
3 ستمبر کی بدھ صبح 9 بجے کی پرواز سے براہ ایمسٹیر ڈام فن لینڈ کے لیے روانہ ہوا۔ برمنگھم سے براہ راست کوئی پرواز نہیں تھی ، ہولینڈ ایمسٹیر ڈام ائیر پورٹ ایک گھنٹہ بعد پہنچ گئے ، امیگریشن کے مراحل سے گزرنے کے لیے یہاں طویل قطار میں لگنا پڑا ، برطانیہ جب سے یورپی یونین سے نکلا، بر طانوی مسافروں کو ان مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ورنہ پہلے آسانیاں تھیں، لمبی قطار کو دیکھ کر ہم نے چاہا کہ اس کاؤنٹر کا رخ کیا جائے، جس پر یورپی پاسپورٹ ہولڈرز کی تختی آویزاں تھی، کیونکہ ابھی تک میرا پاسپورٹ وہی یورپین یونین کا ہے، نگرانی پر متعین آفیسر نے پاسپورٹ دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا کہ اب آپ کے لیے یہ لائن نہیں آپ کا ملک اس لائن سے نکل چکا ہے لہٰذا عام لائن ہی سے آئیے، ایمسیٹرڈام ائیر پورٹ KLM ائیرلائنز کا مرکز ہے، اس ہوائی اڈہ کو بڑی تعداد میں مسافر استعمال کرتے ہیں۔ لائن بہت طویل تھی لیکن تیزی سے متحرک تھی، کاؤنٹر پر پاسپورٹ کا رسمی انداز میں دیدار کر کے آگے بڑھا دیا گیا۔ یہاں تین گھنٹوں کا وقفہ تھا، فن لینڈ کی پرواز کے لیے، میں نے احتیاطاً ایسا لنک اختیار کیا تھا کہ اگر ائیر پورٹ پر تا خیر ہو تو اگلی پرواز کے لیے پریشانی نہ ہونے پائے لیکن یہ ساری کاروائی تقریبا چالیس منٹ ہی میں مکمل ہو گئی ، مطلوبہ گیٹ سے وقت مقررہ پر فن لینڈ کے لیے ہم روانہ ہو گئے، جہاز میں اکا دکا مسافروں کے علاوہ سب ہی سفید فام تھے۔ جہاز کے حرکت کرتے ہی اعلان کیا گیا کہ ایک مسافر کو مونگ پھلی سے الرجی ہے، لہٰذا اگر کسی مسافر کے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء میں مونگ پھلی کی آمیزش ہو تو براہ کرم وہ پیکٹ نہ کھولیئے کہ مبادا اس مسافر کو تکلیف نہ پہنچے۔ یعنی ایک مسافر کو ناگہانی پریشانی سے بچانے کے لیے تمام سے احتیاط برتنے کی اپیل کی جارہی ہے ، یہاں مجھے رسول اللہ ﷺ کی ہدایت یاد آئی کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ دوران سفر نقل و حرکت میں قافلہ کے کمزور شخص کے مطابق پروگرام مرتب کیا جائے، لیکن اس ہدایت نبوی پر کم عمل ہوتا ہے۔ دو گھنٹے بعد ہم فن لینڈ کے مرکزی شہر HELSINKI ہیل سینکی پہنچ گئے ، ایئرپورٹ سے کسی تاخیر کے بغیر ہم باہر نکل آئے ، مقامی احباب رانا عطاء اللہ ، غلام اللہ ، عبداللہ اور اسامہ گلدستہ کے ساتھ چشم براہ تھے ، عطاء اللہ صاحب ہر دلعزیز اور جفاکش مخلص ساتھی ہیں یہ اور ہیل سینکی میں دعوت اسلامی کے روح رواں حافظ رضوان صاحب دونوں یونان میں تقریباً چودہ سال گزار کر یہاں کے متوطن ہوئے ہیں ، یورپین مزاج اور طور طریقوں سے خوب واقف ہیں، قرآن وسنت کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے دونوں بساط بھر کوشاں رہتے ہیں۔ بارك الله في مساعيهم
ان ہی کی دعوت پر میرا یہ سفر ہوا، فن لینڈ کی کل آبادی تقریباً پچپن لاکھ ہے ، ان میں مسلمان دو لاکھ کے لگ بھگ ہیں، جو صومال، پاکستان، چیچنیا، عربی اور ہندی مسلمانوں پر مشتمل ہیں۔ کچھ جاب ویزا پر، کچھ طالب علم اور کچھ یہاں کے شہری ہو چکے ہیں، فن لینڈ میں حصول شہریت کے اصول سخت ہیں، اس کے لیے دیگر امور کے علاوہ مقامی زبان اور ثقافت سے واقفیت ضروری ہے، مسلمانوں کی محدود تعداد کے باوجود ان کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے ،
موجودہ برسر اقتدار پارٹی نے اس کو ہوا دینے کی سعی نامشکور کی ۔
ان دنوں یہاں کا موسم معتدل تھا۔ ورنہ ساتھیوں نے بتایا کہ سال گذشتہ دسمبر میں درجہ حرارت منفی چالیس تک گر چکا تھا، سیال چیزوں کو منجمد ہونے کے لیے منفی تین ، چار ڈگری کافی ہے، اس خبر سے تو ہمارے بدن میں ویسے ہی کپکپاہٹ طاری ہو گئی اور مزید یہ کہ ان دنوں میں شب و روز کے درمیان وقفہ برائے نام سا رہ جاتا ہے، دو سال قبل یہاں حافظ صاحب کے ساتھ ایک دلچسپ صور تحال پیدا ہو گئی، رمضان میں روزہ کا دورانیہ بہت طویل تھا۔ کچھ لوگوں نے عصر بعد ہی افطار کرلیا اور حافظ صاحب سے تقاضا کیا کہ تراویح پڑھائیں ، چونکہ وہ پاکستان سے تشریف لائے تھے ، چمکتے سورج کی موجودگی میں افطار کے لیے ان کی طبیعت آمادہ نہیں ہوئی، انہوں نے عزیمت کی راہ اختیار کی کہ غروب آفتاب کے بعد ہی افطار کریں گے لیکن احباب کے اصرار پر عصر بعد تراویح پڑھا دی ، نماز تراویح کے کافی دیر بعد خود افطار کیا۔ میں نے از راه تفنن سوال کرلیا کہ آپ نے نیت کیا کی تھی، قیام اللیل کی یا قیام النہار کی آپ کے حساب سے تو رات شروع ہی نہیں ہوئی، اس اعتبار سے قیام اللیل کی نیت درست نہیں۔ اگر رات شروع ہو گئی تو آپ کا روزہ غلط۔ بہر حال اس موسم میں یہاں رات کا مکمل دورانیہ ڈیڑھ پونے دو گھنٹوں کا ہوتا ہے، اسی میں افطار، مغرب، عشاء، تراویح سحری سے فارغ ہونا ہوتا ہے اور اگر یہاں سے مزید تھوڑی مسافت آگے طے کیجئے تو یہ وقفہ اور بھی سکڑ جاتا ہے کہ ایک طرف سورج غروب ہو رہا ہے تو دوسری طرف سے طلوع کا منظر چند ہی لمحوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سر دست افطار اور سحری کے لیے یہاں تین فارمولے رائج ہیں:
