فہم توحید (قسط6)۔ ڈاکٹر حافظ طاہر اسلام عسکری

عبادت

تعریف

عبادت کے لغوی معنی، تذلل اور خضوع یعنی پستی ، عاجزی اور فروتنی اختیار کرنے کے ہیں۔ شرعی پہلو سے اس کی تعریف کچھ یوں ہے:

العِبادةُ اسمٌ جامِعٌ لكُلِّ ما يحِبُّه اللهُ ويَرْضاه مِنَ الأقوالِ والأعمالِ الباطِنةِ والظَّاهِرةِ.

’’عبادت ایک ایسا جامع اسم ہے، جس سے وہ تمام ظاہری اور باطنی اقوال و اعمال مراد ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہیں اور جن پر وہ راضی ہوتا ہے۔‘‘

عبادت کی وجہ ِتسمیہ

انسانوں پر عائد شرعی احکامات کی ادیگی کو عبادت اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی پابندی کرتے اور عاجزی وانکساری سے انھیں بجا لاتے ہیں۔

ارکانِ عبادت

عبادت کے تین ارکان ہیں:

1۔محبت 2۔خوف 3۔امید

عبادت کی شرائط صحت و قبولیت

بارگاہِ ایزدی میں عبادت کے مقبول و منظور ہونے کی دو شرطیں ہیں:

1۔اخلاص

اس کی دلیل اللّٰہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:

﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾(سورۃ البینہ: 5)

’’انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللّٰہ کی عبادت کریں، اُسی کے لیے دین کو خالص رکھیں۔‘‘

2۔متا بعتِ رسول ﷺ

اس کی دلیل رسو ل اللّٰہ ﷺ کا یہ فرمان ہے:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»

’’جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو، تو وہ مردود ہے۔‘‘

عبادت کے اقسام

عبادت کی دو قسمیں ہیں:

1۔عبادتِ کو نیہ

2۔عبادتِ شرعیہ

ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

عبادت کونیہ

اس کے معنی ہیں:

اَلْخُضُوْعُ لِاَمْرِاللّٰہ اَلْکَوْنِیْ

یعنی اللّٰہ تعالیٰ کے احکام کو نیہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا۔ یہ تمام مخلوق کو شامل ہے؛ کوئی بھی اس سے مستثنا نہیں، خواہ مومن ہو یا کافر ، نیک ہو یا فاسق وفاجر۔

اس کی دلیل اللّٰہ رب العزت کا یہ ارشاد ہے:

﴿ إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَٰنِ عَبْدًا﴾ (سورۃ مریم: 93)

’’آسمان و زمین میں جو بھی ہیں، سب کے سب اللّٰہ تعالیٰ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں۔‘‘

عبادت شرعیہ

اس سے مراد یہ ہے کہ باری تعالیٰ کے شرعی حکم کو تسلیم کیا جائے۔ یہ اُس شخص کے ساتھ خاص ہے جو خدا کا فرماں بردار ہے اور انبیا ے کرم ؑ کے لائے ہوئے احکامات پہ عمل پیرا ہے۔

اس کی دلیل خداوندِ قدوس کا یہ فرمان ہے:

﴿وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا﴾

’’رحمٰن کے (سچے)بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں۔‘‘(سورۃ الفرقان: 63)

 توحیدِ عبادت سے متعلق ایک اہم ضابطہ

نص قاعدہ

ہر وہ فعل جس کا عبادت ہونا ثابت ہو، اُسے خدا کے لیے بجا لانا توحید اور خداکے سوا کسی اور کی طرف پھیرنا شرک ہے۔

دلائل

اس ضابطے کے دلائل بہت زیادہ ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا﴾

’’اور اللّٰہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔‘‘(سورۃ النساء: 36)

اللّٰہ عزوجل کا فرمانِ عالی شان ہے:

﴿ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ﴾

(سورۃ بنی اسرائیل: 23)

’’ اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اُس کے سو ا کسی کی عبادت نہ کرنا۔‘‘

خدا وندِ عالم فرماتا ہے:

﴿وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ ۙ لَيْسَ لَهُم مِّن دُونِهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ‎﴾(سورۃ الا نعام: 51)

’’آپ فرمائیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وہ یہ کہ اللّٰہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ۔‘‘

مثالیں

 دعا عبادت ہے؛ اسے غیر اللّٰہ کی طرف پھیرنا شرک ہے۔

 خوف عبادت ہے؛ غیر اللّٰہ کا خوف رکھنا شرک ہے۔

 ذبح عبادت ہے؛ اللّٰہ کے علاوہ کسی اور ہستی کے لیے ذبح کرنا شرک ہے۔

 نذر عبادت ہے؛ خدا کے سوا کسی اور کے لیے نذر ماننا شرک ہے۔

محبت کی اقسام

محبت چار قسموں میں منقسم ہے:

