
عتبہ بن ربیعہ خدمت اقدس میں
سرداران قریش صحن کعبہ میں جمع ہیں، اسلام کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت ان کا موضوع بحث ہے ، کچھ طاقتور افراد عمر بن خطاب ، حمزہ بن عبد المطلب کے قبول اسلام نے انہیں پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، اب انہیں احساس ہو چلا کہ اسلام کا یہ چراغ پھونکوں اور دھمکیوں سے گل نہیں کیا جا سکے گا، لہٰذا طے پایا کہ گفت و شنید، رغبت و لالچ کا سہارا لیا جائے، انہوں نے اپنے ایک قابل فخر سپوت جس کی فہم و فراست ضرب المثل تھی، عتبہ بن ربیعہ کو دلفریب لالچ اور مکمل اختیارات دے کر بطور قاصد رسول رحمت ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ بڑے خاندان کا بڑا آدمی جملہ مشرکین کی نمائندگی کرتے ہوئے خدمت عالیہ میں پہنچ کر با ادب بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ ذاتی طور پر اس قاصد کے خاندانی پس منظر اور اس کی صلاحیتوں سے بخوبی واقف تھے، آپ اس قاصد کی طرف متوجہ ہوئے ، وہ اصل عنوان پر گفتگو سے پہلے آپ ﷺ کے رتبۂ بلند اور مقام عالی کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کیا، اے میرے بھتیجے! یہ دل موہ لینے والا انداز ہے، خاندان وقبیلہ میں آپ کا جو مقام ہے، ہمیں اس کا اعتراف ہے لیکن آپ کی نئی دعوت اور انوکھے پیغام توحید نے ہمارے لیے بڑی مشکلات پیدا کر دی ہیں، اس پیغام کے سبب آپ نے قومی یگانگت کو سخت نقصان پہنچایا ، کچھ نا سمجھ بہکاوے میں آگئے، آپ نے ان کی نظروں میں ان کے آبائی عقائد و نظریات کو بے وقعت کر دیا ، مورتی پوجا کی تکفیر کی ۔ان سب باتوں کے باوجود آپ کے ذاتی اوصاف کے اب بھی ہم قائل ہیں ، لہٰذا میری گزارش اور پیشکش پر غور کیجئے، رسول حکیم ﷺ نے اس نمائندہ خصوصی کی بات سنی اور تکریم کے ساتھ فرمایا کہ اے ابو الولید !
یاد رہے عرب کلچر میں اس طرح کا اسلوب کہ نام کے بجائے کنیت سے خطاب مخاطب کی عزت افزائی کی علامت ہے، کہا کہ تم بلا جھجک اپنی بات کرو، میں ہمہ تن گوش ہوں ! قاصد نے بھی ادب و تکریم کا لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ بھتیجے! اگر آپ کی اس دعوت کا مقصد حصول زر ہے تو ہم آپس میں کوشش کر کے اس قدر سیم وزر اکٹھا کرکے آپ کے قدموں میں نچھاور کر دیتے ہیں کہ آپ ہم میں سب سے زیادہ دولتمند کہلائیں ، یا اس دعوت کے ذریعہ آپ اپنی سرداری چاہتے ہیں تو ہم آپ کو بلا شرکت غیرے تادم زیست اپنا لیڈر ورہنما تسلیم کرلیتے ہیں، یا آپ پر ان دیکھی آفتوں اور بلاؤں کا حملہ ہوا ہے تو ہم ماہرین سے علاج کروا دیتے ہیں۔ آپ ﷺ اطمینان کے ساتھ پوری بات سنتے رہے ، جب قاصد خود ہی رک گیا، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ آئے ابو الولید ! آپ نے اپنی بات مکمل کرلی، اس نے ہاں میں جواب دیا، تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اب میری بات غور سے سنو ، قاصد نے وعدہ کیا اور پورے انہماک کے ساتھ متوجہ ہوا، آپ ﷺ نے بسم الله الرحمن الرحیم پڑھ کر سورہ فصلت کی ابتدائی چند آیات تلاوت فرمائیں، تلاوت کا اسلوب نبوی اور سامع ہمہ تن گوش ہو کر سن رہا ہو تو اس کی تاثیر کے کیا کہنے! تلاوت کرتے ہوئے جب آپ ﷺ سابقہ بعض قوموں عاد، ثمود اور ان پر آنے والے عذاب کے تذکرہ تک پہنچے، قاصد بے چین ہو کر اپنا ہاتھ خوف کے مارے رسول حکیم ﷺ کے منہ پر رکھ دیا کہ رحم کیجیئے ،اپنی قوم پر کہ کہیں قریش پر عذاب ہی نہ آجائے، پھر بڑی تیزی کے ساتھ مجلس سے اٹھ کھڑا ہوا اور سرداران قریش جو منتظر بیٹھے ہوئے تھے۔ان سے کہا کہ محمد ﷺ کو ان کے حال پر چھوڑنے میں ہی ہمارے لیے عافیت ہے، اس عقل مند قاصد سے انہیں ایسے جواب کی توقع نہیں تھی ۔
