے عوض نہیں بلکہ تالیف قلبی کے لیے کہ دین اسلام میں اس کے لڑکھڑاتے قدم جم جائیں، اس کے لیے آگے کی راہ آسان ہو جائے، گویا اس عطا میں بھی تمہاری برتری ہے کہ تمہارے قدم دین میں اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ ڈگمگانے کا اندیشہ ہی نہیں۔

پھر آپ ﷺ نے وہ بات کہی کہ شکوہ و شکایات کی بجائے محفل میں گریہ و زاری شروع ہوگئی کہ بعض جذباتی لوگوں نے کتنی بڑی غلطی اور بے جا جسارت کی۔ آپ نے انہیں شرمندہ نہیں کیا ، بلکہ آپ کے ایک جملہ نے ان پر ندامت کی چادر ڈال دی، آپﷺ نے فرمایا :

کیا تمہارے لیے یہ اعزاز کی بات نہیں کہ دیگر لوگ یہاں سے لوٹیں تو اپنے ساتھ مال مویشی اور چوپائے لے جائیں اور تم لوٹو تو تمہارے ساتھ رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس تمہارے قافلہ میں ہوں ۔ اس اعزاز کے مقابلہ میں عارضی مال ومتاع کی حیثیت ہی کیا کہ اس اعزاز پر ایک زبان سبھوں نے اس عظمت اور سعادت کا اعتراف کیا، پھر آپ ﷺ نے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا فرماتے ہوئے مجلس برخاست کی ۔ایک نہایت سنگین مسئلہ کو ناخن تدبیرسے یوں سلجھا دیا کہ

یہ چنگاریاں ابتداء ہی میں بھسم ہو گئیں۔

سيدنا جعفر دربار نجاشی میں

مشرکین مکہ کا وفد جب حبشہ پہنچا، مہا جرین کے تعاقب میں مسلمانوں کے نمائندہ سیدنا جعفر نے دربار نجاشی میں گویا ہوئے ۔

بادشاہ سلامت!ہم دور جاہلیت کے پرودہ لوگ تھے، بتوں کی پرستش کرتے مردار کھاتے، برائیوں میں گھرے ہوئے تھے۔ رشتوں کو توڑتے، پڑوسی کی حق تلفی کرتے، ہم میں طاقتور کمزور کر کھا جاتا ، ابتدائی تمہیدی گفتگو میں دور جاہلیت کی چند خرابیوں کا نقشہ نہایت مؤثر اسلوب میں کھینچا ہوئے ان بر ائیوں کا تذکرہ کیا، جس کی قباحت سے ہر غیرت مند واقف بھی تھا اور اتفاق بھی کرتا تھا ۔

پھر گویا ہوئے یہ ہماری زبوں حالی کی کیفیت تھی اور ہم ان کی برائیوں میں ڈوبے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا رسول بھیجا جس کے نسب کی اور ذاتی اوصاف، راست بازی ، دیانتداری اور پاکدامنی سے ہم واقف تھے ۔

یعنی کوئی اجنبی شخص نے یہ دعوی نبوت نہیں کیا۔ بلکہ اس نامی گرامی آدمی نے یہ بات کی، جس کی ذاتی شرافت زبان زد خاص و عام تھی۔ ہر کوئی اس یکر صدق وصفا کی تعریف ہے رطب اللسان تھا ۔

اس تمہیدی گفتگو کے بعد اسلام کی بنیادی باتیں پیش کیں ۔

ہمیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی تعلیم دی کہ ہم اسی کی بندگی کریں اور ان رسموں کو چھوڑ دیں جس میں ہم اور ہمارے آباء مبتلا تھے۔