1۔عبادت

اس سے مراد یہ ہے کہ

 اللّٰہ سے محبت کی جائے اور

 خدا کی پسندیدہ اور محبوب چیزوں سے بھی محبت کی جائے۔

اس کی دلیل اللّٰہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:

﴿ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ﴾

’’اور ایمان والے اللّٰہ سے بہت ہی زیادہ محبت کرتے ہیں۔‘‘(سورۃ البقرہ: 165)

2۔شرک

اس کے معنی یہ ہیں کہ غیر اللّٰہ سے ایسی عاجزی اور تعظیم کے ساتھ محبت کی جائے جو صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی کی شان کے لائق ہے۔ اس کی دلیل باری تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:

﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ﴾

’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللّٰہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر اُن سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللّٰہ سے ہونی چاہیے۔‘‘(سورۃ البقرہ: 165)

3۔معصیت

اس سے معاصی، بدعات اور محرمات کی محبت مراد ہے۔ اس کی دلیل اللّٰہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾

(سورۃ النور: 19)

’’ جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے، وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں؛ اللّٰہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ‘‘

4۔طبعی محبت

جیسے اولاد، خاندان اور زندگی وغیرہ کی محبت؛ یہ جائز محبت ہے۔ اس کی دلیل اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ ﴾ (سورۃ آل عمران: 14)

’’مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لیے مزین کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے اور نشان دار گھوڑے اور چو پایے اور کھیتی؛ یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لَوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللّٰہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔‘‘

خوف

تعریف

یہ ایسی حالت سے متاثر ہونے کا نام ہے جس میں کسی ہلا کت، نقصان، یا تکلیف پہنچنے کا اندیشہ اور خدشہ ہو۔

خوف کے اقسام

اس کی درج ذیل قسمیں ہیں:

1۔شرک اکبر

اس کی دلیل اللّٰہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:

﴿فَلَا تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ﴾(سورۃ آل عمران: 175)

’’تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو۔‘‘

2۔حرام

اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان لوگوں کے ڈر سے کسی واجب کو ترک کر دے، یا کسی حرام کا ارتکاب کرے۔اس کی دلیل اللّٰہ رب العزت کا یہ فرمان ہے:

﴿فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ﴾ (سورۃ المائدہ: 44)

’’لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو۔‘‘

3۔جائز

یہ طبعی خوف ہے، جیسے کسی درندے (مثلاً شیر) ، دشمن یا ظالم حکم ران سے خائف ہونا۔ اس کی دلیل باری تعالیٰ کا یہ ارشادِ مبارک ہے:

﴿ فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ﴾

(سورۃ القصص: 18)

’’(موسیٰ ( )) صبح ہی صبح ڈرتے اندیشہ کی حالت میں خبریں لینے کو شہر میں گئے ۔‘‘

4۔عبادت

اس سے مراد اللّٰہ وحدہ لاشریک کا خوف ہے۔ اس کی دلیل اللّٰہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتٰنِ﴾

’’اور اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا، دو جنتیں ہیں۔‘‘(سورۃ الرحمن: 46)

خوف خدا کے اقسام

1۔محمود

اس سے مراد وہ خوف ہے جو انسان اور معصیت کے مابین رکاوٹ بن جائے؛ اسے فرائض و واجبات ادیگی پر آمادہ کرے اور محرکات کو ترک کرنے پر ابھارے۔

2۔مذموم

یہ وہ خوف ہے جو انسان کو رحمتِ ایزدی سے مایوس اور نا امید کر دے۔

امید

تعریف

الرجاء (امید) کے معنی کسی پسندیدہ اور محبوب شے کی تو قع، خواہش، آرزو اور انتظار کے ہیں۔

اقسام

اس کے تین اقسام ہیں:

1۔ رجائے عبادت

اس سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہی سے امید رکھی جائے۔ اس کی دو قسمیں ہیں:

ا۔رجائے محمود

یہ وہ امید ہے جو عمل صالح اور اطاعت الٰہی کی بنا پر رکھی جائے۔

ب۔رجائے مذموم

اس کے معنی یہ ہیں کہ بغیر عمل کے خدا سے لمبی لمبی امیدیں باندھ لی جائیں؛ یہ در اصل جھوٹی آرزوؤں اور خود فریبی کا دوسرا نام ہے۔

