فہم توحید (قسط8)۔ڈاکٹر حافظ طاہر اسلام عسکری

اسباب کے باب میں چند اہم ضابطے

علماے کرام نے اسباب کے سلسلے میں کچھ اہم قواعد ذکر کیے ہیں جنہیں خاطر رکھنا چاہیے:

1۔ وسائل و ذرایع اختیار کرنے والے کو چاہیے کہ اللّٰہ عزوجل ہی پر حقیقی بھروسا کرے، اس لیے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہی مسبب الا سباب اور ان کا موجد ہے۔

2۔ یہ علم ہونا چاہیے کہ یہ اسباب اللّٰہ تعالیٰ کی قضا وقدر سے مربوط ہیں۔

3۔کسی چیز کے سبب ہونے کا اثبات دو طریقوں سے ہو سکتا ہے جو درج ذیل ہیں:

ا۔ نامکمل

ب۔از رُوے تجربہ

مثلا آگ اشیا کو جلانے کا سبب ہے؛ لیکن اس طریقے میں ضروری ہے کہ کسی شے کے سبب ہونے کا ثبوت ظاہر اور اسی چیز کا بہ راہِ راست نتیجہ ہو کیو ں کہ غیر ظاہر اور مخفی ثبوت حتمی اور یقینی نہیں ہوتا بلکہ عموماً محض دعویٰ اور وہم کی حیثیت رکھتا ہے، مثلاً یہ گمان رکھنا کہ چھلہ پہننا نظر بد سے حفاظت اور بچا و کا سبب ہے۔

توسل و وسیلہ

تعریف

لغت کی رُو سےتوسل کا لفظ وسیلہ سے نکلا ہے؛ اور اِس سے مراد وہ شے ہے جس کے ذریعے کسی دوسری چیز تک پہنچا جاتا اور اس کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔

اقسام

اس کی دو قسمیں ہیں:

1۔توسل مشروع

2۔توسل ممنوع

ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

مشروع توسل

اس کے تین اقسام ہیں:

1۔اللّٰہ عزوجل کے اسما و صفات میں سے کسی اسم و صفت کا وسیلہ پکڑنا۔

2۔ اپنے نیک عمل کے ذریعے توسل ۔

3۔ کسی زندہ صالح شخص کی دعا کو وسیلہ بنانا۔

ممنوع توسل

مندرجہ بالا امورِ ثلاثہ کے علاہ ہر قسم کا توسل ممنوع ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہیں، مثلاً:

1۔ بارگاہِ ایزدی میں دیگر اشخاص کے حق یا جاہ کا وسیلہ پکڑنا، یا بہ حق فلاں یا بہ جاہ فلاں کہہ کر سوال کرنا۔

2۔ اولیا اور صالحین سے دعا مانگنا اور ان کے لیے نذر ماننا۔

3۔ اولیا کی روحوں کے لیے جانور ذبح کرنا اور ان کی قبروں کے گرد چکر لگانا اور وہاں حلقے بنانا۔

 غیر اللّٰہ کے لیے جانور ذبح کرنا

ذبح کی تعریف

لغت کی رُو سےذبح چیرنے پھاڑنے اور کاٹنے کا ہم معنی ہے۔

اصطلاحی زبان میں کسی ہستی کی تعظیم اور اس کے تقرب کی نیت سے کسی جان دار کو مخصوص طریقے سے ہلاک کرنا اور خون بہانا، ذبح کہلاتا ہے۔

اقسام ذبائح

یہ تین قسموں میں منقسم ہیں:

1۔ مشروع ذبائح 2۔ مباح ذبائح

3۔ شرکیہ ذبائح

ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

مشروع ذبائح

مثلاً:

1۔قربا نی کرنا۔

2۔ خدا کے نام پر نذر کا جانور ذبح کرنا۔

3۔ہدی (حرم میں بھیجا جانے والا قربانی کا جانور) ذبح کرنا۔

4۔حج اور عمرہ میں فدیہ کی صورت میں جانور ذبح کرنا۔

5۔ بچوں کی ولادت پر عقیقہ کا جانور ذبح کرنا۔

6۔قربِ خدا وندی کے حصول کا خاطر صدقہ کا جانور ذبح کرنا۔

7۔ مہمانوں کے اکرام و خدمت کے لیے جانور ذبح کرنا۔

مباح ذبائح

مثلاً:

1۔فروخت کرنے کے لیے قصاب کا جانور ذبح کرنا۔

2۔ عمومی طور پر کھانے کے لیے جانور ذبح کرنا۔

شرکیہ ذبائح

مثلاً:

1۔بتوں کے نام پر جانور ذبح کرنا۔

2۔ جنوں کے لیے جانور ذبح کرنا۔

3۔ مشاہد، قبوں اور قبروں میں مدفون ہستیوں کی خاطر جانور ذبح کرنا۔

4۔ نئے گھر میں رہایش سے قبل اس نیت سے جانور ذبح کرنا کہ جنوں سے حفاظت ہو سکے۔

5۔نئے شادی شدی جوڑے کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے جانور ذبح کرنا اور ان دونو کا اس جانور کے خون پر چلنا۔

