دلوں کی پاکیزگی اور نگہداشت۔ حافظ محمد عمر فاروقی

دل کی سلامتی، پاکیزگی، صفائی اور خلوص ایک ربانی مقصد اور شرعی تقاضا ہے۔ جب بندے کا دل صاف اور پاک ہوتا ہے تو وہ بہترین انسانوں میں شمار ہوتا ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! کون سا انسان افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

”ہر صاف دل اور سچی زبان والا۔“

صحابہ نے کہا: ہم سچی زبان والے کو تو پہچانتے ہیں، صاف دل سے کیا مراد ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:

«هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ ، لَا إِثْمَ فِيهِ ، وَلَا بَغْيَ ، وَلَا غِلَّ ، وَلَا حَسَدَ»

”ایسا دل (‏‏‏‏جو اللہ سے) ڈرنے والا اور صاف ہو، ا‏‏‏‏س میں گناہ، بغاوت، خیانت اور حسد نہ ہو۔“ (سلسلہ صحیحہ: 2539)

اسلام نے انسان کی کسی چیز پر اتنا زور نہیں دیا جتنا اس کے دل پر دیا ہے۔ یہ دل ایمان کا گھر ہے، سچائی اور اخلاص کا مقام ہے، اور دل و زبان ہی انسان کے سب سے اہم اعضا ہیں۔ ایمان کی کیفیات جیسے خوف، امید، توکل اور محبت کا مرکز بھی یہی دل ہے۔

اعمال کی قبولیت اور ان کی فضیلت دل کی سچائی، اخلاص اور ایمان پر منحصر ہے۔ جب دل ان اوصاف سے خالی ہوتا ہے تو عمل بے فائدہ ہو جاتا ہے، عبادت قبول نہیں ہوتی اور بندے کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

اسی لیے دل انسان کا سب سے اہم عضو ہے۔ جب یہ صحیح ہوتا ہے تو پورا جسم صحیح رہتا ہے، اور جب یہ خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔

سیدنا نعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ»

’’جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہوتا ہے تو پورا جسم درست ہوتا ہے، اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہوتا ہے۔ خبردار! وہ دل ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 52)

سیدنا ابو ہریرہ نے فرمایا:

القلب مَلِكٌ والأعضاء جنوده، فإذا طاب الملك طابت جنوده، وإذا خبث الملك خبثت جنوده

’’دل بادشاہ ہے اور اعضا اس کے سپاہی ہیں، جب بادشاہ ٹھیک ہوتا ہے تو سپاہی بھی ٹھیک ہوتے ہیں، اور جب بادشاہ خراب ہوتا ہے تو سپاہی بھی خراب ہو جاتے ہیں۔‘‘ (مصنف عبد الرزاق: 11؍221)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں:

“القلب هو الأصل، فإذا كان فيه معرفة وإرادة، سرى ذلك إلى البدن بالضرورة، لا يمكن أن يتخلف البدن عما يريده القلب.”

’’دل ہی اصل بنیاد ہے۔ جب دل میں علم اور ارادہ ہوتا ہے تو اس کا اثر لازمی طور پر جسم پر بھی پڑتا ہے۔ جسم دل کی خواہش کے خلاف نہیں چل سکتا۔‘‘

اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ»

’’جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہوتا ہے تو پورا جسم درست ہوتا ہے، اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہوتا ہے۔ خبردار! وہ دل ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 52)

امام ابن رجب ﷫ فرماتے ہیں:

الأصل في التقوى والفجور هو القلب، فإذا بر القلب واتقى، برت الجوارح، وإذا فجر القلب فجرت الجوارح

’’تقویٰ اور فجور کی اصل دل ہے۔ جب دل متقی ہوتا ہے تو اعضا بھی متقی بن جاتے ہیں، اور جب دل میں فجور ہوتا ہے تو اعضا بھی فجور پر چلتے ہیں۔

جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

التَّقْوَى هاهُنا. ويُشِيرُ إلى صَدْرِهِ

’’تقویٰ یہاں ہے اور اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔‘‘ (جامع العلوم والحکم؛ صحیح مسلم: 2564)

دل اللہ کا مرکزِ نظر ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ»

’’اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:6543)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ﴾