2۔رجائے شرک

ا س کا مفہوم یہ ہے کہ غیر اللّٰہ سے ایسی شے کی امید رکھی جائے جس پر صرف باری تعالیٰ ہی قدرت رکھتا ہے۔

3۔رجائے طبعی

اس سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص سے ایسے معاملے کی توقع کی جائے جو اس کے اختیار و قدرت میں ہو، جیسے آپ کسی دوسرے سے کہتے ہیں: مجھے امید ہے کہ آپ تشریف لائیں گے۔

رجاء کی دلیل

اس کی دلیل خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:

﴿فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا ﴾(سورۃ الکہف: 110)

’’پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھیرائے۔‘‘

توکل

تعریف

لغت کی رُو سے اس کے معنی ہیں: کوئی شے کسی کے سپرد کر دینا اور اعتماد و بھروسا کرنا۔

شرعی اعتبار سے اس کا مفہوم ہے:

اعْتِمَادُ الْقَلْبِ عَلی اللّٰہ وَحْدَہ

یعنی صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی پر دلی بھروسا رکھنا۔

توکل شرعی

از رُوےشرع صحیح توکل وہ ہے جس میں درج ذیل تین امور جمع ہوں:

1۔اللّٰہ تعالیٰ پر سچا اور حقیقی اعتماد ہو۔

2۔ اللّٰہ تعالیٰ پر پختہ یقین ہو اور یہ اعتقاد رکھا جائے کہ تمام معاملات خدا ہی کے ہاتھ میں ہیں۔

3۔ وہ اسباب و ذرایع اختیار کیے جائیں جن کی شرعاً اجازت ہے۔

توکل کے اقسام

اس کی تین قسمیں ہیں:

1۔توکل عبادت

یعنی صرف اور صرف خداے تعالیٰ پر بھروسا کرنا اور اسی کا سہارا لینا۔

2۔توکل شرک

ایسے امور و معاملات میں غیر اللّٰہ پر اعتماد کرنا جو صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہیں، یا اسباب و وسائل کو حقیقتاً موَثر سمجھتے ہوئے ان پر کلی یا جزوی اعتماد کرنا۔

3۔تو کیل

اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کسی شخص کو اپنا نائب مقرر کر دیں اور وہ آپ کی نیابت میں کوئی ایسا عمل سر انجام دے جو اس کی قدرت میں ہے اور شرعاً جائز ہے۔

توکل اور توکیل میں فرق

ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ توکل ایک قلبی عمل ہے جو باطن سے تعلق رکھتا ہے، جب کہ توکیل ایک ظاہری عمل ہے۔

توکل کی دلیل

﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْا إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ﴾

(سورۃ المائدہ: 23)

’’اور خدا ہی پر بھروسا کرو، اگر تم صاحبِ ایمان ہو۔‘‘

٭٭٭

امام ابن قيم ﷫فرماتے ہیں :

“المصالح والخيرات واللذات والكمالات، كلها لا تُنال إلا بحظ من المشقة، ولا يُعبر إليها إلا على جسر من التعب ؛ وقد أجمع عقلاء كل أمة على أن النعيم لا يُدرك بالنعيم، وأن من آثر الراحة فاتته الراحة، وأن بحسب ركوب الأهوال واحتمال المشاق تكون الفرحة واللذة ؛ فلا فرحة لمن لا هَمَّ له، ولا لذة لمن لا صبر له، ولا نعيم لمن لا شقاء له، ولا راحة لمن لا تعب له؛ بل إذا تعب العبد قليلا استراح طويلا.”

’’مصالح و خیرات اور لذات و کمالات؛ سب ایک مشقت کے بعد حاصل ہوتے ہیں، تھکاوٹ کے پل سے گزرنا ہوتا ہے۔ داناؤں کا اجماع ہے کہ خوشیوں کے راستے میں خوشیاں نہیں ہوتیں، جو راحت کیلیے رک جائے وہ راحت سے محروم ہو جاتا ہے، اور راستے کے خطرات و مشقتوں کے بقدر ہی بعد میں راحت و سکون ملتا ہے۔ جو غم نہیں سہتا وہ خوشی نہیں پاتا، جو صبر نہیں کرتا وہ لذت نہیں چکھتا، جو مشکلیں نہیں دیکھتا وہ آسائش سے بھی محروم رہتا ہے، جو تھکتا نہیں ہے اسے سکون نہیں ملتا۔ طویل تر سکون کیلیے کچھ گھڑی کی تھکاوٹ ضروری ہے۔‘‘ (مفتاح دار السعادة : 2؍15)

٭٭٭

تبصرہ کریں