ایک گروہ اس فارمولہ پر عامل ہے کہ جب رات اور دن کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں، ہم اس کے مطابق عمل کریں گے، چاہے روزہ کا دورانیہ بائیس گھنٹوں سے متجاوز ہو۔
دوسرا گروہ اس بات پر عمل پیرا ہے کہ قریبی معتدل ملک جیسے سویڈن وغیرہ کا ٹائم ٹیبل کے مطابق عمل کیا جائے۔
تیسرا گروہ ام القری کے لحاظ سے عمل کرتا ہے، یعنی مکہ مکرمہ کے حساب سے سحری اور افطار کر لیا جائے بلکہ ایک چھوٹا گروہ بھی ہے کہ رات اور دن کو چوبیس گھنٹوں کے حساب سے نصف نصف تقسیم کر لیا جائے کہ بارہ گھنٹے دن کے اور بارہ گھنٹے رات کے لیے شمار کر لئیے جائیں، طلوع اور غروب آفتاب سے قطع نظر، ہر فارمولہ کے ساتھ اپنے دلائل اور توجیہ ہے ۔
اس بحث کو فی الحال معتبر علماء ربانی کی توجہ کے لیے چھوڑ کر آگے بڑھتا ہوں۔ کسی زمانہ میں ایسے مسائل فرضی سمجھے جاتے تھے ، لیکن اب یہ حقیقت ہے کہ یہاں مسلم آبادی میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
ائیر پورٹ سے سیدھے ہم حافظ رضوان کے دولت کدہ پر پہنچے ،حافظ صاحب قیام یونان کے دوران ایتھز میں مسجد حسن بن علی کا کام کامیابی سے سنبھالا تھا، وہاں قرآن و سنت کی دعوت کو عام کرنے کی سعی مشکور کی، ان کے یہاں آنے کے بعد حافظ اکرم نے ذمہ داری سنبھالی ہے، وہاں حافظ رضوان اپنے ساتھیوں کی مدد سے سرگرم عمل ہیں اور گزر اوقات کے لیے ٹیکسی کا سہارا لے رکھا ہے۔ وہ اقبال کے بقول:
منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر
حافظ صاحب نے ضیا فت کا بھرپور اہتمام کرر کھا تھا، اس میں مختلف احباب شریک تھے۔ ہمارے پاس وقت مختصر تھا، کھانے سے فارغ ہو کر سیدھے مرکز دار التوحید کے لیے روانہ ہو گئے، وہاں مغرب بعد پروگرام طے تھا، یہاں بڑی تعداد میں مرد و خواتین جمع تھے ، نہایت محبت اور اپنائیت کے ساتھ استقبال ہوا، اس مرکز میں ہر بدھ حافظ صاحب درس بخاری دیتے ہیں، اس علاقہ میں توحید و سنت کی شمع فروزاں رکھنے میں دار التوحيد کا کردار قابل قدر ہے ۔ مساجد اور مراکز میں سلسلہ وار دروس کی بڑی اہمیت ہے، ترتیب کے ساتھ کئی کتابیں پڑھی، پڑھائی اور سنی سنائی جا سکتی ہیں۔ سیکھنے سکھانے کا یہ بہترین اسلوب ہے، ان حلقات کی افادیت بڑھانے کے لئے انتخاب
کتب پر نظر ہونی چاہیے۔ شرکاء کی اکثریت کی علمی صلاحیت اور ماحول کے تقاضے پیش نظر رکھتے ہوئے کتابیں منتخب کی جائیں۔ تقریباً ایک گھنٹہ کے خطاب کے بعد نصف گھنٹہ سوالات ہوتے رہے، زیادہ تر سوالات یہاں کے تمدنی اور معاشی حالات سے متعلق تھے ۔
یورپ میں نو واردوں کی اکثریت ان مسائل سے دوچار ہے، وہ علاقے جہاں مسلمانوں کی تعداد کم اور ان کی تاریخ زیادہ قدیم نہیں، ان ممالک میں یہ مسائل زیادہ پیچیدہ ہیں ، اس جلتی پر مفاد پرست لیڈر وقتاً فوقتاً حسب مفاد تیل ڈالتے رہتے ہیں، گویا ان کے مسائل کا بڑا سبب مسلمان، اسلامی مراکز اور دینی شعائر ہیں ، چونکہ ان باتوں میں عوام کو اپنے جذبات کی تسکین دکھائی دیتی ہے، اس لیے انہیں پذیرائی بھی ملتی ہے اور میڈیا کو بھی ان مسائل کی آڑ میں اپنا گراف بڑھتا دکھائی دیتا ہے ، فن لینڈ کا ماحول ان کثافتوں سے پاک قدرے پر سکون تھا لیکن برسر اقتدار پارٹی کی مسلمانوں کے خلاف جگالی اچھی علامت نہیں، یہاں کی وزیر اعظم صاحبہ کی نظر میں خواتین کا حجاب بہت کھٹک رہا ہے۔ اپنے پیش رو ملک فرانس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ بھی حجاب پر پابندی کی خواہاں ہیں، اس کے لیے ان کا پہلا ہدف سیکنڈری اسکولوں میں زیر تعلیم بچیوں کا لباس ہے ۔ اس مقصد میں بظاہر آسانی سے انہیں کامیابی ملنے کا امکان ہے، حالانکہ یہاں آباد دو لاکھ مسلمانوں میں نصف سے کم اپنی فیملیز کے ساتھ مقیم ہیں، ان کی کتنی لڑکیاں سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہوں گی، اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، صرف سیاسی مفاد پرستی کی غرض سے ایشو بنایا جا رہا ہے، ملکی معاشی حالت پہلے مناسب تھی ، عوام کے لیے بینیفٹ کا نظام بہتر تھا، پڑوسی ملک یوکرین کی روس کے خلاف جاری جنگ میں شمولیت کے باعث بیشتر یورپی ممالک پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، فن لینڈ روس اور یوکرین کی سرحد کے قریب ہے، اس لحاظ سے اس پر منفی اثرات زیادہ مرتب ہو رہے ہیں اور ان کی معاشی خوشحالی جنگ کے دھویں میں جھلس رہی ہے۔ یہاں مسلمانوں کی اکثریت کی معاشی حالت متوسط سے کم ہے، ان کے سامنے محدود وسائل معاش ہیں، ٹیکسی ، ہوم ڈیلیوری ، شیلفنگ و غیره، معدودے چند آئی ٹی یا پروفیشنل شعبوں سے منسلک ہیں، سیاسی لحاظ سے دو چار نام دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی دینی، تمدنی حالت برطانیہ سے بہت پیچھے ہے، برٹش پارلیمنٹ اور مرکزی وزارتوں میں کئی مسلم نام جو دکھائی دیتے ہیں، یورپ کے بیشتر ممالک میں اس کا امکان فی الحال دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ اکثر علاقوں میں مقامی کو نسلوں تک بھی ان کی رسائی نہیں، مرکزی پارلیمنٹ اور وزارتوں کا حصول تو ان کے لیے ایک خواب کی حیثیت رکھتا ہے ۔
یہاں مساجد کو عموماً مرکز کا نام دیا جاتا ہے، کیونکہ مسجد کی حیثیت سے رجسٹریشن ممکن نہیں ، ہیل سینکی میں بیس، پچیس مراکز ہیں، ان میں چھ سات خریدے گئے ہیں، باقی کرایہ پر حاصل کئے گئے، کسی عمارت کی ایک یا دو منزلیں لی گئی ہیں، باقی عمارت میں دیگر کرایہ دار مقیم ہیں ، اسی لیے اکثر مراکز نمازوں کے بعد مقفل رہتے ہیں۔ مستقل آنے والے چند نمازیوں کے پاس چابی ہوتی ہے، وہی کھول سکتے ہیں، تاخیر سے آنے والے یا اجنبی شخص کے لیے مسجد میں داخل ہونے کا امکان نہیں۔ایک دو مراکز کے علاوہ کسی میں باقاعدہ امام مقرر نہیں، حاضر نمازیوں میں سے کوئی ایک حسب لیاقت یہ ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ بعض مراکز میں بچوں کی تعلیم کا نظم ہے، خصوصاً ویک اینڈ میں طلبہ کے ذریعہ حاصل ہونے والی فیس سے مدرسین کیلئے کچھ مختانہ دیا جاتا ہے، اولیاء امور کے لیے یہ فوری توجہ طلب مسئلہ ہے کہ اپنی اولاد کو دین سے قریب لانے کے لیے ان کی دینی تعلیم کا معقول انتظام ہو، ورنہ الحاد اور بے دینی کے جراثیم تیزی سے ان میں سرایت کر سکتے ہیں۔
احباب نے بتایا کہ قطر کی جانب سے باقاعدہ مسجد اور کلچر سنٹر کی تعمیر کیلئے جگہ خریدی گئی، اس منصوبہ پر کام ہو رہا تھا ، لیکن پلاننگ پرمیشن کی راہ میں بڑی رکاوٹ وہاں موجود شیعہ کمیونٹی کے افراد بنے ، ان کی مخالفت کے سبب یہ اہم منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا،
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
ذبیحہ اور حلال گوشت کا مسئلہ پیچیدہ تر ہے ، قرب و جوار کے ممالک سے درآمد ہوتا ہے ، تازہ حلال میٹ کا حصول مشکل ہے ، مذبح خانوں میں بجلی کے جھٹکے کے بغیر ذبح کرنے کی اجازت نہیں ۔ بعض مسلمانوں کے ہاں یہ کلیہ رائج ہے کہ جس جانور کا گوشت حلال ہے، بکری، گائے، مرغی وغیرہ وہ ہر حالت میں حلال ہی رہتا ہے، چاہے ذبح کوئی بھی کرے اور کسی طرح کرے ، لہٰذا اس مسئلہ میں پریشان ہوئے بغیر بسم اللہ پڑھ کر کھالیا کرو ۔
اس کو عرف عام میں ’ کل حلال ‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ، لیکن ہند و پاک اور صومالی مسلمان اس فلسفہ کو قبول نہیں کرتے، وہ گوشت خوری میں زیادہ محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں۔
اس دوره میں ہمارا پڑاؤ بھائی عطاء اللہ کے گھر تھا، ہماری آمد کے سبب فیملی کو اپنے بھائی کے گھر جو اسی محلہ میں مقیم ہیں بھیج دیا، یوں ان کی رہائش گاہ پر تین دن مردانہ قبضہ رہا، ان کے برادر خورد نجیب اللہ اور اضافی مہمان حسب ضرورت یہیں فروکش ہوتے رہے، یہاں ہمہ یاران جنت کا ماحول تھا ، فجر کی نماز چند سو گز کے فاصلہ پر واقع مسجد تقویٰ میں ادا ہوتی رہی، پڑوس کی اس مسجد میں پانچ نمازیں پابندی سے ہوتی ہیں۔ صومالی کمیونٹی اس کی دیکھ بھال کرتی ہے ، یہاں بھی مستقل امام نہیں، حاضر نمازیوں میں سے کوئی یہ ذمہ داری سنبھالتا ہے۔
دوسرے دن جمعرات نماز فجر کے بعد کچھ دیر مزید آرام کرکے ناشتہ سے فارغ ہو کر شہر کی وزٹ کیلئے نکل پڑے، میزبان بھائی عطاء اللہ خود ٹیکسی ڈرائیور ہیں، کم وقت میں زیادہ اہم علاقوں کی سیر کرواتے رہے ۔شہر کے مرکزی علاقہ میں لوگوں کی چہل پہل دکھائی دے رہی تھی، ورنہ ایک محلہ سے دوسرے محلہ جاتے ہوئے دور دور تک راہ گیر دکھائی نہیں دیتے، سڑکوں پر فراٹے بھرتی کاریں ہی زندگی کا پتہ دیتی ہیں۔ شہر کے وسط میں پارلیمینٹ اور مرکزی لائبریری ہے، لائبریری کی عمارت بجائے خود قابل دید اور انجیئنرنگ کا عمدہ نمونہ ہے، فن لینڈ میں تعلیمی شعبوں میں بہت خرچ کیا جاتا ہے، ان کا تعلیمی نظام دنیا کا اعلیٰ اور کامیاب سسٹم شمار ہوتا ہے ۔ پرائمری درجات کے طلبہ صبح آٹھ بجے سے شام کے پانچ تک اسکول میں گزارتے ہیں، دوپہر لنچ کے بعد بچوں کے لیے سکول ہی میں قیلولہ کا بندوبست ہوتا ہے ۔
