عیدالفطر اللہ سے حصول انعام کا دن ہے۔ مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

عیدالفطر کا اصل پیغام یہ ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے جس ہدایت سے نوازا ہے، اس کی بڑائی و کبریائی بیان کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کیا جائے ۔

عید کا روز اللہ کے ہاتھ سے انعام واکرام سے سرفراز کیے جانے والا مبارک و متبرک دن ہوتا ہے اور یہ ہر اس شخص کے مقدر میں، ہے جو اللہ کی رضاء جوئی میں رمضان کے شب وروز گزارے ہوں گے؛ دن کا روزہ رات کا قیام، جھوٹ وغیبت سے پرہیز ، لوگوں کو ایذا نہ پہچانا ریاکاری اور فحش کلامی سے پرہیز وغیرہ یہ سب، مؤمنانہ اعمال کہلاتے ہیں اور اسی طرح رات دن اللہ کی یاد کے لیے کمربستہ رہا اور پورے صبر واستقلال کے ساتھ بندگی رب بجالانے کی سعی کی، لغویات سے پرہیز کرتے ہوے نفس کی شرارتوں پر قابو پاکر، دوسرے بندگان خدا کو تکلیف پہنچانے سے مجتنب رہا اور دورکعت نماز عیدالفطر واجب اداکرنے اپنے گھر سے اللہ تعالیٰ کی بڑائی وکبریائی کا نعرہ بلند کرتے ہوئے عید گاہ پہنچ کر اپنے رب کے سامنے سجدے کرتے ہوئے اللہ کی طرف سے فرشتوں کی گواہی میں مغفرت کا مستحق بن گیا۔

عید حقیقت میں اس شخص کی ہے جو ہمیشہ احکامات الٰہی کی پابندی کے ساتھ روزے رکھے، رسول اکرمﷺ کے فرامین کے مطابق اس ماہ مبارک کے ساعتوں کی قدر جانی ہو۔

ہماری عید اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک کہ ہم اپنے غریب و مسکین اور محتاج بھائیوں اور رشتہ داروں کو ’’ تحفہ عید ‘‘ کے باوقار عنوان سے، عطیات وصدقات خاص طور پر فطرہ ادا کرتے ہوئے،اپنی خوشی میں انہیں بھی بھرپور شامل نہ کرلیں۔ اللہ نے ہمیں جس عظیم کتاب الفرقان (قرآن مجید) عطا فرمایا ہے، اب آئندہ زندگی تمام اس کے مطابق عمل کرنے اور اس واضح تعلیمات پر مشتمل کتاب اور سنت رسول ﷺ کے عین مطابق ہم اپنی زندگی گزاریں اور اس کی تعلیم کو دوسروں تک پہنچانے کی جدوجہد کرنا ماہ رمضان کی عظیم تربیت کا نتیجہ کہلاتی ہے ، اس پر ہم بھر پور توجہ دیں گے تو رمضان کے فیوض وبرکات ہماری زندگی سے ظاہر ہونے لگیں گے اورہم اس پرقائم رہ سکتے ہیں۔

لہٰذا رمضان میں ہمیں جوتربیت تقوی وطہارت کی حاصل ہوئی ہے اس کی قدر کرتے ہوئے ہم خود اس پر چلیں اور اپنے اہل عیال کو بھی اس پر چلانے کے لیے آج ہی سے سعی وجہد شروع کردیں۔

اور دنیا میں جہاں بھی محض مسلمان ہونے کی وجہ سے لوگ ستائے جارہے ہیں شہید ہورہے ہیں، جن کے گھر بار سب کچھ برباد کردیئے جارہے ہیں ان کے شہروں اور شہریوں کو جو تباہ وتاراج کیا جارہا ہے ہم ان کے غم وتکلیف میں شامل ہوں اور جو لوگ ان کی تکلیف دور کرنے کی قوت رکھتے ہیں پھر بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں انہیں ایمانی غیرت دلائیں اور ہم کم ازکم ان مظلوموں کے لیے اللہ سے فتح ونصرت و رحم کرم کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے حال پر رحم وکرم فرمائے۔

رمضان کے روزے ہمیں بھوک پیاس گرمی کی شدت کا احساس دلاتے ہیں، ہم غور کریں ہمارے یہ معصوم ومظلوم بھائیوں پر کیا گزر رہی ہوگی، بچے عورتیں بوڑھے بھوک پیاس سے بلک رہے ہیں،ایک ایک روٹی حاصل کرنے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں زخمی ہورہے ہیں، چھوٹے بچے دودھ سے محروم ہیں تو

دوسری جانب بیمار وشدید زخمی لوگ علاج سے محروم ہیں ان کے غم میں برابر کے شریک ہوتے ہوئے عید الفطرسادگی سے منائیں یہ کم سے کم اسلامی حسن وانسانی احساس کا مظہر ہے۔

اللہ أکبر، اللہ أکبر، اللہ أکبر، لا إله إلا اللہ واللہ أکبر اللہ أکبر وللہ الحمد

٭٭٭

ڈاکٹر ثاقب کے بھانجے کو صدمہ

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب کے بھانجے محمد عمر دہلوی کی اہلیہ قضائے الٰہی سے وفات پا گئیں۔

پسماندگان میں والد حاجی محمد خان، بھائی مولانا یوسف العمری بہن بہنوئی اور دیگر اہل خاندان سوگوار ہیں، مرحومہ جامعہ سمیہ للبنات کی فاضلہ عالمہ تھیں، دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ گئیں ہیں، حیدر آباد دکن میں علاج ہو اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔

اللہ کریم سارے اقرباء و احباب کو صبر جمیل دے اور مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ جگہ دے۔ آمین یارب العالمین

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

٭٭٭

تبصرہ کریں