شور مچاکہ تم پر بھی ان کے جادو کا اثر سرایت کر گیا، ایک ہی مجلس میں تم بہک گئے ، اس نے کہا کہ جو کلام میں نے سنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ نہ وہ جادو ہے، نہ ہی شاعری اور نہ ہی دیوانگی یا کہانت کا اثر ہے ، میری عقل و فہم سے بہت بلند و بالا کلام ہے ۔
آپ ﷺ نے مذکورہ آیات کی تلاوت کے ذریعہ آنے والے قاصد کے اعتراضات اور پیشکش کا جواب بھی دے دیا اور دعوت حق بھی پیش کردی کہ میری یہ کوشش حصول دولت یا جاہ و منصب کے لیے نہیں بلکہ جو کچھ میں لوگوں کو پیش کر رہا ہوں وہی احکام مجھ پر بھی لاگو ہوتے ہیں، اسی توحید پر میرا ایمان ہے اور اسی پیغام اور ہدایات کا میں بھی پیروکار ہوں، یہ کلام حق کی بیماری یا جسمانی عوارض كے سبب نہیں، اللہ رب العالمين کی مہربانی اور لطف و کرم کا نتیجہ ہے ۔ آپﷺ نے جو اسلوب اپنایا اور موقع محل کے اعتبار سے جو آیات تلاوت فرمائی۔ وہ حکیمانہ طرز کی اعلیٰ مثال ہے کہ تلاوت ختم کرنے سے پہلے ہی نمائندہ خصوصی پر اتنا اثر ہوا کہ وہ گھبرا گیا کہ ہماری اس نافرمانی کے سبب قوم عاد وثمود پر آنے والے عذاب ہی جیسا کوئی عذاب قریش پر بھی نازل نہ ہو جائے ، اپنی پیشکش کے بجائے اپنی قوم کے لیے رحم کی استدعا کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ (تفسیر ابن کثیر)
سیرت کے اس اہم واقعہ میں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ مخالفین و معاندین کے ساتھ آپ ﷺ کی گفتگو کا انداز کیا تھا ، آپ ﷺ نے قاصد کی جانب سے آپ کی ذات پر جو حملہ کیا گیا اور جو پیشکش کی گئی و غیره و غیره ان جزئیات کی وضاحت میں وقت ضائع کرنے کے بجائے توجہ اصل نکتہ اور پیغام پر مرکوز رکھی ذیلی باتیں خود اپنے آپ ہی حل ہو گئیں ۔
غیر مہذب حرکت کی اصلاح کا نبوی اسلوب
رسول اکرمﷺ صحابہ کرام کے ساتھ مسجد نبوی میں تشریف فرما ہیں، ایک دیہاتی شخص شہری تہذیب سے ناواقف، دینی مسائل سے بے خبر مسجد نبوی میں داخل ہوا، ایک طرف ہو کر مسجد ہی میں پیشاب کرنے لگا، اس کا یہ فعل ہر اعتبار سے غلط تھا کہ مقدس ترین سرزمین پاکیزه ترین مجلس کو وہ پیشاب کی نجاست سے آلودہ کر رہا تھا، اس کے خلاف صحابہ کی ناگواری حق بجانب تھی جو اس اجنبی کو روکتے ہوئے دوڑ پڑے، رسول رحمت ﷺ نے اس دیہاتی سے زیادہ صحابہ پر توجہ دی کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو کہ وہ اپنا پیشاب روکنے کی کوشش نہ کرے ۔ صحابہ اس ناگوار حرکت کے با وجود چپ ہو رہے، وہ اجنبی جب اپنی حاجت سے فارغ ہو گیا تو آپ ﷺ نے اسے اپنے قریب بلا کر ایسے حکیمانہ انداز سے سمجھایا کہ یہ مساجد ہیں، بول و براز، نجاست یہاں کسی لحاظ درست نہیں ، یہ ذکر واذکار، صلاۃ اور تلاوت قرآن وغیرہ کے لیے ہیں۔ دوسری طرف آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو اس نجاست کی صفائی کا طریقہ بتایا کہ ایک بالٹی پانی وہاں بہا دو، وہ جگہ پھر سے پاک و صاف ہو جائے گی۔ نو وارد دیہاتی نے کہا کہ میری اس حرکت پر رسول رحمت ﷺ نے میری نہ زجر و تو بیخ کی اور نہ ہی سرزنش کی۔ فَلَمْ يُؤَنِّبْ، وَلَمْ يَسُبَّ (سنن ابن ماجہ: 529)