ظہر سے قبل ایک مقامی ریسٹورنٹ میں جو پاکستانی مسلمان کا ہے، استقبالیہ پروگرام رکھا گیا، مختلف علاقوں میں پھیلے احباب جمع تھے ۔ایسی مجالس باہمی ملاقاتوں اور تبادلہ خیالات کا ذریعہ ہوتی ہیں، یہاں ملاقات اور لذت کام و دہن کا انتظام تھا، فن لینڈ میں عموماً مرکزی کھانا دوپہر کا ہوتا ہے، عرب ممالک کی طرح مقامی لوگوں کے ہاں لنچ کی زیادہ اہمیت ہے، ساڑھے گیارہ، بارہ بجے لنچ ہوتا ہے۔ سرکاری مدارس اور دفاتر میں بھی کھانے کے یہی اوقات ہیں، اسی وقت ریسٹورنٹ بوفے لگاتے ہیں، ناشتہ مختصر چائے یا کافی کی پیالی ایک دو بسکٹ کے ساتھ ہوتا ہے اور شام کا کھانا بھی ہلکا پھلکا کا سر شام ہو جاتا ہے، رات دیر گئے کھانے کا رواج نہیں ۔
میں کم وقت میں زیادہ مقامات اور مراکز کی وزٹ کرنا چاہتا تھا، یہاں سے فارغ ہو کر ہم نماز ظہر کے لیے مرکز ہیل سینکی الاسلامی پہنچے، یہ اس شہر کا بڑا مرکز ہے، ڈیڑھ منزلہ عمارت میں واقع ہے ، پہلے یہ جگہ کرایہ پر حاصل کی گئی تھی، اب خرید لی گئی۔ پہلی منزل مردوں کے لیے اور دوسری خواتین کے لیے مختص ہے ، نماز پنجگانہ کے علاوہ خطبات، دروس وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے، بچوں کے لیے تعلیمی کلاسیں خصوصاً حفظ کا شعبہ قائم ہے، اس کے عہدیدار صومالی ہیں۔ ہم نے یہاں نماز ظہر ادا کی۔
عصر کی نماز مركز الرابطۃ الاسلامیہ میں ادا کرنے کا پروگرام تھا ، درمیانی وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جزیره سومين لينا Suomin Linna کے لئے روانہ ہوئے، یہ دراصل محاذ تھا فن لینڈ کی فوج کا جنہوں نے اپنے علاقہ کے دفاع کے لیے اس مورچہ کا استعمال کیا تھا، یہاں تک پہنچنے کا ذریعہ کشتی ہے، اس پار فوجی جوانوں کی یاد میں میوزیم بنایا گیا ہے، اکثر سیاح سمندری سفر سے لطف اندوز ہونے کے لیے اس کا رخ کرتے ہیں، رفیق سفر برادرم عبد اللہ نے بتایا کہ یہاں کی کافی بہت مشہور ہے ، اس ارادۂ خیر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہم بھی پہنچے، لیکن جب پہنچے دوکانیں بند ہونے کا وقت ہو چکا تھا، اوقات کار پر سختی سے یہاں عمل کیا جاتا ہے اسی کے مطابق بازار بند ہو جاتے ہیں، ہماری تواضع گرم کافی کے بجائے ٹھنڈی آئس کریم سے ہوئی۔ ویسے بھی ہیل سینکی میں آج سورج کی شعاعیں چمک رہی تھیں، یہ مواقع کم ہی میسر آتے ہیں کہ دن میں سورج چمکے، سورج کی تمازت نہ سہی روشنی تو تھی، لہذا آئسکریم کھانے کے لیے وجہ جواز تھا ، اس علاقہ میں کشتیوں کی آمد ورفت سیاحوں کے لئیے باعث کشش اور آمدنی کا معقول ذریعہ بھی ہے، اس ہلکی پھلکی تفریح کے بعد جب واپس پہنچے، نماز عصر کا وقت ہو چلا تھا، سید ھے مركز الرابطۃ پہنچے ، یہ یہاں کا قدیم مرکز ہے ، 1987 ء میں آباد کیا گیا، ایک منزل میں واقع اس مرکز کی خریداری میں سعودی محسنین کا تعاون شامل رہا، بتایا گیا کہ یہاں کے امام کے لیے بھی ابتداء میں کچھ مالی تعاون مکافات آتا رہا ،
استقبالیہ میں کچھ فارم رکھے ہوئے تھے، تجہیز و تکفین و تدفین کے لیے، جو شخصی وصیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فارم پر کرنے سے ناگہانی وفات کے بعد کے مسائل اسلامی تعلیمات کے مطابق حل ہو سکتے ہیں ، چونکہ مسلم آبادی مختصر ہے اس لیے اس کی ضرورت پیش آتی ہے ، یہاں کوئی ذمہ دار موجود نہیں تھے ، دفتر میں جو صاحب تھے ان کے ساتھ مختلف زبانوں کے سہارے کچھ معلومات حاصل ہوئیں، ان کی کیفیت ’’ زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم‘‘ جیسی تھی۔
نماز مغرب ہمیں دار المنتہیٰ میں ادا کرنی تھی۔ اس مرکز کا نام سدرة المنتہىٰ کے بجائے دار المنتہیٰ رکھا گیا اس کی حکمت منتظمین جانے، یہاں مغرب بعد خطاب رکھا گیا تھا ۔ اس مرکز کی دیکھ ریکھ میں برادران رضوان اور عطاء اللہ سرگرم تھے، شروع میں، بعد میں حالات کا تقاضا کچھ ایسے ہوا کہ مختلف احباب نے ذمہ داری میں زیادہ دلچسپی لی ، آج کے خطاب میں والدین اور اولاد کے حوالہ سے کچھ باتیں کی گئیں کہ ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔ والدین اولاد کے لیے جنت یا جہنم میں لے جانے کا سبب بن سکتے ہیں اولاد کے لیئے اکبرالٰہ آبادی کے اشعار منظوم نصیحت اہم ہے ۔