6۔ اللّٰہ کے لیے ذبح کرنا لیکن ذبح کرتے وقت اس پر غیر اللّٰہ کا نام لینا۔

خلا صۂ بحث

1۔ذبح عبادت ہے، لہٰذا اِسے غیر اللّٰہ کی طرف پھیرنا شرک ہے۔ اس کی دلیل باری تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:

﴿ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾

’’آپ ﷺ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللّٰہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔‘‘ (سورۃ الانعام: 162)

2۔غیر اللّٰہ کے لیے ذبح کو شرک اکبر قرار دیا جائے گا اور ایسا کرنے والا ملعون ہوگا۔ اس کی دلیل رسول اللّٰہ ﷺ کا یہ فرمان ہے:

«لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ »

’’جو شخص غیر اللّٰہ کے لیے جانور ذبح کرے، اُس پر اللّٰہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1978)

غیر اللّٰہ کی نذر و نیاز

تعریف

لغوی اعتبار سے نذر کے معنی الزام یعنی کوئی شے لازم کرنے کے ہیں۔

شرعی اصطلاح میں اس سے مراد ہے:

“اِلْزَامُ الْمکَلِّفِ نَفْسَهُ طَاعَةً غَیْرَ لَازِمَةٍ تَعْظِیْمًا لِلْمَنْذُوْرِ لَهُ

’’کسی ہستی کی تعظیم کے پیش نظر مکّلف کا اپنے اوپر ایسا نیک عمل لازم کر لینا جو اُس پر لازم نہ تھا۔‘‘

نذر عبادتِ الٰہی ہے

یہ معلوم رہنا چاہیے کہ نذر عبادت ہے جس کا مستحق صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی ہے، لہٰذا خدا کے سوا کسی اور کے لیے نذر نہیں ماننی چاہیے۔ جو غیر اللّٰہ کے نام پر نذر مانتا ہے، وہ شرک اکبر کا مرتکب ٹھہرتا ہے۔ اللّٰہ جل شانہ کا ارشاد ہے:

﴿يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ﴾(سورۃ الدھر: 7)

’’جو نذر پوری کرتے ہیں۔‘‘

اگر کسی نے غیر اللّٰہ کی تعظیم و تقرب کے لیے اپنے اوپر کوئی شے لازم کر لی تو یہ نذر شرک کہلائے گی، مثلاً:

1۔ کوئی یوں کہے کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ نے میرے مریض کو شفا دی تو فلاں ولی کی قبر پر اتنی بکریاں یا مال دوں گا۔

2۔اگر میرے ہاں اولادہوئی تو میں فلاں کے لیے اس کی قبر پر جانور ذبح کروں گا۔

3۔فلاں ولی یا جن کی نذر مجھ پر لازم ہے کہ میں تین جانور ذبح کروں۔

4۔ بتوں کے نا م پر نذر ماننا۔

5۔سورج اور چاند کے لیے نذر ماننا۔

استعانت، استغاثہ اور استعاذہ

معنی و مفہوم

1۔استعانت کے معنی اعانت طلب کرنے کے ہیں۔

2۔ استغاثہ فریاد کرنے کو کہتے ہیں؛ یہ غوث سے نکلا ہے جس کے معنی فریاد رسی کے ہیں، یعنی کسی کو سخت نقصان اور ہلاکت سے بچانا۔

3۔استعاذہ سے مراد ہے: پناہ ما نگنا۔

ا۔استعانت

اس کی دلیل قرآن شریف کی یہ آیت مبارکہ ہے:

﴿اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ﴾(سورۃ الفاتحۃ: 5)

’’(اے اللّٰہ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔‘‘

ب۔ استغاثہ

اس کی دلیل اللّٰہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ﴾

(سورۃ الا نفال: 9)

’’( اور وہ وقت یاد کرو) جب تم رب سے (مدد کے لیے ) فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمھاری فریاد قبول فرما لی۔‘‘

ج۔ استعاذہ

اس کی دلیل اللّٰہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:

﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾(سورۃ الناس: 1)

’’فرما دیجیے میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

غیر اللّٰہ سے استعانت، استغاثہ اور استعاذہ کا حکم

غیر اللّٰہ سے مدد طلب کرنے، فریاد رسی چاہنے اور پنا ہ مانگنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

جائز

جب چار شرائط پوری ہوں تو یہ امور غیر اللّٰہ کی طرف پھیرے جا سکتے ہیں:

ا۔استعانت، استغا ثہ اور استعاذہ سے متعلق شرائط

1۔ جس معاملے میں مدد و اعانت یا پناہ کی ضرورت ہے، وہ اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہ ہو۔

2۔ مخلوق اس پر قادر ہو۔

ب۔جس سے اعانت اور مدد یا پناہ مانگی جا رہی ہے، اس سے متعلق شرائط

1۔ وہ زندہ ہو( فوت شدہ نہ ہو۔)