آپ ﷺ کے مشفقانہ اسلوب کا اس پر اتنا گہرا اثر ہوا اس اعرابی کی زبان سے بے ساختہ یہ دعا نکلی کہ اے اللہ مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما، محمد ہمارے ساتھ اس مہربانی میں کسی اور کو شامل نہ کر، اس دعا پر بھی آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے نکیر فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان حد بندیوں سے بلند تر ہے، ان کے خزانوں میں کمی نہیں، تم کیوں رحمت پروردگار کو صرف دو آدمیوں تک محدود کرنا چاہتے ہو ۔
“لقد حجرت و اسبعا”
آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو اس اعرابی کے خلاف کچھ کرنے سے منع کیا۔
اس کے دو اسباب امام نووی نے ذکر کئے ہیں:
ایک تو خود اس شخص کو کسی بھی ضرر سے بچانا تھا، کیونکہ پیشاب کرتے ہوئے اچانک روک لیا جائے تو بسا اوقات اس کے مضر اثرات اس پر پڑ سکتے ہیں۔
اور دوسرا سبب اس کے پیشاب مکمل کر لینے سے مختصر جگہ آلودہ ہوگی اگر اس کو روکنے کی کوشش کی جائے اور وہ نہ رکے تو اس سے مزید گندگی پھیلے گی ، زیادہ جگہ بلکہ خود اس دیہاتی کے لباس اور بدن کا زیادہ حصہ نجاست سے متاثر ہو سکتا تھا۔
اس واقعہ میں کئی سبق آموز پہلو ہیں، ایک نا پسندیدہ حرکت پر آپ ﷺ نے جو حکیمانہ اسلوب اختیار فرمایا اور اس حکمت کے جو اثرات مرتب ہوئے، وہ داعیان دین اور ذمہ داروں کے لیے بہت ہی توجہ طلب ہیں۔ ( صحیح بخاری: 219؛ صحیح مسلم : 285)
اہم امور میں رازداری کی حکمت
رمضان کا مہینہ سن 8 ہجری، دس ہزار مجاہد صحابہ خاتم البنين ﷺکے ساتھ عازم مکہ مکرمہ ہیں، اس اہم ترین معرکہ کے لیے تیاری کچھ ایسی کی گئی کہ اکثر صحابہ کو بھی روانگی سے پہلے اندازہ نہیں ہو سکا کہ قصد کہاں کا ہے۔ مکہ کی جانب روانگی سے قبل صحابہ کرام کا ایک مختصر دستہ مخالف سمت بھیجا گیا ، تاکہ مخبری کرنے والے غلط فہمی ہی میں رہیں کہ روانگی فلاں علاقہ پر چڑھائی کے لیے شاید ہے، اس وقت سمت معلوم کر کے ہی منزل کا اندازہ کیا جاتا ، پھر آپ ﷺبجانب مکہ روانہ ہوئے اور یہ خصوصی دعا فرمائی:
اللهم خذ العيون والأخبار عن قريش حتى نبغتها في بلادها
کہ بار الٰہی، ہماری روانگی اور ارادہ سے قریش کے جاسوس اور اہل مکہ کو بے خبر رکھیو۔
قریب پہنچ کر مقام کدید کے متصل وادی فاطمہ میں مکہ کی سرحد پر پڑاؤ ڈالا اور آپ ﷺنے حکم دیا کہ رات ہر شخص اپنا چولہا الگ سے جلائے، دس ہزار مجاہدین نے جب اپنے اپنے حصہ کی آگ جلائی تو صحرائی علاقہ روشنی سے بھڑک اٹھا ، شہر مکہ کے اطراف و اکناف مشرکین انجا نے خطرہ سے بے چین تھے، انہیں معلوم تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کی ، اس کا خمیازہ کسی بھی وقت بھگتنا ہوگا اوران کے ذمہ دار چاروں طرف نظریں لگائے ہوئے تھے ، جب اس غیر متوقع آگ کو دیکھا تو ان کے دل ویسے ہی ڈوب گئے کہ یہ کیا ہو سکتا ہے ۔ ابو سفیان ان لوگوں میں تھے جو منڈلاتے خطرات سے پریشان تھے، جب دور سے آگ دیکھی تو خدشہ قوی تر ہو گیا کہ کہیں یہ مسلمانوں کی یلغار ہی نہ ہو، اگر اتنی تعداد اور اس درجہ کی تیاری کے ساتھ وہ مکہ پر حملہ آور ہوئے تو ہمیں خس و خاشاک کی طرح بہا کرلے جائیں گے، کہیں ویرانے میں روساء قریش کی گفتگو جاری تھی، ادھر سے عم نبی ﷺ سیدنا عباس اپنی سراغرسانی کرتے ہوئے آدھمکے ، رات کی تاریکی کے سبب ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پا ر ہے تھے، لیکن ابو سفیان کی آواز پہچان گئے، اور بتایا کہ مشرکین قریش کی شامت صبح تڑ کے ان کے سر منڈلا رہی ہے۔ ابو سفیان جن کا دل ڈوبا جا رہا تھا وہ اس آواز کو پہچانتے ہوئے از راہِ ترحم دریافت کیا کہ اب تمہارے لیے راہ نجات کیا ہے، فرمایا: سوائے اسلام کے کہیں امن نہیں مل سکتا، پھر نہایت پھرتی کے ساتھ انہیں اپنی سواری پربٹھا کر بچتے بچاتے رسول رحمت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، قبل اس کے کہ اس بڑے شکار پر کسی کی نظر پڑے، ورنہ اس کی گردن اتاری جاسکتی ہے، بارگاہ نبوی میں ایک بڑا مجرم، سردار مکہ سالار مشرکین نہایت عجز وانکساری، شکست اور ندامت کے ساتھ سرنگوں کھڑا تھا، رحمت عالم ﷺ کے سامنے اس کی اسلام دشمنی اور سرکشی کی ساری داستان تھی، آپ ﷺنے اپنے چچا کو حکم دیا، اس کو تم اپنے خیمہ میں رکھو، صبح سویر ے لے آنا، جانے رات کیسے بیتی، حسب حکم صبح سویرے اس شکار کو لیے عم رسول ﷺ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے تو آپﷺ نے نہ اس پر تلوار چلائی اور نہ ہی کسی کو اس کا حکم دیا بلکہ اس نازک موقع پر دعوت اسلام پیش کی کہ کیا قبول حق کا وقت ابھی نہیں آیا، ابوسفیان نے قبول اسلام کا اقرار کیا، پھر اس نو مسلم کو اسلامی فوج کی ایسی گزرگاہ پر کھڑا کیا ہو، جہاں سے وہ لشکر اسلامی کی سطوت و عظمت کا مشاہدہ کر سکے، ترتیب شده پروگرام کے مطابق مجاہدین الگ الگ دستوں میں اپنے اپنے لیڈر کے ساتھ گزرنے لگے ، ابو سفیان ہر گذرنے والے کی بابت دریافت کرتے، عم نبی ﷺ سے کہ یہ کون ہے؟ بالآخر مختلف انصار و مہاجرین کے حصار میں رسول اللہ ﷺ نمودار ہوئے ، ابوسفیان نے استفسار کیا کہ یہ کون ہیں، کیونکہ جنگی لباس کی وجہ سے شناخت نہیں ہو سکتی تھی، جب بتایا گیا کہ رسول رحمت ﷺ کی ذات با برکت ہے، نبوت کی عظمت اور آپ کی شان کی جھلک دیکھی تو ابو سفیان نے صدق دل سے توحید کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی صداقت کا پھر سے اعتراف کرتے ہوئے شہادتین کا اقرار کیا لیکن ابوسفیان کے قبول اسلام کا اشتہار نہیں کیا گیا اس میں بڑی حکمتیں پنہاں تھیں ۔
شہر مکہ میں داخلہ کے لیے آپ ﷺ نے جن دستوں کے لیے جو راستے متعین فرمائے تھے، ان ہی راستوں سے وہ مسجد حرام کا رخ کر رہے تھے، یوں سارا شہر مجاہدین کے نرغے میں تھا، عین موقع پر اعلان عام کیا گیا جو مسجد حرام میں داخل ہو، اسے امن ہے اور جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو اسے امن ہے۔
«من دخل دار أبي سفيان فهو امن، ومن دخل المسجد فهو امن، ومن أغلق بابه فهو امن»