تم شوق سے کالج میں پھلو پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اڑو چرخ پے جھولو
بس ایک سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو
خطاب اور سوالات کی نشست نما ز عشاء تک جاری رہی، عشائیہ کے لیے بھائی عطاء نے برادرم غلام اللہ کے گھر مختلف احباب کو مدعو کر رکھا تھا، اس میں اور مختلف اجتماعات میں ایک موضوع بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالہ سے زیادہ گردش کرتا رہا ۔ جو لوگ کسب معاش اور بہتر مستقبل کی جستجو میں یہاں تک پہنچے اب انہیں اپنے بچوں کی دینی مستقبل کی فکر بے چین کر رہی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ عارضی زندگی کو سنوارنے کی چکر میں دائمی زندگی کا خسارہ ہو جائے، اور ہمارا شمار قرآنی الفاظ میں:
﴿ بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا 0 وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ﴾میں نہ ہو کہ تم آخرت کی بہتر اور پائیدار زندگی کے مقابلہ میں دنیوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔
حافظ رضوان کے کزن برادرم حامد جو فرانس میں مقیم ہیں بھی ہمارے ساتھ تین دن کے لیے قافلہ میں شامل ہو گئے تھے ۔
انہوں نے اپنی ذاتی داستان سنائی کہ پاکستان سے نکل کر پرتگال کے راستہ فرانس تک پہنچنے کی دس سال خونچکاں روئیداد کہ کن سنگلاخ وادیوں، پُرخطر جنگلات اور تلاطم خیز سمندری موجوں سے کھیلتے ہوئے وہ یہاں تک پہنچے ، یہ ایک دو افراد کی المناک کہانی نہیں بلکہ دراصل ترجمانی ہے۔
لاکھوں انسانوں کی جو بہتر مستقبل کے لیے جان جوکھم میں ڈال کر مغربی یورپ تک پہنچے اور سینکڑوں اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کچھ سمندر میں ڈوب کر، کچھ خوفناک جنگلات پیاده عبور کرتے ہوئے لقمہ اجل بن گئے ۔
اس عارضی زندگی کی خوشحالی کے لیے انسان اتنے جتن کرتا ہے ، اگر دائمی زندگی کی بہتری کے لیے اس کا ادنی اہتمام بھی کرے تو کیا ہی اچھا ہو ۔
جمعہ کے دن ناشتہ کے بعد تیاری میں لگ گئے ، خطبہ جمعہ کے لیئے دار التوحید پہنچنا تھا، یہاں سے فاصلہ تو زیادہ تھا لیکن راستہ میں ٹریفک نہ ہونے کے سبب 20، 25 منٹ میں ہم پہنچ گئے، گھر سے مرکز تک کا راستہ نہایت صاف ستھرا، دو رویہ سبزہ زار اور سرسبز و شاداب درختوں سے خاصا دلکش تھا۔ جمعہ کے لیے معقول تعداد میں مرد و خواتین جمع تھے، یہاں مساجد تک کا فاصلہ اور ورکنگ ڈے ہونے کے سبب نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے پیشگی اہتمام کرنا ہوتا ہے ورنہ جمعہ سے محرومی ہوگی۔
خطبہ کے لئے احباب کی خواہش پر سیرت رسول ﷺ موضوع سخن رہا ، نماز کے بعد کچھ دیر شخصی سوالات کے لیے مختص تھی؟ یہاں سے فارغ ہو کر مصالحہ شاپ پہنچے، اس کے مالک برادر آصف نے ظہرانہ کا اپنی اس ریسٹورنٹ میں اہتمام کر رکھا تھا ۔
آصف صاحب کا خاندان اردو اور پنجابی کا حسین امتزاج ہے۔ ددھیال پنجابی اور ننھیال اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے ۔
کھانے میں میری پسند دریافت کرتے رہے ، اس مسئلہ میں سادگی پسند ہوں۔ بلکہ ہمارے میزبان عطاء اللہ صاحب کی اہلیہ تینوں دن روایتی ناشتہ پراٹھے، نہاری وغیرہ تیار کرنے پر مصر رہیں۔ لیکن اس کے لیے میری طرف سے ہاں نہیں ہو سکی۔ یوں نہ میزبان کو اضافی محنت اور نہ ہی مہمان کو ثقیل غذاؤں کی وجہ سے ناگہانی مصیبت۔
ظہرانہ سے فارغ ہو کر کچھ دور نکل گئے، تقریباً چالیس میل کا فاصلہ طے کر کے ہم پوروPORVOO پہنچے، یہ علاقے سوویت یونین رشیا کے تابع رہے ہیں۔ بود و باش میں آثار نمایاں ہیں، یہاں سمندر کو پارٹ کر نہریں نکالی گئیں ہیں، اس سے علاقہ کی دلکشی میں مزید اضافہ ہو گیا ، ساحل پر ریسٹورنٹ کی کثرت سیاحوں کی آمدورفت کا پتہ دیتی ہے۔
واپسی پر ساتھی نماز عصر کے لیے بے چین ہو رہے تھے ۔ مسٹر گوگل کے نقشہ کی مدد سے ایک مرکز کا سراغ ملا، خاصا فاصلہ طے کر کے جب وہاں پہنچے تو مرکز بند تھا، قریبی دوکان سے پتہ کیا گیا کہ شاید چابی وہاں سے مل جائے، ترکی نژاد صاحب دوکان نے پہلو تہی سے کام لیتے ہوئے لا تعلقی کا اظہار کیا، میں نے رفقاء کی یشانی کو دور کرتے ہوئے کہا کہ اس الجھن کی قطعاً ضرورت نہیں ، حدیث ہمارے لئے یسر اور سہولت فراہم کر رہی ہے ۔
«جعلت لى الأرض طهورا ومسجدا»
زمین پاک و صاف اور سجدہ گاہ ہے، کسی کنارہ گاڑی کھڑی کرکے یہ فریضہ باآسانی انجام دیا جا سکتا ہے، لب سڑک ہم نے یہ فریضہ انجام دیا کہ
ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست
واپسی پر سورج بادلوں کی اوٹ میں چھپ رہا تھا، ایک قدیم چرچ PORNOO CATHEDRAL پورو کیتھڈرل کی عمارت کا جو بارہ سو سالہ تاریخ کی داستان عروج و زوال اپنے درو دیوار میں چھپائے رکھتی تھی، اس کے دیدار کے لیے رکے ،مشاہده کیا کہ نصرانیت کی تاریخ یہاں کتنی قدیم ہے جو کہ اب ایک کلچر کا حصہ بن چکی ہے، اس وقت آبادی کی اکثریت ملحدانہ نظریات رکھتی ہے، اس معاشرہ میں شراب اور جنسی بے راہ روی بہت عام ہے، ہمارے ساتھ پیش آیا ایک واقعہ جو اسی قدیم اور تاریخی چرچ کے دامن میں پیش آیا، اس سے ان کے دینی نظریات یا وابستگی کو سمجھا جا سکتا ہے ۔
رفقاء سفر ڈوبتے سورج کے دلکش نظارہ سے کافی کی چسکیوں کے ساتھ محظوظ ہونا چاہتے تھے، ہم سب ہی جمعہ کی مناسبت سے لباس زیب تن کئے ہوئے تھے ، اس دور افتادہ علاقہ کے باشندوں کی اکثریت ہمارے اس حلیہ سے غالباً زیادہ مانوس نہیں تھی، جس انداز سے وہ ہمیں گھورنے لگے، ان تعاقب کرنے والی اجنبی نگا ہوں میں ایک شناسا بھی نکل آیا، ابھی ہم گوشۂ عافیت تلاش کر کے بیٹھے ہی تھے کہ ایک مقامی گورا چٹا فینی باشندہ ہاتھ میں آب نشاط انگیز کا پیالہ تھامے ہم سے قریب ہو کر بیٹھ گیا، ہم نے سوچا کہ شاید پیالہ کا نشاستہ زیادہ اثر کر گیا، لیکن اس نے جب گفتگو شروع کی تو اندازہ ہوا کہ بڑی حد تک ہوش وحواس قابو میں ہیں، وہ ایک عرصہ پاکستان میں سفارت کاری کرتا رہا ہے، مختلف شہروں کے نام روانی سے بول رہا تھا، ہمارے چہرے مہرے نے اسے ہم سے قریب کر دیا تھا، ہاتھ میں تھا مے پیالہ کے متعلق ہم نے گفتگو کی کہ شراب کے نقصانات کیا ہیں، ہماری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے اس نے تائید کی کہ واقعی یہ ام الخبائث ہے لیکن یہ فن لینڈ کی صدیوں پرانی تہذیب کا لازمی حصہ ہے، اسے زندگی سے دور کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس کلچر کو فروغ دینے میں خود ہمارے کنیسا کا کردار ہے۔ ہم جب بھی چرچ جاتے ہیں، مخصوص عبادت کے بعد خود پادری ہی اس کے چند گھونٹ حلق میں انڈیلتا ہے ،اب تو چرچ کا رخ ہم صرف خاص موقعوں ہی پر کرتے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ، پھر اس نے پیالہ دوسری میز پر رکھتے ہوئے ایسے کچھ انکشافات کئے کہ احباب قافلہ سرنگوں سے ہو گئے ، کہا کہ میں نے ایک سفارت کار کی حیثیت سے
اسلام آباد میں مدت گزاری، وہاں کے متمول لوگوں میں جس انداز سے شراب نوشی ہوتی ہے ، وہ ہمیں بھی حیران کرتی تھی۔ انتہائی تیز شراب وہ ایسے اپنے اندر اتارتے ہیں ، جیسے کوئی پیاسا ٹھنڈا پانی اپنے حلق میں انڈیلتا ہے۔ سفارت کاروں کے لیے ہر قسم کی شراب دستیاب ہے لیکن ہمارے نام یا صحبت سے کئی مقامی لوگ بھی مستفید ہوتے ہیں، نیز مختلف ممنوعہ چیزیں بھی وافر مقدار میں میسر ہیں، وہاں کی بعض گلی محلوں کے نام اپنے فینی لہجہ میں بتاتا رہا کہ کہاں کیا ہوتا ہے۔
ہم نے بتایا کہ کسی چیز کی خرابی کو ملک اور شخصیات کے ساتھ وابستہ کر کے نہیں بلکہ حقائق کے تناظر میں دیکھنا چاہیے ، کیونکہ اسلامی تعلیمات کسی خاص فرد یا معاشرہ کے لیے نہیں بلکہ یہ دین رحمت ہے، ساری انسانیت کے لئے، اس دوران مقامی لوگ جو ہمیں اجنبی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے کچھ مانوس ہو چلے تھے ، ان کا نمائندہ ہمارے ساتھ جو محو گفتگو تھا، مصروف دن گزار کر ہم اپنے ٹھکانہ لوٹے اور جلد ہی بستروں پر دراز ہوگئے ۔
ہفتہ کا دن خالی تھا، پروگرام مغرب بعد تھا، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے استونیا کا سفر ہم نے کیا۔ یہ خود مختار پڑوسی ملک ہے ۔
اس سے متصل چند اور بھی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں، جو روس سے آزاد ہوئی ہیں، وہاں تک پہنچنے کے لیے ہیل سینکی سے بحری راستہ عبور کرنا ہوتا ہے۔ یومیہ سینکڑوں لوگوں کی آمد ورفت رہتی ہے ، لیبر پیشہ صبح ہیل سینکی پہنچ کر کام کاج کر کے شام واپس ہوتے ہیں، اپنی کار کے ساتھ ہم صبح سویر ے بارڈر پر پہنچے ، پاسپورٹ کی تفتیش ہوئی پھر قطار میں لگ گئے آٹھ منزلہ بحری جہاز فیری کناره پر لنگر انداز ہوتے ہی کچھ ہی دیر میں گاڑیاں فیری کی نچلی دو منزلوں میں لائن سے کھڑی کر دی گئیں، جیسے کار پارک میں کی جاتی ہیں، مسافروں کے لیے بالائی چھ منزلیں تھیں، اس میں مختلف ریسٹورنٹ وغیرہ کی سہولت تھی ، کچھ لوگ چھت عرشہ پر پہنچ کر سمندر میں رواں دواں کشتیوں کا مشاہدہ کرتے رہے اور ہم نے بھائی عطا کی گرم چائے سے لب سوزی، وہ اپنے ساتھ تھرموس رکھے ہوئے تھے، دو گھنٹے بعد ہم استونیا پہنچ چکے تھے۔