پتھروں کی پوجا، بت پرستی وغیرہ ، ہمیں حسن اخلاق کی تعلیم دی گئی۔

کہ صدق گوئی کو اپنائیں ، امانت دار بنیں ، صلہ رحمی کریں ، پڑو سی کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ باہمی خون خرابہ سے بچیں، برائیوں سے دور رہیں،الزام تراشی سے اجتناب کریں، یتیم کا مال غصب نہ کریں ، پاکدامن خواتین پر بہتان تراشی سے گریزکریں۔ صرف اللہ ہی کی ہی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں، صلاۃ، زکوٰۃ اور صوم کا اہتمام کریں۔

اسلامی تعلیمات کا خلاصہ چند سطروں میں پیش کر دیا کہ جس میں عقیده ، اخلاقیات، معاملات اور فرائض کی نشاندہی کی گئی ۔

پھر اپنی پوزیشن واضح کی کہ ان پاکیزہ تعلیمات کو قبول کرتے ہوئے ہم نبی پر ایمان لے آئے اور ان کی پیروی کرتے ہوئے ایک اللہ کی عبادت کرنے لگے۔شرک سے براءت کا اظہار کیا، جس چیز کو نبی نے حرام قرار دیا ہم نے اپنے اوپر ان چیزوں کو حرام کر لیا اور جن چیزوں کو حلال کہا ہم نے حلال جانا۔

اس کے بعد قوم کی طرف سے ہونے والے رد عمل اور رویہ کا تذکرہ کیا کہ ہمارے خلاف انہوں نے زیادتی کی، ہمیں طرح طرح سے اذیتیں پہنچائیں، تاکہ ہم اللہ وحدہ لا شریک کی بندگی کو چھوڑ کر بت پرستی میں مبتلا ہوں اور ان سب برائیوں کو روا رکھیں۔

جس کے ہم دور جاہلیت میں خوگر تھے ۔

یوں حاضرین دربار کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا اس انداز میں ذکر کیا ، جس سے ہر انصاف پسند اور آسمانی مذہب کے پیروکار متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔

اس کے بعد حبشہ کی طرف آنے کا نہایت دلنشیں اسلوب میں سبب بیان کیا ، کہ جب ہم پر ان عربوں نے ہر طرح کے مظالم روا رکھا ، ہمیں اپنے دینی معتقدات پر عمل کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو ہم نے آپ کی سلطنت کا رخ کیا۔ دیگر علاقوں کو چھوڑ کر ادھر آنے کا سبب یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہوا، یہاں عدل و انصاف ہوتا ہے ، فرماں روائے سلطنت کی جانب سے کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا ۔ ہمیں امید ہے کہ آپ کی نیک نامی ہمارے ساتھ بھی برقرار رہے گی اور ہم یہاں کی ظلم کا شکار نہیں ہوں گے ۔

اس بروقت اور مؤثر حکمت عملی و جرأت سے پر گفتگو کا اثر بادشاہ اور حاضرین دربار پر اتنا گہرا ہوا کہ انہوں نے قرآن سننے کی از خود فرمائش کی کہ جو آپ کے نبی پر جو پیغام ربانی نازل ہوتا ہے، اس کی کچھ تلاوت کیجئے۔

صحابی رسول نے موقع کی مناسبت سے سورہ مریم کی ابتدائی چند آیات ایسے اسلوب میں پڑھی کہ حق پسند بادشاہ کی آنکھیں ڈبڈ با گئیں، پھر مشرکین‎ کے وفد کو کرارا جواب دیا کہ ان نفوس قدسیہ کو آپ لوگوں کے حوالہ نہیں کیا جا سکتا۔

نو وارد مسلمانوں کو مستقل قیام کا پروانہ عطا کیا گیا کہ جب تک چاہیں اطمینان کے ساتھ یہاں قیام کر سکتے ہو، تمہیں یہاں کوئی گزند نہیں پہنچائی جائے گی۔

مشرکین کے وفد نے جس طمطراق کے ساتھ حبشہ کا سفر کیا تھا۔ مسلمانوں کی حکمت عملی کے نتیجہ میں نہایت ذلت کے ساتھ نا کام واپس ہوا ۔