’ اللہ کو قربانی کے جانوروں کا نہ تو گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ (سورۃ الحج: 37)

قیامت کے دن جنت میں وہی داخل ہوگا جس کا دل اللہ کے لیے خالص اور پاکیزہ ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ غَيْرَ بَعِيدٍ ‎0 هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٍ 0‏ مَّنْ خَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ﴾

’’یہ ہے جس کا تم سے وعده کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا اور پابندی کرنے والا ہو ۔ جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ والا دل لایا ہو۔‘‘ (سورۃ ق:31-33)۔

اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم کی دعا کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

‎﴿وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ 0‏ يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ‎0‏ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾

’’مجھے اس دن رسوا نہ کرنا جب سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے، جس دن نہ مال فائدہ دے گا، نہ بیٹے، مگر وہی کامیاب ہوگا جو اللہ کے پاس پاکیزہ دل لے کر آئے گا۔‘‘ (سورۃ الشعراء:87-89)

سلیم دل وہ ہے جو ہر طرح کے شرک، شکوک اور شبہات سے پاک ہو۔

اسی لیے شیطان دل کو خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ دل کو مفید چیزوں سے خالی اور نقصان دہ چیزوں سے بھر دے۔ اس لیے دل کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اسے شیطان کے وسوسوں سے بچانا بھی ضروری ہے۔

دلوں کی کیفیت اور تقلب

دل کی حالت بہت تیزی سے بدلتی ہے، جیسے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

« لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ أَشَدُّ انْقِلَابًا مِنَ الْقِدْرِ إِذَا اجْتَمَعَتْ غَلْيًا »

’’ابن آدم کا دل اس قدر تیزی سے بدلتا ہے جیسے کہ کھولتا ہوا پانی۔‘‘ (مسند احمد: 23816)

سیدنا عبد اللہ بن عمرو روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ»

’’تمام بنی آدم کے دل اللہ کے دو انگلیوں کے درمیان ہیں، اللہ جیسے چاہے ان کو پھیرتا ہے۔‘‘

اسی لیے نبی کریم ﷺ کثرت سے دعا فرماتے تھے:

«اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ»

’’اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔‘‘ (صحيح مسلم: 2654)

دل کی نگرانی اور محاسبہ

ہر مومن پر لازم ہے کہ اپنے دل کی نگرانی کرے اور یہ دیکھے کہ اس نے اپنے رب سے ملاقات کے لیے کیا تیاری کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ‎0‏ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴾

’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اس نے انھیں ان کی جانیں بھلوا دیں، یہی لوگ نافرمان ہیں۔ ‘‘ (سورۃ الحشر: 18۔19)

نگرانی دل کی پاکیزگی کے لیے ضروری ہے اور یہ مسلسل محاسبے کے بغیر ممکن نہیں۔

سیدنا عمر بن خطاب نے فرمایا:

“حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا، وزنوا أعمالكم قبل أن توزن عليكم، وتزينوا للعرض الأكبر ﴿يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لا تَخْفَى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ﴾، وإنما يخف الحساب يوم القيامة على من حاسب نفسه في الدنيا”.

’’اپنے نفس کا محاسبہ کرو، قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے اور اپنے اعمال کا وزن کرو، قبل اس کے کہ وہ تم پر وزن کیے جائیں اور اُس عظیم پیشی کے دن کے لیے خود کو تیار کرو۔’’جس دن تم سب اللہ کے حضور پیش کیے جاؤ گے اور تمہاری کوئی بات چھپی نہ رہے گی۔‘‘ قیامت کے دن حساب اسی کے لیے آسان ہوگا جس نے دنیا میں اپنے اعمال کا محاسبہ کیا۔‘‘ (ابن ابی الدنیا فی محاسبۃ النفس: ص 22)

اے اللہ! ہمیں پرہیزگار، پاکیزہ دل، صاف نیتیں اور پاکیزہ نفوس عطا فرما۔ ہمیں اپنے ان خاص بندوں میں شامل فرما جو تیرے سب سے قریب ہوں، اور ہمیں اس دن کی رسوائی سے بچا جب سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، جس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، سوائے اس کے جو تیرے سامنے پاک دل کے ساتھ حاضر ہوگا۔ آمین

٭٭٭

تبصرہ کریں