ساتھیوں نے بتایا کہ فن لینڈ میں عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کا مسئلہ دشوار ہے۔ اگر چہ کہ گوشت کی دوکانیں یہ خدمت انجام دینے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن بوجوہ ان کی یہ پیشکش شک وشبہ سے خالی نہیں، اس لیے کچھ زندہ دلان نے اس علاقہ کو دریافت کیا، وہ نماز عید کے بعد فیری کے ذریعہ یہاں پہنچ کر سنت ابراہیمی ادا کر کے تازہ گوشت اپنے ساتھ لے جایا کرتے لیکن یہ طریقہ دشوار اور خطره سے خالی نہیں تھا، کیونکہ گوشت کی منتقلی کے لیے کچھ قوانین ہیں، نیز ذبح کرنے کا دیسی طریقہ اختیار کیا جاتا جو کہ خطرہ سے خالی نہیں تھا، لہٰذا اب اکثر احباب قربانی کے لیے کسی دوسرے ملک وکیل مقرر کر کے رقم بھیج دیتے ہیں، یہاں پہنچ کر سیدھے ہم ملک کی اکلوتى مسجد مركز الثقافۃ الاسلامیہ پہنچے، یہاں بھی مسجد کی حیثیت سے رجسٹریشن ممکن نہیں،مرکز ہی کی حیثیت سے اس کو رجسٹرڈ کروایا گیا ہے، یہ تین منزلہ عمارت خرید لی گئی ہے، اس میں نمازوں کے علاوہ خطبات اور دروس کا اہتمام ہوتا ہے، ظہر اور عصرادا کی، ایک ذمہ دار نے بتایا کہ استونیا کی آبادی تقریباً چودہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، اس میں مسلمانوں کی تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ ہوگی ، ترکی، صومالی، عربی اور پاکستانی پس منظر سے ان کا تعلق ہے، مجموعی طور پر پاکستانی پانچ چھ سو سے زیادہ نہیں، مرکز کے امام ترکی ہیں ،روسی زبان میں خطبہ اور درس وغیرہ دیتے ہیں۔ اس علاقہ پر بھی روسی چھاپ نمایاں ہے۔
ان ممالک میں اسلام اور مسلمانوں کو سرکاری حیثیت سے تسلیم نہیں کیا جاتا ۔اس دور افتادہ علاقہ پردیس میں ہمارے لیے حلال ریسٹورنٹ کی سہولت میسر تھی ، الحمد للہ ۔
ہم نے کھانے کا آرڈ بذریعہ فون بک کروایا تاکہ واپسی میں جہاز کے عرشہ پر اس کا حق ادا کیا جا سکے ، شہر کے مختلف علاقوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے کھانے کے پارسل کے ساتھ واپسی کے لئے قطار میں لگ چکے تھے، ہمیں مغرب میں طے شدہ پروگرام کے لیے پہنچنا تھا۔ ہم مغرب سے پندہ منٹ پہلے اولاری مرکز پہنچ گئے، اس علاقہ میں نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ اور پروفیشنل مسلمان ہیں ۔
مرکز کے روح رواں ڈاکٹر ذیشان نے سرگرمیوں پر روشنی ڈالی، دینی تعلیم کی ضرورت اور طریقۂ کار پر میرا خطاب ہوا، نماز عشاء تک سوالات کا سلسلہ جاری رہا ۔
امامت حافظ اسامہ ملیباری نے کی، ان کے والدین کا کیرالہ سےتعلق ہے، یہ خود ایک عرصہ قطر میں رہے۔ وہیں حفظ قرآن مکمل کیا ، اس وقت یہاں یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں ۔
اتوار کی صبح ہماری واپسی تھی، رفقاء قافلہ حافظ رضوان، برادران عبد اللہ، نجیب اللہ نے ہمارے ہی ٹھکانہ پر رات بسر کی تاکہ ائیرپورٹ پہنچنے میں تا خیر نہ ہو، نماز فجر کے بعد ہلکا سا ناشتہ کر کے صبح تڑکے ہم ائیر پورٹ پہنچے ، محبتوں اور حسین یادوں کی سوغات لیے احباب کے ساتھ معانقہ کر کے الوداعی نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھا ، کسی خونی یا علاقائی تعلق کے بغیر اخوت اسلامی کا رشتہ کتنا گہرا اثر ڈالتا ہے، تیزی کے ساتھ تفتیش کے مراحل مکمل کرتے ہوئے KLM کی پرواز سے ایمسٹیر ڈام کے لیے روانہ ہوا، یہاں امیگریشن کے مراحل سے فارغ ہو کر برمنگھم کے لیے مطلوبہ گیٹ پر پہنچا، کچھ دیر بعد غیر متوقع اعلان ہوا کہ برمنگھم کی پرواز تکنیکی خرابی کے سبب کینسل کر دی گئی ہے، اگلے مرحلہ کے لیے KLM کے کاؤنٹر سے رجوع کیا جائے، ہم کاؤنٹر پر پہنچے۔ یہاں موجود عملہ کے ارکان زیادہ معاون ثابت نہ ہوئے ۔
محسوس ہوتا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ متاثرہ مسافر اس ائیر پورٹ سے کسی طرح روانہ ہو جائیں، شاید ہوٹل یا دیگر اضافی اخراجات کے بوجھ سے ایر لائن کو بچانا چاہتے تھے۔ میرے لیے بطور متبادل فرینکفرٹ جرمنی سے برمنگھم کی پرواز طے کی گئی ، اس کے مطابق جب مطلوبہ گیٹ پر پہنچا، معلوم ہوا کہ اس وقت فرینکفرٹ کے لیے کوئی پرواز نہیں تھی۔ پھر طویل فاصلہ طے کرکے دوبارہ کاؤنٹر پر گیا ،عملہ کی لاپرواہی کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔
انہوں نے نیا راستہ ڈو سیلڈو سے تلاشا، یوں کاؤنٹر اور مطلوبہ گیٹ کے درمیان تین بڑے چکر کاٹ کر ہم جرمنی کی پرواز پر سوار ہوئے ، ڈوسیلڈو ہوائی اڈہ لاؤنج میں ظہر اور عصر ادا کی جو کہ پروگرام کے مطابق گھر پہنچ کر ادا کرنا تھی۔ آدمی کا پلان کچھ ہوتا ہے اور مشیت الٰہی کے تقاضے کچھ۔ ﴿والله غالب علی أمره ﴾ جرمنی میں پانچ گھنٹے گزار کر برمنگھم کی پرواز میں سوار ہوا، بلاشبہ یہ فرمان نبوی ﷺکے مطابق:
«السفر قطعة من العذاب» (صحیح بخاری: 1804)
اس برق رفتار ترقی اور سہولتوں کی کثرت کے باوجود سفری دشواریاں اور اس کے امکانات باقی رہتے ہیں، یوں رات دیر گئے اپنے گھر بسلامت پہنچا۔ وللہ الحمد
٭٭٭
عالم جليل مفتی مملکت سعودی عرب کی وفات
23؍ستمبر 2025ء بروز منگل کی صبح عالم اسلام کی ممتاز شخصیت ، مفتی عام سعودی عرب علامہ الشیخ عبد العزيز بن عبد الله آل الشیخ 82؍ برس کی عمر پا کر وفات پا گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون
الله عز وجل بشری لغزشوں سے درگزر کا معاملہ فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے ۔
شیخ محترم 1943 ء مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، مشاہیر علماء سے علم حاصل کیا، تدریس و تعلیم کے شعبوں میں ترقی کرتے ہوئے كلیۃ الشریعۃ میں استاذ مقرر ہوئے۔
ایم فل ، پی ایچ ڈی کے مقالات کے نگراں اور مناقشہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے مختلف طلبہ کے علمی مقالات کا مناقشہ کرتے رہے، امام حرم ڈاکٹر شیخ سعود بن ابراہیم الشریم کے ڈاکٹریٹ کے مقالہ کے مناقش بھی تھے ، جو فقہ اسلامی کے شعبہ میں یہ معرکۃ الاراء مقالہ تھا ۔
پھر بتدریج مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے مشہور عالم ربانی علامہ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ کی وفات کے بعد سعودی عرب کے مفتی عام مقرر ہوئے، سعودی عرب میں اس عہدہ اور منصب کی سرکاری اور عوامی سطح پر بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے ۔ دنیا کی مشہور غیر سرکاری تنظیم رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے صدر بنائے گئے، سپریم کونسل آف علماء کے چیئرمین بھی تھے۔
برسہا برس خطیب حج کی حیثیت سے میدان عرفات مسجد نمرہ میں خطبہ حج ارشاد فرماتے رہے ، جس کا ترجمہ دنیا کی متعدد زبانوں میں ہوتا اور لاکھوں حجاج براہ راست اور کروڑوں ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سنتے رہے۔
ادارہ صراط مستقیم اور ارکان مرکزی جمعیت اہلحدت غم کی اس گھڑی میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کا نعم البدل عطا کرے۔ آمین
٭٭٭
خیر غالب ہوتو !
مرد حق وہ ہے جو پیغام عمل دیتا ہے
خود بدلتا نہیں دُنیا کو بدل دیتا ہے
جو بھی اللہ نے بخشا ہے اُسی کو دیدو
آج کچھ ہم سے جو لیتا ہے وہ کل دیتا ہے
غلبۂ شراسی باعث ہے کہ مغلوب ہے خیر
خیر غالب ہو تو شر دہر سے چل دیتا ہے
راہ کے کانٹے ہٹانا نہیں آسان مگر
کتنا بے درد ہے کلیوں کو مسل دیتا ہے
آستیں میں جو کوئی سانپ چھپا رہتا ہے
دوست کے روپ میں وہ زہر اگل دیتا ہے
جب خدا کا کوئی ہو جائے تو پھر اس کو خدا
بحروبر ، شمس و قمر، دشت و جبل، دیتا ہے
خیر خواہی کرو دشمن سے بھی مانند شجر
کوئی پتھر اُسے مارے تو وہ پھل دیتا ہے
صرف گفتار سے حاصل نہیں ہوتا کچھ بھی
صلۂ خیر فقط حسن عمل دیتا ہے
سر اُٹھائے جو کبھی حق کے مقابل باطل
حق سر باطل مغرور کچل دیتا ہے
مدت العمر کی غفلت سے وہی ہے بہتر
ذکر اور فکر کا اللہ جو پل دیتا ہے
قبر میں کچھ بھی نہ ممتاز کو ہوتی ہے خبر
جب اسے شاہ جہاں تاج محل دیتا ہے
ڈوب کر کہتا ہے جب بھی کوئی شاعر حماد
درد و تاثیر سے لبریز غزل دیتا ہے
ابولبیان حماد عمری رحمہ اللہ
٭٭٭
علماء کی عزت وتکریم کیجیے
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ
’’زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی، اس کے بعد سواری کے لیے ان کے پاس ایک خچر لایا گیا، تو ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے آ کر اس کی رکاب تھام لی، یہ دیکھ کر زید بن ثابت نے فرمایا:
اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد چھوڑ دیجیے!چھوڑ دیجیے!تو آپ نے فرمایا: علماء و فضلاء اور بزرگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا جانا چاہیے۔‘‘
دوسری روایت میں ہے:زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’کیا آپ میرے خچر کی رکاب تھامیں گے جبکہ آپ رسول اللہ ﷺکے چچا زاد بھائی ہیں؟ تو آپ نے کہا:ہم علما کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔‘‘
(الجامع لأخلاق الراوی وآداب السامع للخطیب: 1؍ 188)
تبصرہ کریں