سیدنا ربعی بن عامر ،دربار ستم میں

عہد صحابہ میں فتوحات کا سلسلہ تیزی سے جاری تھا، دور دور تک اسلام کا ڈنکا بج رہا تھا، وقت کی عظیم طاقتیں قیصر وکسری کی فوج پر خوف کے سایہ گہرے ہو رہے تھے، قافلہ حق و صداقت کے قرزند صحابی جلیل ربعی بن عامر دربار رستم سپہ سالار کسری کے دربار میں پہنچے ، اس شان بے نیازی سے کہ رستم کے درباریوں پر دہشت طاری ہو گئی ، در اصل رستم نے یہ دربار مجاہدین کے ذمہ داروں کو مرعوب کرنے کے لیے سجایا تھا، مسلمانوں نے مشورہ کر کے اپنے سپہ سالار کے بجائے تجربے کار صحابی کو گفتگو و شنید کےلئے بھیجا ، ورنہ یہ بھی خطرہ تھا کہ گفتگو کے بہانہ کمانڈر کو نقصان نہ پہنچا دیا جائے،شاہی محل کی چمک دمک سے بے نیاز صحابی رسول نے اپنا نیزہ گاؤ تکیہ پر گاڑھا اور رستم کے روبرو بیٹھ گئے۔ ان کے انداز درویش اور رعب اسلامی کی جھلک سے وقت کا سورما طاقت وسطوت کا سرچشمہ رستم متاثر ہوئے بغیر نہ رہا، سوال کیا کہ مدینہ منورہ سے اتنی دور آنے کا بنیادی سبب کیا ہے، کیا معاشی تنگدستی افلاس اور بھوک کے مارے یہاں کا رخ کئے ہو یا کوئی اور مقصد ! صحابی رسول ﷺ نے جو جواب دیا۔

وہ حکمت اور جرأت کی اعلیٰ مثال تین جملوں میں ساری غرض و غایت بتا دی ،ہم آئے ہیں تاکہ انسانوں کو انسانوں کی بندگی سے نکال کر لوگوں کے رب کی عبادت کا راستہ دکھائیں، دنیا کی تنگنائیوں سے نکال کر دنیا اور آخرت کی وسعتوں کی طرف رہنمائی اور مذہب کے نام پر لوگوں کے استحصال کے بجائے انہیں اسلام کے عدل وانصاف کی چھاؤں میں لے آئیں۔

اب تم یا تو دین اسلام قبول کر کے پر امن زندگی گزار و یا جزیہ ادا کرکے اپنی شکست تسلیم کرویا میدان میں فیصلہ کے لئے تیار ہو جاؤ ۔

نہایت بےباکی کے ساتھ تین جملوں میں سارا خلاصہ نچوڑ کر رکھ دیا ۔ یہ جملے دنیا کی سپر پاور کے دربار میں تن تنہا مخلص صحابی کی زبان سے اتنے موثر ثابت ہوئے کہ سپہ سالار کے ساتھ درباری بھی مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

رستم نے تحکمانہ لب ولہجہ فوراً بدلتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ ہی مسلمانوں کے ذمہ دار اعلی ہیں ؟

تجربہ کار ؍ زیرک صحابی نے برجستہ جواب دیا کہ میں تو فوج کا ایک سپاہی ہوں لیکن ہماری تہذیب اور روایات کے مطابق میرے فیصلہ کا تمام فوج بشمول سپہ سالا ر احترام کرے گی۔

اپنے اس حکیما نہ جواب سے سب ہی کو حیرانگی میں ڈال دیا کہ عام سپاہی کا یہ دبد بہ تو سپہ سالار کا انداز کیا ہوگا؟ نیز یہ کہ اس میٹنگ کے نتیجہ کا انہیں انتظار ہے، رستم نے اپنے گرد بیٹھے ہم نشینوں سے کچھ مشورہ کرکے چاہا کہ گفت وشنید کی مجلس کو طول دے ، کہا کہ ہم ضروری مشورہ کرکے جواب دیں گے، ہمیں وقت درکار ہے ۔