2۔موقعہ پر موجود ہو( غائب نہ ہو۔)

شرکیہ

جب مذکورہ بالا چار شرطوں میں سے کوئی ایک شرط بھی کم ہو تو اس صورت میں غیر اللّٰہ سے مدد مانگنا، اعانت چاہنا اور پنا ہ طلب کرنا شرک متصور ہوگا۔

 شفاعت

تعریف

لغت کی رُو سے لفظ شفاعۃ،شَفَعَ یَشْفَعُ کا مصدر ہے جس کے معنی جوڑا بنانے کے ہیں۔ شَفع،وتریعنی طاق کے بالمقابل آتا ہے۔

اصطلاحی اعتبار سے شفاعت کے معنی ہیں: حصولِ منفعت اور دفعِ مضرت کے لیے کسی غیر کو واسطہ بنانا، یعنی اس سے سفارش کرانا۔

شفاعت کے اقسام

اس کی دو قسمیں ہیں:

1۔ شفاعت منفیہ (غیر مقبولہ)

2۔شفاعت مثبتہ(مقبولہ)

ان کی وضاحت درج ذیل ہے:

شفاعت منفیہ

اس میں نکاتِ ذیل قابل توجہ ہیں:

ا۔تعریف

منفی اور غیر مقبول شفاعت سے مراد یہ ہے کہ غیر اللّٰہ سے ایسے امور و معاملات میں سفارش کی درخواست کی جائے جن پر اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی قدرت نہیں رکھتا۔

ب۔دلیل

اس کی دلیل عزوجل کا یہ فرمانِ عالی شان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾

(سورۃ البقرۃ: 254)

’’اے ایمان والو! جو ہم نے تمھیں دے رکھا ہے، اس میں سے خرچ کرتے رہو؛ اِس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ تجارت ہے، نہ دوستی اور نہ شفاعت؛ اور کافر ہی ظالم ہیں۔‘‘

شفاعت مثبتہ

اس سلسلے میں درج ذیل امور لائق غور ہیں:

ا۔ تعریف

مقبول سفارش وہ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ ہی سے طلب کی جائے۔

ب۔مقبول شفاعت کے شرائط

اس کی دو شر طیں ہیں:

1۔ شفاعت کرنے والے کو خدا کی طرف سے شفاعت کی اجازت ہونی چاہیے۔

2۔ شفاعت کرنے والے اور جس کے حق میں سفارش کی جائے، دونو کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور خوش نو دی حاصل ہو۔

ج:دلیل

اللّٰہ عزوجل کا فرمان ِ عالی شان ہے:

﴿ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾

(سورۃ البقرۃ: 255)

’’کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کر سکے؟!‘‘

نیز خدا وندِ عالم نے فرمایا:

﴿ وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ ﴾ (سورۃ النجم: 26)

’’ اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دی سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے، اجازت دے دے۔‘‘

زندہ اور صاحبِ قدرت شخص سے سفارش کرنے کا حکم

1۔ اگر آپ اس سے ایسے معاملے میں سفارش کی درخواست کرتے ہیں جو مشروع اور مباح ہے اور وہ اس پر قدرت بھی رکھتا ہے، تو یہ جائز اور خیر و بھلائی میں تعاون کے قبیل سے ہے۔

2۔اگر غیر اللّٰہ سے ایسی شے طلب کی جائے جس پر سواے خدا کے اور کوئی قادر نہیں، تو یہ شرک ہے۔

٭٭٭

شیطان کی چال

امام ابن القیم ﷫فرماتے ہیں :

’’ شیطان کی چالوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ آپ کو سمجھاتا ہے ان مساکین اور حاجت مندوں سے سپاٹ چہرے سے ملا کرو، زیادہ خندہ پیشانی کی ضرورت نہیں ہے، ورنہ ان کے دل میں لالچ پیدا ہو جائے گا اور تمہارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے اور یوں وہ آپ کو ان کی نیک دعاؤں سے، ان کے دل جیتنے سے، اور ان کی محبتیں سمیٹنے سے محروم کر دیتا ہے ۔‘‘

(اغاثۃ اللہفان: 1؍209)

٭٭٭

عبادت کی تعریف

امام ابن قیم ﷫ عبادت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

العبادة عبارة عن الإعتقاد والشعور بأن للمعبود سلطة غيبية في العلم والتصرف فوق الأسباب يقدر بها على النفع والضر. فكل دعاء وثناء وتعظيم ينشأ من هذه الإعتقاد فهو عبادة.

’’عبادت اس اعتقاد اور شعور کا نام ہے کہ معبود کو ایک غیبی تسلط حاصل ہے علم اور تصرف کے معاملے میں، جس کی وجہ سے وہ ما فوق الاسباب نفع نقصان پر قادر ہے، اس لئے ہر تعریف، ہر پکار اور ہر تعظیم جو اس مذکورہ اعتقاد اور شعور کی بنیاد پر ہو تو وہ عبادت ہے۔‘‘(مدارج السالکین: 1؍40)

٭٭٭

تبصرہ کریں