اس کٹھن اور نازک موقع پر یہ اعلان مشرکین مکہ کو مزید الجھن میں ڈال دیا کہ کیا سردار مکہ ابوسفیان نے اسلام قبول کر لیا، اگر وہ اس دین میں داخل ہو چکا ہے تو ہم اس کے مخالف کیوں ؟ اور مسلمان نہیں ہوا تو اس کے ساتھ یہ خصوصی رعایت کیوں برتی جا رہی ہے کہ پروانہ امن اسے دیا جا رہا ہے، جو مسجد حرام میں داخل ہو اور اسے بھی جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو، کیا دامن اسلام میں عفو و در گذر کی اتنی وسعت ہے کہ مخالف اسلام سردار مکہ اور مسلمانوں کے خلاف لڑی جانے والی کئی جنگوں کے سالار کے ساتھ بھی یہ امتیازی سلوک اور اعزاز ۔
یہ رسول رحمت ﷺ کی جنگی حکمت ہی کا نتیجہ تھا کہ دنیا کے مقدس ترین علاقہ کی فتح میں باقاعدہ لڑائی کی ضرورت ہی نہیں پیش آئی، بعض مشرکین کی نادانی کے سبب مضافات میں کچھ معمولی جھڑ پیں ہوئیں اور قوت آزمائی کا انہیں نقصان اٹھانا پڑا ، ان چند اموات کے علاوہ نہ کسی کا جانی نقصان اور نہ ہی مالی نقصان ہوا ، نسبتاً زیادہ مشکل مرحلہ خندمہ پہاڑی (مکہ میں داخلہ کا ایک پہاڑی راستہ ) پر متوقع تھا وہاں چند ماہر جنگجو جمع تھے ، دوسری طرف مسلمانوں کے دستہ کی کمان خالد بن ولید کے سپرد تھی، اس مورچہ پر مخالفین کی جس انداز سے پسپائی ہوئی، اس کو مشرکین کا مشہور بہادر حما س بن قیس جس کی جنگی مہارت کے سب معترف تھے، اس کے اشعار میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، وہ مورچہ سے اپنے گھر پہنچ کر بیوی سے کہا کہ دروازہ بند کر دو،عرب زمانہ جاہلیت کی پرودہ خاتون اسے اپنے بہادر شوہر کا یہ بزدلانہ جملہ باعث عار لگا، اتنا دلیر اس قدر خوفزدہ اور بزدل کیسے ؟
اس نے مجاہدین کا جو نقشہ کھینچا، اشعار میں وہ خود عربی ادب و بلاغت میں مثال بن گئے، اگر تم خندمہ پہاڑی کے مورچہ پر ہو تیں تو بچشم خود مشاہده کرلیتیں کہ یہ کتنا ہو لناک منظر تھا، جب صفوان اور عکرمہ جیسے بہا در پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے ، ہمارا سامنا ایسی بے نیام تیز چمکدار تلواروں کے ساتھ ہوا جن کی ضرب سے بدن کا جوڑ جوڑ متاثر اور کھو پڑیاں اڑ رہی تھیں ، ایسی یلغار جس کی جھنجھناہٹ شیروں کی دھاڑ سے زیادہ خوفناک تھی کہ اس سے سانسیں اکھڑی جا رہی تھیں۔
پھر آپ ﷺ کا میاب اور فاتح سپہ سالار کی حیثیت سے صحن کعبہ میں جلوہ افروز ہوئے اور آپ کے سامنے بڑے بڑے سرکش مخالفین اسلام جمع تھے ، آپ ﷺ کا ایک حکم ان سب کی زندگیوں کا خاتمہ کر سکتا تھا، اس دور کے مروجہ قانون حرب کے مطابق اس کا پورا حق آپ کو تھا لیکن دنیا نے ایسے کامیاب سپہ سالار کو کبھی نہیں دیکھا، جب آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ تم لوگ کیا توقع کر رہے ہو، انہوں نے بہ ایک زبان کہا: خیر و بھلائی کی ، آپ ایک کریم النفس بھائی اور مشفق و مہربان بھائی کے فرزند ہیں، آپ ﷺ نے اپنے بھائی سیدنا یوسف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں پنے سوتیلے بھائیوں کے لیے جو اعلان معافی کیا تھا کہ تم پر کوئی گرفت نہیں تم آزاد ہو ۔ میں بھی تمہارے لیے آزادی کا اعلان کرتا ہوں ۔
﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ﴾ (سورہ یوسف: 92)
اس اعلان معافی کا یہ نتیجہ نکلا کہ مشرکین کی ایک بڑی تعداد نے و ہیں دین اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا، اس رحم و کرم اور پیکر لطف و عنایت کو چھوڑ کر ہم جائیں بھی کدھر !
فتح مکہ تک کا سارا واقعہ حکمت و بصیرت اور دوراندیشی کی تابناک مثال ہے۔
تبصرہ کریں