ربعی بنی عامر نے جواب دیا کہ ہم تین دن سے زیادہ مہلت نہیں دے سکتے اور چوتھے روز انتظار کے بغیر ہماری فوج پیش قدمی کر دے گی ۔ دوران مہلت آپ کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا جائے گا، گویا ہم اتنے تیار ہیں کہ جب چاہیں جنگی اقدام کر سکتے ہیں لیکن آپ کی درخواست پر مہلت دی جا ری ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شاندار کامیابی عطا فرمائی اور دنیا کی عظیم طاقت کا سورج مجاہدین اسلام کی حکمت عملی سے غروب ہو گیا، صحابی رسول کی گفتگو کا ایک ایک جملہ پر غور کیجیے کہ کیسے اعلیٰ جنگی حکمت اور تدبیر سے پر اور توکل کی شان جھلک رہی ہے ۔

٭٭٭

ہم وہ غلام بیعت ونسبت ہے آپ ؐ سے

جس میں نہیں ہے آپؐ سراسر رسولؐ پاک

وہ آئینہ نہیں ہے برابر رسول ؐ پاک

میرے لیے تو پیڑ ہرا بھی گھنا بھی آپؐ

میرا مکاں ہے دھوپ کے اوپر رسولؐ پاک

گیلی ہے میری خاک تو گردش میں چاک ہے

پیکر میں ڈھالئے مجھے چھو کر رسول ؐ پاک

دل میں اتر کے رہ گیا اترا جو آپؐ پر

اب کیا پڑھیں صحیفۂ دیگر ر سول ؐ پاک

پیاسے لبوں کو آپؐ سے دو گھونٹ کیا ملے

جچتا نہیں ہے کوئی سمندر رسول ؐ پاک

ہم وہ غلام بیعت ونسبت ہے آپؐ سے

ہم خاک چھانتے نہیں در در رسول ؐ پاک

میں آپؐ کے بغیر ادھورا تھا ہر جگہ

پورا ہوا ہوں آپؐ سے مل کر رسول ؐ پاک

چلنے لگا ہوں آپؐ کی انگلی کو تھام کر

گم ہو سکوں گا بھیڑ میں کیوں کر رسولؐ پاک

کب غیر مہر وماہ کے سِکّوں میں بک سکا

قیمت لگا چکا ہے بہت سر رسولؐ پاک

ڈاکٹر رؤف خیر حیدر آباد، دکن

٭٭٭

مولانا محمد ابراہیم میرپوری کے چچا زاد بھائی وفات پا گئے

ناظم اسلامک ریلیف برمنگھم برطانیہ مولانا محمد ابراہیم میرپوری کے حقیقی چچا زاد بھائی حاجی محمد اسحاق ولد حاجی فیروز دین 60 سال کی عمر میں کوٹلی آزاد کشمیر میں وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

مرحوم نیک وصالح اور خوش خلق تھے، بیوہ، سات لڑکیاں اور دو لڑکے پسماندگان میں شامل ہیں۔

الحمد للہ، نو بچوں کی شادی بیاہ سے مرحوم فارغ ہو چکے تھے، یہ دوسروں کے لیے سبق آموز بات ہے۔ یہاں برطانیہ میں امیر جمعیۃ مولانا شعیب احمد میرپوری، ناظم اعلیٰ قاری ذکاء اللہ سلیم، ناظم مالیات چوہدری افتخار احمد، مولانا عبد الہادی العمری، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، حاجی عبد الغفور، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور دیگر علمائے کرام و احباب نے مولانا میرپوری سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ

اللہ کریم مرحوم کو جنت الفردوس میں داخل فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔

آمین یا رب العالمین

٭٭٭

تبصرہ کریں